راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 3) —- یاسر رضا آصف

0

پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیئے۔

ایبٹ آباد کے خوب صورت شہر میں اُگتے ہوئے سورج نے ہمارا استقبال کیا۔ یہاں تک پہنچتے پہنچتے کئی مرتبہ اونگھ آئی اور آنکھ کھلی۔ ایبٹ آباد کی رنگینی نے سستی کو دور کردیا۔ پورا شہر ترتیب سے مزین تھا۔ ملٹری ادارے اور شاپنگ مالز اسے مزید دلکش بنا رہے تھے۔ یہاں بارش کے پانی نے ہمارا استقبال کیا۔ ٹریفک جام کے باعث ہمیں دو رویہ سڑک کی مخالف سمت میں سفر کرنا پڑا۔ یوں ہمارا سامنا ٹریفک پولیس سے ہوگیا۔ روٹ پرمٹ نہ ہونے کی وجہ سے چالان ہوگیا۔ روٹ ہمارے ذہنوں میں تھا اور پرمٹ کی ضرورت ہم نے محسوس ہی نہ کی تھی لیکن چودہ سو روپے ادا کرنے کے بعد یہ ادراک ہوا کہ سفر کے دوران سفری دستاویز کتنی ضروری ہیں۔ منزل انھیں ملتی ہے جو گھر سے نقشہ ساتھ لے کر چلتے ہیں۔

تھوڑی دیر بعد ہی وین مانسہرہ سے گزر رہی تھی۔ میں اردگرد کے نظاروں میں اس قدر کھو گیا تھا کہ مجھے وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔ آہستہ آہستہ گاڑی چکر کھاتی ہوئی نشیب میں اترنے لگی۔ بالا کوٹ سے چھ کلومیٹر پہلے جب کوٹ بھلہ آیا تو میرے ساتھ بیٹھے ہوئے اسلام کے ذہن پر ماضی کسی فلم کی طرح چلنے لگا۔ وہ سنجیدگی کے ساتھ ایک ایک بات بتا رہا تھا جیسے کوئی اہم واقعے کا ذکر کر رہا ہو۔ کسی کے لیے شاید اہم نہ ہو مگر اس کے لیے ہربات بہت اہم تھی۔ ایک ہی بات ایک ہی وقت میں کسی کے لیے اہم اور کسی کے لیے غیر اہم بھی ہو سکتی ہے۔ وہ ہر ہر لفظ آہستگی سے اور چبا چبا کر ادا کررہا تھا۔ وہ بتا رہا تھا کہ چند برس پہلے جب وہ چند دوستوں کے ساتھ اس علاقے میں آیا تھا تو کوٹ بھلہ کی خانقاہ میں کیسے رات گزاری تھی۔ ابودائود شاہ کی وساطت سے یہاں کے سجادہ نشین صاحبزادہ صداقت کے ہاں ٹھہرنا ہوا تھا۔ رات کا کھانا نہایت پر تکلف تھا۔ ہوا میں خنکی اور ٹھنڈک تھی۔ ہمارے بستر کمرے میں لگائے گئے مگر ہم لوگوں نے اصرار کیا کہ یہاں پہنچ کر بھی اگر چھت ہی دیکھنی ہے تو یہاں آنے کا مقصد کیا ہے۔

صاحبزادہ صاحب نے شفیق مسکان کے ساتھ ہماری بات کو سمجھا اور اہمیت دی۔ یوں ہم درگاہ سے ملحقہ مسجد کے صحن میں پہنچ گئے۔ وہ آستانہ تھا۔ اور پہلو میں وسیع و عریض جگہ پر محیط مسجد تھی۔ وہاں تارے بہت قریب تھے، واضح بھی تھے۔ کشادہ صحن میں اپنے اپنے بستروں پر لیٹے تارے گن رہے تھے۔ میں سوچنے لگا کہ اس رات اختر شماری کا سلسلہ کسی کے ہجر کے باعث ہرگز نہیں ہوگا بلکہ ستاروں کی چمک انھیں تکتے رہنے اور گننے پر مجبور کر رہی ہوگی۔ شہروں میں آسمان پر ستارے کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ شہروں کے لوگ فطر ت کی زبان اور بیان سے محروم ہوتے ہیں۔ وہ مشینی زندگی گزارتے چلے جاتے ہیں۔ بغیرکسی عذر اور بدلائو کے ترتیب کے ساتھ ایک جیسی زندگی؛ جب کہ آسمان پر ستاروں کی بے ترتیبی میں بھی ایک ترتیب پوشیدہ ہے۔ اسلام مزید بتانے لگا کہ گائوں سے کچھ فاصلے پر ہی دریائے کنہار تھا۔ صبح کی تازہ ہوا کے جھونکے، قدرتی مسواک اور ناشتے کا ذائقہ اس کی زبان اب تک نہیں بھول پائی تھی۔ اسلام بابر کی باتوں سے میں نے یہ جانا کہ کچھ یادیں انمٹ نقوش کی طرح ذہن کی تختی پر نقش ہوجاتی ہیں جنھیں چاہ کر بھی فراموش کرنا انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ میں بھی ایسی یادوں کا اسیر ہوں۔

میں نے چلتی وین کی کھڑکی سے جھانکا۔ قدرت کے حسین اور خوب صورت نظارے ہمارے اردگرد موجود تھے۔ جدھر نگاہ دوڑائیں پہاڑ سبز چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ کہیں اکا دکا مکان بھی دکھائی دے جاتے۔ سڑک سانپ کی طرح بل کھاتی، اوپر نیچے ہوتی ہمیں بالا کوٹ لے آئی۔ بازار سے گزر کر گاڑی کو دریا کے کنارے کھڑا کر دیا گیا۔ ہم لوگ پُل پر آگئے جہاں دریائے کنہار اپنی پوری قوت سے بہہ رہا تھابلکہ للکار رہا تھا۔ پانی کے بہائو کا شور اس قدر زیادہ تھا کہ ہمیں ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کرنا پڑتی۔

ہماری حالت دیکھنے کے قابل تھی۔ ساری رات کے سفر نے ہمیں شکلوں سے بھی مسافر بنا دیا تھا۔ تقریبًا دن دس بجے کا وقت تھا۔ موسم تھوڑ اگرم تھا۔ ابھی ٹھنڈک والا علاقہ شروع نہیں ہوا تھا۔ مانسہرہ کا موسم بالا کوٹ کی نسبت ٹھنڈا تھا۔ مانسہرہ اونچائی پر ہے جب کہ بالا کوٹ نشیب میں ہے اس لیے گرم ہے۔ ویسے میرے خیال میں نشیبی علاقہ ہونے کی وجہ سے اس کا نام ’’زیریں کوٹ‘‘ ہونا چاہیے۔

بالا کوٹ تک آتے آتے یوں لگتا ہے جیسے گاڑی موت کے کنویں میں چکر لگارہی ہو۔ کئی دوستوں کو چکر آنے لگے تو گاڑی میں قہقہوں اور ذومعنی جملوں کا سلسلہ چل نکلا۔ کوئی ان چکروں کو تقدیر کے چکر بتاتا رہا تو کوئی لوگوں کودیے گئے چکروں سے تشبیہہ دیتا رہا۔ یوں خوشگوار کیفیت پیدا ہوگئی۔

کچھ باتوں کو ہم فقط محسوس کرسکتے ہیں۔ حظ اٹھا سکتے ہیں۔ انھیں بیانیہ کیفیت میں لانا ممکن نہیں ہوتا۔ بالا کوٹ پہنچ کر میری کیفیت بھی بیانیے سے باہر تھی۔ میں اپنے آپ میں جیسے واپس آگیا تھا۔ خود سے شناسائی کا احساس ہونے لگا تھا۔ میں اپنے وجود سے قربت محسوس کررہا تھا۔ جیسے کسی بچے کو رونے پیٹنے کے بعد اچانک سے پسندیدہ کھلونا مل جائے۔ کچھ مل جانے کا احساس تھا۔

سمیر، عابد اور اسلام یہاں پہلے بھی کئی مرتبہ آ چکے تھے اس لیے وہ گائیڈ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ وہ بڑھ چڑھ کر مناظر کی دلکشی بیان کررہے تھے۔ انھوں نے گفتگو کے دوران کافی معلومات دیں۔ عابد کا انداز کسی فلاسفر کی طرح تھا۔ سمیر جذباتی ہورہا تھا اور اسلام اپنا روایتی سرگوشی کا انداز اپنائے ہوئے تھا۔ گفتگو کے دوران وہ دریا کی تاریخ بتانے کی بھی اپنی سی کوشش کرتے رہے۔ ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسے سننے والے سامعین دستیاب ہوں۔ پھر وہ اپنی معلومات کے مطابق دلچسپ سے دلچسپ انداز میں بات بتانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔ بیانیہ انداز یونانی تہذیب سے بھی پیشتر کا لگتا ہے چوں کہ اسی انداز نے ہی بعد میں لوک داستان کی بنیاد رکھی۔  جس ہوٹل پر ہم نے کھانا کھایا وہ دریا کے کنارے پر بنایا گیا تھا۔ دریا کی جانب جالی دار بڑ ی بڑی کھڑکیاں تھیں۔ وہاں بیٹھ کر بیک وقت گرم گرم کھانے، پانی کی ٹھنڈک اور دریا کے شور سے لطف اندوز ہوا جاسکتا تھا۔ کھانے سے فراغت کے بعد اسلام نے لائحہ عمل بتایا اور ہم لوگ سامان خریدنے بازارکی جانب چل پڑے۔ کچھ وہیں انتظار کرنے لگے اور کچھ ادھر ادھر بکھر گئے۔

بالا کوٹ میں عام اشیاء کے نرخ ہمارے علاقے سے ملتے جلتے ہیں لیکن جیسے جیسے بلندی کی جانب سفر کرتے جائیں قیمتیں بھی اسی تناسب سے بلند ہوتی چلی جاتی ہیں۔ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ ان قیمتوں کی بلندی کے سامنے پہاڑوں کی بلندی کم محسوس ہونے لگتی ہے۔ اگر اس مسئلے پر استفسار کیا جائے تو دشوار گزاری اور اشیاء کی مشکلوں سے رسائی قیمتوں کے بڑھنے کی وجہ بتائی جاتی ہے اس لیے ہم نے بالا کوٹ سے اشیاء خریدنا ہی مناسب خیال کیا۔

بالا کوٹ میں دو ہزار پانچ کے زلزلہ نے جب تباہی مچائی تو قیامت کا سماں تھا۔ پورے ملک میں جیسے ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی۔ جب زلزلہ آیا تو میں ایک نجی سکول میں بچوں کو پڑھا رہا تھا۔ سفید رنگ کا تختہ ایک بینچ پر دیوار کے ساتھ رکھا ہوا تھا۔ میں نے ریاضی کا ایک سوال حل کیا تھا اور بچے اسے اپنی کاپیوں اور کاغذوں پر نقل کرنے میں مصروف تھے۔ اس دوران ٹہل کر میں ان کا جائزہ لے رہا تھا کہ کون لکھ رہا ہے اور کون فارغ بیٹھا ہے۔ اچانک سفید تختہ ہلنے لگا۔ چھت کا پنکھا پنڈولم کی طرح حرکت میں آگیا۔ میں بچوں کو حوصلہ دینے لگا۔ ویسے ہوائیاں تو میری بھی اڑی ہوئیں تھیں۔ جب معاملہ مزید بگڑتا ہوا نظر آیا تو میں انھیں لے کرصحن میں آگیا۔ جہاں سبھی کلاسوں کے بچے پہلے سے موجود تھے۔ کچھ دیر بعد زلزلہ تھم گیا۔ بچوں کو چھٹی دے دی گئی۔ آدھے گھنٹے بعد جب میں گھر پہنچا تو ٹیلی ویژن پر خبر نشر ہورہی تھی۔ اسلام آباد میں ٹاور گر گیا تھا۔ ملبے میں دبی ہوئی لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری تھا لیکن کچھ گھنٹوں بعد بالا کوٹ کے تباہ ہونے کی خبر بھی آنے لگی۔ شام تک منہدم شہر کی تصاویر بھی دکھائی جانے لگیں۔ یوں چند لمحوں کا زلزلہ کئی سالوں سے موجود شہر کو نیست و نابود کرگیا۔

اگلے روز بھی سکول کو بند ہی رہنے دیا گیا کیوں کہ ابھی تک وقفے وقفے سے آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری تھا۔ لوگ خوف زدہ تھے اور احتیاط بھی ضروری تھی کئی راتوں تک گلیوں میں میلے کاسماں رہا۔ تمام لوگ چارپائیوں سمیت گلیوں میں سونے لگے۔ ٹیلی ویژن پر زلزلے کے دوران بچنے کی تراکیب اور خود کو محفوظ رکھنے کے طریقے بتائے جارہے تھے۔ مساجد میں زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے سامان اکٹھا ہونے لگا۔ میرے ذمے تمام سامان کی تفصیلات کو ایک کاپی پر اتارنا تھا۔ شام کو ہم لوگ ہر دروازے پر جاتے اور سامان وصول کرتے۔ کچھ لوگ نقد رقم بھی دے دیتے۔ میں اسے کاپی پر لکھتا چلا جاتا۔ ہمارے محلے کی مسجد سے دو ٹرک امدادی سامان کے متاثرہ علاقوں میں بھیجے گئے۔ میری شدید خواہش تھی کہ میں بھی ان ٹرکوں کے ساتھ بالا کوٹ جائوں مگر والدہ کی ڈانٹ ڈپٹ نے بھڑکتے ہوئے جذبے کو سرد کر دیا اور میری خواہش حسرت میں بدل گئی۔

جاری ہے۔۔۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20