جدید عورت کے نقسیاتی مسائل — لالہ صحرائی

0

فرحانہ سب سے پہلے تو میں یہ بتا دوں کہ آپ کا نام بڑا سیخسی ہے، جس دور کی آپ ہیں اس دور میں ایسا نام بہت ہی کم رکھا جاتا تھا اور حنیفاں وغیرہ ٹائپ کے نام ہی عام ہوتے تھے، حالانکہ اس طرح کے نام سن کے باسی کپڑوں کی ایک چلتی پھرتی پنڈوکڑی سی تصور میں آتی ہے مگر پھر بھی لوگ کثرت سے ایسے نام رکھتے تھے جن سے مردوں میں شدت پسندی کو ہوا ملے۔ جبکہ فرحانہ جیسا ہلکا پھلکا نام افسانوں میں پڑھ رکھا ہو تو سن کے فضا میں نہ چاہتے ہوئے بھی ایک بھینی بھینی سی معطراہٹ وغیرہ آجاتی ہے۔ امید ہے آپ پرائمری سکول کی استانی بھی رہی ہوں گی، اس دور میں ایسے ناموں کی لڑکیاں آسانی سے ٹیچرس لگ جایا کرتی تھیں اب تو جب تک مس ٹینا وغیرہ نہ ہو کام نہیں بنتا۔

خیر آپ کے نام سے مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ اس پرانے وقت کے کسی مووڈرن گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں جس کے پاس علاقے کا واحد ٹریکٹر یا چارپائی جتنا بڑا ریڈیو ہوتا تھا۔ تاہم آپ نے یہ نہیں بتایا کہ آپ کے والد صاحب کیساتھ کیا گزری اور امی نے ان کے چھ آٹھ ایکڑ ہضم کرکے آپ کو کیسے پالا۔ آئندہ اپنے بیک گراؤنڈ اور ایک قریبی گراؤنڈ کے بارے میں ضرور لکھیئے گا کیونکہ یہ نقسیاتی مسائل جسے ایک بار لاحق ہو جائیں اسے بار بار کچھ نہ کچھ پوچھنا تو پڑتا ہی رہتا ہے جس کی وجہ سے امید کرتی ہوں آپ مزید خط و کتابت سے باز نہیں آئیں گی۔

بہرحال، اب میں آپ کے سوال کی طرف آتی ہوں۔

پیاری بہن، میرے حساب سے آپ خوامخواہ پریشان ہو رہی ہیں، آپ نے اپنا فرض بالکل ٹھیک طریقے سے نبھایا ہے، ہماری زندگی میں مرد کا کام صرف پاس آنا ہوتا ہے وہ بھی جب ہم چاہیں، مگر یہ مردود آئے دن پاس آنے لگتے ہیں حالانکہ ہمیں تو ہر روز ضرورت نہیں ہوتی لیکن یہ مخلوق اس بات کو کبھی نہیں سمجھتی۔ لہذا ہمارے پاس یہی آپشن باقی رہ جاتا ہے کہ ایک بار پاس آنے کے بعد یا آپ کی طرح زیادہ سے زیادہ دو کے بعد اسے لازمی بھگا دینا چاہیے اور پھر بھگانے کا تذکرہ کرنے کی بجائے بچوں کو چھوڑ کے بھاگ گیا بھاگ گیا بھاگ گیا رٹواتے رہنا چاہیے۔ یہی سٹیٹمنٹ اپنے مفاد میں ہے، اس سلسلے میں ایکو۔ساؤنڈ کا بھی فائدہ اٹھایا جا سکے تو اٹھا لینا چاہیے۔

پیاری بہن، اس پدر سری جبر کے مواشرے کا دف صرف کک۔آفٹر۔سیڈن KAS – Kick after seeding کے طریقے سے ہی مرے گا۔ چنانچہ میرے حساب سے آپ ان قابل فخر خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے آج سے پینتیس سال پہلے کے پسماندہ مواشرے میں نہ صرف فرحانہ جیسا پیارا نام رکھ کے مردانہ جذبات کو للکارا بلکہ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے کک۔آفٹر کی بھی بونیاد رکھی بلکہ تاریخ وغیرہ میں کہیں لکھا جائے گا کہ خواتین میں سنگل پیرنٹ بننے کا آغاز بھی آپ جیسی چند بوہادر خواتین سے ہوتا ہے۔

آپ نے کے۔اے۔ایس KAS کے تحت ان کے باپ کو بھگا کر تن تنہا دو بچیوں کو اعلیٰ مقام پہ پوہنچا کے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ عورت کیلئے سنگل پیرنٹنگ کوئی مشکل کام نہیں. اسلئے پنجابی ادب میں کہا جاتا ہے، ماں بھٹ جھونکنی تے پیو لکھ داتا اک برابر، مطلب کہ بھٹی جھونکنے والی ماں اپنے بچوں کو لکھ پتی باپ سے بھی اچھا پال پوس لیتی ہے۔ یہ الگ بات ہے جو آپ کے حاسدوں، دشمنوں اور بالخصوص بچیوں کی ممانیوں نے اڑائی ہوتی ہے کہ آپ جیسی بوہادر خواتین کے کک۔آفٹر کا خمیازہ کم از کم بیس سال تک بچیوں کے مامؤوں کو بھگتنا پڑتا ہے جو ان کی فیسیں وغیرہ ادا کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔

Reaching the unreached through E-Health - Sehat Kahaniپیاری بہن، آپ کا اور آپ کی بیٹی کا مسئلہ دراصل ترحم گزاری کا ہے، عورت چونکہ ملائی کوفتے کی طرح نرم دل، نسیم سحر جیسی نرم مزاج اور نیم گرم کھچڑی کی طرح نرم و ملائم ہوتی ہے اسلئے آپ کو اور آپ کی اعلیٰ افسر بیٹی کو بھگائے جانے والوں پر اب ترس آرہا ہے۔ اسلئے افسر بیٹی گلٹی فیلنگ کے تحت سوچ سوچ کے خاموش رہنے لگی ہے، آپ اس کو سمجھائیں کہ گلٹی فیلنگ کی کوئی ضرورت نہیں، اس پدر سری مواشرے کو کمپِیٹ کرنا ہے تو اس طرح کے بچگانہ جذبات سے دور ہو کے اپنے آپ کو پتھر کی طرح مضبوط رکھنا ہوگا۔ کک۔آفٹر عورت کا بونیادی حق ہے جو اب آزاد عورتوں اور کارپوریٹ سیکٹر کی مشترکہ اوئیرنیس کی بدولت پورے مواشرے میں ایک نئی سحر کی نویدہ سنا رہا ہے۔ نوید والے دن گزر گئے اب نویدہ چلے گی میری بہن، اور جہاں سپیدۂ سحر لکھنا پڑے وہاں بھی سپیدیٔ سحر لکھنا چاہیے، لہذا نویدۂ سحر کے موقع پر آپ کو حوصلہ چھوڑ کے ہرگز کمزور نہیں پڑنا چاہیے۔

پیاری بہن، مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ کی افسر بیٹی نے پریگنینسی ٹیسٹ پازیٹیو آنے سے پہلے کک۔آفٹر کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے، اسے چاہئے تھا سیڈنگ کو زرا آٹھر لینے دیتی۔ آپ کی طرح کم از کم پانچ ماہ تک تو انتظار کر لیتی تاکہ پریگنینسی اچھی طرح ٹِک جاتی، پھر جس طرح اس کی پیدائش سے چند ماہ قبل آپ نے اس کا باپ بھگا دیا تھا اسی طرح وہ بھی اپنے ہونے والے بچے کا باپ بھگا دیتی تو آج بلاشبہ اسے دو خوشیاں حاصل ہوتیں۔ ایک مردود کے دفع ہو جانے کی اور دوسری کیوٹ سے بچے کے آنے کی، پھر وہ سرکاری گھر میں چپ چپ رہنے کی بجائے اپنے بچے کیساتھ خوش و خرم رہ رہی ہوتی جو صرف افسرانہ تکبر اور حکم نافذ کرنے کی جلدبازی میں کھو بیٹھی۔

باقی جو آپ نے بتایا کہ دوسری منگنی نو ماہ بعد ٹوٹ گئی تھی تو اس میں بھی کوئی نہ کوئی بہتری ہوگی۔ مجھے لگتا ہے وہ کنجر بزدل تھا جو ایک اعلیٰ لیڈی افسر کے پاس آنے سے پہلے ہی ڈر کے بھاگ گیا۔ آپ ذرا ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں کہ ان کی شادی ہو جاتی اور افسر رانی کے رعب سے ڈر کے مارے وہ بزدل پاس ہی نہ آآپاتا تو آپ کی بیٹی لات کس کو مارتی؟ یا پھر اسے کک۔آفٹر کیلئے کتنا عرصہ انتظار کی سولی پر لٹکنا پڑتا؟

پیاری بہن، آپ اور آپ کی افسر بیٹی میرے حیساب سے بالکل ٹھیک جا رہی ہیں اور اس پدرسری مواشرے کی بچیوں کیلئے ایک حقیقی رول مواڈل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ کو اپنا سفر یونہی اعتماد کے ساتھ جاری رکھنا چاہیے، آپ اس جور و جبر کے مواشرے میں پسی ہوئی لاکھوں عورتوں کیلئے ہمت اور حوصلے کی ایک زندہ اور روشن میثال ہیں۔

البتہ مجھے افسوس ہے آپ نے پہلی بیٹی کے احوال کچھ تفصیل سے نہیں لکھے ورنہ مواشرے کیلئے ایک ہی گھر سے ایک ساتھ دو میثالیں پیش کی جا سکتی تھیں۔ بہرحال امید کرتی ہوں کہ وہ بھی اپنا والا کھپچا بھگا چکی ہو گی جیسا کہ بیشتر افسر رانیوں نے ایک ایک بچہ لیکر بھگا رکھے ہیں۔

پیاری بہن، آخر میں ایک درخواست ہے کہ آئندہ جب بھی نقسیاتی مشورہ درکار ہو تو پلیز اپنی بیٹی کی سرکاری گاڑی پر میرے کلینک میں تشریف لے آئیے گا میرا بھی عیلاقے میں رووعب ہو جائے گا ورنہ جیلس پیپلز جیسا کہ ممانیاں وغیرہ انگلیاں اٹھائیں گی کہ دو افسر بیٹیاں اعلیٰ مقام پر فائز ہیں اور ماں اخبار سے فری کے مشورے مانگتی پھرتی ہے۔ حالانکہ اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں یہ کک۔آفٹر کا ایک مائنر سا سائڈ افیکٹ ضرور ہے کہ عورت کو ایک مردود کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے کئیوں کے آگے ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں۔ لیکن اس سے ڈر کے پیچھے ہٹنے کی کوئی ضرورت نہیں، کارپوریٹ نے چاہا تو آزاد باجیوں کی بدولت اگلی جنریشن کو یہ مسئلہ بالکل درپیش نہیں ہوگا۔

خیر اندیش
آپ کی بہن، صائمہ کنول
ماہر نقسیات (رجسٹرڈ) درجہ اول خامخاہ
ہفت روزہ مرد مار
کیرانچی

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20