موٹر وے واقعہ: سنجیدہ و غیر سنجیدہ تجزیہ کار، چند سوال —– وحید مراد

0

موٹر وے پر ہونے والے المناک واقعے اور اس جیسے دیگر واقعات کی تفصیلات کی تشہیر کے کئی مقاصد ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس سے مظلوم کی آواز ان ایوانوں تک پہنچ جائے جہاں سے اسکی داد رسی ہونی ہے۔ دوسرا مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ عوام کو اس سے کوئی سبق حاصل ہو، تیسرا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ ظالم کے خلاف لوگوں میں ایک جذبہ پیدا ہو اور وہ ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

اس میں کوئی شک کی بات نہیں کہ یہ تینوں مقاصد انتہائی اہم ہیں اور اس سلسلے میں شریف اور سنجیدہ خواتین و حضرات کے جذبات قابل قدر ہیں کیونکہ انکا مقصد بہتری اور اصلاح ہے۔ انکے پیش نظر یہ بات ہے کہ کچھ ایسا انتظام ہو جائے کہ آئندہ کسی کی بہن، بیٹی، بیوی اور ماں کے ساتھ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہ آئے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنکا ان تینوں مقاصد سے کوئی تعلق نہیں وہ اپنے جیسے دیگر لوگوں کو اپنے تجزیوں اور پوسٹوں کی طرف زیادہ سے راغب کرکے خودنمائی کے جذبے کی تسکین چاہتے ہیں، خواہ اس سے مظلوم اور متاثرہ فرد کی زندگی عذاب ہی کیوں نہ بن جائے۔ اس مضمون میں کی جانے والی اصل تنقید کا نشانہ صرف اور صرف یہی لوگ ہیں۔ شریف النفس خواتین و حضرات سے ہماری التجا ہے کہ وہ آزردہ خاطر نہ ہوں، انکے کسی عمل کا اگر ہم نے تجزیہ کرنے کی کوشش کی بھی ہے تو اپنے آپ کو انہی کے حلقے میں رکھ کر ایسا کیا ہے گویا یہ تنقید و تجزیہ ان کی ذات پر نہیں ہماری اپنی ہی ذات پر ہے۔

موٹر وے پر ہونے والا واقعہ ہماری قوم کی زندگی میں یا انسانیت کی تاریخ میں ہونے والا کوئی پہلا یا آخری واقعہ نہیں ہے۔ ایسے اور اس سے ملتے جلتے ظالمانہ واقعات ہر روز ہمارے ارد گرد دنیا کے ہر کونے میں وقوع پذیر ہو رہے ہوتے ہیں جنکی ہر شکل قابل مذمت ہے۔ دنیا کے ہر درد مند شخص کا دل ایسے واقعات پر خون کے آنسو روتا ہے لیکن اس معاملے میں صرف جذبات کا اظہار کافی نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسٹوری کی تشہیر کے مقاصد؟
جو لوگ اس اسٹوری کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کر رہے ہیں اگر انکا مقصد مظلوم کی آواز کو حکومتی ایوانوں تک پہنچانا ہے تو عرض ہے کہ حکومتی ایوانوں تک آواز تو اس وقت ہی پہنچ گئی تھی جب پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی۔ اس معاملے کی تحقیق و تفتیش پولیس نے ہی کرنی ہے اور مجرموں کو بھی پولیس نے ہی تلاش کرکے گرفتار کرنا ہے اور عدالت سے سزا دلوانی ہے۔ آپ اس تشہیر سے تو یہ سب کام نہیں کر سکتے۔ آپ کی تشہیر سے زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ حکومت پر ایک پریشر آئے گا اور وزراء پبلک کنزمشن کے بیانات دینا شروع کر دیں گے جوکام انہوں نے پہلے دن سے ہی شروع کر دیا ہے۔ دوسرا کام یہ ہو سکتا ہے کہ قانون ساز ادارے اس پر کچھ مزید قانون سازی کر دیں گے مگر پہلے جو قانون سازی ہو چکی ہے اس پر کیا عمل درآمد ہوا ہے کیا ان مسائل کا حل محض قانون سازی سے ممکن ہے؟ یعنی ہماری اپنی کوئی ذمہ داری نہیں کہ ہم اپنے علم و اخلاق کی بہتری اور تربیت پر کوئی توانائی صرف کریں؟ یہ بس قانون کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر اچھا کام ہم سے زبردستی کرائے؟ جب ہم خود ایسا ہی کوئی جرم کر بیٹھتے ہیں اور گرفتار ہوجاتے ہیں تو پھر ہماری ساری تنقید اسی قانون کے خلاف ہوتی ہے کہ ہمارے ملک کا تو ہر قانون ہی ظالمانہ ہے۔

دوسرا مقصد عوام کے سبق حاصل کرنے کا ہے تو معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ایسے واقعات کی تشہیر سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا جاتا بلکہ متاثرہ فرد اور اسکے خاندان کی مزید رسوائی ہوتی ہے۔ سبق سنجیدہ علمی و اخلاقی کام کی ترویج سے حاصل ہوتا ہے۔ ہماری اس تشہیر بازی کی مثال تو کھجلی جیسی ہے جہاں کھجلی ہوئی اگلی لمحے کھجا کر تشفی حاصل کر لی۔ ہماری یہ تشہیری مہمات کی نوعیت بھی اسی طرز کی ہے۔ یہ کوئی پہلی مہم نہیں ہے اس سے قبل سوشل میڈیا پر ایسی ہزاروں مہمیں چلائی جا چکی ہیں سو اس مہم کا انجام بھی وہی ہوگا جو پہلی مہمات کا ہوا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا کسی قانون کی ایک شق تبدیل کرکے اسکی جگہ ایک نئی شق داخل کر دی جائے گی۔

تیسرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ تشہیر کے ذریعے اس واقعہ پر فوری شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں اور ایک انقلاب برپا ہو جائے۔ مگر ہیجان کی بنیاد پر برپا کئے گئے انقلابات کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ ان سےمزید انتشار اور تباہی و بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ انقلاب ایک خاموش تعلیمی، علمی، اخلاقی، اصلاحی اور تدریجی حکمت عملی سے برپا ہوتے ہیں اور اپنے مثبت اور دیرپا اثرات بھی مرتب کرتے ہیں۔ وقتی ابال کسی مثبت انقلاب کا پیش خیمہ کبھی نہیں بنتے۔ اگر اس تشہیر سے اس علاقے کے لوگوں کو موٹیویٹ کرنا مقصود ہے تو وہ مقصد بھی حاصل نہیں ہوسکا۔ جائے وقوعہ کے ارد گرد کے لوگ اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ اس علاقے میں اس قسم کے جرائم میں کون لوگ ملوث ہیں لیکن کسی میں اتنی اخلاقی جرات نہیں ہے کہ ان کے خلاف زبان کھولے۔ ظلم کے خلاف شہادت دینے کیلئے جس قسم کی جراءت درکار ہوتی ہے وہ سنجیدہ علمی و اخلاقی کاوشوں سے پیدا ہوتی ہے محض اسٹوریز کی تشہیر سے پیدا نہیں ہوتی۔

ماڈرن ازم کا یہی المیہ ہے کہ ننگا ہونا اور ننگا کرنا اسکے نزدیک فریڈم آف چوائس ہے لیکن برہنگی سے بچنا یا کسی ظالم کے ہاتھوں برہنہ ہوجانے پر دہائی دینا کہ میری عزت و ناموس کے تحفظ کی خاطر اس واقعہ کی تشہیر نہ کی جائے۔ ماڈرن ازم کے نزدیک مظلوم کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنی برہنگی پر پردہ ڈال سکے یا دوسروں سے درخواست کر سکے کہ وہ اسکی برہنگی پر پردہ ڈالیں۔

موٹر وے واقعے کی متاثرہ خاتون، اسکے بچوں اور خاندان کے افراد سے ہمیں دلی ہمدردی ہے اور ہمارے نزدیک اسکی مدد کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ خاموشی سے قانونی معاملات میں انکی مدد کی جائے اور انکے خاندان کے ساتھ ذاتی مراسم رکھنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ اپنا کردار ادا کرتے ہوئے انکے تمام افراد خانہ، دوست احباب کو بتائیں کہ اس  خاتون کے ساتھ بہت اندوہناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں اسکی کوئی غلطی نہیں ہیں۔ پولیس وغیرہ کے اہلکاروں نے اس کے حوالے سے جو گفتگو کی ہے وہ بالکل فضول قسم کی گفتگو ہے۔ اس طرح کا کردار ادا کرنے سے شاید انکے خاندان کے زخموں پر کچھ مرہم رکھا جا سکے اور خاتون کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں اور اسکی خواہش کے خلاف ہونے والی بیجا تشہیر کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ مذکورہ تین مقاصد کے تحت تجزیے لکھنے اور پوسٹیں کرنے والے خواتین و حضرات سے بھی ہمیں دلی ہمدردی ہے لیکن ہمارا ماننا یہ ہے کہ اس کام کے پیچھے کارفرما جذبہ بہت اچھا ہے لیکن یہ طریقہ کار سادگی پر مبنی ہیں۔ ہمیں سابق واقعات، انکی تشہیری مہمات اور انکے نتائج کو سامنے رکھ کر اجتماعی اور قومی سطح پر کوئی لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔ اس واقعہ میں خاص طور پر خاتون کی اپیل کو سامنے رکھنا چاہیے جس میں وہ بار بار یہ کہتی ہے کہ اس کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی تشہیر نہ کی جائے۔

اب صرف آخری مقصد باقی رہ جاتا ہے اور وہ ہے تماشہ بینی اور ٹھرک۔ اپنے ذاتی ٹھرک کی تسکین اور اپنے جیسے دیگر لوگوں کو اپنی پوسٹوں اور تجزیوں کی طرف زیادہ سےزیادہ راغب کرکےخودنمائی کے جذبےکی تسکین۔ یہ بھی کسی کوالزام نہیں دیا جا رہا بلکہ آجکل ہم میں سے اکثریت کا یہ مزاج اور شوق بن چکا ہے۔ ہم ہر روز سوشل میڈیا اور مختلف ویب سائٹس پر کس قسم کا مواد سرچ کرتے ہیں اور اس سے حظ اٹھاتے ہیں؟ ظاہر ہے اس میں فلم، ڈرامے اور اشہارات سے لیکر پورن موویز تک ہم جو کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں اس میں زیادہ تر کس قسم کے مناظر اور اسٹوریز ہوتی ہیں؟ وہ سب سیکس کی طرف راغب کرنے کا ہی مواد ہوتا ہے اور معمولی جنسی دھوکے بازی سےلیکر جبری ریپ تک ہر قسم کا موجود مواد ہم بہت ذوق و شوق سے دیکھتے ہیں اور دوستوں سے شئیر بھی کرتے ہیں۔ اگر ہمارے نزدیک جنسی جبر کے معاملات بہت ظالمانہ اور مکروہ ہوتے تو ہم ان کہانیوں میں اتنی دلچسپی کیوں لیتے اور انہیں مزے لے لے کر دوسروں کے سامنے کیوں بیان کرتے؟

معذرت کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ موٹر وے کے اندوہناک واقعے کو بھی تبصرے کرنے والوں کی ایک اکثریت مذکورہ اسٹوریز کی طرح ہی لے رہی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ لوگ اس شریف النفس خاتون کی دہائیوں کا کچھ نہ کچھ لحاظ اور پاس ضرور رکھتے۔ جب سب لوگوں تک میڈیا کی پہلی خبر کے ذریعے یہ بات پہنچ چکی ہے کہ وہ خاتون ایک انتہائی شریف خاتون تھی اور اپنی عزت کے حوالے سے اس قدر حساس تھی کہ اس نے پولیس سے کئی بار چیخ چیخ کر یہ اپیل کی کہ “مجھے گولی مار دو لیکن میری یہ خبر میرے خاندان کے لوگوں اور عوام تک نہ پہنچائی جائے اس سلسلے میں میری مدد صرف یہ ہوسکتی ہے فوری تفتیش کرکے مجرموں کو گرفتار کیا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دلائی جائے”۔ لیکن اس خاتون کی اپیل کے باوجود کرپٹ پولیس اور میڈیا عناصر نے اپنے مفادات کے تحت اس خبر کو طشت از بام کیا۔ ہماری حالت پولیس اور میڈیا سے بھی بدتر ہے ہم اس اسٹوری کی تمام جزئیات پر تبصرے کرکے سستی تفریح لے رہے ہیں۔ ویسے تو ہم ہر وقت شخصی آزادی اور فریڈم آف چوائس کے فلسفے بکھار رہے ہوتے ہیں لیکن خاتون نے چونکہ اپنی فریڈم آف چوائس کو اپنی عزت اور ناموس کے حوالے سے پیش کیا اس لئے ہمیں اسکی یہ فریڈم آف چوائس ایک آنکھ نہیں بھا رہی۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اسکی تشہیر کرکے جو کام سر انجام دے رہے ہیں دراصل یہی اسکے فائدے کا کام ہے۔ اسکو شاید اپنی بات اور ما فی الضمیر بیان کرنے میں غلط فہمی ہوئی ہے جسے ہم زیادہ بہتر طور پر اجاگر کر سکتے ہیں۔

ماڈرن ازم کا یہی المیہ ہے کہ ننگا ہونا اور ننگا کرنا اسکے نزدیک فریڈم آف چوائس ہے لیکن برہنگی سے بچنا یا کسی ظالم کے ہاتھوں برہنہ ہوجانے پر دہائی دینا اوریہ درخواست اور اپیل کرنا کہ یہ جو میری عزت اور ناموس پر حملہ ہوا ہے میں اس سے بری الذمہ ہوں اور میری عزت و ناموس کے تحفظ کی خاطر اس کی تشہیر نہ کی جائے۔ یہ ماڈرن ازم کے نزدیک مظلوم اور متاثرہ شخص کی غلط فہمی ہے، اسکو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنی برہنگی پر پردہ ڈال سکے یا دوسروں سے درخواست کر سکے کہ وہ اسکی برہنگی پر پردہ ڈالیں۔ یہ عجیب سوچ اور فلسفہ ہے کہ ننگا ہونے اور ننگا کرنے کی تو آزادی دیتا ہے لیکن برہنگی سے بچنے اوراسے چھپانے کی آزادی نہیں دیتا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20