راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 1) —- یاسر رضا آصف

0

میں بستر پر اوندھے منہ لیٹا ہوا تھا۔ پنکھا دھیمی رفتار سے چل رہا تھا اور موبائل مسلسل ایک ہی راگ الاپ رہا تھا۔ ’’کی جاناں میں کون بلھیا کی جاناں میں کون‘‘۔ جولائی کی ستائیس تاریخ تھی اور زمین کے اس خطے کے باسیوں کو حبس کی عادت سی ہونے لگی تھی۔ ایک مکھی نہ جانے کہاں سے اس موسم میں آکر مجھے مسلسل تنگ کر رہی تھی۔ کئی مرتبہ اسے اڑانے کی کوشش کی مگر وہ پھر چہرے اور کانوں پر آکر بیٹھ جاتی۔ ہلکی سی اونگھ آتی اور پھر مکھی بھنبھنانے لگتی۔ دوپہر کے وقت ایسی اذیت کیسے برداشت کی جاسکتی تھی۔

مسلسل بجتی ہوئی موبائل کی دُھن نے بھی مجھے پریشان کیا ہوا تھا۔ دراصل میں مکھی اور دھن دونوں کو نظر انداز کررہا تھا۔ میری سرشت میں ایسا ہے کہ میں پہلے نظر انداز کرتا ہوں پھر حتمی فیصلہ لیتا ہوں۔ میں بار بار موبائل کی بجتی دھن سے تنگ آگیا۔ کال سنی دوسری جانب سے آنے والی آواز سے آنکھیں کھل گئیں۔ یہ سمیر تھا اور سخت خفا ہورہا تھا۔ مجھے سست اور نیم مردہ کہہ رہا تھا۔ مجھے کوفت اور سستی نہیں دکھانی چاہیے چوں کہ آج شام ہمیں سفر کے لیے روانہ ہونا ہے ایسی بہت سی باتیں وہ کہے جارہا تھا۔ وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ میرا بیگ ابھی تک نہیں آیا تھا۔ سمیر کے جوتے بھی لینے تھے۔ وہ موٹر سائیکل پر دھوپ میں کھڑا ہوا مجھے کوس رہا تھا۔ اس کا یہ رویہ عین فطری تھا۔ میں چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے پہنچ گیا۔

مسکراہٹ بھی جادوئی اثر رکھتی ہے۔ آپ مریض کو مسکرا کر دیکھیں اس کی آدھی بیماری جاتی رہے گی شرط یہ ہے کہ آپ نے دانت برش کیے ہوں۔ ’’میں سمجھا آپ فوت ہوگئے ہیں‘‘ اس نے دیکھتے ہی جملہ کسا اور ساتھ قہقہہ لگایا۔ ’’کسی کی وفات پر ہنستے نہیں لوگ پاگل کہیں گے‘‘ میں نے جیسے مشورہ دیا۔ یہ ہمارا سلام دعا کا انداز تھا جب سلام دعا ہو چکی تو ہم بازار کی جانب روانہ ہوئے۔ تھوڑی دیر بعد ہم بازار میں بھائو تائو کر رہے تھے۔ سمیر کو بحث کرنی آتی ہے۔ وہ دکان دار کو اپنے مطلوبہ ہدف تک لے آتا ہے لیکن میرا مزاج اس سے قدرے مختلف ہے۔ مجھے بحث پسند نہیں، تکرار سے جان جاتی ہے۔ مجھ سے کوئی جتنے پیسے مانگے چپ چاپ دے کر چلا آتا ہوں۔ دوست اکثر مجھے اس بات پر کوستے ہیں۔ کئی ہمدردی کرتے ہیں۔ کئی مشورے بھی دیتے ہیں لیکن ہمیشہ نتیجہ صفر ہی نکلاہے۔ سفری بیگ تلاش کرتے کرتے ہمیں گھنٹہ سوا گھنٹہ گزر گیا۔ ہم دونوں نے لندن بازار جانے کا فیصلہ کیا۔

پاک پتن میں جمعہ کے روز ریلوے کی زمین پر ایک بازار لگتا ہے جسے لنڈا بازار کہاجاتا ہے۔ ایک دورتھا جب ٹیلی ویژن پر اس نام سے ڈرامہ بھی نشر ہوتا تھا۔ جو سڑک ریلوے اسٹیشن کی جانب جاتی ہے اس کے دونوں طرف عارضی سٹال اور ٹھیلے لگے ہوتے ہیں ہم اسے لندن بازار کہتے ہیں۔ اس کا سیاق یہ ہے کہ ہمارا ایک دوست سردیوں میں نت نئے سوئیٹر اور جرسیاں پہن کر آ جاتا۔ ہم جب بھی اس سے پوچھتے ، لندن والے انکل کا حوالہ دیتا۔ ہم سب فوراً مرعوب ہو جاتے۔ برصغیر کے لوگ ویسے بھی گوروں کی چمڑی سے لے کر بوٹوں کے چمڑے تک شروع دن سے مرعوب رہے ہیں۔ ایک دن لنڈے بازار سے جرسی خریدتے ایک دوست نے اسے دیکھ لیا۔ اس نے ہمیں تمام واقعے سے آگاہ کیا۔ اس دن سے ہم تمام دوست با آواز بلند اسے لندن بازار کہنے لگے۔

میں شام سات بجے سے پہلے ہی بیگ سمیت اڈے پر موجود تھا۔ ایک دم سے میرے ذہن میں خیال آیا ’’یہ جو کچھ ہم پر بیتے گا کیوں نہ اسے محفوظ کیا جائے‘‘۔ جمعہ کے روز زیادہ تر دکانیں بند ہوتی ہیں۔ میں نے اس کا ذکر عابد اور سمیر سے کیا۔ عابد لمبا اور جاذب صورت نوجوان ہے۔ سمیر نے اس سے بات کرنی ہو تو منھ اوپر کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اگر بات طویل ہو توگردن کے اکڑ جانے کا اندیشہ بہر حال موجود رہتا ہے۔ دونوں نے حوصلہ افزائی کی اور ہم تینوں ڈائری تلاش کرنے نکل پڑے۔ ایک مختصر سی کتابوں کی دکان دکھائی دی۔ جو کسی کینٹینر سے مشابہ تھی۔ کائونٹر سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہو جاتی تھی۔ بالکل سو لفظی کہانی کی طرح؛ ہم تینوں دکان میں داخل ہوگئے تو دکان جیسے بھری بھری لگنے لگی۔ یہ چھوٹے بچوں کے لیے سٹیشنری کی دکان تھی۔ کتاب سے ہماری قوم کا رشتہ محض نصاب تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ نصاب کے علاوہ کتاب پڑھنے کو جرم سمجھا جاتا ہے۔ اس حساب سے تو میں پکا مجرم ہوں۔ ہم نے چند کاغذ خریدے۔ انھیں آدھا آدھا تقسیم کرکے ایک دستی ڈائری تیار کی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب سفر سے واپسی پر گھر آکر سامان کھولا تو وہ ڈائری نما شئے کوری کی کوری تھی۔ حرام ہے جو اس پر کوئی لفظ بھی لکھا ہو۔

ہم تینوں بتائے بغیر گئے تھے۔ اڈے پر پہنچے تو کئی لوگ فکر مند تھے۔ ان کے چہروں پر انتظار کی چھاپ تھی۔ یوں دیر سے آنے پر ہم توجہ کا مرکز بن گئے۔ ہمارے پاکستان میں لوگ شاید اسی لیے ہر تقریب میں دیر سے اور آخر میں پہنچتے ہیںچوں کہ انسان معمول کی باتیں یاد نہیں رکھتا۔ کچھ انوکھا ہی اس کی یادداشت کا حصہ بنتا ہے۔ ان میں سے کئی شناسا تھے کئی اجنبی مگر ان کے چہروں پر تمازت اور آنکھوں میں چمک انھیںہم سے شناسا کررہی تھی۔ بالآخر مجھے اسلام کچھ لڑکوں کے ساتھ گفتگو کرتا دکھائی دیا۔ اسلام سے میری شناسائی کافی پرانی ہے۔

آج سے پندرہ سولہ برس پیچھے پلٹ کر دیکھوں تو اس کی داڑھی سیاہ تھی اب تو داڑھی میں چاندی کی تاریں واضح چمکتی ہیں۔ میں نے فریدیہ کالج سے کمپیوٹر ہارڈویئر کا ڈپلومہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ دراصل کمپیوٹر سے محبت کم اور ان پانچ سو روپوں سے عشق زیادہ تھا جو ہرماہ ہمیں ملا کرتے تھے۔ ڈپلومہ مکمل ہوا تو ایک الوداعی پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ہم چار دوستوں نے مختصر ڈرامہ پیش کیا۔ مجھے نشئی کا کردار نبھانا تھا۔ چوں کہ ایسے کردار کے لیے کوئی تیار نہیں تھا اور اداکاری کا مارجن بھی زیادہ تھا۔ میں نے ہامی بھرلی۔ مجھے اپنی خوراک کم کرنی پڑی۔ شیو کو بڑھانا پڑا۔ یوں کردار حقیقت کے قریب ہوگیا۔ اسلام بھی کمپیوٹر ہارڈویئر سے تعلق رکھتا تھا۔ دوسرے شعبوں کے لڑکے بھی اس میں شامل تھے۔ اسلام نے خوب داد دی اور حوصلہ افزائی کی۔ یوں اس سے ایک تعلق سا بن گیا۔

اسلام نے چوں کہ یہ سفر ترتیب دیا تھا۔ لہٰذا ہم نے سبھی بیگ اس کے کہنے پر گاڑی کی چھت پر باندھ دیے۔ دراصل ہماری ہائی روف گاڑی لاہور میں نیازی اڈے پر کھڑی تھی۔ وہاں تک جیسے تیسے پہنچنا ہی ہمارا مقصد تھا۔ موسم بہت خوشگوار تھا۔ ٹھنڈی ہوائیں بارش کی خبر لے کر آرہی تھیں۔ میں کھڑکی کی ساتھ والی نشست پر بیٹھ گیا۔ اچانک موسلادھار بارش ہونے لگی۔ بارش کی بوندیں کھڑکی کے شیشے پر نقش و نگار تخلیق کرنے میں مصروف تھیں اور میں ان بوندوں کی دھاروں کو پکڑتا ہوا ماضی میں جا پہنچا تھا۔

میں بی۔ اے کا پیپر دے کر واپس آرہا تھاکہ موسلا دھار بارش نے آلیا۔ بارش تھی کہ تھمنے کا نام نہ لیتی تھی۔ پنجابی کے پیپرمیں لکھنا بھی بہت پڑتا ہے۔ میرا ہاتھ سُن ہوچکا تھا۔ ہاتھ کوبار بار جھٹکتا ہوا بوسیدہ دروازے کی شیڈ کے نیچے جا کھڑا ہوا۔ کل کی بات ہے ایک لڑکا پنجابی کا پیپر دے کر آیا تو میں نے پوچھا ’’کیسا ہوا جناب؟‘‘ کہنے لگاکہ بہت اعلیٰ ہوا ہے۔ ’’غزل دی ٹور‘‘ پر مضمون آیا۔ میں نے بابا فرید ؒ ، سلطان باہوؒ اور بلھے شاہ ؒ کے اشعار چن چن کر لکھے ہیں۔ وہ اپنے دوستوں میں موجود تھا۔ اس کی آنکھوں میں خوشی کی چمک تھی۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ ماند پڑجائے۔ اسے اشلوک، ابیات اور کافی کا فرق معلوم نہیں تھا۔ میں نے ٹوکا نہیں۔ میں نے معاملہ کسی اور دن پر اٹھا رکھا۔

اس روز موسلا دھار بارش ہورہی تھی اور بارش کے قطرے مل کر گلی میں سیلابی ریلے کی شکل میں بہہ رہے تھے۔ میں مکمل بھیگ چکا تھا اور بارش کے رکنے کا انتظار کر رہا تھا۔ سامنے پرانی طرز کا مکان تھا۔ دروازے پر بالکونی تھی۔ میںکپڑوں کو نچوڑ رہا تھا تو قہقہوں کی آواز سنائی دی۔ یہ قہقہے سماعت پر گراں نہیں گزر رہے تھے بلکہ برستی بارش میں جلترنگ کی طرح تھے۔ میں نے اوپر دیکھا۔ بالکونی پر تین لڑکیاں میری طرف ہاتھ کر کے ہنس رہی تھیں۔ عینک کے شیشوں پر پانی کے باعث دھند چھائی ہوئی تھی۔ میں نے عینک اتاری، اسے صاف کیا، چہرے پر ہاتھ پھیرا۔ پانی کے قطرے نیچے بہتے ہوئے پانی میں شامل ہوگئے۔ عینک لگا کر جب دوبارہ دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ دروازے پر تالہ پڑا تھا۔ پرانی طرز کے مکان کی چھوٹی اینٹیں دیواروں سے جھانک رہی تھیں۔ گلی سنسان تھی۔ ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ دل کے دھک دھک کی آواز مجھے صاف سنائی دے رہی تھی۔ میرے جسم نے جھرجھری لی اور میں پانی میں شپڑ شپڑ کرتا ہوا گلی سے نکل آیا۔ دل بھی پانی پر تیر رہا تھا بلکہ ہچکولے کھارہا تھا۔ قہقہوں کی آوازیں مسلسل میرے تعاقب میں تھیں۔

گاڑی کی اچانک بریک لگی اور میں بھیگی دنیا سے واپس اپنی سیٹ پر آگیا۔ وین کے اچانک رکنے سے ہم تمام لوگ ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے۔ تب اسلام نے انکشاف کیا ’’بیگ چھت پر بندھے ہیں ، سامان بھیگ جائے گا۔ یہاں بارش رکی ہوئی ہے، انھیںوین میں رکھ دیں تاکہ محفوظ رہیں‘‘۔ تمام لوگ وین سے اتر آئے۔ بورڈ پر ’’شہباز ہوٹل‘‘ لکھا ہوا تھا۔ جب تمام بیگ وین میں رکھ دیے گئے تو اسلام نے انکشاف کیا کہ اس کا بیگ گم ہوگیا ہے۔ بیگ کی تلاش شروع ہوئی۔ ہر کوئی خود کو خفیہ پولیس کا اہلکار تصور کررہا تھا۔ کچھ کا خیال تھا کہ بیگ پاک پتن کے اسٹینڈ پر رہ گیا ہے۔ کچھ کے مطابق راستے میں گر گیا ہے۔

ہر بندہ حسبِ توفیق مشورے دینے لگا۔ کوئی کہتا کہ آپ وین لے کر واپس چلے جائیں۔ ہم یہیں انتظار کرتے ہیں۔ کسی کا خیال تھا کہ اسلام اکیلا جائے اور بیگ لے کر لاہور آجائے۔ اب تویہ عمل ہماری ثقافت کا حصہ بن چکا ہے۔ کوئی بیمار ہوجائے۔ ڈاکٹر سے زیادہ اردگرد کے لوگ اپنے اپنے نسخے لے کر حاضر ہوجاتے ہیں۔ کسی نے کوئی شئے خریدنی ہو ہربندے کے اندر کا کاروباری شخص جاگ اٹھتا ہے۔ آپ سے کوئی چیز گم ہوجائے۔ نصیحتوں اور مشوروں کی بوچھاڑ شروع ہوجاتی ہے۔ کسی موضوع پر گفتگو ہو ہر انسان کے اندر کا فلاسفر جاگ اٹھتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہماری قوم باتیں بنانے میں سب سے آگے ہے مگر کام کے معاملے بہت پیچھے ہے۔ اس وقت بھی تمام لوگ سی۔ آئی۔ ڈی ٹیم کا حصہ بنے ہوئے تھے۔

بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ اسلام کو دراصل اپنے بیگ کی پہچان نہیں تھی۔ جب آپ کسی شئے کی پہچان نہ رکھتے ہوں اور آپ کو اس کی ہیئت کا علم تک نہ ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ اسے تلاش کرسکیں۔ پہلے آپ کو کچھ نشانیاں اور رنگ یاد کرنے ہوں گے۔ اس شئے کا خاکہ خواہ وہ مبہم سا ہی کیوں نہ ہوذہن میں لانا ہوگا۔ پھر آپ اسے تلاش کرسکتے ہیں۔ یہی کچھ اسلام کے ساتھ ہوا کہ وہ ذہن میں اپنے بیگ کا خاکہ تک نہ بنا سکا۔ پہچانتا کیسے؟ باقی تمام نے اپنے اپنے بیگ الگ کیے۔ جو بچ گیا وہ اسلام کا بیگ تھا۔ سیدھا سا حساب تھا لیکن ہمیں اس سیدھے حساب تک پہنچنے میں کافی وقت لگ گیا۔ بعض اوقات سامنے پڑی سیدھی بات بھی سمجھ نہیں آتی۔

اس معمے کو حل کرنے کے بعد ہم لوگ لان میں جا بیٹھے۔ چائے کا آرڈر دیا اور باقاعدہ تعارف کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہر شخص باری باری اپنے بارے میں بتانے لگا۔ ’’میں ایک استاد ہوں‘‘ اسلام نے کہا ہی تھا کہ میں نے جملہ اچک لیا ’’جی ہاں آپ بڑے استاد ہیں‘‘ سبھی کے چہروں پر مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔ اگر آپ اپنی بات کے ذریعے اردگرد موجود چہروں پر مسکراہٹ بکھیر سکیں۔ اس سے بڑھ کر اطمینان بخش عمل شاید ہی کوئی ہو۔ ’’آپ بات جاری رکھیں‘‘ شبیر نے اسلام کو ٹہوکا لگایا۔ بھرپور مسکان کے ساتھ دوبارہ بات شروع ہوئی ’’میں بڑا استاد ہوں‘‘ سبھی مسکرائے ’’اس سفر کی ساری ذمہ داری مجھ ناتواں کے کاندھوں پر ہوگی مگرآپ تمام دوستوں کاتعاون رہا تو امید ہے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا‘‘ ان کے پہلو میں بیٹھے عابد نے سگریٹ کا لمبا کش لیا اور فخر کے بازو پر ہاتھ رکھ کر بولا ’’ہمیں آپ کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن ہم اپنی گارنٹی نہیں دے سکتے‘‘۔ سبھی لوگ پھر سے مسکرانے لگے۔

معصوم سا لڑکا بڑے سے تھال پر چائے کی پیالیاں سجائے لان میں داخل ہوا۔ سگریٹوں کا دور، چائے کی خوشبو اور دوستوں کی باتیں زندگی کی تلخی کو کم کرنے میں اہم ثابت ہوتی ہیں لیکن کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی کا جی لوگوں کے درمیان گھبرانا شروع کردیتاہے۔ وہ انسانوں سے کترانے لگتا ہے۔ بالکل چھوئی موئی کے پھول کی مانند کسی کو قریب آنے کا موقع تک نہیں دیتا۔ تب تنہائی اور کتاب سے رشتہ استوار ہوتا ہے انسان اپنے من کی سیڑھیاں اترتا چلا جاتا ہے۔ اندر کی دنیابسا لیتاہے۔ پھر مسئلہ بنتا ہے۔ اکثر محفل میں بیٹھا اپنی خیالی دنیا میںگم ہو جاتا ہے۔ یوں معاشرے اور معاشرت سے رشتہ ٹوٹنے لگتاہے۔

میں کہیں اور پہنچ چکا تھا۔ معصوم لڑکے کو دیکھ کر مجھے ایک دکان پر کام کرنے والا لڑکا یاد آگیا۔ طالب علمی کے زمانے میں ہم تین دوستوں کی عادت تھی کہ ہم شام کو اسٹیشن پر جا بیٹھتے۔ وہاں کی ویرانی میں ادھر ادھر کی باتیں کرتے کرتے وقت بتا دیتے۔ بجلی چوک میں بٹ پان شاپ سے پان لگواتے اور پان چباتے ایک دوسرے کو چھیڑتے ہوئے پیدل ہی ریلوے اسٹیشن پر جا پہنچتے۔ بجلی چوک سے ریلوے اسٹیشن کا فاصلہ اتنا زیادہ نہیں ہے۔ اگر ہمراہ کچھ دوست ہوں تو یہ اور بھی کم ہو جاتا ہے۔ یہ دوستانہ تیسر خرم، فیاض اور مجھ پرمشتمل تھی۔ فیاض بھاری بھر کم وجود رکھنے والا باڈی بلڈنگ کا شوقین لڑکا تھا۔ اپنے جسم کو سڈول اور نمایاں بنانے کے لیے وہ طرح طرح کی ادویات استعمال کرتا۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتا رہتا۔ خوراک کا پورا خیال رکھتا اور شام کو روز پان ضرور کھاتا۔ پان کھانے کا تعلق تن سازی سے تھا یا نہیں کچھ کہنا مشکل ہے۔ خرم میرا قریبی دوست ہے اور اسے اُن دنوں تن سازی کا شوق چڑھا ہوا تھا۔ اس لیے فیاض کے ساتھ پھرتا تھا۔ یہ شوق اسے قریباً ایک سال تک رہا۔

ایک روز ہم تینوں معمول کی چہل قدمی سے واپس آرہے تھے کہ شیخ جی فوڈ پوائنٹ پر قسم قسم کے پلاسٹک کے ٹنگے ہوئے پھلوں کو دیکھ کر جوس کے لیے دل مچل گیا۔ ہم نے حساب لگایا تو مجموعی طور پر ہمارے پاس اتنی رقم تھی کہ جوس پیا جا سکتا تھا۔ ایسا سمجھ لیں یہ ہماری عیاشی تھی۔ ہم باہر سڑک کی فٹ پاتھ پر رکھی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ جب لڑکا آرڈر لینے کے لیے آیا تو ہم اسے دیکھتے ہی رہ گئے۔ اس کی عمر بمشکل آٹھ یا دس برس تھی۔ آنکھوں پر موٹا چشمہ تھا ، کندھوں کی ہڈیاں نمایاں تھیں، رنگت میں پیلاہٹ تھی اور واجبی سا قد تھا۔

ہمیں اس پر ترس آنے لگا۔ دکان پر کام کرنے کی وجہ پوچھی تواس کا چہرہ اتر گیا۔ اس نے ہمیں بتایا کہ اس کے والد فوت ہو چکے ہیں۔ سکول سے چھٹی کے بعد کپڑے بدل کر یہاں آجاتا ہے۔ اسے شام چار بجے سے لے کر رات گیارہ بجے تک کام کرنا پڑتا ہے۔ اسے دوہزار ماہانہ معاوضہ ملتا ہے۔ جس سے بجلی کا بل اور سکول کی فیس وغیرہ ادا ہوتی ہے۔ اس کی والدہ گھروں میں کام کرتی ہے اور رات کا کھانا وہ گیارہ بجے گھر جا کر کھاتا ہے حالاں کہ وہ ایک فوڈ پوائنٹ پر کام کرتا تھا مگر وہاں سے اسے کھانے کے لیے کچھ نہیں ملتا تھا۔ سوائے ڈانٹ اور بے عزتی کے اور کچھ بھی نہیں۔ زندگی میں آپ کا سامنا کچھ ایسے جیتے جاگتے کرداروں سے بھی ہوتا ہے جن کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ چائے لے کر آتے لڑکے کو دیکھ کر نہ جانے کیسے کئی سالوں پہلے کا ایک کردار میرے سامنے آگیا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔

اگلی قسط اس لنک پہ پڑھیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20