اسی کائنات میں کسی جگہ: محمود ظفر اقبال ہاشمی کا فکشن — نعیم الرحمن

0

محمود ظفر اقبال ہاشمی روہی کے سپوت ہیں اور ان کاتعلق جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یارخان سے ہے۔ وہ بنیادی طور پر مصورہیں۔ ایم اے انگلش ادب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے کیا۔ 1990ء سے سعودی عرب میں ہیومن ریسورس مینجمنٹ کے سینئرکنسلٹنٹ کے طور پرمقیم ہیں اوراس حیثیت میں اپنی ایک پہچان رکھتے ہیں۔ بطور مصور متعدد انعامات حاصل کرچکے ہیں، انہوں نے چار پراثر اور دل میں اترجانے والے ناول تحریرکیے ہیں اور پانچواں ناول اسی سال شائع ہونے والاہے۔ ان کی تمام تحریریں اور اسلوب محبت، امید، انسانیت، امن اور مقصدیت سے لبریزہیں۔ انہوں نے پاکستان کے آثارِقدیمہ، فنِ خطاطی، چائلڈلیبر، آٹزم اورقیادت جیسے منفرد امور کو اپنے ناولوں کا موضوع بنایاہے۔ حال ہی میں ان کی ناول نگاری پر ’’محمود ظفراقبال ہاشمی بحیثیت ناول نگار‘‘ کے عنوان سے ایم فِل کامقابلہ بھی لکھا گیا ہے۔ انہوں نے اسی سال راولپنڈی میں نئے پبلشنگ ادارے ’’صریر پبلیکیشنز‘‘ کی داغ بیل ڈالی ہے اورچند ہی ماہ میں ادارے نے بہترین کتب شائع کرکے اپنی ساکھ بنالی ہے۔

’’اسی کائنات میں کسی جگہ‘‘ محمود ظفر اقبال ہاشمی کا پہلا افسانوں کامجموعہ ہے، جس میں ان کاایک منفرد اوردل پذیرناولٹ ’’گل مہر اور یوکلپٹس‘‘ افسانے، مختصرترین کہانیاں اور مائیکرو فکشن شامل ہیں۔ ان کے بارے میں اردو کے بہترین نظم گو شاعر اور مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کہتے ہیں۔ ’’محمود ظفر اقبال ہاشمی بنیادی طور پر ناول نگار ہیں۔ ناول میں زندگی کی کہانی ہزار پہلوؤں سے بیان کی جاسکتی ہے اور مختصر افسانے کے مقابلے میں ناول کا کینوس بڑا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اچھے ناول نگار بھی جب مختصر افسانہ لکھتے ہیں تو غیر ضروری جزئیات نگاری اور کردار نگاری میں کھو کر اصل موضوع کھو دیتے ہیں لیکن محمود ظفر نے مختصر افسانہ لکھتے ہوئے کسی قسم کے بکھراؤ اور الجھاؤ کے بغیرکہانی کے تمام تقاضوں کو نبھایا اور سلجھایا ہے اور حیر ت ناک حدتک اپنے افسانچوں یا مائیکرو فکشن میں بھی اس خصوصیت کو برقرار رکھاہے۔ کہانی اور افسانے کا فرق اوران کی الگ الگ تعریف میں الجھے بغیر اگر محمود ظفر کے مختصر افسانوں کو کہانی اور افسانے کا امتزاج کہاجائے تو غلط نہ ہوگا۔ ایسا امتزاج جس میں مختصر افسانے کے دو بنیادی عناصر یعنی موضوع اور وحدتِ تاثر بھی بدرجہء اتم موجود ہیں اور ناول جیسا طویل کہانی پن بھی۔ ان کے بعض افسانوں کے موضوعات اتنے وسیع ہیں کہ وہ چاہتے توان پر پورا ناول لکھ سکتے تھے لیکن انہوں نے کمال مہارت سے واقعات و تجربات، خیالات واحساسات اور تصورات و نظریات کو مختصر افسانے کی ہیئت میں کامیابی سے سمو دیاہے اور اس عمل کے دوران وحدتِ تاثر کو بھی پارہ پارہ نہیں ہونے دیا۔‘‘

معروف افسانہ و ناول نگار محمد حمید شاہد کا کہنا ہے۔ ’’محمود ظفراقبال ہاشمی، جو برسوں سے سعودی عرب میں مقیم ہیں، اطلاع ہوکہ ایک روشن صبح وہ ہمارے دل میں مقیم ہوچکے ہیں۔ ایک ایسے شخص کا گماں باندھیے صاحب، جن سے آپ کی جان پہچان نہیں، جن کی بابت آپ نہیں جانتے کہ وہ کچھ لکھتا پڑھتا بھی ہے یانہیں کہ اس لکھی ہوئی ایک بھی سطر آپ کی نظرسے نہیں گزری، ایک صبح اس کی جانب سے ایک دونہیں چار ضخیم ناول ملتے ہیں۔ آپ تجسس میں انہیں کھولتے ہیں اور گرفتار ہوجاتے ہیں۔ کرداروں کامعاملہ ہویابیانیہ کا، جزئیات نگاری کے بھید ہوں یاکہانی میں واقعات کا بہاؤ ، کہیں آپ ٹھہرتے نہیں، کہ متن اپنے ساتھ بہائے لے چلتاہے، توایسے شخص کو آپ دل میں مقیم ہونے سے روک پائیں گے؟ تویوں ہے کہ ہم بھی نہیں روک پائے ہیں۔ محمودظفراقبال ہاشمی نے اپنے ناولوں ’’سفید گلاب‘‘، ’’اندھیرے میں جگنو‘‘، ’’قلم قرطاس اور قندیل‘‘ اور ’’میں جناح کاوارث ہوں‘‘ کے بعد افسانہ نگاری کی جانب توجہ کی ہے اور لطف یہ کہ اس باب میں بھی ان کا قلم کامران رہا ہے۔ ’میرے ابو‘، ’بی بی جی کاگھر‘، ’مٹی اور سڑک‘، ’اصل مرد‘، ’اک گھر ایسا بنانا چاہیے‘ اور مجموعے میں شامل ان جیسے دوسرے خوبصورت افسانے پڑھنے کے بعد میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ محمود ظفر اقبال ہاشمی کے افسانے بھی ان کے ناولوں کی طرح قارئین میں بے حد مقبول ہوں گے۔‘‘

بلاشبہ ’’اسی کائنات میں کسی جگہ‘‘ اردو کے بہترین افسانوں کامجموعہ ہے۔ جسے بک کارنر جہلم نے اپنے روایتی دلکش انداز، آفسٹ پیپرپر رنگین پرنٹنگ میں شائع کیاہے۔ اور دوسو چوہتر صفحات کی کتاب کی آٹھ سو روپے قیمت بھی بہت مناسب ہے۔ خوبصورت چھپی کتاب کو پڑھنے سے قاری کالطف دوبالا ہوجاتا ہے۔ اس مجموعے کو پڑھنے کے بعد قاری کو مصنف کی دیگرکتب کی جستجو ضرور ہوتی ہے اور وہ ان کے ناول تلاش کرتا ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ ناول کہیں دستیاب نہیں۔ اب ان کاپانچواں ناول ’’شاخسار‘‘ شائع ہونے والاہے۔ ادب کے قارئین کو ابتدائی چار ناولز کی تلاش ہے۔ جو ان کے ادارے صریر سے جلد شائع ہونے چاہئے۔

معروف افسانہ نگار اورشاعرجاویدانورنے ’’اسی کائنات میں کسی جگہ‘‘ کے بارے میں لکھاہے۔ ’’محبت میں مست، انسان دوستی میں شرابور، ہمدردی سے لبریز، احساس سے روشن اور جذبات سے بھرپور مثبت کہانیوں کی تلاش ہے تومردِ خود آگاہ، دوربین ودوراندیش افسانہ نگارو ناول نویس محمود ظفر اقبال ہاشمی کے پہلے افسانوی مجموعہ ’’اسی کائنات میں کسی جگہ‘‘ کودستیاب کرلیجئے۔ ان کی تحریر کی سب سے بڑی اوراہم خوبی معیاری زبان ہے جو دور حاضرمیں کم یاب ہے۔ ہاشمی صاحب کی کہانیاں زمین سے اگتی ہیں اور ان کے قصے انسانی رشتوں کے تقدس اور حسن کو مصور کرتے ہیں۔ ’بی بی جی کاگھر‘ کی بی بی جی، ’میرے ابو‘کے ابو، ’اصلی مرد‘ کا چھوٹا ہماری زندگیوں کے اصل کردار ہیں، ’صومِ اولین‘ کی بہن ہمارے گھروں کا جیتا جاگتا کردار ہے۔ محمود ظفر بنیادی طور پر ناول نگارہیں سواپنی تخلیق کو وسعت دینے پر، پھیلانے پر، قادر ہیں لیکن ان کی صفت انہیں اختصار نویسی سے معذور نہیں رکھتی سووہ ’ایک بے وطن پرندے کی سوانح عمری‘ ، ’میں دیکھتاہوں‘، ’دنیا کے نام آخری پیغام‘ اور ’اسی کائنات میں کسی جگہ‘ جیسی مختصر تحریریں بلکہ چند سطری فن پارے بھی اسی مہارت کے ساتھ تخلیق کرتے ہیں۔ جس مہارت سے وہ ’گل مہر اور یوکلپٹس‘ جیسی طویل تحریریں سپردِ قلم کرتے ہیں۔ یہ مجموعہ معاصر اردو ادب میں ایک قابلِ قدراضافہ ہے۔‘‘

بلوچستان کے افسانہ وناول نگار اور شاعر فارس مغل کاکتاب کے بارے میں کہناہے۔ ’’جب آدم اور حوا زمین پراترے تب ان کی گرہ میں کچھ بھی نہیں تھا، ماسوائے ایک قصے کے۔ ایک قصہ جس کابیج جنت کے باغ سے زمین کی مٹی میں بویا گیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہانی، انسانی شعور اور نفسیات سے گہراربط رکھتی ہے۔ انسانی گیان، معرفت، فہم کی بالیدگی کے ساتھ کہانی بالیدہ ہوئی اور ’اسی کائنات میں کسی جگہ‘ محمود ظفر اقبال ہاشمی کی رائٹنگ ٹیبل پر آبیٹھی۔ جان کیٹس کے ہاں سچائی سے مراد تخیل کی دریافت کردہ حقیقت ہے اور وہ اسی حقیقت کو خوبصورتی قرار دیتا ہے۔ ایسی کئی سچائیاں اس کتاب میں آئینہ بدست ہیں۔ زندگی کے وسیع کینوس پرچار ناولوں کے رنگ بکھیرنے کے بعد افسانوں کا طلسم پھونکا گیا تو گویا تخیل، حیرت و استعجاب، رومان کا حیرت کدہ آباد ہوا۔ ایسا کولاژ جس میں افسانہ گر کا رومانی رنگوں کے ساتھ فکری تنوع مشاہدات و تجربات کی جو تصویر پیش کرتاہے، وہ قابلِ رشک ہے۔ ناولوں کی طرح افسانوں میں بھی جمالیاتی لطافت اور حلاوت بدرجہ اتم موجود ہے۔ فنی اور فکری لحاظ سے حقیقت بینی، نفسیاتی نکتہ چینی، دلیرانہ سچ، کاٹ دار جملوں، نرم شیریں رومان پرور شگفتہ تحاریر اور شعر یت گویا نثری پیکر میں ڈھل کر کیفیات کی نئی راہوں کی سمت متعین کرتی ہے۔ محمود ظفر اقبال ہاشمی نئی رتوں کی بشارت کے امین اور اردو ادب کے کیمیاگر ہیں۔‘‘

ملک کے صف ِاول کے شعرا ء اور ادباء کا محمود ظفراقبال ہاشمی کو ان شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین ان کے تحریری کمالات کا اعتراف ہے۔ ’’اسی کائنات میں کسی جگہ‘‘ میں ایک ناولٹ، پندرہ افسانے، تین مختصرترین کہانیاں اور تیرہ مائیکرو فکشن شامل ہیں۔ کتاب کا نام بھی مجموعے کے آخری فکر انگیز مائیکرو فکشن پر رکھا گیا ہے۔ کیا بے مثال تصور ہے۔ ’’اسی کائنات میں کسی جگہ زمین اور اس سے ملتے جلتے سیارے کے دو نمائندے ملے۔ ایک دوسرے سے شناسائی کا عمل شروع ہوا۔ ’مجھے انسان کہتے ہیں۔‘، ’اور مجھے نہیں کہتے۔ میں صرف ایک مخلوق ہوں۔‘ دونوں نمائندے اپنے اپنے سیارے کی خصوصیات بیان کرتے ہیں۔ زمین کا باشندہ کہتا ہے۔ ’ہماری زمین میں بلند پہاڑ ہیں، گھنے جنگل ہیں، گہرے سمندر ہیں، نیلے پانیوں والی جھیلیں ہیں، نیارے رنگوں والے پھول ہیں، رنگ بدلنے والا آسمان ہیں۔‘ دوسرا فرد کہتا ہے۔’ ہمارے سیارے میں بھی بلند پہاڑ ہیں مگروہ کبھی زلزلوں سے نہیں لرزتے، ہمارے بھی جنگل ہیں مگر اس میں کوئی طاقتور جانور کسی کمزور جانور کو نہیں کھاتا، ہمارے ہاں بھی سمندرہیں مگران میں طوفان نہیں پلتے، ہمارے ہاں ہررنگ کے پانیوں والی جھیلیں ہیں جن کاپانی سرد موسم بدلنے پراپنی شکل نہیں کھوتا، ہمارے ہاں بھی ان گنت رنگوں کے پھول ہیں جو کبھی نہیں مرجھاتے، ہمارے ہاں بھی تہہ درتہہ آسمان ہیں جو کبھی رنگ نہیں بدلتے۔‘، ’اس کا مطلب ہے تمہارا سیارہ ہماری زمین سے بہترہے۔ اچھا یہ بتاؤ کیا اس سیارے میں کسی دوسرے سیارے کی مخلوق آسکتی ہے؟‘، ’ہاں مگر اس کے لیے بہت کڑے امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔‘، ’کیسا امتحان؟‘، ’عشق کا امتحان۔۔ جو حاصل و لاحاصل ، بقاوفنا، زماں و مکاں، ہونے اورنہ ہونے کے گیان سے ماورا ہوتا ہے۔‘، ’ایسا سیارہ اور زندگی کس جگہ ہے؟‘، ’اسی کائنات میں کسی جگہ‘۔‘‘

مجموعہ کی پہلی تحریر دل میں اترجانے والا ناولٹ ’’گل مہر اور یوکلپٹس‘‘ ہے۔ یہ دل کو چھو لینے والا ناولٹ جنید اور حنین کے لازوال پیار کی انمول کہانی ہے۔ جس میں ناصرف کردار نگاری عروج پر ہے۔ بلکہ کہانی کا بے ساختہ پن اور سچائی قاری کو اسے مکمل ہونے سے پہلے چھوڑے نہیں دیتی۔ جنید اور حنین کے علاوہ ایتھنا کا کردار بھی بہترین ہے۔ آٹزم کے موضوع پر کم ازکم اردومیں اس سے عمدہ ناولٹ نہیں لکھا گیا۔ حقیقت تویہ ہے کہ ہم نہ تو آٹزم کے بارے میں جانتے ہیں اور نہ ہی ہمارے ملک میں آٹسٹک بچوں کی تعلیم و تربیت کا ادارہ بنانے کا کوئی تصور ہے۔ انعام ظفر ہمارے ملک کے ویژول آرٹسٹ ہیں، جو دس برس سے ایک اسکول میں آرٹ تھراپی کے ذریعے آٹزم کاشکار بچوں کو آرٹ کے ذریعے سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کاکہناہے کہ آٹسٹک بچے آرٹ کے ذریعے جذبات اور احساسات کو ضابطے میں لانے کے ساتھ زبان اور دیگر ہنر سیکھتے ہیں۔ آرٹ تھراپی دوا نہیں، یہ حوصلہ افزائی ان میں اشیا کا ادراک اور اظہارمیں آسانی پیدا کرتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر آٹسٹک بچہ آرٹ میں دلچسپی رکھتا ہو، وہ کہانیاں لکھ سکتا ہے۔ کاش ’’گل مہر اور یوکلپٹس‘‘ کے جنید کی سوچ کے مطابق ہمارے ملک میں ذہین اورملک و قوم کے لیے کارآمد بچوں کے لیے زیادہ سے زیادہ اسکول قائم ہوں اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔ یہی ناولٹ کا پیغام ہے۔ آٹزم کے بارے میں بھرپور معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

’’حنین کے ذہن پرجنیدسے ہونے والی ملاقات اورباتوں کااس قدر اثر ہوا کہ وہ اپنی نظر کا چشمہ چڑھائے اپنی سٹڈی ٹیبل پر جا بیٹھی اور لیب ٹاپ پرکئی گھنٹے سرفنگ کی مدد سے آٹزم کے متعلق مضامین پڑھ کر اپنے علم میں اضافہ کرتی رہی۔ رات کے پچھلے پہر وہ نیند سے ہارنے سے پہلے وہ آٹزم کے متعلق تمام ضروری معلومات حاصل کرچکی تھی جن کے مطابق عصبی رویئے کی حامل ایک پیچیدہ بیماری کا ماخذ یونان سمجھا جاتاہے جس کی ابتدائی علامات بچپن میں تین برس کی عمر میں ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں، لڑکیوں سے پانچ گنا تعداد میں لڑکے اس مرض کا شکار ہوتے ہیں، ایک آرٹسٹک بچہ بہت تنہائی پسند ہوتا ہے، سب سے تعلق قائم کرنے، گھلنے ملنے، گفتگو اور اظہار اور دوسروں کو اپنی بات سمجھا نے میں مشکل محسوس کرتا ہے، اس کی گفتگو کے ایک تہائی الفاظ اشاراتی یا علامتی ہوتے ہیں، آٹزم کاشکار لوگوں کو تعلیم دینے کے لیے مخصوص اسکول اور اساتذہ کی ضرورت پڑتی ہے ، وہ عام اسکولوں میں نہیں پڑھ سکتے، شدید ترین درجے کے لوگ درد، اشارے، آوازیں، لمس، سو نگھنے اور کبھی کبھی درست انداز میں دیکھنے کی صلاحیت بھی جزوی طور پر متاثر ہوتی ہے۔ بیماری کے باوجود اس کاشکار لوگ بعض معاملات میں حیرت انگیز حد تک باصلاحیت اور غیر معمولی ہوسکتے ہیں اور مخصوص چیزوں ، واقعات، لوگوں کو یاد رکھنے میں یاکسی فن مثلاً  آلاتِ موسیقی استعمال کرنے، پینٹنگ اور اسکیچ بنانے میں خداداد صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں۔ گنجلک حسابی سوال منٹوں میں حل کرلینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دنیا میں تقریباً بائیس ملین لوگوں میں سے ایک تہائی آٹسٹک افراد اٹھارہ برس کی عمرمیں مکمل توجہ، مخصوص تعلیم و تربیت، بروقت تشخیص اور علاج سے نارمل بھی ہوجاتے ہیں۔ چار آسکر ایوارڈ جیتنے والی مشہور ہالی ووڈ فلم ’رین مین‘ کا مرکزی کردار آٹزم کا شکار شخص تھا۔‘‘

یہ بہت قابلِ معلومات ہے جو محمود ظفر اقبال ہاشمی نے اس ناولٹ میں فراہم کی ہے اور اس کی مقصدیت میں اضافہ کیاہے۔

’’وہ حضرت‘‘ مصنف کا مختصر خاکہ ہے۔ ’’کافی کم عمرتھے جب وہ بیٹھے بٹھائے گفتگو میں مصروف لوگوں کے سکیچ کمال مہارت سے بناکران کے سامنے رکھ دیاکرتے تھے۔ لوگ تعریفی جملوں کے بعدایک ہی گھسا پٹا سوال کرتے ’یہ تصویربنانے کا فن کہاں سے سیکھا؟‘ انہوں نے اپنے چھوٹے سے شہرکی تاریخ میں پہلی بارمصوری کے چونسٹھ فن پاروں کی سولو نمائش کی۔ کچھ عرصے بعد کلرپیلیٹ چھوڑ کر قام سے مصوری کے شوق میں مبتلا ہوگئے۔ برش چھوڑ کر ایسے اپنے محبوب کے پیچھے لگے کہ پلٹ کا اپنی ادھوری پینٹنگز کی خبربھی نہ لی۔ کہتے میری نظمیں ساری دنیاکے لیے نہیں ہیں اب یہی میری مصوری کی نئی شکل اور یہی میرا اگلا پڑاؤ ہے۔ پھر نمناک آنکھوں سے اپنا دیس چھوڑ کر بیرون ملک جابسے اب وہ نثرنگاری نما مصوری کرنے کے متمنی تھے۔ عمر اور وقت کی قیدوبند سے ماورا والہانہ محبت کی مدد سے چاربے مثال ناول لکھ ڈالے۔ ان کانثری سفر ابھی جاری ہے۔‘‘

افسانہ ’’میرے ابو‘‘ بھی سوانحی تحریر ہے۔ جس میں اپنے ابو کی شخصیت اوران سے اپنی والہانہ محبت کا انتہائی خوبصورتی سے اظہار کیا ہے۔ افسانہ ’’ہم‘‘ میاں بیوی کے تعلقات پربے مثال تحریرہے۔ مکرم بیگ اپنی زندہ بیوی کو مردہ قرار دیتے ہوئے بتاتاہے۔ ’’مختصر سی کہانی ہے۔ محبت کی شادی تھی۔ پانچ سالوں میں اس نے تین بچے توپیدا کرلیے مگر اس کے روایتی محبوباؤں والے چونچلے نہیں گئے۔ وقت وقت کی بات ہے۔ ہر شے کا اپنا دور ہوتاہے۔ دور گزر جائے تو تاریخ بن جاتا ہے۔ ذرا غور کیجئے تین بچوں کی بتیس سالہ عورت جس کا محض پانچ سال میں سرکے بالوں، آنکھوں سے لے کر فگر تک سب کھنڈر بن چکاہو اور وہ باربار آپ کو نظروں کے پہلے تصادم کا لطف، پہلی باربارش میں اکٹھے بھیگنے کی سرشاری، دھند میں ایک دوسرے کی ہتھیلیاں تھام کر سمرئی کہرے میں پہلی بار اترنے کے تجربے اور شادی کے پہلے چند ماہ کے دوران وصل و سرور سے لبریز دن اور راتیں یاد دلائے گی، تو ایک مارکٹنگ منیجر جس کے دل و دماغ پر صرف ماہانہ ٹارگٹ سوار ہوتا ہے وہ اتنی بڑی منافقت کا مرتکب کیونکر ہوگا۔‘‘

یہی ہماری بیشتر شادی شدہ زندگیوں کا المیہ ہے۔ جسے انتہائی خوبصورتی ہاشمی صاحب نے بیان اور پھر اس کاحل بھی پیش کیاہے۔ ’’رونے کے لیے چاہیے کاندھا مرے دوست‘‘ بھی ایساہی جذبات سے بھرپور اور انسان کو چونکا دینے والا سچا بیانیہ ہے۔ ’’اسی کائنات میں کسی جگہ‘‘ کا ہر افسانہ ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ ’لیکن ’جُگت‘‘ کا ایک اپنا ہی لطف ہے۔ یہ ایک پڑھی لکھی پوش فیملی سے تعلق رکھنے والی اداکارہ، ماڈل اور مشہور پروگرام ’’برجستہ‘‘ کی میزبان مرجانہ اور ایک کامیڈین شہزادہ شُرلی کی کہانی ہے۔ شہزادہ شرُلی کو پروگرام پروڈیوسر آفتاب احمد صدیقی ’برجستہ‘ کا مہمان منتخب کرتے ہیں جبکہ مرجانہ معیاری مزاح کے سوا جُگت باز اور بھانڈ کہلانے والوں سے سخت نفرت کرتی ہے۔ لیکن پروگرام کے اختتام تک شہزادہ شُرلی کی جو حقیقت سامنے آتی ہے۔ وہ مرجانہ کو اپنے تمام نظریات ترک کرنے پر مجبور اور قاری کی آنکھ کو نمناک کر دیتی ہے۔ جُگت اردو ادب میں ہمیشہ زندہ رہنے والا افسانہ ہے۔

’’اسی کائنات میں کسی جگہ‘‘ کاہرافسانہ دامن دل کھینچتاہے۔ کتاب میں کئی ایسے جملے ہیں جو اپنی معنویت کے لیے پیش کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن گنجائش اس کی اجازت نہیں دیتی۔ کتاب میں تین مختصرترین کہانیاں بھی شامل ہیں۔ ان میں سے ایک کہانی ’’مجھ سے نہ بچھڑو‘‘ پر کالم ختم کرتا ہوں کہ میرا خیال ہے کہ دورِ حاضر کی گیجٹس نے کتاب اور ذوقِ مطالعہ کو کیسے متاثر کیا ہے، اس بارے میں ایسی سچی تحریر شایدہی کوئی ہو۔
’’مجھ سے نہ بچھڑو۔۔ میرا لمس تمہاری تمام حِسّیں بیدار اور تمہارا سر بلند رکھے گا۔‘‘
مگر میں نے کتاب کی ایک نہ سنی اورسمارٹ فون پرجھُک گیا۔۔۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20