راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 4) —- یاسر رضا آصف

0

پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیں۔

زلزلہ کے دنوں میں مجھے لوگوں کے چہروں پر فکرمندی کے ساتھ یگانگت اور ایثار کا جذبہ دکھائی دیا۔ ان سے جتنا بن پڑتا تھا اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈال رہے تھے۔ تعصب سے بالاتر ہو کر اکٹھے ہو گئے تھے۔ اس عوام کو قوم بنانے میں آفت کا کردار دیکھنے لائق تھا۔ شاید وہ زلزلہ عوام کو قوم میں بدلنے کے لیے ہی آیا تھا۔ میرے ذہن کے پردے پر ماضی کی دھندلی یادیں رقص کررہی تھیں۔ ہم باتیں کرتے ہوئے سید احمد شہیدؒ کی تربت پر جاپہنچے۔ وہاں کے لوگوں کے مطابق جب زلزلہ آیا تھا تو تربت پر آنچ تک نہیں آئی تھی اور محفوظ رہی تھی۔  مسجد اگرچہ زیادہ وسیع نہیں تھی مگر پرسکون اور دیدہ زیب ضرور تھی۔ ہم نے فاتحہ خوانی کی اور بازار کی جانب چل دیے۔ دکانیں سامان سے لدی ہوئی تھیں۔ ہم نے جلد ہی اپنا مطلوبہ سامان خریدا اور واپس مڑ آئے۔ واپس آنے پر بلال اور میرے ذمے پانی کا کولر بھرنا آیا۔ سفر میں کام بانٹ لیے جائیں تو آسانی رہتی ہے۔ بلال اور میں باتیں کرتے ہوئے دریائے کنہار کے کنارے کنارے چلنے لگے جو چشمہ ہمیں بہت قریب لگ رہا تھا۔ ہمارے پہنچتے پہنچتے دور کھسکتا چلا گیا۔

انسان ہمیشہ سے آسان راستے کی تلاش میں رہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ مشکلات کے بغیر جلد از جلد منزل پر جا پہنچے۔ ہماری کیفیت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ ہم ایک پتھریلے مکان کے پاس پہنچے اور چارپائی پر لیٹے شخص سے چشمے کا پتہ پوچھنے لگے۔ اس کے سر پر پگڑی بندھی ہوئی تھی اور وہ ایک بازو کے سہارے بڑی سی چارپائی پر ترچھا ہو کر لیٹا ہوا تھا۔ سامنے حقہ پڑا تھا جو کہ پنجاب کے حقوں سے تھوڑا مختلف تھا اور جدید شیشے سے ملتا جلتا تھا۔ اس نے دھواں چھوڑ تے منھ کو کھولا اور ہمیں راستہ سمجھانے لگا ’’ادھر سے جا کے پتھر اتر جائو۔ نیچے تم کو سڑک ملے گا۔ بائیں طرف چلتے جانا۔ وہاں چشمہ ہوگا‘‘۔ ہم نے اس کا شکریہ ادا کیا اور لال رنگ کے کولر کو دونوں طرف سے لاش کی طرح اٹھا کر چلنے لگے۔

مقامی لوگوں کے لیے پتھروں کی چڑھائی اور اونچائی کچھ معنی نہیں رکھتی۔ وہ پہاڑوں سے مانوس ہوتے ہیں۔ انہیں بچپن میں ہی سمجھ آجاتی ہے کہ کس پتھر پر پائوں ٹکانا ہے اور کس پتھر سے پرہیز کرنا ہے۔ ہم نے اوپرسے نیچے جھانکا تو دل میں ہول اٹھنے لگے۔ ڈھلوان کچھ زیادہ ہی سیدھی تھی۔ ڈھلوان کے اختتام پر دریا تھا۔ ’’یار بلال اگر ادھر سے پائوں پھسل گیا تو سیدھے دریا میں جائیں گے‘‘۔ میں نے اندیشے کا اظہار کیا۔ ’’کہتا تو تو ٹھیک ہے‘‘ اس نے میری تائید کی۔ ’’ہمارے پاس کولر نہ ہوتا تو چانس لیا جاسکتا تھا‘‘۔ میں نے جیسے مشورہ دیا۔ بلال آنکھیں گھما گھما کر کوئی متبادل راستہ تلاش کر رہا تھا۔ آخر اس کی نگاہ کے ریڈار نے ایک راستہ تلاش کر ہی لیا۔ چھوٹی سی پگڈنڈی تھی جو چکر کاٹ کر سڑک تک جا رہی تھی۔ اب ہمیں اس کے آغاز تک پہنچنا تھا۔ ہم واپس مڑے اور اس پگڈنڈی کی جانب بڑھنے لگے۔ چارپائی پر پڑے آدمی نے آواز لگائی ’’بھائی! وہ رستہ عورتوں اور بچوں کے لیے ہے تم تو نوجوان ہو‘‘۔ ہم دونوں کولر تھامے ہوئے مسکرا رہے تھے۔ مجھ سے رہا نہیں گیا۔ زبان پر گدگدی ہونے لگی ’’یہ بلالی ہے برطانیہ سے آئی ہے۔ اسے عورت ہی سمجھو خان‘‘۔ میںنے اسی کے لہجے میں جواب دیا۔ خان کا چہرہ کھل اٹھا ’’اچھا۔۔۔ لالہ‘‘ لالہ کی سرخی خان کے چہرے کی سرخی سے مل کر چاروں جانب پھیل گئی۔ بلال کھا جانے والی نظروں سے مجھے گھور رہا تھا۔ میں نے اپنا قہقہہ اپنے اندر ہی دبا لیا۔

بلال کسی کے سامنے کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ جب آپ اس کے ساتھ اکیلے میں ہوں تو اپنے اعتراضات کا پینڈورا باکس کھول لیتا۔ یہ صفت شاید اسے مغرب سے تحفے میں ملی تھی یا وہاں کے دوستوں کا ماحول ایسا تھا۔ خیر جو کچھ بھی تھا میرے لیے بڑا عجیب تھا۔ کسی دوست کے ساتھ بیٹھ کر مستقبل کے حسین خواب بننا اور ان میں قسم قسم کے رنگ بھرنا میرا محبوب مشغلہ ہے۔ بلال اس سے مختلف تھا۔ وہ حال کے گرداب میں پھنسا ہوا تھا اور ماضی میں لوٹ جانے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہا تھا۔ اس کی ہر بات ماضی بعید اور ماضی قریب کے درمیان جھولتی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ بلال دریا کے کنارے چلنے والی ٹھنڈی ہوا کا مزہ لے۔ وہ اردگرد موجود پہاڑوں کے نظارے کرے۔ پانی کے شور میں ترنم تلاش کرے مگر وہ تو شکایتوں کی پٹاریاں کھولے ہوئے تھا اور انھیں کسی بھی قیمت پر بند کرنے کو تیار نہ تھا۔

لمحہء موجود کی اہمیت ہی انسانی مستقبل کی بنیاد ہے۔ میری خواہش تھی کہ حسین نظاروں کو اپنے ذہن کے پردوں پر تصویر کرلوں۔ ورڈزورتھ کی طرح جب جی چاہے تنہائی میں، اداسی میں، پریشانی میں کہیں بھی کھول کر بیٹھ جائوں مگر بلال میرے بار بار کہنے پر بھی ٹلنے والا نہیں تھا۔ وہ یکسوئی اور انہماک پر ضربیں لگاتا جارہا تھا اور مسلسل بولتا جارہا تھا۔

آخر کار ہم چشمے پر پہنچ گئے۔ قدرتی چشمے پر ایک پائپ لگا تھا۔ اس پائپ کے اردگرد کا علاقہ پتھروں سے بند کیا گیا تھا تاکہ پانی رس رس کر ضائع نہ ہو۔ پائپ سے مناسب رفتار سے پانی آرہا تھا۔ فضا میں دھوپ کے باعث تمازت تھی۔ ہم نے ٹھنڈے پانی سے ہاتھ منہ دھویا۔ چشمے کا پانی صرف ٹھنڈا نہیں تھا بلکہ یخ ٹھنڈا تھا۔ ہمیں تو جیسے دوبارہ زندگی مل گئی۔ سیر ہو کر پیا اور کولر کو بھرنے کے لیے رکھ دیا۔ میں نے کہا کہ یار بلال کیا قدرتی نظام ہے پہاڑوں کی سخت چٹانوں سے بھی پانی نکلتا ہے۔ وہ بھی ایسا ٹھنڈا اور میٹھا کہ سارے انسانی فلٹر پلانٹ دنگ ہو کر منھ تکتے رہ جائیں۔ انسان قدرتی شئے کے قریب ترین تو پہنچ سکتا ہے لیکن قدرتی شئے سو فیصد بنا نہیں سکتا۔ بلال نے جواب میں برطانیہ کی برف باری اور یخ بستگی کے قصے چھیڑ دیے۔ مجھے اپنی عقل پر رونا آرہا تھا کہ کیا عمدہ خیال سوجھا تھا۔ کیا تان ملی تھی۔ کیا سُر چھیڑا تھا اور اس عطائی نے تو تمام راگ ہی الجھا کے رکھ دیا۔ یہ کہاں سے درمیان میں مغربی موسیقی لے آیا۔ یہ بات صرف نصرت فتح علی خاں کو زیب دیتی تھی کہ مغربی اور مشرقی موسیقی کو یک جان کردے۔ باقی محض معلومات اور شماریات کرنے والے لوگ ہیں۔ کسی کی کہی باتوں کو دہرانے والے لوگ جن کی تخلیقی صلاحیتیں ختم سمجھو۔ اس روز مجھے احساس ہوا کہ آپ کے ہم سفر کا ہم خیال ہونا کس قدر ضروری ہے۔

میری طبیعت جلدی گھلنے ملنے والی نہیں ہے۔ دوسروں پر شک کی نگاہ رکھتا ہوں مگر جب ایک مرتبہ اعتبار ہوگیا تو سمجھو دوسرا بندہ لوٹ کر بھی لے جاسکتا ہے۔ یعنی اس قدر اندھا دھند اعتبار کہ خدا کی پناہ؛ اسی اعتبار کی بدولت کئی مرتبہ دھوکا بھی کھا چکا ہوں مگر پھر بھی باز نہیں آتا۔ میں اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے معاملے میں خاصہ کنجوس ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ سخن کا دروازہ کھل گیاہے۔ یہاں معاملہ میری سوچ کے متضاد تھا۔ متوازی تو کسی صورت ہوبھی نہیں سکتا تھا۔

ہم کولر بھر کے واپس آئے۔ اس مرتبہ ہم نے خان کا بتایا ہوا رستہ اختیار کیا۔ چڑھائی چڑھتے ہوئے ہمیں احساس ہوا کہ ہمارا فیصلہ کتنا غلط تھا۔ پہاڑ پر چڑھنا، اترنے سے قدرے آسان ہے۔ چوں کہ اترتے وقت آپ کی نگاہ نیچے ہوتی ہے۔ اس لیے دل میں ہول اٹھتے ہیں۔ پائوں رکھو کہیں تو پڑتا کہیں ہے۔ ایسا خوف ناک تجربہ مجھے پہلے بھی ہو چکا تھا۔ زیارتوں کے لیے ہمارے علاقے سے مختلف بسیں جایا کرتی تھیں۔ کچھ دوستوں نے ایک کمیٹی شروع کی اور زیارتوں والی بس کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔  شہباز قلندر ؒ کے عرس سے ہوتے ہوئے بس شاہ نورانی ؒ جا کر رک گئی۔ ہم لوگ نوجوان تھے اور گرم خون جوش مارتے ہوئے ہمیں پہاڑوں کی جانب لے گیا۔ سمیر، عابد اور میں ایک پہاڑ کی چوٹی پر جانے کے لیے چڑھنا شروع ہوگئے۔ یہ والا عابد میرا محلے دار ہے اور ذات کا چودھری ہے۔ ہم جیسے جیسے پہاڑ پر چڑھتے جا رہے تھے ویسے ویسے پہاڑ بلند ہوتا جارہا تھا۔ گھنٹہ بھر کی محنت اور مشقت کے بعد ہم لوگ چوٹی تک پہنچ گئے۔ نظارہ بہت ہی شاندار تھا۔ پتھروں کے ساتھ سرسبز جڑی بوٹیاں اور جھاڑیاں جگہ جگہ اگی ہوئی تھیں۔ نیچے ندی تھی اور ندی میں نہاتے ہوئے لوگ چیونٹیوں کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔ وہاں سے ہمیں شاہ نورانی ؒکا مزار واضح نظر آرہا تھا۔ مزار کے ساتھ ایک پتھریلا رستہ بھی تھا جس پر جیپیں چلتی تھیں۔ فور ویلر جیپیں؛ باقی کوئی گاڑی چل بھی نہیں سکتی تھی جسے مقامی لوگوں نے کیکڑے کا نام دے رکھا تھا وہ رستہ بھی واضح دکھائی دے رہا تھا۔ ایک واضح موٹے مارکر سے کھینچی گئی دودھیا لکیر جیسا، جس پر کیکڑوں کی آمدورفت جاری تھی۔ بعد میں ہم نے بھی کیکڑے کی سواری کی۔

ہم چوٹی کے پتھروں پر بیٹھ کر اپنا پھولا ہوا سانس درست کرنے لگے۔ سگریٹ کے کش لیتے ہوئے مختلف چیزوں پر تبصرے کرتے رہے۔ پھر اترنے کا مرحلہ شروع ہوا۔ تب ہمیں احساس ہوا کہ ہم نے کتنی بڑی غلطی کی ہے۔ کئی مرتبہ پائوں پھسلتے پھسلتے کسی پتھر سے رک گیا۔ جتنی دیر ہمیں اوپر پہنچنے میں لگی تھی اس سے کہیں زیادہ وقت زمین کو چھونے میںلگا۔ جب واپس کیمپ پہنچے تو کئی دوستوں کے چہرے غصے سے سرخ تھے۔ ہمارے ساتھ جو محلے کے بڑے بزرگ گئے تھے انھوں نے خوب کھچائی کی ہمیں زندگی کی قدروقیمت، وہاں پیش آنے والے حادثات اور اموات پر سیر حاصل بیا ن سنایا۔ چوں کہ چہرے انسانی جذبات کا عکس ہوتے ہیں۔ ہمارے چہروں پر صاف لکھا تھا ہم خوف زدہ ہوگئے تھے۔

انسان کے ذہن میں ابھرنے والے اندیشے اور واہمے ہی خوف کا سبب بنتے ہیں۔ پھر خوف آپ کے دماغ پر قبضہ جما لیتا ہے۔ ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے کہ انسان خوف کے تابع ہوجاتا ہے۔ بالکل ریموٹ سے چلنے والے ٹی وی کی طرح۔ خوف اپنی مرضی سے چینل بدلتا ہے اور انسان بے بسی سے اس جانب سوچ کا دھارا موڑتا چلا جاتا ہے۔ انسان تھوڑی سی ہمت اور خود اعتمادی سے اس کیفیت پر قابو پاسکتا ہے۔ اس میں بہر حال اس کی اپنی مرضی کا شامل ہونا ضروری ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

اگلی قسط اس لنک پہ پڑھیئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20