احمد جاوید کا ناول، کارل مارکس اور جینی کی داستان محبت — محمد تیمور

0

احمد جاوید اردو ادب میں علامتی افسانہ نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں یہ ان کا پہلا ناول ہے۔ یہ ناول ان کی حیات میں ہی مکمل ہو گیا تھا لیکن کچھ مصروفیات کی وجہ سے وہ اس کو شاہع نہ کروا سکے۔ ناول ان کی وفات کے بعد منظر عام پر آیا۔ اس ناول کو اتنی شہرت نہیں ملی اگر ان کی زندگی میں شائع ہوتا تو شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جاتا۔ چند لوگوں کے سوا کسی نے اس ناول کو نہیں پڑھا۔ یہ ایک دستاویزی ناول ہے۔

اس سے پہلے اپ نے سسی پنوں، ہیر رانجھا، سوہنی مہینوال کی محبت کی داستانیں تو سنی ہونگی، ایک ایسی ہی محبت کی لازوال داستان جینی اور کارل مارکس کی ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ جرمنی کے ایک چھوٹے سے شہر ٹرائر کی بات ہے اور اور انیسویں صدی کا قصہ ہے کہانی اس لڑکی کی ہے جس نے بے فکری کے دن دیکھے ناز و نعم میں پرورش پائی لیکن جب عشق لاحق ہوا سب کچھ فراموش ہوا، سدھ بدھ بسرا گئی، عیش وعشرت میں پلی ظاہری حسن و جمال قدرت نے ہرنعمت سے اسے نوازا تھا، اشرافیہ میں اس کے خاندان کا بڑا اہم مقام تھا اور اس کا باپ ٹرائر کا منتظم اعلیٰ تھا۔ یہ انیسویں صدی کا دوسرا عشرہ تھا جرمنی پر ملوکیت مسلط تھی صنعتوں کے آجانے سے نپولین کے حملوں نے پورے یورپ کو بگاڑ رکھا تھا اس لیے چاروں طرف بے چینی تھی اور شورشیں سر اٹھا رہی تھیں۔ حکومت کو ایسی نوکر شاہی کی ضرورت تھی جو عوام کو سر نہ اٹھانے دے۔ جینی کے والد غریب پرور اور نرم دل انسان تھے اس لیے ان کا تبادلہ دوسرے شہر کر دیا گیا۔ جینی وہان اتنی خوش نہیں تھی۔ ٹرائر میں لڈوک کی ملاقات معروف وکیل ہنرک مارکس سے ہوئی اور دونوں میں ایسی دوستی قائم ہوئی جس کی مثال نہیں ملتی۔ اسی بہانے جینی کو اس کی بیٹی صوفیہ کی صورت میں سہیلی بھی مل گئی۔ اب جینی کے دن اچھے گزرنے لگے۔

1830 جب فرانس میں احتجاج کرتے ہوئے مزدوروں پر پولیس اور فوج ٹوٹ پڑی اور لاشوں کے انبار لگا دیے۔ ان ہنگاموں نے ہنرک مارکس کے بیٹے کارل کو مزدور کے حق میں آواز بلند کرنے پر مجبور کیا۔ وہ کہتا ہے کہ میرے خیال میں ہمارے علاقے میں کسانوں کی غریب کا ذمہ دار زمین دار اور تاجر ہے۔ جینی بھی کارل مارکس کے نظریات سے متاثر ہوئی اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر اس کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے اور جینی کے ماں اور بھائی کے نا چاہتے ہوے بھی ان کی شادی ہو جاتی ہے۔ شادی کے بعد روز بروز ان کے گھر کے حالات بگڑتے جا رہے تھے پہلے ان کو جرمنی، فرنس اور پھر بلجیئم سے بھی بے دخل کر دیا گیا۔ ایسی صورت حال سے نکلنے کے لیے اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ بس گھر کی قیمتی چیزیں گروی رکھی جا رہی تھیں یا جینی کی والدہ کی طرف سے کو امداد آجاتی اور دن گزر جاتے۔ جب بھی جینی کو مشکلات گھیر لیتی تو وہ بیمار پڑ جاتی اور شوہر سے کوئی گلہ نا تھا بلکہ ہمدردی تھی۔ یورپ میں عالمی جنگ ہو گئی 1849 انقلاب کی کامیابی کا سال ہے۔ ابتدائی چند ماہ کامیابی کا اشارہ کر رہے تھے اور لوگ خوشی سے دل لبھا رہے تھے کہ جرمن حکومت پوری طاقت کےساتھ سامنے آرہی ہے۔ کارل اخبار تو نکال رہا تھا مگر پولیس ہر وقت اس کے ٹوہ میں تھی، اخبار پر پابندی اور ملک چھوڑنے کے حکم نامے ملتے جاریے تھے۔ کارل کی معاشی حالات اتنے خراب تھے کہ کھانے کو کچھ نہیں تھا ایک اس کادوست اینگلز اس کی مالی مدد کرتا تھا۔ اس فاقہ کشی اور بیماری میں کارل کی تین اولادیں یکے بعد دیگرے فوت ہوگئیں۔ مصنف کارل مارکس کی مجبوری کو کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں لکھتے ہیں “وہ شدید بخار میں مبتلا تھی جب چوتھے بچے کی پیدائش ہوئی مگر رزق کا بندوبست نہیں تھا۔ جینی کی حالت ایسی تھی کہ بستر سے پاؤں نیچے نہیں رکھ سکتی تھی اور کھانا پینا بھی مناسب نہیں تھا۔ بچے کو دودھ کیسے پلاتی دایہ کا انتظام کہاں سے ہوتا یہاں تو کھانے کے لالے پڑے تھے اور اس کا معاوضہ کون دیتا۔ بچے کو چھاتی سے لگائے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا مگر چھاتیوں میں دودھ کہاں سے آتا، بچہ دُودھ کھینچتا تو اس کا منہ خون سے بھر جاتا اور جینی کی چیخ نکل جاتی، جینی کا دودھ اسے صحیح طرح منتقل نہیں ہو رہا تھا البتہ بیماری ضرور پہنچ رہی تھی۔ نیند اس کے مقدر میں نہیں تھی وہ جاگتا رہتا اور چیختا رہتا، گھرمیں فاقہ کشی کے ڈیرے تھے ان حالات میں بھی جینی اور کارل مارکس نے ہمت نہیں ہاری اور اپنا کام جاری رکھا اور اس کا دوست اینگلز جس کی مالی معاونت کی وجہ سے کارل ایک دن اپنی کتاب “سرمایہ” نکالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

جینی خوش تھی کہ اس کتاب کے بعد تہلکہ مچے گا اور اس کا شوہر امر ہو جائے گا مگر ایسا کچھ نہیں ہوا کتاب چونکہ جرمن زبان میں تھی اسے لیے خفیہ طریقے سے جرمنی جانا پڑا۔ کتاب چھپ تو گئی مگر کوئی دھماکہ نہیں ہوا۔ اس کی اس کامیابی کے پیچھے اس کی بیوی جینی کا ہاتھ ہے جس نے بہت سی مصیبتیں برداشت کیں اور اپنے شوہر کا ساتھ نہیں چھوڑا، ماں اور بھائیوں سے لڑتی رہی اور اپنے شوہر کو کامیاب کیا۔ یہ تھی جینی اور کارل مارکس کی داستان محبت اور داستانِ حیات اس ناول کا مطالعہ لازمی کریں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20