بیٹھ جاتا ہوں جہاں چاۓ بنی ہوتی ہے — پروفیسر عمران تبسم کا خاکہ، مظفر حسن بلوچ کے قلم سے

0

اوری اینٹل کالج لاہور کے حوالے سے ایک قول بہت مقبول رہا ہے کہ یہ لڑکیوں کا وہ کالج ہے جہاں لڑکے بھی زیور_تعلیم سے آراستہ و پیراستہ ہو سکتے ہیں۔ عمران تبسم نے بھی شک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پچیس برس پہلے علم و ادب کے اس گہوارے میں داخلہ لے لیا۔ ایم اے اردو کرنے کی نیت سے دخل در جامعہ پنجاب ہونے والے عمران تبسم کو آج تک کوئی بے دخل نہیں کر سکا۔ ثابت قدمی اور اولوالعزمی کی ایسی نادر و نایاب مثال اوری اینٹل کالج کی ایک سو چالیس سالہ تاریخ میں نہیں ملے گی۔

اوری اینٹل کالج لاہور ایک معبد_فن ہے جس کی خاک بھی کیمیا ہے۔ علوم و فضائل کے اس مخزن کو آسمان بھی ادب سے دیکھتا ہے۔

علامہ اقبال، حافظ محمود شیرانی، ڈاکٹر سید عبداللہ، ڈاکٹر سجاد باقر رضوی اور ڈاکٹر وحید قریشی جیسی نابغہء روزگار ہستیاں اس ادارے سے وابستہ رہی ہیں۔

کہیں ڈاکٹر سہیل احمد خاں کی تنقیدی بصیرت اپنا جادو جگا رہی ہے تو کسی کلاس روم میں ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا کلاسیکی شاعری پر لیکچر دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اور ڈاکٹر تحسین فراقی فکرِ اقبال کے مآخذ آشکار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

اوری اینٹل کالج کے لان میں کہیں شاخوں کی باہیں، کہیں پھولوں کے مکھڑے اپنی بہار_جاں فزا دکھا رہے ہیں۔ دور دراز اور مضافات سے آۓ ہوۓ اور بوکھلائے ہوئے بھونرے طواف میں مصروف ہیں۔ دو سال کی ریاضت کے بعد کچھ با مراد اپنے آنگن کو بھی کسی گلاب کی خوشبو سے مہکا لیتے ہیں اور کچھ رقصِ درویش کا ایسا نمونہ بن جاتے ہیں جن سے آنے والی نسلیں عبرت پکڑتی ہیں اور اسی لان کے پہلو میں کنٹین پر بیٹھ کر گرم سموسوں اور تازہ چاۓ سے ان تلخیوں کا مداوا کرنے میں مگن رہتی ہیں۔

چاۓ اور عمران تبسم لازم و ملزوم ہی نہیں، ظالم و مظلوم بھی ہیں۔ دوست احباب نے بارہا سمجھایا کہ اپنی جان_ناتواں پر رحم کرو۔ چاۓ کی پتی سے تو ہیرے کا جگر بھی کٹ جاتا ہے، تم کس کھیت کی مولی ہو ؟؟ لیکن اس مرد_ناداں پر کلام_نرم و نازک کا چنداں اثر نہ ہوا۔ روزانہ بلا مبالغہ پندرہ سے بیس کپ اپنے حلق میں نہ انڈیلے تو کلیجے میں ٹھنڈ نہیں پڑتی۔ ڈاکٹر عرفان پاشا کا کہنا ہے کہ یہ چاۓ پیتا نہیں ہے، چاۓ کی کلیاں کرتا ہے۔ گورنمنٹ شالا مار کالج میں اردو کا اسسٹنٹ پروفیسر ہے۔ پہلا لیکچر آٹھ بجے ہوتا ہے اس لیے بیس منٹ پہلے آ کر کیتلی میں پانی گرم کرتا ہے اور نہار منہ چاۓ اور سگریٹ کے اختلاط سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ یہی اس کا ناشتہ ہوتا ہے۔ پھر ہر لیکچر کے بعد چاۓ اور سگریٹ کا دور دورہ ہوتا ہے۔ اگر کالج میں کسی کو عمران تبسم کی تلاش ہوتی ہے تو وہ شعبہ اردو میں آ کر پوچھتا ہے۔ اگر کوئ موجود نہ ہو تو وہ میز پر پڑے ہوۓ کپ پر ہاتھ رکھ کر درجہ حرارت چیک کر لیتا ہے جس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ موصوف اس کمرے سے پانچ منٹ پہلے روانہ ہوئے ہیں یا دس منٹ پہلے۔ شعبہ اردو میں ٹی کلب کے مہتمم پروفیسر محمد اکرم صاحب ہیں۔ یکم سے ہی چار سو روپے کا تقاضا شروع ہو جاتاہے۔ ایک دن تنگ آمد بجنگ آمد کی مصداق پروفیسر مسعود حسن کہنے لگے کہ ہم دو چار لوگ ہی چاۓ پیتے ہیں۔ عمران تبسم تین گھنٹے میں آٹھ کپ پی جاتا ہے اور ہم پانچ گھنٹوں میں بہ مشکل ایک کپ زہر مار کرتے ہیں۔ پتی، دودھ اور چینی کا ازلی و ابدی دشمن تو عمران تبسم ہی ہے، اسی سے پیسے وصول کیا کریں، بم اسی کے صدقے ایک آدھ کپ پی لیا کریں گے۔ ۔ اگر کوئی اجنبی عمران تبسم سے ملنے آ جاۓ اور کسی سے اس کا ٹھور ٹھکانہ پوچھ بیٹھے تو اسے انگلی کے اشارے سے سمجھا دیا جاتا ہے کہ:

وہ دھواں سا جہاں سے اٹھتا ہے

اس دھواں دھار شخصیت کو اگر ڈانٹ پلائی جاۓ تو فوراً معصوم سی صورت بنا کر بے مہریء احباب کا گلہ شکوہ کرنے لگتا ہے:

کش لگاتا ہوں تو احباب برا مانتے ہیں
چاۓ پیتا ہوں تو مجرم مجھے گردانتے ہیں
ہر حال میں اعتراض کرنے والے
ناداں مرے حالات کہاں جانتے ہیں

کالج میں زیادہ دیر قیام اپنی شان کے خلاف سمجھتا ہے۔ کالج آتے ہی اسے واپسی کی فکر دامن گیر ہو جاتی ہے۔ جب اتفاقیہ رخصت لینی ہو تو ایک ماہ پہلے ہی اعلان کر دے گا کہ اگلے مہینے کی فلاں تاریخ کو میں نے نہیں آنا۔ اس اعلان کو روزانہ کی بنیاد پر تر و تازہ کرتا رہے گا۔ ہم ہاتھ جوڑ کر کہتے ہیں کہ بھائی تو آج ہی چلا جا، سر نہ کھا۔۔ اس پر ایک زور دار قہقہہ لگاتا ہے اور واقعی چلا بھی جاتا ہے۔ شیو غریب کی انا کی طرح بڑھی ہوئی جسے وہ ڈاڑھی کہنے پر مصر رہتا ہے۔ یہ ریش مبارک چاند کی تاریخوں کے ساتھ ساتھ گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اور مہینے میں ایک دن ایسا ضرور آ جاتا ہے جب یہ چاند چودہویں کا ہو جاتا ہے۔ اس دن تو عمران تبسم کی سج دھج سارے جہاں سے نرالی ہوتی ہے۔

روۓ مبارک استرا شدہ، پتلون اور شرٹ استری شدہ، سلیپر یا سینڈل کی جگہ بوٹ اور وہ بھی چمکتے دمکتے ہوئے۔ اگر کوئی پوچھے کہ نصیب_دشمناں خیر تو ہے؟ جواب میں ایک زور دار قہقہہ اور شعر برآمد ہوتا ہے:

شیو کرنے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

عمران تبسم سدھرنے پر کسی صورت آمادہ نہیں ہوتا۔ میں اکثر اس کی صورت حال کے مطابق شعر سناتا رہتا ہوں۔ ایک دن اسے کہا:

ہم سدھر جائیں، یہ دنیا اسی خواہش میں رہے
اور ہم لوگ سدھر جانے سے پہلے مر جائیں

یہ شعر سنا تو پھڑک اٹھا کہ ظالم شعر ہے، کس کا ہے؟
میں نے کہا کہ کاشف مجید کا ہے۔ کہنے لگا ابھی کا ابھی میسج کر، فوراً سے پیشتر۔

کالج میں ایم اے اردو کا آغاز ہوا تو عمران تبسم کی خوشی دیدنی تھی۔ ایم اے اردو میں داخلے کے لیے اوری اینٹل کالج کی روایات کا تسلسل برقرار رکھا گیا۔ بارہ چودہ طالبات اور ایک طالب علم۔ ۔ دو چار سال یہی سلسلہ جاری رہا تو ایک دن پرنسپل صاحب کہنے لگے کہ آپ لوگ اس واحد بخش (واحد طالب علم) کا تکلف بھی مت کیا کریں۔ ایک ستم ظریف نے ارشاد فرمایا: سر وہ لڑکیوں کے لیے ناشتے، سموسوں اور چاۓ پانی کا بند و بست بھی تو کرنا پڑتا ہے۔

پروفیسر عمران تبسم کے فرائض منصبی میں ایم اے کو تنقید پڑھانا اور انٹر کو باتوں میں لگانا شامل ہے۔ ۔ جب ان کا لیکچر شروع ہوتا ہے تو نقد و نظر کے سوتے پھوٹنا شروع ہو جاتے ہیں اور بچے اس دن کو کوسنے لگتے ہیں جب ان کے دل میں ایم اے اردو کرنے کا منحوس خیال پیدا ہوا تھا۔

ایم اے کے بچوں سے اپنے مقرر کردہ اصولوں کی بنیاد پر اختلاف روز مرہ کا معمول ہے۔ ایک دن ایک طالبہ کو کلاس سے نکال باہر کیا اور حکم دیا کہ دو ہفتے سے پہلے اپنی شکل مت دکھانا۔

پروفیسر اکرم اور پروفیسر اکرام صاحب نے لاکھ سمجھایا مگر ٹس سے مس نہ ہوا۔ سارا ڈیپارٹمنٹ منت سماجت پر اتر آیا کہ بھائی درگزر فرماؤ لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ جب طیش میں آ جاتا ہے تو تبادلے کی دھمکیاں دیتا ہے کہ میری کالج میں کوئی قدر ہی نہیں ہے میں گورنمنٹ کالج گلبرگ جا رہا ہوں، ننکانہ صاحب میں بھی سیٹ خالی ہے۔ ہم ڈر جاتے ہیں اور اسے منانے میں لگ جاتے ہیں کہ اگر یہ بھی چلا گیا تو تنقید کا ایسا مرد_ میدان کہاں کہاں ڈھونڈتے پھریں گے۔۔
پروفیسر عمران تبسم کا تعلق ننکانہ صاحب سے ہے اس لیے سکھوں کے حوالے سے جتنے لطائف ہیں اس کے جملہ حقوق اسی کے نام محفوظ ہیں۔ وہ خندہ پیشانی سے ہماری گستاخیاں برداشت کرتا ہے اور خوش وخرم رہتا ہے۔ اس کے والد محترم بھی اردو ادب کے پروفیسر ہیں۔ پروفیسر عبد الکریم تبسم گورنمنٹ کالج ننکانہ میں پرنسپل بھی رہے ہیں اور گورنمنٹ کالج جڑانوالہ سے بطور پروفیسر ریٹائر ہوئے ہیں۔

عمران تبسم صاحب نے دو ایم فل کر رکھے ہیں لیکن شادی ایک بھی نہیں کی۔ پینتالیس چھیالیس برس کے ہو کر بھی مجرد زندگی گزار رہے ہیں۔

انہوں نے پہلا ایم فل فاصلاتی نظام تعلیم کے تحت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا تھا۔ ان کے مقالے کا موضوع : جدید اردو نظم پر ہندی کے اثرات (قیام پاکستان کے بعد) تھا۔

اوری اینٹل کالج کی محبت میں دوسرا ایم فل کیا۔ “شاہ نواز زیدی۔۔۔ بہ طور شاعر” کے موضوع پر اپنا مقالہ سپردِ قلم کیا۔ ان کے نگران ڈاکٹر فخرالحق نوری تھے۔

آج کل اوری اینٹل کالج ہی میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں اور ڈاکٹر ضیاء الحسن صاحب کی زیر نگرانی اپنے مقالے کی تکمیل میں مصروف_کار ہیں۔

ان کے اساتذہ عمران تبسم سے محبت کرتے ہیں۔ ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا، ڈاکٹر اورنگ زیب عالمگیر، ڈاکٹر مرغوب حسین طاہر، ڈاکٹر ضیاء الحسن سب اس سے پیار کرتے ہیں۔

عمران تبسم صاحب کے کچھ تنقیدی مضامین ملک کے مختلف ادبی رسالوں میں بھی شائع ہوۓ ہیں جن میں سیارہ، ماہ نو، بیاض اور نمود حرف خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ اس کا تنقیدی شعور پختہ ہے۔ نمود حرف ڈاکٹر تبسم کاشمیری کی زیر سرپرستی شائع ہوتا ہے۔ ایک دن ڈاکٹر عرفان پاشا کچھ افسردہ سے نظر آئے تو کسی نے اس اداسی کا سبب پوچھا۔ کہنے لگے کہ نمود حرف کی اشاعت کو طویل عرصہ ہو چلا ہے۔ جانے کب ایچ ای سی کی کیٹیگری میں آۓ گا۔
مجذوب خیالی نے برجستہ کہا: “اگر عمران تبسم کے مضامین چھپتے رہے تو قیامت تک انتظار فرمائیں”

پروفیسر عبد الرحمن بٹ صاحب کو ڈاکٹر عبدالرحمن بٹ بنانے میں بھی پروفیسر عمران تبسم اور ڈاکٹر عرفان پاشا کی مساعی جمیلہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں حضرات روزانہ ان کے مقالے کے حوالے سے استفسار کرتے، پیش رفت کا جائزہ لیتے اور حوصلہ افزا داد و تحسین سے نوازتے۔ پبلک ڈیفنس کا مرحلہ قریب آیا تو ہفتہ بھر شعبہ ء اردو میں ریہرسل ہوتی رہی۔ تند و تیز سوالات سے اکتا کر بٹ صاحب دست بستہ کہنے لگے:
” تسی رہن دیو، تواڈی مہربانی، میں اپنا ڈیفنس نہیں کرنا”

پروفیسر عمران تبسم کے رشتے کی تلاش میں ہم نے جتنی تگ و دو کی ہے اس کے لیے بھی دفتر درکار ہے۔
اس کارِخیر کے لیے ہم ایک معروف پروفیسر صاحب سے ملے جو اکیڈمی کم میرج بیورو کے روح رواں ہیں۔ اس سول سروسز اکیڈمی کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں ذات پات اور رنگ و نسل کی تفریق کے بغیر دنیا بھر کے علوم پڑھانے کے ساتھ ساتھ رشتے بھی کراۓ جاتے ہیں۔ ہم نے ان کی سابقہ خدمات کے اعتراف کے طور پر قصیدہ خوانی بھی کی اور غیر محسوس انداز میں حسنِ طلب کی طرف بڑھے۔ موصوف معاملہ فہم تھے، کہنے لگے: ” ہم چلتے پھرتے مردوں (alive men) کے رشتے کراتے ہیں، آپ کا معاملہ کشف و کرامات کا ہے اس کے لیے حفیظ جالندھری کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائیں، شاید بات بن جائے”

ہم یہاں سے ناکام و نامراد ہو کر “دعاؤں والی سرکار” کے پاس جا پہنچے۔ انہوں نے حسبِ معمول دعاؤں کی مالا ہمارے گلے میں ڈال دی:

” چمن میں جتنے درخت ہیں، درختوں پر جتنی شاخیں ہیں، شاخوں پر جتنے پتے ہیں، پتوں پر جتنی لکیریں ہیں اللّٰہ تبارک و تعالیٰ آپ پر اس سے بھی زیادہ رحمتوں کا نزول فرمائے۔۔ آمین”

ہم نے شکریہ ادا کیا اور جوگی سے اپنے آنے کا مدعا بیان کیا۔ کہنے لگے کہ عمران تبسم سے کہیں کہ دو چار سوٹ سلوا لے، روزانہ برش کرے اور شیو بنایا کرے اور غسل فرماکر کالج تشریف لایا کرے۔ سگریٹ نوشی ترک کر دے اور چاۓ سے توبہ تائب ہو جائے۔ چالیس دن کا چلہ کاٹ کر ہمارے کمرے کے سامنے سے گزرے گا تو دل کی مراد پوری ہو گی۔ ہم نے عرض کی کہ ان کڑی شرائط کے ساتھ تو ساری دنیا اسے رشتہ دینے کے لیے تیار ہے، اس میں آپ کا کیا کمال ہے؟
پروفیسر جاوید اور پروفیسر نعیم گھمن اسے بہت سمجھاتے ہیں کہ اپنی نہیں تو ہماری عزت کا خیال کرو۔ ڈاکٹر جعفر علی نے تو شادی ہونے کی صورت میں دونوں متاثرین کے لیے عمرہ پیکج کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

دنیا اور دنیا داری میں عمران تبسم پر جو گزری، ، سو گزری۔ کاش ہمارے دوست کے اشکِ نہاں اس کی آخرت سنوار دیں۔
ہمیں خدشہ ہے کہ بہشتِ بریں میں بہتر حوریں یہ کہہ کر عمران تبسم سے منہ نہ موڑ لیں کہ اس کا تو کوئی “ہوم ورک” ہی نہیں ہے۔۔۔۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20