سید سلیمان اشرف اور جدید عصری علوم کی اہمیت — محمد احمد ترازی

2

پروفیسر سید سلیمان اشرف بہاری (1878-1939) کے افکار و نظریات کا ایک جائزہ

تعارف:
پروفیسر سیّد محمد سلیمان اشرف بہاری کی ذات ِگرامی ہماری قومی و ملّی تاریخ کا ایک انَمٹ باب ہے۔ اُن کی شخصیت جتنی دلکش تھی اتنی ہی ہمہ گیر بھی تھی۔ وہ بیک وقت مایہ ناز دانشور، دیدہ ور مدبر، مذہبی و سیاسی رہنماء اور ایک عظیم مفکر تھے اور انہوں نے عملی زندگی کے ہر میدان میں اپنی عظیم شخصیت کا نہ مٹنے والا نقش ثبت کیا۔ اُنیسویں صدی کی ابتدائی چوتھائی میں عالم اسلام اور بالخصوص مسلمانان ہند میں قومی و ملّی شعور کی بیداری میں پروفیسر سیّد سلیمان اشرف کے کردار کو کسی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اُنہوں نے تحریک ِخلافت وترک ِموالات 1919 اور اسکےنتیجے میں برپا “ہندو مسلم اتحاد”، “ترک ِگاؤکشی” اور “تحریک خلافت” ہی کے ضمنیے تحریک ہجرت 1920 کے ہیجانی دور میں مسلمانان ہند کو گاندھی اور گاندھی نوازوں کی منافقانہ سیاست سے بچانے کی بھر پور کوشش کی۔ اور اُس نازک اور پُرفتن دور میں اسلامیان ِ ہند کی راہنمائی کا ہی فریضہ سرانجام نہیں دیا بلکہ بلاخوف لومة لائم مشرکین ہند کے ساتھ مسلمانوں کے اختلاط و اتحاد کے خطرناک نتائج سے بھی آگاہ کیا اور علماء کو اُن کی دینی وملّی ذمہ داریوں کا احساس دلا کر اپنی بالغ نظری، علمی ثقاہت اور سیاسی بصیرت کا ایک روشن اور تابناک ثبوت بھی فراہم دیا ہے۔

پروفیسر سیّد سلیمان اشرف 1878ءمیں صوبہ بہار میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام مولانا حکیم سید عبداللہ تھا جن کا انتقال ان کے بچپن ہی میں ہوگیا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے اعمامِ محترم سے حاصل کی ۔بعد میں بہار اسکول میں داخلہ لیا، لیکن دسویں جماعت میں طبیعت دینی تعلیم کی جانب مائل ہوگئی۔ چنانچہ اسکول کو خیرباد کہا اور مولانا نور محمد اصدقی خلیفہ اعظم شاہ قیام اصدق، پیربگہہ جموانواں سے عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی اوراُن کے دامن عقیدت سے وابستہ ہوکر اخذ ِطریقت کیا۔ مزید تعلیم کیلئے ”مدرسہ ندوۃ العلماء” میں مولانا احمد حسن کانپوری (ف1905ء) کے حلقہ درس میں داخل ہوئے۔ مولانا ہدایت اللہ جونپوری (ف1326ھ) منطق و معقولات میں اپنے زمانے کے امام اور مجاہد جنگ آزادی 1857ء مولانا فضل حق خیرآبادی (1797ء۔ 1861ء)کے مایہ ناز شاگرد تھے۔ مزید برآں مولانا ہدایت اللہ جون پوری کے انتقال کے بعد 1908ء یا1909ء میں ”نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی (1866ء۔ 1951ء) کی کوششوں سے ان کی محمڈن اینگلو اورینٹل کالج میں لیکچرر شعبہ دینیات کی حیثیت سے تقرری ہوئی۔”بعد ازاں مئی 1909ء میں پروفیسر اور 1921ء میں کالج کے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ بن جانے کے بعد صدر شعبہ دینیات کے عہدے پر اپنے وصال تک فائز رہے۔ 26، اپریل 1939ء کو برصغیر کے ا ِس عظیم بطل حریت کا انتقال ہوا۔”5 اور مسلم یونی ورسٹی، علی گڑھ میں شیروانیوں کے قبرستان میں آپ کی تدفین ہوئی۔

سید سلیمان اشرف کے مشہور تلامذہ میں ڈاکٹر فضل الرحمٰن انصاری (بانی المرکز الاسلامی، کراچی) پروفیسر محمد محمود احمد (سابق صدر فلسفہ مسلم یونیورسٹی) ڈاکٹر ذاکر حسین (سابق صدر بھارت) سید امیر الدین قدوائی (ف1973ء)، پروفیسر رشید احمد صدیقی، ڈاکٹر سید عابد احمد علی، (ڈائریکٹر پنجاب پبلک لائبریری) ڈاکٹر برہان احمد فاروقی، مولانا ابرار حسین فاروقی گوپامئوی، ڈاکٹر غلام مصطفےٰ خاں، ڈاکٹر شبیر احمد غوری، حافظ غلام غوث وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ جبکہ سر محمد علی محمود خان (1878ء۔ 1931ء) راجہ صاحب آف محمود آباد (1914ء۔ 1973ء) نواب مزمل اللہ خان شروانی، صاحبزادہ آفتاب احمد خان، جسٹس سر شاہ سلیمان پھلواری (1859ء۔ 1935ء)، سر راس مسعود (1889ء۔ 1937ء)، ڈاکٹر سر ضیاء الدین احمد زبیری، نواب محمد اسماعیل خان، نواب صدریار جنگ حبیب اللہ خاں شروانی، بابائے اردو مولوی عبدالحق اور ڈاکٹر سید ظفر الحسن وغیرہ کا شمارسید سلیمان اشرف کے حلقہ احباب اور معاصرین میں ہوتا ہے۔

سیّد سلیمان اشرف برعظیم کے اُن ممتاز علمائے ذی وقارمیں سے ہیں جنہوں  نے بر عظیم میں اٹھنے والی تحریک ِخلافت، ترک ِموالات، تحریک ہجرت اور ترک ِگاؤکشی جیسی اسلام اور مسلمان دشمن تحاریک کے اثرات و مضمرات سے قوم کو نہ صرف بروقت آگاہ کیا بلکہ اپنی سیاسی بصیرت و آگہی سے مستقبل کا لائحہ عمل بھی متعین فرمایا۔ اوراِس ضمن میں اپنے کرب و آگہی کی داستان ”البلاغ“ (1911ء)، ”الخطاب“ (1915ء)، ”الرّشاد“(1920ء)، ”النور“ (1921ء) اور ”السبیل“(1924ء)“ کی صورت میں اردو زبان اور اسلامی ادب کے سانچے میں پیش کی۔ جن کے مطالعے سے ان کے افکار و نظریات، سیاسی شعور اور فکری بالغ نظری کا پتاچلتاہے۔ ان کے یہ سیاسی افکار و نظریات آج بھی ملک میں پیش آمدہ حالات کے پس منظر میں یقینا اپنی اہمیت و افادیت رکھتے ہیں اور ہمارے لیے رہنمائی کے اسباب فراہم کرتے ہیں۔

نئی روشنی کے علمبرداروں کی علم دشمنی

بر عظیم پاک وہند میں انگریزوں کے قبضہ اقتدار نے جہاں نظام سیاست کے ساتھ ساتھ کم و بیش زندگی کا ہر شعبہ تہہ و بالا کردیا تھا۔ وہاں تعلیم کے شعبہ کا متاثر ہونا بھی ایک لازمی امر تھا۔ تاہم یہ کسی کو اندازا نہیں تھا کہ نئی روشنی کے علمبردار اِس موضوع پر بھی اپنی رعایا سے وہ بدترین انتقام لیں گےجس کی مثال صدیوں میں بھی نہیں ملے گی۔یہ حقیقت ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کی ذمہ دار خود قومیں ہوا کرتی ہیں، دوسرے نہیں۔ دوسرے اپنی حریف قوموں کی کمزوریوں کا فائدہ ضرور اٹھاتے ہیں۔ انگریز نے مسلمانوں میں پھیلے ہوئے خوف و ہراس اور سراسیمگی کا پورا فائدہ اٹھایا۔ وہ اِس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اگر برصغیر میں مغربی طرز کے تعلیمی ادارے کھولے گئے تو اِس سے عوام میں بیداری آئے گی اور جس طرح امریکہ وغیرہ میں جدید علوم کی درسگاہیں قائم ہوجانے کے بعد ہمیں امریکیوں کو آزادی دینی پڑ گئی تھی۔ اُسی طرح برصغیر جوکہ سونے کی چڑیا سے کم نہیں ہے۔ اگر ہم نے یہاں پر جدید تعلیمی ادارے قائم کردیئے تو ایک نہ ایک دن ہمیں یہاں سے لازماً بوریا بستر گول کرنا پڑے گا۔ اِس لیے بہتر یہی ہے کہ یہاں کے لوگوں کو تعلیمی لحاظ سے پسماندہ رکھا جائے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انگریز حکومت کو اپنی رائے بدلنی پڑی اور حکومتی سرپرستی میں کئی تعلیمی ادارے وجود میں آئے۔ جن کا پس پردہ مقصدعیسائیت کی فروغ و اشاعت کے ساتھ ”تعلیم برائےملازمت”10 اور ہندوستانی سر میں انگریز دماغ رکھنا تھا۔ 11یعنی ایک ایسا طبقہ وجود میں لانا تھا جو رنگ و نسل کے لحاظ سے تو ہندوستانی ہو لیکن ذوق، ذہن، اخلاق اور فہم وفراست کے اعتبار سے انگریز ہو۔

سید سلیمان اشرف۔ ۔ ۔ مسلمانان ہند کی تعلیمی حالت زارکا ادراک و تدارک

آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کا قیام (جسے بعد میں آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کا نام دیا گیا) دسمبر ۱۸۸۶ء میں عمل میں آیا۔ اِس ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد علی گڑھ کے علاوہ دیگر علاقوں کے مسلمانوں کی تعلیمی ضروریات پر غوروخوض اور اُن میں جدید تعلیم کا شوق پیدا کرنا، نیز مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی کو دور کرکے اُن میں سیاسی شعور کی بیداری بھی تھا۔ کانفرنس نے اپنے مقصد اور نصب العین کے مطابق مسلمانوں میں ہر ممکن اور مناسب طریقہ سے صحیح تعلیم کو رائج کیا اور چالیس بیالیس برس کی جہدِ مسلسل سے مسلمانانِ ہند میں تعلیمِ منادی کا فرض بھی سر انجام دیا۔

چنانچہ مسلمانوں میں تعلیمی شعور کی بیداری اور فروغ کے لیے آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے اجلاس ہر سال متحدہ ہندوستان کے مختلف مقامات پر ہوتے رہے۔ جس سے ملک کے طول و عرض میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ دسمبر ۱۹۱۴ء میں اسی سلسلے کی اٹھائیسویں سالانہ کانفرنس راولپنڈی میں منعقد ہوئی۔ جس میں برعظیم کی ممتاز سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ پروفیسر سیّدمحمد سلیمان اشرف بہاری کو بھی بطور ماہر تعلیم مدعو کیا گیا۔ ۲۹ دسمبر۱۹۱۴ء کو سیّد سلیمان اشرف نے کانفرنس کے ساتویں سیشن سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کے نظامِ تعلیم کے عروج وزوال کا مفصل جائزہ لیا۔ مسلمانانِ ہند کی تعلیمی پستی و زوال کے اسباب و عوامل اور تدارک پر روشنی ڈالی اور مسلمانوں کی تعلیمی زبوں حالی پر نوحہ کناں ہوتے ہوئے کہا:

”جب تک مسلمانوں نے اطاعتِ الٰہی کو اپنا شعار رکھا اور سراً و اعلانیةً خدا کے بھیجے ہوئے دستور کو اپنا نصب العین بنائے رکھا اور رسولﷺکی زندگی کا نمونہ اُن کے پیش نظر رہا اُس وقت اُن کی ترقی برق رفتار رہی، آج جس چیز کی بازار ِمسلمین میں کساد بازاری ہے قرون اولیٰ میں اُس کی ایسی فراوانی تھی کہ اپنے تو خیر اپنے ہی تھے بیگانوں تک کے گھروں کی رونق انہی مسلمانوں کے عطیات کا نتیجہ تھا۔ دیکھیئے آج یہ رونا ہے کہ مسلمان تمام اقوام سے تعلیم میں پیچھے ہیں اور اِس قدر موخر اور اِس قدر بطی السیر (سست رفتار) ہیں کہ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ یہ اُس قوم کے جو اُن کے دوش بدوش آباد ہے کب تک ہم سفر و ہم منزل ہونگے چہ جائے کہ اُن اقوام کے پہلو میں جگہ پانے کے قابل ہوں جو اِس وقت سربفلک ہیں اور ذرا یہ دیکھو کہ مسلمان جب کہ سچ مچ مسلمان تھے تو کیا اسی طرح علوم دنیاوی سے بے نصیب تھے….کیا یہ وہی قوم ہے جو کسی وقت تمام دنیا میں سب کی استاد تھی اور آج شاگردی کے قابل بھی نہ رہی…. ہم نے اپنے آپ کو کیا بنا ڈالا۔ افسوس تباہی خود ہم اپنے اوپر لائیں اور اتہام اسلام پررکھیں….اب نہ علم ہے نہ تجارت، نہ صنعت ہے نہ زراعت، ہائے ہائے کیا کردیا۔ اسلاف کے کارنامہ پڑھ کر فخرومباہات کرتے رہو اِس سے کیا ہوتا ہے۔

چنانچہ اُنہوں نے مسلمانوں کی حالتِ زار کو انتہائی دل سوز انداز میں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

”آہ! اے گلشن اسلام کیا ہوئی تیزی بہارجس نے اپنے فیض ِکرم سے خار ِزار جفا کو لالہ زار ِوفا بنادیا تھا، سوکھی کلیاں لبہائے جاناں کی طرح تروتازہ پنکھڑیاں نکال لائی تھیں، ہر شاخ نخل اثمار خوشگوار سے باردار تھی، اور ہر برگ ایک ایک رگ میں لاکھوں چشمے سرسبزی کی امانت رکھتی تھی، تیری باد سموم یورپ کی نسیمِ سحر سے کہیں بڑھ چڑھ کر خدمتِ صبا انجام دیتی تھی، اُس کا ایک جھونکا غنچہائے سر بستہ کو کھلا دیتا تھا۔ اب وہی تو ہے وہی تیرے مرغانِ طرب کی صدائیں ولیکن نہ کوئی کان اُن کو سننا گوارا کرتا ہے نہ کوئی دماغ اُن سے راحت پاتا ہے، عقل کو حیرت ہے اور ذہن کو چکر کہ آخر دیکھتے دیکھتے یہ رنگ چمن کیونکر بدلا۔ باغبانی کی خدمت جن کے قبضۂ قدرت میں دی گئی تھی وہ کیوں تبر لیے سڈول و بیڈول کوئی شاخ نہیں دیکھتے چھانٹنے پر تلے بیٹھے ہیں۔

سیّد سلیمان اشرف نے اپنے خصوصی خطاب میں جدید تعلیم و زبان کی اہمیت و افادیت اور ضرورت کو دین اسلام کی روشنی میں واضح کرتے ہوئے اِسے مومن کی گمشدہ میراث قرار دیا اور مسلمانوں کو اِس کی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے فرمایا کہ یہ تمہاری اپنی چیز ہے تمہیں جہاں سے ملے، حاصل کرلو۔ اِسی شعور کو اجاگر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”کوئی وجہ نہیں کہ قرآن ہمیں جن اُمور کی طرف رہنمائی کرے، جن سے بہرہ مند ہونے کی ترغیب دلائے، ہم اُسے مذہب کے خلاف سمجھیں…. رہی یہ بات کہ کون سی زبان میں اِن علوم کو پڑھیں؟ اِس تنگ وقت میں زیادہ بحث کا موقع تو نہیں، لیکن اِس قدر سمجھ لیجئے کہ اردو، فارسی، پنجابی، پشتو، بنگلہ وغیرہ تو جائز ہوں، مگر یورپ کی زبان حرام، آخراِس کی وجہ؟ اگر آج تمام یورپ یا کوئی اُس کا حصہ دائرہ اسلام میں آجائے تو کیا اُسے اپنی مادری زبان کا بولنا یا اُس میں پڑھنا حرام ہوجائے گا؟ کیوں خدا کی رحمت کو اِس قدر تنگ کیا جائے؟ اور ترجیح بلا مرجح دی جاوے؟ الحکمۃ ضالۃ المومن، حکمت مومن کی گم شدہ چیز ہے جہاں تمہیں مل جائے اُسے فوراً اٹھالو۔

جدیدعصری علوم سے دوری و بے اعتنائی

سیّد سلیمان اشرف جو جدید عصری علوم کی ضرورت و اہمیت سے آگاہ اوراِس کے حصول کو قومی و ملی حقوق اور سیاسی بیداری کیلئے لازم و ملزوم سمجھتے تھے، آزاد اور اُن جیسی طرز فکر رکھنے والے رہنماؤں کی فکری کجی کی نفی کرتے ہیں اور علوم اسلامیہ کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ آج ظالم وغاصب حکمرانوں کے خلاف حقوق اورآزادی کیلئے سینہ سپر کوئی اور نہیں وہی لوگ ہیں جو جدید درس گاہوں کے تعلیم و سند یافتہ ہیں۔ چنانچہ اِس حوالے سے ”النور” میں لکھتے ہیں:

”یہ واقعہ ہے، حقیقت ہے اِس سے انکار کرنا سورج کی روشنی سے انکار کرنا ہے کہ ہندوستانیوں کا حکومت کے سامنے آنا، اپنے مطالبات کو موثر پیرائے میں پیش کرنا، ثبات و قرار سے اپنے حقوق کے طلب میں مسلسل سرگرم کار رہنا اور پھر اپنی کامیابی کیلئے ایثار وقربانی سے دریغ نہ کرنا، یہ سب انگریزی تعلیم کا ثمرہ ہے۔ آئین سلطنت پر جنھوں نے نکتہ چینی کی ہے، وہ انگریزی خواں ہیں۔ حکومت ِخود اختیاری کا جنھوں نے نعرہ بلند کیا ہے وہ انگریزی خواں ہیں۔ غلامی کی ذلتوں کا جس نے احساس پیدا کیا ہے وہ انگریزی خواں ہیں۔ قید خانوں میں سب سے پہلا قدم جن کا پہنچا ہے وہ انگریزی خواں ہیں۔ دارورسن سے جن کے گلے پہلے آشنا ہوئے وہ انگریزی خواں ہیں۔ طرفگی یہ کہ سارے انگریزی خواں انہی کالجوں کے تعلیم یافتہ اور سند یاب ہیں جن کا الحاق گورنمنٹ کی یونیورسٹیوں سے ہے، سرکاری کالج یا امدادی کالج میں تعلیم پانے سے اُن کے جذبات قومی نہ فنا ہوئے نہ مٹے۔

مگر اِس کے باوجود جب جدید عصری علوم کے حامیوں کو اراکین خلافت کمیٹی اور جمعیت علمائے ہند کے قائدین و مفتیان کی جانب سے انگریز نوازی کا طعنہ دیا گیا اور 1920ء میں آزاد قومی یونیورسٹی کے قیام کی آڑ میں مسلمانوں کے تعلیمی ادارے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، اسلامیہ کالج (لاہور اور پشاور) کو نشانہ بنایا گیا توسیّد سلیمان اشرف نے اُس وقت حقیقت حال سے پردہ اٹھاتے ہوئے جدید تعلیم یافتہ افراد کی نہ صرف وجودی اہمیت سے آگاہ کیا بلکہ جدید تعلیم کے مخالفین کو آئینہ دکھاتے ہوئے اُن کی نقاب کشائی بھی فرمائی اور اُنہیں حقیقت کا آئینہ دکھاتے ہوئے لکھا:

”اِس وقت علمائے سیاسی میں جو جوش و خروش ہے وہ بھی نتیجہ اِن ہی انگریزی خوانوں کا ہے، اِن ہی کے ہاتھوں نے اُنہیں جھنجھوڑا، جب اُن کی آنکھیں کھلیں، اُنہی کے ہاتھوں نے سہارا دیا، جب اُن کے قدم اٹھے اِن ہی کی آوازوں نے اِن کی زبانیں کھولیں، جب یہ بولنے لگے۔ رہاگروہ علمائے ربانیین کا وہ پہلے بھی عُقلائے دنیا سے بے نیاز تھا اور آج بھی مستغنی ہے۔

جدید عصری علوم۔ ۔ ۔ پروفیسر سیّد سلیمان اشرف کا نقطہ نظر

سیّد سلیمان اشرف دینی و عصری علوم میں امتزاج کے قائل تھے اوراسے دور جدید کی اہم ضرورت خیال کرتے تھے۔ جدید تعلیم کو اسلامی اقدار و روایات کی روشنی میں دیکھنے کے بھی حامی تھے اور ایسے نظام تعلیم جس کی بنیادیں مادہ پرستی اور ملحدانہ نظریات پر قائم ہوں جو فکری و نظری بالیدگی پیدا کرنے کے بجائے کج روی اور گمراہی کو فروغ دیتا ہو اور غلامانہ ذہنیت کی آبیاری کرتا ہو، کو مسلمانوں کیلئے زہر قاتل سمجھتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ جدید علوم اُس صورت میں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے جب علم و فن کے ذریعے حاصل کردہ قوت و حشمت میں لاالہ کا جوہر نمایاں ہو کیونکہ الحاد ی علم ایمان کی روشنی چھین لیتا ہے۔چنانچہ انہوں نے مشرق و مغرب کے فلسفہ تعلیم اور نظام تعلیم دونوں کو سامنے رکھا۔ ایک دوسرے سے تقابل کیا۔ خو بیوں اور خامیوں کا جا ئزہ لیا اور بتا یا کہ ہماری درس گاہوں کو کس قسم کی تعلیم اور نظام تعلیم کی ضرورت ہے۔ ان کے نزدیک مسلمانان ِہند کیلئے جدید تعلیم کاحصول ایک ضروری اَمر تھا لیکن اِس کے حصول کی تگ ودو میں غیرمسلم اقوام کے رسم ورواج اور تہذیب و تمدن کی نقالی اور اندھی تقلید دین و مذہب سے دوری اور اپنی جداگانہ قومیت کی تباہی وبربادی تھی۔ چنانچہ اِس تناظرمیں انہوں نے مسلم معاشرے پر مغربی تہذیب و تمدن اور بودوباش کے منفی اثرات کو بیان کرتے ہوئے لکھا :

”مسلمانوں کی انتہائی بدقسمتی یہی ہے کہ یہ کسی غیر قوم کی طرف اِس غرض سے بڑھتے ہیں کہ اپنی حیاتِ دنیا سنوارنے کا طریقہ اُس سے سیکھیں لیکن اِس سے پیشتر کہ اُن وسائل واسباب پر اُنہیں دسترس ہو دین و مذہب پہلے کھو بیٹھتے ہیں۔

اِس کے منفی اثرات اور نقصانات کو مزید بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسلمان جب سے یورپی تہذیب و تمدن میں جذب ہوئے تو” شکل و صورت لباس و پوشاک طرز ماندوبود غرض ہر ایک شعبہ حیات میں یورپ کی ہی تجلی تھی۔ حتیٰ کہ نام تک یورپین تلفظ و املا میں شامل کرلیا گیا۔ ارکان اسلام سے بیگانہ وشی لوازم تہذیب و تعلیم قرار پائے۔

مسلمانان ہند کی بہتر معاشی اور معاشرتی زندگی کیلئے جدید تعلیم کا حصول اگر تقاضہ وقت تھا تو قومی و ملی تشخص اور دینی زندگی کی بقاء کیلئے اسلامی علوم کا حصول ایک لازمی امر تھا۔ سیّد سلیمان اشرف نے دونوں کی اہمیت اور افادیت کو مدنظر رکھااور متوازن راہ عمل اختیار کرتے ہوئے لکھا

”مسلمانان ِہند کو اپنی وجاہت، اپنی معاشرت اور اپنے خوش منظر تمدن کیلئے انگریزی تعلیم سے مفر نہیں لیکن اپنی قومیت اپنی ملّی خصوصیت اور اپنی مذہبی زندگی کی بقاء کیلئے علوم اسلامیہ سے بھی چشم پوشی نہیں کی جاسکتی۔’

کفروالحاد اور ملحدانہ نظریات ِتعلیم اور اسلامی نظام ِتعلیم وتربیت

سیّد سلیمان اشرف ایسے جدید نظام تعلیم کے سخت مخالف تھے جس کی بنیادیں مادہ پرستی اور ملحدانہ نظریات پر قائم ہوں، جو فکری و نظری بالیدگی پیدا کرنے کے بجائے کج روی اور گمراہی کو فروغ دیتاہو، کفرو و الحاد کی پرورش کرتا ہو اور غلامانہ ذہنیت کی آبیاری کرتا ہو۔ وہ ایسے نظام تعلیم کو مسلمانوں کیلئے زہر قاتل سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک طلبا کی ذہنی تربیت واصلاح، صلاحیتوں کی نشوو نما اور قومی و ملّی نصب العین کی بیداری و حصول کیلئے ضروری تھا کہ اُنہیں جدید نظام تعلیم کے اِن مضر اثرات سے بچایا جائے اور اُن میں صداقت، دیانت، عدل و انصاف اور شجاعت جیسے اوصاف ِ حمیدہ کے ساتھ خوف ِخدا و حب ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جوہر پیدا کرنے کیلئے ایک ایسا نظام تعلیم و تربیت تشکیل دیا جائے جو ایمان باللہ اور ایمان بالرسالت سے عبارت ہو۔ چنانچہ اِس تناظر میں وہ لکھتے ہیں:

”جب علم کے پڑھنے سے خوف خدا پیدا نہ ہو، معاصی کی برائیاں معلوم نہ ہوں، جذبات پر قوت حاصل نہ ہو، وہ تعلق جو خدا سے ہونا ضروری ہے پایا نہ جائے تو پھر اُسے علم حقیقی کیونکر کہا جائے گا۔ علم حقیقی تو وہی ہے جس کے پڑھنے سے خشیت ِایزدی دل میں پیدا ہوتی ہے اور یہی کیفیت دل میں پیدا ہوکر عالم و معاصی کے درمیان بطور پردہ کے حائل ہوجاتی ہے۔ اور یہ اُس وقت تک ناممکن ہے جب تک دربار رسالت سےلگاؤ نہ پیدا کرلیا جائے۔ جس قدر دل میں یہ لگن بڑھتی جائے گی اُسی قدر عبادات صحیح اور معاملات درست ہونگے۔

دراصل سیّد سلیمان اشرف کے نزدیک اسلامی نظام تعلیم کا مقصد ایسے افرادتیار کرنا ہے جو اپنے دین پر کامل یقین رکھتے ہوں، اُسے اچھی طرح سمجھتے ہوں، جن کی زندگیاں اسلامی تہذیب و تمدن کا عملی نمونہ ہوں، جنھیں اسلامی تہذیب و ثقافت پر فخر ہو، جو کردار و اخلاق میں دوسروں کیلئے مثالی نمونہ ہوں، جن میں اتنی قابلیت اور صلاحیت ہو کہ وہ زندگی کے مسائل کو اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں حل کرسکیں اور جو ذاتی منفعت کو دینی و ملّی تقاضوں پر قربان کرنے سے دریغ نہ کریں۔ وہ چاہتے تھے کہ تعلیمی درس گاہیں دماغ کے ساتھ روح کی غذا کا سامان بھی فراہم کریں۔ دنیا داری کے ساتھ ساتھ دین داری بھی سکھائیں۔ علم و فکر کی روشنی کے ساتھ ساتھ قلب و نظر کی تسکین کا سامان بھی فراہم کریں۔ ظاہر کے ساتھ باطن پر بھی نظر رکھیں اور زندگی کے مختلف مرحلوں میں مادی وسائل کے ساتھ ساتھ باطنی شعور اور خود آگہی کی قوتوں سے بھی کام لیں۔ سیّد سلیمان اشرف کے نزدیک یہ اُسی وقت ممکن تھا جبکہ نظام تعلیم اور نصاب تعلیم میں دینی تعلیم کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کے نظام تعلیم میں علوم جدیدہ کے حصول کے ساتھ مروجہ نصاب ِاسلامک اسٹڈیز کی اصلاح اور تاریخ ِاسلامی کی اہمیت وافادیت کو مد نظر رکھا اور ایک لازمی مضمون کی حیثیت سے شامل کرنے پر بہت زور دیا۔

السبیل” اسلامی نصاب ِ تعلیم و تاریخ پر ایک جامع دستاویز

”السبیل” دراصل مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے نصاب ِ تعلیمات ِ اسلامیہ کیلئے سیّد صاحب کی جانب سے دی گئی جامع اور تاریخی تجاویز پر مبنی وہ رپورٹ ہے جسے انہوں نے وائس چانسلر صاحبزادہ آفتاب احمد خان کی دعوت اورقائم مقام وائس چانسلر نواب مزمل اللہ خاں شروانی، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی تحریک پر تحریر کیا۔ ان کی یہ رپورٹ اکیڈمک کونسل میں پیش کی گئی جو منظور کرلی گئی۔ اِس رپورٹ کونواب مزمل اللہ خاں شروانی نے نا صرف پسند کیا بلکہ اِسے 1924ء میں شائع کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ:

”مولانا سیّد سلیمان اشرف صاحب پروفیسر دینیات ایک نہایت بیش بہا اورمہتم بالشان تحریر ہے اور ایک معرکة الاآرا مسئلہ پر خیالات ِقدیم و جدید کا پورا لحاظ کرکے روشنی ڈالی گئی۔ لہٰذا میں بحیثیت چانسلر و خادم حقیر مسلم یونیورسٹی کے اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اِس معاملہ کو روشناسی قوم سے اور قوم کو اِس معرکة الآرا مسئلہ کے افادہ سے محروم نہ ہونے دوں۔ لہٰذا میں اِس اصل یادداشت کو مع آرائے حضراتِ موصوف مقدم الذکر طبع کراکے شائع کرتا ہوں۔

نواب صدریار جنگ مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی، رکن کونسل وکورٹ اور منسٹر ایجوکیشن بہار و اڑیسہ جناب فخرالدین نے بھی سیّد سلیمان اشرف کی تجاویز کی تائید و توثیق کی۔ سیّد سلیمان اشرف نے اسلامک اسٹڈیز کے نصاب ِتعلیم میں ترمیم و اصلاح کی اِس بحث میں اپنے جذبہ قومی و ملّی اوردینی کے تحت حصہ لیا اور مطالعہ اسلامی کے تحت نصاب میں اہم تبدیلیوں کی بابت اپنی صائب رائے پیش کی تاکہ مسلم یونیورسٹی کے قیام کے حقیقی مقاصد کی طرف بڑھا جاسکے۔

سیّد سلیمان اشرف نے اپنی رپورٹ میں سرکاری یونیورسٹیوں اور بالخصوص مسلم یونیورسٹی میں رائج اسلامی نصاب ِتعلیم اور طریقہ تدریس میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی اور اِسے بہتر بنانے کیلئے اپنی تجاویز وآراء بھی دیں۔ اور اسلامی علوم وفنون سے مسلمانوں کی بے رغبتی کی داستان بیان کرتے ہوئے لکھا:

”اِس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی کہ سرکاری یونیورسٹیوں نے جو نصاب عربی ایم، اے کا مقرر کیا ہے اور جیسی تعلیم عربی کی یونیورسٹیوں میں دی جاتی ہے اُس نے بھی مسلمانوں کو بددل بنا رکھا ہے۔ لیکن چونکہ ایم۔ اے ہوجا نے سے بعض ملازمتوں میں سہولت ہو جاتی ہے اِس لیے کچھ اشخاص اِس میں داخل ہوکر سند ِکامیابی کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ طلبہ کا مقصد سند حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کر عربی زبان سے آشنا ہونا۔ میری یہ عرض داشت محتاج بیان نہیں کہ مسلم یونیورسٹی جس کی تعلیم عربی کا نصاب دیگر یونیورسٹیوں سے زیادہ مفیدہونا چاہیے وہ سب سے زیادہ مضحکہ انگیز اور وحشت افزا ہے۔ ایسی صورت میں علوم اسلامیہ کی طرف مسلمانوں کا میلان صرف اِس شعبہ کے قائم کردینے سے کیوں کر ہوجائے گا۔ ”32لہٰذا ”محض علوم اسلامیہ کا انگریزی درس گاہوں میں شعبہ قائم کردینا جذب و قلوب کیلئے ہرگز کافی نہ ہوگا۔

ان کے خیال میں موجودہ خامیوں کو دور کرنے کے علاوہ طلبا میں علوم اسلامیہ کے حصول کی تڑپ و لگن پیدا کرنے کیلئے ضروری تھا کہ اُن میں ذوق و شوق کو بیدار کیا جائے، نصاب تعلیم و طریقہ تدریس کو دلچسپ و موثر بنایا جائے، طلباء کی مالی مدد و معاونت کیلئے وظائف مقرر کیے جائیں، اسلامک اسٹڈیز کی سند کو ایم، اے عربی کی سند پر فوقیت دی جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اِس شعبہ کا احترام اور اثرورسوخ قائم کیا جائے۔ چنانچہ اِس کے اسباب و علل کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے اسلامی علوم و فنون کی بہتری کیلئے بہت سی کارآمد تجاویز پیش کیں۔ اور حکام کی توجہ اِس جانب مبذول کرائی کہ علی گڑھ کے محوزہ شعبہ اسلامک اسٹڈیز کو علوم اسلامیہ کیلئے ایسا نصاب تعلیم اور نظام تعلیم بنانا اور رائج کرنا چاہیے جس میں علوم معقولات اور علوم منقولات پر ہی طلبہ کی مکمل دسترس نہ ہو بلکہ انگزیری کے حصول پر بھی پوری توجہ ہو۔ مزیدیہ کہ مذکورہ علوم وفنون کے حاملین کو ایسی اسنادپیش کی جائیں جو گورنمنٹ کی نظر میں دقیع ہوں اور دوسرے شعبوں کے گریجویٹ کے مساوی ہوں۔ چنانچہ اِن تجاویز کو ارباب اختیارکے سامنے پیش کرتے ہوئے انہوں نے لکھا:

”اِس وقت اِس کی ضرورت ہے کہ اسلامک اسٹڈیز کو دل گیر و دل پزیر بنانے کیلئے متعدد اور بار بار ذی رسوخ و ذی وجاہت ہستیاں مسلم یونیورسٹی کی تحریریں لکھیں، اِس کی اہمیت پر مستقل تقریریں کریں، گورنمنٹ سے استدعا کریں کہ جامع افراد کی قیمت کچھ گراں قرار دے اِسی کے ساتھ طلبا کو وقیع وظیفہ دیا جائے، معمولی ایم اے عربی کیلئے جب کہ وظائف کی ایک اچھی رقم دی جاتی ہے جس کی بدولت چند اشخاص عربی کے ایم اے میں دکھائی دیتے ہیں تو اسلامک اسٹڈیز کی بنیاد بغیر وظائف کیوں کر استوار ہوسکے گی، تقریر و تحریر سے دلوں میں تحریک پیدا کیجئے اور اچھی تعلیم اور دقیع وظیفے سے اِس تحریک کو دلوں میں ثبات و قرار کی قوت عطا کیجئے۔ گورنمنٹ سے یہ استدعا کرکے کہ عربی ایم اے سے اسلامک اسٹڈیز کی سند بالاتر سمجھی جائے اِس شعبہ کا رسوخ و احترام پیدا کیجئے۔

مذکورہ تجاویز پیش کرتے ہوئے انہوں نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کیلئے تین الگ الگ شعبوں کے قیام کو ضروری قرار دیا اور اِن کیلئے نصابِ تعلیم بھی متعین کیا۔ اِس متعین کردہ نصاب کے پہلے حصے میں سب سے پہلے عربی زبان کو فن ادب کی حیثیت سے داخل نصاب کیا گیا۔ دوسرے حصے میں علوم اسلامیہ کی جو تفصیل درج کی گئی اُس میں ادب، منقول اور معقول کو بحیثیت فن پڑھانے کی وکالت کی گئی اور تیسرے حصے میں اُن ماقبل اسلام علوم کو شامل کیا گیا جنھیں مسلمانوں کی سرپرستی نے بام عروج پر پہنچادیا۔ اوراِس میں منطق، عنصریات، فلکیات، الٰہیات اور ریاضی کے جملہ مضامین کو بھی کو شامل کیا گیاہے، جبکہ علم کلام، تصوف، تاریخ، جغرافیہ، طب کو بھی اسی حصے میں رکھا گیا ہے۔

الغرض سیّد سلیمان اشرف نے اِس یادداشت میں جدید علوم و فنون اور زبان و بیان کے علاوہ عربی زبان کی ضرورت اورمحاسن وفضائل کے ساتھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کیلئے نصاب ِ علوم اسلامیہ کا مفہوم و تفصیل بشمول علم کلام، تصوف، تاریخ وجغرافیہ اورطب وغیرہ کے فروغ و اطلاق کا طریقہ کار ہی بیان نہیں کیا بلکہ انہوں نے علم ریاضی، علم ہندسہ، علم العدد، علم العدد کے دو اہم شعبے اصول اعداد و ارثما طیقی اور علم ہئیت و علم ہئیت میں مسلمانوں کے میلان و تحقیق اور کارناموں پر بھی سیر حاصل گفتگو کی اور نصاب ِتعلیم ِدینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، نصاب ِتعلیم اسلامک اسٹڈیز شعبہ معقول فن ِحکمت اور شعبہ اسلامک ہسٹری کیلئے توجیہ و تعلیل تعین ِنصاب کا عملی خاکہ بھی پیش کیا۔ بلاشبہ ان کی یہ یادداشت خطے میں مسلمانوں کی تعلیمی زندگی اور خاص طور پر مطالعات ِاسلامی کے نشیب و فراز، ماضی کی کوششوں و کاوشوں، جدوجہد و عزائم اورمقاصد کو ہی ہمارے سامنے نہیں لاتی بلکہ اسلامی تعلیمات کے فروغ و نفاذ کا جذبہ تحریک بھی دیتی ہے۔

سیّد صاحب کا مقصود و مطلوب نظام ِتعلیم

سیّد سلیمان اشرف ایک ایسا نظام تعلیم چاہتے ہیں جس میں مشرق و مغرب کی ساری خوبیاں مجتمع ہوں اور وہ اُن نقائص سے یکسر پاک ہو جو مشرق یا مغرب کے نظام تعلیم میں پائے جاتے ہیں۔ سید صاحب چاہتے تھے کہ یہ تعلیم کتاب و سنت کی روشنی میں دی جائے تاکہ ان علوم سے جو فکری و نظری استعداد پیدا ہو وہ کج روی اور گمراہی سے مملو نہ ہو اور ان کے ذریعہ جو علمی قوت حاصل ہو وہ دنیا کے اندر فساد کا سبب نہ بنے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان طلبا سائنس اور فلسفہ وغیرہ کو مرعوبانہ و مقلدانہ ذہنیت کے ساتھ نہ حاصل کریں بلکہ وہ اِن کو ایمانی بصیرت اور مومنانہ فراست کے ساتھ اپنے اندر جذب کریں۔ پروفیسر دلاور خان (پرنسپل کالج آف ایجوکیشن ملیر کراچی) سیّد سلیمان اشرف کی اِسی فکر کو اجاگر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”مسلمانوں کے سائنسی میدان میں پیچھے رہ جانے کا ایک بنیادی سبب قرآن کے تصور ِ کائنات کے مطالعہ کا ناپید ہونا ہے۔ اِس مذہبی کوتاہی کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اپنی کج فہمی کی بنیاد پر سائنسی تعلیم کے حصول کو غیر اسلامی سمجھتا ہے۔ مطالعہ قرآن کے برعکس سائنس سے دور رہنا عین اسلام قرار دیتا ہے۔ اِس فکر نے اُمت مسلمہ کو قرآن کی سیکڑوں تکوینی آیات سے مستفید ہونے سے محروم کردیا جب کہ مسلمانوں کا ایک قلیل طبقہ معرفت الٰہی سے عاری سائنس کے مطالعہ کا عادی ہے۔ یہ دونوں طبقات قرآن کی سیکڑوں تکوینی آیات سے انحراف کرتے دکھائی دیتے ہیں اور یہ کسی طرح بھی مسلم اُمّہ کے لوازمات ِ حیات اور بقائے حیات کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں، اِن کی یہ کج فہمی مسلم اُمّہ کے زوال کا باعث ہے۔ سیّد سلیمان اشرف سائنسی تعلیم کو شجر ممنوعہ قرار دینے والوں کو مسلم اُمّہ کیلئے سم قاتل سمجھتے ہوئے قرآن کی روشنی میں اُن کی ذہنی، فکری اور مذہبی تربیت کرتے ہیں۔

 جدید عصری علوم کے سلسلے میں پروفیسر سلیمان اشرف کسی تنگ نظری کے قائل نہ تھے۔ بلکہ انہوں نے سائنس اور معرفت الٰہی کو لازم وملزوم قرار دیا۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان کی کتاب ”الخطاب” کا مطالعہ مسلم سائنس دان اور طالب علم کی قابلیت کے کمال کا اسلامی معیار متعین کرتا ہے اور اُنہیں اِس جانب راغب کرتا ہے کہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کائنات کی تمام جان دار اور بے جان اشیاء کے حقائق کے اسباب وعلل اور فوائد دریافت کرکے مسلم اُمّہ کو اِس قابل بنائے کہ وہ ترقی یافتہ اقوام کی سائنسی میدان میں قیادت و سیادت کرسکے۔

سیّد سلیمان اشرف مغرب کے لادینی کے نظام تعلیم کو اس لیے غیر موثر اور بے روح خیال کرتے ہیں کہ اُس نے علم کے نا م پر دین اور تہذیب کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اُن کے نزدیک یہ طرز تعلیم مذہب و اخلاقیات کے خلاف ایک منظم سازش ہے۔ جس نے نئی نسل کو غلامانہ ذہنیت اور تنگ نظری کا شکار بنادیا تھا۔ اِس طریقہ تعلیم میں پڑھا نے والوں میں نہ افکار کی ندرت ہے، نہ خیال کی جدّت، نہ علم کی گہرائی، یہی حال پڑھنے والوں کا ہے کہ نہ اُن میں تحصیلِ علم کا شوق ہے اور نہ ہی حقائق سے آشنا ہونے کی جستجوہے۔  اِس لیے ان کا نظام تعلیم کے ذمہ داران اور اداروں مطالبہ تھا کہ وہ اپنے نظام تعلیم اور طریقہ تدریس میں مغرب کی اندھی تقلید و پیروی کے بجائے تجدید و اجتہاد سے کام لیں، خود کو نسلی، لسانی اور علاقائی تعصبات سے باہر نکالیں اور اپنی درس گاہوں کیلئے ملّی حریت پسندی کے شایان شان ایسا نصاب تعلیم مرتب کریں جس کے رہنماء اصول قرآن و سنت سے ماخوذ ہوں۔

سیّد سلیمان اشرف نصاب و درس کے تعلق سے جدیدیت کے اور طریقہ تعلیم کے لحاظ سے قدیم طرز فکر کے قائل ہیں۔ ان کے تعلیمی فلسفہ کی بنیاد مشرقی افکار اور مغربی نظریات میں ہم آہنگی وتوازن پرمبنی ہے۔ نصاب اور طریقہ تعلیم کے حوالے سے ان کی رائے بڑی معتدل اور معقول ہے۔ ایک عالم دین اور مشرقی اقدار کے علمبردار ہونے کے باوجود سیّد سلیمان اشرف جدید علوم و ٹیکنالوجی کے حصول کو مسلمان قوم کی ترقی کیلئے ناگزیر سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک جدید عصری علوم سے دوری اور اجتناب کا نظریہ درست نہیں۔ وہ جانتے تھے کہ علوم جدیدہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرکے معاشی و معاشرتی استحکام کا ہی سبب نہیں بنیں گے بلکہ اِس کے حصول سے فہم وآگہی کے کھلنے والے دروازے مسلمانوں کی سیاسی بیداری اور حصول آزادی کیلئے بھی معاون و مدد گار ثابت ہوں گے۔  چنانچہ اسی لیے انہوں نے برعظیم کے مسلمانوں کو خواب ِغفلت سے بیدار کرتے ہوئے احساس دلایا کہ ہندو قوم اِس لیے ان سے آگے نکل گئی ہے کہ اُس نے وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو جدید تعلیمی ضرورتوں سے ہم آہنگ کیا جبکہ مسلمان ابھی تک اِس کی اہمیت و افادیت سے آشنا ہی نہیں ہوئے اور اگر ہوئے بھی تو ان کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ اِس صورتحال کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”انگریزی سلطنت جب اپنے ساتھ علوم مغربیہ ہندوستان میں لائی تو ہندوستانیوں نے دیکھا کہ اب بقاء اور نمود کی زندگی بغیر علوم مغربی حاصل کیے ناممکن ہے، تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا اور ہندوؤں نے بڑھ کر تعلیم انگریزی کا استقبال کیا اور خوش آمدید کا نعرہ بلند کیا۔ جب اِس قوم کے ایک خاص حلقہ میں یہ تعلیم پھیل گئی اور انگریزی واقف کار کچھ ہندوؤں میں تیار ہوگئے تو اُن میں احساس پیدا ہوا اور حکومت کے انداز فرماں روائی پر نکتہ چینی شروع کی، اپنے حقوق کے باب میں صدائے احتجاج بلند کی، ہوم رول، سلف گورنمنٹ یا سوراج کا تخیل سب سے پہلے علم مغربی سے آشنا دماغ میں آیا۔ حکومت ِخود مختاری کی صدا بھی جس نے اپنے منھ سے نکالی اور ہندوستان کے رہنے والوں کو یہ سامعہ نواز نغمہ جس نے سنایا وہ انگریزی دان ہندوستانی تھا۔ کانگریس جو سوراج کا سنگ بنیاد ہے اس کی تاسیس اور پھر اس عمارت کی تعمیروتکمیل جن ہاتھوں نے کی وہ سب انگریزی خواں اور انگریزی داں ہیں۔ مسلمانوں میں جب علوم مغربیہ کا آغاز ہوا اور پھر ان میں بھی ایک تعداد تعلیم یافتوں کی تیار ہوگئی تو احساس وتاثیر یہاں بھی ظاہر ہونے لگے لیکن افسوس     ؎  ہم ابھرتے ہوئے جھونکے میں خزاں کے آئے۔”

دراصل سیّد سلیمان اشرف اِس اَمر کو پاچکے تھے کہ صرف مسلمانوں کی ہی نہیں بلکہ دنیا کی ہر قوم کی ترقی واعلیٰ کامیابی کا راز اور دارومدار صرف اور صرف مسئلہ تعلیم کے عمدہ طریقے سے حل ہونے پر مبنی ہے۔ وہ جانتے تھے کہ دنیا میں وہی قومیں عروج حاصل کرتی ہیں جو زیور تعلیم سے آراستہ و پیراستہ ہوں۔ انہوں نے مسلمانان ہند کے خیالات کی اصلاح کی۔ اور پرزُور مضامین و خطبات کے ذریعے ایسے اوہام و خیالات ِفرسودہ کی نہ صرف تردید کی بلکہ ثابت کیا کہ مذہب علوم جدیدہ کا مخالف نہیں ہے۔

چنانچہ آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے اٹھائیسواں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مسلم معاشرے میں در آنے والی خرابیوں کا ہی ذکر نہیں کیا بلکہ مسلم اُمّہ کی زبوں حالی کا مرض تشخیص کرکے اُس کا تریاق بھی تجویز کیا۔ انہوں نے لکھا:

”جب مسلمان اپنے دستورالعمل سے جو خدا نے اُن کے صلاح معاش و معاد کیلئے بھیجا تھا ہٹنے لگے تو سب خرابی آہستہ آہستہ اُن میں آنے لگی۔ اب نہ علم ہے نہ تجارت، نہ صنعت ہے نہ زراعت، ہائے ہائے کیا کرو یا اسلاف کے کارنامے پڑھ کر فخرومباہات کرتے رہو، اِس سے کیا ہوتاہے۔ عزیزو!جس طرح کل کا کھانا آج کی بھوک کو ر فع نہیں کرتا، اُسی طرح گزشتہ اقبال کا تذکرہ آج ہمیں اقبال مند نہیں بنا دے گا۔ جس طرح میت پر نوحہ کرنے سے اُس کی مراجعت نہیں ہوئی، اسی طرح ہائے وائے کرنے سے وہ نعمت اسلامی واپس نہیں آتی ۔ہاں اسی چیز کو پھر حاصل کرو جس کے طفیل سب کچھ گیا تھا، بغیر اس کے ترقی محال ہے اور یہ استحالہ کا حکم میں نہیں دے رہا ہوں بلکہ قرآن کریم کا یہ فتویٰ ہے اور یہ وہ فتویٰ ہے جس کا مشاہدہ تم ہر روزہر شخص میں کیا کرتے ہو۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَومٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوامَابِاَ نفُسِھِم۔ اِن جذبات کو جو ہمارے نفوس میں ودیعت کیے گئے ہیں جب تک ہم صحیح راہِ اعتدال پر نہ لائیں گے ہرگز ترقی کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوگا۔

خلاصہ کلام:

اَمر واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ دونوں صدیاں ہندوستانی اقوام کی سیاسی، سماجی، علمی اور اقتصادی ترقی کے ضمن میں انتہائی اہم ہیں۔ انگریزی اقتدار اور اِس کے نتیجے میں درآمدہ استعماریت اور انگریزی تعلیم نے مسلمانان بر صغیر کو تاریخ کے دوراہے پر لاکھڑا کیا۔ اِن حالات میں ضروری تھا کہ ”جدیدیت“ کی اِس لہر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اُن کی من حیث الجموع رہنمائی کی جاتی تا ہم اِن دونوں صدیوں میں پیدا ہونے والے اور اپنی قوم وملت کی تاریخ اپنے خون جگر سے لکھنے والے اصحاب فکر کی تعداد یوں تو سینکڑوں میں ہے لیکن مسلمانان برعظیم کی ترقی و خوشحالی اورسماجی وسیاسی استحکام اور تعلیمی شعور کی بحالی کیلئے انتھک کوششیں کرنے والی شخصیات کی فہرست میں پروفیسر سیّد محمد سلیمان اشرف کا نام نمایاں ہے۔

سیّد سلیمان اشرف نے برعظیم کے مسلمانوں کو دینی و عصری تعلیم کی روشنی میں ایک صحیح قومی شاہراہ پر چلنے کی ترغیب دی اور برطانوی حکومت کے ظلم و استبداد سے نجات کا راستہ بتاتے ہوئے من حیث القوم اپنی شناخت بنائے رکھنے کے لیے راہ بھی ہموار کی۔ یہ اُن کی مومنانہ بصیرت و آگہی ہی تھی جس نے براہ ِراست طاغوتی طاقتوں سے ٹکراؤکے بجائے مسلمانوں میں دینی و عصری علوم کے رجحان کے فروغ کو اپنا مطمح نظر بنایا۔ جس سے طلباء میں انگریزی تسلط سے آزادی کا فکری شعور پیدا ہوا اور وہ مسلم لیگ کا دست و بازو بن کر قیام پاکستان کی تحریک کے ہراول دستے میں شامل ہوئے۔

قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اِنہی عوامل کی بنیاد پر نوجوانانِ علی گڑھ کی فکری اور عملی تحریک کو خراج تحسین پیش کیا اورعلی گڑھ کو اپنی تحریک کا مرکز قرار دیا۔ اُن کے بقول یہیں سے نوجوان ملت آزادی کے سفیربن کر برعظیم ہندوستان کے ہر کونے میں جاکر مسلمان عوام کو مسلم لیگ کا پیغام پہنچاتےتھے۔ اُنہوں نے نوجوانان علی گڑھ کے مشنری جذبہ اور تحریک سے بے لوث لگاؤ کو اپنی ساری متاع قرار دیا۔ قائد اعظمؒ اپنی انتہائی مصروفیت میں بھی نوجوانان علی گڑھ کو یاد رکھتے اور کئی کام چھوڑ کر یہاں تشریف لاتے اور اِن نوجوانوں کی صحبت میں بیٹھ کر اور اِن سے باتیں کرکے اپنے عزم اور ارادے میں تقویت حاصل کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ۱۹۱۱ء سے لے کر۱۹۳۹ء تک برعظیم کی ملّی تاریخ کے ہر پُر خطر اور کٹھن مرحلے میں ہمیں سیّد سلیمان اشرف کا ہی آہنگ سنائی دیتا ہے، جو اُن کی مروجہ نظامِ تعلیم کا گہرادرک، پیشہ ورانہ وابستگی، علمی و فنی مہارت، غیرمعمولی دینی غیرت وحمیت اور مومنانہ حق گوئی و بے باکی پر شاہد و عادل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امام غزالی: غزال دشت سگاں ------ غلام شبیر
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. آپ کا مضمون اور مضمون نگار دونوں اچھے ہیں اور آپ کی طرف سے ہم تشنہ گان علم کے لیے یہ بہت ہی عمدہ کاوش ہے میں نے چند دیگر مضامین کا مطالعہ بھی کیا اور آپ کے عناوین کو بھی دیکھا آپ کو محنت بلاشتہ قابل ستائش ہے۔
    آپ کے عناوین میں منتظم سے رابطہ کا کوئی طریقہ کار درج نہیں ہے اور نہ ہی یہ مل سکا ہے کہ آپ کو اپنے مضامین کس طرح ارسال کئے جا سکتے ہیں۔ اگر آپ دوسرے برقی منطقہ جات ملاحظہ فرمائیں تو ان میں اس طرح کی معلومات مل جاتی ہیں نہ صرف یہ بلکہ مصنفین اور معاونین کے ای میل بھی شایع ہوتے ہیں جس سے قارئین کو آسانی ہوتی ہے اور معاونین کو اپنے مضامین دیگر برقی صفحات اور منطقہ جات کو ارسال کرنے میں بھی آسانی ہو سکتی ہے

    یا پھر اگر کوئی مصنف سے کسی قسم کی معلومات یا رابطہ کا خواہش مند ہو تو اس کا کوئی طریق ہو. اگر آپ چاہیں تو نمونہ کے لیے https://sirfurdu.com/ ملاحظہ کریں اس طرح کے عناوین اور صفحات لوگ پسند کرتے ہیں

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20