اسٹریٹ سمارٹ: حسین حقانی کے روز و شب اور قوی و ضعیف لمحات

0
  • 1
    Share

پا کستانی سیاست کے ایک پراسرار کردار حسین حقانی کے روز و شب اور قوی و ضعیف لمحات کا احوال،فاروق عادل کے قلم سے

حسین حقانی نے مجھے دیکھا تو اسٹیج سے نیچے اْتر آئے، گلے ملے، اور کان میں کہا:
’’تم نے آ کر اچھا کیا‘‘
یہ اْن دنوں کی بات ہے جب حسین حقانی مختلف تجربات کے بعد واپس کراچی پہنچ چکے تھے، الطاف حسین کی جگہ لینے کے لیے بے تاب تھے اور وقت گزاری کے لیے کالم لکھا کرتے تھے۔ اکیسویں صدی کا سورج طلوع ہوا تو اس ذہین آدمی نے پندرہ بیس کالم جمع کر کے ایک کتاب شائع کر دی،’’بیسویں صدی میں اْلٹے پائوں‘‘۔ یہ واقعہ اِسی کتاب کی تقریب اجراء کے موقع پر پیش آیا تھا جس میں شریک ہو نے والے صحافیوں کا وہ بڑی گرم جوشی سے خیرمقدم کر رہے تھے۔ حسین حقانی نے جب سرگوشی کے انداز میں میری آمد کا شکریہ ادا کیا، اتفاق سے اْن کا دایاں گال میرے گال سے مَس ہوا اور میں نے اس لمس میں محبت کی گرمی محسوس کی، اْس روز اس شخص سے مل کر دل خوش ہوا۔ اس گرم جوش معانقے نے میرے دل سے اْس بات کا اثر تو بالکل ہی زائل کر دیا جو میں نے کبھی اسلام آباد میں سْنی تھی۔
اس واقعے کے راوی ارشدعاکف ہیں جو شادی سے قبل کسی کے ہاں پے انگ گیسٹ کے طور پرمقیم تھے۔ حسین حقانی ایک روز اُن کے لینڈ لارڈ سے ملنے آئے اور انہیں کچھ رقم پیش کی۔ اْن صاحب نے حیران ہو کر پوچھا:
’’یہ کس خوشی میں جناب؟‘‘
ایک دکھی قسم کی مسکراہٹ حسین حقانی کے چہرے پر نمودار ہوئی، وہ کہنے لگے کہ ماہ وار اعانت کی مد میں۔ اْن صاحب نے رقم واپس کرتے ہوئے کہا:
’’وہ رشتہ تو آپ مسلم لیگ سے پیپلز پارٹی تک کے سفر کے دوران کبھی کا ختم کر چکے‘‘۔ جماعت ِ اسلامی کے بے نام کارکن کے اس شکوے پر درد کے سارے رنگ حسین حقانی کے چہرے پر بکھرگئے اور انہوں نے تقریباً رو دینے والے انداز میں کہا:
’’وہ سارے تعلقات پیشہ ورانہ بنیاد پر تھے، جماعت اسلامی سے تعلق تو نظریاتی ہے، یہ تعلق کیسے ٹوٹ سکتا ہے؟‘‘

