اردو زبان اور قرآن مجید، دینی و روحانی تعلق — حافظ محمد زوہیب حنیف

1

یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی زندہ زبان جامد اور متعیّن شکل میں ہر گز قائم نہیں رہ سکتی۔ عالمی سیاست کی ہلچل، مقامی سیاست کی اُکھاڑ بچھاڑ، عالمی سطح پر آنے والے تہذیبی انقلاب اور مقامی سطح پر ہونے والی چھوٹی موٹی ثقافتی سرگرمیاں، یہ سب عوامل ہماری زبان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یعنی ہمارا واسطہ نئے نئے الفاظ سے پڑتا ہے یا پُرانے الفاظ کا ایک نیا مفہوم ابھر کر سامنے آتا ہے۔ ’’دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں ہے جس میں کسی دوسری زبان کے الفاظ نہ پائے جاتے ہوں اور اُس کی وجہ یہ ہے کہ جب دو قوموں میں ملاپ ہوتا ہے تو اُن کی زبانیں بھی ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتی ہیں‘‘ (ماہنامہ النخیل، ص، ۵۳ اردو زبان میں دخیل کا مسئلہ، ڈاکٹر سہیل بخاری، شعبان، ۱۴۴۰ھ)۔ ہر زبان کا خاصہ ہے کہ وہ اپنے دامن میں نئے الفاظ اور محاورات کو قبول کرتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پھر وہی الفاظ معاشرے میں اس طرح عام ہوجاتے ہیں کہ شائبہ تک نہیں ہوتا کہ یہ الفاظ کسی دوسرے زبان سے لیے ہیں۔ اِسی طرح ایک وقت ایسا بھی آتاہے کہ دوسری زبان سے لیے گئے الفاظ اپنی ہیئت کے ساتھ اپنے معنی بھی تبدیل کر لیتے ہیں۔ یہ حقیقت اُس وقت آشکار ہوتی ہے جب کوئی محقق اُس لفظ کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرتاہے۔ اردو زبان کا یہ خاصہ ہے وہ نہ صرف اپنے اندر ہر زبان کے الفاظ کو قبول کرتی ہے بلکہ اُن الفاظ کو اپنے سانچے میں بھی ڈھال لیتی ہے۔ اس ضمن میں انشاء اللہ خان انشاء دریائے لطافت میں لکھتے ہیں:

”جاننا چاہیے کہ جو لفظ اردو میں آیا، وہ اردو ہوگیا خواہ وہ لفظ عربی ہو یا فارسی، ترکی ہو یاسریانی، پنجابی ہو یا پوربی، اصل کی روح سے غلط ہو یا صحیح، وہ لفظ، اردو کا لفظ ہے۔ اگر اصل کے موافق مستعمل ہے تو بھی صحیح اور اگر اصل کے خلاف ہے تو بھی صحیح۔ اس کی صحت اور غلطی، اس کی اردو میں رواج پکڑنے پر منحصر ہے۔ چونکہ جو چیز اردو کے خلاف ہے، وہ غلط ہے، گویا اصل میں صحیح ہو۔ اور جو اردو کے موافق ہے، وہی صحیح ہے، خواہ اصل میں صحیح نہ بھی ہو“ (دریائے لطافت، انشا اللہ خان انشا، مترجم، پنڈت برجموہن دتاتریہ کیفی، ص، ۱۵۳، انجمن ترقی اردو ہند، اردو گھر، نئی دہلی، س ن)

اردو اپنے الفاظ کی بناوٹ کی بناپر دنیا کی ہر زبان کے مقابلہ میں لکھنے، پڑھنے اور سیکھنے کے حوالے سے آسان ترین زبان ہے۔ اس کے علاوہ اردو زبان میں اخذ و جذب کی بے پناہ صلاحیت ہے۔ یہ ایک قائم بالذات زبان ہے۔ اس میں یہ صلاحیت ہے کہ دوسری زبانوں سے مفید مطلب الفاظ لے لیتی ہے۔ اگر وہ لفظ اس کے مزاج کے ہم آہنگ ہے تو جوں کا توں رہنے دیتی ہے اور اگر ہم آہنگ نہیں ہے تو اس کو ہم آہنگ بنا لیتی ہے۔

