You can Do it موٹیویشنل گیدڑ کہانی — محمود احمد غزنوی

0

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی جنگل میں  ایک گیڈر تھا  جو اپنے قبیلے کے دیگر تمام گیڈروں سے انٹلکچوئلزم اور آؤٹ آف دی باکس تھنکنگ  میں کافی آگے نکل چکا تھا۔ اس حد تک آگے کہ اب واپسی مشکل تھی۔
ایک دن جنگل سے کسی موٹیویشنل اسپیکر صاحب  کا گذر ہوا۔ انہوں نے جنگل میں بون فائر اور کیمپنگ کی۔ رات کو  شرکائے کیمپ الاؤ کے اردگرد بیٹھے لوگ نیو ایج تھاٹ، سیون ہیبٹس آف ایفیکٹو پیپل، دیپک چوپڑا کی سپرچوئلٹی، ونسنٹ کی ایموشنل انٹیلیجنس اور پاور آف سب کونشئس مائنڈ پر دھواں دار گفتگو کر رہےتھے اورایک دوسرے کے ساتھ کارنیگی کارنیگی بھی کھیل رہے تھے کہ ہماری کہانی کے مرکزی  گیڈر پر انکی خود افروز گفتگو کا گہرا اثر ہوا  اور چودہ طبق روشن ہوگئے، گویا  ایک پل میں جنگل کا قانون پوری تفصیلات کے ساتھ اس پر واضح ہوگیا ( کچھ باریک تفصیلات کا اگرچہ بعد میں علم ہوا)۔

چنانچہ گیدڑ میاں نے ساری رات کافی ایکسائٹمنٹ میں گذاری۔ صبح ہوتے ہی انہوں نے قبیلے کے تمام گیڈر صاحبان کو اکٹھا کیا اور پرجوش لہجے میں اپنی نوع سے یوں خطاب کیا:

 بھائیو، میں ایک مدت سے تم لوگوں کی زبوں حالی پر کڑھتا رہا ہوں۔ کس طرح تم لوگ معمولی گدھوں اور  بھینسوں کے شیر کے ہاتھوں لقمہ اجل بننے کا دن گن گن کر انتظار کرتے ہو اور جب شیر شکار کرچکتا ہے اور اس کے بچے بھی شکم پری کے بعد اونگھنے لگتے ہیں تو تم لوگ کس بے شرمی سےاس کے پس خوردہ کو حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے پر جھپٹتے ہو۔  تمہارا یہ انداز دیکھ کر کوئی حقیر سے حقیر خارش زدہ کتا بھی شرمندگی محسوس کرنے لگے۔ لعنت ہے ایسی زندگی پر۔

گیڈر اس کی یہ صاف گوئی سن کر شرمندہ ہونے کی بجائے بیحد تلملائے اور کہنے لگے کہ تم کونسا  کے۔ ٹو کی چوٹی سے اپنا شکار ڈھونڈ کر لاتے ہو، تم بھی تو  ہم میں سے ہی ہو۔ بلکہ بایں دعوائے ہمہ دانی، اس لعنت کے ہم سے زیادہ تم حقدار ہو۔
گیڈر نے اس جاہل گروہ کی گفتگو بیحد تحمل سے سنی اور  یوں گویا ہوا:
بھائیو، تم لوگوں کو مژدہ ہو۔ قدرت کو تمہاری ذلت و نکبت پر رحم آگیا ہے اور مجھے ایک ایسا طریقہ سوجھ گیا ہے کہ تم لوگوں کی ذلت کے دن ختم سمجھو۔

گیڈروں نے آنکھیں سکیڑ کر کافی بے یقینی سے اس کو گھو رنے اور خاموش رہنے پر اکتفا کیا۔
بادہِ خودی سے مست گیڈر نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا :

 میں کافی عرصے سے بغور شیر کی عادات کا مشاہدہ کرتا رہا ہوں اور اپنے اس مشاہدے کی بناء پر مجھے یقین ہے کہ میں بھی یہ کام بآسانی سرانجام دے سکتا ہوں۔ یو آر وٹ یو تھنک اباؤٹ یورسیلف۔  ہم جیسا اپنے آپ کو سمجھتے ہیں، قدرت ہمیں ویسا ہی بنادیتی ہے۔ تم پائمال و خوار و پریشان و درد مند، اب تم دیکھو کہ تمہار مقام ہوگا ستاروں سے بھی بلند۔ اب شیر کے در کی دریوزہ گری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. یہ شکار کا کام تم بھی کرسکتے ہو. لیکن تم اپنے خیال کی ڈور سے بندھے ہوئے ہو. جب تک اس تنگنائے وہم سے تم باہر نہیں نکلتے، میں تمہیں شکار کرکے دوں گا۔ مجھ سے تم یہ سب کچھ سیکھ سکتے ہو۔

تس پر ایک بوڑھا گیڈر مجمع میں سامنے آیا اور  یوں مستفسر ہوا: آخر تم شکار کیسے کرو گے؟

کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہر شخص ہر قسم کا کام کرسکتا ہے صرف سچی لگن کی ضرورت ہوتی ہے، ہر کام کے اسباب پیدا ہوجاتے ہیں۔ میں نے بارہا شیر کو شکار کرتے دیکھا ہے اور اس معاملے میں شیر میرا استاد ہے۔ شکار کرنے کیلئے پرلے درجے کا غصہ درکار ہے۔ بس تم مجھے شکار آتا ہوا بتا دینا. میں شیر کی طرح دم بہ دم غیظ و غضب سے خود کو بھرتا جاؤں گا۔  جب تم دیکھو کہ مجھ پر شدید غصہ طاری ہوچکا ہے، میری گردن کی رگیں پھول چکی ہیں، سانس دھونکنی کی طرح چلنا شروع گئی ہے، جسم میں شدید تناؤ سے ایک تشنج کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ہے اور   بالآخر میری آنکھیں شدتِ غضب سے کسی پکے ہوئے ٹماٹر کی طرح ہوگئی ہیں تو یکایک مجھے ہلکا سا دھکا دے دینا۔ پھر تم خود دیکھ لو گے کہ میں کس طرح اس شکار پر چھلانگ لگا کر اس کا نرخرہ دبوچ کر اس سے جھول جاؤں گا اور اس کے اعصابی نظام کو ناکارہ کر کے اسے بے دم کرکے ہی چھوڑوں گا۔ پھر تم اسی طریقے سے ایک دن خود بھی شکار کر کے جنگل میں ایک باعزت گیڈر کی سی زندگی گذار سکو گے۔

یہاں کہانی میں ایک ٹوِسٹ آتا ہے۔ ہوا یوں کہ گیدڑ صاحب یہ موٹیویشنل بھاشن دینے کے بعد پتلی گلی سے نکلنے ہی  والے تھے کہ ایک نقاد قسم کے گیڈر نے روک لیا اور بلبلاتے ہوئے بھوک کی فریاد کی۔ سب گیڈر دیکھتے ہی دیکھتے سر ہلانے لگے اور مطالبہ کرنے لگے کہ بڑی سخت بھوک لگی ہے کوئی شکار کرکے لاؤ تاکہ ہمیں شیر کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ گیدڑ  نے مسکراتے ہوئے رضامندی میں سرہلادیا اور بولا کہ چلو جنگل کے اندر تک چلتے ہیں جونہی کوئی اچھا سا شکار نظر میں آئے مجھے دکھا دینا اور پھر اس کے بعد ویسا ہی کرنا جیسا تمہیں بتایا ہے۔
ایک تیز طرار گیڈر جو ان سے کافی آگے چل رہا تھا اسے شام کے ملگجے اندھیرے میں کوئی سایہ سا درختوں کے درمیان لہراتا نظر آیا۔ لپک کر شکاری گیڈرصاحب کے پاس جاپہنچا اور بولا وہ دیکھو ایک شکار آرہا ہے۔ تم اس درخت کے پاس کھڑے ہوکر اپنی تیاری مکمل کرو جیسے ہی وہ قریب آئے  گا میں تمہیں چیخ کر اشارہ کردوں گا۔
چنانچہ گیدڑ صاحب غیر مرئی شکار پر تخیل ہی تخیل میں نظریں جمائے ہوئے پہلے تو کچھ دیر دانت پیستے رہے، اس کے بعد ہونٹوں سے غراہٹوں کا سلسلہ بھی چل نکلا، سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگا، گردن کی رگیں پھول کر کپا ہوگئیں اور غیظ و غضب سے بدن کانپنے لگا ۔آنکھوں میں ابھی تھوڑی سی سرخی آئی ہی تھی کہ دوسرے گیڈر نے دیوانہ وار چیخ بلند کی اور ہمارے شکاری صاحب نے شکار پر جست لگادی۔ ارے یہ کیا، یہ تو ایک بڑا گراں ڈیل قسم کا سیاہ ریچھ تھا۔ جب اس نے گیڈر کو اپنے اوپر چھلانگ لگاتے دیکھا تو الٹے ہاتھ کا ایک بھرپور طمانچہ گیڈر صاحب کی گردن پر رسید کیا۔۔۔۔ پھر اس کے بعد چراغوں  میں روشنی نہ رہی۔
کافی دنوں کے بعد جب گیڈر صاحب کو ہوش آیا تو کُل قبیلے کے متفکر بوڑھے گیڈروں کو اپنے اوپر جھکے ہوئے پایا۔ اٹھنے کی کوشش کی تو بدن میں ہزارہا مقاماتِ آہ و فغاں سے ٹیسیں بلند ہوئیں۔۔ دیکھا تو تمام بدن زخموں سے چور ہے۔ گیڈر صاحب کو ہوش میں آتے دیکھ کر سب کی جان میں جان آئی اور ایک پرانے سرد و گرم چشیدہ گیڈر نے مدبرانہ انداز میں مخاظب کرتے ہوئے کہا کہ دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ ہمیں اللہ نے گیڈر بنایا ہے تو ہم کیوں شیر بننے کی کوشش کریں، کیوں نہ گیڈروں کی طرح اپنی اوقات میں رہ کر جئیں۔

یہ دقیانوسی خیالات اور بزدلانہ و زوال آمادہ گفتگو سن کر گیڈر صاحب مارے طیش کے بستر سے اٹھ کھڑے ہوئے اور چلا چلا کر کہنے لگے:

 تمہاری اسی چھوٹی سوچ کی وجہ سے بنی نوع گیڈر صدیوں سے زوال و انحطاط کے قعرِ مذلت میں جانبِ پاتال گامزن ہے۔ اوئے کم بختو، اللہ نے آپ کو گیڈر پیدا کیا ہے اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں، لیکن اگر آپ گیڈر کی موت مرتے ہو تو اس میں سراسر غلطی آپکی ہے۔ میں ناکام نہیں ہوا بلکہ تم نے اسباب کی پوری رعایت نہیں کی اور مجھے طیش کے اس مقام پر پہنچنے سے پہلے ہی اشارہ کردیا جبکہ ابھی میری آنکھ پکے ہوئے ٹماٹر کی طرح سرخ نہیں ہوئی تھی بلکہ کچی تھی۔ کچی آنکھوں سے شکار کرے تو شیر بھی گدھے سے دولتیوں کی صورت میں تواضع کروائے گا۔ بہرحال۔۔۔ ناکامی کامیابی کا زینہ ہے۔ کچھ بھی امپاسبل نہیں بلکہ امپاسبل خود زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ آئی ایم پاسبل۔
لیکن افسوس کہ بنی نوع گیڈر پر اس موٹیویشنل اسپیکر کی تقریر کا کوئی اثر نہ ہوا اور وہ آج بھی ذلت و نکبت کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: