بھوکا ننگا سماج اور جنسی حملے — فارینہ الماس

0

انسان کی بھوک دو طرح کی ہوتی ہے اور دونوں ہی کے ہاتھوں اس کی رسوائی ممکن ہے۔ پہلی بھوک جو پیٹ کی ہے۔ جس نے آدم کو جنت میں رسوا کیا اور سرکشی پر معتوب ٹھہرایا۔ دوسری بھوک جسم کی، جو دنیا پر رونما ہونے والے پہلے عناد و فساد کا باعث بنی۔ یہ بجا ہے کہ انسان ایک سماجی و معاشرتی حیوان ہے۔ لیکن ان اداروں کے وجود میں آنے سے پہلے شاید وہ محض ایک حیوان یا ایک جنسی حیوان ہی رہا ہو گا۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جنسی جبلت پیدائشی طور پر ہی ہر انسان میں موجود ہے، اس کی افراط یا بگاڑ اسے ایک جنسی حیوان بھی بنا سکتی ہے۔ کمسنی میں ہر لڑکا یا لڑکی اپنے تخیلاتی ہیرو یا ہیروئن کا اپنے سپنوں میں بت ضرور تراشتا ہے۔ انہی ایام میں ہارمون کے بننے یا بگڑنے سے وہ شدید طور پر جنسی و جذباتی کشمکش کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے اس جذبے کو ٹھیک سے سمجھ نہیں پاتا اس لئے اسے اس شدید جذباتی دور سے گزرنے کے لئے اپنے کسی قریبی شخص کی رہنمائی و مدد درکار ہوتی ہے۔ مخالف جنس سے مرعوب ہونا یا اس کے تخیل میں کھونا ایک نارمل انسان کی سرگرمی ہے لیکن جنس کے بے وقتی ابال سے بچنے کے لئے اسے اپنے شخصیتی اظہار کے لئے کسی نہ کسی تخلیقی اظہار کی ضرورت ہوتی ہے۔ یا کسی ایسے دوست کی جو اسے سن سکے اور سمجھ سکے۔

جنس کی خواہش کو دبانا انسان میں ذہنی دباؤ اور دیگر نفسیاتی مسائل کو جنم دیتا ہے۔ اگر جنسی محرومی شدت اختیار کر جائے تو انسان جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا بھی شکار ہو سکتا ہے۔ اکثر ذہنی مریض جنسی محرومی کا شکار پائے جاتے ہیں یہ محرومی ان میں ذہنی اور شخصیتی بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ مطلب یہ کہ جنس بھی انسان کے لئے ایک بھوک ہی کی طرح ہے۔ جسے نظر انداز کرنے سے انسان وحشی ہو جاتا ہے۔

National Registry of Sex Offenders Launches Today, to Include Aadhaar, PAN  Details of Criminals | India.comخاندان یا سماج کی بے جا قدغنیں گھٹن اور فرسودگی انسان کے اس جائز اظہار کے مواقع تلف کر دیتی ہیں۔ یا محرومیء حالات یا بچپن کے کچھ گھناؤنے واقعات بھی بچے کی نفسیات کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اپنی خودی اور عزت نفس کو معاشرے کے پیروں تلے روندتے دیکھتے ہوئے وہ معاشرے کے ہاتھوں اپنی اس توہین کا بدلہ خونخوار درندہ بن کر لے۔ ایسے میں اسے بہترین موقع کی فراہمی خود سے کم زور صنف یعنی عورت پر جنسی حملے سے مل جاتی ہے۔ اسے ایک بے بس و کمزور لڑکی کی چیخوں، آنسوؤں یا التجاؤں سے سکون ملتا ہے۔ زندگی میں ناکام، محروم اور ٹھکرائے ہوئے لوگ جو بعد ازاں نشے کی لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں، نشے ہی کے سرور میں درست اور غلط میں فرق کرنا بھی ترک کر دیتے ہیں۔ وہ عموماً گناہ میں نجات تلاش کرتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر رونما ہونے والے ریپ کیسز کی شرح پر غور کرلیں تو ایسے جنسی درندوں کی بہت بڑی تعداد ایسے ہی فرسٹریٹڈ طبقے میں ملے گی۔ زیادہ تر یہ وہ مرد ہیں جو بے روزگار ہیں، ہڈ حرام ہیں یا بری صحبت کا شکار ہیں۔ یا پھر جرائم پیشہ اور عادی مجرم ہیں۔ یا پھر ایسے مرد جو عورت کے لئے انتہائی حقارت و تحقیر کے جذبات رکھتے ہیں۔ بچپن میں ماں کا دوسری شادی کرکے انہیں بے یارومددگار چھوڑ دینا یا پھر محبوبہ کی بے وفائی جیسے اسباب انہیں عورت کے لئے سنگدل اور بے رحم بنا سکتے ہیں۔ ایسے مرد جو بچوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں وہ یا تو خود بچپن میں ایسے استحصال کا شکار رہ چکے ہوتے ہیں یا پھر فحش ویڈیوز اور فلموں سے جسم میں جاگنے والی ہوس کو بچوں سے مٹانے کا مقصد اپنے جرم کی بآسانی پردہ پوشی ہوتی ہے۔

اس جرم کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں لیکن محض بھیانک سزاؤں کے نفاذ سے اس میں کمی لانا ممکن نہیں۔ کیا زینب کے مجرم کو پھانسی پر لٹکا کر بچوں سے ذیادتی کے کیسز تھم گئے؟ یا ہائی وے گینگ ریپ کے واقعے کے بعد معاشرتی اشتعال، اور سخت سزاؤں کی بازگشت نے مجرموں کو گینگ ریپ سے روک دیا؟ دکھائی تو یہ دے رہا ہے کہ جیسے عوامی احتجاج اور شدید نفرت کے اظہار کے بعد ایسے درندوں کی حوصلہ شکنی نہیں بلکہ حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا نا مرد بنائے جانے یا پھانسی سے لٹکائے جانے جیسی سزائیں عورت کی عزت محفوظ کرنے کے لئے کافی ہیں یا کچھ اور بھی سوچنا اور سمجھنا ضروری ہے؟

عورت کی عزت اک بیمار معاشرے کے ہاتھوں ہی غیر محفوظ ہوتی ہے۔ وہ بیمار معاشرہ جو معاشی، سماجی و تمدنی طور پر عدم استحکام کا شکار ہو۔ جہاں عدم انصاف کی روایت سماج کو قانون شکن بنا ڈالے وہاں کسی کی جان مال اور عزت کے محفوظ ہونے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔ اب آپ یقیناً سوچیں گے کہ مغربی معاشرہ تو معاشی، اقتصادی و سماجی طور پر ہم سے بہت بہتر حالات میں ہے پھر وہاں ریپ کیسز کیوں؟

حد سے ذیادہ معاشرتی غربت یا حد سے بڑھی ہوئی امارت دونوں ہی سماجی بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ اس نظرئیے کا حوالہ تو حدیث مبارکہ میں بھی مل جائے گا۔ دوسری اہم بات یہ کہ مغرب میں عورت مرد کا ناجائز جنسی تعلق عموماً دونوں کی باہم رضامندی سے ہی بنتا ہے لیکن بعض اوقات کچھ واقعات میں جب عورت کو اپنے مفادات پورے نہ ہوتے نظر آئیں تو وہ می ٹو کا سہارا لیتے ہوئے اسے جنسی حملے کا سزاوار ٹھہرا دیتی ہے۔ اور قانون اس کا ساتھ دیتا ہے۔ ایسا ہی کچھ خود اب ہمارے معاشرے میں بھی ہورہا ہے۔ لیکن ایسا نہیں کہ مغرب میں بے قصور عورتوں پر پر تشدد جنسی حملے نہیں ہوتے۔ ضرور ہوتے ہیں جو فوراً رپورٹ کر دئے جاتے ہیں اور ہمارے ہاں کل کیسز کا محض کچھ فیصد ہی رپورٹ ہوتا ہے اگر تمام کیسز رپورٹ ہونے لگیں تو ہم غالباً مغرب سے اس معاملے میں بہت آگے ہی دکھائی دیں گے۔ باوجود اس کے کہ ہم خود کو اعلیٰ روایات کی پاسداری کرنے والا ایک مذہبی معاشرہ مانتے ہیں۔

ریاست کا قانون چاہے جتنا بھی سخت بنا دیا جائے لیکن اس پر پوری ایمانداری سے عمل درآمد نہ ہو پائے تو جرم گھٹتا نہیں اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ ہماری روایت پرستی یہ ہے کہ ہم دوسروں کے گناہ، غفلت، جرم یا نا انصافی کی پردہ پوشی کو ثواب سمجھتے ہیں۔ جن کیسز میں خود گھر کا ہی کوئی فرد بھائی، چچا، تایا، یا پھر سگا باپ ملوث پایا جائے وہاں اکثر ماں ہی اپنی بیٹی کو خاموشی اختیار کرنے کی منت سماج کرتی پائی جاتی ہے۔ تو پھر ایسے درندوں کو ریاست کا کوئی بھی قانون سزا نہیں دے پاتا۔

سنا ہے آج سے ٹھیک دس ہزار سال پہلے کا معاشرہ پدر سری نہیں بلکہ مادر سری معاشرہ تھا۔ مطلب دنیا پر ”عورت راج“ موجود تھا۔ اس وقت سیاسی و عسکری ادارے تو موجود نہ تھے کہ عورت حکمران یا فوج کی سربراہ ہوتی۔ اتنا ضرور تھا کہ وہ پیداواری ذرائع کی مالک تھی۔ اسی نسبت سے وہ گھر کی سربراہ کہلائی جاتی اور خاندان کے حسب نصب کو بھی اسی سے پہچانا جاتا۔ ایسا بھی تھا کہ بیاہ کے بعد عورت مرد کے گھر نہیں بلکہ مرد عورت کے گھر آتا تھا۔ یہ بات آج کے دور میں کچھ مضحکہ خیز محسوس ہوتی ہے لیکن اس معاشرے کی ایک بہت بڑی خوبی یہ تھی کہ حقوق کی بنا پر مرد اور عورت دونوں برابری رکھتے تھے۔ عورت مرد کو نیچ سمجھ کر اسے ظلم و ستم کا نشانہ نہیں بنایا کرتی تھی۔ مطلب یہ کہ عورت کے نام سے پہچانے جانے والا معاشرہ، برابری کا معاشرہ تھا۔ لیکن جیسے ہی معاشرہ مرد کے ہتھے چڑھا عورت کو اس کے حالات کی سولی پر لٹکا دیا گیا۔ عورت کی معاشی و تنظیمی کمزوری اس کی اخلاقی و سماجی ابتری کا باعث بن گئی۔ اس سے انتہائی گھٹیا اور پر تشدد رویہ اختیار کیا جانے لگا۔ اور یہی سوچ اور رویہ اس کے شدید ترین جنسی استحصال کا بھی باعث بننے لگے۔ عورت دس ہزار سالوں سے مرد کے ہاتھوں ظلم و جبر اور استحصال کا شکار ہوتی چلی آرہی ہے۔ کبھی مذہبی و الہامی تو کبھی سماجی تاویلیں پیش کر کے اسے بے اختیار و بے یارومددگار بنایا جاتا رہا ہے۔ مغربی ممالک اور بہت سے ترقی یافتہ ممالک نے اپنے معاشروں میں عورت کی اٹھنے والی بغاوت کو محسوس کرتے ہوئے اسے تعلیم، معاش اور سماج میں اس کا جائز اور مناسب حق فراہم کردیا۔ گو کہ عورت کے بارے وہ اپنی سوچ مکمل طور پر بدل نہ پائے لیکن بڑی حد تک عورت کے مقام کو وہ ماننے لگے۔ بدقسمتی سے ہمارے جیسے گھٹن کا شکار معاشرے آج بھی اسے انسان ماننے سے انکاری ہیں۔ اسے اپنے معاملوں میں خود سے فیصلہ سازی کا اختیار دیا گیا نہ اجازت۔ اس سے متعلق کئے گئے کئی غیر انسانی فیصلوں میں اسے مذہب کے نام پر یا روایت کے نام پر چپ سادھ لینے کی ترغیب و حکم دیا جاتا رہا۔ اس کے اندر سے مزاحمت اس قدر کم کر دی گئی کہ وہ جنسی استحصال میں بعض اوقات چاہتے ہوئے بھی مزاحمت نہیں کرپاتی۔ کیونکہ وہ خود بھی اپنے وجود کو کمزور اور ناتواں سمجھتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ عورت کا جنسی استحال ختم ہو جائے تو ہمیں اسے معاشرے میں ایک مضبوط مقام اور حیثیت دینا ہو گی۔ اسے بھیانک جنسی استحصال سے نکالنے کے لئے اس کے اندر خود اپنی حق تلفی کے لئے آواز اٹھانا اور مرد کے آگے مزاحمت کرنا سکھانا ہوگا۔ ضروری نہیں کہ ایسا کرنے کے لئے ایک مادرسری معاشرے ہی کی بنیاد رکھی جائے بلکہ ایسا ایک پدرسری معاشرے میں بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

جنس گو کہ ہر انسان کی پیدائشی جبلت ہے لیکن ہر مہذب انسانی معاشرے کے لئے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ وہ کس طور افراد معاشرہ کی اس جبلت کے اظہار کے جائز اسباب پیدا کر سکے۔ کہ اس کے سماجی و خاندانی رشتوں کی عصمت و قدر بھی قائم رہے اور فرد کی اس جبلت کو دوسرے کئی طرح کے تخلیقی و مثبت اظہار کے مواقع بھی میسر آسکیں۔ منجمند و بوسیدہ معاشرے سوائے گھٹن کے اور کچھ تخلیق نہیں کیا کرتے۔ جہاں رویوں اور قدروں کا فقدان ہو۔ وہاں شعور کو پنپنے کے مواقع نہیں ملا کرتے وہاں سوچنے سمجھنے کا میدان خاصا محدود ہوتا ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ وہاں انسانی سوچ جوہڑ کے گدلے پانی کی طرح ہو جاتی ہے۔ جو منفی رویوں کی غلاظتوں اور آلائشوں سے لتھڑی رہتی ہے۔ جہاں آرٹ اور فنون جمود کا شکار ہو جائیں فن اور فنکار بے قدرے رہ جائیں، میلے ٹھیلے اور مثبت تفریحی ذرائع سمیٹ لئے جائیں، جہاں محبت اک جرم اور نفرت اک وصف بن جائے، وہاں جرم، نشہ، زنا بالجبر نہ بڑھے ایسا ہو نہیں سکتا۔ گھٹے ہوئے معاشرے کے لوگ اپنی فرسٹریشن اسی طرح نکالا کرتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی انسانی و سماجی اور معاشرتی قدریں کھوتے چلے جا رہے ہیں۔ اس معاشرے کی تربیت و بہتری میں جس کا جتنا ہاتھ ہے وہ ہاتھ کھینچتا چلا جارہا ہے۔ ہمارے بزرگ بھی اب پہلے جیسے بزرگ نہیں رہے۔ اولاد کی کارگزاریوں کی خبر تب پاتے ہیں جب پانی سر سے گزر چکتا ہے۔ پہلے وقتوں میں تو محلے بھر کے بڑے بوڑھے بھی بچوں کے لئے تایا، چچا، تائی اور خالہ کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کا پیار، توجہ و خیال اتنا خالص ہوتا تھا کہ جوان ہونے پر ہی پتہ چلتا تھا کہ ان سے تو ہمارا خون کا کوئی رشتہ تھاہی نہیں۔ اور اب تو خونی اور حقیقی رشتے بھی خالص و پاک نہیں رہے۔ ہمارے استاد بھی روحانی والدین کا مرتبہ کھو چکے ہیں۔ وہ اپنے شاگردوں کی اخلاقی تربیت کو اپنی ذمے داری نہیں سمجھتے۔

انسان کو مجرم اس کی پیدائشی جینیات سے کہیں بڑھ کر اس کے حالات بناتے ہیں اگر آپ کہتے ہیں کہ ایک عورت کو یہ سماج پیشہ ور بناتا ہے تو پھر یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ مرد کو بھی معاشرے ہی کی تنگ نظری، گھٹن، بوسیدہ روایات یا ناقص تربیت وحشی بناتی ہے۔ وہ کسی بے قصور و بے بس لڑکی یا بچی کو اپنا شکار بنا تے ہوئے اس سے ہی نہیں خود سے بھی بے رحمی برتتا ہے۔ خود اپنی شخصیت و عزت کو بھی مسخ کر تاہے۔ وہ جہالت یا جہالت نما علم کی وجہ سے اپنی عظمت اور انسانی قدر سے گر کر ہی ایک جانور کی سطح پر آتا ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ اب ہمارا معاشرہ اور اس کی روایات بوسیدہ ہو چکی ہیں۔ انہیں تشکیل نو کی ضرورت ہے۔ ہمیں فرد کو خود پرستی تو نہیں لیکن کم سے کم خود سے پیار تو سکھانا ہو گا تاکہ وہ زندگی میں ہی ابتلائے مرگ کا شکار نہ ہوسکیں۔ اپنے ذہن اور روح کو کھوکھلا ہونے سے بچا سکیں۔ جب وہ اپنی قدر سیکھنے لگیں گے تو ایسے افعال سے بھی اجتناب کریں گے جس سے ان کی قدر کم پڑنے کا احتمال ہو۔ ہمارے پاس بحیثیت ایک قوم کے کوئی لائحہ عمل ہونا چاہئے۔ جس قوم کے پاس کرنے اور کہنے کے لئے کچھ نہیں، آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں۔ وہ زندگی کی بیزاری، ابتری اور مفلوک الحالی کا اظہار جرم اور گناہ سے ہی کرے گا اور وہاں بھوکے ننگے خونخوار جانور حملہ کر کے ہی اپنی بھوک مٹانا سیکھیں گے۔۔۔ بھوک چاہے پیٹ کی ہو یا جسم کی، بھوک اندھی اور بے رحم ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عورت کے حقوق اور جنسی لبرل ازم -------- اورنگ زیب نیازی
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20