فاروق عادل

جماعت کے کارکن نے حسین حقانی سے اعانت کی رقم وصول کی یا نہیں، یہ بات میں نے ارشد عاکف سے نہیں پوچھی لیکن اس واقعہ کے کچھ ہی عرصے کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو دوسری بار ملک کی وزیر اعظم بنیں تو حسین حقانی کی شخصیت کا ایک نیا پہلو سامنے آیا۔  اوّل، ا نھوں نے پاکستانی اخبارات کو قابلِ اعتنا سمجھا اور روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں کالم لکھنا شروع کر دیا، دوسرے وہ طاقت کے مرکز یعنی اسلام آباد کو خدا حافظ کہہ کر اپنے شہر یعنی کراچی واپس لوٹ آئے۔  کئی برس قبل جب انہوں نے کراچی چھوڑا تھا تو بہ قول معوذ اسد صدیقی سعود آباد کی گلیوں کو حسرت سے دیکھتے ہوئے گئے تھے کہ خدا معلوم پلٹ کر اِن گلیوں میں کبھی آنا نصیب بھی ہوگا یا نہیں۔ یہ اندیشہ درست ثابت ہوا۔ حسین حقانی اپنی جنم بھومی میں پلٹ کر ضرور آئے لیکن طبقۂ امراکی معروف بستی یعنی ڈیفنس کو اپنا مسکن بنایا۔ اْن کے پرانے تعلق دار اْن سے ملنے کو جاتے تو وہاں حسین حقانی سے شاذ ہی اْن کی ملاقات ہوتی۔ عام طور پر انھیں ایک دربان ملا کرتا جو گیٹ کے بیچ چھوٹے سے اہنی دروازے کو اس احتیاط کے ساتھ کھولتا ہوئے کہ پورچ میں کھڑی گاڑی نظر نہ آسکے، باہر آکر وہ کہا کرتا:
’’صاحب تو گھر پر نہیں ہیں‘‘
یہ بات میرے کان میں پڑی تو میں اس پر یقین نہ کر سکا لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد ایک تجربہ خود مجھے بھی ہوا۔
جس روز ’’تکبیر‘‘ کی کاپی پریس میں جانے والی ہوتی، رات دیر تک کام جاری رہتا۔ وہ کاپی کا دن تھا اور رات کے تقریباً دس بج رہے تھے جب کسی کے تیز قدموں کی آواز سنائی دی۔ کچھ لوگوں نے سر اْٹھا کر اِدھر اْدھر دیکھا پھر کام میں مصروف ہو گئے۔ آواز بڑھتی گئی تو میں نے نظر اٹھا کر دیکھا، حقانی میرے کیبن کے دروازے پر کھڑے مسکرا رہے تھے۔ نظریں چار ہوئیں تو پوچھا:
’’ڈیڈ لائن سر پر کھڑی ہے؟‘‘
میں اْن کے سوال پر مسکرا دیا تو کہنے لگے کہ بس مجھے تھوڑی سی بات کرنی ہے۔  یہ اْن دنوں کی بات ہے جب اْن کے سیاسی گروپ، اربن ڈیموکریٹک فرنٹ کی سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ اْن کا خیال تھا کہ وہ نوجوانوں کو جمع کر کے ایم کیو ایم کی جگہ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔  وہ اپنی اسی طرح کی کسی سرگرمی کے لیے مجھ سے کوئی بات کرنے آئے تھے، بات چیت نامکمل رہی کیوں کہ مجھے اپنی رپورٹ بروقت مکمل کرنا تھی جس کا بطور صحافی خود انھیں بھی اندازہ تھا۔ اس لیے مختصر گفتگو کے بعد وہ اْٹھ کھڑے ہوئے اور مصافحہ کرتے ہوئے کہا:
’’ کل گھر آجائو، دونوں بھائی دال ساگ پر بات کرلیں گے ‘‘۔
اگلے روز میں وقت مقررہ پر پہنچا تو میری ملاقات اْسی مشہور دربان سے، اْس کے معروف ڈائیلاگ سمیت ہوئی۔ دروازے کی اوٹ سے اْس نے مجھے معلومات بہم پہنچائیں لیکن صحافی کی نگاہوں سے حسین حقانی کی جانی پہچانی گاڑی چھپی نہ رہ سکی۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ اربن ڈیموکریٹک فرنٹ شہر کومتوجہ کرنے میں ناکام  رہا تھا۔ اس لیے صحافیوں نے بھی اس میں دل چسپی لینی چھوڑ دی۔ اس طرح کی صورت حال میں سیاسی کارکن کی بے چینی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ حسین حقانی کے لیے یہ ایسے ہی دن تھے۔  یہ اُن ہی دنوں کی بات ہے، میں کہیں جانے کے لیے دفتر کی سیڑھیاں اْتر رہا تھا کہ کسی نے پیچھے سے اچانک مجھے اپنے بازوئوں میں جکڑ لیا۔ اُس زمانے کے کراچی میں یہ بڑی پریشان کردینے والی بات تھی، میں گھبرا گیا لیکن پلٹ کر دیکھا تو اطمینان کی سانس لی۔ یہ حسین حقانی تھے، دال ساگ والی’’ دعوت‘‘ کے بعد یہ ہماری پہلی ملاقات تھی۔ کہنے لگے:
’’یار! جانے تو مجھ سے کیوں خفا ہے ؟ ‘‘۔
ہم دفتر لوٹ آئے اور اْس روز دیر تک باتیں ہوا کیں جن کا کوئی خاص مطلب نہیں تھا، میں نے اپنی حیثیت کے مطابق چائے سے اْن کی تواضع کی جس سے انہوں نے بڑی رغبت سے لطف اْٹھایا اور اٹھتے ہوئے اپنے ہاتھ میں دبی کتاب کھول کر اس پر ایک سطر لکھی، دستخط کیے اور میرے حوالے کرتے ہوئے کہا :
’’ بس یار اب چھوڑ و بھی اپنی ناراضی‘‘۔
ناراضی پہلے بھی کو ن سی ایسی خاص تھی لیکن اْس روز وہ گلے سے لگے تو سارے گلے جاتے رہے۔ اب معلوم نہیں کہ یہ ایک اتفاق تھا یا اُن کا طریقہ وادات کہ جب وہ گلے ملتے تو اْن کا گرم گال ملنے والے کے گال سے ضرور مَس ہوتا اور خاموشی کی زبان میں محبت کا پیغام نشر کرتا جس سے گلے شکوے ختم ہو جاتے۔
حسین حقانی نے عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا تھا لیکن میاں نواز شریف کے مشیر کی حیثیت سے وزارت کے مزے اْٹھائے۔ میاں صاحب وزیر اعظم بنے تو انہیں سفارت کار بنا دیا بے نظیر بھٹو اورحزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کے یک جا ہوجانے پر میاں صاحب کی حکومت مشکل سے دوچار ہوئی تو حسین حقانی پہلے شخص تھے جنھوں نے سفارت سے مستعفی ہو کر میاں صاحب کا ساتھ چھوڑا۔ اس طرزِ عمل پر بہت کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن اس کا ایک پہلو یہ بھی تو ہے کہ انہیں موقع کی مناسبت سے بروقت اور ’’بہترین‘‘ فیصلہ کرنے کا ملکہ حاصل ہے۔ ایک اچھے سیاسی حکمت کار کی خوبی یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی ’’ خدا داد‘‘ بصیرت سے کام لے کر آگے بڑھتا چلا جائے۔
حسین حقانی کو اللہ نے بے شمار خوبیوں سے نوازا ہے، وہ بے پناہ ذہین ہیں اور حالات کے بہترین تجزیے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں لیکن اْن کے ساتھ حادثہ یہ ہوا کہ وہ جس راستے سے بھی گذرے، وہ راستہ انھوں نے خود پر ہمیشہ بند کر لیا۔ اپنی اصل جماعت یعنی جماعت ِ اسلامی سے اْ نھوں نے ایک بار ٹوٹا ہوا رشتہ جوڑنے کی ایک کوشش ضرور کی لیکن اربن ڈیموکریٹک فرنٹ کے تجربے کے بعد وہ بہت آگے نکل چکے تھے۔
جنرل پرویز مشرف نے جن دنوں میاں صاحب کی حکومت کا خاتمہ کیا، وہ سیاسی طور پر بے آسرا تھے چناں چہ قسمت آزمائی کی کوشش کی۔ اْن کا خیال تھا کہ وہ اپنی طلاقتِ لسانی اور ذرائع ابلاغ میں مہارت کے غیر معمولی تجربے کے باوصف فوجی حکمران کے دل میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں گے لیکن ایسا نہ ہوسکا تو ایک روز ا نھوں نے پریس کانفرنس میں ’’انکشاف‘‘ کیا کہ اْن کی جان خطرے میں ہے، اس لیے اب پاکستان میں اْ ن کا قیام ممکن نہیں۔ نائن الیون کے ہوتے ہوتے پاکستان میں اْن کی جان کو لاحق خطرات حیرت انگیز طور پر ختم ہوگئے اور وہ کسی غیر ملکی ٹیلی ویژن کے فکسرکے طور پر کام کرنے کے لیے پاکستان لوٹ آئے۔ اسلام آباد کا ایک بڑا ہوٹل اْن دنوں غیر ملکی صحافیوں سے بھرا رہتا تھا۔ پاکستان میں اِن کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کا آنا جانا بھی اسی ہوٹل میں تھا۔ ایک روز لابی میں اْن کی آنکھیں آصف فاروقی سے چار ہوئیں تو جھینپتی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ ا نھوں نے اسے آنکھ ماری اور پوچھا :
’’ہاں بھائی! آج کل کس کے ساتھ set ہو، ہم میاں بیوی تو اِن دنوں امریکیوں کے ساتھ fit ہیں‘‘۔
حسین حقانی نے اپنی اہلیہ فرح اصفہانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو ٹی وی کیمرے کا ٹرائی پوڈ اْٹھائے ایک طرف کو جا رہی تھیں۔


حسین حقانی نے عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا تھا لیکن میاں نواز شریف کے مشیر کی حیثیت سے وزارت کے مزے اْٹھائے۔ میاں صاحب وزیر اعظم بنے تو انہیں سفارت کار بنا دیا بے نظیر بھٹو اورحزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کے یکجا ہوجانے پر میاں صاحب کی حکومت مشکل سے دوچار ہوئی تو حسین حقانی پہلے شخص تھے جنھوں نے سفارت سے مستعفی ہو کر میاں صاحب کا ساتھ چھوڑا۔ اس طرزِ عمل پر بہت کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن اس کا ایک پہلو یہ بھی تو ہے کہ انہیں موقع کی مناسبت سے بروقت اور ’’بہترین‘‘ فیصلہ کرنے کا ملکہ حاصل ہے۔


حسین حقانی بنیادی طور پر ایک سخت کوش کارکن ہیں جو سخت محنت کرکے ہمیشہ کوئی نہ کوئی مقام حاصل کر لیتا ہے، بدقسمتی سے حالات بدل جائیں تو ازسرِنو زندگی شروع کرنے میں اسے کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ یہ زمانہ بیتا تو اچھے دن ایک بار پھر اْن کے منتظرتھے۔ آصف علی زرداری نے انہیں امریکہ میں سفیر بنا دیا اور وہ پہلے سے بھی بڑھ کر اہم ہوگئے۔ حسین حقانی جتنی بھی ترقی کر لیں اور کتنے ہی بڑے منصب پر پہنچ جائیں، اپنے ماضی کو خود سے کبھی جدا نہیں ہونے دیتے۔ اس معاملے میں اْن کی ذات کے اندر ایک ایاز چھپا بیٹھا ہے لیکن ذرا سے فرق کے ساتھ۔ انہیں کوئی پرانا جاننے والا مل جائے یا کوئی بدبخت انہیں سعود آباد کی گلیاں اور راستے یاد دلانے کی کوشش کرے تو اْن کے اندر کا ایاز ہڑبڑا کر جاگ اٹھتا ہے اور بے ساختہ کہتا ہے :
’’ابے احمقو! تم ابھی تک سعود آبادکی پْلیا پر بیٹھے جوڑ توڑ کرتے ہو، دیکھتے نہیں میں کتنا آگے نکل چکا ہوں‘‘۔
( حسین حقانی کا یہ خاکہ کالم نگار کی زیر اشاعت کتاب’’جو صورت نظر آئی‘‘ میں شامل ہے)۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: