میں نے صحافت کیوں چھوڑی — صوفی نعمان ریاض

0

میں نے صحافتی کیرئر کو کیوں خیرباد کہا؟ نیوز ایجنسی این این آئی سے قریبا 1سال وابستہ رہنے اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں آنرز کے ساتھ ساتھ محض شوق کی تکمیل کے لیے پنجاب یونیورسٹی سے جرنلزم میں گریجویشن کرنے کے باوجود صحافتی پلیٹ فارمز سے میرا دل کھٹا ہونے کی وجوہات بے شمار ہیں۔ حالیہ خبروں میں جس طرح ایک معروف کالم نگار کے مختلف کامریڈز پر مہربانیوں کے دعوے زبان زد عام ہوئے، میں نے سوچا کہ اچھا ہے اس وقت میں کسی کی سفارش کا سہارا نہیں لیا کیونکہ سچ تو یہی ہے، جتنے لوگوں کے اس دھندے میں ہاتھ کالے ہیں شاید ہی کہیں اور ہوں۔

سوال یہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں ظفر و جوہر سمیت صحافت کے دیگر جید ستونوں کی کاوشوں سے جڑ پکڑنے والی صحافت کا زوال اتنی جلد کیسے ممکن ہوا کہ وطن عزیز کے قیام میں آنے کے چند دہائیوں بعد ہی صحافت محض گلیمر اور بلیک میلنگ کی نظر ہو کر رہ گئی؟ آخر یہ صحافی محض اچھی اردو روانی سے بولنے اور لکھنے کے ساتھ ساتھ لگائی بجھائی کے فن میں طاق ہونے کی بنیاد پر ہی کیوں اتنا اچھلنے لگتے ہیں؟ ایسا کون سا ہنر ہے  انکے پاس جس کی بنیاد پر دنیا جہان کے ہر موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انکی زبان نہیں لڑکھڑاتی؟ آزادی صحافت کے نعرے کی آڑ لیتے ہوئے یہ محض اپنے ذاتی تجزیے اور آقاؤں کی پسند ناپسند کی بنیاد پر جسے چاہیں لاکٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں لیکن اپنی حقیقت سے بے خبر ہیں۔

میں نے صحافت کی الف بے این این آئی کے پلیٹ فارم سے سیکھنا شروع کی تو اندازہ ہوا کہ گوہر نایاب قدیمی اور روایتی صحافت کے زریں اصولوں کا پالن کرتے ہوئے بے مول زندگی گزارر ہے ہیں اور محض تعلق، نسبت، رطب اللسانی یا ظاہری قد و قامت حلیے اور شخصیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بے شمار کم ظرف، صحافتی افق پر اپنی اجارہ داری قائم کیے بیٹھے ہیں۔ وہ لکھنے والے جو خبر لکھتے وقت خبر کی نوعیت کے اعتبار سے خوشی اور غم کو محسوس کر کے الفاظ کا چناؤ کرتے ہوئے قارئین کو محض رپورٹنگ تک محدود نہیں رکھتے بلکہ کوئی تعمیری پیغام بھی دینا چاہتے ہیں انہیں کوئی پوچھتا نہیں اور لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کے لیے جھوٹ سچ کی آمیزش پر مبنی مواد کاپی پیسٹ کرنے اور رٹے رٹائے جملے بولنے والے رشتہ داریوں اور دوستیوں کا فائدہ اٹھا کر یا صفنی تعصب اور بناوٹی چکاچوند کے باعث ہر کسی سے آگے نکلے جاتے ہیں۔

مجھے دو بار یہ تجربہ ہوا جب انٹرویو دیتے وقت مجھے یہ باور کروایا گیا کہ آپ اپنی ڈگری بارے مت بتایا کریں اس میں کچھ نہیں رکھا۔ آپ کی تعلیم کی بنیاد پر تو آپ کو پرکھا جانا ہی نہیں ہے۔ یہ تو گلیمر اور تعلقات کی دنیا ہے۔ یہاں تو آپ کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ آپ کتنی خوشامد کر سکتے ہیں۔ اپنی عزت نفس کو کس حد تک رہن رکھوا سکتے ہیں۔ مانے ہوئے ٹائیکون کے جھوٹ سچ کو آنکھیں بند کرکے کتنا سپورٹ کر سکتے ہیں؟ میں نے اس وقت بزنس ایڈمنسٹریشن میں آنرز بھی مکمل کر لیا تھا، بیچلرز ان جرنلزم کا امتحان بھی میں پاس کر چکا تھا اور ایم فل پبلک ایڈمنسٹریشن میں ایڈمشن لینے کے لیے تیار تھا جب کسی شخص نے مجھے یہ باور کروایا کہ وہ “اچھے وقتوں” کا سادہ گریجوایٹ ہے لیکن لاکھوں میں تنخواہ لے رہا ہے۔ فلانے اخبار کا کالم نگار 20 لاکھ لیتا ہے اور اسکے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے انٹر بھی کلیئر نہیں کیا۔ سوال یہ ہے کہ بھائی تمہارا کام بھی تو کیا ہے؟ لگائی بجھائی اور بلیک میلنگ کے لیے کیسی تعلیم اور کن ڈگریوں کی ضرورت پڑتی ہے؟ تعلیم یافتہ طبقے کا استحصال کر کے چینلز میں اچھی نشستوں پر براجمان ہو تو ملک میں حال یہ ہے کہ صحافت کسی طور مجموعی  قومی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا نہیں کرپارہی۔ ہزاروں اینکرز خوار ہو رہے ہیں اور حال یہ ہے کہ ایک شاہزیب خانزادہ ذرا اچھی تیاری کر کے Investigative Journalism کا حق ادا کرتا ہے تو قوم حیران رہ جاتی  ہے کہ کیا ایسی صحافت بھی ممکن ہے؟ یہ تم لوگوں کی بدولت ہی ہے کہ ہر چینل پر ہر پروگرام میں قابل تعریف و توصیف اینکرز میسر نہیں ہیں۔

نیوز کاسٹرز اور رپورٹرز کی بھرتیوں کا یہ عالم ہے کہ جو چینل نیا جنم لیتے ہیں وہ وسائل اور تجربہ کاری کی کمی کی وجہ سے بے ڈھنگے لوگوں کی ٹیم بنانے پر مجبور ہوتے ہیں اور Established Channels کی بات کی جائے  تو کہیں اینکرز مسلسل جانبدارانہ اظہار رائے کے جرم میں ملوث ہیں تو کہیں ہر دوسرے شخص کا تمسخر اڑاتے نظر آتے ہیں۔ اپنے کردار کا یہ عالم ہے کہ سیاستدانوں سے ہر قسم کی فیور وصول کرنا بھی اپنا حق سمجھیں گے۔ پبلک سیکٹر حتی کہ پولیس کے محکمے میں حاضر ڈیوٹی افسران کو اپنا تعارف کروا کر انکے کام میں رخنہ اندازی کریں گے۔ پرچیوں سے دیکھ کر خود بھی پڑھیں گے اور دوسروں کے معاملے میں اسی حرکت کو اگلے کی کمزور ی بنا کر بھی پیش کریں گے۔ پلاٹ اور لفافے لینے کے الزامات کا دفاع بھی بے شرمی سے کرتے رہیں گے اور صاحب اقتدار طبقے سے سوالات بھی یوں پوچھیں گے جیسے خود دودھ کے دھلے ہیں۔ لے دے کر رہ گیا زن کا معاملہ تو نام لینے کی ضرورت نہیں ہے، بڑے بڑے میڈیا چینلز کے بڑے بڑے نام فورا ذہنوں میں آجاتے ہیں کوئی پلانٹڈ انٹرویوز میں ملوث رہا ہے کسی نے کام والی کو ذرا سی غلطی پر حبس بے جا میں رکھا ہے اور  کسی کی نامناسب ویڈیوز موجود ہیں۔ قبول صورت خاتون ہو، لیپا پوتی چینل خود کر لیتا ہے اور ذرا سے “جدید” کپڑے پہنے فی میل اینکر تیار، ہاتھ میں مائیک پکڑو ساتھ میں کیمرہ مین لو اور پہن جاؤ کسی بھی بازار میں کسی بھی عوامی مقام پر اور جاکر ہر کسی کو روک کر یوں سوال پوچھے جاؤ جیسے لوگ انکے نوکر ہیں کہ اپنے سب کام چھوڑ کر انکے پیچھے لگ جائیں۔ میعار پروگرامز کا یہ ہے کہ شیخ رشید، عامر لیاقت جیسے سیاستدانوں کی مرہون منت پروگرامز کی ریٹنگ اوپر نیچے ہو رہی ہوتی ہے۔ جب تک 3 لوگوں کی لڑائی نا کروالیں کامیابی کا ہار انکے گلے نہیں پڑتا۔ کبھی مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندگان کو بٹھا کر باہمی تفاوت کی مثبت گانٹھیں کھولنے اور کسی ایک کام کے نتیجے پر پہنچنے کی مثال نہیں ملتی۔ جب بیٹھیں گے لڑوائیں گے لوگوں کو اور بس۔ تو کیا یہی کردار ادا کرنے کا نام صحافت ہے؟

سچ بتاؤ نا، تمہیں صرف اپنے تعلقات کا مان ہے۔ صحافت تو لونڈی ہے جس کے بدن کی حدت پر تمہارا دال دلیا گلتا ہے۔ تمہیں کوئی غرض نہیں ہے کہ جسکا تم انٹرویو کر رہے ہو وہ قوم کا کتنا مقروض ہے۔ تمہیں صرف اپنے تیار کردہ سوالات کی بوچھاڑ کر کے مقابل کو خاموش کروانا ہے اور بس، چاہے کوئی مثبت جواب ملے نا ملے، چاہے کوئی مسئلہ حل ہو نا ہو، تمہاری جیت ہے۔

نوٹ: پاکستانی صحافت کے دامن میں جو گمنام یا بھلے پاپولر نایاب گوہر آٹے میں نمک کی تعداد کےبرابر موجود ہیں وہ صرف مسکرائیں۔ کیونکہ اگر انہیں یہ کالم پڑھ کر غصہ آیا تو مطلب وہ بھی گوہر نہیں ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20