اقبال احمد کا مذہب اور مذہبیت —- اطہر وقار

0

اقبال احمد، کارل مارکس یا لینن کی طرح ملحد نہیں تھے، اقبال احمد، علامہ اقبال یا مولانا مودودی کی طرح مذہبی بھی نہیں تھے، اقبال احمد معروف کمیونسٹوں کی طرح متشکک یا متذبذب بھی نہیں تھے، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ وہ روایتی مسلمانوں کی طرح کسی اعتقادی یا مسلکی فارم پر عمل پیرا تھے، وہ روایتی مسلمانوں کے لئے سیکولر تھے, شاید دور سے وہ سیکولر ہی لگتے تھے۔

وہ خود کو سیکولر قرار دیتے تھے جیسا کہ ڈیوڈ بریشمین کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے اعتراف کیا تھا:

“میں سخت گیر سیکولر ہوں، لیکن مجھے واضح کرنے دیجیے. چاہیے دوسرے لوگ جو سمجھتے رہیں کہ میرے نزدیک سیکولر ہونے سے مراد کیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ سیکولر ہونے کا حقیقی مطلب، غیر مذہبی یا لامذہبی ہونا نہیں ہے اور نہ ہی مذہب مخالف ہونا ہے، میرے نزدیک سیکولر ہونے کا مطلب ہے کہ سماجی قوانین کو معاشرتی ضروریات کے تابع ہونا چاہیے نہ کہ کسی الوہی رہنمائی کی تفہیم کے۔۔۔

چنانچہ قانون کی نظر میں سب برابر ہونے چاہیں، چاہے وہ عیسائی ہوں، یہودی ہوں، ہندو ہوں یا مسلمان ہوں، میرے نزدیک سیکولر ہونے کا یہی مطلب ہے۔”

ایک اور جگہ بھی انہوں نے لکھا :

“مذہب سے مراد ہے کسی خاص فارم، مذہبی شعائر یا اصول و ضوابط کی پابندی کرنا جبکہ “روحانیت” سے مراد ہے مذہب کی سپرٹ، جوہر، یا مغز، اس کا باطن نہ کہ ظاہری ہیئت۔۔۔

میں سمجھتا ہوں کہ میں فارم کے بجائے مذہبی سپرٹ میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہوں، کیونکہ یہ سپرٹ اسلامی تہذیب میں مستقلات universals کے ساتھ مجھے جوڑے رکھتی ہے یہ مذہبی سپرٹ کسی بھی فرد کو باطنی ذرائع کے ذریعے سے اندر سے مضبوط کرتی ہے اور پھر یہ مضبوطی ہمیں اقدار کے ساتھ جوڑے رکھتیں ہیں. ان اعلی اخلاقی اقدار پر عمل پیرا ہونا میرے لیے نہایت اہم ہے. لیکن میں ان اقدار کی طرف مذہبی اور سیکولر دونوں ذرائع سے بڑھتا ہوں. کیونکہ ان اقدار کا گہرا شعور، جہاں مجھے مذہبی لٹریچر سے ملتا ہے وہاں سیکولر انداز سے لکھے گئے مذہبی و دنیاوی مغربی لٹریچر سے بھی ملتا ہے۔”

درج بالا دو اقتباسات کو نظری طور پر دیکھا جائے تو اقبال احمد کو سیکولر قرار دینا نہایت آسان ہو جاتا ہے، اور وہ سیکولر تھے بھی۔۔۔ لیکن کیا اس طرح سہولت آمیزی کے ساتھ، کسی بھی سوشلسٹ، نیشنلسٹ یا ڈیموکریٹک مسلمان پر سیکولرازم کا لیبل لگانے سے اہل روایت کے مسائل حل ہو جاتے ہیں یا کم ہو جاتے ہیں؟ خاص طور ایک ایسے پرُ آشوب دور میں جہاں، اسلامی تصور جہاں پوری طرح معاشی و معاشرتی و سیاسی طور پر ظہور پذیر نہ ہو، وہاں کسی بھی ماڈرنائز مسلمان کو ایک خاص مذہب مخالف مفہوم میں سیکولر قرار دینے کا معاملہ اور زیادہ نازک اور پیچیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سوشلسٹ اور لبرل مسلمان، خود کو سیکولر اس لیے قرار دے رہے ہوتے ہیں تا کہ وہ خود کو زمانے کی حرکیات اور بدلتے ہوئے حالات سے متعلقہ اور ہم آہنگ کر سکیں۔ کیونکہ مذہب پوسٹ کولونیئل مسلم معاشروں میں، بدقسمتی سے ایسے اطلاقی مظاہر اور ایسی علمیاتی و تفہیماتی زبان کی صورت میں موجود نہیں ہے کہ جس کی مدد سے مذہب اور مذہبیت کو کلیت کے ساتھ دین اور دینیت کے تناظر میں سمجھا جا سکے۔

