کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی –انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 4

0

جوتا سازی
ہمارے گائوں میں، اورہمارا خیال ہے کہ آس پاس کے تمام علاقوں میں،تقسیمِ کار کاخودکارانہ انتظام موجود تھا۔ دیہی علاقوں میں اس طرح کی تقسیم بالعموم ہوا کرتی تھی۔ درزی، لوہار، جولاہے، کمہار، موچی،مراثی وغیرہ۔ معاوضے میں نقدی دینے کا رواج نہیں تھا۔ روپے پیسے کی اتنی فراوانی ہی کہاں تھی۔ ہر سال اپنی فصل سے سب کا حصہ مقرر تھا۔موچی البتہ نقد رقم وصول کر کے جوتا تھما دیتا۔ موچی کے ہاتھ کی تیار شدہ تِلّے والی جوتی اور جوتا اپنی ہی بہار دکھاتے۔ اس دور کا نیا جوتا لازماً کاٹتا تھا۔ اس کو نرم کرنے کے لیے تازہ مکھن سے چپڑا جاتاتھا۔ چلتے ہوئے اکثر اس کی چوں و چرا کی آواز سے لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ جوتا نیا ہے۔ پرانے جوتے والے حسرت سے اور صاحبِ جوتا فخر سے جوتے کا نظارہ کرتے اور کرواتے۔ مکھن کا استعمال جوتے کی موسیقی کی لے کو مزید تیز کرنے میں معاونت کرتا۔

برتن سازی
کھانا پکانے کے برتن مٹی کے ہوتے تھے اور کھانے کے بھی۔ غمی خوشی کی تقاریب میں بڑے بڑے مٹی کے تھال، جسے توک کہا جاتا تھا، میں مکئی کی روٹیاں کھٹی کڑھی میں مروڑ کر اکٹھے چار آدمیوں کے سامنے رکھے جاتے۔اکیلے شخص کے لیے مٹی کا چھوٹا سا پیالہ یا ایک پلیٹ ہوتی جو ٹاس کہلاتی تھی۔ پانی لانے کے لیے مٹی کے گھڑے استعمال ہوتے۔یہ سارے برتن کمہار اس خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ بناتے تھے کہ تکتے رہنے کو جی چاہتا۔ دھیرکوٹ ہائی اسکول سے واپس ہوتے ہوئے کئی دفعہ سوکھی مٹی کو گارے اور گارے کو برتن میں ڈھلتے دیکھ کر حیران ہوئے۔ درزی، موچی اور کمہار اپنے گھروں کو ہی کاروباری مستقر بناتے تھے۔ البتہ لوہار گائوں کی کوئی ایسی جگہ منتخب کرتے جو سب لوگوں کی دسترس میں ہوتی۔مرورِ زمانہ نے یہ صنعت بھی ماضی کے کباڑخانے میں ڈال کر اس پر وقت کی موٹی سی چادر ڈال دی۔

سرجیکل انڈسٹری
ہمارے ہاں جن کو مراثی کہا جاتا تھا وہ کئی قسم کے کام کرتے تھے۔شادی بیاہ کے مواقع پر ڈھول باجہ بجانے، گانا گانے، کھانا پکانے اور نامہ و پیام کے علاوہ بال اور ’کھال ‘کاٹنا انہی کا خاص کام تھا۔ ہر دو تین ماہ میں یہ مراثی نائی بن کر ہر گھر کا رخ کرتے اور بچوں اور بڑوں کے بال کاٹنے کی مہارت کا مظاہرہ کرتے۔ ہم میں سے اکثر جب ’فارغ از بال‘ ہوتے تو لہو لہان ہی ہوتے۔ یہ ایک مستقل کام ہوتا البتہ دوسرے کام حسبِ موقع ہی ہو پاتے۔ ’کھال‘ کاٹنے کا مظاہرہ تو عمر میں صرف ایک بار ہی سر انجام دیا جا سکتا ہے،لہذا وہ اس تاک میں رہتے اور ماہرِسرجن کی شکل اختیار کر کے بچوں کو ’مسلمانیاں بٹھاتے‘۔ کسی نے برسوں بعد قربانی کے موقع پر قصائی کو بکرے کی کھال اتارتے دیکھ کرٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا ظالم تو نے ہمارے ہاں والی مہارت نہیں دیکھی! آج کل تو یہ فریضہ پیدائش کے وقت ہی ادا کر دیا جاتا ہے، لیکن ایک زمانے میں دو تین سال کی عمر کے بعدہی اس کی نوبت آتی تھی۔ اس تاخیرکی خاص وجہ کے بارے میں تحقیق نہیں ہو سکی۔شاید وقفے کے بعد تجدید’ مسلمانی‘ کر کے مسلمان ہونے کی کوالٹی کو بہتر بنانا مقصود تھا۔ پیدائش کے موقع پر ایک دفعہ تو نومولود کے کان میں اذان دے کر مسلمان بنانے کی ابتدا تو کر لی جاتی تھی، لیکن اس کو مزید مستحکم کرنے کے لیے وقفہ درکار ہوتا۔ہمارے ہاں نائی کے بنائے ہوئے مسلمان کثرت سے پائے جاتے ہیں۔

خاندان میں یہ ایک سپیشل موقع ہوتا تھا جس کی تیاری دیدنی ہوتی۔ ایک بڑی صاف ٹوکری لے کر اس کو اوندھا کر کے اس کے اوپر ایک صاف چادر ڈالتے اور اس کے اندر حسبِ استطاعت ایک یا دو مرغیاں رکھ دیتے۔ خاندان کے بڑے ٹوکری کے اوپر بچے کو بٹھا کر اس کو جوروستم اور ابتلا کے مراحل سے گزارتے۔ سرجن صاحب اپنا واحد انسٹرومنٹ اُسترا ہاتھ میں لے کراپنے ہدف کی طرف پیش قدمی کرتے۔اُسترے کو تیز کرنے کے لیے ہتھیلی پر پھیرا جاتا یا چمڑے کی سٹرپ پر رگڑا جاتا۔ یہی اُسترا شرفا کی ڈاڑھی اور سر کے بال اتارنے کے کام آتا۔آپ شاید نہ مانیں لیکن اسی سے محاورہ سامنے آیاتھا کہ ایک پنتھ دو کاج۔ اس زمانے میں سُن اور بے ہوش کرنے کی سہولت تو ہوا نہیں کرتی تھی لہذا بچے کو قابو میں رکھنے کے لیے مرد توانا کی ضرورت ہوتی بصورت دیگر نتائج مسلمانی سے بڑھ کر کچھ اور بھی ہو سکتے تھے۔ سرجن صاحب اور خاندان کے بڑے ایک ان دیکھی چڑیا کی طرف اشارہ کرتے کہ دیکھودیکھو کتنی خوبصورت چڑیا آ گئی ہے۔ بچے کی توجہ ذرا سی ہٹی کہ معاملہ ختم۔زخم کو مندمل کرنے کے لیے اس پرجلے ہوئے کپڑے کی راکھ بکھیر کر پٹی کر لی جاتی۔ اس عمل میں بچے کی چیخیں بلند سے بلند تر ہو جاتیں۔ لیکن ’اُسترا‘ تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ ٹوکری میں محبوس مرغی جو اپنی موت کو سامنے دیکھ کر پہلے سے شور مچا رہی ہوتی، اوپر بچے کی درد بھری چیخیں سن کر اس کی چیخوں میں پھڑپھڑاہٹ کے ساتھ مزید اضافہ ہو جاتا۔ پتہ نہ چل سکتا کہ کون زیادہ کرب میں مبتلا ہے، مرغی یا بچہ۔ گمان کیا جا سکتا ہے کہ مرغی کو ٹوکری کے اندر اس لیے رکھا جاتا ہو گا کہ مرغی کی چیخیں اور پھڑپھڑاہٹ بچے کی چیخوں پر غالب آ جائے اور اس طرح بچے کی چیخیں سن کر اس کی امی زیادہ پریشان نہ ہو جائے۔
اب نام لینا تو مناسب نہیں، سنا ہے ہمارے ہاں ایک صاحب کو ان کی شادی کے چند عرصے ہی قبل سنتِ ابراہیمی کی اس آزمائش سے گزارا گیا تھا۔ شاید پہلے وقت نہ مل سکا ہو یا پھر’ دیر آید درست آید‘ کے محاورے کو عملی طور پر آزمایا گیا ہو۔ واللہ اعلم بالصوّاب۔ اس میں اب کسی کوخود یا کسی دوسرے بھائی کو ان صاحب کی جگہ پر رکھ کر اپنی قوتِ متخیلہ کو تیز کرنے کی ضرورت نہیں۔شریعت کا حکم اپنی جگہ ہے، اس پر عمل لازماً ہونا چاہیے تھا اور ہوا۔اس ضمن میں ہمارے محتاط پسند علمائے کرام نے پہلے سے تمام غیر مسلم بھائیوں کو دھمکی سی دے کر متنبہ کر رکھا ہے کہ ادھر آئے تو یاد رکھنا ہاں۔ تمہیں بارڈر کراس کر کے ہمارے دائرے میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلا کام یہی کرنا ہو گا ورنہ تم مسلمان رہ ہی نہیں سکتے۔ ہمارا ذہن بھٹک کر اس طرف چلا گیا کہ کہیں علّامہ صاحب نے انہی خوف زدہ اور لرزیدہ حضرات کے بارے میں تو نہیں کہا تھا کہ ؎چوں می گویم مسلمانم بلرزم کہ دانم مشکلاتِ لا الہ را ؟
اس دھمکی کے باوجود ایک سردار صاحب نے جذبات میں آکر اسلام قبول کر لیا اور یہ قربانی بھی دے دی۔ جذباتی فیصلے دیرپا نہیں ہوتے اور پھر سردار صاحب کے فیصلے تو بالکل بھی نہیں۔ کچھ عرصے کے بعد ان کا دل اسلام سے بھر گیا اور محلے کے مولوی صاحب کو اس کا نوٹس بھی دے دیا۔ مولوی صاحب نے کہا دیکھ لو اگر اب تم اسلام کو ترک کروگے تو مرتد ہو جائوگے اور اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے۔جوں ہی تم نے اس کا فیصلہ کیا تمہاری گردن کاٹ دی جائے گی۔ سردار بولا ’عجیب لوگ ہو تم، کوئی تمہارے مذہب میں داخل ہو تو نیچے سے کاٹتے ہو اور واپسی کا فیصلہ کرے تواوپر سے۔‘
اگرکسی نے کسی طرح اس خطرے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مشکل کے اس دریا کو پار کر ہی لیا تواس نے دیکھا کہ ان کوایک اور دریا کا سامنا تھا جو ان کا راستہ روکے کھڑا تھا۔منیر نیازی کے سامنے کوئی اور مشکل رہی ہو گی جس کا ہمیں یقین ہے۔ہمارے علمائے کرام کو شک تھا کہ شاید یہ دریا پار کر لیا جائے گا اس لیے احتیاطاً ہمارے غیر مسلم بھائیوں کے بارے میں علمائے کرام کی دوسری تنبیہ یہ ہے کہ اگر انہوں نے ہماری طرف آنے کا ارادہ کر ہی لیا ہے تو ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ اور کچھ ٹوٹے نہ ٹوٹے، ان کا نکاح ضرور ٹوٹ گیا ہے تڑک کر کے۔لہذا وہ اپنی بیویوںسے فوری طور پر الگ ہو جائیں۔اللہ نہ کرے اسلام قبول کرنے کی راہ میں یہ چھوٹی موٹی قربانیاں کسی کے لیے رکاوٹ بن جائیں۔ اللہ کی راہ میں خون بہانا تو ویسے بھی پسندیدہ عمل ہے۔ بیوی بچے یا مال دولت کی تو حیثیت ہی کیا ہے۔ ایسے ہی یہ فاسد خیال دماغ میں گھس آیا تھا، اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں، اور آپ سب بھی ہماری بخشش کے لیے دعا کر دیں۔ غیر مسلموں کا نکاح تو اسلام قبول کرنے سے ہی ٹوٹ جاتا ہے البتہ مسلمانوں کے اپنے نکاح ٹوٹنے کے اور بھی کئی اسباب بتائے جاتے ہیں۔

مثلاً ایک زمانے میں جب امریکا کا انسان چاند پر پہنچا تو ہمارے ہاں مولوی صاحبان نے برملا انکار کیا اور دلیل یہ دی کہ توے کے برابر چاند پر کیا کوئی انسان اتر سکتا ہے؟ اس سوال یا اعتراض کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اگر پھر بھی کسی بد عقیدہ شخص نے شک کا اظہار کیا تو اعلان ہوا کہ اگر کوئی اس دعوے پر شک کرے تو اس کا نکا ح ٹوٹ گیا۔بعد میں تاہم مولوی صاحبان ہی کی مہربانی سے سب کے نکاح محفوظ رہ گئے۔ یاکسی فتوے کے مطابق فلاں فرقے کے لوگ کافر ہوئے تو خیر ان کے نکاح ٹوٹنے تھے سو ٹوٹ گئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جنہوں نے ان کے کفر میں شک کیا وہ بھی کافر بن کر اپنا نکاح تڑوا بیٹھے۔ یا اسی طرح ہندوستان کے شہر مراد آباد کے ایک مولوی صاحب کے اجتہاد کے مطابق ایک میت کا جنازہ چونکہ کسی دوسرے فرقے کے مولوی صاحب نے پڑھا لیاتھا اس لیے تمام نمازیوں کانکاح ٹوٹ گیا تھا جنہوں نے نمازہِ جنازہ پڑھنے کی غلطی کی تھی۔ چنانچہ وہاں سب لوگ دوبارہ نکاح پڑھواتے رہے۔ اس میں ظاہر ہے نکاح خواں کی خدمت خاطر تواضح تو ہوئی ہوگی۔ احتیاط کا تقاضا تو یہی ہے کہ نمازِ جنازہ پڑھنے سے پہلے ہم سب کو اس بات کی تحقیق کر لینی چاہیے کہ میت اور امام ایک ہی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں، ورنہ نتائج کے ہم خود ذمہ دار ہوں گے۔ البتہ اس میں خدشہ ہے کہ تحقیق کے دوران میں کہیں محقق کو لینے کے دینے نہ پڑھ جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ناگہانی آزمائش سے محفوظ رکھے۔

۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔

اس تحریر کا تیسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

اس تحریر کا تیسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: