جب کلمۂ طیبّہ متنازع بنا دیا گیا — سلیم منصور

0

آج کل ’یکساں نصابِ تعلیم‘ اور پھر اس میں اسلامیات کے نصاب، اور جولائی۲۰۲۰ء میں ’تحفظ ِ بنیاد اسلام ایکٹ‘ (پنجاب حکومت) کی بحث نے ماضی کے اُفق روشن کردیئے۔ پاکستان کا قیام اور نظریۂ پاکستان کی بنیاد دین اسلام اور کلمۂ طیبہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔ اس بنیاد کو متنازع بنانے کے لیے سیکولر عناصر نے ہمیشہ اہلِ دین ہی میں غلط فہمی پیدا کرکے پیدا شدہ کش مکش کو عام لوگوں میں بددلی پھیلانے کا کام کیا۔ سادہ لوح علما کا ایک طبقہ، ان عناصر کو ایسے کھیل میں آلۂ کاربننے کے لیے ہر مرحلے پر ملتا رہا ہے۔ اسی نوعیت کی ایک تشویش ناک کارروائی کا احوال ہماری تاریخ کا حصہ ہے، جس میں بہت سے سبق پوشیدہ اور عبرت کے نشانات نمایاں ہیں۔

یہ ۱۹۷۵ء کے اواخر کی بات ہے۔ میں پنجاب یونی ورسٹی کا طالب علم تھا اور مولانا مودودیؒ کی رہایش گاہ ۴-ذیلدار پارک میں آیا کرتا تھا۔ ایک روز ہم نے دیکھا کہ ایک پُرجوش خوبرو نوجوان، خطیبانہ لہجے میں مولانا مودودیؒ سے کہنے لگے: ’’مولانا، بھٹو صاحب کی حکومت نےتو اسلام کو بھی تقسیم کردیا ہے۔ چودہ سوسال سے اُمت ایک کلمے پرمتفق چلی آرہی ہے، لیکن اب تو کلمۂ طیبہ بھی شیعہ اور سُنّی میں تقسیم کر دیا گیا ہے‘‘۔

مولانا نے فرمایا: ’’ایسا حادثہ کب ہوا؟‘‘

نوجوان نے بتایا: ’’مولانا، یہ دیکھیے نہم، دہم اسلامیات لازمی کی کتاب میں کلمہ کے عنوان میں ’کلمہ‘ کے بجاے یہ نوٹ درج ہے: ’’اساتذۂ کرام کلمہ راہنمائے اساتذہ گائیڈ سے دیکھ کر پڑھائیں‘‘۔ اب دیکھیے مولانا، یہ ہے مرکزی وزارتِ تعلیم اسلام آباد کی شائع کردہ گائیڈ بُک، جس میں سُنّی اور شیعہ طلبہ کے لیے الگ الگ کلمہ درج ہے‘‘۔ نوجوا ن کے ہمراہ آنے والے بزرگ نے کہا: ’’مولانا، ہم آپ سے رہنمائی کے لیے حاضر ہوئے ہیں‘‘۔

مولانا نے فرمایا: ’’یہ دونوں کتابیں میرے پاس چھوڑ دیں اور کل مغرب کے بعد آئیں‘‘۔

اس واقعے کے بعد میں نے جب اس نوجوان، اور بزرگ کے علاوہ ایک وکیل صاحب کو مولانا مودودیؒ کے ہاں وقتاً فوقتاً ملاقات کے لیے آتے جاتے دیکھا، تو ایک روز نوجوان سے تعارف حاصل کیا۔ معلوم ہوا، وہ مولانا محمد شفیع جوش، ماڈل ٹائون ایف بلاک مسجد کے خطیب ہیں۔ ان کے ساتھ جو بزرگ ہیں ان کا نام پیر سیّد ابرارمحمد صاحب ہے اور وکیل صاحب کو ہم جانتے تھے ارشاد احمد قریشی ایڈووکیٹ۔

میں نے محمد شفیع صاحب سے پوچھا: ’’اُس روز کی گفتگو پر مولانا نے کیا رہنمائی فرمائی ہے؟‘‘

شفیع جوش صاحب نے بتایا: ’’مولانا نے کہا ہے کہ ’اس مسئلے کو سڑکوں پر احتجاج اور باہم کشیدگی پیدا کرنے کے بجاے آئینی اور قانونی سطح پر حل کرنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کریں‘۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ ’قانونی معاونت کے لیے میں ارشاد احمد قریشی ایڈووکیٹ کی ذمہ داری لگاتاہوں‘۔ پھر یہ بھی کہا کہ ’اس مسئلے میں، مَیں علمی، قانونی اور مالی سطح کی تمام ذمہ داریوں کو پورا کروں گا۔ آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ عدالت میں پیش ہوں اور پوری ایمانی قوت اور اللہ کی تائید سے جم کر کھڑے رہیں‘‘۔

ان دنوں وہ تینوں حضرات، رہنمائی حاصل کرنے اوررٹ کی تیاری کے علاوہ قومی سطح پریک جائی کی حکمت عملی بنانے کے لیے مولانا مودودی کے ہاں آیا کرتے تھے: ’’پھر چند ہفتوں کے بعد ایک نہایت جامع رٹ جنوری ۱۹۷۶ء میں لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردی گئی، جو بنیادی طورپر مولانا مودودی ہی کی تحریر پر مبنی تھی، تاہم اس میں کچھ الفاظ کا اضافہ کیا گیا‘‘۔

اُسی ملاقات میں شفیع جوش صاحب نے مجھ سے کہا: ’’مولانا مودودی نےسختی سے ہدایت کی ہے، کہ لوگوں سے میرا ذکر نہ کیا جائے، کہ اس صورت میں عدالتی عمل کے پائوں لڑکھڑانے کا خدشہ ہے، جس سے پیش نظر مقصد کو نقصان پہنچے گا‘‘۔ یوں نوجوان، جوش صاحب نے ہم عمری کی بے تکلفی سے اس نازک رازداری کا حصے داربنالیا (اس رٹ اور اس کے نتیجے میں عدالت کے فیصلے کو اس تحریر کے آخر میں ملاحظہ فرمایئے)۔

اس واقعے کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے ۴۵برس بعد مولانا محمد شفیع جوش صاحب سے گذشتہ دنوں ملاقات ہوئی، تو اس میں متعلقہ اُمور کی وضاحت ممکن ہوئی، جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے: محترم شفیع صاحب نے بتایا: ’’رٹ دائر کرنے کے بعد مولانا مودودی نے مشورہ دیا کہ اب آپ مولانا مفتی محمد حسین نعیمیؒ (م:۱۲ مارچ ۱۹۹۸ء) لاہور، مفتی محمد شفیع ؒصاحب (م: ۶؍اکتوبر ۱۹۷۶ء) کراچی، خواجہ قمرالدین سیال شریف (م: ۲۰ جنوری ۱۹۸۱ء) سے بھی جا کر ملیں اور مقدمے کی صورتِ حال پر ذاتی سطح پر بات کریں‘‘۔

ان اکابر علما سے ملنے کے بعد ہم نے راولپنڈی میں مولانا غلام اللہ خان (م: ۲۶مئی ۱۹۸۹ء) اور پیر اختر حسین شاہ علی پوری (م: ۱۶؍اکتوبر ۱۹۸۰ء) سے بھی ملاقات کی، جنھوں نے اپنا تعاون پیش کرتے ہوئے بہ اصرار ہمیں مالی معاونت لینے کے لیے کہا تو ہم نے بڑے ادب سے ان کو بتایا: ’’کلمۂ طیبہ کے تحفظ کے لیے جملہ سفری اور عدالتی اخراجات کا کُلی ذمہ مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ذاتی طور پر اُٹھا لیا ہے، اس لیے اس ضمن میں کسی فرد یا جماعت سے مالی ضرورت کی حاجت نہیں رہی‘‘ تو ان حضرات نےمولانا کی عظمت اور ان کے جذبۂ اسلامی کو سراہتے ہوئے مولانا کی خدمت میں سلام پیش کیا۔ ہم نے واپسی پر یہ تشکر بھرے جذبات جب مولانا مودودی کی خدمت میں پہنچائے تو مولانا مودودیؒ نے ہمیں انھی قدموں ان حضراتِ علما کے پاس اپنے خرچ پر واپس بھیجا اور فرمایا: ’’انھیں وعلیکم السلام کہیں اور میری طرف سےشکریہ ادا کریں‘‘۔ اکابرین ملّت اسلامیہ کے اس اسوہ کا ایمان افروز مظاہرہ میری زندگی کا ناقابلِ فراموش واقعہ ہے‘‘۔

شفیع صاحب نے مزید کہا: ’’اتفاق سے ان دنوں امام مسجد نبوی مدینہ منورہ، پاکستان آئے ہوئے تھے اور اُنھوں نے بادشاہی مسجد لاہورمیں نماز جمعۃ المبارک کی امامت فرمائی، جس میں پنجاب بھرسے لاکھوں اہلِ ایمان شریک ہوئے۔ اس موقعے پر لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردہ رٹ کا اُردو ترجمہ ایک لاکھ کی تعداد میں ہم نے شائع کرکے تقسیم کیا، جو پورے پاکستان میں پھیل گیا۔ تب ذوالفقارعلی بھٹو صاحب کا دورِ حکومت تھا۔ اسی دوران شاہِ ایران رضا شاہ پہلوی بھی پاکستان آئے [۸مارچ ۱۹۷۶ء] تھے۔ ہمارا قیاس ہے کہ انھوں نے دیگراُمور کے علاوہ اس موضوع پر بھی بات کی ہوگی۔ مولانا مودودی کی ہدایت پر ہم نے رٹ دائر کرنے سے قبل ہی محترم آیت اللہ محمد کاظم شریعت مداریؒ [م: ۳؍اپریل ۱۹۸۹ء]، ایران سےفتویٰ حاصل کرکے شیعہ موقف بھی رٹ میں شامل کرلیا تھا کہ شیعہ بھائیوں کے نزدیک بھی کلمۂ اسلام صرف ’لا الٰہ الا اللہ محمدرسول اللہ‘ ہے‘‘۔

مولانا جوش صاحب نے بتایا: ’’لیکن حکومت پاکستان دوسری جانب سے دبائو میں نظر آرہی تھی، جس کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمداقبال [م: ۵مئی ۲۰۰۸ء] کو اسلام آباد طلب کرکے بہر قیمت مقدمے کا فیصلہ کرنے سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی۔ اسی طرح ہمیں بھی خوف اور لالچ سے مقدمے کی پیروی سے باز رکھنے اور دوسری جانب مقدمے کو طوالت کا شکار کرنے کا کام شروع ہوا۔ اسی دوران آل پاکستان شیعہ کانفرنس کے صدراور چند روز پہلے تک فرانس میں پاکستان کے سفیر آغا مظفرعلی خاں قزلباش صاحب [م: ۲۱ستمبر۱۹۸۲ء] نے ایک جلسے میں کلمۂ اسلام کی رٹ دائر کرنے پر ہم دونوں کو ’کانگریسی مُلّا اور پاکستان کا مخالف قراردیتے ہوئے کلمۂ اسلام مقدمے کو پاکستان توڑنے کی سازش‘ قرار دیا۔ آغا قزلباش صاحب کو سابق چیف جسٹس محمد منیر [م: ۲۶جون ۱۹۸۱ء]کی معاونت حاصل تھی۔ ان کو باور کرایا گیا کہ ’’رٹ کنندہ محمد شفیع کی پیدایش تو ستمبر ۱۹۴۷ء میں ہوئی تھی، ان پر پاکستان کی مخالفت کا الزام کیسے لگایا جاسکتا ہے؟‘‘ اس طرح یہ الزام اپنی موت آپ مرگیا۔ سماعت سے پہلے ہم پر دبائو ڈالا گیا کہ یہ رٹ واپس لی جائے، کہ کلمۂ طیبہ پہلی ہی صورت میں نصاب کے اندر شامل کردیا جائے۔ چیف جسٹس سردار محمد اقبال صاحب نے ہمیں چیمبر میں بلایا اور قومی حالات کی طرف توجہ دلا کر فرمایا: ’’یقین دلاتا ہوں واحد کلمے کی بحالی ہوجائے گی، اس لیے رٹ واپس لے لیں اور اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو میں رٹ خارج کردوں گا‘‘۔ اسی طرح ایک صوبائی سیکرٹری نے کہا کہ ’’رٹ واپس لینے کی صورت میں آپ کو حکومت کچھ انعام و اکرام سے بھی نوازنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ خواہ مخواہ مسئلے کو آگے نہ بڑھائیں‘‘۔

مولانا شفیع صاحب نے بتایا: ’’جب لاہور ہائی کورٹ کے سربراہ اور حکومت کے ایک سیکرٹری کی جانب سے دبائو بڑھا تو ہم نے سوچنے کے لیےوقت مانگا اور اگلی تاریخ کی استدعا کی، جو صرف اگلے روز تک منظور کرلی گئی۔ یوں صرف ایک رات کے وقفے میں ہم نے مولانا مودودی کی خدمت میں حاضر ہوکرساری رُوداد بیان کی۔ ارشاد احمد قریشی صاحب بھی ہمراہ تھے۔ ہم نے مولانا مودودی سےعرض کیا: ’’حکومت ِ پاکستان نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ کلمۂ اسلام سابقہ پوزیشن پر نصاب میں بحال کردیا جائے گا۔ اور یہ کہ مجوزہ نظرثانی شدہ کتب نصاب، ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی پیش کردی گئی ہیں کہ آیندہ کچھ عرصے میں مطالبہ پورا ہورہا ہے، اس لیے رٹ واپس لے لیں‘‘، وغیرہ وغیرہ۔

مولانا مودودی نے گہری توجہ اور فکرمندی سے تفصیل سننے کے بعد ہم سے ارشادفرمایا: ’’یہ ایک مضبوط مقدمہ ہے، اور یہ بھی درست ہے کہ حکومت غلطی کا احساس کرکےازالہ کررہی ہے، مگروہ یہ سب باتیں آف دی ریکارڈ کرنا چاہتی ہے۔ اس طرح آپ رٹ واپس لے لیں گے اور آیندہ نصاب میں اگرکبھی ایسی حرکت ہوئی تو پھررجوع کرنا بہت مشکل ہوجائے گا، اب لہٰذا یہ ’رٹ‘ آپ کا ذاتی معاملہ نہیں رہا ہے بلکہ یہ ملّت اسلامیہ کی ترجمانی اور ایک امانت ہے۔ آپ کو ’رٹ‘ واپس لینے کا شرعی اختیار نہیں ہے۔ اس لیے آپ مکمل ثابت قدمی اختیار کریں اور عدالت میں جاکر کہیں کہ وہ آئین اور قانون کے تحت فیصلہ کرے‘‘۔

اگلے روز ۱۰ بجے سردار محمد اقبال چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ نے کمرئہ عدالت میں مجھ سے استفسار کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’آپ کا مطالبہ مان لیا گیا ہے، اس لیے رٹ واپس لے لیں‘‘۔ گذشتہ رات مولانا مودودی کے بیان کردہ الفاظ نے ہمیں ایک ایمانی قوت عطا کردی تھی، اس لیےبھری عدالت میں اعلیٰ حکام، وکلا اور جج صاحب کو مخاطب کرکے رٹ واپس لینے کے بجاے میں نے بیان ریکارڈ کرنے کا مطالبہ کردیا۔ چیف جسٹس نے غصّے میں فرمایا:’’حکومت تو نصاب درست کرنے کا مطالبہ مان رہی ہے، تو اب آپ لوگ اور کیا چاہتے ہیں؟‘‘ میں نے معلوم نہیں کس طرح بھری عدالت میں بلندآواز میں عرض کیا: ’’جناب عزّت مآب چیف جسٹس صاحب! رٹ کلمۂ اسلام پر دعویٰ استقرارِ حق قرار دیا جائے کہ کلمۂ اسلام صرف لا الٰہ الااللہ محمد رسول اللہ ہے۔ اس لیے فیصلہ دے کر ایمان بچا لیں یا مسترد کرکے نوکری بچالیں‘‘۔ اس پر بھری عدالت میں سناٹا چھاگیا۔ چیف جسٹس صاحب نے غصّے میں عدالت برخواست کردی۔ ہم ہائی کورٹ سے نکل کر سیدھے مولانا مودودی صاحب کے پاس پہنچے۔ شرفِ ملاقات پر مولانا کو مختصر ترین کارروائی کی یہ رُوداد سنائی تو محترم مولانا مودودی نےمسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ’’آپ نے اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ اب فیصلہ جو بھی ہو، آپ اور ہم بری الذمہ ہیں‘‘۔

مولانا شفیع صاحب نے مزید بتایا: ’’جسٹس صاحب اس روز خلافِ عادت ہائی کورٹ سے ۱۱بجے دن گھرپہنچے تو خود جسٹس سردار اقبال صاحب نے ریٹائرمنٹ کے کئی سال بعد مجھے بتایا کہ ’’یوں گھر خلافِ معمول آمد پر میری اہلیہ نے پوچھا: طبیعت تو ٹھیک ہے، آج آپ بہت جلد گھرآگئے ہیں‘‘۔ کہا کہ ’’ٹھیک نہیں ہے۔ ایک مولوی جو عدالتی آداب سے یکسرناواقف ہے، اس نے بھری عدالت میں مجھے کہا: ’’رٹ کلمہ منظور کرکے ایمان بچالیں یا مستردکرکے نوکری بچالیں۔ کیسے غیرمہذب ہوتے ہیں یہ مولوی لوگ۔ یہ سن کر طبیعت موزوں نہیں رہی تو گھر آگیا ہوں اور ساتھ ہی وہ فائل قریب رکھے ٹیبل پر دے ماری۔ میری اہلیہ گویا ہوئیں: ’’آپ رٹ منظور کرکے ایمان محفوظ کرلیں، نوکری کی فکر نہ کریں، اللہ مالک ہے‘‘۔ سردار اقبال صاحب نے بتایا کہ بیگم کے اس بے ساختہ اور معصومانہ مشورے نے مجھے پریشانی سے نجات دلا کر غصہ ختم کردیا‘‘۔

شفیع صاحب کے بقول: ’’چیف جسٹس سردار محمد اقبال نے کہا: ’’پھر آپ کو معلوم ہے کہ میں نے کلمۂ طیبہ کیس ایک روز کی سماعت کے بعد منظور کرلیا اور اس ایمانی فیصلے سے طبیعت بحال و مطمئن ہوئی‘‘۔ اور اس کے بعد یہ بھی امرواقعہ ہے کہ چند ہی روز بعد حکومت پاکستان کی ناراضی کے باعث، اس ترمیم کی بنیاد پر (کہ چیف جسٹس چارسال تک ہوگا) سردار محمد اقبال صاحب بطورِ چیف جسٹس فارغ کر دیے گئے [یاد رہے کہ حکومت نے جسٹس اقبال صاحب سے کہا تھا کہ آپ سینیر جج کے طور پر عدالت میں کام کرتے رہیں، مگرسردارصاحب نے صرف۵۴برس کی عمر میں عدالت کا منصب چھوڑ کر گھر آجانا پسند فرمایا۔ جو ہماری عدالتی تاریخ کا منفرد واقعہ ہے، مرتب]۔ واقعی بیگم عفت اقبال کے ایمانی مشورے سے جسٹس سردار محمد اقبال نے رٹ منظور کرکے ایمان بچانے کا ثبوت دیا اور نوکری ختم کرنے کی ذمہ داری حکومت پر ڈال دی‘‘۔

مولانا محمد شفیع صاحب نے بتایا: ’’میں نے سردار محمد اقبال صاحب سے کہا: میں بھی آج آپ کو بتا رہا ہوں کہ اس مقدمے کے پیچھے دراصل خاموشی سے مولانا مودودی تھے‘‘۔ اس پر سردار صاحب نے کہا: ’’یہ تو بہت ہی اچھاہوا کہ اُس وقت مجھے یہ بات معلوم نہ ہوئی، اوراگر یہ پتا چل جاتا تو مقدمے کے ساتھ میرا رویہ مختلف ہوتا‘‘۔ یوں انھوں نے اُس بے خبری پر مسرت کا اظہار کیا۔

’’سردار محمد اقبال صاحب نے اسی ملاقات میں یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر کلمۂ پاک کی خدمت میں آپ کو روزِقیامت اجرملے تو مجھےبھی یاد رکھنا۔ یہ کہہ کران کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور مجھ جیسے گنہگار نے نم پلکوں سے وعدہ کیا کہ اگراللہ ربّ العالمین نے میری خطائوں سے چشم پوشی کرتے ہوئے کلمۂ اسلام کی برکت سے، کرم وفضل سے نوازا تواپنے ربّ سے عرض نوا ہوں گا کہ اس میں پہلے چیف جسٹس محمد اقبال اور اُس کے بعد جو مالک و محبوب کو منظورہو‘‘۔

اب پیش ہے رٹ اور مقدمے کا فیصلہ!

___’رٹ پٹیشن‘___

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رٹ درخواست نمبر ۷۶/۱۵۹/۱۹۷۶ء، لاہور ہائی کورٹ
پیرابرار محمد و محمد شفیع جوش بنام حکومت ِ پاکستان بوساطت سیکرٹری تعلیم اسلام آباد (مسئول الیہ)

رِٹ درخواست براے قراردیے جانے کہ اصل اورحقیقی کلمۂ اسلام لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ہے۔ اور مسئول علیہ کا اقدام جس کے ذریعے اس نے ملک کے اندر نہم و دہم جماعت کے طالب علموں کے لیے ایک مختلف کلمہ تجویز اور شائع کیا ہے، کوئی قانونی جواز اور قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔

مؤدبانہ گزارش ہے:

۱- یہ کہ پاکستان مسلمانانِ بر صغیر کی ان مساعی کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا، جو انھوں نے اسلامی نظام قائم کرنے اور اسلامی احکام کے مطابق ایک حکومت قائم کرنے کے لیے کیں۔

۲- یہ کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل نمبر ۲ میں اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہو گا اور آرٹیکل نمبر ۱ میں اسے ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ کا نام دیا گیا ہے۔

۳- یہ کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے مطابق اسلام کے پانچ ستون ہیں، جنھیں ارکان اسلام کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

بُنِیَ الْاِسْلَامٌ عَلٰی خَمْسٍ شَھَادَۃِ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ، وَاِقَامِ الصَّلوٰۃِ وَاِیْتَاءِ الزَّکٰوۃِ وَالْحَجِّ وَصَوْمِ رَمَضَانَ (بخاری، جلد اول) اسلام کی پانچ بنیادیں ہیں: اوّل: شہادت دینا اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ دوم: نماز قائم کرنا، سوم: زکوٰۃ ادا کرنا۔ چہارم: حج کرنا۔ پنجم: رمضان کے روزے رکھنا۔

پیغمبر کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور مستند حدیث میں درج انھی پانچ چیزوں کو اسلام قرار دیا گیا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یوں ہیں:

اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَشْھَدَ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ وَتُقِیْمَ الصَّلوٰ ۃَ وَتُؤْتِیْ الزَّکٰوۃَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَیْتَ اِنِ اسْتَطَعْتَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا (مسلم، جلد اول کتاب الایمان) اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ سوائے اللہ کے کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، ماہِ رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو اگر طاقت ہو۔

۴- یہ کہ مذکورہ بالا حوالہ جات سے بالکل واضح ہے کہ ایک غیر مسلم کو اسلام میں داخل ہونے کے لیے سب سے اوّل کلمے کا علانیہ اقرار کرنا ضروری ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو دائرۂ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا، خواہ وہ مذکورہ بالا دیگر چارشرائط پوری کرتا ہو۔ اس لیے یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ کلمے کو اس کے الفاظ اور معانی کے ساتھ تحفظ دیا جائے، اور کلمے کے الفاظ میں کسی قسم کی تبدیلی یا اضافے کی نہ تو اجازت دی جائے، اور نہ ایسا کوئی اقدام برداشت ہی کیا جائے۔

۵- یہ کہ مدّعا علیہ نے اسلامیات کے مضمون کو، جو کہ ثانوی سکول کے امتحانات طلبہ و طالبات کے لیے لازمی ہے، دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، جن میں سے ایک سُنّی مکتبِ فکر کے طالب علموں کے لیے اور دوسرا شیعہ مکتبِ فکر کے لیے تجویز کی گئی ہیں۔

۶- یہ کہ کتاب موسومہ اسلامیات لازمی، جو شیعہ مکتب فکر کے نہم و دہم جماعت کے طالب علموں کے لیے شائع کی گئی ہے، اس کے صفحہ ۴۶ پر ’عبادات‘ کے عنوان کے تحت کلمے کے بارے میں درج ذیل الفاظ تحریر کیے ہیں:

’’استاد صاحب شیعہ بچوں کو ان کے مسلک کے مطابق رہنمائے اساتذہ میں دیکھ کر کلمہ بتائیں گے‘‘۔

۷- یہ کہ مدّعا علیہ نے رہنمائے اساتذہ نام کی ایک کتاب نہم ودہم کے اسلامیات کے نصاب کے اساتذہ کی رہنمائی کے لیے شائع کی ہے (یہ بات قابل ذکر ہے کہ شیعہ اور سُنّی طبقے سے متعلق طالب علموں کے لیے تجویز کردہ کتب اسلامیات میں کلمۂ اسلام کا متن درج ہی نہیں کیا گیا ہے ) اور اساتذہ اسے صرف رہنمائے اساتذہ نامی کتاب کی مدد سے پڑھائیں گے۔

۸- یہ کہ رہنمائے اساتذہ نامی کتاب کے صفحہ ۳۵ پر کلمے کا ایک باب ہے، جس کے پہلے پیرا گراف میں مندرجہ ذیل الفاظ لکھے ہیں:

’کلمہ ‘اسلام کے اقرار اور ایمان کے عہد کا نام ہے۔ کلمہ پڑھنے سے کافر، مسلمان ہوجاتا ہے۔ کلمہ میں توحید ورسالت ماننے کا اقرار امامت کے عقیدے کا اظہار ہے۔ ان عقیدوں کے مطابق عمل کرنے سے مسلمان مومن بنتا ہے۔ کلمے کے تین حصے ہیں‘‘۔

اسی باب میں صفحہ ۳۶ پر کلمہ کا متن درج ذیل الفاظ میں درج ہے:

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ

۹- یہ کہ رہنمائے اساتذہ کے مذکورہ بالا باب سے یہ بالکل واضح ہے کہ وہ شخص جو اس باب میں دیے (لکھے )گئے کلمہ کا علانیہ اقرار وتصدیق نہیں کرتا، مسلمان نہیں بن سکتا۔ اس کی رُو سے زمانۂ رسالتؐ سے لے کر قیامت تک کے مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد غیر مسلم اور کافر قرار پاتی ہے۔

۱۰- یہ کہ مذکورہ بالا کلمہ کی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمۂ اسلام کے طور پر کبھی تعلیم نہیں دی اور نہ اس کا کبھی اعلان کیا۔ نہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ حیات طیبہ میں اسلام میں داخل ہونے والے کسی شخص نے اس کلمے کا اقرار کیا۔ پھر یہ کلمہ ہرگز وہ کلمہ نہیں ہے، جسے: حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ، حضرت ابو بکر صدیق ؓ، حضرت علی بن ابی طالب ؓ اور حضرت زید بن حارثہ ؓ نے کہ جو نبوت کے ابتدائی دنوں پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اسلام میں داخل ہونے والوں میں اوّلین افراد تھے، کبھی پڑھا ہو۔ اس کلمے کا شیعہ مکتب فکر کی مستند کتابوں میں سے کسی ایک میں بھی ذکر تک نہیں ملتا۔ درحقیقت کلمے کے الفاظ اور حروف (متن) کے بارے میں آغاز اسلام سے گذشتہ چند برسوں تک مختلف مکاتب ِفکر کے مسلمانوں کے مابین کوئی اختلاف نہیں رہا ہے۔ کچھ عرصہ پیش تر بلاجواز کلمے میں درج ذیل الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے:

عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ

مذکورہ بالا اضافی الفاظ بجاے خود اس حقیقت کا ثبوت پیش کرنے کے لیے کافی ہیں کہ وہ اصل اور حقیقی کلمے کا حصہ نہیں ہو سکتے اور یہ کہ اُن کا بعد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس بحث کے حق میں اہلِ تشیع علما کی تصنیف کردہ کتابوں کے (جن پر شیعہ مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مکمل اعتماد ہے) مندرجہ ذیل اقتباسات کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے :

(۱) عَنْ جَمِیْلِ بْنِ دَرَاجٍ قَالَ سَاَلْتُ اَبَا عَبْدِاللہِ عَنِ الْاِ یْمَانِ فَقَالَ شَھَادَۃُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ قَالَ اَلَیْسَ ھٰذَا عَمَلٌ قَالَ بَلٰی فَقُلْتُ فَالْعَمَلُ مِنَ الْاِیْمَانِ؟ قَالَ لَا یَثْبُتُ لَہُ الْاِیْمَانُ اِلَّا بِالْعَمَلِ وَالْعَمَلُ مِنْہُ (اصول کافی، جلددوم، ص ۵۵) جمیل بن دراج سے روایت ہے کہ میں نے ابوعبداللہ (امام جعفر صادق علیہ السلام) سے ایمان کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا: ’’گواہی دینا اس کی، کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے رسولؐ ہیں‘‘۔ راوی نے کہا کہ کیا یہ عمل نہیں، فرمایا: ’’ہاں ہے‘‘۔ میں نے کہا تو کیا عمل ایمان کا جزوہے ؟فرمایا : ’’ایمان بدونِ عمل ثابت نہیں ہوتا اور عمل اس کا جزو ہے۔

(۲)  فَلَمَّا اَذِنَ اللہُ لِمُحَمَّدٍ فِی الْخُرُوْجِ مِنْ مَکَّۃَ اِلَی الْمَدِیْنَۃَ بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ شَھَادَۃِ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَ اِیْتَاءِ الزَّکٰوۃِ وَحَـجِّ الْبَیْتِ وَصِیَامِ شَہْرِ رَمَضَانَ (اصول کافی، جلد دوم، ص ۴۶)

جب اللہ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی تو اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی:۱-گواہی دینا اس کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے عبد اور رسولؐ ہیں، ۲- قائم کرنا نماز کا، ۳- زکوٰۃ دینا، ۴- حج کرنا اور، ۵- ماہِ صیام میں روزے رکھنا۔

(۳) پھر وحی کی کہ اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) لوگوں کے پاس جائو اور کہو کہ : لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ کا اقرار کریں (حیات القلوب، ج ۲، ص ۴۳، مؤلفہ: علامہ مجلسی، ترجمہ مولوی سید بشارت حسین کامل)

(۴) اگر کافر شہادتین بگوید، یعنی بگوید: اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ مسلمان می شود (توضیح المسائل مجموعہ فتاوٰی، سید محمد کاظم شریعت مداری، ایران ص۳۹)

۱۱- یہ کہ تمام اسلامی مکاتب ِفکر کی مذہبی کتابوں میں اس کلمے کا کہیں ذکر نہیں جو مذکورہ بالا کتاب رہنمائے اساتذہ (مطبوعہ:حکومت پاکستان، اسلام آباد ۱۹۷۵ء) کے ص ۳۶ پر درج ہے۔

۱۲- یہ کہ دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعہ ۳۱ کے تحت مدعا علیہ پر یہ لازم ہے کہ وہ ایسے اقدام کرے، جو مسلمانانِ پاکستان کے لیے اسلام کے بنیادی عقائد اور اصولوں کے مطابق اپنی زندگی مرتب کرنے میں معاون ہوں اور ایسی سہولتیں فراہم کرے جن کے ذریعے وہ قرآن مجید اور سنت کی منشا کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھیں، مگر اس کے برعکس مدعا علیہ کا یہ فعل آئین کی مذکورہ بالا دفعات کے منافی ہے۔

۱۳-یہ کہ مدعا علیہ اس کلمے کے سوا، جس کی تعلیم پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، کسی اور کلمے کے جاری کرنے کا قانونی طور پر مجاز نہیں ہے۔

۱۴- یہ کہ مدعا علیہ کا فرض ہے کہ نہم ودہم کے طلبہ کے لیے اسی کلمے کی تعلیم دے، جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے مسلمانوں کو پڑھایا ہے۔

۱۵- یہ کہ مدعیان کے لیے سواے اس رٹ پٹیشن گزارنے کے اور کوئی چارۂ کار نہیں رہا ہے۔ ان حالات میں نہایت ادب سے استدعا کی جاتی ہے کہ اس امر کا اعلان کیا جائے کہ اصل اور حقیقی کلمۂ اسلام لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ہے۔ اور مسئول علیہ کا اقدام جس کے ذریعے اس نے مختلف کلمہ تجویز کیا ہے یعنی لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ کوئی قانونی جواز نہیں رکھتا۔

مزید درخواست کی جاتی ہے کہ مدعا علیہ کو ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نہم دہم کے طلبہ کے لیے مخصوص اسلامیات (لازمی) اور مذکورہ بالارہنمائے اساتذہ کی کتابوں میں (ہدایات کے مطابق) مناسب ترامیم کریں۔

نیز یہ بھی استدعا کی جاتی ہے کہ مسئول علیہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے علاوہ کسی دیگر کلمے کا اجرا کرنے، تسلیم یا شائع کرنے یا طالب علموں کے کورس میں شامل کرنے سے منع کر دیا جائے۔

سائلان

پیر سید ابرار محمد، محمد شفیع جوش
بذریعہ ارشاد احمد قریشی ایڈووکیٹ

___فیصلہ، اُردو ترجمہ ___

از: جناب محمد اقبال چیف جسٹس

۱۹۷۵ء میں حکومت پاکستان نے وزارت ِ تعلیم کے ذریعے ایک کتاب بنام رہنمائے اساتذہ شائع کی، تا کہ اس سے ثانوی مدارس کے اساتذہ کی رہنمائی کے لیے خطوط مقرر ہوں۔

اس کتاب کا پہلا حصہ تمہیدی ہے اور بتایا گیا ہے کہ طلبہ کی نوجوان نسل کو کیوں اور کس طریق پر اسلامیات کی تعلیم دی جائے؟ کتاب کے حصہ دوم میں اسلام کے کچھ بنیادی اصول جن پر اہل سنت والجماعت کے مختلف مکاتبِ فکر کا اتفاق ہے، درج کیے گئے ہیں۔ کتاب کا حصہ سوم صرف شیعہ طلبہ کے لیے ہے۔

کتاب کے حصہ سوم میں جو صفحہ ۳۵ سے شروع ہوتا ہے، سبق پڑھانے والے استاد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے شاگردوں پر کلمے کی اہمیت اچھی طرح واضح کرے۔ آگے چل کر کتاب کے اسی صفحہ ۳۵ پر من جملہ اور باتوں کے، یہ کہا گیا ہے:

کلمہ، اسلام کے اقرار وایمان کے عہد کا نام ہے، کلمہ پڑھنے سے کافر، مسلمان ہو جاتا ہے۔ کلمہ میں توحید ورسالت ماننے کا اقرار اور امامت کے عقیدے کا اظہار ہے۔ ان عقیدوں کے مطابق عمل کرنے سے مسلمان مومن بنتا ہے۔

پھر صفحہ ۳۶ کے آخر کے نزدیک بتایا گیا ہے کہ کلمہ یہ ہے:

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ

اس کا ترجمہ جو صفحہ ۳۷ پر دیا گیا ہے، یہ ہے:

یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور حضرت علیؑ، اللہ تعالیٰ کے ولی اور رسول کریم کے وصی اور بلا فاصلہ خلیفہ ہیں۔

۲- موجودہ رٹ درخواست میں جو ۲۱ جنوری ۱۹۷۶ء کو پیر سید ابرار محمد صدر تنظیم الائمہ لاہور (خطیب جامع مسجد دارالحق، ٹائون شپ سکیم، لاہور) اور مولانا محمد شفیع جوش (مہتمم مرکز اشاعت اسلام جامع مسجد ایف بلاک، ماڈل ٹائون، لاہور) کی طرف سے دستورِ پاکستان کے آرٹیکل ۱۹۹ کے تحت دائر کی گئی ہے، مدعیان نے کلمے کی اس صورت پر: جس میں وہ محولہ بالا کتاب رہنمائے اساتذہ کے صفحہ ۳۶ پر درج ہے، اور اس کے ترجمے پر جو صفحہ ۳۷ پر ہوا ہے، اور صفحہ ۳۵ کی اس تحریر پر جو فیصلہ ہٰذا کے پہلے پیراگراف میں دیا گیا ہے، اعتراض کیا ہے اور استدعا کی ہے کہ عدالت یہ قرار دے کہ اصل اور حقیقی کلمۂ اسلام لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ہے اور مسئول علیہ کا وہ اقدام جس کے ذریعے اس نے ایک مختلف کلمہ تجویز کیا ہے، یعنی لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ کوئی قانونی جواز نہیں رکھتا۔

۳- اس سے پہلے درخواست کی سماعت کے لیے کوئی تاریخ مقرر کی جا سکتی، درخواست گزاروں نے آئین کی دفعہ ۲۰۴ کے تحت ۲ مارچ ۱۹۷۶ء کو ایک درخواست توہین عدالت (۷۶-۳۱- w) دائر کر دی، جس میں الزام لگایا گیا کہ ’’کل پاکستان شیعہ کانفرنس کے صدر مظفر علی قزلباش نے ۲۷فروری ۱۹۷۶ء کو شیعہ رہنمائوں اور کارکنوں کے ایک اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی، اور زیر تصفیہ رِٹ درخواست کے نفس مضمون کا حوالہ بھی دیا‘‘۔ اس درخواست میں مزید کہا گیا کہ ’’اس معاملے پر الزام علیہ کی طرف سے اظہار راے، جب کہ وہ ابھی عدالت میں زیرِ سماعت تھا، عدالت ہٰذا کی سنگین اور سخت توہین کے مترادف ہے۔ لہٰذا، اسے مناسب سزا دی جائے‘‘۔

۴- شیخ مظہر علی جاوید، جنرل سیکرٹری شیعہ میوچل سوسائٹی پاکستان (رجسٹرڈ) نے بھی ایک درخواست توہین عدالت (۷۶-۳۲- w) گزاری ہے، جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ’’عوام میں رٹ درخواست کے مندرجات کی نقول تقسیم کر کے بہت زیادہ تشہیر کی گئی، نیز یہ کہ رٹ درخواست کا ترجمہ اردومیں کیا گیا، اور اس کی نقلیں عوام میں وسیع پیمانے پر اس اپیل کے ساتھ تقسیم کی گئیں کہ وہ ۷ مارچ کو اس مقدمے کی کارروائی سنیں‘‘۔ اس درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ’’مقدمے کی تاریخ سماعت کے مقرر کیے جانے سے پہلے اردو اور انگریزی میں رٹ درخواست کی اشاعت اور اس کی تقسیم پاکستان کی ایک خاصی بڑی آبادی کے خلاف ایک تحریک کی صورت پکڑ گئی، چونکہ رٹ درخواست پیش کرنے والوں، ان کے قانونی مشیر اور طابع (قیصر پرنٹرز لاہور) کا یہ فعل مقدمے کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتا ہے، لہٰذا ان کے خلاف آئین کی دفعہ ۲۰۴ کے مطابق عدالتی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اب میں ان تینوں مقدمات کا فیصلہ، یعنی رٹ درخواست ۱۵۹ بابت ۱۹۷۶ء، فوجداری اصل نمبر ۳۱ ڈبلیو بابت ۱۹۷۶ء اور فوجداری اصل نمبر ۳۲ ڈبلیو بابت ۱۹۷۶ ء اپنے حکم کے ذریعے کر رہاہوں۔

۵- یہ معاملہ جناب وزیراعظم [ذوالفقار علی بھٹو] کے علم میں آیا، تو انھوں نے فرقہ وارانہ اختلافات کے خاتمہ کے لیے، جو قومی سالمیت اور مختلف طبقات میں ہم آہنگی کے لیے لازم ہے، حسب معمول جذبے سے کام لیتے ہوئے فوری کارروائی کی۔ چنانچہ شیعہ اور سُنّی مکاتب ِفکر کے علما کا ایک اجلاس [وفاقی] وزیر تعلیم کی سرپرستی میں طلب کیا گیا اور معقول بحث وتمحیص کے بعد ایک نئی کتاب اسی نام یعنی رہنمائے اساتذہ کے ساتھ شائع کی گئی۔ دونوں کتابوں کے فرق کو نمایاں کرنے کے لیے متعلقہ اقتباسات کو ذیل میں ایک دوسرے کے بالمقابل درج کیا جاتا ہے:

پہلے شائع شدہ کتاب

نئی (ترمیم شدہ) کتاب

’’کلمہ، اسلام کے اقرار اور ایما ن کے عہد کا نام ہے۔ کلمہ پڑھنے سے کافر، مسلمان ہو جاتا ہے۔ کلمہ توحید ورسالت ماننے کا اقرار اور امامت

’’کلمۂ طیبہ، اسلام کے اقرار کا نام ہے۔ کلمہ توحید ورسالت کا اقرار ہے‘‘۔ (ص ۳۵)

پہلے شائع شدہ کتاب

نئی (ترمیم شدہ) کتاب کے عقیدے کا اظہار ہے۔ ان عقیدوں کے مطابق عمل کرنے سے مسلمان مومن بنتا ہے‘‘۔ (ص ۳۵)

کلمہ: لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ (ص ۳۶)، یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمدمصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے رسولؐ ہیں اور حضرت علی علیہ السلام، اللہ تعالیٰ کے ولی اوررسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی اوربلافاصلہ خلیفہ ہیں۔ (ص ۳۷)

کلمۂ طیبہ: لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ سے کافرمسلمان ہوتا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معبود نہیں مانتے، اور حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کے آخری رسولؐ ہیں۔ اُن کے بعد کوئی نبی و رسولؐ نہیں آئے گا۔

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ سے شیعہ، توحید و رسالت کے علاوہ امامت کا اقرار اورشیعیت کا اظہار کرتے ہیں‘‘ (ص ۳۶)

رہنمائے اساتذہ کے ترمیم شدہ ایڈیشن کے ساتھ ہی حکومت نے دو اور کتابیں شائع کیں، جن کا نام ’’اسلامیات (لازمی) ہے، اور جو نویں اور دسویں جماعتوں کے شیعہ اور سنی طالب علموں کے درسی نصاب پر مشتمل ہیں۔ سنی طلبہ کی کتاب فیصلہ ہٰذا کے ساتھ بطور ’ضمیمہ سی ‘اور شیعہ طلبہ کی کتاب بطور ’ضمیمہ ڈی ‘ منسلک ہیں۔ ضمیمہ جات ’سی ‘ و ’ڈی‘ میں جو کلمۂ طیبہ علی الترتیب صفحات ۴۸ اور ۵۲ پر درج ہوا ہے، وہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ہے۔

۶- مقدمات ۹ جون ۱۹۷۶ء کو سماعت کے لیے پیش ہوئے تو مدّعیان نے اپنی رٹ درخواست میں مندرجہ ذیل بیان دیا:بیان منجانب :

(۱) پیر سید ابرار محمد ولد پیر سید اعجاز محمد صدر تنظیم الائمہ لاہور، خطیب جامع مسجد دارالحق، ٹائون شپ سکیم لاہور۔

(۲) مولانا محمد شفیع جوش ولد مولانا محمد اعظم، مہتمم مرکزِ اشاعت اسلام جامع مسجد ایف بلاک، ماڈل ٹائون لاہور۔

(۱) ہم نے رِٹ درخواست نمبر۱۵۹/۱۹۷۶ کے ذریعے کتاب رہنمائے اساتذہ کی مندرجہ ذیل تحریروں پر، جو اس کے صفحات ۳۵، ۳۷ پر درج ہیں، اعتراض کیا تھا، یہ کتاب مدّعا علیہ نے وزارت تعلیم کے شعبۂ نصابات کی ری پروڈکشن یونٹ کے ذریعے ۱۹۷۵ء میں اسلام آباد سے شائع کی:

کلمہ :اسلام کے اقرار اور ایمان کے عہد کا نام ہے۔ کلمہ پڑھنے سے کافر، مسلمان ہوجاتا ہے۔ کلمہ میں توحید ورسالت ماننے کا اور اقرار امامت کے عقیدے کا اظہار ہے۔ ان عقیدوں کے مطابق عمل کرنے سے مسلمان مومن بنتا ہے۔

کلمہ: لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ، یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور حضرت علی علیہ السلام، اللہ تعالیٰ کے ولی اور اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی اور بلا فاصلہ خلیفہ ہیں‘‘۔

(۲) یہ رِٹ درخواست ابھی عدالت میں زیر تصفیہ تھی کہ مدّعا علیہ نے ایک اور کتاب اسی نام کے ساتھ شائع کی، جس کا حصہ سوم صرف شیعہ طالب علموں کے لیے ہے۔

اس کے صفحات ۳۵-۳۶ پر مندرجہ ذیل تحریر چھپی ہے :

’’کلمۂ طیبہ، اسلام کے اقرار کا نام ہے۔ کلمہ میں توحید ورسالت کا اقرار ہے‘‘۔

کلمۂ طیبہ : لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ سے کافر، مسلمان ہو جاتا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ ہم اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں مانتے اور حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کے آخری رسول ہیں، ان کے بعد کوئی نبی ورسول نہیں آئے گا‘‘۔

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ کے بعد عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ سے شیعہ توحید ورسالت کے علاوہ امامت کا اقرار اور شیعیت کا اظہار کرتے ہیں۔

چونکہ اس کتاب میں یہ بالکل واضح کردیا گیا ہے کہ کلمۂ طیبہ صرف لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ہے، اس لیے وہ اعتراض جو ہم نے پہلے اُٹھایا تھا، اب باقی نہیں رہتا۔

دوسرے بیان لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ کے بعد عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ سے شیعہ توحید و رسالت کے علاوہ امامت کا اقرر اور شیعیت کا اظہار کرتے ہیں‘‘ پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ یہ صرف شیعہ طالب علموں کے لیے ہے۔

(۳) چونکہ نئی کتاب کے شائع ہونے سے ہماری شکایت کا تدارک ہوگیا ہے، اس لیے ہم اپنی رٹ درخواست پر کارروائی کے لیے اصرار نہیں کریں گے۔ لہٰذا، اس کا فیصلہ ہمارے بیان کے مطابق کردیا جائے۔ سیّد افضل حیدر اور سیّد ولایت حسین حیدری نے بھی (جو شیخ مظہر علی جاوید کی طرف سے درخواست توہین عدالت نمبر۳۲، ڈبلیو، بابت ۱۹۷۶ء میں وکیل ہیں) مندرجہ ذیل بیان داخل کیا:

’’ہم نے کتاب موسومہ رہنمائے اساتذہ کے نئے ترمیم شدہ ایڈیشن کا مطالعہ کیا جس کے حصہ سوم کے ص ۳۶ پر شیعہ طلبہ کے لیے درج ہے:

کلمۂ طیبہ: لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ سے کافر مسلمان ہوتا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں مانتے اور حضرت محمدمصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کے آخری رسول ہیں۔ اُن کے بعد کوئی نبی و رسولؐ نہیں آئے گا۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ کے بعد عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ سے شیعہ توحید و رسالت کے علاوہ امامت کا اقرار اورشیعیت کا اظہار کرتےہیں۔

۶- ہم نے پیر سید ابرار محمد اور مولانا محمد شفیع جوش کے بیانات رِٹ درخواست نمبر ۷۶/۱۵۹ میں اور مسٹر ارشاد احمد قریشی کا بیان درخواست توہین عدالت نمبر ۷۶ w ۳۱ میں سن لیا ہے۔ بطور اظہار خیر خواہی ہم بھی فوجداری اصل نمبر۳۲ ڈبلیو ۱۹۷۶ء پر اب کوئی مزید کارروائی نہیں چاہتے، لہٰذا درخواست کا فیصلہ بھی ایسے ہی ہو جائے گا‘‘۔

فوجداری اصل نمبر ۳۱ ڈبلیو بابت ۱۹۷۶ء میں مدّعیان کے وکیل مسٹر ارشاد احمد قریشی نے بھی ایک بیان ان الفاظ میں دیا:

نئی تالیف کے شائع ہونے کے پیش نظر میرے مؤکلوں نے رِٹ درخواست نمبر ۷۶/۱۵۹ میں یہ بیان دیا ہے کہ اب چونکہ ان کی شکایت کا تدارک ہو گیا ہے، اس لیے وہ اپنی رِٹ درخواست پر مزید کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔ جذبۂ خیر سگالی کے اظہار کے لیے میں بھی درخواست توہین عدالت میں مزید کارروائی نہیں چاہتا۔ اس کا فیصلہ بھی ایسے ہی کر دیا جائے۔

۷- اس حقیقت کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ تمام مسلمانوں کا کلمہ طیبہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ہی ہے۔ جہاں تک سُنّی مکتب ِ فکر کا تعلق ہے، اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ البتہ رہنمائے اساتذہ کی پہلی کتاب کے تحت شائع ہونے پر یہ شبہہ ہوا کہ گویا شیعہ مکتب ِ فکر کے مطابق کلمہ طیبہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ عَلِیٌّ وَلِیُّ اللہِ وَصِیُّ رَسُوْلُ اللہِ وَخَلِیْفَتُہٗ بِلَافَصْلِ ہے، لیکن یہ خیال نہ تو حکومت کے نقطۂ نظر سے کوئی مطابقت رکھتا ہے اور نہ شیعہ علما نے کبھی اس کی تائید کی ہے، کہ کلمۂ طیبہ سواے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ کے کچھ اور بھی ہے۔ حکومت کے ما بعد رویے سے کہ اس غلطی کو درست کرنے کے لیے فوری کارروائی کی گئی، یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ ایک معصومانہ غلطی تھی۔ شیعہ مکتب ِفکر کی نیک نیتی اس بیان سے ظاہر ہوتی ہے، جس میں سید افضل حیدر نے (جو اس عدالت کے ایک سینئر ایڈووکیٹ ہیں) اور سید ولایت حسین ایڈووکیٹ نے غیر مبہم الفاظ میں تسلیم کیا ہے کہ ’’کلمۂ طیبہ صرف لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ہے۔ اگر شیعہ علی ولی اللہ وصی رسول اللہ وخلیفتہ بلا فصل پڑھتے ہیں تو یہ اس لیے نہیں کہ وہ کلمے کا حصہ ہے بلکہ اس سے وہ محض ’امامت‘ کا اقرار اور ’شیعیت‘ سے وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس لیے اگر شیعہ عقیدے کے متعلق کوئی شکوک کتاب رہنمائے اساتذہ کی پہلی اشاعت سے پیدا ہوئے بھی تھے، تو اب وہ دُور ہوگئے ہیں۔ اب کسی کے دل میں شیعہ عقیدے کے متعلق اس بارے میں کوئی شبہہ نہیں رہنا چاہیے‘‘۔

حافظ کفایت حسین [م:۱۴؍اپریل ۱۹۶۸ء]نے کہ جن کا شمارچوٹی کے شیعہ علما میں ہوتا ہے، تحقیقاتی عدالت کے رُوبرو جو ’پنجاب فسادات (پبلک تحقیقات) ایکٹ مجریہ ۱۹۵۳ء‘ کے تحت وجود میں آئی تھی، مسئلہ زیربحث کے متعلق درج ذیل بیان دیا تھا، جو خصوصی توجہ کے قابل ہے:

ہر اُس شخص کو مسلمان کہلانے کا حق حاصل ہے جو: (۱) توحید (۲) نبوت اور (۳)قیامت پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ وہ تین بنیادی عقیدے ہیں، جن پرمسلمان کہلانے کے لیے یقین رکھنا ضروری ہے۔ ان تین بنیادی عقائد کے متعلق شیعہ اور اہلِ سنت میں کوئی اختلاف نہیں۔

تمام مکاتب ِ فکر کے علما اس بات پر متفق ہیں کہ کلمۂ طیبہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ہے۔ اس کے ذریعے ہم یہ اقرار کرتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کے پیغمبر ہیں۔ مسلمان ہونے کے لیے کلمۂ طیبہ یعنی لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ پرایمان لانا ضروری ہے، نیز اس کے لیے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کے ختم ہوجانے کا قطعی اور بلاشرط ایمان رکھنا لازم ہے۔

۸- کتاب رہنمائے اساتذہ کی نئی اشاعت کےپیش نظر مدّعیان نے یہ بیان دیا ہے کہ ان کی شکایت رفع ہوچکی ہے، اس لیے وہ اپنی رٹ درخواست پر مزید کارروائی کے لیے زورنہیں دیتے۔ درخواست توہین عدالت ۷۶/w ۳۱ و ۷۶/w ۳۲ میں ہردوفریق کے وکلا کا بیان ہے کہ وہ جذبۂ حُب الوطنی کے تحت ان پر کارروائی کے لیے زور نہیں دیتے، لہٰذا ان کا فیصلہ ان کے بیانات کے مطابق کیا جاتا ہے۔

۹- مقدمے کے اختتام سے قبل مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس رٹ درخواست کے تصفیے کو کسی ایک فریق کی کامیابی یا دوسرے کی ناکامی نہ سمجھا جائے۔ اس امر پر مکمل اتفاق راے ہے کہ کلمۂ طیبہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ہے۔

مدعیان کا دعویٰ بھی یہی ہے، حکومت نے بھی اس کی تصدیق کردی ہے اور شیعوں کا عقیدہ اوراقراربھی یہی ہے۔

۹جون ۱۹۷۶ء        دستخط /محمداقبال

رٹ درخواست منظور کی گئی               چیف جسٹس

(بحوالہ PLD، جلد: XXVIII، لاہور، ص ۱۱۲۸ – ۱۱۳۵)

_______________

[مولانا محمد شفیع جوش اُس زمانے میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن اور اسلامی نظریاتی کونسل کشمیر کے ممبر تھے۔ آج کل جوہرٹائون، لاہور میں مقیم ہیں]۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20