اقبال: فطرت اور انسان پسندی کی آویزش — ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی

0

The Conflict Between Nature and Humanism in the poetry of Iqbal

اقبال رومانوی تحریک یا اپنے دورر کی کسی دوسری ادبی تحریک سے باقاعدہ وابستہ نہیں تھے۔ اپنی شاعری کے اولین دور میں اقبال نے رومانی اثرات کو قبول ضرور کیا لیکن آگے چل کر اپنی راہ الگ کر لی۔ کلام اقبال کے ابتدائی دور میں (ابتدائی دور سے مراد سفر یورپ سے پہلے تک کی شاعری ہے۔ کیوں کہ قیام یورپ کے بعد ان کے خیالات اور تصورات میں واضح تبدیلی آ جاتی ہے)۔ فطرت کا تصور یکسر جداگانہ نہیں تو اپنے پیش رو اور معاصر شعرا سے مختلف ضرور ہے۔ اقبال کے ہاں فطرت ایک ساکت اور خاموش معروض نہیں ہے۔ اقبال نے فطرت کے ساتھ جمالیاتی اور فلسفیانہ تعلق استوار کیا۔ رومانوی شاعری کی عمومی روش کے برعکس اقبال فطرت کو سماجی، سیاسی اور ما بعد الطبیعیاتی تناظرات سے وابستہ کرتے ہیں۔ عقیل احمد صدیقی کا کہنا ہے: ’’ان کی شاعری حالی کے نظریہء شعر اور بعد کے رد عمل کا کامل امتزاج ہے۔‘‘(۱) فاضل نقاد کا اشارہ شاید حالی کی مقصدی شاعری اور سادگی و اصلیت اور رومانوی شاعروں کی فطرت نگاری کی طرف ہے۔ یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ حالی کی طرح ا قبا ل کے پیش نظر بھی قوم کی اصلاح کا مقصد تھا لیکن حالی جس شعری روایت سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیںاقبال کا اس شعری روایت سے رشتہ بہت مستحکم ہے۔ یہ تعلق کسی بھی مقام پر منقطع نہیں ہوتا بلکہ اقبال اس شعری روایت کو جدید شعریاتی اصولوں سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔ دوم یہ کہ رومانوی تحریک سے وابستہ شعرا کی فطرتی شاعری اور اقبال کی فطرتی شعری میں ایک بڑا فرق ہے: رومانوی شعرا نے مغرب کی رومانوی تحریک سے شعریاتی پیکر اور کچھ سادہ اصول اخذ کیے۔؛ وہ مغربی رومانوی شعرا کی طرح کسی بڑے تناظر میں فطرت کی معنویت تلاش کرنے میں ناکام رہے جب کہ ’’اقبال نے انگریزی شاعری کی پوری روایت کے پس منظر میں رومانوی شعرا کی فطرت نگاری اور ورڈزورتھ کی فطرت پرستی کا ڈوب کر مطالعہ کیا تھا۔ مزید برآں اقبال کی طبیعت میں بے شک وہ انگریزی نیچرل شاعری کے واسطے سے ہی سہی فطرت کو جذب کرنے کے کئی ذہنی، رومانی، جذباتی، شخصی اور نفسیاتی اسباب موجود تھے۔‘‘(۲) اردو رومانوی شاعری کے بر عکس اقبال کے ہاں فطرت محض ایک پس منظر یا انسانی جذبات کے اظہار کے لیے ایک سٹیج نہیں ہے۔ ابر جیسی ایک آدھ نظم اور ’’پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن‘‘ جیسے معدودے چند غزلیہ اشعار ایسے ہوں گے جہاں فطرت محض منظر کے طور پر ظہور کرتی ہے ورنہ اقبال کی بیشتر منظریہ منظومات مکالماتی ہیں اور مکالمہ یک طرفہ نہیں ہوتاچناں چہ اقبال کے ہاں واحد متکلم اور واحد حاضر کے صیغے میں انسان فطرت سے، فطرت انسان سے یا فطرت کسی دوسرے فطرتی مظہر سے کلام کرتی ہے۔ اقبال کا فطرت شناس دل فطرت کو خاموش معروض تصور نہیں کرتا۔ یہ سکوت ِلالہ و گل سے کلام پید اکرتا ہے اور منظر کے کرداروں سے ان کی زبان میں کلام کرتا ہے۔ انسانی زبان انسانی سماجی اقدار کی نمائندہ اور شاہد ہوتی ہے۔ اقبال فطرتی مناظر میں انسانی معاشرے سے منہ موڑ کر غیر انسانی عناصر کے ساتھ باہمی تعامل اور ایک مختلف اقدار کے حامل معاشرے کی اقدار سے نئی انسانی قدروں کو تلاش کرتے ہیں۔ اس لیے اقبال کی ابتدائی فطرتی شاعری میں تحیر، استفہام، اضطراب اور زندگی کی ماہیت اور معنویت کو جاننے کا تجسس بہت زیادہ ہے۔

گلزار ہست وبود دیوانہ وار دیکھ            ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ

مستقل تحیر، استفہام، استفسار (آنکھ وقف دید تھی، لب مائل گفتار تھا، دل نہ تھا میرا سراپا ذوق استفسار تھا) اور غورو فکر اشارہ کرتا ہے کہ شاعر فطرت کے موجود روایتی تصور پر قانع نہیں ہے نہ ہی اس کے نزدیک فطرت محض ایک خوبصورت خارجی وجود ہے۔ اسے یقین ہے کہ فطرت کے اندر جاری و ساری طاقت کا تعلق کسی الوہی قوت سے بھی ہے اور فطرت کے قوانین اور انسانی معاملات میں کو ئی لازمی ربط بھی ہے۔ ابتدائی عہد میں جو اقبال کی ذہنی تشکیل کا عبوری زمانہ ہے؛ اس کا رجحان فطرت کی طرف زیادہ تھا۔ اس وقت اقبال کے فکری تصورات ابھی پوری طرح متشکل نہیں ہوئے تھے، اس لیے یہاں تخلیقی وفور اور جذبہ اس کے تصورات کی جستجو پر غالب ہے۔ شاعر تخیلاتی سطح پر فطرت سے ایک رومانی رشتہ استوار کرتا ہے۔ فراریت، تنہائی، مراجعت اور شہری ثقافت سے بیزاری جیسے عمومی رومانوی رجحانات اقبال کے ہاں بہت کم ہیں لیکن ہیں ضرور۔ ایک آرزو ا ور رخصت اے بزم جہاں جیسی نظمیں اسی میلان کی نمائندگی کرتی ہیں:

صف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوں    ندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہو
ہو دلفریب ایسا کہسار کا نظارہ                    پانی بھی موج بن کر اُٹھ اُٹھ کے دیکھتا ہو
آغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہ          پھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہاہو
(ایک آرزو)

ہم نشینِ نرگس ِ شہلا، رفیقِ گل ہوں میں              ہے چمن میرا وطن، ہمسایہ بلبل ہوں میں
شام کو آواز چشموں کی سلاتی ہے مجھے            صبح فرشِ سبزسے کوئل جگاتی ہے مجھے
بزمِ ہستی میں ہے سب کو محفل آرائی پسند        ہے دلِ شاعر کو لیکن کنجِ تنہائی پسند
( رخصت اے بزم جہاں)

نظموں کے ان اقتباسات میں شاعر نے انسانی مداخلت سے محفوظ سادہ، معصوم اور حقیقی فطرت کی تصویر پیش کی ہے۔ ان نظموں کے مکمل متون کا مرتکز مطالعہ آواز اور سکوت کے تثنیثی تخالف کے ذریعے فطرت کی اس قدیم آواز کو بھی نمایاں کرتا ہے جسے انسانی تاریخ نے انسان کے واحد ناطق موضوع ہونے کے زعم میں دبا دیا ہے۔ نظم جگنو میں بھی فطرت کی خاموشیوں کے اندر اس قدیم آواز کو سننے کی کوشش کی گئی ہے۔ جب کہ ابر کہسار آزاد فطرت کی کہانی ہے جس میں فطرت خود متکلم ہے۔ یہاں فطرت کسی کے مماثل، کسی دوسرے کا نشاں، علامت یا نمائندگی نہیں ہے۔ فطرت کی عمل آرائی، فطرتی مظاہر کا ایک دوسرے کے ساتھ تعامل، انسانی جذبات اور انسانی معاملات پر فطرتی تغیر و تبدل کے اثرات کو نمایاں کیا گیا ہے۔ آفتاب صبح، گل پژمردہ اور ماہ نو میں انسان فطرت سے مخاطب ہے۔ فطرت سے مکالمے میں شاعر کی حیرت انسان، کائنات اور فطرت کے مابین کسی ما بعد الطبیعیاتی رشتے کی جستجو کرتی نظر آتی ہے۔ جب کہ گل رنگیں میں فطرت سے جمالیاتی رشتہ زندگی کی لایعنیت اور وجود کی المیت کے معنی تلاش کرتا ہے لیکن گل رنگیں کا فطرتی مظہر انسانی وجود کی بے معنویت کے لیے تشبیہ نہیں ہے۔ پھول اور انسان دو الگ فطرتی مظاہر ہیں۔ یہ دونوں فطرت کے ان قوانین کی زد پر ہیںجن کی حقیقت تک انسانی عقل کی رسائی نہیں ہے۔ ان دونوں میں ایک مشابہت ضرور ہے مگر یہ مشابہت صوری سطح پر نہیں، معنوی سطح پر ظاہر ہوتی ہے۔ بانگ درا کے شروع میں ایک مکڑا اور مکھی، پہاڑ اور گلہری، ایک گائے اور بکری، ہمدردی اور پرندے کی فریاد بچوں کے لیے لکھی گئی ماخوذ نظمیں ہیں۔ یہ اخذ و ترجمہ کی حامل بیشتر نظمیں بچوں کے نصاب تعلیم کے اس سلسلے کی کڑی ہیں جو محکمہء تعلیم کی رہنمائی میں جاری تھااور جس کے تحت مسٹرنولٹن (پرنسپل، ٹریننگ کالج، لاہور) کی خواہش پر حالی کی نگرانی میں کئی انگریزی نظموں کے تراجم کیے گئے۔(۳) نظموں کے عنوانات ماحولیاتی مظاہر کی نشاندہی کرتے ہیںلیکن متون ادب اور ماحولیات کے کسی گہرے تعلق کو نشان زد نہیں کرتے۔ ان نظموں میں کچھ معصوم اور بے ضرر فطرتی اور ماحولیاتی مظاہر اپنی معصومیت اور پاکیزگی کے ساتھ جلوہ گر ہوئے ہیں۔ در حقیقت یہ نظمیں بچوں کے لیے کسی نہ کسی اخلاقی سبق کی حامل ہیں۔ یہ با قاعدہ فطرت کی نمائندگی نہیں کرتیں تاہم بہائم، طیوراور حشرات کے مزاج، معاشرت اور احساسات کا مشاہدہ قابل تحسین ہے۔

اقبال کی شعری کائنات میں داخل ہوتے ہی ہمارا واسطہ فطرتی تناظرکی حامل جس بڑی نظم سے پڑتا ہے وہ ہمالہ ہے (کلیات اقبال (اردو) کی پہلی نظم ہے) نظم کا فارسی آمیز اسلوب، آہنگ، مغربی پیکر، منظر نگاری، تخلیقی وفور، متحرک محاکات اور رومانوی؍ مابعد الطبیعیاتی فضا نہ صرف اقبال کے ہاں بلکہ اردو نظم کی روایت میںاسے ایک اہم نظمباور کراتی ہے۔ یہ نظم مخزن کے پہلے شمارے میں ۱۹۰۱ء میں شائع ہوئی۔ ہمالہ کی مجموعی فضا انگریزی رومانی شاعری کے اثرات کی غمازی کرتی ہے۔ بنا بریںیہ کہنا قرین قیاس ہے کہ ابتدائی دور میں اقبال نے انگریزی رومانوی شاعری کے اثرات کو قبول کیا۔ اقبال کے ہاں یہ اثرات اوپری سطح تک محدود نہیں رہے بلکہ عملی انجذاب سے گزر کر اظہار کے مرحلے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ کوہ ہمالہ کا مشاہدہ اقبال کا براہ راست تجربہ نہیں ہے۔ ان کے سوانحی ریکارڈ کے مطابق وہ اس زمانے تک کسی ایسے لینڈ سکیپ سے عملی طور پر دو چار نہیں ہوئے تھے لیکن اقبال نے اس نظم میںجن فطری مظاہر کا ذکر کیا ہے ہم سمعی یا تخلیقی سطح پر ان سے ناا ٓشنا نہیں ہیں۔ چناں چہ ’’آوردگی‘‘ اور نا آشنائی کے باوجود ہمیں ان مناظرسے اپنائیت اور قرب کا احساس ہوتا ہے۔(۴) اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ کسی منظر کی سادہ تصویر کشی نہیں ہے۔ اس منظر میں متکلم اپنے تحیر و حیرت کے ساتھ فطرت کے ساتھ مخاطب ہے اور فطرت کو ایک تاریخی تناظر سے وابستہ کر رہا ہے۔ اقبال کے بیشتر شارحین اور مفسرین نے اس نظم کی تشریح مقامیت اور نظریہ وطنیت کے تناظر میں کی ہے۔ مقامیت، مقامی فطرت اور ماحولیات کے ساتھ مقامی ثقافت، تہذیب، معاشرت اور رویّوں کو بھی بیان کرتی ہے۔ جب کہ یہ نظم ایک مخصوص اور محدود مقامی منظر کی عکاسی کرتی ہے چناں چہ اسے مقامیت سے زیادہ مقاماتی ادب (Literature of Place) کی ذیل میں رکھنا مناسب ہو گا۔ مقاماتی ادب مخصوص جغرافیے کی حامل فطرت کو پیش کرتا ہے۔ یہ ورائے قومیت سے زیادہ قومی خود حصاری (National Self Enclosure) کا رجحان رکھتا ہے، جس کے بطن سے وطنیت اور حب الوطنی کا تصور جنم لیتا ہے۔ ترانہ ہندی، ہندوستانی بچوں کا گیت اور نیا شوالہ جیسی نظمیں اسی رجحان کی نمائندگی کرتی ہیں۔ بہ قول ڈاکٹر وحید قریشی: ’’اس منزل پر پہنچ کر اقبال ہندوستان کے مختلف مناظر ہی کی پرستش نہیں کرتے بلکہ وطن کو بھی ایک بت بنا کر ا سکی پوجا کر نے لگتے ہیں۔‘‘(۵) اقبال کے ہاں بانگ درا کے ابتدائی حصے تک یہ رویہّ غالب رہتا ہے مگر یہ رجحان زیادہ عرصہ قائم نہیں رہا۔ قیام یورپ کے بعد ان کے نظریہ ء وطنیت میں واضح تبدیلی آئی اور وہ حُب الوطنی اور وطنیت کے محدود نفسیاتی تقاضوں سے باہر آگئے۔ چناں چہ ان کے ہاں دیگرتصورات کی تبدیلی کے ساتھ فطرت کا تصور بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ اقبال کے فکری تصورات اس مقالے کا موضوع نہیں ہیں۔ اس لیے تفصیل میں نہیں جایا جا سکتا مگر یہ ذکر ضروری ہے کہ اقبال کا ابتدائی تصور فطرت ان کی فطرت پسندی سے جڑا ہوا ہے اور ان کا تصور ملت تصور خودی، تصور مرد مومن اور تصور شاہین انسان پسندی کی دین ہے (اس کی تفصیل آگے آئے گی)۔

ہمالہ میں اقبال نے فطرت کا ایک عظیم اور سورمائی (Heroic) تصور پیش کیا۔ ہمالہ دوسرے پہاڑوں کی طرح محض حسن کا مظہر ایک پہاڑ نہیں ہے بلکہ ایک عظیم وجود ہے۔ نظم کا بلند آہنگ، خطابیہ لہجہ اور پر شکوہ لفظیات ابتدا میں ہی فطرتی مظہر کی عظمت کا تصور قائم کر دیتے ہیں۔

اے ہمالہ!اے فصیل کشورِ ہندوستان        چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسمان
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں      تو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاں
ایک جلوہ تھا کلیم ِطورِ سینا کے لیے                     تو تجلی ہے سراپا چشمِ بینا کے لیے

ہندوستان جیسی قدیم اور عظیم سلطنت کی فصیل ہونا، بلند آسمان کا جھک کر پیشانی کو چومنا، گردش ایام میں ثابت قدم اور جوان رہنا، طور سینا کے ایک جلوے کے مقابل سراپا تجلی ہونا، اس مظہر ِفطرت کی عظمت پر دلالت کرتا ہے۔ نظم کا پورا فیبرک اسی نوع کے الفاظ و تراکیب سے تیار ہوا ہے۔ ’فصیل کشور ہندوستاں‘، ’ طور سینا‘، ’دیوار ہندوستاں‘، ’مطلع اول‘، ’ دستارِ فضیلت‘، ’ کلاہ مہر عالم تاب‘، ’ ثریا‘، ’ فیل بے زنجیر‘ اور’ فرازِ کوہ‘ جیسے لسانی نشانات سے ’’عظمت‘‘ کے مخصوص معانی متبادر ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عظمت کا یہ تصور محض’فطرت کی عظمت‘ ہے یا اقبال کسی اور عظمت کی جستجو میں ہیں؟ در حقیقت فطرت کو ایک منفعل حالت میں دیکھنے اور اس کے حسن کی پہنائیوں سے لطف اندوز ہونے کے بجائے یقینا اقبال کے لاشعور میں کسی اور عظمت کا تصور موجود تھا جو ابھی پوری طرح متشکل نہیں ہوا تھا۔ یہ انسان اور ملت اسلامیہ کی عظمت تھی۔ (اور ہمالہ کی حد تک وطن کی عظمت)؛ جو آگے چل کر اقبال کے ہاں بہت نمایاں ہو گئی۔ ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں:

مظاہر فطرت کی طرف اقبال کی پیش قدمی نے ان کے احساسِ جمال ہی کو صیقل نہیں کیا، ان کے احساسِ وسعت کی پیدائش اور نکھار میں بھی حصہ لیاہے۔ دراصل ابتدا ہی میں اقبال کو فطرت کے ان مظاہر نے خاص طور پر متاثر کیا جو اپنی عظمت، رفعت اور پر شور روانی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ مثلاََ ان کے ہاں ہمالہ عظمت و رفعت کا مظہر ہے اور شاعر کو نہ صرف اس کے پھیلائو اور ابدیت کے سامنے زندگی کے تغیر کا شدید احساس ہوتا ہے بلکہ وہ اس کی بلند اور برفانی چوٹیوں کو حیرت و استعجاب سے دیکھتے ہو ئے آسمانی وسعتوں کا بھی جائزہ لینے لگتا ہے۔ چناں چہ ہمالہ کی بلندی شاعر کی نظروں کو زمین کے مظاہر سے ہٹا کر آسمان کی وسعتوں کی طرف منعطف کرتی ہے۔ پھر جب ایک بار اس کی نگاہیں اوپر کو اٹھ جاتی ہیں تو وہ کائنات کے معجزوں میںگم ہو کر رہ جاتا ہے اورا س کا دل کئی طرح کے سوالات کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ (۶)

یہ مظاہرِ فطرت میں آسمانی وسعتوں کی جستجو ہی ہے جو ’ہمالہ‘ کو ایک سورما کے روپ میں پیش کرتی ہے۔ اقبال کے ہاں آفتاب کے ذکر میں بھی یہ سورمائی عمل دہریا گیا ہے۔ مختلف نظموں سے یہ اشعار دیکھیے:

اے آفتاب! روحِ روانِ جہاں ہے تو          شیرازہ بند دفترِ کون و مکاں ہے تو
(آفتاب)

شورشِ مے خانہء انساںسے بالاتر ہے تو              زینتِ بزم ِفلک ہو جس سے وہ ساغر ہے تو
 ہو دُر ِگوشِ عروس صبح، وہ گوہر ہے تو                 جس پہ سیمائے افق نازاں ہو وہ زیور ہے تو                                                             (آٖفتاب صبح)

دلیلِ صبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی           اُفق سے آفتاب اُبھرا گیا دور ِگراں خوابی
(طلوع اسلام)

وسعت عالم میں رہ پیما ہو مثلِ آفتاب      دامن ِگردوں سے نا پیدا ہوں یہ داغِ سحاب
کھینچ کر خنجر کرن کا، پھر ہو سرگرم ِستیز              پھر سکھا تاریکیِ باطل کو آدابِ گریز
(نوید صبح)

قلب و نظر کی زندگی، دشت میں صبح کا سماں          چشمہء آفتاب سے نور کی ندیاں رواں
(ذوق و شوق)

آفتاب، اقبال کے کلام میں ایک کلیدی علامت ہے جس سے مختلف تناظرات میں مختلف معانی متبادر ہوتے ہیں۔ طلوعِ آفتاب کا خوبصورت منظر اقبال کو ضزباتی کیفیت میں مبتلا کرتا ہے۔ مولوی انشاء اللہ خان ایڈیٹر ’’وطن ‘‘کے نام ایک طویل خط میں اپنے بحری سفر کی رواداد لکھتے ہوئے کہتے ہیں:

آفتاب چشمہء آب میں سے اٹھتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ اور سمندر اس وقت ایسا ہی ہے جیسا ہمارا دریائے راوی۔ شاید صبح کے پر تاثیر نظارے نے اس کو سمجھا دیا ہے کہ سکون ِقلب بھی ایک نایاب شے ہے۔ ہر وقت کی الجھن اور بے تابی اچھی نہیں۔ طلوع ِآفتاب کا نظارہ ایک درد مند دل کے لیے تلاوت کا حکم رکھتا ہے۔ یہی آفتاب ہے جس کے طلوع و غروب کو ہم نے میدان میں کئی دفعہ دیکھا ہے۔ مگر یہاں سمندر میں اس کی کیفیت ایسی ہے کہ                                                                     نظارہ زجنبیدن مژگاں گلہ دارد

حقیقت میں جن لوگوں نے آفتاب پرستی کو اپنا مذہب قرار دے رکھا ہے میں ان کو قابل معذوری سمجھتا ہوں۔‘‘(۷)

اس جذباتی منظر کشی کے بعد اقبال نے امام بخش کا ایک شعر نقل کیا ہے جواس فطرتی مظہر سے اقبال کو ایک ذہنی مناسبت پر دال ہے تاہم اقبال کے ایک جونیئر معاصر جوش ملیح آبادی نے طلوع آفتاب کے منظر کو زیادہ شدت اور جذبے کے تحت پیش کیا ہے۔ :

ہم ایسے اہلِ نظر کو ثبوت حق کے لیے                 اگر رسول نہ ہوتے تو صبح کافی تھی

حقیقت یہ ہے کہ اقبال کے نزدیک آفتاب ایک علامت، استعارہ یا تشبیہ سے زیادہ ایک زندہ فطرتی کردار ہے۔ رسولوں جیسی عظمت کا حامل ایک کردار۔ جو زمین پر نظام ہستی کا نگران ہے۔ یہ خالق شام و سحر بھی ہے اور ناظم فصل خزاں و بہار بھی؛یہ اس عظیم توانائی کا منبع ہے جو ضامن حیات ہے۔ قوانین فطرت کا تغیر و تبدل اسی کے وسیلے سے ممکن العمل ہوتا ہے۔ یہ فطرت اور اس کے تمام مظاہر کی نمو اور ارتقا ء کا سبب بھی ہے۔ صرف یہی نہیں زمین پر انسان کے مادی معاملات پر پوری طرح اثر انداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس لیے اقبال اسے ایک عظیم قوت تسلیم کرتا ہے اور اسے ایک ما بعد الطبیعیاتی کردار کے حامل وجود کی صورت میں دیکھتا ہے۔ فطرت کے اس سورمائی مظہر کے ساتھ اقبال کا رشتہ جمالیاتی سے زیادہ فلسفیانہ ہے۔ وہ عظمت رفتہ اور حال و فردا کے ممکنہ مثالی تصورات کا معنوی ربط آفتاب کے وجود میں تلاش کرتا ہے۔ اقبال نے اپنی ابتدائی شاعری میں فطرت کے ساتھ ایک جمالیاتی رشتہ قائم کیا مگر فطرت کے ساتھ ان کا یہ رومان زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ پہلے پہل یہ رشتہ جمالیاتی سے فلسفیانہ رشتے میں تبدیل ہوا اور پھر عظمت انسانی کے اس تصور میں جس نے فطرت کو اقبال کی شعری اقلیم سے بے دخل کر دیا۔ اگر مکمل بے دخل نہیں بھی کیا تو اقبال کے ہاں فطرت کی حقیقت ایک فراموش کردہ وجود کی رہ جاتی ہے۔ جس سے گاہے گاہے عظمت ِانسان و مسلمان کے تصور کو ابھارنے کے لیے علامتیں، تشبیہیں اور استعارے مستعار لیے جاتے ہیں۔ بانگ درا کے ابتدائی حصے سے ہی اقبال کے ہاں یہ رجحان نمایاں ہونے لگا تھا۔ انسان اور بزم قدرت کے پہلے حصے میں متکلم (انسان) فطرت سے مخاطب ہے، اس کے حسن کی تعریف میں رطب اللسان ہے اور اپنی تیرہ بختی اور محرومیوں کا شاکی ہے۔ دوسرے حصے میں ایک غیبی آواز انسان کو اس کی افضلیت کا احساس دلاتی ہے۔

انجمن حسن کی ہے تو، تری تصویر ہوں میں        عشق کا تو ہے صحیفہ، تری تفسیر ہوں میں
میرے بگڑے ہوئے کاموں کو بنایا تو نے              با ر جو مجھ سے نہ اٹھا وہ اٹھایا تو نے
اورخورشید کی محتاج ہے ہستی میری                   اور بے منت خورشید چمک ہے تیری

اور نظم کا آخری شعر:

تو اگر اپنی حقیقت سے خبردار رہے      نہ سیہ روزرہے پھر نہ سیہ کار رہے

رفعت و عظمت کا یہ احساس حیاتیاتی معاشرے میںانسانی فضیلت کے قدیم تصور سے پھوٹتا ہے۔ اس احساس کی بنیاد پر آگے چل کر اقبال کا پورا فکری نظام متشکل ہوتا ہے۔ اقبال کے تصور خودی، تصور مرد مومن، تصور ملت اور عظمت رفتہ کی بازیافت اور شاہین جیسی علامتیں اساسی طور پر اس تاریخی فلسفہ انسان پسندی سے جڑی ہوئی ہیں جو انسان اور فطرت کو برابری کے رشتے سے محروم کر کے انسان کی فضیلت کو باور کراتا ہے اور تسخیر فطرت کا جواز فراہم کرتا ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ’’نیچر ان (اقبال) کے لیے مقصود بالذات نہیں بلکہ ایک وسیلہ ہے جو انھیں دیگر مقاصد کی طرف گامزن ہونے کی تحریک دیتا ہے۔‘‘(۸) قیام یورپ اقبال کے خیالات میں واضح تبدیلی کا سبب ہوا اوروطن واپسی تک جمہوریت، وطنیت اور قومیت کے بارے میں اس کے تصورات یکسر تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر وحید قریشی نے لکھا ہے:

یورپ کے سفر نے مغربی قومیت کے تصورات کی اصل حقیقت علامہ اقبال پر واضح کر دی۔ اب وہ مغربی قومیت کے مقابلے میں ملت کے تصور کو پیش کرنے لگے۔ اتحاد وطن کو بنیاد ماننے کی بجائے مذہب کو ملت کی بنیاد قرار دیا گیا۔ وہ خود یورپ میں غریب الوطنی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ بار بار انھیں اپنا ملک یا دآتا ہے۔ لیکن اب ا س یاد کی حیثیت ایک نفسیاتی ضرورت کے سوا کچھ نہیں رہتی۔ اب وہ اس احساس کو پھیلا کر قومیت کے مذہبی تصور تک نہیں لے جاتے بلکہ جزیرئہ سسلی کے پا س سے گزرتے ہوئے مختلف ممالک میں مسلمانوں کی تہذیبی فتوحات کی یاد ان کے دل میں چٹکیاں لینے لگتی ہے، وہ عظمت رفتہ پر آنسو بہاتے ہیں۔ غرناطہ کی بربادی اور دلی کی تباہی انھیں خون کے آنسو رلاتی ہے لیکن یہ ماتم گذاری مظاہر قدرت کی پوجا کا رنگ اختیار نہیں کرتی۔ اب محدود نسلی اور جغرافیائی پیمانے اقبال کا راستہ نہیں روکتے۔ یہ عجیب بات ہے کہ اقبال اس دور میں اور اس کے بعد بانگ درا کے حصہ سوم میں جغرافیائی راستے ہی سے وطن کی غیرجغرافیائی سرحدوں تک جا پہنچے۔(۹)

وطنیت کے تصور میں تبدیلی اقبال کو National Self Enclosure سے آزاد کر کے ’’ترجمان ملت ‘‘ کے درجے پر فائز کرتی ہے۔ ملت کی ترجمانی جہاں حب ا لوطنی کے جذبے کی تقلیب کرتی ہے وہاں فطرت سے رومان کے خاتمے کا اعلان بھی ثابت ہوتی ہے۔ اقبال کا شعری عمل ایک بڑے نصب العین سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ جس کے بطن سے خودی اور مرد مومن جیسے تصورات جنم لیتے ہیں۔ اس امر کا اعادہ ایک بار پھر ضروری ہو جاتا ہے کہ اقبال کی ملی شاعری اور تصورات ہمارا سروکار نہیں ہیں۔ یہاں صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ عظیم انسانی نصب العین سے وابستگی اور ملی تصورات کی تشکیل کے بعد اقبال کے ہاں فطرت کا مقا م کس طرح سے تبدیل ہوتا ہے۔ اب اقبال کے ہاں فطرت کی تسخیر بذات خود انسانی عظمت کی دلیل بن جاتی ہے۔ مثال کے طور پر کلیات اقبال سے مختلف اشعار ملاحظہ ہوں:

عالمِ آب و خاک و باد! سر ِعیاں ہے تو کہ میں      وہ جو نظر سے ہے نہاں، اس کا جہاں ہے تو کہ میں
تو کفِ خاک و بے بصر، میں کف ِخاک و خود نگر              کشت وجود کے لیے آب رواں ہے تو کہ میں
تو زمیں کے لیے ہے، نہ آسمان کے لیے              جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
تو اے اسیرِ مکان، لامکاں سے دور نہیں               وہ جلوہ گاہ تیرے خاکداں سے دور نہیں
تقدیر کے پابند نباتات و جمادات                              مومن فقط احکامِ الٰہی کا ہے پابند
کمال ِترک نہیں آب و گل سے مہجوری                 کمالِ ترک ہے تسخیر ِخاکی و نوری
فطرت کو خرد کر کے رُوبرو کر                          تسخیر مقام رنگ و بُو کر
مہر و مہ و انجم کا محاسب ہے قلندر                     ایام کا مرکب نہیں راکب ہے قلندر

اس مقام پر پہنچ کر اقبال کے ہاں آب و خاک و باد، کفِ خاک و بے بصر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ خوبصورت، حسین اور مہربان فطرت ایک قابل تسخیر وحشیانہ قوت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہ عالم ِمادی انسان کی روحانی تکمیل کے راستے میں ایک ـ’’غیر‘‘ کے طور پر ظاہر ہوتا ہے اورروحانی تکمیل کے لیے فطرت کی ’’تباہ کن طاقت‘‘ کو تسخیر کرنا انسا ن کے لیے ضروری ہو جاتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ کائنات میں جو کچھ ہے وہ خدا کا ہے۔ فطرت کی بظاہر تباہ کن طاقتیں زندگی کا مآخذ بن جاتی ہیں اگر مناسب طور پر انسان ان پر قابو نہ پائے، کیوں کہ انسان کو ان طاقتوں کے ادراک اور ان پر غلبہ پانے کی صلاحیت عطا کی گئی ہے۔ اقبال کا خیال ہے کہ انسان کی عمرانی تاریخ میں اخلاقیات کے نام پر کچھ ایسے تصورات پیدا ہو گئے ہیں جو انسان کو ادراک ِکائنات اور تسخیر کائنات کی قوت سے محروم کر دیتے ہیں جیسے نفی ذات اور غلامانہ اطاعت وغیرہ۔ یہ انسانی فضیلت کی ایسی صورتیں ہیںجو بعض اوقات ترکِ دنیا اور عجز و انکسار کے نام پر خود کو چھپا لیتی ہیں۔(۱۰) وہ ایسی تما م خصوصیات کو ترک کر کے ان اعلا اوصاف کو اپنانے پر اصرار کرتے ہیں جو انسانی شخصیت کے لیے استحکام کا باعث ہوں۔ اقبال انسان کے لیے اپنے مقصد تخلیق کی انتہا کو چھو لینے کے لیے عالم مادی سے بالا تر ہو کر عالم اکبر سے رشتہ استوار کرنے پر زور دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں یقینی طور پر خارجی فطرت سے انسان کا رشتہ برتری اور فضیلت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اقبال کا تصور خودی فطرت کو ’’شر‘‘ تصور نہیں کرتا لیکن مادی دنیا یعنی فطرت کو ایک رکاوٹ ضرور شمار کرتا ہے۔ پروفیسر نکلسن کی درخواست پر تصور خودی کی توضیح کرتے ہوئے اقبال نے لکھا:

انسان کا اخلاق اور مذہبی نصب العین نفی ذات نہیں بلکہ اثبات ذات ہے اور وہ یہ نصب العین زیادہ سے زیادہ منفرد اور زیادہ سے زیادہ یکتا (Unique) بن کر حاصل کر سکتا ہے۔ انسان اپنے اندر خدائی صفات پیدا کر کے بے مثل ذات کے قریب ہو سکتا ہے۔ یہ قرب اسے مکمل ترین انسان بنا دیتا ہے مگر وہ خدا کی ذات میں جذب نہیں ہو جاتا بلکہ وہ خدا کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ حقیقی انسان نہ صرف مادہ کی دنیا کو جذب کرتا ہے بلکہ وہ اس کو مسخر کرتے ہوئے خدا کو بھی اپنی خودی میں جذب کر لیتا ہے۔ زندگی ایک مستعد، جذب کرنے والی حرکت ہے۔ یہ اپنی پیش قدمی میں تمام رکاوٹوں کو جذب کرتے ہوئے ہٹا دیتی ہے۔ تمنیات اور آدرشوں کی مسلسل تخلیق اس کا جوہر ہے۔ زندگی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ مادہ یعنی فطرت ہے۔(۱۱)

اقبال نے مغربی تہذیب اور سرمایہ داری نظام کو شدت سے ہدف تنقید بنایا ہے لیکن اس بنیاد پر کہ یہ روحانیت اور مذہب سے تہی ہے۔ جدید سرمایہ داری نظام کو فطرت کا سب سے بڑا حریف اور ماحولیات کا سب سے بڑا دشمن تصور کیا جاتا ہے۔ اقبال کی زندگی میں شاید ٹیکنالوجی کا بے مہار استعمال اس قدر شدید نہیں ہوا تھا جو آج ماحولیاتی بحران کا سبب بن رہا ہے مگر سرمایہ داری نظام کی اساس ہمیشہ سے انسان پسندی کے فلسفے اور فطرت کے استحصال پر رکھی جاتی رہی ہے۔ سرمایہ داری کی مکالفت کے باوجود تسخیر فطرت اور انسانی برتری کے نکتے پر اقبال سرمایہ داری کے ہم خیال محسوس ہوتے ہیں۔ اقبال کے ہاں شاعری کا آغاز فطرت کے ساتھ رومان، فطرت کے لیے گہرے جذبات اور مظاہر فطرت پر تفکر سے ہوا لیکن یہ تعلق زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ اقبال کی فلسفیانہ فکر، مقصدیت، نظریہ اور ملی جذبات جلد اس جمالیاتی احساس پر غالب آگئے اور فطرت کہیں پیچھے رہ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر مبارک علی کے اقبال پہ اعتراضات: چند معروضات ------- خرم علی شفیق

حوالہ جات

۱۔ عقیل احمد صدیقی، جدید اردو نظم؛نظریہ و عمل، لاہور:بیکن بکس، ۲۰۱۴ء، ص۳۲
۲۔ ڈاکٹر صدیق جاوید، اقبال:نئی تفہیم، لاہور: سنگ میل پبلی کیشنز، ۲۰۰۳ء، ص۵۳۸
۳۔ ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی، عروج اقبال، لاہور: ادارہ ثقافت اسلامیہ، ۱۹۸۷ء، ص۱۶۰
۴۔ ڈاکٹر صدیق جاوید، اقبال:نئی تفہیم، ص ۵۳۷
۵۔ ڈاکٹر وحید قریشی، اساسیات اقبال، لاہور: اقبال اکادمی، ۲۰۰۳ء، ص ۵۷
۶۔ ڈاکٹر وزیر آغا، نظم جدید کی کروٹیں، لاہور: سنگت پبلشرز، ۲۰۰۷ء، ص ۲۸
۷۔ علامہ محمد اقبال، مکتوب بنام مولوی انشاء اللہ(ایڈیٹر وطن)مرقومہ ۲۵نومبر ۱۹۰۵ء مشمولہ اقبال نامہ(مرتبہ: شیخ عطاء اللہ) لاہور: اقبال اکادمی، ۲۰۰۵ء، ص۶۰
۸۔ ڈاکٹر وزیر آغا، نظم جدید کی کروٹیں، ص ۳۳
۹۔ ڈاکٹر وحید قریشی، اساسیات اقبال، ص۶۱
۱۰۔ علامہ محمد اقبال بحوالہ ڈاکٹر صدیق جاوید، اقبال:نئی تفہیم، ص۱۸۹
۱۱۔ ایضاََ، ص۱۹۱

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20