اسی طرح اگر عربی زبان کی بات کی جائے تو یہ زبان دنیا کی قدیم ترین زبانوں میں سے ایک ہے۔ آخری الہامی کتاب (قرآنِ مجید) بھی اسی زبان میں نازل ہوئی۔

قرآن ِ مجید کو دیکھا جائے تو یہ ایک زندہ و جاوید کتاب ہے۔ یہ بنی نوع کے لیے ہدایت ہے۔ یہ کتاب اتنی پُر کشش ہے کہ اگر ایک بار اس کو سمجھ کر پڑھنا شروع کیا جائے تو مرتے دم تک اس کے ساتھ تعلق قائم رہتاہے۔ کیوں کہ ’ اِس میں دریاؤں کی روانی ہے، سمندروں کا زور ہے، حسنِ استدلال کی ندرتیں ہیں، ربط معنی کی ادائیں ہیں، مثالیں ہیں، قصے ہیں، کلام میں اپنے مرکز کی طرف باربار کا رجوع ہے، تہدید و زجر اور عتاب کے گوناگوں اسالیب ہیں، افسوس ہے، حسرت ہے، شدت یقین ہے، گریز کی مختلف صورتیں اور اعراض کے مختلف انداز ہیں۔ اِس میں محبت و التفات کے موقعوں پر، ایں چیست کہ چوں شبنم برسینۂ من ریزی ــــــ کی کیفیت ہے اور غضب کے موقعوں پر، دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان کا سماں ہے۔ خطاب کے وہ عجائب تصرفات ہیں کہ آدمی اُن میں بالکل کھو کر رہ جاتا ہے۔‘ (میزان، جاوید احمد غامدی، ص، ۲۱، المورد، ادارۂ علم و تحقیق، لاہور، سن اشاعت، دسمبر ۲۰۰۹) یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کا اثر دنیا کی ہر تہذیب اور ہر زبان پر پڑا۔ اس کے الفاظ نے بھی دنیا کی ہر زبان پر گہرا اثرا چھوڑا، یہاں تک کہ اس کے الفاظ دنیا کی مختلف زبانوں میں اس طرح مستعمل ہوگئے کہ اُن زبانوں کی لغات میں عربی الفاظ کو شامل کرلیا گیا، مثلاً، جرمنی میں جملہ ’انشا ء اللہ ‘ اتنا کثرت سے استعمال ہوا کہ اب اس لفظ کو سرکار نے اپنی لغت میں شامل کرلیا (https://www.urdunews.com/node/451991)۔  اردو زبان کو دیکھا جائے تو اس میں عربی زبان کا ایک بہت بڑا ذخیر ہ موجود ہے۔ اردو کی کسی بھی ایک سطر کو پڑھا جائے تو اُس میں بہت سے عربی الفاظ موجود ہوں گے۔ اسی طرح اردو شاعری میں بھی بھی عربی الفاظ کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ یہاں بہ طورِ مثال اقبال کے یہ اشعار دیکھیے:

تیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیل
وہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل وجمیل
تیری بنا پائدار تیرے ستون بے شمار
شام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیل
تیرے در و بام پر وادی ایمن کا نور
تیرا منار بلند جلوہ گہِ جبرئیل

ان اشعار میں خط کشیدہ الفاظ عربی زبان سے ماخوذہیں یعنی اشعار کا پچاس فی صد حصہ عربی زبان کا ہے۔ یہی معاملہ قرآن مجید کی زبان کا بھی ہے۔ اس کے الفاظ و محاورات اردو زبان میں اِس طرح مستعمل ہیں کہ بولنے اور سننے والے کو اندا زہ نہیں ہوتا کہ وہ در حقیقت قرآنی زبان بول رہا ہے۔ (ظاہر ہے معنی و مفہوم سیاق و سباق کے مطابق ہوں گے)۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی زبان سے متعلق ارشاد فرمایا کہ : بِلِسَانٍ عَـرَبِـيٍّ مُّبِيْن۔ (۱۹۵:۲۶) صاف صاف عربی زبان میں۔ (ترجمہ، مودودی) ایک اور مقام پر ارشاد ہوتاہے: فَاِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُـمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۔ (۵۸:۴۴) اے نبی، ہم نے اس کتاب کو تمھاری زبان میں سہل بنا دیاہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کر سکیں۔ (ترجمہ، مودودی)

ان آیات سے جو مفاہیم نکلتے ہیں وہ یہ ہیں :

  • قرآن کی زبان نہایت صاف اور واضح ہے۔
  • اس زبان (عربی) کو نہایت سہل بنایا ہے۔
  • اس (قرآن ) سے لوگ نصیحت حاصل کریں۔

قرآن مجید کے الفاظ بہ لحاظِ معنی و مفہوم ایک الگ حیثیت رکھتے ہیں، لیکن اردو نے اس کے الفاظ کو اپنے اندر اس طرح سمودیا ہے کہ اردو بولنے والاعام آدمی قرآن مجید کے الفاظ روانی سے بولتا جاتا ہے اور اسے خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ لفظ قرآن مجید سے ماخوذ ہے جیسے، زکوٰۃ اور توبہ وغیرہ۔ کچھ الفاظ ایسے ہیں جن کا مفہوم سامنے رکھ کر بہ طورِ محاورہ استعمال کیا جاتاہے۔ جیسے بسم اللہ کرنا وغیرہ۔ اسی طرح قرآن مجید کے ایسے الفاظ جو بہ طور اسمِ معرفہ آئے، لوگوں نے اُسے من وعن قبول کیا جیسے، مکہ، ابراہیم وغیرہ۔ شعراء کی بات کی جائے تو انھوں نے قرآن مجید میں تاریخی واقعات کو بہ طور ِ تلمیح اپنی شاعری میں استعمال کیا جیسے، ضربِ کلیم وغیرہ۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اردو زبان اور قرآن ِ مجید کا آپس میں ایک روحانی تعلق ہے اور یہ روحانی تعلق مستقبل میں مزید مضبوط ہوتا چلائے گا۔ کبھی کبھی یہ گمان ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ عربی زبان کے بعد اردو سے بھی کوئی بڑا کام لینا چاہتاہے (خیال رہے کہ یہاں صرف زبان کی بات ہورہی ہے) اس لیے دین کا پورا لٹریچر اب اردو زبان میں موجود ہے۔ یہی نہیں بلکہ مغرب میں لوگ عربی زبان کے ساتھ اردو بھی سیکھ رہے ہیں۔ قرآن مجید میں ایسے الفاظ جن کو اردو زبان نے بہ طور ِمحاورہ، تلمیح، اسمِ معرفہ عمومی استعمال کیا ہے، اُن میں سے چند کو یہاں سپردِ قرطاس کیا جائے گا۔

محاورات و ضرب الامثال : اردو زبان میں بہت سے ایسے محاورات اور ضرب الامثال ہیں جو براہِ راست قرآن سے ماخوذ ہیں، مثلاً: بسم اللہ کرنا‘ من و سلویٰ اترنا‘ اف نہ کرنا‘ الم نشرح ہونا، ‘اناللہ پڑھنا‘ طوعاوکرھا، ‘قیل وقال کرنا‘ الحمد للہ ‘ سبحان اللہ وغیرہ۔

۱۔ بسم اللہ کرنا۔ بسم اللہ کیجیے۔

’بسم اللہ ‘ اصل میں قرآن مجید کی ہر سورت سے پہلے (سوائے سورۃ التوبہ) بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘ موجود ہے۔ چوں کہ یہ ابتدا ہے اور ترجمہ بھی اس کا کچھ اس طر ح ہے (اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا) کہ مفہوم یہی نکلتاہے۔ یعنی ہر کام کی ابتدا، اللہ کے نام سے ہی کی جانی چاہیے۔ لہٰذا اب اردو زبان میں کسی بھی کام سے پہلے بہ طورِ محاورہ یہ لفظ اس طرح بولا جاتاہے کہ ’بسم اللہ کیجیے ‘ یعنی کام شروع کیجیے۔ کھانا کھائیے۔ وغیرہ وغیرہ۔

