لبرلز کے خواب اور ان کی تعبیریں —- فرحان کامرانی

0

خواب بڑی زبردست چیز ہے۔ انسان نیند میں بڑے بڑے معرکے سر کر لیتا ہے۔ خوابوں کی مختلف مذاہب میں تعبیرات کا بڑا عظیم علم پایا جاتا ہے۔ حضرت یوسفؑ، حضرت دانیالؑ کی دی ہوئی خوابوں کی تعبیرات تو قرآن و حدیث میں رقم ہیں ہی مگر حضرت ابن سیرینؒ اور دیگر علما و اولیا کی دی گئی تعبیراتِ خواب بھی انسان کو حیران کر دیتی ہیں۔ خواب کے حوالے سے سب سے اہم اور بنیادی بات جو تمام مذہبی تعبیرِ خواب کے علوم میں مشترک ہے وہ یہ کہ خواب میں جو کچھ نظر آتا ہے تعبیر عموماً اس سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ اتنی مختلف کہ بعض صورتوں میں اسے متضاد بھی کہا جا سکتا ہے۔ خوابوں کے بارے میں سگمنڈ فرائیڈ کے نظریات مذہب کے بالکل متضاد فلسفے پر کھڑے ہیں مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خوابوں میں نظر آنے والی علامات اور اُن کے حقیقی مطالب و مفاہیم کے حوالے سے فرائیڈ بھی اسی خیال کا حامل ہے کہ خواب میں ظاہر Manifest اور باطن Latent بالکل جدا ہوتے ہیں۔

یہ تو خیر سونے کے بعد کے خوابوں کی بات تھی مگر لفظ خواب عموماً ’آرزو‘ کے معانی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ علامہ اقبال نے مسلمانوں کیلئے علیحدہ مملکت کا خواب سوتے ہوئے نہیں بلکہ آرزو کے معنی میں ہی دیکھا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم آپ اپنی نیند کے خوابوں سے زیادہ جاگتے خوابوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ ہمارے یہی خواب ہماری حیات کی صورت گری کرتے ہیں مگر ان جاگتے خوابوں میں ایسی کوئی دور رنگی نہیں ہونی چاہیے کہ جیسی نیند کے خوابوں میں ہوتی ہے۔ جاگتے خواب تو واضح ہونے چاہئیں مگر ہمارے لبرل بھی بڑے عجیب لوگ ہیں، اِن کے جاگتے خوابوں میں بھی وہی نیند کے خوابوں والا تضاد پایا جاتا ہے۔ مگر بات تھوڑی تفصیل طلب ہے۔

چلئے ایک لبرل ذہن میں لائیے۔ اگر کچھ مشکل ہے تو ہم آپ کی مدد کر دیتے ہیں۔ آپ سوچئے کہ آپ شرمین عبید چنائے ہیں یا پھر آپ ماروی سرمد ہیں، یا شہزاد رائے ہیں، یا پھر جبران ناصر ہیں۔ اب آپ کے خواب کیا ہوں گے؟ ظاہری طور پر آپ کا خواب ہو گا، عورتوں کی آزادی، اقلیتوں کے حقوق، پولیو کے قطرے، سیکولر جمہوریت وغیرہ وغیرہ۔ اب ان خوابوں میں موم بتیاں بھی ہوں گی اور ”بول کے لب آزاد ہیں تیرے“ کی بیک گراؤنڈ میوزک بھی۔ ان نت نئے خوابوں میں کیا غلط ہے اور کیا صحیح یہ ایک علیحدہ بحث ہے مگر یہ بحث تو جب ہونی چاہئے جب واقعی ان خوابوں کی تعبیر بھی یہی ہو جو خواب کے مواد سے ظاہر ہوتی ہے مگر ان تمام رنگ برنگے خوابوں کی تعبیر صرف ایک ہے۔۔۔۔ پیسہ۔

جی ہاں پیسہ۔ لالچ، ہوس، بھوک اور اِن سب کے لئے دنیا کو ٹھگنے کا جذبہ۔ یہ دنیا سے (مطلب مغربی لبرل دنیا) مراعات لینے، فوائد اٹھانے اور وہاں کا مستند ”اچھا بچہ“ بن جانے کا کھیل ہے۔ یہ لوگ NGOs بنا کے کروڑوں اربوں روپے اب تک ہضم کر چکے ہیں اور دنیا میں شہرت الگ۔ یہ مراعات پانے کا وہ دھندہ ہے جو ان لوگوں سے ہر قسم کے کرتب کرواتا ہے۔

ویسے تو یہ لبرل ہیں بھی غلط نظریات کے پرچار کرنے والے، یہ ہیں بھی جھوٹ کے بیوپاری مگر اچھی بات یہ ہے کہ یہ الحمد للہ اتنے بدعنوان ہیں اور اس طرح سے مغرب کو ٹھگ رہے ہیں کہ ان سے عوام کی کثیر تعداد کو کوئی خاص نقصان ہے بھی نہیں۔ یہ بیچارے ہر وقت مختاراں مائیاں ڈھونڈتے رہتے ہیں کہ ان کی دکان چلتی رہے۔ کوئی اصلی مختاراں مائی نہ ملے تو نقلی مختارائیں بناتے ہیں۔ یہ اپنے مالکوں سے زیادہ سے زیادہ پیسے بنانے کے لیے ”بھینسا“ جیسے توہین رسالت پر مبنی فیس بک پیجز بناتے ہیں مگر ان کی عوامی مقبولیت کا عالم دیکھنا ہو تو جبران ناصر صاحب کے انتخابات میں حاصل کردہ ووٹ معلوم کر لیجئے۔ ویسے الحمدللہ حکومت نے شکیل آفریدی کو بند کرنے کے بعد سے رفتہ رفتہ NGOs اور I-NGOs کے ساتھ جو کام شروع کر رکھا ہے اس سے لبرلوں کا دم تو گھٹ ہی گیا ہے، دیکھئے یہ کب کب اپنا بوریا بستر لپیٹ کر غمگین صورت بنا کر ایئرپورٹوں کی بین الاقوامی پروازوں کی قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیچاروں کے خواب چکنا چور ہو گئے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ یہ ٹھگ مغرب میں اب کون سا منجن بیچتے ہیں؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20