حمیدہ اختر حسین کی دو منفرد اور نایاب کتب — نعیم الرحمٰن

0

بیگم حمیدہ اخترحسین رائے پوری ایک منفرد اور فراموش کردہ ادیبہ ہیں۔ جنہوں نے پچھہتر سال کی عمرمیں شوہر اختر حسین رائے پوری نے انتقال کے بعدجمیل جالبی کے اصرار پر قلم سے رشتہ جوڑا، اور ’’ہم سفر‘‘ جیسی پُرلطف آپ بیتی تحریرکی۔ اختررائے پوری کی زندگی میں حمیدہ اختر ہمیشہ ان کی پرچھائیں بنی رہیں۔ ان کے گزرجانے کے بعد تنہائی انہیں مارے ڈالتی تھی۔ ان کی آنکھوں میں ماضی کی تصویریں ہر وقت پھرتی رہتی تھیں۔ ایسے میں ڈاکٹر جمیل جالبی نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ کے ذہن میں جو کچھ آتا ہے۔ وہ اسی طرح لکھتی جائیں جیسے کسی کو سنا رہی ہوں۔ جالبی صاحب نے رجسٹر اور قلم بھی فراہم کر دئیے۔ فہمیدہ ریاض سے حمیدہ اخترنے کہا کہ جالبی صاحب یہ مشورہ دے گئے ہیں، اب سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کروں۔ فہمیدہ نے کہا کہ مجھے واقعات سنائیں۔ میں شروع کرتی ہوں، آپ انہیں مکمل کریں۔ یوں ’ہم سفر‘ جیسی منفرد آپ بیتی منظرِ عام پرآئی۔ جسے اخترحسین رائے پوری کی خودنوشت ’’گردِ راہ‘‘ کی توسیع بھی کہاجاسکتاہے۔ آپ بیتی لکھنے والا بہت سے واقعات خوف فساد خلق کے اندیشے سے چھوڑ دیتا ہے۔ اخترصاحب نے جب گردِ راہ تحریرکی توان کی بینائی ساتھ چھوڑ چکی تھی۔ وہ بولتے تھے اورکوئی اور لکھتا تھا۔ ایسی صورت حال میں بھی مصنف سب کچھ نہیں لکھوا پاتا۔ اسی لیے ’’ہم سفر‘‘ میں ’گردِ راہ‘ میں نہ شامل بہت سے واقعات تفصیل سے موجود ہیں۔ پھر حمیدہ اختر کا مخصوص نسوانی اسلوب، محاورے، روزمرہ کا استعمال، بول چال اور سادگی کتاب کی دلچسپی کو دوچند کردیتا ہے۔ انہوں نے بابا ئے اردو مولوی عبدالحق کی ایک بالکل مختلف، شوخ اور کھلنڈری شخصیت قارئین کے سامنے پیش کی ہے۔ جو مولوی صاحب کی عمومی شخصیت اوران کی اپنی تحریروں کا اردو کے لیے زندگی وقف کردینے سے قطعی مختلف نظر آتی ہے۔

بیگم حمیدہ اخترحسین کاتعلق ایک علمی گھرانے سے تھا۔ ان کے والد ظفر عمر زبیری متحدہ ہندوستان میں پولیس سپریٹنڈنٹ اور اردو کے پہلے جاسوسی ناول نگار تھے۔ ان کے چارناول آج تک شائع ہوتے اورپڑھے جاتے ہیں۔ چنانچہ بیگم حمیدہ اختر نے بھی ایک بار قلم سے رشتہ جوڑا تو مرتے دم تک اسے قائم رکھا۔ انہوں نے آپ بیتی ’’ہم سفر‘‘ کے بعدشخصی خاکوں پر مشتمل دوکتب ’’نایاب ہیں ہم‘‘ اور ’’چہرے مہرے‘‘ اور حقیقی کرداروں پر مبنی دلچسپ ناول’’ وہ کون تھی‘‘ بھی تحریرکیا۔ اس کے علاوہ بچوں کے لیے ’’سدا بہار کہانیاں‘‘، ’’پرانی کہانیاں‘‘ اور’’مزیدار کہانیاں‘‘ میں نانی اوردادی کی سنائی کہانیوں کو اپنے مخصوص اسلوب میں جمع کردیا۔ یہ تمام کتب قارئین میں بہت مقبول ہوئیں۔ لیکن یہ کتب پندرہ سال سے شائع نہیں ہوئیں اور قارئین ان کی تلاش میں رہتے ہیں۔ حمیدہ اخترحسین کی تمام کتب کی اشاعت نوضرور ہونی چاہیے۔

’’نایاب ہیں ہم‘‘1999ء میں شائع ہوئی تھی۔ شخصی خاکوں کی اس کتاب میں سات خاکے شامل ہیں۔ جن میں مولوی عبدالحق، والد ظفر عمر، شوہر اخترحسین اوروالدہ کے علاوہ ملازم کے خاکے شامل ہیں۔ ’’ہمارے مولوی صاحب‘‘، ’’نیلی چھتری‘‘، ’’بیادِ اختر‘‘، ’’اماں‘‘، ’’آمنہ ابراہیم‘‘، ’’عنایت‘‘ اور ’’ابراہیم‘‘ کے خاکے شامل ہیں۔ ڈاکٹر جمیل جالبی ’’کتاب سے پہلے‘‘ میں لکھتے ہیں۔ ’’بھابی حمیدہ کمال کی خاتون ہیں۔ اتنے برسوں کی ملاقات میں یہ تو کبھی نہ کھُلا کہ ان کے اندر بھی ایک بڑا لِکھاڑ، آلتی پالتی مارے گیان دھیان میں مصروف ہے۔ جب تک میرے محترم دوست ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری بقیدِ حیات رہے، بھابی حمیدہ ان کی اپنے گھر اور بچوں کی نگہ داشت کرتی رہیں۔ کھانے ایسے پکائے کہ جس نے کھائے انگلیاں چاٹتارہ گیا۔ دعوتوں کو اس طرح سجایا کہ جو آیا اس نے سلیقے اور سگھڑپن کی داد دی۔ بچو ں کو ایسے سنوارا کہ آج سب اپنی جگہ روشن ہیں۔ ہمت والی ایسی کہ بڑے سے بڑے حادثے کا مقابلہ خندہ پیشانی سے کیا اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ مجھے ان کی لچھے دار باتوں میں ہمیشہ لطف آیا۔ وہ اس طرح بولتی ہیں کہ منہ سے پھول جھڑتے ہیں۔ لہجے کا ایسا سبھاؤ اور ایسی مٹھاس کہ جو سنے مزا لے۔ ان کی زبان وہ زبان ہے جو ہمارے گھروں میں بولی جاتی تھی اور ٹکسالی سمجھی جاتی تھی۔ تہذیب کی خوشبوان کے باطن سے اس طرح پھیلتی ہے کہ فضا موتیا اور موگرے کے گجروں کی خوشبو سے مہک اٹھتی ہے۔ یہی خوشبُو حمیدہ بھابی کی تحریروں کی جان ہے اوراسی لیے جو بھی ان کی تحریروں کو پڑھتاہے، پھڑک اٹھتا ہے۔ ’ہم سفر‘ لکھی تو ایسا امتیاز حاصل کیا جو برسوں کی محنت اور بہت سی کتابیں لکھ کر بھی لوگوں کو حاصل نہیں ہوتا۔ ’سدابہار کہانیاں‘ لکھیں تو اپنے مخصوص لہجے کے ساتھ صدیوں پرانی ہمیشہ زندہ رہنے والی کہا نیو ں کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کر دیا۔ اپنی نئی کتاب ’نایاب ہیں ہم‘ کے ساتھ اس تہذیب کاایک نیا رُخ سامنے لائی ہیں اور ان لوگوں کے بارے میں لکھاہے، جواب دور دور تک نظر نہیں آتے، اسی لیے نایاب ہیں۔ محبت، وفا، سچائی، شرافت، لگن اور سادگی کے پتلے۔ اپنے اصولو ں کے برگد کی طرح قائمودائم، صابروشاکر زندہ اور مگن، عظیم انسان۔ اُن میں اِ ن کی ماں بھی شامل ہیں اور والد بھی۔ بابائے اردو بھی اور گھر کا ملازم عنایت بھی۔ زبان و بیان اور اندازِ تحریر، لہجے اور بات چیت کا ڈھنگ وہی ہے جو ’ہم سفر‘ کا طرہ امتیاز ہے۔‘‘

’’نایاب ہیں ہم‘‘ کا پہلا خاکہ ’’ہمارے مولوی صاحب‘‘ ہے۔ جس کا آغاز حمیدہ اختر یوں کرتی ہیں۔ ’’کیسا عجیب اتفاق ہے کہ 2جون 1935ء کو اختر حسین رائے پوری نے اپنا ہاتھ بڑھا کر میرا ہاتھ تھامنے کی خواہش کا اظہار میرے والد ظفر عمر مرحوم سے کیا اور 2جون92ء کو انہی ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی چھوڑ کر سفرِ آخرت پر روانہ ہوگئے۔‘‘ نصف صدی قبل اخترحسین نے رشتہ کا پیام ظفر عمر صاحب کو خود دیا جو آج بھی انہونی بات ہے۔ ظفر عمر نے مولوی عبدالحق جن کے ساتھ اختر کام کرتے تھے رابطہ کیا۔ جنہوں اس رشتے کی تائید کرتے ہوئے لکھا کہ حمیدہ میری اپنی ہی بیٹی ہے۔ آپ کو اس معاملے میں تامل نہیں ہونا چاہیے اور فیصلہ کرلینا چاہیے کہ اختر کو دامادی کا شرف بخشیں۔ رشتہ طے ہوا۔ مولوی صاحب نے حمیدہ کو جو پہلا خط لکھا اس میں کہا۔ ’’میں نے سناہے کہ تم کھانا اچھا پکاتی ہو توبے حدخوش ہوا۔ اس کا منتظر ہوں جب تمہارے ہاتھ کا پکایا کھانا کھا سکوں گا۔ بڑی عمر پر آکر اچھے کھانوں کا شوق سب کو ہوہی جاتاہے۔‘‘

29دسمبر1935ء مولوی صاحب برات لے کر پہنچے۔ ریل کے فرسٹ کلاس ڈبے کے سامنے سرخ قالین بچھایا گیا ایک طرف پولیس بینڈ والے کھڑے تھے اور دوسری طرف خاندان کے بزرگ اور شہر کی معزز شخصیات۔ ریل رکی تو برات میں سب سے آگے مولوی صاحب، کچھ کُودنے والے اندازسے اترے، ان کے پیچھے اختراوردس عدد دوست۔ ڈاکٹر کے ایم اشرف، سبطِ حسن، مجاز، ساغر نظامی، ذکاء اللہ خاں، بشیرالدین، علی گڑھ یونیورسٹی کے لائبریرین اور ہندو دوست مہندر، رام لال کُود کُود کر اترتے ہیں۔ مولوی صاحب اوراخترعجیب و غریب گارہے ہیں، جس میں دیگرہم نواہیں۔ ایک بجے چوبیس لوگوں کی میز پر کھانا لگایا گیا۔ بیرے سفیدوردی میں کھانے کی ڈشیں پیش کرنے لگے۔ نفیری بچنے لگی۔ مولوی صاحب کانٹا پکڑ کر بولے، بھئی اس توں، توں پی پی میں کھایاتو کچھ جائے گانہیں توچلوپی ہی لیں۔ یہ کہہ کرسامنے رکھی ٹماٹر ساس کی بوتل کھول کرغٹ غٹ پینے لگے اور ساتھ سب براتی۔ ظفر عمر صاحب نے بینڈ والوں کو باہر بھیجا تو ٹماٹر ساس کی بوتلیں واپس میز پر رکھ دی گئیں۔ نکاح سے رخصتی تک مولوی صاحب نے ایسی کئی دلچسپ حرکتیں کیں۔ جہیز دکھانے پرانہوں نے کہا کہ جو دسیوں لڑکیاں تمہارے گھرمیں ہیں انہیں دے دیناہمارے ساتھ صرف حمیدہ کے کپڑے اور ذاتی استعمال کاکچھ سامان جائے گا۔ جب بھائی نے حمیدہ کوان سے ملایاتوبولے یہ تو ذرا سی لڑکی ہے۔ ڈرہے کہ کہیں شاردا ایکٹ میں ہم لوگ دھر نہ لیے جائیں۔ ریل کے سفرکے دوران، واپسی پر اسٹیشن اور پھر گھر میں مولوی عبدالحق کا حمیدہ اخترکے ساتھ رویہ اور سلوک شفقت آمیز اور دوستانہ تو تھا ہی، ان کی دلچسپ شرارتوں سے مولوی صاحب کی ایک بالکل نئی شخصیت قارئین کے سامنے آتی ہے۔ جوان کی عمومی سنجیدگی کے بالکل برعکس ہے۔ مولوی صاحب کے بارے میں بہت کچھ حمیدہ اخترنے ہم سفرمیں لکھاہے اورپھراس خاکے سمیت ان کی ایک نئی تصویر اجاگر کی ہے۔ چون صفحات کے اس طویل خاکے میں مولوی صاحب کے اس دور کے مشاہیرسے تعلقات، ملازمین سے رویہ، حمیدہ کے ساتھ شفقت ومحبت کے ساتھ ہردلچسپی میں شرکت بے شمار دلچسپیاں دی گئی ہیں کہ قاری کی توجہ ایک لمحے کوبھی نہیں ہٹنے پاتی۔

حمیدہ اخترحسین نے کراچی میں جب یہ سناکہ مولوی صاحب بہت علیل اورکمزور ہوگئے ہیں۔ تووہ فوراً ان سے ملنے پہنچ گئیں۔ لکھتی ہیں۔ ’’میں نے اس شیرجیسے انسان کو ہراساں اور بے بس پایا، مجھے رونا آنے لگا، وہ آبدیدہ ہوگئے۔ میرے ساتھ چلنے پر کہا کہ بھلا میں کہاں جا سکتا ہوں، میں توایک قیدی ہوں، پھر انجمن کو چھوڑ کر جاؤں تو میری جو نادر کتابیں اور قلمی نسخے باقی رہ گئے ہیں وہ بھی شایدنہ رہیں۔ میں سوچ میں پڑگئی یہ عظیم انسان، محسنِ قوم و زبانِ اردو کسی کے قیدی ہوسکتے ہیں؟ اس علم دوست، اردوزبان کے عاشق کومیرا باادب سلام پہنچے اے کاش کبھی ایسانہ ہو کہ ہم اپنے اپنے محسن اور دوست کو آخری وقت دکھی دل سے دنیاسے رخصت کریں۔‘‘

یہ سب لکھ کر حمیدہ اختر نے بہت سے ان کہی بھی کہہ دی ہے۔ نیلی چھتری حمیدہ اخترکے والد ظفر عمر کا پہلا ناول اور ان کی کوٹھی کابھی نام تھا۔ والدکے خاکے کو انہوں نے ’’نیلی چھتری‘‘ کا عنوان ہی دیا ہے۔ شکار کے شوقین ظفر عمر کی ٹانگ پر شیرکے شکارکے دوران گولی لگ گئی اور ٹانگ کاٹ کرمصنوعی لگانا پڑی۔ لیکن پولیس میں ان کی خدمات اتنی اعلیٰ تھیں کہ انہیں سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پرترقی دی گئی۔ مشہور سلطانہ ڈاکو بھی انہوں نے ہی پکڑوایا تھا۔ بیٹی کے استفسار پرانہوں نے بتایا۔ سچ بات تویہ ہے کہ مجھے لکھنے کاکبھی خیا ل تک نہ آیا، یہ تو تمہاری اماں نے نیلی چھتری لکھوایا اور جب کوٹھی کانام ونشان بھی نہ تھااس کانام بھی یہی رکھا۔ زمانہ طالب علمی میں میں تمہارے ماموں سید حامد حسین اور مسعود ٹامی سے بہت متاثر تھا۔ مسعود بڑی باغ وبہار شخصیت تھے اوربھیس بدل کر دوستوں کو دھوکا دینا ان کاشغل تھا۔ پولیس سروس میں آیا تو خیال آتا کہ مسعود کو سراغ رسانی کے محکمے میں ہونا چاہیے۔ بس مسعود اور بہرام کے کرداروں کو لے کر تمہاری ماں کے اصرار پر ناول لکھ دیے۔‘‘

حمیدہ اخترنے یہ انکشاف بھی کیاکہ والد نے دراصل چارنہیں پانچ ناول لکھے تھے۔ پانچواں ناول ’’بہرام کی رہائی‘‘ سلطانہ ڈاکو کی رہائی کے پس منظرمیں تھا۔ ’’ایک کاتب محمدعاقل مالی مشکلات کاشکار تھے۔ انہیں کتابت کا کام دیدیا، اور کہا، جب فرصت ملے آکر جو لکھ چکا ہوں اس کو صاف رجسٹر پر نقل کردیاکریں۔ علی گڑھ یونیورسٹی کی گولڈن جوبلی تقریبات کے بعدواپس آئے تو پتہ چلا کہ ’’بہرام کی رہائی‘‘ کسی اور نام سے چھپ چکی ہے۔ محمد عاقل سے پوچھنے کا ارادہ تھا کہ یہ دلخراش خبر ملی کہ محمد عاقل خوش نویس نے تین بچوں اور بیوی کے ساتھ زہر پی کر خودکشی کرلی، اور لکھا کہ میں نے ظفر عمر جیسے دیرینہ محسن کے ساتھ بداخلاقی کی اوران کی کتاب کا مسودہ چرا کر چھپوا لیا۔ کتاب ہاتھ آئی تو تمہاری ماں نے اسے پھاڑ کر پھینک دیا۔ یہ خونی کتاب ہمارے گھر نہیں رہ سکتی۔‘‘

’’نایاب ہیں ہم‘‘میں ’’اماں‘‘ بیگم ظفر عمر کا خاکہ بھی بہت دلنیشن ہے۔ جس میں ظفرعمراورحمیدہ کی والدہ کی شادی کا واقعہ کافی دلچسپ ہے۔ ظفر عمر نے اعزاز سے بی اے پاس کیا اورنواب محسن الملک کے سیکریٹر ی لگ گئے۔ والدنے منہ مانگا انعام دینے کو کہا تو بولے۔ میری شادی میرے دوست حامدحسین کی بہن سے کروادیں۔ ان کے والداپنے بھائی کولے کر گوالیار خان بہادر سید جعفر حسین کی کوٹھی جاپہنچے۔ اپنا تعارف حامدحسین کے دوست ظفرعمرکے والدکی حیثیت سے کرایا۔ ایک ہفتہ بعد جعفرحسین نے آمد کامقصد پوچھا تو بولے۔ بیٹے کے لیے رشتہ مانگنے آیاہوں۔ انہوں نے کہا، میری چار بیٹیاں ہیں بڑی کی شادی ایک ماہ پہلے ہوچکی۔ دوسری دس، تیسری آٹھ اور چھوٹی چھ سال کی ہے۔ کسی لڑکی شادی کی عمرنہیں۔ ارشاد ہوا، دوسری لڑکی کے لیے ہامی بھرلیجئے۔ اللہ چاہے تو چھوٹی سے بڑی ہوہی جائے گی۔ پورے ایک سال قیام کے بعد کہا گیا۔ خان بہادرصاحب لڑکی گیارہ سال کی ہوگئی۔ ظفر عمر کو بلالیتا ہوں فی الحال نکاح کردیں۔ رخصتی بعد میں ہوجائے گی۔ یوں نکاح ہوا اور ایک سال بعد رخصتی جب ظفر عمر کی عمرانیس اور منکوحہ کی بارہ سال تھی۔

کتاب کے دیگرخاکے بھی بہت دلچسپ اور قابلِ مطالعہ ہیں۔ حمیدہ اخترحسین کے خاکوں کا دوسرا مجموعہ ’’چہرے مہرے‘‘ دو ہزار پانچ میں شائع ہوا۔ جس میں ایک دلچسپ کردارصائمہ کا ایک سوبیس صفحات کا طویل خاکہ، جمیل جالبی، انور مقصود اور زہرہ نگاہ کی والدہ پاشی اور ڈاکٹرنیوس سمیت چارخاکے شامل ہیں۔ جس کاپیش لفظ خود بیگم حمیدہ اختر نے لکھا۔ ’’کتاب توٹوٹی پھوٹی جیسی تیسی میں نے لکھ ڈالی، لیکن دیباچہ یاپیش لفظ کیا بلاہوتی ہے، میں اس سے ناواقف تھی۔ جمیل بھائی بیمار پڑگئے اورحکم فرمایا کہ اب یہ کام بھی خود کیجئے بھابی صاحبہ۔ ’چہرے مہرے‘کی اصل کہانی صائمہ شاید میری تصوراتی ہے لیکن اس کہانی کے دیگر کردار اصل ہیں اوران کے مسائل بھی حقیقی ہیں۔ اس کہانی کے ذریعے میں یہ کہناچاہتی ہوں کہ ایساممکن ہے یہ ان لوگوں کی کہانی ہے جو وارث رکھتے ہوئے بھی لاوارثوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں یا دوسرے ملکوں میں ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔ صائمہ ایسے لوگوں میں کس طور ایک زندگی اورجان ڈالتی ہے کہ ان کاشمار پھر زندوں میں ہونے لگتاہے اورمعاشرے کے لیے وہ بہت کارآمد ہوجاتے ہیں۔ ان ریٹائرڈ اور اپنی اولادوں سے فارغ بہ ظاہر بے کار، لوگوں کے ذریعے اس نے معاشرے کو بدلا۔ صائمہ کے علاوہ دیگرخاکے ڈاکٹر جمیل جالبی، پاشی اور ڈاکٹر نیوس زندہ جاوید کردار ہیں۔ جمیل جالبی سے کون واقف نہیں، پاشی بھی ایسی غیر معروف نہیں اور ڈاکٹر نیوس آپ لوگوں کے لیے اجنبی ضرور ہیں مگر ہر علی گڑھ والا ان کا جانتا ہے۔‘‘

’’چہرے مہرے‘‘ کا پہلا خاکہ ’’صائمہ‘‘ ایک سوبیس صفحات کا ناولٹ ہے۔ جس کے تمام کردار حقیقی ہیں۔ جس کی تفصیل پیش لفظ بیگم حمیدہ اخترنے پیش لفظ میں بیان کردی ہے۔ ’’بھائی جمیل جالبی‘‘ میں لکھتی ہیں کہ جمیل بھائی کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور محکمہ انکم ٹیکس سمیت اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ لیکن کبھی ان عہدوں پر نازاں نہیں رہے، نہ کبھی اپنی علمیت اور قابلیت کا اظہار کیا۔ ملک کے بڑے سے بڑے فرد سے واقفیت اور ملاقات کو بھی کبھی اہمیت نہ دی۔ شایدانہیں کے لیے سرور بارہ بنکوی نے کہا ہے۔
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہوجائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں

آخری دو خاکے ’’پاشی‘‘ اور ’’ڈاکٹر نیوس‘‘ کے ہیں۔ جن سے شاید عام لوگ واقف نہیں۔ احمد مقصود، انور مقصود، فاطمہ ثریا بجیا، زہرہ نگاہ اور زبیدہ آپا سے پاکستان میں کون واقف نہیں۔ پاشی ان سب کی والدہ تھیں۔ ایسے بچوں کی ماں جیسی ہونا چاہیے وہ ویسی ہی تھیں۔ بجیاکے ہر ڈرامے اور تحریرمیں ان کے مشورے شامل ہوتے۔ مس نیوس علی گڑھ کی مشہور لیڈی ڈاکٹرتھیں۔ ہروہ شخص جوعلی گڑھ میں رہا یا یونیورسٹی میں پڑھا ہے۔ ان سے واقف ہوگا۔ مس نیوس کا تعلق انگلینڈ سے تھا۔ ولایت چھوڑ کرعلی گڑھ جیسے چھوٹے شہرمیں ان کے رچ بس جانے کے بارے میں ہرشخص کی الگ کہانی تھی۔ وہ لندن کے کسی مسٹر نیوس کی اکلوتی صاحبزادی تھیں۔ ڈاکٹری کی تعلیم کے دوران مسلمان لڑکے سے دوستی ہوگئی۔ تعلیم ختم کرکے وہ بغیربتائے ہندوستان لوٹ گئے۔ یہ کچھ سوچ کر علی گڑھ آگئیں۔ والد کے پیسے سے بہت بڑی کوٹھی بنوائی۔ علی گڑھ اوراس کے آس پاس اس دور میں کوئی لیڈی ڈاکٹر نہیں تھی۔ ڈاکٹر نیوس کے علاج سے لاولد حیدرآباد کے نواب کے ہاں اولادِ نرینہ ہو ئی تو وہ بہت خوش ہوئے۔ دلہن کا علاج کے ساتھ بچے کی دیکھ بھال بھی ڈاکٹر نیوس نے ایسی کی کہ بچہ مسعود ان سے جدا ہونے کو تیار ہی نہیں تھا۔ یہ بھی بہت دلچسپ ہے۔

اردو کی منفرد قلمکار بیس اپریل دو ہزار نو کو جہانِ فانی سے رخصت ہوگئیں۔ لیکن اپنے تحریروں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ان کی تمام کتب بار بار پڑھ کربھی سیری نہیں ہوتی۔ ماضی کی تہذیب، رکھ رکھاؤ جو ان کتب میں بیان ہوا ہے۔ آج قصہ پارینہ ہے۔ لیکن اس کی دلچسپی میں کلام نہیں ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20