۲۔ من و سلویٰ اترنا۔

من و سلویٰ سے متعلق اللہ تعالیٰ نے کچھ اس طرح ارشاد فرمایا : وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى ۖ كُلُوْا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُـوْا اَنْفُسَهُـمْ يَظْلِمُوْنَ۔ (۲: ۵۷) اور ہم نے ابر کو تمہارا سائبان کیا اور تم پر من اورسلویٰ اتارا، کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور انہوں نے کچھ ہمارا نہ بگاڑا، ہاں اپنی ہی جانوں کو بگاڑ کرتے تھے۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان بریلوی)

اس ضمن میں پیر کرم شاہ الازہری لکھتے ہیں:

علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ اکثر مفسرین کے نزدیک من سے مراد ترنجبین ہے اور ترنجبین ایک قسم کی شکر ہے جو اونٹ کٹارے (یا اِ س قسم کی دوسری بوٹیوں) کے کانٹنے پر شبنم کی طرح گر جاتی ہے۔ اور سلویٰ بٹیر کو کہتے ہیں جو وادیٔ سینا کا خاص پرندہ ہے۔ کیوں کہ یہ رزق لذیزان کومحنت و مشقت کے بغیر میسر آجاتا تھا اس لیے اسے منّ (احسان) فرمایا گیا۔ (ضیا ء القرآن، جلد اول، ص، ۵۹، پیر کرم شاہ الازہری، ضیا ء القرآن پبلی کیشنز، لاہور، س ن)

فرہنگِ آصفیہ کے مطابق فی زمانہ ایک نفیس کھانےکا نام بھی اسی مناسبت سے رکھ دیا گیا ہے۔ مرغ کا گوشت ہڈیوں سے جدا کر کے ایک خاص وضع پرپکایاجاتاہے۔ (فرہنگِ آصفیہ جلد ۴، ص ۴۱۲)

آتش کا ایک شعر ہے۔
سیر رکھتا ہے طبیعت کو کلام شیریں
من وسلوی ہے یہ اپنے لئے گویا اترا

۳۔ اُف نہ کرنا :

ارشاد باری تعالیٰ ہے: فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ (۱۷:۲۳)تو ان سے ہوں، نہ کہنا۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان بریلوی) درج بالا آیت والدین سے متعلق ہے کہ جب وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کے سامنے اُف نہ کہو۔ یعنی اگر چڑ چڑا پن آجائے یا کوئی ضد ہوجائے تو اُس صورت میں ’اُف نہ کہا جائے ‘بلکہ ان سے احسن طریقے سے بات کی جائے، اُن کا ہر طرح سے خیال رکھا جائے۔ اُ ف نہ کرنے سے مراد ہے کچھ نہ بولنا۔ شکایت زبان پر نہ لانااور ضبط کرنا وغیرہ۔ قرآن مجید کا یہ لفط ’اُف‘ اب اردو زبان میں عام استعمال ہوتاہے۔ جیسے کہا جاتاہے کہ ’اُستاد کے سامنے اُف نہ کرنا‘ بڑوں کے سامنے ’اُف نہ کرنا‘ وغیرہ وغیرہ۔

۴۔ انا للہ پڑھنا :

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ (۲: ۱۵۶) کہ جب اُن پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اورہم کو اُسی کی طرف پھرنا۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان )۔ اگرچہ احادیثِ مبارکہ میں بھی اس کلمہ کی فضیلت بیان ہوئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ”جب کسی انسان کا بیٹا فوت ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہتے ہیں:تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کرلی؟ فرشتے کہتے ہیں:ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کیا اُس کے دل کے میوہ کو بھی قبض کر لیا؟ فرشتے کہتے ہیں: ہاں۔ اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں: اس پر میرے بندے نے کیا کہا؟ فرشتے کہتے ہیں:اُس نے آپ کی حمد بیان کی اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بناوٴ اور اس کا نام  ”بیت الحمد“ رکھو۔“ (ترمذی)۔ حدیث میں اگرچہ اس کلمہ کی فضیلت ضرور بیا ن ہوئی ہے، لیکن اب یہ کلمہ اردو میں اس طرح مستعمل ہوگیا ہے کہ ایسا لگتاہے کہ یہ اردو زبان کا ہی حصہ ہے۔ اردو زبان میں یہ کلمہ مختلف معنوں میں استعمال ہوجاتاہے۔ جیسے کسی چیز کے کھو جانے پر بعض اکابر نے اس کلمہ کو پڑھنا مجرب نسخہ کہا ہے۔ اسی طرح کسی سےکوئی چیز ملنے کی امید نہ ہو تو بھی کہا جاتاہے کہ ’انا للہ‘ پڑھ لو۔ وغیرہ وغیرہ

تلمیحات:

تلمیح سے مراد یہ ہے کہ ’شعری اصطلاح میں ایک لفظ یا مجموعہ الفاظ کے ذریعے کسی تاریخی‘ سیاسی‘ اخلاقی یا مذہبی واقعے کی طرف اشارہ کیا جائے‘ اردو ادب میں بہت ساری تلمیحات براہِ راست قرآن مجید سے لی گئی ہیں مثلاً: عصائے موسیٰ، حضرت ابراہیم ؑ، سحرِ سامری، حسنِ یوسف، خلق عظیم، کُن، لاالہ، سدرۃ المنتہیٰ، لات و منات اور لن ترانی۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہاں چند تلمیحات قرآن مجید کی روشنی میں قلم بند کی جاتی ہیں۔

۱۔ عصائے موسیٰ :

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو دو نشانیاں (معجزات) عطا کی تھیں، ایک عصا تھا جو کہ ’زندہ سانپ ‘ بن جا تا تھا جبکہ دوسرا جیب میں ہاتھ ڈالتے تووہ ’روشن‘ ہوجاتا۔ قرآن مجید نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے: فَاَلْقَاهَا فَاِذَا هِىَ حَيَّةٌ تَسْعٰى۔ قَالَ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ ۖ سَنُعِيْدُهَا سِيْـرَتَـهَا الْاُوْلٰى۔

وَاضْمُمْ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْـرِ سُوٓءٍ اٰيَةً اُخْرٰى۔ (۲۰: ۲۰تا ۲۲) تو موسیٰ نے ڈال دیا تو جب ہی وہ دوڑتا ہو اسانپ ہوگیا۔ فرمایا اسے اٹھالے اور ڈر نہیں، اب ہم اسے پھر پہلی طرح کردیں گے۔ اور اپنا ہاتھ اپنے بازو سے ملا خوب سپید نکلے گا بے کسی مرض کے ایک اور نشانی۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان)

عصائےموسیٰ کا ایک اورمعجزاتی کمال اس موقعے پر ظاہرہوا جب حضرت موسیٰ ؑاپنی قوم کےافراد کولیکر مصرسے ارض مقدس کی طرف نکلے تھے۔ ا ٓپؑ اورآپؑ کے متبعین پرفرعون کے مظالم اپنی انتہا پر پہنچ چکے تھے۔ آپؑ اور آپ کے ساتھیوں کے مصر سے نکلنے کی خبرفرعون کو ہوئی تو وہ تعاقب میں ایک بڑا لشکر لیکر چلا تاکہ وہ آپؑ اور آپؑ کے ساتھوں کو گرفتار کرلے اور غلام بنائے۔ راستے میں بنی اسرائیل کے آگے بحر قلزم تھا اور پیچھے فرعونی لشکر۔ اس عجیب کشمکش اور مشکل مرحلے میں بنو اسرائیل حضرت موسیٰ ؑ   کو برا بھلا کہنے لگے کہ اُن کے اِس بڑی مصیبت میں پھنسنے کی وجہ موسیٰ ہی ہیں۔ اُسی وقت آپؑ نے خدا کے حکم سے اپنی لاٹھی کو بحرقلزم کی لہروں پرمارا۔ دریا پھٹ گیا اورحضرت موسیٰ ؑ کے متبعین کو راستے دے دیے۔

علامہ اقبال نے کچھ اس طرح کہاہے :
بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضرب کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا

۲۔ حضرت ابراہیم ؑ :

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ  کو خلیل اللہ (اللہ کادوست ) کہا ہے۔ آپؑ نے میں لوگوں کے بنائے ہوئے بتوں سے اعلانِ برأت کیا۔ سورۃ الانعام کی آیت نمبر ۷۴ میں آپؑ اور آپ کے والد آذر کے درمیان مکالمہ کچھ اس طرح ملتاہے۔ ارشاد ہوتاہے وَ اِ ذْ قَالَ اِبْرٰھِیْمُ لِاَ بِیْہِ اٰ زَ رَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَا مًا اٰ لِھَۃً اِ نِّی ٓ اَرٰ کَ وَقَوْمَکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْن (۶: ۷۴) اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ آذر سے کہا، کیا تم بتوں کو خدابناتے ہو، بے شک میں تمھیں اورتمھاری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتاہوں۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان)

حضرت ابراہیم ؑ کی اطاعت و فرمانبرداری جیسی مثال دیگر انبیاء کرام میں کم ملتی ہے۔ جب بھی توحیدِ الٰہی کے اثبات کا تذکرہ ہوتا ہے وہاں پر حضرت ابراہیم ؑ کی جاں بازی اطاعت اور فرماں برداری کا بھی ذکر ضرور ہوتا ہے کہ جنھوں نے اپنے گمراہ والد کی اطاعت پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کو ترجیح دی اور بت خانے کے بت پاش پاش کر ڈالے۔ اس پر اقبال نے کہا:

بت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بت گرہی
تھا ابراہیمؑ پدر، اور پسر آذر ہیں

۳۔ لن ترانی :

یہ جملہ بہت ہی مختصر ہے لیکن اس میں ایک پورا واقعہ ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کے دیدار کی خواہش کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَلَمَّا جَاء مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَن تَرَانِي وَلَكِنِ انظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ موسَى صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ۔ (۷: ۱۴۳) اور جب موسیٰ ہمارے وعدے پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام فرمایا عرض کی اے رب میرے! مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا ہاں اُس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا پھر جب اس کے رب نے پہاڑپراپنا نور چمکایا اُسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ گرا بے ہوش پھر ہوش ہوا بولاپاکی ہے تجھے میں تیری طرف رجوع لایا او رمیں سب سے پہلا مسلماں ہوں۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان)

اقبال نے اس واقعہ کے بارے میں کچھ یوں کہا :
ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا
وہی لن ترانی سُنا چاہتا ہوں

۴۔ خلقِ عظیم :

قرآن مجید میں یہ اصطلاح رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سورۃ القلم میں آئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِيْمٍ۔ (۶۸: ۴) اور بے شک تمھاری خو بو (خلق ) بڑی شان کی ہے۔ (ترجمہ، مولااحمد رضا خان بریلوی )۔

اقبال نے رسالت مآب کی شانِ اقدس میں کچھ یو کہا :

آہ وہ مردانِ حق! وہ عَربی شہسوار
حاملِ ’ خُلقِ عظِیم‘، صاحبِ صدق و یقیں

اسمائے معرفہ :

قرآن مجید میں مذکور بعض شخصیات ومقامات کے ناموں کو اردو نے مِن وعن قبول کیا ہے۔ جیسے:

آدم‘ جبریل‘، میکائیل‘فردوس‘  مکہ‘موسیٰ‘ ہارون‘ الیاس‘عیسیٰ، مریم ‘ یحیٰ ‘ زکریا‘ یوسف‘ یعقوب‘ادریس‘ ذوالکفل‘ یونس‘ داؤد‘ سلیمان ‘ ابراہیم‘ اسماعیل‘ نوح ‘ ہود‘ صالح‘ ارم ‘عماد‘محمد‘نجم‘ صاعقہ اور ذوالقرنین‘مریم‘عمران، لقمان‘ مصر‘بابل ‘طورسینا‘یثرب اور قریش وغیرہ۔

عمومی الفاظ :

قرآن پا ک کے بے شمار ایسے الفاظ ہیں جو اپنے اصلی تلفظ اور معانی کے ساتھ اردو میں عمومی سطح پر مستعمل ہیں۔ چند الفاظ یہ ہیں :

اذان‘ خلق‘سما‘ زکوٰۃ‘ بدن‘ جسم‘ حج‘ سجدہ‘ فرش‘ قلم‘ کتاب‘ مسجد‘جہنم، قیامت‘ نعمت‘ارض ‘ سفینہ ‘نفس اور روح وغیرہ۔

درج بالا سطور سے جو تفہیم و تبیین ہوتی ہے وہ کچھ اس طرح سے ہے :

  • دنیا کی عالمی سیاست کی ہلچل، مقامی سیاست کی اکھاڑ بچھاڑ، عالمی سطح پر آنے والے تہذیبی انقلاب اور مقامی سطح پر ہونے والی چھوٹی موٹی ثقافتی سرگرمیاں یہ سب عوامل ہماری زبان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
  • دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں ہے جس میں کسی دوسری زبان کے الفاظ نہ پائے جاتے ہوں۔
  • ہر زبان کا خاصہ ہے کہ وہ اپنے دامن میں نئے الفاظ اور محاورات کو قبول کرتی ہے
  • اردو کی اہمیت سے متعلق انشا ء اللہ خان انشا ء کہتے ہیں کہ جاننا چاہیے کہ جو لفظ اردو میں آیا، وہ اردو ہوگیا خواہ وہ لفظ عربی ہو یا فارسی، ترکی ہو سریانی، پنجابی ہو یا پوربی، اصل کی روح سے غلط ہو یا صحیح، وہ لفظ، اردو کا لفظ ہے۔
  • قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جس کا اثر دنیا کی ہر تہذیب اور ہر زبان پر پڑا۔
  • اردو نے اپنے اندر عربی زبان کا ایک وسیع ذخیرہ اپنے اندر سمویاہوا ہے۔
  • قرآن مجید کے الفاظ و محاورات اردو زبان میں اِس طرح مستعمل ہیں کہ بولنے اور سننے والے کو اندا زہ نہیں ہوتا کہ وہ در حقیقت قرآنی زبان بول رہا ہے۔
  • عام آدمی قرآن مجید کے وہ الفاظ روانی سے بولتا ہے جو اُسے ابتدائی طور پر مدرسوں میں پڑھائے جاتےہیں، جن میں : کچھ الفاظ بہ طورِ محاورے، کچھ بہ طورِ اسمِ معرفہ اور کچھ بہ طور عمومی شامل ہیں ۔

حرفِ آخر:

اسلام کی ترقی کی وجہ سے مسلمانوں کی دوسری زبانوں مثلاً اردو، فارسی، ترکی وغیرہ پر عربی نے بڑا اثر ڈالا ہے اور ان زبانوں میں عربی کے بے شمار الفاظ موجود ہیں۔ عربی کو مسلمانوں کی مذہبی زبان کی حیثیت حاصل ہے اور تمام دنیا کے مسلمان قرآن پڑھنے کی وجہ سے عربی حروف اور الفاظ سے مانوس ہیں۔ قرآن مجید جیسی عظیم الشان کتاب عربی زبان میں ہونے کے سبب بہت سے مغربی زبانوں میں بھی اِس کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جو قرآنی الفاظ ہم اپنی زبان میں کثرت سے استعمال کرتے ہیں اگر ان کامفہوم قرآن کی روشنی میں سمجھ لیا جائے تو زبان کے ادا شناس ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارا واسطہ براہِ راست قرآن سے بنتا جائے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20