وحدت الوجود، ایک سائنسی نظر — مجیب الحق حقی

0

کیا وحدت الوجود غیر سائنسی ہے؟

وحدت الوجود اور وحدت الشّہود کی تشریحات ہیں:
بعض لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انسان عبادت و ریاضت کے ذریعے اس مقام پر پہنچ جاتاہے کہ اسے کائنات کی ہر چیز میں اللہ نظر آنے لگتا ہے یا وہ ہر چیز کو اللہ کی ذات کا جزو سمجھنے لگتا ہے اس عقیدے کو وحدت الوجود کہا جاتا ہے۔ عبادت اور ریاضت میں ترقی کرنے کے بعد انسان اللہ کی ہستی میں مدغم ہوجاتا ہے اور وہ دونوں (خدا اور انسان) ایک ہو جاتے ہیں، اس عقیدے کو ‘‘وحدت الشہود‘‘ یا فنا فی اللہ کہاجاتاہے، عبادت اور ریاضت میں مزید ترقی سے انسان کا آئینہ دل اس قدر لطیف اور صاف ہوجاتا ہے کہ اللہ کی ذات خود اس انسان میں داخل ہوجاتی ہے جسے حلول کہا جاتا ہے۔ ان تینوں اصطلاحات کے الفاظ میں کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہے لیکن نتیجہ کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں اور وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی ذات کا جزاور حصہ ہے۔ (منقول)

ابن عربیؒ اپنی کتاب فصوص الحکم میں لکھتے ہیں:

’’وجود ایک حقیقت ہے اس لیے ذات باری تعالی کے سوا کچھ باقی نہ رہا چنانچہ نہ کوئی ملا ہوا ہے، نہ کوئی جْدا ہے، یہاں ایک ہی ذات ہے جو عین وجود ہے‘‘۔

مجدد الف ثانیؒ کا کہنا تھا کہ:

’’کائنات وعالم چونکہ مرتبہ و ہم میں بہرحال موجود ہے اس لئے نفی صرف شہود کی ہونی چاہیے، یہ وہ مقام ہے کہ جب سالک اللہ کے سوا کچھ نہیں دیکھتا چنانچہ اس وقت اس کی توحید یہ ہے کہ وہ مشہود صرف اللہ کو مانے اور انہیں صرف اللہ دکھائی دے رہا ہو۔‘‘

دارالعلوم الاسلامیہ کے فتویٰ کی رو سے: ’’وحدت الوجود‘‘ کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں حقیقی اور مکمل وجود صرف ذاتِ باری تعالیٰ کا ہے، اس کے سوا ہر وجود بے ثبات، فانی، اور نامکمل ہے۔ ایک تو اس لیے کہ وہ ایک نہ ایک دن فنا ہو جائے گا۔ دوسرا اس لیے کہ ہر شے اپنے وجود میں ذاتِ باری تعالی کی محتاج ہے، لہذا جتنی اشیاء ہمیں اس کائنات میں نظر آتی ہیں انہیں اگرچہ وجود حاصل ہے، لیکن اللہ کے وجود کے سامنے اس وجود کی کوئی حقیقت نہیں، اس لیے وہ کالعدم ہے۔۔۔۔۔۔ اس سے آگے اس کی جو فلسفیانہ تعبیرات کی گئی ہیں، وہ بڑی خطرناک ہیں، اور اگر اس میں غلو ہو جائے تو اس عقیدے کی سرحدیں کفر تک سے جاملتی ہیں۔ اس لیے ایک مسلمان کو بس سیدھا سادا یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ کائنات میں حقیقی اور مکمل وجود اللہ تعالیٰ کا ہے، باقی ہر وجود نامکمل اور فانی ہے۔ (فتوی نمبر: 144012200072)

وحدت الوجود اور وحدت الشّہود کو جیسا میں نے کامن سینس سے سمجھا اسے اپنے دوستوں خاص طور پر نوجوانوں کے لئے عرض کرنا چاہتا ہوں۔ یوں تو ان دونوں کا تعلّق روحانیت سے ہے لیکن جس بات نے مجھے مجبور کیا کہ اسے غیر سائنسی کہوں وہ لفظ وجود کی موجودگی ہے۔ موجود ہونا ہی طبعی جہت میں وجود ہے جس کی کی تصدیق حواس کرتے ہیں۔ عقیدے کے اِسی طبعی رخ نے کچھ سوچنے پر اُکسایا۔ یہ محض میری ذاتی رائے ہے، صاف دلی کے ساتھ ایک تجزیہ۔ یہاںنہ کسی کے عقیدے کو چیلنج کرنا اور نہ ہی مسترد کرنا ہے۔ اگر غلط ہوا تو اپنی رائے سے رجوع کرنے میں عار محسوس نہیں کرونگا۔ کیونکہ عقیدہ ٔوحدت الوجود خالق اور مخلوق دونوں کو ضم کرتا ہے تو اس کی سائنسی جہت کی تلاش ہمارا مقصد ہے۔ یوں سمجھیں کہ اس ضمن میں حقیقت کی تلاش میں یہ ایک نئے زاویئے سے جائزہ ہے۔ اللہ کا وجود تو دائم اور قائم ہے ہی لیکن کائنات کا وجود بھی تو ظاہر ہے جس کاہم اپنے حواس کے بموجب مشاہدہ کرتے ہیں۔ ہم یہاں صرف اس بات پر غور کریں گے کہ اللہ کے وجود اور اللہ کی تخلیق کے وجود میں کیا رشتہ ہو سکتا ہے۔

انسان جب خالق سے اپنے تعلّق کی ماہیت اور وجود کی حقیقت جاننے کی طرف متوجّہ ہوا تو انہماک میں اس کا ذہن مفلوج و معطّل ہونے لگا کیونکہ وجودیت کا طلسم چکرا دینے والا ہے۔ روحانی تجربات کے خوگر افراد نے اس پہیلی کو بوجھنے کے لئے فلسفے تخلیق کئے جن میں وحدت الوجود اور وحدت الشہود ہیں۔ وحدت الوجود ایک صوفیانہ عقیدہ ہے جس کی رو سے جو کچھ اس دنیا میں نظر آتا ہے وہ خالق حقیقی کی ہی مختلف شکلیں ہیں اور نتیجتاً کچھ اسے خالق حقیقی کے وجود کا حصہ گردانتے ہیں۔

در حقیقت وجودکے دو رخ ہیں ایک عام انسان کی نظر سے جو اسے ظاہر سے سمجھتا ہے اور دوسرا باطنی جوسالک کے روحانی تجربات اور کیفیات کی رو سے ہے۔

انسان کے طبعی اور غیر طبعی (روحی) دو رخ ہیں۔ تعلّق مع اللہ تو مقصود مومن ہے۔ عام مسلمان جب نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے وجود کے دونوں رخ خالق کے حضور حاضر ہوتے ہیں۔ نماز انسان کے کامل وجود کا استغراق ہے جس میں انسان سے توقّع کی جاتی ہے کہ وہ ایسا انہماک پالے کہ اسے لگے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ اس کے برعکس جب سالک روح کے واسطے سے مراقبے میں ہوتا ہے تو اس کی ذات کا روحی رخ اس کی طلب اور انہماک کی طاقت سے فعّال ہوکر اللہ کی ذات کے کسی رنگ سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ سالک وجدانی طور پر توحید کے غلبہ، سرور اور کیف میں ذات الٰہی میں ایسا محو و مستغرق ہوتا ہے کہ اس کا شعور وجود باری تعالیٰ کے علاوہ ہر شئے سے نابلد ہوجاتا ہے اور وجود حق کا ادراک و احساس ہی باقی رہ جاتا ہے۔ یعنی انسانی روح کاا للہ کی ذات سے کوئی تعلّق یا ارتکاز کی گہرائی یااللہ کی ذات کی تجلّی کی کوئی جھلک انسان کے طبعی حواس کو معطّل کر دیتی ہے اور اس کیفیت میں انسان جو کچھ دیکھتا ہے اور محسوس کرتاہے وہ یہی کہ اللہ کے علاوہ سب معدوم ہے یاتمام وجود میں ہر طرف اللہ ہے۔ اسی بنا پر صوفی، جملہ انسانوں کو مظاہر ذات سمجھ کر سب سے یکساں محبت کرتاہے۔ اس کی باطنی تشریح کریں تو اس سے مراد یہ ہے کہ وجودیت ایک اکائی ہے جس میں خالق اور مخلوق دونوں موجود ہیں۔ یعنی خالق کی ذات سے تمام تخلیق منسلک ہے اور خالق اور مخلوق آپس میں مدغم ہیں۔ ساری کائنات اللہ کی ذات کا حصّہ ہے۔ کائنات کی ہر چیز اصلاً اللہ کی ذات ہے۔ جو کچھ دکھائی دیتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے مختلف مظاہر ہیں۔ اس لیے اس کی ذات انسان میں بھی جلوہ گر ہے اور انسان بھی مظہرِ ذات الٰہی ہے۔ یہ اس کا وہ رخ ہے جو ایک سالک یا صوفی کو ذاتی سطح پرمحسوس ہوتا ہے۔ وحدت الشہود میں سالک ہر چیز میں جلوۂ باری تعالیٰ دیکھتا ہے۔ اس سے مراد چاروں طرف “تو ہی تو ہے”۔ یعنی ہر شئے میں خالق کی تخلیق اور صنّاعی کے جلوے ہیں۔ ساری کائنات اسی کی جلوہ گاہ ہے، ہر شے سے وہی ظاہر ہو رہاہے۔

