ایک ماں کی بے حرمتی —  فارینہ الماس

0

آج کئی دن گزر جانے کے بعد بھی فضا بہت سوگوار ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے فضا میں تازہ انسانی گوشت کی بو پھیلی ہوئی ہے۔ کتنا کریہہ واقعہ ہے یہ، کہ درندوں نے ایک ماں کو اس کے بچوں کے سامنے نوچا اور اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ اس گلے سڑے معاشرے کے ہاتھوں ایک ماں کی روح کو داغدار کیا گیا ہے۔ یہ کوئی نیا حادثہ نہیں ایساپہلے بھی کئی بار ہوا ہوگا۔ اور جس بھی عورت، بچی یا لڑکی کے ساتھ جنسی درندگی ہوتی ہے وہ ایسے ہی چیختی، تڑپتی اور بے بسی سے مدد کو پکارتی ہو گی۔ لیکن انسانیت کے وجود پر لگا یہ زخم ابھی نیا نیا ہے۔ ابھی اس بھیانک منظر کو بھولنے میں کچھ دن لگیں گے۔

ابھی کچھ دن غیر مرئی طور پر اس ماں کی بے بسی محسوس ہو گی اور اس احساس سے ہماری روح بھی کانپے گی۔
ابھی تو، وقت بے وقت کانوں میں ایک اجڑی ہوئی ماں کی دلدوز التجاﺅں کے پٹاخے پھوٹنے لگتے ہیں۔
حملہ آوروں کے منہ سے ٹپکنے والی خونی رال دیکھ کر جی متلانے لگتا ہے۔
اٹھتے، بیٹھتے اس ماں کا ان دیکھا وجود نظروں کے سامنے آجاتا ہے۔
کبھی وہ اپنے دوپٹے کا شکستہ پلو اپنے عریاں جسم پر پھیلاتی دکھائی دیتی ہے۔
کبھی اپنے جسم کے عریاں حصوں کو بھول کر اپنے بچوں کو بچانے کی تگ و دو کرتی نظر آتی ہے۔

پھر لگتاہے جیسے سڑک سے کہیں دور جھاڑیوں میں دھول سے اٹے سر اور بدن والی یہ ماں گھاس پھوس پر سمٹی بیٹھی ہے۔ اس کی آتما تار تار ہے۔ لیکن ابھی کچھ ٹوٹے پھوٹے حوصلے مجتمع ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو بچانا چاہتی ہے۔ گو کہ وہ درندے اپنی ہوس مٹا کر جا چکے ہیں لیکن وہ ابھی بھی اس خوف سے تھر تھر کانپ رہی ہے کہ کہیں وہ پھر سے نہ آجائیں۔

وہ اپنے بچوں کو اپنی چھاتی سے چپکائے ہوئے ہے۔ اسے جنگل نما ویرانے میں کسی خونخوار جانور کی آمد کا قطعاً خوف نہیں۔ اس پر تو انسان کی دہشت و ہیبت طاری ہے۔ اسی لئے مدد کو آئے انسانوں کو بھی انسان کی کھال میں بھیڑیا سمجھ کر ڈر جاتی ہے۔ خوف سے اس کی آنکھیں گوشت کے حصار سے باہر ابلتی دکھائی دیتی ہیں۔ گلے میں آواز نہیں رہی کہ اب چیخ سکے۔ قدموں میں جان بھی کہاں کہ بھاگ سکے۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کے بچے بحفاظت ان کے ٹھکانے پر پہنچا دئے جائیں۔
لیکن اسے گولی مار دی جائے۔

سوچئے کتنا مشکل ہو گا ایک ماں کے لئے یہ فیصلہ کرنا کہ وہ اپنے بچوں کو چھوڑ کر ملک عدم سدھار جائے۔ لیکن وہ جینا نہیں چاہتی کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس کے بچ جانے کے بعد اس کی زندگی اور بھی اندوہناک بنا دی جائے گی۔ اس کے بچوں کا جینا بھی محال کردیا جائے گا۔ وہ جب جب اس واقعے کو بھولنے کی کوشش کرے گی کوئی نہ کوئی انسان، کبھی کوئی اپنا کبھی کوئی پرایا اسے اس ذلت اور بے بسی کا احساس ضرور دلوائے گا۔ اور اس کی آتما پھر سے اس جنگل نما ویرانے میں بھٹکنے لگے گی۔ اپنی عزت کی کرچیوں کو سمیٹنے، یا اپنے وجود کو پھر سے لہو لہان کرنے۔

یہ واقعہ اس نسل انسانی کا پہلا اور آخری واقعہ تو نہیں۔ خدا کی اس کائنات کو دی گئی تعظیم، ترتیب اور سلیقے کو انسان کئی طرح سے، بڑی سفاکی کے ساتھ اجاڑتا اور نوچتا ہی چلا آیا ہے۔ اس نے اس کائنات میں سب سے ذیادہ خدا کی جس تخلیق کو برباد کیا ہے وہ عورت ہی تو ہے۔ وہ تخلیق جسے فطرت نے تو صنف نازک، جنس لطیف اور کائنات کے حسن کا نام دیا تھا لیکن انسانوں نے اسے داشتہ، لونڈی اور جنسی اشتعال کی شے بنا دیا۔ کبھی محسوس نہیں کیا کہ وہ ایک روح کی حامل بھی تو ہے۔ وہ اس کی روح کو کیا محسوس کرتے ان کے لئے تو اس کی روح کو تسلیم کرنا بھی محال تھا۔ قدیم فلسفہ دان اور مفکرین تو مدتوں اس موضوع سے ہی الجھتے رہے کہ آیا عورت کے وجود میں کوئی ہے بھی یا نہیں۔

ابن آدم نے تو صدیوں سے عورت کو فطری طور پر کمزور اور کمتر ہی سمجھا ہے اسی لئے تو وہ اسے مغلوب کرنے کی شدید حرص میں مبتلا رہتا ہے۔ کبھی اپنی مردانگی دکھانے کو، کبھی اپنے جسم کی بھوک مٹانے کو، کبھی اپنی فتح اور کامیابی کا جشن منانے کو تو کبھی اپنی شکست کے داغ کو دھونے، اپنی دشمنی کا بدلہ لینے یا اپنی کسی کمتری کو بھلانے کو۔ وہ عورت کے جسم کو استعمال کرتا ہی آیا ہے۔ انسانی تاریخ ایسے کئی واقعات سے بھری پڑی ہے۔ آٹھویں صدی میں رومیوں کے قبائل میں عورتوں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ہمسایہ ملک اطالیہ کے قبائل پر حملے کر کے ان کی عورتوں سے جنسی تسکین حاصل کی جاتی تھی۔ ایسی ہی جنسی تسکین عرب کے قدیم قبائل لونڈیوں سے حاصل کیا کرتے۔ عورت کی آبروریزی پر پہلے تو سزائیں تک نافذ نہ تھیں لیکن پھر شادی شدہ عورتوں پر ایسے حملوں کی سزا نافذ ہوئی وہ بھی عورت کی تعظیم و تکریم کو بحال کرنے کے لئے نہیں بلکہ ان کے شوہروں یا مالکوں کو تاوان دینے اور ان کا نقصان پورا کرنے کے لئے۔

جنگ کے دوران خواتین کی عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا چلن بھی بہت پرانا ہے۔ تاکہ مخالفین اور دشمنوں کے حوصلے پست کئے جائیں۔ تقسیم ہندوستان کے وقت تقریباً ایک لاکھ عورتوں کی عزت سے کھلواڑ کیا گیا۔ سوویت فوج نے دوسری جنگ عظیم میں جرمنی پر حملے کے بعد آٹھ ماہ میں بیس لاکھ خواتین کی اجتماعی آبروریزی کی۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی آبروریزی تھی۔ مزاحمت کرنے والی عورت کو ایک سیکنڈ میں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا۔ اس دوران کئی عورتوں نے اس ذلت سے بچنے کے لئے خود کشی کی۔ ایسا نسلی صفائی کے طور پر بھی کیا جاتا ہے۔ حوثی ملیشیا کی جیلوں میں یمنی خواتین کی عصمت دری یا چین کے حراستی مراکز میں یغور مسلم طالبات کی عصمت دری۔ برما میں روہنگیا مسلم عورتوں اور بوسنیائی عورتوں کی آبروریزی۔ یہ واقعات اتنے سادہ نہیں ہوتے جتنا انہیں سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان میں مقصد محض ہوس ہی پوری کرنا نہیں ہوتا بلکہ خواتین کو جسمانی و ذہنی اذیت پہنچا کر، انہیں انتہائی سفاکانہ اور بے رحمانہ طریقوں سے قتل بھی کیا جاتا ہے۔ تاکہ ان کی قوم کی تحقیر کی جاسکے۔ ان کے حوصلے پست ہوسکیں۔ خواتین کا گینگ ریپ ان کی قوم کو نیچ ذات اور بے بس ثابت کرنے کے لئے بھی کیا جاتا ہے جیسے ہندوﺅں نے دلتوں اور مسلمانوں سے اپنی نفرت کا اظہار ان کی عورتوں سی اجتماعی آبروریزی سے بھی کیا۔ 2006 میں بہار میں مظلوم دلتوں کے گاﺅں پر جب حملہ کیا جاتا تو رنویر سینا کے لوگ ان کی عورتوں کی عصمت دری کرتے۔

ہمارے اپنے معاشرے ہی کی بات کریں جہاں لڑکی کی عزت کسی قبیلے کے تاوان کے طور پر پیش کر دی جاتی ہے۔ جہاں بھرے جرگے میں فیصلہ سنایا جاتا ہے کہ قصوروار خاندان کی لڑکی کو مدعی خاندان کے سامنے گینگ ریپ کے لئے پیش کیا جائے۔ ہم وہ معاشرہ ہیں جہاں گالی دینے کے لئے بھی عورت کی تذلیل کی جاتی ہے۔ گالی کی صورت، عورت کے جنسی حصوں کا نام کسی کی بہن اور ماں کے ساتھ جوڑ دینے سے مرد کو ذہنی تسکین میسر آتی ہے اور دشمنی کا بدلہ بھی پورا ہو جاتا ہے۔ اور کچھ نہیں تو محض زبان کا چسکا ہی سہی۔۔۔ اس طرح نسل در نسل ہمارے معاشرے کی ثقافتی و ذہنی ساخت کی تشکیل میں عورت کی تضحیک کا اہتمام بھرپور طور پر کیا گیا ہے۔

عورت کے وجود کو ہر مذہب، ہر قوم اور ہر ملک میں ہی تحقیر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بھلا ہر سال دنیا میں دس، بارہ کروڑ لڑکیوں کی عزتیں پامال کیوں ہوتیں۔

اس کی عزت کسی کا بدلہ، کسی کی نفرت، کسی کی خوشی کا جشن کیسے ہو سکتی ہے۔ وہ تمہارے کئے کا تاوان اپنی عزت سے کیوں ادا کرے۔ اگر تم اسے صنف نازک سمجھتے ہو تو پھر ان مردوں پر لعنت ہے جو اس کم زور مخلوق پر حملہ آور ہونے کو اپنی مردانگی سمجھتے ہیں۔

ہم جس معاشرے میں جی رہے ہیں یہ اخلاقی طور پر ایک بے روح معاشرہ ہے۔ ایک فارغ الذہن معاشرہ۔ پر شکم ذہن ہوس سے عاری ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کے خیالات بلند اور اعلیٰ ہوتے ہیں۔ ان کے پاس عمل کا میدان بھی کھلا ہوتا ہے۔ فارغ الذہن لوگ صرف حیوانی جذبوں کی آما جگاہ ہی ہوا کرتے ہیں اور حیوانی جذبے انسان کو جسم کی بھوک میں مبتلا کرتے ہیں۔ معاشرے میں پھیلنے والے خوفناک قسم کے احساس محرومی اور طبقاتی احساس کمتری کو دور کرنا اس ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جب باعزت روزگار کی کمی ہوگی تو انسانی ذہن جرائم کی طرف ہی آمادہ ہوں گے۔ وہ جرائم جو انسان کی شخصی عزت و تکریم کو مٹا کر ا سے وحشی اور سفاک بنا دیتے ہیں۔ ان مجرموں کو سزا ملنا بھی ضروری ہے لیکن ان قانونی محافظوں کا حساب کتاب بھی ہونا چاہئے جو اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ان درندوں سے ساز باز کر لیتے ہیں۔ اور ان کے جرائم کو مذید پنپنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

ہمارے معاشرے کی کم نصیبی تو یہ ہے کہ یہاں پڑھے لکھے استاد سے بھی، شاگرد کی عزت کا بچنا مشکل ہو چکا ہے۔ ہمارا شعور، فہم اور علم بھی، روح سے خالی ہو چکے ہیں۔ یہاں علم محض کاغذ کے پرزوں تک محفوظ ہے۔ تربیت و عمل اب اس تعلیمی نظام کا حصہ نہیں۔ تو پھر ایسے نظام میں تیار ہونے والے معلم کی اپنی اخلاقیات کیا ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

الغرض ہمارا معاشرہ ایسا معاشرہ بن چکا ہے جہاں نفسانی خواہشات کی پرورش کو کھلا میدان میسر ہے۔ تو پھر بعید نہیں کہ، اک عورت اور اک ماں کے بے توقیر ہو جانے کے اس قصے کا درد بھی کل کو کسی نئی دل گیر آواز کے سوز میں کہیں ڈوب جائے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20