ارطغرل ڈراما، تاریخ اور ہم —- حافظ محمد زوہیب حنیف

0

آج کل پی ٹی وی پرعثمانی خلافت کے بانی ’ارطغرل‘ کی حیات و آثار سے متعلق ایک ڈرامہ نشر کیا جارہا ہے۔ اِس ڈرامے کو بڑے ہی شاندار انداز میں پکچرائز کیا گیا ہے۔ اِس ڈرامے میں مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ جس انداز سے دکھائی جارہی ہے وہ قابلِ دید ہے۔ بہ طورِ طالب علم ہمیں تاریخ کے کچھ حقائق کو سمجھنے اور سیکھنے کی ضرورت ہے۔

اگر مسلمانوں کے ادوار کا جائزہ لیں تو خلفائے راشدین کے بعد تین بڑی حکومتیں نظر آتی ہیں جن میں: اموی، عباسی اور عثمانی شامل ہیں۔ ۴۱ ہجری میں ’اموی‘ حکومت قائم ہوئی۔ چودہ اموی حکمراں اِس دور میں آئے جن میں ’حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ جنھیں خلیفۂ ثانی اور خلیفہ ٔ صالح بھی کہا جاتا ہے‘ جیسے جلیل القدر حاکم بھی شامل تھے۔ آپ ؒ کا دور علمی اور انتظامی اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل رہا۔ علمی اعتبار سے دیکھا جائے تو تدوین ِ حدیث کے اہم ترین کا م کے لیے آپ ؒ نے سرکاری طور پر سرپرستی کی۔ انتظامی امور کو دیکھا جائے تو مشہور تھا کہ شیر بکری ایک گھاٹ میں پانی پیتے تھے۔ اِسی طرح اموی دور میں انتظامی امور کو ایک نئی جہت دی گئی، جیسے نظامِ حکومت دو حصوں میں منقسم تھا ایک مرکزی نظام جس کی نگرانی خود خلیفہ کرتا تھا اور دوسرا صوبائی نظام جس کی نگرانی صوبہ کا گورنر کرتا تھا۔ گورنر خلیفہ سے ہدایات وصول کرتا اور اُس پر عمل پیرا ہوتا۔ لیکن اتنا مضبوط نظام ہونے کے باوجود یہ حکومت آہستہ آہستہ زوال پذیر ہوگئی۔ معروف مؤرخ شاہ معین الدین احمد ندوی صاحب نے اموی حکومت کے زوال کے چار اسباب بیان کیے ہیں، جن میں: موروثیت، ولی عہدی کا نظام، خلفا کی اراکینِ سلطنت کے ساتھ بد سلوکی، خاص کر موسیٰ بن نُصیر جیسے فاتح کے ساتھ سلیمان کا عتاب اور آخری سبب، عدنانی اور قحطانی قبائل کا تعصب اموی حکومت کے خاتمے کا سبب بنا۔ (تاریخِ اسلام از شاہ معین الدین احمد ندوی جلد دوم، ص ۵۸۲ تا ۵۸۵، مکتبہ ٔ اسلامیہ لاہور، س ن) ساتھ ساتھ مؤرخین نے اموی زوال کی جو مزید وجوہات بیان کی ہیں اُن میں شیعان علی کی مخالفت سب سے اہم ہے۔ اس دور میں جو بڑے واقعات رو نما ہوئے، اُن میں واقعۂ کربلا جس میں سیدنا حضرت امام حسین ؓ کی شہادت اور دوسرا اہم واقعہ سیدنا حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ کی شہادت شامل ہے۔ یاد رہے کہ اموی حکومت ختم کرانے کے لیے کسی غیر مسلم حکومت نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ بلکہ اوپر جو اسباب بیان کیے گئے ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکومت کس طرح آپس کے اختلافات کی وجہ سے ختم ہوئی۔

عباسی حکومت کی بات کی جائے تو اِس کی ابتدا اموی دور سے ہوگئی تھی یعنی محمد بن حنفیہ (پسرِ حضرت علی ؓ ) سے ہوگئی تھی۔ کہا یہ جاتاہے کہ محمد بن حنفیہ کے بیٹے ابو ہاشم کو ایک ایسے مقام پر مرض الموت پیش آئی جہاں حضرت عبداللہ بن عباس کی اولاد کے سوا دوسرا کوئی رکنِ اہلِ بیت موجو د نہیں تھا۔ یہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓکے پوتے محمد بن علی تھے۔ ابو ہاشم نے انھیں اپنا جانشین مقرر کیا۔ (تاریخِ اسلام از شاہ معین الدین احمد ندوی، جلد سوم ص ۱۷، مکتبہ ٔ اسلامیہ لاہور، س ن) مختصراً یہ کہ یہیں سے عباسی حکومت کی دعوت کا سلسلہ شروع ہوا اور ۱۳۲ ہجری میں پہلا خلیفہ ابو العباس عبداللہ بن محمد المعرف ’سفاح ‘ (ابوالعباس نے اپنی خلافت کے استحکام کی خاطر بڑی خونریزی کی۔ بنو امیہ پر تو اس کی سختیاں انتہا کو پہنچ گئیں۔ مردے بھی اس کے جوش ِانتقام سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اکثر اموی خلفا کی قبریں کھدوا کر ان کی ہڈیاں پیسی گئیں۔ اِس قتل و غارت گری اور سفاکی کے باعث ’سفاح ‘کے لقب سے مشہور ہوا جس کے معنی خونریز کے ہیں۔) مسندِ خلافت پر متمکن ہوا۔ اگر چہ عباسی دور کو مسلمانوں کا عہدِ زریں کہا جائے تو مُضائقہ نہیں ہوگا، کیوں کہ اِس دور میں مسلمانوں نے جتنا عروج حاصل کیا بعد میں وہ عروج حاصل نہیں ہوسکا۔ اِس دور میں علوم و فنون کا یہ حال تھا کہ ایک حجام کی دکان پر یہ بحث ہوتی تھی کہ قرآن اللہ کی مخلوق ہے یا نہیں۔ اسی دور میں یونانی فلسفے کے عربی میں تراجم ہوئے۔ جس طرح آج لوگ یورپ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں اُسی طرح بغداد بھی اُس زمانے کا علم و نور کا مرکزتھا۔ لیکن افسوس ! کہ کچھ باقی نہ رہا۔ آپس کے اختلافات کا غیروں نے فائدہ اٹھا یا۔ ہارون الرشید (متوفیٰ ۸۰۹ء) کے دو بیٹوں، امین (متوفیٰ ۸۱۳ء) اور مامون (۸۳۳ء) کی جنگ میں ہزار ہا افراد جان سے گئے، اور آخر کار مامون نے امین کو قتل کر کے اپنی حکومت قائم کی۔ عباسی حکومت کے زوال کے اسباب دیکھے جائیں تو مؤرخین کے مطابق تُرکوں کا عروج تھا اور اُس کا اصل ذمہ دار معتصم بااللہ تھا۔ کہا یہ جاتاہے کہ ایرانیوں کا اسرو رسوخ ختم کرنے کےلیے اِس (معتصم) نے ترکوں کو آگے بڑھایا جو عباسی حکومت کے لیے نیک فال ثابت نہیں ہوا۔ متوکل کے بعد تُرک اُمرا کا اقتدار اور بڑھ گیا، اب وہ خلیفہ کا حکم سننے سے بھی انکار کرنے لگے۔ انہوں نے کئی خلفاکو اتارا اور بعض کو قتل بھی کیا۔ اِسی طرح تُرکوں نے مرکزی حکومت کو مزید کمزور کردیا۔ اِس صورتِ حال میں کئی مقامی اُمرا نے اپنے اپنے علاقوں میں خود مختار حکومتیں قائم کر لیں۔ جن میں قابل ذکر بنی بویہ، سامانی اور فاطمی حکومتیں شامل تھیں۔ اگرچہ تاتاریوں نے عباسیوں کوختم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، مگربہ حیثیتِ مجموعی اگر اِن (عباسیوں) میں اتحاد ہوتا تو شاید یہ اس آندھی (تاتاریوں) کا مقابلہ کر جاتے۔ مؤرخین نے زوال کی جو مزید وجوہات بیان کی ہیں اُ ن میں ولی عہدی کا ناقص نظام، نا اہل اور کمزور حکمراں، فرقہ وارانہ اختلافات اوروبائی امراض شامل ہیں۔

عثمانی حکومت کو دیکھا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ یہ کیسے قائم ہوئی؟ اِس پر غور و فکر کرنا چاہیے۔ اوپر کی سطروں سے معلو م ہوتا ہے کہ تُرکوں کوعباسی حکومت میں عروج حاصل ہوا اور پھر ایک وقت آیا کہ عباسیوں کا نام و نشان مٹ گیا اور دنیا کے نقشے پر ایک نیا ورلڈ آرڈر آگیا۔ عثمانی ترکوں نے ایشیائے کوچک میں داخل ہونے کے بعد ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جس نے تین سو سال (۱۵۱۷ء سے۱۹۲۴ء تک)میں دنیا کی وسیع ترین اور سب سے زیادہ طاقتور سلطنت کا روپ اختیار کر لیا اور اِس میں بنیادی کردار تُرک قوم کی شجاعت اور تنظیمی صلاحیت تھی جس کے نتیجے میں سلطنت عثمانیہ جیسی وسیع اور پائیدار سلطنت قائم ہوئی۔ اِس دور میں سلطان محمد فاتح (متوفیٰ ۱۴۸۱ء) کے ذریعے قسطنطنیہ (فتح قسطنطنیہ کے بعد سلطان محمد فاتح نے اِس شہر کا نام اسلام بول رکھا مگر ترکوں کو اسلام بول بولنے میں مشکل ہوتی تھی تو وہ اِسے استنبول کہتے تھے، اُس وجہ سے اِس کا نام استنبول پڑا) فتح ہوا۔ اپنے عروج کے دور میں یہی عثمانی مختارِ کل تھے۔ لیکن جب زوال شروع ہوا تو ایسا ہو اکہ یہ وسیع و عریض سلطنت ۱۹۲۴ ءدنیا کے نقشے سے مٹ گئی۔ سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کی مختلف وجوہات بیان کی جاتی ہیں جن میں :آپس کے اختلافات، انیسویں صدی میں قوم پرستی، یہود کی سازش اور کچھ غدار لوگوں کا اس خلافت کو ختم کرانا جیسے لارنس آف عربیہ وغیرہ۔ یادر ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ کے احیا کے لیے ہندوستان میں تحریکِ خلافت (۱۹۱۸ء تا ۱۹۲۵ء) چلائی گئی۔ اگرچہ یہ ناکام ہوگئی لیکن اس تحریک سے یہ ضرور ثابت ہوتاہے کہ مسلمان ایک مرکزی حکومت کے خواہش مند تھے۔

ہندوستا ن کی بات کریں تو یہاں بہت سی حکومتیں قائم ہوئیں جن میں: سلطنتِ مملوک (خاندانِ غلامان)، خلجی، تغلق، سید، لودھی اور مغل (درمیان میں سوری سلطنت بھی قائم ہوئی۔ ہمایوں کی سلطنت کا تختہ شیر شاہ سوری نے اُلٹ دیا، اِس طرح سوری خاندان نے ہندوستان پر کچھ عرصے حکومت کی )سلطنت شامل ہے۔ تاہم، اِ ن میں مغل خاندان سب زیادہ سے مقبول تھا۔ بابر(متوفیٰ ۱۵۳۰ء) نےہندوستان پر مغلیہ (۱۵۲۶ء) سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اس نے کسی کافر کو قتل کر کے ہندوستان میں اپنا جھنڈا نہیں گاڑا بلکہ ایک کلمہ گو ابراہیم لودھی کو شکست دینے کے بعد سلطنتِ مغلیہ کی بنیاد رکھی۔ ترکوں کے بعد دنیا میں جدید جمہوری نظام آیا جسے مسلم اورغیر مسلم، سب نے قبول کیا۔ مسلمانوں نے اِس جمہوری نظام کو اسلامی جمہوری نظام کا نام دیا جس میں یہ کہا گیا کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنے گا۔ دنیا نے اِس جمہوری نظام سے بہت کچھ سیکھا، غلطیاں بھی نظر آئیں جنھیں اب بھی صحیح کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اب دنیا بدل گئی ہے۔ اب دنیا سرحدوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ ہم ان معاہدوں میں شامل ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ سرحدوں کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔ ماضی میں طاقت ور کمزور پر غالب آجاتے تھے۔ (اگرچہ اب بھی اِسی طرح سے ہورہا ہے مگر ستر فیصد ممالک اِس قانون پر عمل پیرا ہیں۔) اب ہم اگر اپنی ماضی کی تاریخ پڑھیں تو ہمارے پیشِ نظر زمانےکے حالات، واقعات، ضروریات، معیشت اور معاشرت ہونے چاہییں۔

ہمارا عمومی رویہ:
مسلمانوں نے اپنے وقت میں عروج حاصل کیا ہے لیکن ہم اگر ہندوستان کو دیکھیں تو یہاں کے بسنے والے مسلمانوں نے صرف اپنی تاریخ پر فخر کیا ہے۔ جب بھی کوئی مُکالمہ ہوتاہے تو کہا جاتاہے کہ ہم نے اپنے عروج کے زمانے میں یہ حاصل کیا، وہ حاصل کیا۔ درحقیقت وہ ہم نے نہیں بلکہ امویوں نے حاصل کیا، عباسیوں نے حاصل کیا اور ترکوں نے حاصل کیا۔ ہمارے ہندوستان کے حکمرانوں نے توصرف عیاشیاں کی ہیں اور عوام پر ٹیکس ہی لگایا ہے۔ کون ساایسا کام ہے جس پر ہم فخر کر سکیں بلکہ ہمارا معاملہ تویہ ہے کہ ہم اکبر کے دین ِ الٰہی کی بھی تفہیم و تبیین کر رہے ہو تے ہیں۔ ہم پہلے کچھ کر کے دکھائیں پھر کسی بات پر فخر کریں۔ ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم ڈراما دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ اب دنیا پر حکومت قائم کرنے والے ہیں۔ ڈراما ضرور دیکھیں مگر اِسے ڈرامے کی حد تک ہی رکھیں۔ ہمارا معاملہ تو یہ ہے کہ ہم ڈرامے کو صرف ڈراما نہیں رہنے دیتے۔ ہم تاریخ کو صرف تاریخ کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ اِس کی مٹی میں ہم جذبات کو گوندھتے ہیں اور پھر اسے اپنے اوپر سوار کر لیتے ہیں۔ جذباتیت کا یہ عالم ہے کہ ڈرامے کے مرکزی کرداروں کو اصلی رنگ ڈھنگ میں دیکھا تو ہم پر قیامت گزر گئی‘ ہم اس ڈرامے کو آج کی زندگی میں متشکل دیکھنا چاہتے ہیں، وہ بھی دوسروں کی مدد سے۔ خود ہم آج کے دور میں جینا چاہتے ہیں مگرساتھ ساتھ تڑپ رہے ہیں کہ ڈرامے کے مرکزی کردار حقیقی زندگی میں سینکڑوں سال پہلے کا طرزِ زندگی اپنائے۔ ارطغرل دیکھنے والے کئی بھولے بھالے پاکستانی نشاطِ ثانیہ کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ تو یہ خواب کیسے پورا ہوگا؟ نہ کوئی ایسی مسلم طاقت ہے جسے ہم شکست دے سکیں جیسا کہ ماضی میں امویوں اور عباسیوں کے ساتھ ہوا اورنہ ہی اب ایسے حالات ہیں۔ تو؟ تو پھر بس یہ کہ ڈرامے ضرور دیکھیں‘ مگر یہ ذہن نشین رہے کہ حقیقی زندگی کچھ اور ہوتی ہے۔ مشہور تاریخ دان ابن خلدون اپنی کتاب ’’مقدمہ‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’سلطنتیں کسی فرد کی طرح اپنی ایک عمر رکھتی ہیں۔ یہ پیدا ہوتی ہیں اور عمر کے ساتھ عروج اور پھر زوال تک پہنچ کر ختم ہو جاتی ہیں‘‘۔ لہٰذا اب ہمیں حال میں رہنا ہے اور اپنی اغلاط کو سدھار کر آگے بڑھنا ہے تاکہ ہم بھی اپنے بازو پر فخر محسوس کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: ارطغل ۔ یہ سبق کون لے گا - خرم شہزاد
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20