ماسک کی اجازت ہے، حجاب کی نہیں — وحید مراد

0

حجاب صرف عورت کیلئے ضروری ہے یا مرد کیلئے بھی؟ پردہ صرف جسم کا ہوتا ہے یا دل اورنظر کا بھی؟ اسکے لئے پورا جسم ڈھانپنا ضروری ہےیا جسم کا کچھ حصہ؟ یہ ستر کا ہی دوسرا نام ہے یا یہ ستر سے زائد کوئی چیز ہے؟ کب اور کہاں حجاب کا اہتمام کرنا ضروری ہے، کب اور کہاں ضروری نہیں؟ اسکی شکل و ہیئت پاکستانی ہونی چاہیے، افغانی، ایرانی، عربی یا مغربی؟
یہ تمام سوالات ہمارے موضوع سےخارج ہیں۔ ان سوالات کی اہمیت ان لوگوں کیلئے تو ہوسکتی ہے جنکے نزدیک پردہ اور حجاب کوئی اہم چیز ہے لیکن اس وقت جو لوگ ہمارے مخاطب ہیں انکے نزدیک یہ سرے سے غیر اہم چیز ہے۔ ہمارے مخاطبین کے نزدیک کسی بھی ڈریس کا تعلق صرف سردی، گرمی، سونے، جاگنے، کام کرنے، آفس، اسکول کالج جانے یا دیگر پیشہ ورانہ ضروریات سے ہوتا ہے یا پھر جمالیاتی ضروریات اور پسند و ناپسند {چوائس} سے ہوتا ہے۔

اگر پیشہ ورانہ، موسمی اور جمالیاتی ضروریات کو بھی پیش نظر رکھا جائے توان میں بھی پسند و ناپسندکا اصول کسی نا کسی شکل میں موجود ہوتا ہے جیسے اگر پولیس والوں کی وردی خاکی رنگ کی ہوتی ہے تو انکے پاس چوائس ہے کہ وہ اس رنگ کی وردی کاٹن کے کپڑے میں سلوائیں یا کسی اور قسم کے کپڑے میں۔ اسی اصول کو آفس، اسکول، کالج و دیگر پیشہ ورانہ ڈریسز میں ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ جو لوگ فیشن ایبل ڈریسز پسند کرتے ہیں انکے پاس بھی اس بات کا اختیار ہوتا ہے کہ قمیض چھوٹی پہنیں یا بڑی، یہ تنگ ہو یا کھلی، آستینوں کے ساتھ ہو یا بغیر آستینوں کے۔ جسم کے نچلے حصے پر پہننے کیلئے بھی کسی بھی طرز کےلباس کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ الغرض آپ کسی بھی طرز اور فیشن کا لباس پہن لیں مذکورہ اصول کے ماننے والوں کو آپ پر کو ئی اعتراض نہیں ہوتا لیکن جہاں آپ اپنی پسند کے مطابق حجاب پہن لیں سب کی نظریں آپ پر اٹک جاتی ہیں اور سب آپ کو ایسے دیکھ رہے ہوتے ہیں جیسے کوئی خلائی مخلوق ہو۔

Salhi Aly on Twitter: "The #niqab makes a lot of sense now! #coronavrius… "اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخاب کی آزادی {فریڈم آف چوائس، فری ول} ایک خاص طرز کےفکر، ماحول، سیاسی و سماجی نظام و قوانین و اقدار کے دائرے کے اندر انتخاب کی آزا دی کا نام ہے اس دائرے سے اختلاف کی صورت میں انتخاب کی کوئی آزادی نہیں ہے یعنی اس دائرے سے اختلاف کرنے والوں کیلئے یہ ایک بدترین ظلم اورجبر ہے۔ ترقی یافتہ اور متمدن معاشروں میں عورت کو اس بات میں نتخاب کی آز ادی دی جاتی ہے کہ وہ حمل کے ساتھ آگے بڑھے یا اسقاط حمل کا راستہ اختیار کرے لیکن مرد کو یہ حق نہیں دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے نطفے (جنین) کو محفوظ رکھنے کیلئے عورت کو بچے کی پیدائش تک بائونڈ کر سکے۔ بالغ لڑکی کو یہ حق دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی فریڈم کو استعمال کرتے ہوئے والدین کی مرضی اور اقدار کے خلاف قدم اٹھائے لیکن والدین کو یہ حق نہیں دیا جاتا کہ والدین ہونے کے ناطے وہ اپنے حقوق کیلئے اولاد کو بائونڈ کر سکیں۔ میڈیا کو یہ حق دیا جاتا ہے کہ وہ مذہب کے مقدس معاملات، اقدار وغیرہ کو تضحیک کا نشانہ بناتے ہوئے مسترد کریں لیکن مذاہب اور اسکی بنیاد پر قائم اقدار اور انکے ماننے والوں کو یہ حق نہیں دیا جاتا کہ وہ اپنے تحفظ کیلئے کوئی دعویٰ کریں۔ اسی طرح مختلف پیشوں کی ضروریات کے تحت اور فیشن کے نام پر کم یا زیادہ کپڑے پہننے کی اجازت تو دی جاتی ہے لیکن مذہبی اور روائیتی اقدار کے تحت لباس پہننے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ہیجان خیز لباس پہننے والی خواتین کے بارے میں زبان کھولنے یا کسی بھی قسم کا معمولی تاثر دینے کو انکے خلاف امتیازی سلوک قرار دیا جاتا ہے لیکن حجاب پر پابندی کو خواتین کےساتھ امتیازی سلوک قرار نہیں دیا جاتا۔

فریڈم آف چوائس، فری ول، رواداری اور انسانی حقوق کے علمبردار ممالک نے اپنے ہی بنائے ہوئے اصولوں کو روندتےہوئے اور دنیا بھر کے پچاس کروڑ افراد کی فریڈم آف چوائس کو نظر انداز کرتے ہوئے {جو کسی نہ کسی قسم کے حجاب کا استعمال کرتےہیں} حجاب پر پابندی عائد کرنے کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے فرانس نے 2010 میں پابندی لگائی اور ایک قانون کےمطابق یہ واضح کیا کہ لوگوں کو برقع یا ایسا کوئی لباس بشمول ماسک، اسکارف، ہلمٹ وغیرہ عوامی جگہوں پر پہننے کی اجازت نہیں ہےجس سے چہرہ چھپے، اس قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں 250 امریکی ڈالر کے مساوی جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اسپین اور اٹلی میں بھی اسی سال برقع اور نقاب پر پابندی عائد کی گئی۔ اٹلی میں اس قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں 500 یورو کا جرمانہ ہے۔ بیلجیئم نے 2012 میں حجاب پر پابندی عائد کی اورقانون کی خلاف ورزی کی صورت میں 380 یورو جرمانہ اور سات دن کی قید کی سزا عائد کی۔ ہالینڈ میں 2015 میں حجاب کو سرکاری اور پبلک مقامات پر ممنوع قرار دیا گیا اور قانون کی خلاف ورزی پر 285 پائونڈ کا جرمانہ ہے۔

روس میں قفقاز کے اسلامی علاقوں میں اسکولوں میں اسکارف پر پابندی ہے۔ سوئٹزر لینڈ کی وفاقی ریاست سینٹ گالن میں عوامی ریفرنڈم کے دوران نقاب پر پابندی منظور کی گئی۔ آسٹریلیا میں 2017 میں نقاب پر پابندی عائد کی گئی۔ 2017 میں یورپی عدالت نے کمپنیوں کو بھی اس بات کی اجازت دی کہ وہ کسی قسم کی ظاہری مذہبی علامت پہننے سے اپنے ملازمیں کو منع کر سکتی ہیں۔ ڈنمارک میں 2018 میں نقاب پہننے پر پابندی لگائی گئی اور قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں 150 ڈالر سےزائد کا جرمانہ ہے۔ نیدرلینڈ میں بھی 2018 میں عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی عائد کی گئی۔ جرمنی کی ریاست باڈن اور ورٹمبرگ کے اسکولوں میں برقعے اور اسکارف پر پابندی ہے۔ سویڈن میں بھی اسکولوں میں اسکارف و حجاب اور برقعے پر پابندی ہے۔ چین کے صوبہ سنکیانگ جہاں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے وہاں برقعے اور حجاب پر پابندی ہے۔

عام طور پر یورپ اور امریکہ کے سیاسی لیڈران اور دنیا بھر کے سیکولر دانشور اور فیمنسٹ ماہرین مسلم خواتین کے ساتھ ہونے والے مذکورہ امتیازی سلوک کا اقرار نہیں کرتے لیکن حال ہی میں یورپی یونین کی کمشنر برائے مساوات ہیلنا ڈالی نے انتہائی رنج کے ساتھ اس بات کا اعتراف کیا کہ

یورپ کی مسلم خواتین کو وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔۔۔ مسلم خواتین کو اکثر ایک خاص طرح کے صنفی اسلاموفوبیا سےگزرنا پڑتا ہے جہاں انہیں نسل اور مذہب کی بنیاد پر نسلی امتیاز کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔۔۔۔ یہ امتیازی سلوک نام اور لباس سےآگےبڑھ کر کئی اور پرتیں بھی رکھتا ہے جہاں ان خواتین کو سماجی اور معاشی رتبے پر پرکھا جاتا ہے جو ان کے آزادانہ کام کرنے اور آگے بڑھنے میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2019 میں یورپ میں امتیازی سلوک کی موجودگی کے بارے میں ایک ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ یورپ میں ہر 10 میں سے 3 یورپی افراد، کسی مسلمان کولیگ کی موجودگی کو اچھا محسوس نہیں کرتے جبکہ آدھے یورپین شہری اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ان کے ممالک میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پرکیا جانے والا نسلی امتیاز موجود ہے۔

یورپی ممالک اور امریکہ کو اپنی روایات جن میں کسی خاص قسم کے لباس کو ضروری قرار دیا جاتا ہے، پر کوئی اعتراض نہیں لیکن اسلامی روائیت کے مطابق لباس پہننے پر اعتراض ہے۔ اسی طرح اگر کسی خاص قسم کے لباس پہننے یا ترک کرنے سے کاروبار اور مادی ترقی میں اضافہ ہوتا ہو اور خواہ لوگ اس بات کو جبر تصور کرتے ہوئے سخت ناپسند کرتے ہوں پھر بھی اسکو ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر کسی خاص لباس کےپہننے یا ترک کرنے سے کسی مذہبی روائیت کےتحفظ یا عدم تحفظ کا معاملہ ہو تو اسے کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ کچھ عرصہ قبل تک برطانیہ کے ہائوس آف کامن میں یہ روایت تھی کہ رکن پارلیمان صرف تب ہی ٹائی پہن سکتے ہیں جب انہوں نے سوال پوچھنا ہو۔ اسپیکر جان برکو نے حال ہی میں صدیوں پرانی اس روایت کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ امریکہ کے ایوان نمائندگان کی اسپیکر لابی میں ایک خاتون صحافی کو بغیر آستین کے لباس کے باعث اندر آنے کی اجازت نہ دی گئی تو اسپیکر پال رائن کو دبائو کی وجہ سے لباس کے قواعد کےحوالے سے سوالوں کےجواب دینا پڑے۔ بعد میں ان سے کہا گیا کہ وہ لباس کے حوالے سے قوانین میں تبدیلی کریں۔

بی بی سی اردو کی 25اگست 2017 کی اشاعت میں ایک مضمون بعنوان “آپ کےکپڑے دفتر آنے کیلئے موزوں نہیں” میں بتایا گیا کہ:

فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کہتے ہیں کہ چونکہ ملازم کی صلاحیت بزنس سوٹ پہننے سے بڑھ جاتی ہے اس لئے اگر اسے پسند کا لباس پہننے کی اجازت دےدی جائے تو مالی بحران پیدا ہوجائے گا۔ ایک سروے کے مطابق 12فیصد افراد لباس سے منسلک قوانین کی وجہ سے اپنی ملازمتوں کو چھوڑنا چاہتے ہیں اور کال سینٹرز میں کام کرنے والے لوگوں کی یہ تعداد 32فیصد ہے۔ کمپنی اور اداروں کے مالکان کا کہنا ہے کہ لبا س کے معاملے میں ملازمین کو رعائیت دینے سے انکے اداروں اور کمپنیوں کا تاثر خراب ہوجاتا ہے۔ برطانیہ کے قانون ساز پیٹر بور کا کہنا ہے کہ سوٹ اور ٹائی کے بغیر پارلیمنٹ ایک گائوں کی طرح دکھائی دےگی۔ لیکن بے شمار سینٹرز اور پارلیمنٹیرین جب اسمبلیوں کےاندر ٹائی اور سوٹ پہنے سوکر خراٹے لے رہے ہوتے ہیں تو اس سے کوئی برا تاثر نہیں آتا۔

دفاتر میں بعض اوقات لباس کےحوالے سے بنائے جانے والے قوانین اتنےعجیب ہوتے ہیں کہ ان پر حیرت ہوتی ہے۔ عورتوں اور مردوں دونوں کو ان سخت قوانین کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ کاروباری لباس کے حوالے سے مردوں کےٹائی اور سوٹ ضروری ہے لیکن خواتین کے حوالے سےکوئی خاص اصول نہیں لیکن انکا باس کبھی بھی ان سے یہ کہہ سکتا ہےکہ آج آپ کے کپڑے دفتر آنے کیلئے موزوں نہیں۔

یورپی ممالک اور امریکہ کو مسئلہ صرف اور صرف اسلامی اقدار ہے۔ اگر کوئی ملک اور معاشرہ اسلامی اقدار کا حامل نہ ہو اور خواہ وہ کھلے عام سیکولر ازم اور لبرل ازم کے اصولوں اور روایات کی دھجیاں اڑا رہا ہو وہ اسے اپنا دشمن تصور نہیں کرتے۔ جیسے شمالی کوریا نے کئی بار امریکہ کے براعظم کو تباہ و برباد کردینے کی دھمکیاں دیں لیکن امریکہ نے اسکے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی لیکن عراق کے کیمیائی ہتھیاروں کی جھوٹی اطلاعات پر بھی اسکے خلاف کاروائی کی اور بالآخر وہاں سے کچھ بھی برآمد نہیں ہوا۔ دہشت گردی کی کاروائیاں دنیا بھر میں ہورہی ہیں لیکن امریکہ نے صرف افغانستان، شام، مصر اور لیبیا کے خلاف کاروائی کرنا ضروری سمجھا۔ اسرائیل اور بھارت کے نیوکلئیر تجربات سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن پاکستان اور ایران کےتجربات سے مسئلہ ہے۔ اسی طرح اگر کوئی غیر اسلامی ملک اپنے ہاں کسی خاص لباس کےپہننے یا ترک کرنے پر پابندی عائد کردے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر کسی اسلامی ملک میں حجاب وغیرہ کو قانونی تحفظ دیا جائے تو انہیں اعتراض ہوتا ہے۔ جیسے انہیں سعودی عرب اور ایران وغیرہ میں حجاب کے قوانین اچھے نہیں لگتے لیکن وہی کام اگر کمبوڈیا کر رہا ہے تو اس سے آج تک کسی نے نہیں پوچھا کہ وہ ایسا کیوںکر رہا ہے؟

بی بی سی اردو نے 21 ستمبر 2020 کی اشاعت میں ایک رپورٹ بعنوان “وہ ملک جہاں چھوٹے کپڑے پہننے پر پابندی لگ سکتی ہے” میں بتایا کہ:

کمبوڈیا میں مجوزہ قانون کے تحت خواتین کو بہت کم یا ہیجان پیدا کرنے والے لباس پہننے کی ممانعت ہوگی اور مردوں کے ٹاپ لیس ہونے پر بھی پابندی ہوگی۔۔۔۔ حالیہ برسوں میں حکومت نے جسم کی نمائش کرنے والے خواتین کے لباس پہننے کے ساتھ ساتھ ان اداکاروں اور گلوکاروں کی پرفارمنسز پر بھی پابندی عائد کی ہے جن کے لباس پر اعتراض کیا گیا تھا۔ اپریل میں ایک خاتون کو چھ ماہ کی قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔۔۔۔ وزیر اعظم ہون سین نے عورت کی براہ راست نشریات کو ثقافت اور روایات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے سلوک جنسی ہراسمنٹ اور تشدد کا باعث بن سکتے ہیں۔

اسکارف اور حجاب سے تو جسم اور چہرے کا ایک مخصوص حصہ ڈھانپا جاتا ہے اور یہ پہننے کے باوجود بھی شناخت نظر آرہی ہوتی ہے لیکن اسکے باوجود یورپی ممالک اور امریکہ میں ائرپورٹس اور دیگر کئی مقامات پر زبردستی اسکارف اور حجاب اتروا کر خواتین کو چیک کیا جاتا ہے اور کچھ ممالک میں تو پبلک مقامات پر اس طرح کا لباس پہننے کی قطعی طور پر اجازت نہیں۔ لیکن کرونا وائرس کےپھیلائو کےخطرے کے پیش نظر لو گ ایسے ایسے ماسک استعمال کر رہے ہیں جن سے پورا چہرہ ہی چھپ جاتا ہے اور شناخت ہو ہی نہیں سکتی لیکن اسکے باوجود ہر جگہ نہ صرف یہ ماسکس پہننے کی اجازت ہے بلکہ نہ پہننے کی صورت میں جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی

اگر آپ کےجسم کو کسی وائرس سےخطرہ ہے تو بچائو کیلئے آپ حجاب، نقاب، ماسک، عبایا وغیرہ پہن سکتے ہیں لیکن اگر آپ کو کسی ذہنی، روحانی، نفسیاتی اور جنسی وائرس سے خطرہ ہے تو اس کےبچائو کیلئے آپ کوئی ماسک، حجاب، نقاب اور عبایا نہیں پہن سکتے ہے۔ چین جہاں کے مسلم آبادی کے صوبے میں حجاب پر پابندی ہے وہاں کی ائیر لائنز، بعض دفاتر اور کمپنیاں کوڈ 19 سے بچائو کیلئے ماسکس کے ساتھ ساتھ ایسا لباس پہننا بھی ضروری قرار دیتی ہیں جس میں انسان کا پورا جسم ہی چھپ جاتا ہے اور یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ مرد ہے یا عورت ہے۔ یعنی وہی چینی قانون جو کوڈ 19 سے بچائو کیلئے جس کٹ اور لباس کو ضروری قرار دیتا ہے، جنسی ہراسمنٹ سے بچائو کیلئے اسی لباس کو غیر ضروری اور ممنوع قرار دیتاہے۔ مغرب اور مغرب کے ہمنوا ممالک کی یہ عجیب و غریب قسم کی منطق اور دوہرا معیار ہے۔

فروی2020 میں جب پیرس فیشن ویک میں جگہ جگہ ماسکس پہنے چہرے نظر آئے تو ایک امریکی فوٹو گرافر ولیم ورسیٹی نے ٹوئیٹ کیا کہ

وہ ملک یعنی فرانس جہاں مسلمان عورتوں کےبرقعے اور نقاب پہننےپر سب سےپہلے پابندی لگائی گئی تھی ا ب اس ملک میں ہر طرف ماسک {نقاب} پہننے کے بے باک مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔

اس ٹوئیٹ کےکچھ ہفتوں بعد عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کوڈ 19 کو عالمی وبا قرار دیا گیا اور ماسک {نقاب} ایک انوکھی شناخت رکھنے کی بجائے ہر کسی کی ضرورت بن گئے حتیِ کہ ان ممالک میں بھی جہاں نقاب پہننے پر پابندی عائد تھی۔ عرب نیوز کی حفصہ لودی نے اس پر کہا کہ یہ دوہرا معیار حیران کن ہے۔ جب میڈیکل ماسکس دوسرے نقابوں سے ہٹ کر کوئی کام دیتے ہیں تو ضروری قرار پاتے ہیں حالانکہ نقاب میں بھی تو چہرے کا کچھ خاص حصہ ہی ڈھانپا جاتا ہے۔

حوالہ جات:

1۔ بی بی سی اردو نے  21 ستمبر 2020 “وہ  ملک جہاں چھوٹے کپڑے پہننے پر پابندی لگ سکتی ہے”

https://headtopics.com/pk/16081729321605188685-15791382

2۔بی بی سی  اردو کی 25اگست  2017  “آپ کےکپڑے  دفتر آنے کیلئے  موزوں نہیں”

https://www.bbc.com/urdu/world-41050300

3۔ روزنامہ جنگ  21ستمبر  2020

https://jang.com.pk/news/823016

4۔ روزنامہ جنگ ، 22ستمبر 2020  https://jang.com.pk/news/823442

5۔ بی بی سی اردو، یورپی کمپنیاں دفتر میں  حجاب پر پابندی لگا سکتی ہیں  https://www.bbc.com/urdu/world-39248728

6۔ ماسک بھی نقاب ہے ۔اردو نیوز۔۔۔https://www.urdunews.com/node/479756

7۔The places in the world that have a burqa ban : https://qz.com/326086/the-places-in-the-world-that-have-a-burqa-ban/

8۔ Countries where Islamic Veil is not allowed in public : https://www.ibtimes.co.uk/australia-burqa-ban-backlash-countries-where-islamic-veil-not-allowed-public-1468404

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20