کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی – انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 5

0

جناتی اور جادوئی صنعت

ایک اور اہم صنعت بڑی نفع بخش اور مقبول تھی۔ ہمارے ہاں نجم الدین ایک مشہور لوہار تھا جو ہمارے گائوں میں ایک وقت مقررہ پرایک جگہ بیٹھتا اور گائوں کے لوگ اپنے اپنے اوزار، درانتی، کلہاڑی وغیرہ اور اپنے گھر سے کوئلے کا ایک تھیلا لے کر اس کے ہاں حاضری دیتے۔ اپنی باری پر ایک قسم کا چرخہ چلا کر آگ کی دھونکنی کو تیز کرنا لوہار کا نہیںگاہکوں کا فریضہ سمجھا جاتا تھا۔ نجم الدین تھا تو لوہار، لیکن سائیڈ بزنس کے طور پر لوگوں، بالخصوص عورتوں پر کئے گئے جادو بھی نکالتا رہتا تھا۔ مشہور تھا کہ اس کے پاس ایک خاص جن ہے جس کو حاضر کر کے وہ اپنے علم کی طاقت سے جادو،جو تعویذ کی شکل میںکسی جگہ دبایاگیا ہوتا،مٹی کھود کر بڑی مہارت سے نکال باہر کرتا ہے۔ یہ صنعت اتنی مشہور اور عام تھی کہ کسی کو سر درد ہوتا،ہاضمہ خراب ہوتا یا کسی کی بھینس دودھ نہ دیتی تشخیص یہی ہوتی کہ اس کے گھر پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔ جادو نکالنے کے لیے نجم الدین سے خصوصی وقت لیا جاتا۔ جس رات کو جادو نکلوانا ہوتا اس دن صاحبِ خانہ کھانے کا خاص اہتمام کرتا۔ مغرب کے بعد کھانے سے فارغ ہو کر جن صاحب کو حاضر کرنے کے لیے پروسیس شروع ہو جاتا۔
اس کے جن کو بلانے کا ایک خاص طریقہ تھا۔ صاحبِ جن کا حکم تھا کہ سیف الملوک یا ِ یوسف و زلیخا کی داستان،جو پنجابی میں ہوتی تھی، گا کر پڑھی جائے۔ پانچ،دس منٹ کے بعدصاحبِ جن اپنے سر کو دائیں بائیں زور زور سے جھٹکادیتے اور حق ہو کا نعرہ لگاتے رہتے اور بعض اوقات مناسب جگہ دیکھ کر احتیاط سے گر بھی جاتے۔ اچانک آنکھیں کھول دیتے اور معلوم ہو جاتاکہ جن صاحب حاضر ہو کر اس میں’ داخل‘ ہوگئے ہیں۔ مشہور ہے کہ جن آتشی مخلوق ہے اور اس پر آگ اثر نہیں کرتی۔ چنانچہ لوگوں کو مزید یقین دلانے کے لیے کہ واقعی اس کے پاس جن ہے وہ اس بات کا خاص اہتمام کرتا کہ جب جن حاضر ہو کر اس کے’ اندر داخل‘ ہو جاتا تو بیاڑ یا چیڑھ کی روغن والی لکڑی، جسے دِہیلی کہتے تھے، کو آگ لگاکر جلدی جلدی منہ کے اندر ڈال کر سانس کے پھوک سے بجھا دیتا۔ اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا تھا کہ دِہیلی چھوٹی ہو اور آگ صرف اس کے سرے پر معمولی سی ہو۔ تاثر یہ دینا مقصود ہوتا کہ دیکھو اس پر آگ اثر نہیں کرتی۔ پس ثابت ہوا کہ اصل میں وہ اس وقت جن کے زیرِ اثر ہے۔ہم یہ سارا چکر دیکھتے رہتے اور حیران ہوتے کہ اس کی زبان کس طرح محفوظ رہی۔زبان ہی کو محفوظ رکھنے کے لیے تو اتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔
اس سارے پروسیس میں کافی اندھیرا چھا جاتا۔ ’جن‘ کے حکم پر لالٹین کی ہلکی لَو میں ایک تیشہ کسی بچے کے ہاتھ میں پکڑوا گھر کے آس پاس کسی جگہ مٹی کھودنے کاعمل شروع ہوتا۔ ’جن‘ صاحب مٹی کو ہاتھ سے اِدھر اُدھر کرتے اور ایک تڑا مڑا کاغذ برآمد کرتے اور اعلان کر دیا جاتا کہ جادو نکل آیا، جادو نکل آیا۔ جادو نکالنے میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا کہ کوئی بچہ ’جن‘ کے بالکل نزدیک نہ آنے پائے۔ ویسے بھی بچوں پر اس سارے عمل میں ایک رعب سا طاری ہو جاتا تھا، کس میں ہمت تھی کہ وہ پاس جانے کا سوچ بھی سکے۔ بہرحال تعویذ لے کر ’جن‘ جھومتا جھومتا بچوں کے جلو میں گھر میں داخل ہوتا۔ مٹی سے لتھڑے ہوئے کاغذ کو پانی میں ڈال کر صاف کیا جاتا اور اعلان ہو جاتا کہ جادو نکل گیا۔ اس کے بعد وہ لیٹ کر لمبے لمبے سانس لینا شروع کرتا، بے چینی سے پہلو بدلتا رہتا اور چند لمحات کے بعد خاموش ہو جاتا اور اچانک آنکھیں کھول کر اٹھ بیٹھتا اور ایک لمبی سی انگڑائی لیتااور یوں ظاہر کرتا جیسے وہ بہت تھک سا گیا ہے۔ صبح پورے محلے میں خبر نشر ہو جاتی کہ فلاں کے گھر سے جادو نکالا گیا ہے اور کسی نا معلوم جادو کرنے والے کی شان میں حسبِ توفیق و استطاعت قصیدے پڑھے جاتے۔ جادو کے نکل جانے کے بعد یہ فرض کر لیا جاتا تھا کہ اس گھرانے کی سب شکایات دور ہو چکی ہوں گی۔ بھینس دودھ دینا شروع کرتی یا صاحبِ خانہ کے دردوں افاقہ ہو جاتا یا نہیں اس کے متعلق کوئی کسی کو درست اطلاع فراہم نہ کرتا۔ یہ عقیدے کے خلاف تھا شاید۔

جادو نکالنے کی طرح ایک اور صنعت بلکہ صنعت سے زیادہ حِرفت یہ تھی کہ خواتین کا جن نکالا جائے۔ کوئی جابر قسم کا جن کسی عورت کو چمٹ کر اس کے ہاتھوں سے برتن توڑتا اور اعلان یہ کرتا کہ اس ’پنچرے‘ کو الگ مکان لے کر دو یا نئے کپڑے لا کر دو ورنہ اس کو مار مار کر ختم کر دوں گا۔ مولوی سے علاج نہ کروانے والے ’جن‘ کے حکم یا فرمائش پر اس عورت کو سسرال سے الگ مکان کا بندوبست کرتے۔ مولوی کی خدمات حاصل کرنے والے اکثر جنوں کو بھگانے میں کامیاب ہو جاتے۔ مولوی صاحب اپنے ڈنڈے پر دم درود پڑھ کر عورت مذکورہ کو جن سمجھ کر بسم اللہ کرتے اور دو چار ہاتھ جڑنے پر ہی جن صاحب یہ کہتے ہوئے رخصت ہو جاتے کہ اللہ میری توبہ، اللہ میری توبہ۔ کوئی لڑکی گھر میں دنگا فساد کرتی ہو، کسی کی مان کر نہ دیتی ہو،وجہ کیسی اور کوئی بھی کیوں نہ ہو وہ چیخنا،شورشرابا کرنا، بال نوچنا یا کپڑے پھاڑنا شروع کر دے تو یہ طے تھا کہ لڑکی پر کوئی جن آگیا ہے یا اسے چمٹ گیا ہے۔ جنوں کو بھی شاید کوئی اور کام نہیں ہوتا تھایا کام آتا ہی نہیں تھا۔ بس اتنا ہے کہ ان کا عورتوں سے چمٹ کر مولویوں کے کاروبار میں ترقی کا باعث بننا ہی اصل کام رہ گیا تھا۔ جو جتنا جاہل یا چالاک ہوتا یا ہوتی اس کو لازماً جن پڑتا یا چمٹتا۔ ظاہر ہے علمِ معاشیات کے قانون طلب و رسد کے تحت لوگوں کو ان کی ضرورت اور طلب کے مطاق معاشرے میں مناسب ’رسد‘ موجود تھی جو ان کو درپیش مصیبت سے رہائی دلاتی۔
تقسیمِ کار کے مطابق لوہار کی طرح ایک آدھ مولوی بھی ہوا کرتا جو لوگوں سے چمٹے ہوئے جنوں سے چھٹکار ہ دلاتا۔ جس گھرانے میں کسی کا جن نکالنا ہوتا وہاں مولوی صاحب کی بڑی آئو بھگت ہو تی۔ ایک بات یقینی ہے کہ یہ لوگ ہوتے بڑے ماہر نفسیات۔ مولوی صاحب ایک نظر جن والی عورت پر ڈالتے اور منہ ہی منہ میں کچھ پڑھنا شروع کر دیتے۔ ان کو نجم الدین کی طرح زیادہ ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، آخر ایک عالم اور ان پڑھ لوہار میں فرق تو ہوتاہی ہے نا۔ بڑی کڑک دارآواز کے ساتھ موصوفہ سے پوچھتے کہ تو اس ’پنجرے‘ کو کیوں تنگ کر رہا ہے۔ جواب میں تھوڑی سی بگڑی ہوئی آواز کے ساتھ کہا جاتا میں اس پر عاشق ہو گیا ہوں، یا کہ اس نے فلاںوقت اور فلاں جگہ رفع حاجت کی جس کے چھینٹے مجھ پربھی پڑے۔ اب میں اس کو نہیںچھوڑوں گا، اس کو خوب سزا دوں گا، وغیرہ وغیرہ۔
اگر خاتون کوئی زیادہ تجربہ کار نہ ہوتی یا کم ہمت ہوتی تو تھوڑی سی ڈانٹ ڈپٹ یا ہلکی سزا سے ہی اس کا جن دوبارہ نہ آنے کا وعدہ کر کے رفو چکر ہو جاتا اور یوں وہ ’صحت یاب ‘ہو جاتی۔ سخت جان خواتین کے’ علاج‘ کے لیے دو مراحل تھے۔ پہلے مرحلے میں ان کا منہ بند کر کے ان کے ناک میں کپڑے کی جلتی ہوئی بتی کا کثیف دھواں داخل کرتے۔ اس بتی کو تیار کرنے کے لیے کپڑے میں پسی ہوئی سرخ مرچ ڈالی جاتی تھی۔ اس عمل کو’دھُوف دینے‘ کے اصطلاحی نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ ’جن‘ اگر ذرا کم ہمت ہوا یا تھوڑی سی شرم ہوئی تو فوراً اعلان کر کے الگ ہو جائے گا۔ اگر یہ طریقہ کارگر نہ ہوسکا تو ان خواتین کی ہاتھ کی انگلیوں کے درمیان لکڑی کی میخیں ڈال کر انگلیوں کو زور سے دبایا جاتا جس سے انگلیوں سے خون پھوٹ پھوٹ کر نکل پڑتا۔نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ اس عمل سے خون کے ساتھ ساتھ ’جن‘ کی چیخیں بھی نکل جاتیں اور ساتھ ہی وہ بھی نکل جاتا اور وعدہ کرتا کہ آئیندہ کبھی اس ’پنجرے‘ کو تنگ نہیں کرے گا بلکہ کبھی اس کے پاس تک نہیں آئے گا۔ مولوی صاحب اپنا محنتانہ لے کر اور ایک آدھ درجن تعویذ دے کر رخصت ہو جاتے۔مولوی صاحب کو یقین تھا کہ وہ خاتون مدتوں اپنی انگلیوں کے درد کو بھلا نہیں سکے گی،لہذا وہ خود’ جن ‘ کو پاس نہیں آنے دے گی۔
یہ تعویذ عام حالات میں بھی تیار کیے جاتے تھے۔ مثلاً نظر لگنا، جس کے مظاہر تقریباً ہر گھر میں ملتے تھے، آدھے سر کا درد جسے ’اَسرات‘ کہا جاتا ہے بھینس کا دودھ نہ دینا یا اسی طرح کی بہت سی ’امراض‘ وغیرہ۔ کئی دفعہ ہم نے ہمت کر کے یہ تعویذ کھول کر دیکھے تو سب میں ایک ہی طرح کے بے ترتیب سے ہندسے اور بے معنی سے حروف پائے گئے۔ ہمیں تو بھینس کے مرض اور ’اَسرات‘ کے تعویذ کوئی فرق نظر نہیں آیا۔ظاہر ہے مولوی صاحب کی تشخیص بھی ایک ہی تھی۔البتہ تعویذ بھینس کے گلے میں باندھا جاتا لیکن ’اَسرات‘ والے یا والی کو گھول کر سیاہی والا جوس پینا بھی پڑتا۔

پرانے زمانے کے نیم خواندہ مولوی کے جن نکالنے اور چٹے ان پڑھ لوہار کے جادو نکالنے کے کاروباری طریقوںمیں اب کافی تبدیلی آ چکی ہے۔یہ زمانہ چونکہ میڈیا اور اشتہار بازی کا زمانہ ہے اس لیے نفس مسئلہ کو ہینڈل کرنے کے جدید سائنسی طریقے ایجاد کر لیے گیے ہیں۔ معاشرے میں وہی دقیانوسی اور توہم پرستانہ عقائد کا چلن ہے، جس کو مضبوط تر بناے میں مذہبی پیشوائیت کا بڑا دخل ہے۔زمان و مکان کی تبدیلی کے باوجود یہ صنعت کمزور ہوئی نہ ختم بلکہ دن بدن ترقی کے منازل طے کرتی چلی گئی۔ اس ترقی یافتہ دور میںاس کی ہیت اور تکنیک میں ضرور تبدیلی واقع ہوئی ہے، بلکہ ایک نکھار سا آیا ہے۔ سائنسی ترقی کے اس دور میں جدیدعامل حضرات کا ظہور ہوا جنہوں نے باقی صنعتوں کی طرح تشہیری سہولتوں کا بہترین استعمال کیا۔
سوچنے کا مقام یہ ہے کہ معمولی سے نیم خواندہ مولوی کی بات تو رہنے دیں کہ پھر بھی دو لفظ تو جانتا ہے، چٹا ان پڑھ لوہار کس طرح معاشرے میں اپنا کاروبار کامیابی سے چلاتا رہا ہے؟ کیوں لوگ آنکھیں بند کرکے ایسے لوگوں کی باتوں پر یقین کرنے لگ جاتے ہیں؟ کیوں ایک صحیح اور متوازن فکر کے مقابلے میں توہم پرستی اور جہالت کا زیادہ بول بالا ہو جاتا ہے؟ ایسے لوگ کامیاب اس لیے ہوجاتے ہیں کہ ان کو یقینِ کامل ہوتا ہے کہ جو پراڈکٹ وہ مارکیٹ میں پیش کرنے جا رہے ہیں ان کی طلب موجود ہے۔ اب یہ طلب کون پیدا کرتا ہے؟ سیدھا اور واضح جواب یہ ہے کہ پراڈکٹ تیار کرنے والے۔ پراڈکٹ تیار کرنے والی مذہبی پیشوائیت کو ایسے عقائد راس آتے ہیں جن سے ان کی معاشرتی حیثیت مستحکم ہوتی ہو۔
ہمارا خیال ہے کہ معاشیات کے دو قوانین کا شاید یہاں اطلاق ہوتا ہو۔ پہلا قانون Say’s Law کے نام سے مشہور ہے۔ اٹھارویں صدی کے ایک معاشیات دان Jean-Baptiste Say کے بقول رسد خود اپنی طلب پیدا کرتی ہے۔ چنانچہ مذہبی پیشوائیت اپنی حیثیت منوانے کے لیے چند مذہب نما عقائد(Cult) سامنے لاتی رہتی ہے اور معاشرہ خود آگے بڑھ کر رسد کے عین مطابق طلب پیش کر دیتا ہے۔معاشیات کا دوسرا قانون گریشم لاء (Gresham ‘s Law) کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ سیدھے اور آسان زبان میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ مارکیٹ میں کھوٹا سکہ ہی چلتا ہے اور اس کی موجودگی میں اصل سکہ غائب ہو جاتا ہے۔ معاشیات کے اس قانون کا اگر ہم معاشرے میں اطلاق کر کے دیکھیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ جہالت اور توہم پرستی کے کھوٹے سکے صحیح اور متوازن فکر کے اصل سکے کو دکھیل کر خود اس کی جگہ حاصل کر لیتے ہیں۔

۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔

اس تحریر کا چوتھا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

اس تحریر کا چھٹا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: