جنگ، دہشت اور پشتو کی نئی شاعری — محمدحمید شاہد

0

ڈاکٹر ہمدرد یوسفزئی نے اپنی کتاب ’’آموسین‘‘ میں جن پشتون/افغان شاعروں کو جمع کیا ہے وہ پاکستان سے بھی ہیں اور افغانستان سےبھی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ چار عشرے پہلے ہم پر یوں مسلط کی گئی تھی کہ افغانستان ہو یا پاکستان، اس کے پشتو بولنے والے شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، ملکی معیشت تباہ ہوئی، گھر، گلی،محلے، گائوں، شہر، سب تباہ ہوئے، پشتونوں/افغانوں کو اپنے علاقے چھوڑ کر مہاجرت کے دُکھ اور اذیتیں سہنا پڑیں۔ یہ سب اردو انگریزی ادب کا حصہ بنتا رہا ہے اور زیر بحث بھی آتا رہتا ہے مگر یہ پشتو شاعری میں کیسے آیا یہ اردو میں کم کم منتقل ہو پایا ہے۔ پشتو شعرا کے ہاں جس طرح جنگ اور دہشت کا منظر نامہ تخلیق پاروں میں ڈھلتا رہا یہ میں جاننا چاہتا تھا کہ ان ہی کی گواہی سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں کی گواہی ہے۔ ڈاکٹر ہمدرد کا ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے پشتون شاعری کا سرمایہ ترجمہ کرکے ایک کتاب میں مجتمع کردیا ہے۔

جنگ اور دہشت کے ایک مسلسل منظر نامے نے انسانی حسیات کو جس نہج پر دھکیل دیا ہے اس کا اندازہ جلال آباد کے ایک شاعر میر احمد یاد کی نظموں سے لگایا جاسکتا ہے۔ ’’اشرف المخلوقات‘‘ کا عنوان پانے والی نظم آخری سطروں میں دنیا کی بدصورتی اور تباہی کا تمغہ اشرف المخلوقات کہلوانے والے انسان کے سینے پر سجا دیتی ہے کہ اسے ابھی تک امن کے ساتھ رہنا نہیں آیا۔ ایک اور نظم میں ایک لڑکی ناہید کا ذکر ہوا ہے جو اپنی عزت جنسی درندوں سے بچانے کے لیے تین منزلہ عمارت سے کود گئی تھی اور افغان لڑکی فرخندہ کا ذکربھی جسے ناموس قرآن کے نام پر جھوٹے الزام میں ہزاروں لوگوں کے ہجوم نےکابل میں سنگسار کردیا تھا۔میر احمدیاد کی ایک اور نظم ہے ’’ہسپتال کی خاموشی کا شور‘‘ ہے اس میں شاعر نےجنگ میں زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ جانے والے مریضوں کا ذکر کرتے ہوئے، اس خاموشی کو بھی تصویر کر دیا ہے جس میں وارڈ کے سیلنگ فین،مریضوں کی تھکی ہوئی سانسوں، زخمی کی کراہوں اور بوڑھے مریض کی آہوں، غرض ہر آواز کو الگ الگ سنا جا سکتا تھا۔اپنی بکل میں ان ساری آوازوں کو لیے گھمبیر خاموشی یوں کروٹ لیتی ہے:

’’ایک مریض کے بائیں ہاتھ پر بندھے پلستر کے ایک کونے سے خون ٹپک رہا ہے/جس کے سرہانے ایک دوشیزہ اداس بیٹھی ہوئی ہے/اپنے ہاتھ پر حنا سے لکھے ہوئے نام سے مہندی کرید رہی ہے/اس آس و امید پہ/کہ یہ نام اس کے دل اور ذہن سے بھی کریدا جائے گا/سامنے ڈیوٹی روم میں بیٹھے ہوئے جوان ڈاکٹر اپنے موبائل کی سکرین پر/لڑکیوں کی تصاویر کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھ رہا ہے/اور ڈاکٹر کے سامنے بیٹھی نرس/فیس بک وال کی ہر نئی پوسٹ پر دل کا نشان بناتی جارہی ہے۔‘‘

پشاور کے ڈاکٹر خادم حسین نے ’’باچا خان کے مزار پر‘‘ لہو لہو ھشتنگر، پشاور، کابل اور جلال آباد کا نوحہ لکھا ہے۔ قلعہ سیف اللہ کے خان زمان کاکڑ کی نظم کا عنوان ہے’’حسن ناصر خوش قسمت تھا‘‘۔ یادرہے حسن ناصر ساٹھ کی دہائی میں لاہور قلعے میں تشدد سہتے مر گئے تھے۔ اس نظم میں شاعر کا کہنا ہے:
’’اچھا ہوا وہ پہلے مر گیا/اچھا ہوا اس نے غلاظت بھرا انسان نہیں دیکھا‘‘

در گئی ملاکنڈ کے رحمت شاہ گھائل کی نظم’’سوداگر‘‘ سوال کرتی ہے کہ
’’یورپ تو اتنا بھوکا پیاسا بھی نہیں رہا/پھر کیوں/انسانیت کی ساری /اقدار گنوا بیٹھا ہے۔‘‘

بونیر کی شاہین بونیری کی نظم ’’التجا‘‘ ان جنگی طیاروں کو نشان زد کر رہی ہے جو راکھ شدہ پہاڑوں اور تباہ شدہ بستیوں کے اوپر پرواز کر رہے ہیں۔ خوست کے پیر محمد کاروان نے اپنی نظم ’’میرے گائوں کی وہ دراز لڑکی‘‘ میں اپنے جلتے ہوئے وطن کو ایک دوشیزہ کے روپ میں دیکھا ہے۔ امریکہ میں مقیم شبنم گل نظم ’’قصور‘‘ میں ان چیتھڑے ہو جانے والی لاشوں کا ذکر ہے جن کی بوٹی بوٹی بوڑھے ہاتھوں کو اکٹھا کرکے دفنانا تھی۔ عبدالرحمان صافی کی نظم میں ایسا کلاس روم ہے جس میں گھاس اُگ آئی ہے۔ مردان کے آفتاب گلبن کی نظم،عین آغاز میں بتا رہی ہے کہ ’’یہ شہر زندہ لاشوں کا ایک قبرستان ہے‘‘۔چارسدہ کی نظم کا نام ہی ’’نائن الیون‘‘ ہے۔ شانگلہ کے فضل سبحان افغان نے اپنی نظم کینوس پرجس دھرتی ماں کی تصویر بنائی ہے اس پر موت کا پہرہ ہے۔ سویڈن میں مقیم ھیلہ کریمی وطن سے دور رہ کر بھی اپنی نظم میں اپنے دیس کے ان بچوں کو متن کر رہی ہیں جو ہڈیوں کا ڈھانچ رہ گئے ہیں اور ان بچیوں کو بھی جو اسکول نہیں جاسکتیں۔ کراچی کی ریاض تسنیم کی نظم میں وہ ملاکنڈ ہے جس کے راستے میں سپاہی ہر ایک کی تلاشی لے کر پستول، سگریٹ کے پیکٹ،راکٹ لانچر اور نسوار برآمد کر رہے ہیں۔ نظم آخر میں سوال کرتی ہے کہ پشتونوں کے وارث کہاں ہیں؟ اقبال حسین افکاراپنی نظم ’’کنفیوژن‘‘ میں احتجاج کر رہے ہیں کہ انہیں پشتون ہونے کی کیوں سزا دی جا رہی ہے۔ ملاکنڈ کے امجد شہزاد کا اپنی نظم میں ایک انتباہ ہے:

’’اے امرائے وطن!/یہ تمھارے وطن کے بھوکے ننگے بچے/ بارود تونہیں کھا سکتے/ہاں یہ بارود انہیں کھا جائے گا۔‘‘
درگئی کے ڈاکٹر خالق زیار کے نزدیک ’’کرائسسز‘‘ یہ ہے کہ سب لوگ ماضی میں مقیم ہیں، تاریخ کو پیچھے دھکیلنے میں جتے ہوئے ہیں اور ارتقا کے راستوں کو مسدود کر رہے ہیں۔ مردان کے فطرت یوسفزئی ان شاعروں پر برسے ہیں جو وطن کو راکھ ہوتا دیکھتے ہیں لیکن اپنی چپ سے اپنے ہی وطن کے جنگلوں کی لکڑیوں کا ایسا ایندھن فراہم کر رہے ہیں جو تاریک روشنی کا سبب ہو رہا ہے۔ شاعری تاریک روشنی کیسے ہو جاتی ہے یہ نظم اس کا عقدہ کھولتی ہے۔ مانسہرہ کی اسماعیل گوہر کی نظم میں ایک دلہن اپنی دعا میں انجانی آفتوں سے خوف زدہ ہو کر اپنا صحیح سلامت جانان مانگ رہی ہے۔ امریکہ میں رہنے والے پشتون شاعر رحمان بونیری کی نظم میں ایسی کتاب ہے جس کے سرورق پر ایک پرندے اور ایک لاش کا چہرہ ہے اور جس کے اوراق خون میں لتھڑے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر ہمدرد نے سابق افغان صدر ڈاکٹر نجیب احمد زئی کی بیوی ڈاکٹر فتانہ نجیب کی ایک فارسی نظم کا بھی اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ ترجمہ فارسی سے نہیں بلکہ نظم کے پشتو ترجمے سے کیا گیا ہے۔ گویا ترجمے کا ترجمہ۔ فتانہ نجیب کہتی ہیں:

’’میرے من مندر کے دیوتا نجیب/میں تمہیں روز خواب میں دیکھتی رہی /۔۔۔/تم جنگوں کے محاذوں کے مسافر/بغیر الوادع کہے/بغیر آخری بوسہ دیے/[موت کی] موجوں کی آغوش میں چلے گئے’’

کوہاٹ کے شاکر اورکزئی نے ’’اے پی ایس پشاور کا واقعہ اور میرا بیٹا‘‘ عنوان قائم کرکے ایک ’’سفاک‘‘ نظم لکھی ہے۔ پشاور کی زاہدہ تنھا کی نظم کا محبوب پشتون ہے۔ یہ نظم اپنی مٹی کے نام ہے کہ ان کا کہنا ہےکہ ہم سب اپنی دھرتی کی مٹی کے مقروض ہیں۔ درگئی کے اعجاز احمد کی نظم میں چھن جانے والی پہچان کا نوحہ ہے اور جلتے ہوئے مکتب کا نوحہ بھی۔ سوات کے عثمان اولسیار، ملاکنڈ کے شیر زمان سیماب اورشانگلہ کے فرحت عباس کی جن نظموں کو ترجمہ کیا گیا ہے ان میں بھی بارود کا دھواں ہے، جلتے ہوئے انسانی گوشت کی باس،لہو لہو پشاور اور پشتون شہدا کی بے وقعت اور بے قیمت لاشیں ہیں۔ مردان کے طارق پختون اس اذیت کے مقابل ہیں کہ ان کے اندر کا شاعر مر رہا ہے۔ فیصل فاران کی نظم ان مائوں کی ممتا کے نام ہے جن کے جگر گوشے مفقود الخبر ہیں اور ان قیدیوں کے نام بھی جن کی جوانیاں کال کوٹھڑیاں نگل گئیں۔ یہ نظم ان مقتولوں کے نام ہے جو مسجدوں میں خود کش حملوں میں مارے گئے اور ان کے نام بھی ہے جو اور کچھ نہیں بس خدا کے بندے ہیں۔ اس شاعری کی ایک اور نظم جو اس کتاب کی آخری نظم بھی ہے عاصمہ جہانگیر کے نام ہے جو انسانی حقوق کے لیے ساری عمر سرگرم عمل رہیں۔

اس کتاب میں اور بھی کئی نظمیں ہیں، محبت کی نظمیں، بے نام جذبوں کی نظمیں، بے وجہ جیے جانےکا نوحہ کہتی نظمیں، تنہائی اور بے بسی کی نظمیں، خوشبودار لڑکیوں کی نظمیں، منھ زور عشق، وفا اور بے وفائی کی نظمیں۔ میں نے ان سب نظموں کو جنگ اور دہشت کی نظموں کے اندر یہاں وہاں پڑھا ہے اور جب سب نظمیں پڑھ چکنے کے بعد کتاب ’’آموسین‘‘ ایک طرف رکھی ہے تو دھیان سے بارود کا وہ سایہ چھٹتا ہی نہیں تھا جس میں رہ بس کر پشتون/افغان شعرا یہ نظمیں لکھتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہمدرد یوسفزئی نے پشتو نظموں کو بالعموم عمدہ اور سہل زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ کہیں کہیں تذکیر و تانیث کی الجھن ایک طرف رکھ دیں تو نظمیں اپنی تاثیر اردو قاری تک منتقل کرتی ہیں۔ کہنے کو ترجمے کی حیثیت دوسرے درجے کی ہے، اور پھر شاعری میں ترجمے سے جو چیز سب سے پہلے منہا ہوتی ہے وہ شاعری ہی ہے۔ محض شاعری ہی نہیں شاعر کا اسلوب بھی جو اسے منفرد بنا رہا ہوتا ہے۔ تاہم اس سب کے باوجود ترجمے کی اہمیت کا انکار نہیں۔ جب آپ کی دسترس میں کچھ نہیں ہوتا تو یہ ترجمہ ہی ہوتاہے جو آپ کی خالی جھولی بھر دیتا ہے۔ ڈاکٹر ہمدرد کے پشتو نظم کے ان تراجم نے ہماری خالی جھولی بھر دی ہے۔ وہ نظمیں جو پشتو زبان نہ جاننے کے سبب ہم پڑھ ہی نہ پاتے انہیں اردو کے قالب میں ڈھال کرجنگ اور دہشت سے سب سے زیادہ متاثرہ خطے کی اس نسل کے طرز احساس کو ایک حد تک پالینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو خون کی اور بارود کی بو ملی فضا میں سانس لینے پر مجبور رہی ہے۔ جنہوں نے شہر اجڑتے دیکھے اور لوگوں کو مرتے یا گم ہوتے دیکھا یاپھر جنہیں اجڑ کر یہاں وہاں ہجرت کرنا پڑی۔ ڈاکٹر ہمدرد آپ کا بہت شکریہ!

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20