ڈاکٹر برہان احمد فاروقی کے ساتھ ایک مصاحبہ (حصہ دوم) — جلیل عالی

0

اس سلسلہ کا پہلا حصہ اس لنک پہ پڑھیے۔

یوسف حسن؛ ایک ایسا معاشرہ جس میں طبقاتی تفریق زیادہ ہے اور مفادات متصادم ہیں، تو دونوں طبقوں کی جو راہ ہو گی وہ الگ ہو گی۔ اب اس سمت میں جو ٹھوس تاریخ بنے گی ان کی کشمکش سے، ایک عمومی راستہ تجویز ہو گا۔ اور ان میں سے کسی ایک طبقے کے غلبے سے جو راستہ بنے گا۔۔

ڈاکٹر صاحب؛ عمومی تو نہیں ہو گا۔ وہ تو ایک جبر کے انداز کے اندر ہو گا۔ وہ تو صحیح نہیں ہو گا۔ اس کے خلاف تو متصادم ہونا چاہیے۔

جلیل عالی؛ ویسے اس حساب سے اگر بات کی جائے کہ جو طبقاتی فاصلہ ہے، طبقاتی فرق ہے اس کو کم کرنا اسلامی نقطہِ نظر سے درکار ہے۔ اب اس کو کم کرنے کا ادعا کچھ دوسرے لوگ بھی رکھتے ہیں جو اسلامی نقطہِ نظر کو نہیں مانتے مکمل طور پر۔ گویا وہ محدود نظریہِ حیات رکھنے کے باوجود طبقاتی فرق کو کم کرنا چاہتے ہیں۔۔ اور اسلامی ذہن وسیع تر نظریہِ حیات رکھنے کے حوالے سے بھی محدود کرنا چاہتا ہے۔ دونوں کی ایک شرکتِ کار کا پہلو نکلتا ہے۔ اب اسلامی قیادتوں کی طرف سے ہر وہ اپروچ جو جامع نتیجہ پیدا کرنا چاہتی ہے، وہ یہ تو کر سکتی ہے کہ ان محدود نقطہِ نظر رکھنے والے لوگوں سے الگ اپنے جامع نقطہِ نظر کے حوالے سے طبقاتی فرق کم کرنے کی کوشش کرے۔ اس ٹارگٹ کو پیشِ نظر رکھے۔ یہ تونہیں کرسکتی کہ طبقاتی فرق کم کرنے کے ایٹیچیوڈ کی مخالفت کرے۔

ڈاکٹر صاحب؛ نہیں۔ لیکن طبقاتی کشمکش کو کم کرنے سے تو نہیں بنے گی بات۔ لیکن یہ ہے کہ جو معاشی دیڈلاک ریزالو کرنا ہے نشوو نما کے لیے، کنڈیشن یہ ہے کہ اشتراکی نقطہِ نگاہ رکھنے والوں کے یہاں انقلاب سے پہلے ڈیڈلاک کو ریزالو کرنا حرام ہے۔ کیونکہ ڈیمانڈ فیل ہو جائے گی اور اِنسینٹِو ختم ہو جائے گا۔

جلیل عالی؛ ڈاکٹر صاحب ٹھیک ہے۔ یہ بات میں نے سمجھ لی آپ کی۔ اسلامی نقطہِ نگاہ سے ہم یہ نہیں سوچ سکتے کہ اگر لوگوں کی فلاح کی کوئی ریفارم ہم نے کردی تو وہ جو ریو ولوشن کے لیے شدت والا طبقاتی تضاد چاہیے وہ نہیں ملنے کا۔ اسلامی نقطہِ نگاہ سے یہ جائز نہیں۔ لیکن جب آپ ریفارم کرتے ہیں اسلامی نقطہِ نظر سے تو اس وقت بھی پیشِ نظر تو یہی ہوتا ہے نا کہ طبقاتی فرق کم ہو۔

ڈاکٹر صاحب؛ نہیں۔ اس وقت پیشِ نظر یہ ہوتا ہے کہ ایک ہمہ گیر نقطہِ نگاہ درکار ہے جس میں انفرادی، اجتماعی اور بین الاقوامی تینوں تصور داخل ہیں۔ اور ان سب میں ہر ایک کے اندر تین پہلو ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے اندر ایک اصلاح طلب خصوصیت ہے اور ایک اس کی اصلاح پذیری ہے۔ مثال کے طور پہ معاشی پہلو کی اصلاح طلب جو خاصیت ہے وہ حرص و لالچ اور بخل ہے۔ تو اسلام کے لحاظ سے حرص و لالچ اور بخل کے بدلے انفاق، ایثار اور احسان کا تقاضا غالب آنا چاہیے۔ اسی صورت نتائج پیدا ہوں گے اس کے بغیر ہرگز نہیں ہوں گے۔ اور یہ ایفرٹ اشتراکی انقلاب میں اس وقت تک ناجائز ہے جب تک انقلاب ان کا غالب نہ آجائے۔

جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صاحب میں عرض کرتا ہوں۔ مثلاً آپ نے کہا کہ ایثار اور دوسروں کے مفاد کی بات اور۔۔
ڈاکٹر صاحب ؛ احسان
جلیل عالی ؛ احسان۔ یہ پیدا کرنا اسلامی مقصود ہے۔
ڈاکٹر صاحب ؛ حرص و لالچ اور بخل کی بجائے۔
جلیل عالی ؛ حرص و لالچ اور بخل کی بجائے
ڈاکٹر صاحب ؛ ٹھیک!
جلیل عالی؛ اگر اسلام ہمیں ساتھ یہ بھی بتا رہا ہوکہ اگر غربت ٹھونسی ہوئی ہے لوگوں پر تو اس سے ان کا ایمان کمزور ہوتا ہے۔ کہ غربت ایمان کو کمزور کر دیتی ہے۔ ٹھیک ہے۔ تو پھر بھی پہلا تقاضا یہی پیدا ہوا نا کہ غربت دور کی جائے۔ تو ان کے اندر یہ ایثار پیدا ہو گا۔

ڈاکٹر صاحب؛ مگر غربت کو دور کرنا اشتراکی آئیؑڈیل کے حوالے سے ناجائز ہو گا۔ کہ وہ تو طبقاتی کشمکش کوختم کر دے گا۔ اس لیے وہ تو قابلِ قبول نہیں ہے ان کے لئے۔
جلیل عالی؛ کون سی چیز طبقاتی کشمکش کو ختم کر دے گی؟
ڈاکٹر صاحب ؛ انقلابِ کامل سے پہلے ڈیڈلاک ریزالو کرنا۔

جلیل عالی؛ ڈاکٹر صاحب میں اصل میں عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ جب آپ ڈیڈلاک ریزالو کرناچاہتے ہیں نا۔ مثلاً فرض کریں ہم یہ چاہتے ہیں جو سب سے کم تنخواہیں لینے والے لوگ ہیں جن کا گزارا بھی نہیں ہوتا، ان کی ذہنی صلاحیتیں، تخلیقی صلاحیتیں مفلوج ہو جاتی ہیں اور حتیٰ کہ ان کا ایمان بھی مفلوج ہو جا تا ہے تو ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔ ہم ایک ریفارمیٹو بات کرتے ہیں۔ اس سے اشتراکی کشمکش مِنیمائز ہوتی ہے، جو اشتراکی طریقہِ کار نہیں ہے۔ کیونکہ جب ان لوگوں کو کچھ نیچے سے اوپر اٹھاتے ہیں تو اس سے طبقاتی کشمکش کم ہوتی ہے۔ یہ اشتراکی طریقہِ کار تو نہیں ہے نا! تو گویا ہم نے طریقِ کار تو اشتراکی منتخب نہیں کیا جو کہ طبقاتی نفرت پیدا کرنے والا ہے۔

ڈاکٹر صاحب ؛ لیکن اسلامی بھی نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ طے کرنا پڑے گا کہ ڈیدلاک کو ریزالو کرنے کی ذمہ داری کس کس کے اوپر عاید ہوتی ہے۔ تو افراد پر بھی ہوتی ہے، معاشرے پر بھی ہوتی ہے اور سٹیٹ کے اوپر بھی ہوتی ہے۔ اور اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے جو ٹیکنیک قرآن نے اختیار کی ہے اس میں سب سے زیادہ جو اہم ہے وہ قرضِ حسنہ ہے۔ جس کے اندر ڈیڈلاک ہے اسے ریزالو کرنے کے لیے صاحبِ ثروت اپنے مال میں سے اس کا ڈیڈ لاک ریزالو کرے اور اس کومقروض نہ سمجھے اللہ کو مقروض سمجھے۔ اور جب یہ ڈیدلاک ریزالو ہو گا اس سے نتائج پیدا ہوں گے۔

جلیل عالی؛ ڈاکٹر صاحب ! میں نے ایک اور بات کی ہے۔ یہ تو آپ قرضِ حسنہ تک پہنچ گئے۔ میں نے تو سٹرکچر آف سیلریز کی بات کی ہے۔

ڈاکٹر صاحب ؛ سنئے تو! سٹرکچر آف سیلریز کے اندر جو لوگ زیادہ پاتے ہیں اگر ان کے اندر بھی تبدیلی نہیں ہوتی کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ جو لوگ تکلیف میں ہیں ان کی تکلیف رفع ہونی چاہیے تو کبھی نہیں ہو گا۔
نوازش علی ؛ ڈاکٹر صاحب یہ ہو تو نہیں رہا۔ ہونا کیا چاہیے؟ ابھی تو بات یہ ہے۔ جن کی زیادہ تنخواہیں ہیں وہ یہ نہیں کر رہے۔ وہ کبھی نہیں چاہیں گے۔

جلیل عالی ؛ وہ کبھی نہیں چاہیں گے۔ نمبر دو تبلیغی جماعت ہو چاہے ریوولوشنری جماعت ہو وہ بھی ان بالا دست طبقات کو راضی نہیں کر سکتی کہ وہ ایثار کریں اور نیچے والوں کی تنخواہیں بڑھوائیں۔ پھر یہی ہو گا کہ جب تک کوئی ایسی تحریک۔ ۔

ڈاکٹر صاحب ؛ ایگزامپل سیٹ کر کے اور نتائج پیدا کر کے دکھا کے یہ بات پیدا ہوگی۔ ایسے نہیں ہونے کی۔

یوسف حسن ؛ قرضِ حسنہ سے یاد آیا۔ اس کی ٹھوس شکل سٹیٹ اور حکومت ہے۔ اور اس پر کسی نہ کسی طبقے کا غلبہ ہوتا ہے۔ تو پاکستان میں جو صورتِ حال ہے، وہ پچھلے دنوں یہ پتہ چلا کہ حکومت نے بڑے بڑے سرمایہ داروں کے نوے نوے کروڑ کے قرضے معاف کر دیے ہیں۔ اب ظاہر ہے قرضہ معاف کرنا ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ حکومت بھی ان کی اپنی اور اپنے جیسے لوگوں کے قرضے انہوں نے معاف کر دیے۔ عوام کا اس میں کیا گناہ ہوا۔ تو مطلب یہ ہوا کہ۔ ۔

ڈاکٹر صاحب ؛ یہ تو اس صورت میں ہے جب اسلام کے نقطہِ نگاہ سے بغاوت کرنا مقصود ہو اور عدم توازن برقرار رکھنا مطلوب ہو۔

جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صاحب مفاد پرست طبقے یعنی اوپر والوں کو تو اس سے کوئی پرابلم نہیں کہ اسلام کے خلاف بغاوت ہو رہی ہے یا نہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ جابر جکمران کے سامنے کلمہِ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے، یہ بات درست ہے نا! اور حضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں اس وقت تک طاقت استعمال کروں گا جب تک ظالم سے مظلوم کو اس کا حق نہیں دلوا دیتا۔ اگر ہم ان دو باتوں کو پیشِ نظر رکھ کر یہ سمجھیں کہ ملک میں ظالم طبقات پیدا ہو چکے ہیں اور اپنے مفاد کی وجہ سے انہوں نے نچلے طبقات کے حقوق غصب کیے ہوئے ہیں۔ تو یہاں دو باتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ہم اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں جب تک ان مظلوموں کے حقوق ظالموں سے لے کر نہیں دے دیتے۔ اور دوسری بات یہ کہ اس کے لیے کلمہِ حق سے آغاز ہو گا۔

ڈاکٹرصاحب ؛ سنیے تو! صرف کلمہِ حق سے آغاز نہیں ہو گا بلکہ ایثار کر کے اور اپنے اوپر پاورٹی امپوز کر کے دوسروں کا ڈیڈلاک ریزالو کرنے سے ہو گا۔ وگرنہ نہیں بنے گی بات۔

یوسف حسن ؛ یہ تو انفرادی احساس کی بات ہے۔

جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صاحب دیکھیں ! اب اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہاں سب سے زیادہ کار آمد سٹف وہ ہو گا جو آل ریڈی معاشی آسودگیاں نہیں رکھتا اور پہلے سے محروم ہے اور جس کے پاس ایثار کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں، وہ دوسروں کی خاطر تاریخی عمل میں شرکت کرے۔ اور دوسرا یہ کہ آدمی اپر کلاس سے آئیں اور خود کو ڈی کلاس کر کے منظم ہوں۔ اب اگر کوئی آتا ہے حضرت عثمان کی طرح ڈی کلاس ہو کر تو بہت خوشی کی بات ہے۔ اگر کوئی نہیں آتا تو ان لوگوں کو جو محروم ہیں اور جو ایثار کرنے کے لیے بھی کچھ نہیں رکھتے سوائے فزیکل مدد کے، وہ منظم ہوں تو کیا یہ عین اسلام کے مطابق نہیں ہو گا؟

ڈاکٹر صاحب ؛ ٹھیک ہے۔ لیکن کس آئیڈیل کے لیے منظم ہوں اور کون سا تضاد انٹینسیفائی کرنے سے منظم ہوں۔ یہ ہے اصل بات۔ قرآن کی رُو سے وہ جو ٹیکنیک آف ریوولوشن ہے وہ پانچ سوالوں کے جواب میں پوشیدہ ہے۔
پہلا سوال یہ ہے کہ کون سا تضاد شدید تر کرنے سے وفا داری متعین ہو گی اور جماعت منضبط ہو گی، اور تصادم فیصلہ کن ہو گا۔ تو اشتراکی تو یہ کہتا ہے کہ وہ طبقاتی تضاد کے انٹینسیفائی کرنے سے ہو گا۔ اور قرآن کے مطابق یہ ہے کہ آنحضورؐ کی تصدیق اور تکذیب کے تضاد کو شدید کرنے سے وفاداری متعین ہو گی اور تصادم فیصلہ کن ہو گا۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ اس کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ جد و جہد تخریبِ محض میں ختم نہیں ہو گی اور اس سے نتائج مرتب ہو کے رہیں گے۔ اس کی ضمانت نفع بخشی اور فیض رسانی ہے جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے۔
تیسرا سوال یہ ہے کہ جب تک تصادم کو دعوت دینے کی طاقت نہ ہو پروگرام کیا ہو۔ تو قرآن کی رُو سے وہ پروگرام انقلابی سٹف کا معاشی استحکام ہے اور اس کا نمونہ وہ مواخات ہے جو مہاجرین اور انصار کے درمیان آنحضورؐ نے قائم فرمائی۔
اور چوتھا سوال یہ ہے کہ دعوتِ انقلاب کے کتنے اقسام کے ردِ عمل پیدا ہوں گے، ان کی بے خطا پیش بینی کی جائے۔ قرآن کی رُو سے تین ردِ عمل ہیں۔ ایمان، کفر اور منافقت۔ اور اس سے تین گروپ پیدا ہوتے ہیں؛مومن، کافر اور منافق۔ اور ان میں سے ہر ایک گروپ کی نفسیات جتنے مختصر انداز میں قرآن نے واضح کی ہے، ان کے بارے میں وہ بصیرت تمام دنیا کا انقلابی لٹریچر پڑھ کر بھی پیدا نہیں ہوتی۔
اور پانچواں سوال یہ ہے کہ ہر ردِ عمل کے جواب میں انقلابی قیادت کیا طرزِ عمل اختیار کرے کہ سِچوایشن کا کنٹرول اس کے ہاتھ میں آجائے۔ وہ اصحابِ ایمان کی آبیاری اور ان کی دلنوازی اور ان کا معاشی استحکام ہے۔ اور منافقوں کی پروردگی اور کافروں کو طاقت سے زیر کر کے ان کو نفع پہچانا ہے۔
اور چھٹا سوال یہ ہے کہ وہ محرک کیا ہو گا جو اس جد و جہد میں استقامت دلا دے اور انحراف نہ کرنے دے۔ تو وہ پھر وہی آنحضورؐ کی تصدیق اور تکذیب کا تضاد وہ محرک ہے۔
تو اس ٹیکنیک کی روشنی میں آپ پرانی تاریخ کو جس کی حیثیت عروج و زوال دونوں کی ہے، سے اینیلائز کریں تو اس کے بعد آپ کو سمجھ آجائے گا کہ کس رویے کا کیا نتیجہ اور کیا طرزِ عمل ہے۔

جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صاحب میں نے یہ عرض کیا تھا کہ جو رسول اللہؐ کی تصدیق اور تکذیب سے کونفلکٹ ابھرنے کی بات ہے یہ ہم جب اپنی ضرورت کے مطابق ابھاریں گے، وہ ایک اور مسئلہ ہے۔ فی الحال صورتِ حال یہ ہے کہ کہ مظلوموں اور ظالموں میں جو کنکریٹ اسلام کے حوالے سے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کون مظلوم ہے اور کون ظالم ہے۔ ہر ڈیفینیشن کے اعتبار سے۔

ڈاکٹر صاحب ؛ سنیے تو! یہ بات ختم ہو جائے گی۔ جب آپ سورہ ماعون کو پڑھتے ہیں۔ اس وقت کی بات نہیں جب طاقت آ گئی ہے، یہ اس وقت کی بات ہے جب سب کمزور ہیں اور مبغوض ہیں اور مظلوم ہیں۔ اس وقت یہ کہا جا رہا ہے کہ جو شخص معاشی ڈیڈلاک ریزالو کرنے کا انکار کرے وہ تکذیبِ دین کر رہا ہے۔
’’اَرَء یَتِ الّٰذی یُکَذِّبُ بِا لدِین۔ فَذَالِکَ الّٰذِی دُعُّ الیتِیم۔ وَ لا یَحُضُّ علیٰ طعامِ المِسکِین۔‘‘
تو اسے سمجھنا درکار ہے۔ اس ٹکنیک کے مطابق اگر چلیں تو۔ ۔

جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صاحب مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے اندر اور تمام مسلم معاشروں کے اندر جو مظلوموں اور ناداروں اور مجبوروں اور مقہوروں کا معاشی ڈیدلاک ریزالو کرنے کے لیے کوئی پارٹی جو بھی منشور سامنے لاتی ہے، بالا دست طبقات کی طرف سے اس کی مخالفت ہوتی ہے۔ تو اسے میں اسلامک ٹرمینالوجی میں یوں کہتا ہوں کہ قرآن کے مطابق معاشی ڈیڈلاک ریزالو کرنا اسلام ہے اور اس کی مخالفت کرنا کفر ہے۔ ٹھیک ہے؟

ڈاکٹر صاحب ؛ یہاں ایک بات اور سنیں اور ذرا صبر کے ساتھ سنیں! اور وہ یہ ہے کہ اب تک جو جماعتیں اس قسم کی جد و جہد کرتی آئی ہیں انہوں نے اپنے ملک کے اندر اپنے اقتدار کو حاصل کرنے کی خاطر حکومت سے تصادم کروایا ہے اور وہ ڈسٹرکٹِو ثابت ہوا ہے۔ اخوان کے ہاں بھی اور جماعت اسلامی میں بھی۔ تو یہاں کامیاب وہ ہو گا جو قرآن کے نقطہِ نگاہ کو ریئلائز کروا دے اور عالمی سطح پر اس کے لیے راہ ہموار کرے اور اس کے پریشر سے اسے درست کروائے۔ بجائے اس کے کہ وہ اپنی حکومت سے تصادم کرے کہ وہ اقتدار حاصل کرکے ٹھیک کرے۔

جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صاحب عالمی سطح پر اس گروہ کا کیا مؤقف ہو گا؟ آپ نے جماعت اسلامی اور اخوان المسلموں کی بات کی۔ میرا خیال ہے جماعت اسلامی نے تو کبھی حکومت سے ٹکر نہیں لی۔ اور اخوان المسلمون۔ ۔
ڈاکٹر صاحب ؛ لیکن تضاد تو ابھر گیا نا!
جلیل عالی ؛ یہ جو تضاد ان کا ابھر رہا ہے یہاں وہ معاشی نہیں ہے۔
ڈاکٹر صاحب ؛ وہ ہوسِ اقتدار کا ہے۔

جلیل عالی ؛ دراصل وہ کچھ ٹریڈیشنل ایتھکس کا ہے۔ مثلاً جو بالا دست طبقہ ہے وہ کچھ مارڈنزم کی قدروں کا قائل ہے اور جماعت اسلامی والے ٹریڈیشنل قدروں کے قائل ہیں۔

ڈاکٹر صاحب ؛ نہیں یوں نہیں۔ اسے ذرا اور طرح سے دیکھیں ! یہ کیویسچن ایبل ہے۔ اس میں جماعت اسلامی کا نقطہِ نگاہ یہ ہے کہ زندگی جو ہے وہ قانون سے اصلاح پذیر ہو سکتی ہے۔ اور ہمیں اقتدار ملے تو ہم طاقت سے یہ سب کر دیں گے۔ لیکن قانون کا یہ فنکشن نہیں اور نہ ہو سکتا ہے کہ وہ مِٹی ہوئی اقدار کو دوبارہ پیدا کر دے۔ قانون کا فنکشن یہ ہے کہ اگر اقدارِ حیات بر قرار ہوں اور قانون کو قوتِ نافذہ میسر ہو تو وہ ان کی صرف حفاظت کر سکتا ہے۔ اور آج پوزیشن یہ ہے کہ وہ تمام فضائلِ حیات تباہ ہو گئے ہیں اور کسی قانون سے ریوائِو نہیں ہو سکتے۔ اور ہمیں سوچنا ہو گا کہ پہلے کیسے ریوائِو ہوئے تھے؟

جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صاحب ہم نے اسی کو ٹریڈیشنلزم کہا ہے۔

یوسف حسن ؛ ان کے سامنے جو آئیڈیل ہے اس آئیڈیل سے بھی بہت سے لوگوں کو اختلاف ہے۔ مثلاً! ہم سنجیدگی سے یہ سمجھتے ہیں کہ جو اسلام کی اصل تعلیمات ہیں وہ جماعت کی آئیڈیل نہیں ہیں۔ اس سے متصادم ہیں۔

ڈاکٹرصاحب ؛ تو یہ تو اس لیے ہے کہ انہوں نے خود اپنا پوائنٹ آف وِیُو زوال پذیر ٹریڈیشنل فکر سے متعین کیا ہے، قرآن کے حوالے سے نہیں کیا۔ یہ ہے اس کی وجہ۔

جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صاحب اصل تضاد جو ہے معاشی سسٹم کا وہ نہیں۔ معاشی سسٹم دونوں کے ہاں ایک جیسا ہے سٹیٹس کو والے لوگوں اور جماعت اسلامی کا۔ فرق صرف ایٹیچیوڈ کا آتا ہے۔ ایک ٹریڈیشنل ویلیوز کو ڈومینیٹ کرنا چاہتے ہیں اور دوسرے ماڈرن ویلیُوز کو اپنانا چاہتے ہیں، کیپیٹلسٹ اور فیوڈل سٹرکچر کے ساتھ۔ اس لیے ان کا کونفلکٹ تو نہیں بنتا۔ آپ اکنامک سڑکچر کہہ لیں۔ بنیادی فرق اکنامک ڈھانچے کا نہیں ہے۔

ڈاکٹر صاحب ؛ وہ رسول اللہؐ کی تصدیق اور تکذیب کے تضاد سے بنے گا۔

یوسف حسن ؛ اس میں بھی دونوں ایک جیسے ہی ہیں۔

ڈاکٹر صاحب ؛ دیکھیں! اس میں بھی اگر قانون کا نقطہِ نگاہ اختیار کیا جائے گا تو مفاد پرستوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اور اگر انقلاب کا نقطہِ نگاہ اختیار کیاجائے گا تو انقلابیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس فرق کو آپ سمجھیں۔

جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صاحب میں یہ کہہ رہا تھا کہ آل ریڈی کچھ طاقتیں مجبوروں اور مقہوروں کے ڈیڈلاک ریزالو کرنے کے منشور رکھتی ہیں اور ان کے وہ منشور رکھنے کی وجہ سے، جیسے آپ نے کہا نا کہ اللہ ان کی ضد پیدا کرتا ہے۔ اور دشمن پیدا کرتا ہے۔ ان کے دشمنوں میں بالا دست طبقات جس میں بیروکریسی ہے، آرمی ہے، سرمایہ دار ہے۔ اب صرف سوائے اس کے وہ کچھ اور نہیں کہہ رہے کہ یہ ایک کافرانہ عمل ہے کہ آپ لوگوں کا معاشی ڈیڈلاک ریزالو نہیں ہونے دے رہے۔ ورنہ اللہ کا اصول یہاں کارفرما ہو رہا ہے کہ تم جب لوگوں کی نفع رسانی کی بات کرو گے تو تمہارے خلاف دشمن پیدا ہوں گے۔

ڈاکٹر صاحب ؛ یہ تو ٹھیک ہے۔ لیکن آپ اس پہ غور کریں کہ ان لوگوں کو قانون کے نقطہِ نگاہ سے سہارا مل رہا ہے جو ظالم ہیں۔ اگر قانون کی بجائے انقلابی نقطہِ نگاہ اختیار کیا جائے تو تقویت ان لوگوں کو پہنچے گی جو محروم ہیں۔
جلیل عالی ؛ اب میں یہ کہہ رہا ہوں کہ جو عوام دوست پارٹیاں ہیں ہمارے ملک میں وہ قانون کو مانتی ہی نہیں، جو بنا ہوا ہے۔ وہ تو نیا قانون بنانا چاہتی ہیں۔ ایسا نیا قانون جو ان نئی ویلیوز سے ہم آہنگ ہو گا جو لوگوں میں پلانٹ ہو رہی ہیں۔ اور جو نئی ویلیوز لوگوں میں پلانٹ ہو رہی ہیں وہ یہ ہیں کہ انسان تو برابر ہوتے ہیں۔ اور ان میں جو نیچرل صلاحیتیں ہوتی ہیں ان کی نشو و نما کے راستے کھلے ہونے چاہئیں۔ ان پر کچھ لوگ غاصب ہو کر نہ بیٹھے رہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایک ویلِڈ تھنکنگ ہے۔

ڈاکٹرصاحب ؛ مگر ان کی جو ٹیکنیک ہے اس کی رُو سے انقلاب میں کامیابی سے پہلے حرام ہے کہ لوگوں کا معاشی ڈیڈلاک ریزالو کریں۔ اس میں یہ بنیادی غلطی ہے۔ یوں سیلف کنٹراڈِکٹری ہے۔

جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صاحب یہ بات سمجھ آ رہی ہے، ان کو چاہیے کہ اپنے کارکنوں کے درمیان۔ ۔
ڈاکٹر صاحب ؛ چاہیے پر عمل نہیں کریں گے، جس پر ایمان ہے اس پر عمل کریں گے۔ طبقاتی کشمکش!
یوسف حسن ؛ وہ تو خیر ایک الگ مسئلہ ہوا نا!
جلیل عالی؛ کچھ ایسا ہے بھی۔
یوسف حسن ؛ کچھ لوگوں نے لکھا بھی ہے۔ ایک آئیڈیل انقلاب کا نقطہِ نظر رکھتے ہوئے اصلاحات کی تحریکیں بھی چلائی ہیں۔ خود لینن نے اس کو رد نہیں کیا۔ یہ نہیں کہا کہ اصلاحات نہیں ہونی چاہئیں۔ صرف یہ کہا کہ ہم اصلاحات سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کو سب کچھ نہیں سمجھتے۔
ڈاکٹر صاحب ؛ ذرا رکیں اور دیکھیں کہ کیا رشیا کے اندر ایک چپڑاسی اور وزیر کے ساتھ ایک جیسا معاشی انصاف ہو رہا ہے؟ وہ تو ان کی ٹکنیک میں ہے ہی نہیں۔
یوسف حسن ؛ اس طرح ہم دوسرے موضوع پر چلے جائیں گے۔ یہ الگ موضوع ہو گا۔

جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صاحب ہمارے لیے وہ کوئی نمونہِ کمال نہیں ہیں۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مظلوم اور مقہور خود بھی منظم ہوں اور صاحبِ بصیرت لوگ بھی ان کی مقہوری اور مجبوری کو دور کرنے کے لیے اور نفع رسانی کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرنے والی کافرانہ قوتوں، چاہے وہ مسلمان ہوں، ان کے خلاف فائٹ کریں۔ تو یہی تو در اصل ہو رہا ہے نا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں مثلاً۔۔

ڈاکٹر صاحب ؛ نہیں موٹیویٹنگ فورس جو ہے وہ طبقاتی کشمکش ہی ہے۔ تصدیق اور تکذیب کا تضاد اس میں موٹیویٹنگ فورس نہیں ہے۔

یوسف حسن ؛ یہ تو دوسری بات ہوئی نا! پاکستانی معاشرے میں تصدیق و تکذیب کا معیار پیدا بھی کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ کم از کم مسلمان تو ہیں ہی۔ وہ بیج تو ہے جس کی نشو و نما ہو سکتی ہے۔ یہ مسئلہ تو اپنے اندر کا مسئلہ ہے۔ ہمارے ہاں یہ امکان تو ہے نا جس کی ترغیب دی جا سکتی ہے۔ مگر ہو یہ رہا ہے کہ کچھ لوگ بہت سادہ تقسیم کرتے ہیں۔ کہ یا طبقاتی تقسیم کو مانو۔ اِدھر یا اُدھر۔ یا پھر خدا پرست اور خدا کو نہ ماننے والے۔ یہ تقسیم دنیا بھر میں ہے کہ خدا کو ماننے والے چاہے کسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں وہ ایک طرف ہو جائیں اور خدا کو نہ ماننے والے۔ یہ سادہ تقسیم ہمارے ہاں۔۔

ڈاکٹر صاحب ؛ آپ نے میرے الفاظ پہ بالکل غور نہیں کیا۔ میری گزارش یہ تھی کہ پہلی شرط ٹیکنیک آف ریو ولوشن کی یہ ہے کہ ایسا تضاد اِنٹینسیفائی کیا جائے جس سے لائی ایبلٹی ڈِیفائن ہو، یونِٹی اِنٹگریٹ ہو اور تصادم فیصلہ کن ہو۔

یہ گفتگو اس لنک پہ سنی جاسکتی ہے:

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20