اور یوں تعلیمی ادارے کھل گئے — اے وسیم خٹک

0

کورونا لاک ڈاؤن میں اساتذہ کے حوالے سے ایک ٹک ٹاک ویڈیو بہت زیادہ مشہور ہوگئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ یہ وہ واحد ادارہ ہے جس میں اساتذہ نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ ہمارے سکول کب کھل رہے ہیں۔ اسی طرح ایک بچے کی ویڈیو ہر کسی کے وٹس اپ سٹیٹس کی زینت بنی تھی جس میں دعا مانگی جارہی ہے اور آخر میں سکول کھولنے کی بات کی جاتی ہے تو بچہ رونے لگتا ہے۔ خیر جو بھی ہوا۔ حکومت نے آخر کار تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کرلیا۔ اور یوں آج سے تمام تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوگئیں ہیں۔ اساتذہ اور بچے سکول پہنچ گئے ہیں۔ یہ وہ واحد خبر ہوا کرتی تھی کہ عوام اس کے لئے انتظار میں ہوتے تھے کہ کب سکول، کالجز، یونیورسٹیاں کھلیں گی۔ اس میں کچھ لوگوں کا موقف تھا کہ جب تک کورونا کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہوجاتا وہ اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجیں گے جبکہ کچھ والدین کہہ رہے تھے کہ بچوں نے گھر میں اُن کا جینا حرام کردیا ہے اور جو انہوں نے پڑھا تھا وہ بھی بھول گئے ہیں، کیوں کہ گھر میں شرارتوں، ویڈیو گیمز، ٹی وی اور ان ڈور گیمز کے علاوہ وہ کچھ بھی نہیں کررہے تھے۔ ٹیوشن پڑھنے جانا، دینی سبق جانا بھی موقوف ہوگیا تھا۔ اور خود جب پڑھانے بیٹھتے تو کہتے کہ آپ صحیح نہیں پڑھاتے مس ہمیں ٹھیک پڑھاتی، میرے ساتھ خود یہ ہوا ہے، بچوں کو پڑھانا شروع کیا تو ایک دن بیٹے ضیاف نے کہا کہ میں آپ کی بات بالکل بھی نہیں پک کر رہا، اور ضوباش نے بھی ہاں میں ہاں ملائی کہ آپ یونیورسٹی والوں کو پڑھا سکتے ہو۔ ہمیں نہیں پڑھاسکتے ہمیں مس بہت اچھا پڑھاتی ہے۔ سو پھر چارونا چار ہم نے انہیں پڑھانا بند کردیا اور انہیں انکی مس کی منت سماجت کرتے ہوئے راضی کیا کہ بچے ہیں سب بھول چکے ہیں اس لئے آپ ہی آخری امید ہو۔ یہ سب صرف میرے ساتھ نہیں ہوا بلکہ سب کے ساتھ یہی مسئلہ تھا۔ اب جوں توں کرکے یونیورسٹیاں، تعلیمی ادارے کھل گئے۔ اب یہ بعد کی باتیں ہیں کہ بچوں کا یہ دن کیسا رہا کیونکہ وہ چھ مہینوں سے گھر میں تھے۔ میں نے سویرے گھر کال کی تو چھ مہینے پہلے کی صورت حال تھی۔ یعنی حالات پہلے کی جانب رواں دواں ہوگئے ہیں۔

تعلیمی ادارے کے کھلنے کے لئے کل پورا دن ساری تعلیمی اداروں کے نوٹیفیکیشن سوشل میڈیا کی زینت بنے جس میں ہر تعلیمی ادارے کے انتظامیہ نے گلکاریاں کی تھیں شاید تعلیمی اداروں کے انتظامی امور والے اس نوٹیفیکشن کے لئے مہینوں انتظار میں تھے کہ ہم کس قسم کا نوٹیفیکشن میدان میں لائیں گے جو کہ دیگر اداروں سے انہیں ممتاز حیثیت دے۔ میرے پاس قریبا پندرہ بیس تعلیمی ادارواں کے نوٹیفیکیشن سامنے آئے جس میں خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک کا ایک کمپری ہینسو دو صفحات پر مشتمل نوٹیفیکیشن تھا جس میں ہر چیز کے بارے میں تفصیل لکھی گئی تھی۔ ان سب نوٹیفیکیشن کی ایک خاص بات یہ تھی کہ ہائیر ایجوکیشن کے جانب سے دیئے گئے ایس اوپیز کو فالو کیا گیا تھا۔ اور ہر شق میں ماسک، سینیٹائزر، سوشل ڈسٹنس کی بات کی گئی تھی۔ اب ان سب پر عمل کیا جائے گا کہ نہیں یہ ایک علیحدہ سوال ہے۔ اور اس پر کافی ڈی بیٹ ہوسکتی ہے۔ کچھ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو کووڈ 19کے ٹیسٹ کرائے گئے۔ خوش قسمتی سے سب ابھی تک کوئی بھی مثبت کیس سامنے نہیں آیا۔ ہمیں بھی اس ٹیسٹ سے کچھ دن پہلے گزارا گیا۔ حالانکہ ہم اس ٹیسٹ سے بہت ڈر رہے تھے۔ مگر ضروری تھا اس لئےمشکل مرحلے سے گزرنا پڑا۔

اب تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں تو کیا وہ سارے انتظامات جو حکومت کہہ رہی ہے وہ تعلیمی اداروں میں پورے کرددیئے گئے ہیں۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیونکہ کچھ دن پہلے سکولوں کے حوالے سے تمام سربراہاں کو کہا گیا کہ وہ حکومتی احکامات کو پورا کرنے کے لئے سکول کا فنڈ استعمال کریں، اور جن سکولوں میں فنڈ نہیں ہیں وہ اساتذہ اپنے جیبوں سے وہ انتظامات کرلیں۔ بچوں کو روزانہ ایک گھنٹہ کووڈ پر لیکچر دیں، انہیں پانی کی سہولت دیں۔ صابن رکھیں، ماسک رکھیں، جو کہ میرے خیال کے مطابق ایک ناممکن عمل ہے کیونکہ تمام سرکاری سکولوں میں یہ انتظامات نہیں ہوسکتے۔ بند ائیر کنڈیشن کمروں میں پالیسیاں بنتی ہیں جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی میل نہیں ہوتا۔ سرکاری سکولوں میں انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ یونیورسٹیوں کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے ایک کروڑ روپے اس بابت دیئے ہیں کہ وہ کووڈ19 کے حوالے سے انتظامات کریں۔ جس میں آن لائن کلاسز، سینٹیائزر، ہاتھ دھونے کے پوائنٹس، ہر کلاس روم کے سامنے ماسک رکھنے سمیت سب کو انٹرنیٹ کی فراہمی جس میں اساتذہ اور طلباءبھی شامل ہیں۔ یہ سب لازم قرار دیا گیا ہے۔ اب یونیورسٹی انتطامیہ نے ان پیسوں کو کس طرح یوٹیلائز کرنا ہے اس کے لئے کمیٹیاں بنائی گئیں ہیں جو ان سارے عوامل کو دیکھے گی اور تب یونیورسٹیاں کھلیں گی۔ جب تک یہ سارے عوامل پورے نہیں ہوتے یونیورسٹی ایجوکیشن کے لئے نہیں کھولی جائے گی۔ مگر مجھے نہیں لگتا کہ ہر یونیورسٹی انتظامیہ نے ان پیسوں کو اس مقصد کے لئے ابھی تک استعمال کیا ہے۔

کورونا ٹیسٹ تو یونیورسٹیوں میں ہوگئے ہیں۔ فیکلٹی کے لئے یونیورسٹیاں کھل بھی گئی ہیں، مگر ملک بھر کی تعلیمی اداروں میں وہ capacity نہیں کہ تمام حکومتی ایس او پیز کو فالو کیا جاسکے، یونیورسٹیوں کی اگر بات کریں تو طلبہ یونیورسٹی میں تو تمام ایس او پیز فالو کرلیں گے مگر یونیورسٹی کے باہر وہ کوئی بھی ایس او پیز فالو نہیں کرتے، نہ ہی اساتذہ ایس اور پیز کو باہر فالو کریں گے کیونکہ انہیں وہ ماحول باہر نہیں ملتا۔ تو اس سے میرے خیال میں کوئی فائدہ سامنے نہیں آنے والا۔ دوسری جانب دو سمسٹروں والے طلبہ کو یونیورسٹیوں میں داخلے کی اجازت ہوگی باقی آن لائن کلاسز لیں گے۔ جس کے لئے بھی میکنزم بن رہا ہے۔ کہ کس طرح اس کو آگے لے کر جاناہے۔ فرسٹ سمسٹر اور آخری سمسٹر، ایم فل، پی ایچ ڈی والوں سے بیان حلفی لی جارہی ہے کہ وہ مکمل طور پر ٹھیک ہیں۔ مگر اس کے برعکس باقی سمسٹر کے طالب علم پریشانی کا شکار ہیں وہ چاہتے ہیں کہ انہیں بھی یونیورسٹی بلایا جائے وہ گھر میں بور ہوگئے ہیں اور انہیں آن لائن کلاسز کی سمجھ نہیں آتی ایک سمسٹر تو جوں توں کرکے گزر گیا مگر اب مزید وہ آن لائن نہیں پڑھنا چاہتے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20