طبعی نقطۂ نظر سے تو اللہ اور مخلوق کا ایک مظہر ہونا غیر عقلی ہے۔ کسی سالک پر جذب کی کیفیت میںاس کو ایسا نظر آنایا محسوس ہونا ایک مختلف چیز ہے جسے کیفیات قلبی یا تخیّل کا تجربہ ہی کہا جاسکتا ہے جب کہ ایک عام مسلمان اس سے نابلد رہتاہے۔ ہر شئے میں اللہ کا جلوہ ہونا اور ہر شئے میں فی الحقیقت اللہ کا ہونا دو مختلف باتیں ہیں۔ اس عقیدے یا فلسفے کی مختلف توجیہات ہیں کچھ کے مطابق وحدت ِ الوجود کا مطلب اللہ اور مخلوق کا ایک ہونا نہیں بلکہ اللہ کے وجود کا یکتا ہونا ہے یعنی مخلوق کے وجود سے جدا کوئی وجودی پیرایہ! اللہ کا وجود اپنی طرز کا واحد ہے۔ جبکہ بعض فقہا کے نزدیک ہر شئے کو اللہ کی ذات کا مظہر ماننا کفر ہے۔ غرض وحدت الوجود کے حامی اور مخالف اپنے فکری مقام ِ کے تئیںتنقید اور دفاع پر رائے رکھتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ وحدت الوجود کا ذکر نہ قرآن میں ہے اور نہ نبیﷺ نے اس کے بارے کچھ کہا۔ اس لئے یہ خالق اور مخلوق کے تعلّق کے بارے میں انسان کے تجسّس، تفکّر اور واردات قلبی و روحی کا ماحصل ہے جس کو ماننا یا نہ ماننا ایمان کی ضرورت نہیں۔

جو حقیقت حواس کی گرفت میں آجائے وہ سادہ الفاظ میں سمجھائی جاسکتی ہے لیکن جو حقائق انسان کے حواس اور شعور سے بلند ہوں ان کو جاننے کے لئے بظاہر تو عقل ہی ایک سہارا ہے جو انسان کو استدلال کے ذریعے مختلف مظاہر و نظریات کی تشریح سکھاتی ہے مگر حقیقتاً عقل سے بڑھ کر وحی ہے جو اعلیٰ تر اور حتمی رہنمائی کرتی ہے۔ طبعی سطح پر عقل ہی انسان کو مطمئن کرنے کے لئے فلسفے تخلیق کرتی ہے۔ انسان کے نظریات اور فلسفے اس کے علم اور تجربات کے رہین منّت ہوتے ہیں اور یہ دونوں ہی تغیّر پذیر ہیں ان میں جمود نہیں۔ اسی لئے کہ علم انسان کی فکر میں وسعت دیتا ہے اور انسان کے روحانی و جذباتی تجربات اسے نئی منزلوں سے روشناس کراتے ہیں۔ جو بات اہم ہے وہ علم تک رسائی کے لوازمات ہیں۔ چند سو سال قبل تک انسان کی علم تک رسائی اس کے حواس اور بہت محدود آلات و ذرائع کی مرہون منّت تھے۔ اس طرح جو مشاہدہ ہوتا تھا وہ ایک خاص دائرے میں محدود اور ایک خاص تناظر میں ہی تشریح کا محتاج تھا۔ ایسے ہی مشاہدوں پر انسان نے اپنی ذہنی استطاعت پر خالق کی کھوج اور انسان سے تعلّق کی تشریحات کیں۔ لیکن علم کی ترقّی نے انسان کی مدد کے لئے بہتر آلات ایجاد کئے جس نے علم تک رسائی کے لا محدود ذرائع تخلیق کر دیئے۔ مثلاً خوردبین اور دوربین نے انسان کی بینائی اور خیالات میں لا محدود وسعت دی اور اسی طرح جدید علوم یا ایجادات جیسے سپر کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت نے سوچ کے نئے دریچے وا کر کے پرانے عقائد و نظریات اور فلسفوں کی جانچ کی نئی کسوٹیاں بھی تخلیق کردیں۔

اگر ہم وجودیت اور تخلیقِ اوّل کی بات کرتے ہیں تو لازم ہے کہ کسی شئے کے وجود پذیر ہونے کے عمل کو بھی پرکھیں گے کہ اس کی ماہیت اور جبلّت کیا ہے۔ لہٰذا وحدت الوجود کے ضمن میں یہ نکتہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ کائنات کیسے اور کس جبلّت پر بنی؟

کائنات کیسے بنی؟ خالق نے تخلیق کا ارادہ کیا اور اس کے اذن پر لوازمات یکجا ہوئے اورسسٹم چلا جس نے کائنات کے مظاہر کو ظاہر کرنا شروع کیا۔ اللہ کا یہی ارادہ، پلاننگ اور عمل کائنات میںہر ایجاد اور تخلیق کی سرشت بنا۔ اسی کائناتی سرشت کے بموجب انسان جو اللہ کا نائب ہے کچھ نہ کچھ بناتا اور ایجادات کرتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ تخلیق ِ کائنات کے وقت خالق کہاں مقیم تھا؟
یہاں غالباً تین میں سے ایک بات ممکن ہوسکتی ہے،
خالق کسی انہونی اور یکتا وجودیت کا حامل ہے جو طبعی اور غیر طبعی وجود سے ماورا ہے یا پھرخالق نے کائنات کو کسی منفرد حصار ِ وجود میں تخلیق کیایا تخلیق خالق کی ذات سے پھوٹی!
اوّل د و مفروضہ صورتوں میں اللہ تخلیق کے عمل سے باہر تھا یا اسے گھیرے ہوئے تھا۔ دوسری طرف یہ نکتہ قابل غور ہے کہ اگر کائنات کی تخلیق اللہ کی ذات سے براہ راست عیاں ہوئی ہوتی تووہ وحدت الوجود پر ہوتی، پھر یہی اصول کائنات کے اندر مخلوق کی اپنی تخلیقات کی سرشت بھی بنتا یعنی کائنات کے اندر مخلوق کی اپنی تخلیقات بھی وحدت الوجود کے اصول پر ہی ہونی تھیں جو کہ نہیں ہے۔

کیا انسان اپنے تخلیق کردہ کسی ہیومنائڈ روبوٹ، (جو انسان کی طرح مگر محدود طور پر سوچتا اورعمل کرتا ہے)،کی “ذات” میں ایسے سرائیت رکھتا ہے کہ دونوں کا وجود ایک ہو؟
وحدت الوجود اسی لئے طبعی دنیا میں غیر علمی یا غیر سائنسی ہے کہ انسان کا بنایا مصنوعی انسان(روبوٹ) جو محدوود عقل اور شعوررکھتا ہے وہ اپنے خالق سے وحدت الوجود کے پیرائے سے منسلک نہیں جب کہ ایسا ہونا اُس صورت میں عین فطری کائناتی وصف ہوتا اگر کائنات وحدت الوجود پر بنتی!
یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اللہ نے اپنی تخلیق اور مخلوق کی اپنی تخلیق کی سرشتوں کے جد اجدا پیرائے رکھے ہونگے جبکہ انسان کو اپنا نائب بھی مقرر کیا۔ اللہ نے خود کو احسن الخالقین فرمایا ہے تو اشارہ مخلوق کی ہی قوّت تخلیق سے موازنے کی طرف ہے، اور موازنہ ایک جیسے پیرایوں اور طریقہ کار کا ہی ہوگا۔ اللہ کی قدرتِ تخلیق منفرد یوں ہے کہ صرف اللہ ہی نیست سے تخلیق کر سکتا ہے جبکہ مخلوق چیز سے چیز بناتی ہے۔

جدید دور کی ایجادات اور روزمرّہ کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایک موجد اپنے ماحول سے جدا ماحول ہی میں ایجاد کرتا ہے۔ اسی لئے پرندہ اپنے گھونسلے سے جدا ہوتا ہے اور ایک مصوّر اپنی تصویر سے۔ انسانی سْپرہیومنائڈ روبوٹ اورخلا میں تیرتے مصنوعی سیّارے اور ان میں روبوٹکس آلات کی کارکردگی جو ایک محدود ماحول میں انسان کی عقل کے نعم البدل بلکہ انسان کے نعم البدل کے طور پر کام کرتے ہیں یہی ثابت کرتے ہیں۔

اگر انسان آئندہ کبھی اس قابل ہوگیا کہ اپنی ذات کا شعور اپنی تخلیقات میں پیوست کر سکے پھر بھی نہ انسان اور نہ اس کی تخلیق آپس میں مدغم ہو سکیں گے کیونکہ یہ مشاہدات کے تئیں غیر منطقی اور غیر عقلی ہونے کے ساتھ کائنات کی پیدائشی جبلّت اور تخلیقی سرشت کے منافی ہوگا۔ اسی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ وحدت الوجود کا فلسفہ یا عقیدہ طبعی دنیا میں سائنسی یا علمی بنیاد نہیں رکھتا بلکہ خالصتاً روحانی کیفیات کا پرتو ہوتے ہوئے طبعی حقائق سے ہم آہنگ نہیں۔
واللہ اعلم۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20