راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 2) —- یاسر رضا آصف

0

پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیئے۔

میں جب واپس پہنچا تو چائے میز پر موجود تھی اور وہ لڑکا کب کا جا چکا تھا۔ تعارف کا سلسلہ جاری تھا اور عابد اپنے بارے بات کررہا تھا ’’میں استادوں کی استادیاں پکڑتا ہوں۔ کیا کروں یہ میری نوکری کا حصہ ہے میں اے۔ ای۔ او ہوں‘‘عابد نے تھوڑا توقف کیا۔ چائے کے گھونٹ سے گلہ تر کرنے کے بعد بولا ’’میں ،شبیر، فیاض، فہیم، فخر، ذیشان اور امداد ہم تمام اے۔ ای۔ اوز ہیں۔ دراصل ان تمام دوستوں کو میں نے ہی سفر کے لیے راضی کیا ہے‘‘ مجھ سے رہا نہیں گیا ’’اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ ایک اے۔ ای۔ اوز کا ٹرپ ہے ہم توبس ساتھ دینے آئے ہیں‘‘۔ عابد نے مسکرا کر تائید کی ’’بھائی آپ کا ساتھ بھی ضروری ہے‘‘۔ امجد ، سمیر اور اسلام اساتذہ نکلے۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ بھائی آپ کا کیا پروفیشن ہے۔ ’’لکھنے لکھانے کا سلسلہ ہے جس سے پاکستان میں کم از کم آمدن کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ باقی ساہیوال ڈی۔ پی۔ ایس کالج میں اردو کا استاد ہوں‘‘ اب گیند بلال کے کورٹ میں آگئی تھی۔ ’’میں برطانیہ سے واپس آیا ہوں‘‘ سمیر نے فوراً جملہ کسا ’’سچی بات بتائو۔۔۔ نکالا گیا ہوں‘‘۔ اب قہقہے تھے اور سب لوگ تھے۔ چائے کا دور جاری تھا اور سبھی لوگ خود کو فراموش کرکے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔  بوندا باندی پھر سے شروع ہوگئی۔ سب نے واپس وین کی راہ لی۔ بلال کی بات وہیں کی وہیں رہ گئی۔ ویسے حلیے سے وہ دیسی انگریز لگتا تھا۔ مطلب ایسے لوگ جو بیرونِ ملک جا کر ان جیسا حلیہ تو اختیار کرلیتے ہیں لیکن اندر سے مقامی ہی رہتے ہیں۔ مجموعی طور پر مجھے بلال ایک دلچسپ کردار معلوم ہوا۔ وین میں تمام رستے مکمل خاموشی رہی۔

خاموشی بھی زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ کالج دور کی بات ہے کالج جانے سے پہلے تیار شیار ہو کر چوک میں کھڑا ہونا معمول کی بات تھی۔ کالج کا وقت نو بجے ہوتا تھا چوں کہ سکول پہلے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ہمارے پاس جو وقت ہوتا لڑکیوں کی ٹولیوں کو دیکھتے ہوئے گزار دیتے۔ بات دیکھنے تک اور اشاروں تک ہی رہتی۔ کبھی گفتگو کی ہمت نہیں پڑی۔ ہم میں سے اگر کوئی کسی سے کبھی بات کر لیتا تو تمام دوست اسے رشک بھری نگاہوں سے دیکھتے۔ اس کا حکم بجا لاتے۔ اس سے بات کرنے کے طریقے دریافت کرتے۔ عدنان ،خرم، عطا اور میں ایک ہی کلاس میں پڑھتے تھے۔ محلے دار بھی تھے اور یار بھی؛ اکٹھے کالج جانا، فلمیں دیکھنا، آوارہ گردی کرنا اورخوش شکل لڑکیوں کی باتیں کرنا ہمارے بہترین مشاغل تھے۔ عطا نے ایک دن ہمیں بتایا کہ فلاں لڑکی اس پر جان چھڑکتی ہے۔ اس سے محبت کرتی ہے۔ طرح طرح کے سوال ہونے لگے۔ حسد کے باعث ہم اس کا مذاق بھی اڑاتے رہے۔ میں نے پوچھا کہ تمہیں کیسے پتہ چلا وہ تم سے محبت کرتی ہے؟ اس نے بلا جھجک کہا کہ اس کی آنکھیں بولتی ہیں۔ مجھ سے محبت کا اظہار کرتی ہیں۔ میں نے آج تک اس سے کبھی کوئی بات نہیں کی مگر ہماری بڑی لمبی چوڑی گفتگو ہو چکی ہے۔ آنکھوں کے ذریعے میں جان چکا ہوں کہ وہ مجھ پر جان چھڑکتی ہے۔ ہم سبھی حیرت سے عطا کا چہرہ دیکھتے رہے اور حسد کرتے رہے اور ہم کر بھی کیا سکتے تھے۔

خاموشی گفتگو کا روپ دھار لے تو سبھی باتیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ پھر خاموشی جو لطف دیتی ہے وہ گفتگو سے کئی درجہ بہتر اور عمدہ ہوتا ہے۔ وین میں لاہور کی طرف سفرکرتے ہوئے مجھے خاموشی کی گفتگو سنائی دے رہی تھی۔ ایسی گفتگو جسے کان لگا کر نہیں سنتے بلکہ دل کی دھڑکن کے ذریعے محسوس کرتے ہیں۔ ہماری وین نیازی اڈے پر ۱۲ بجے کے قریب پہنچی، چوںکہ راستے میں موسم خراب تھا، بارش بھی تھی اس لیے ڈرائیور نے کوئی پھرتی نہیں دکھائی۔ موٹر وے سے گزرتے ہوئے مٹی کے بڑے بند اور کرینیں دکھائی دیں۔ تقریباً اکیس سال پہلے کی بات تھی کہ ہم جب وہاں کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ گیند مشینری کے درمیان کہیں گر جاتی تو ہمیں باری باری گیند کو واپس لانے کی ذمہ داری نبھانا پڑتی۔ آج موٹر وے جس طرح روشنیوں میں جگ مگ کر رہی تھی ان کے کھمبے نصب ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے اور کبھی اس ویرانے میں ایسی رنگا رنگی کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔

لاہور میں قدم رکھتے ہی ماضی کے کئی دریچے وا ہوتے چلے گئے جنھیں زخمی پوروں سے دھیرے دھیرے بند کرنا لازمی تھا۔ کچھ اسناد دینے کے لیے جنرل ہسپتال لاہور جانا ہوا۔ لہٰذا مجھے گرمیوں کے دنوں میں صبح صبح گھر سے نکلنا پڑا۔ اسناد متعلقہ بندے کے حوالے کرکے میانی صاحب کی جانب نکل گیا۔ دن دس گیارہ کا وقت ہوگا۔ سورج ابھی سے زمین کو گھورنے لگا تھا۔ میں ساغر صدیقی سے ملنا چاہ رہا تھا۔ ان کی شاعری کی کشش نے مجھے مجبور کردیا تھا۔ پھر ’’داستانِ ساغر‘‘ نے اپنا اثر دکھایا اور اس محبت کو سوا کردیا تھا۔ اب معاملہ یہ تھا کہ میانی صاحب قبرستان بہت بڑا تھا اور مجھے فقط اتنا پتہ تھا۔ ساغر صدیقی کی تربت میانی صاحب میں ہے۔ یہ بات تو بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے فلاں شخص لاہورشہر میں رہتا ہے۔ آپ کو نہ محلے کا علم ہو، نہ گلی کا نمبر پتہ ہو تو کیسے ڈھونڈیں گے۔ کئی لوگوں سے پوچھا اور کئی راہ گیروں سے دریافت کیا لیکن کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ میں پسینے میں تقریباً بھیگ چکا تھا۔ پیاس اپنے عروج پر تھی۔ چوبرجی چوک کے پاس ایک مسجد دکھائی دی۔ جس کے باہر کولر پڑا تھا۔ وہاں سے دو گلاس پانی کے پیے تو جیسے جان میں جان آئی۔

اسی سال نیا نیا وارڈن کا نظام شروع ہوا تھا۔ اتنی گرمی میں ایک وارڈن دستانے پہنے گاڑیوں کی قطاریں سیدھی کروا رہا تھا۔ اس کے ہاتھ کے اشارے پر گاڑیاں حرکت میں آرہی تھیں۔ ٹریفک جب دوبارہ سے رواں ہوگئی تو وہ سڑک کے ایک طرف کھڑا ہوگیا۔ میں سوچنے لگا کہ جلتی دھوپ میں دوسروں کو راستہ دکھانا اور ان کی مشکلات حل کرنا کتنا مشکل ہے۔ وہ چلتے ہوئے کولر تک آیا اور پانی پینے لگا۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور سلام دعا کے بعد ساغر صدیقی کا پوچھا وہی جواب ملا جو پہلے لوگوں سے مل چکا تھا۔ میں مایوس سا ہو گیا۔ جیسے سینے میں کوئی دل کو مسلنے لگا۔ میں نے شکوہ کیا ، اعتراضات اٹھائے اور پھر کولر سے گلاس بھر کے پانی پینے لگا۔ سوچا اس طرح ہی میں اپنے آپ کو پرسکون کر لوں۔

پانی پینے کے بعد بھی شکوے اور اعتراضات دماغ میں ہلچل مچارہے تھے۔ سڑک کو پار کرتے ہوئے ایک درویش میری جانب آرہا تھا۔ جس کے بال الجھے الجھائے، چہرہ پرسکون اور پائوں جوتی سے محروم تھے۔ میں نے موہوم سی امید پر جیسے ڈوبنے والا کنارے پر کھڑے لوگوں کو آخری آواز دیتا ہے۔ اس درویش سے ساغر صدیقی کی بابت پوچھا۔ اس کے ہونٹوں پر مسکان لہرائی اور میرے دل کے تاروں کا ارتعاش خوشی سے بڑھ گیا۔

درویش نے اپنا دایاں ہاتھ بلند کیا ’’پٹرول پمپ کے ساتھ رستہ جاتاہے۔ آگے کچھ دھریکیں ہیں پھر چند ایک قبروں کے بعد بابا ساغر کامزار ہے‘‘۔ میں نے ان کا شکریہ بھی ادا نہیں کیا اور تیزی سے سڑک پار کرکے قبرستان جا پہنچا۔ میرے پاس نہ تو پھول تھے اور نہ ہی کوئی چادر جسے تربت پر بچھایا جاتا۔ چلچلاتی دھوپ میں تربت پر فاتحہ خوانی کی۔ تربت پر کتبہ لگا تھا۔ ’’درویش شاعر ساغر صدیقی‘‘ اور جابجا اشعار کنندہ تھے۔ پکی قبر کے پائوں کی جانب چھوٹی سی الماری بنی تھی۔ اسے کھولا تو اندر قبر تھی۔ کچھ سوچے بنا اندر چلا گیا۔ باہر کی دھوپ اور شور باہر ہی رہ گیا۔ مجھے اس وقت احساس ہواکہ اندر کا دروازہ کھولنا کتنا ضروری ہے۔

ہم نے اپنے بیگ ہائی روف کی چھت پر باندھے اسے مومی کاغذ سے ڈھانپا تا کہ پھر بارش سے زحمت نہ ہو۔ بھوک زوروں پر تھی۔ سب نے ہی تائید کی اورکسی ہوٹل کا رخ کیا۔ لکشمی چوک میں ایک دہی بھلے والا ہوتا تھا۔ جس کے ہاں لوگوں کا ہجوم اس قدر ہوتا تھا کہ آپ کو آرڈر دے کر انتظار کرنا پڑتا۔ ہم میچ کھیل کر تھکے ہارے جب واپس آتے تو دہی بھلے ضرور کھاتے۔ ایک روز ہم چار لڑکے تھے جب دہی بھلے کھا چکے تو روپے ہماری جیبوں سے کم نکلے۔ مجھے آج بھی یاد ہے؛ سفید مونچھوں والے بارعب شخص نے ہمارے باقی کے روپے ادا کیے اور مسکرا کر کہا ’’کوئی بات نہیں جب کسی اور کے پاس نہ ہوں تو آپ لوگ دے دینا یہی سمجھنا کہ مجھے واپس دے رہے ہو‘‘۔ لیکن میں اس کی نصیحت پر آج تک عمل نہ کرسکا۔ انسان جب چار جماعتیں پڑھ لیتا ہے تو وہ شاید عمل کا بندہ نہیں رہتا ہے بلکہ علم کا بندہ بن جاتا ہے۔ دوسروں کو ٹوکنا اور دوسروں کی خامیاں نکالنا اس کا مشغلہ بن جاتا ہے۔ یہ حق وہ خود ہی اپنی ذات کو دیتاہے اور یوں عمل سے کوسوں دور علم ہی علم کا بندہ بن کر پوری زندگی بتا دیتا ہے اور ہمارے جیسے لوگ ان دونوں کے درمیان رہ جاتے ہیں۔

ہوٹل سے کھانا کھانے کے بعد طبیعت ہشاش بشاش ہوگئی۔ ہمارے دوستوں میں یہ جملہ بڑا مشہور ہے کہ ہمیں چاہے ہرن سے روٹی کھلا دو مگر چائے نہیں دو گے تو ہم کہیں گے ہمیں تو اس شخص نے چائے تک نہیں پوچھی۔ چائے اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ سانس لینا؛ ذہنی کوفت اور جسمانی سستی چائے کے بغیر دور نہیں ہوتی چائے پر ہمارے ساتھ ڈرائیور جعفر بھی تھا۔ تیز رفتاری کے سبب جسے بعد میں سبھی نے ’’جعفر طیارہ‘‘ کہنا شروع کردیاتھا۔

سفر کا آغاز ہوا۔ لاہور کی سڑکوں پر وین دوڑنے لگی۔ میں کھڑکی کے ساتھ والی نشست پر بیٹھا حیرانی سے لاہور کو دیکھ رہا تھا۔ یہ وہ لاہور ہرگز نہیں تھا جسے میں جانتا تھا۔ سڑکیں کشادہ ہوچکی تھیں مگر درخت کہیں بھی موجود نہیں تھے۔ کبھی کبھی کشادگی اور ترقی بھی گھٹن کاباعث بن جاتی ہے۔ لاہور کے حالات دیکھ کر خوشی کے ساتھ ساتھ غم کے احساس نے بھی دل کو تھام لیا۔ اب دھواں، سڑاند اور شور لاہور کے مستند حوالے بن گئے تھے۔ میں نے آنکھیں بندکیں اپنا سر نشست کی پشت پر رکھا اور خوب صورت مناظر کی تصویر کشی کرنے لگا۔

ایک سوال نے میرے ذہن میں اتھل پتھل مچانی شروع کردی کہ میں نے محض اپنی روزمرہ زندگی سے اکتاہٹ کے سبب یہ سفر اختیارکیا ہے یااس کا کوئی مقصد بھی ہے۔ ہرکیے گئے سوال کے پیچھے کوئی وجہ موجود ہوتی ہے۔ لہٰذا جب ذہن اس نہج پر سوچنے لگا تو پرتیں کھلتی چلی گئیں۔ مصروفیت کے سبب میںنے کبھی اس طرح کھل کر نہیں سو چا تھا۔ مجھے سفر نعمت محسوس ہونے لگا۔

انسان جب بھیڑ سے اکتا جائے اور تنہائی میں دبکنے کی کوشش کرے تو سمجھ لیں کہ اسے ماحول کی یکسانیت نے جکڑ لیا ہے۔ یکسانیت ذہن کی صلاحیتوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ مجھے اپنے آپ سے بات کیے عرصہ بیت چکا تھا۔ شاید اسی ملاقات کی تلاش میں ہی میں دوستوں کے ساتھ نکل آیا تھا۔ کیا یہ ملاقات ہوپائے گی؟ میں اپنی ذات کا سامنا کر پائوں گا یا یہ محض رائیگانی کا سفر ہو گا۔ اسی الجھی الجھائی کیفیت میں میری آنکھ لگ گئی۔

گہری نیند بھی عنایت ہے۔ لوگ نیند کے لیے کیا کیا جتن نہیں کرتے مگر وہ آنکھوں کے لحافوں کو اوڑھنے کی اجازت نہیں دیتی اور دور کھڑی مسکراتی رہتی ہے۔ کئی ایسے بھی دیکھے ہیں کہ باتیں کرتے کرتے ہی خراٹے لینے لگتے ہیں۔ اس رات میں بھی گہری نیند سویا۔ آنکھ کھلی تو وین رکی ہوئی تھی۔ وین میں سناٹا تھا اور کوئی بھی موجود نہیں تھا۔

میں نے کھڑکی کے شیشے سے باہر دیکھا۔ بوندا باندی جاری تھی۔ ہماری وین بھیرہ میں موٹروے پر ٹھہری ہوئی تھی۔ یورپی طرز کا ہوٹل تھا۔ زیادہ تر لوگ ہوٹل سے ملحقہ برآمدوں میں کھڑے رم جھم کا مزا لے رہے تھے۔ میں نے منہ ہاتھ دھونے کے بعد اپنے ہم سفروں کی تلاش شروع کردی۔ وہ بھی انھیں برآمدوں میں ٹولیوں کی صورت میں کھڑے تھے۔ موسم، سفر اور موجودہ ماحول گفتگو کا موضوع بنے ہوئے تھے۔ ہر بندہ اپنی اپنی معلومات کی پٹاریاں کھولے تماشا کر رہا تھا۔ مجھے تماشے اور نظارے میں سے کسی ایک چیز کو چننا تھا لہٰذا میں زیادہ دیر ان کے پاس نہ ٹھہر سکا۔  میں برآمدوں میں سے ٹہلتا ہوا کافی دور نکل گیا۔ ہوٹل کی تزئین و آرائش دیدہ زیب تھی۔ ایسے ماحول میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے ذہن کو فرحت بخش لگتے ہیں۔ اس سوال پر غور کرنے لگا جس نے سونے سے قبل سر اٹھایا تھا۔ ایک وقت تھا کہ رات دیر سے سونا میرا معمول ہوا کرتا تھا۔ رات کو سوچنے اور کچھ تحریر کرنے کا وقت مل جاتا۔ اس کے برعکس دن پر شور اور مصروف گزرتا۔ رات پر اسرار ہے اور اپنے اندر بے پناہ وسعت رکھتی ہے۔ ایک رات جب کتاب پڑھتے پڑھتے گھٹن سی محسوس ہوئی تو گلی میں نکل آیا۔ رات دھیرے دھیرے رخصت ہو رہی تھی۔ تارے ٹمٹمارہے تھے۔ میں چوک میں موجود دکان کے تھڑے پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے گرمی کے رخصت ہونے کا پتہ دے رہے تھے۔ اگلے روز چھٹی تھی اور رات میری ملکیت تھی۔ ایسے میں آزادی کا احساس نیند کو آنکھوں سے چرا لیا کرتا ہے۔

میری نگاہ موڑ پر بے وجہ جمی ہوئی تھی اور ذہن ناول کے کرداروں کے متعلق سوچ رہا تھا۔ اندھیرے میں سے ایک شخص نمودار ہوا۔ جس کے سر کے بال کافی حد تک جھڑ چکے تھے۔ آنکھوں پر چشمہ لگا ہوا تھا اور عینک کی کمانیوں سے کنپٹیوں پر سفید بال جھانک رہے تھے۔ میں انٹرمیڈیٹ کا طالب علم تھا۔ کورس کی کتابوں کے ساتھ ساتھ کوئی نہ کوئی ناول پڑھنے کا چسکا بھی لگ چکا تھا۔ اس نے رسمی سلام کیا اور میرے ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔

مجھے ایک دم دھچکا لگا۔ یہ میں ہی توتھا۔ تب میرے عینک نہیں لگی تھی۔ بدن بھی چھریرا تھا اور سر کے بال بھی پورے تھے مگر آئندہ ایسا ہی تو ہونا تھا۔ میرا وجود سن پڑ گیا۔ خوف نے اندر گھر کر لیا۔ زبان تالو سے جا لگی۔ جب کوئی شخص اپنے محبوب سے محبت کا اظہار کرے تو ایسی کیفیت ہو جایا کرتی ہے مگر یہاں محب بھی میں تھا اور محبوب بھی میں ہی تھا۔

اس نے گردن موڑ کر مسکرا کر میری جانب دیکھا اور اٹھ کر چلا گیا۔ میں شش و پنج میں مبتلا خوف کا مارا ہوا وہیں بیٹھا رہا۔ جب ہوش آیا تو اپنے آپ کو یہ کہہ کر تسلی دینے لگا کہ مجھے اونگھ آگئی تھی اگر وہ میں ہی تھا اور میں خود سے ملا تھا توکوئی بات کیوں نہ ہوئی۔ پھر کئی سوالات یکے بعد دیگرے ذہن میں آنے لگے۔ اب یہی خواہش مجھے سفر پر لے کر آئی تھی۔ جو باتیں مجھے پوچھنا تھیں جو راز مجھ پر منکشف ہونے تھے میری سست روی اور خوف کے باعث مجھ سے روٹھ گئے تھے۔ کیا قسمت دوسری بار بھی دروازے پر دستک دیا کرتی ہے؟ یعنی میں اس واقعے کے پندرہ بیس برس بعد سفر پر اپنی قسمت کو آزمانے نکلا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔

اگلی قسط اس لنک پہ پڑھیئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20