موٹروے سانحہ: عصمت و عفت کا جنازہ —- غزالہ خالد

0

نہ زمین پھٹی اور نہ ہی آسمان سر پر گرا اور ہم تواتر سے عصمت دری کے واقعات سنتے رہے۔ زینب کیس سے پہلے بھی یہ سب ہوتا تھا لیکن زینب کیس کو میڈیا پر بھرپور کوریج ملنے کے بعد یہ امید ہو گئی تھی کہ شاید اب اس طرح کے واقعات کی روک تھام ہوسکے لیکن نہیں بھئی۔ ۔ درندگی کے واقعات بڑھتے چلے گئے۔

واقعات تو نہ جانے کتنے ہوتے ہونگے جو کبھی اپنی عزت کی خاطر دبا لیے جاتے ہیں تو کبھی اس مجرم کو بچانے کی خاطر جو عموماً سگا رشتے دار ہوتا ہے لیکن پھر بھی میڈیا پر ہر مہینے ایک دو خبریں آتی رہتی ہیں اور لوگ منہ پھاڑ کر سنتے ہیں دو چار چچ چچ کی آوازیں نکالتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔

افسوس صد افسوس اگر فکر کی جاتی ہے تو عورت کی آزادی کی، الزام لگایا جاتا ہے تو عورت کی آزادی پر، عورت مارچ کو جتنی کوریج مل جاتی ہے اس کی آدھی بھی عصمت دری کے واقعات کو نہیں ملتی۔

لوگ مزے لیتے ہیں عورت عجیب وغریب نعروں کے ساتھ باہر نکل رہی ہے اس سے بھی مردوں کی ٹھرک کی تسکین ہوتی ہے اسی لئے میں عورت مارچ کے ان عجیب و غریب بینرز اور پلے کارڈز کے خلاف ہوں ایک آدھ بات سے اختلاف کے باوجود میں سمجھتی ہوں کہ انہی باتوں کو اور انہی حقوق کو بہت اچھے انداز میں بھی پیش کیا جاسکتا ہے کیونکہ عورت کو یہ حقوق چاہئیں اور اسے انہیں حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرنا ہوگی۔

ہاں تو بات ہورہی تھی عصمت دری کے واقعات کی۔ ابھی پرانی سبزی منڈی سے ساڑھے چار سالہ بچی جس کو ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا تھا کی لاش کچرہ کنڈی سے ملے ہوئے دو تین دن ہی گذ رے تھے کہ سیالکوٹ موٹر وے پر درندگی کا ایک اور انسانیت سوز واقعہ پیش آگیا جس میں ایک ماں کو اغوا کرکے اس کے معصوم بچوں کے سامنے درندگی کا نشا نہ بنایا گیا۔ دل دکھ سے لبریز تھا کہ سی سی پی او عمر شیخ کا بیان سامنے آگیا جس میں انہوں نے فرمایا کہ خاتون کو اتنی رات کو موٹر وے پر سفر نہیں کرنا چاہیے تھا بلکہ جی ٹی روڈ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا اور گھر سے نکلتے وقت پیٹرول بھی چیک کرنا چاہیے تھا شاید انہوں نے یہ بھی کہا کہ خاتون مرد کے بغیر سفر کر رہی تھیں اس لئے انہیں یہ سب احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کر نا چاہئیں تھیں۔

مشورے تو صحیح ہیں اور مفت بھی ہیں لیکن سر سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ ” جب یہ سب ہورہا تھا تو آپ اور آپ کے عملے کو کیا کرنا چاہئے تھا ؟ آپ کو یہ کون بتائے گا “۔

اور اللہ جانے وہ کیا حالات اور مجبوریاں تھیں کہ ایک اکیلی عورت رات کے ساڑھے بارہ بجے گھر سے معصوم بچوں کو لیکر نکلی۔

ہر انسانیت سوز واقعے کے بعد عورت کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے، کسی نے کہا کہ ” دیکھا اسلام اسی لئے تو غیر محرم سفر کی اجازت نہیں دیتا” اس کہنے والے سے پوچھا جائے کہ ” کیا اسلام اکیلی عورت کو دیکھ کر بھیڑیا بننے کی اجازت دیتا ہیے؟”

کہیں عورت کے لباس کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ ” جب ایسا لباس پہنیں گی تو یہ تو ہوگا”

افسوس صد افسوس یہ یاد رہتا ہے لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام مرد کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم بھی دیتا ہے۔

ایک مسلمان کا لباس واقعی ایسا ہونا چاہئے کہ اس کا جسم ڈھکا ہوا ہو تاکہ مردوں کی شہوت نہ جاگ جائے لیکن پھر قبر میں کفن میں لپٹی عورت کا کیا قصور ہے کہ جنسی درندے قبر میں سے عورت کی لاش نکال کر اس کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

رنگ برنگی تتلیوں جیسی معصوم بچیاں ایسی کیا حرکتیں کررہی ہیں کہ جس سے ان جانوروں کو اپنے اوپر قابو پانا مشکل ہورہا ہے۔

اب تو حکومت جاگ جائے سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے، سزائے موت کے قانون سے کم پر یہ واقعات نہیں رکیں گے۔ سزائے موت اور وہ بھی سب کے سامنے تاکہ دوسرے درندوں کو عبرت حاصل ہو۔ چیف جسٹس صاحب سوموٹو کا وقت یہی ہے پلیز ایکشن لیں۔ خواتین اٹھیں اور انصاف کے لئے اپنی آواز اٹھائیں اس سے پہلے کہ ہماری بہنوں، بیٹیوں کا اکیلے نکلنا مشکل ہوجاۓ۔
یہی تو وقت ہے آگے بڑھو خدا کے لئے
کھڑے رہو گے کہاں تک تماش بینوں میں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20