اس سیاق و سباق میں دیکھا جائے، تو اقبال احمد جیسے معتدل مزاج سوشلسٹ ڈیموکریٹک اس لیے سیکولرلائز ہوتے ہیں یا خود کو کہتے ہیں کیونکہ موجودہ مذہبی علمیت کو سرمایہ دارانہ نظام کی قباحتوں کی تشخیص، کولونیئل تاریخ کے شعور، جدید معاشی پیچیدگیوں کے ادراک اور ذاتی و نفسی مسائل کی حساسیت سے غیر متعلقہ پاتے ہیں .اور اگر یہ علمی و عملی، غیر متعلقیت نہ ہوتی تو شاید یہی معتدل مزاج سوشلسٹ ڈیموکریٹک لوگ، ہمیں اسلامی تصور جہاں کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے نظر آتے۔

ہمیں سوچنا چاہیے کہ آخر وہ کیا چیز تھی جس نے اقبال احمد جیسے شخص کو مجبور کیا کہ وہ اپنی ساری زندگی سرمایہ دارانہ نظام کی استحصالی ہیت کے خلاف جدوجہد، استعماریت کے شعور کے حصول اور انسانوں کو تقسیم کرنے والے مصنوعی بندوبستوں کے خلاف لڑتےگزار دے۔

ہو سکتا ہے یہ چیز، وہ گم گشتہ معاشی و سیاسی جہات ہوں جو کہ اس عہد میں دینی روایت سے کاٹ دی گئیں ہوں، یہ احساس وہ جذب ہو جو کسی الوہی تاثر کے تحت اسلامی تصور عدل و انصاف کی کسی جامع تعبیر کا حصہ ہو۔

پس عصر حاضر کے پرُ فتن اور پوسٹ کولونیئل اور پوسٹ ماڈرن دور میں، جہاں اسلامی تصور جہاں پوری طرح ظہور پذیر نہ ہو، دنیا کے سامنے اسلامی تصور تاریخ، اسلامی تصور جمال اور اسلامی تصور عدل و انصاف کا اظہار، پوری طرح اطلاقی جہات میں موجود نہ ہو، ایسے دور میں آخر کس طرح ایک غیر روایتی ماڈرنائز مسلمان کے مذہب اور مذہبیت کو سمجھا جائے گا؟ خاص طور پر ایسا ماڈرن مسلمان جس کا تہذیبی تناظر اور شعور، اپنی کولونیئل تاریخ میں سیاسی طاقت کی فیصلہ کن حرکیات سے بیدار ہو اور معاشی اور سیاسی سرگرمی کے باہمی تال میل سے بننے والے معاشرتی افق کے سماجی جبر سے آگاہ ہو، ایسے تہذیبی شعور کو، آپ کس طرح اپنی مخصوص مذہبی تفہیم کے چوکھٹوں میں بند کریں گے؟

پس اقبال احمد، عبید اللہ سندھی اور ان جیسے لاتعداد لوگ چاہے خود کو سیکولر کہتے اور لکھتے رہیں، چاہے ہم اپنی اپنی مذہبی تفہیم کے سانچوں میں انہیں کمیونسٹ قرار دیتے رہیں، لیکن کسی بہت بڑے آفاقی سانچے میں، انہوں نے اپنی عملی زندگی کی گواہی سے خود کو فٹ کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اقبال احمد: ایک سچا اشتراکی - احمد الیاس
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20