جاوید غامدی کی تکفیری مہم: وحدت الوجود اور دبِستانِ شبلی — نادر عقیل انصاری

0

اسلامی تاریخ میں یونان و روم کے فکری تصورات کی یورش، منگولوں کے حملے، اور صلیبی جنگوں جیسے مصائب معلوم و معروف ہیں، اور ان میں مضمر خطرات کی سنگینی سے مسلمان بالعموم باخبر ہیں۔ یوروپی استعمار زہرناکی میں ان فتنوں سے بڑھ کر تھا۔ مغربی استعمار کا تہذیبی تسلط اور اس کی اثر انگیزی آج بھی مسلمانوں کو نوکِ شمشیر اور نوکِ قلم پر رکھے ہوئے ہے۔ سب جانتے ہیں کہ استعمار نے قزاقوں کی طرح لوٹ مار بھی کی، اور افواج کے ساتھ علانیہ ہجوم کیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے شر کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کا زہر مفتوحہ اقوام میں خاموشی سے سرایت کرتا ہے، اور بالآخر تہذیبوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ عسکری تسلط کے بارے میں کوئی اشتباہ نہیں ہو سکتا، لیکن استعمار کے مخفی اثرات کے بارے میں مسلمانوں اور دیگر اقوام کے ہاں ایک دیر شناسی کا عنصر نظر آتا ہے۔ ہماری مراد یہ ہے کہ استعمار کی علمی و نظری بنیادوں پر تنقید کا کام تاخیر سے شروع ہوا، ورنہ حمیتِ دینی کےسبب استعمار سے نفرت اور اس کے خلاف عملی مزاحمت میں مسلمانوں نے دیر نہیں کی، بلکہ وہ دیگر اقوام سے بہت آگے رہے ہیں۔ مسلمانوں کی جانب سے پہلے مرحلے ہی میں عملی مزاحمت شروع ہو گئی تھی، یعنی دین کے عمومی شعور کی بنا پر استعمار کے کفر و ظلم کا احساس شروع سے موجود رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان استعمار کے بارے میں اول روز ہی سے صائب نقطہ نظر کے حامل تھے۔ لیکن استعمار کے نظری شعور کا عمق، اس کی حکمت آمیزی، اور اس کے اطلاقات کی فکری جامعیت – یہ سب استعمار کے ظاہری شر و فساد کے وقوف سے آگے کی چیزیں ہیں، اور عمرانی و سیاسی میدان میں کہیں زیادہ دُور بیں رہ نما ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ملل و اقوام کو استعمار کے سیاسی تسلط سے زیادہ استعمار کے فکری و تہذیبی اثرات نے نقصان پہنچایا ہے۔ بعض نوآبادیوں میں برطانوی فوجی دستوں سے زیادہ مستشرقین اور مسیحی مبلغین کے جتھے ضرر رساں ثابت ہوئے ہیں۔ آج بھی صورت یہ ہے کہ مغرب کے تیر وتفنگ کے گھائل کم ہیں اور مغرب کی نظرِ ناز کے قتیل زیادہ۔ بلکہ نواستعمار کو اب نیزہ و تلوار کی ضرورت ہی کہاں رہ گئی ہے؟ بقول سودا:

عالَم تو مر رہا ہے ہر اِک آن پر تری
تیغ و سپر تُو لے کے یہ کس پر بپھر چلا؟

یہ شعور، کہ عسکری تسلط سے زیادہ مہلک عامل فکری و ثقافتی تسلط ہوتا ہے، مسلمانوں میں اول روز سے تطور پذیر تھا، یہاں تک کہ اس کے ثمرات بیسویں صدی میں ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ بہ دیر صحیح، اب مسلمان اہل علم میں یہ شعور تیزی سے پھیل رہا ہے۔ تاہم، استعمار و استشراق کی نظری تفہیم میں اس تاخیر سے استعمار کے بارے میں کسی مداہنت کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔ بالخصوص مسلمانوں کے اُس طبقے کے افکار کے جواز کی بہر حال کوئی سبیل نہیں ہے، جو گزشتہ دو صدیوں سے استعمار کا حاشیہ بردار چلا آ رہا ہے۔ یہ مکتبِ فکر استعماری جدیدیت کا فکری کاسہ لیس، مستشرقین کا دست نگر، اور جدیدیت کی راہ ہموار کرنے کے لیے دین کی ایک طبع زاد تعبیرِ نو پر بے تحاشہ مائل رہا ہے۔ اس مہم میں ان حضرات نے علمی معیارات اور تحقیق میں دیانت کے تقاضے بھی نظر انداز کیے۔ یہ استعماری متجدِّدین کا مکتب فکر ہے۔

استعماری تجدد کے بہت سے مسائل تھے، لیکن تصوف کا مسئلہ ان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا تھا۔ معاصر صورتِ حال مغربی تسلط سے عبارت تھی اور متجددین چاہتے تھے کہ بزعمِ خود مسلمانوں اور اسلام کی بقا کو یقینی بنانے کے لیے اس تسلط کے خلاف مزاحمت نہ کی جائے، بلکہ سرسید وغیرہ کے خیال میں تو مسلمانوں کو کوشش کرنی چاہیے تھی کہ استعمار کو دوام ملے۔ مسلمانوں کو اس پر آمادہ کرنے کے لیے دین کی نئی تعبیر لازم تھی، اور دین کی یہ نئی تعبیر مغربی الحاد سے فیض یافتہ تھی۔

گھر کیا اپنا بُتاں نے دل کو میرے دے شکست
توڑ کر کعبہ بناتے ہیں یہ بت خانے کی طرح

 مغربی تہذیب کے مطابق دین کی نئی تعبیر پیش کرنے کے لیے ضروری تھا کہ دین کے عقائد و اعمال کی اس تعبیری روایت کو راہ سے ہٹایا جائے، جو دیگر تعلیماتِ دینیہ پر فکر و عمل کے لیے قوتِ محرکہ فراہم کرتی ہے، اور اس کے تحفظ اور تسلسل کی ضامن ہے۔ کئی مسلم معاشرے، جو منگولوں، یوروپی قزاقوں، اور اشتراکیت کے تسلط میں آئے، وہاں سیاسی و فوجی مزاحمت کے ناکام ہونے کے بعد بھی تصوف نے کفر کے غلبے کے خلاف مزاحمت جاری رکھی، اور دینی روایت کو گھروں، خاندانوں، قبیلوں، اور معاشروں میں ایک روحانی و عرفانی اور تہذیبی و مزاجی وابستگی کی صورت میں باقی رکھا۔ تصوف کے اس بھاری پتھرکو راہ سے ہٹانے کا خواب سب مُتجددین نے دیکھا۔ کہا جا سکتا ہے کہ کمال اتاترک کو اس میں ایک مختصر عرصے کے لیے کامیابی بھی حاصل ہوئی، گو روایت کے کامل انقطاع کی سیکولر خواہش پوری نہ ہو سکی۔ ترکوں نے گزشتہ دہائیوں میں مغرب کے مقابل احساس کمتری کا قلادہ اتارا، اور تجدد کی بدبختی سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ لیا۔ غرض، استعماری تجدّد کو تصوف کی روایت کی قوت کا احساس ہے، اور معلوم ہے کہ یہ تجدد کی راہ روکنے والی دیوار ہے۔ اس رکاوٹ کو دُور کرنے کی دُھن میں، علمی احتیاط و دیانت کو بالائے طاق رکھنا بھی، متجددین کے نزدیک، ایک معمولی بات ہے۔

ہندوستان میں بھی متجددین نے تصوف کے خلاف محاذ باندھا۔ پہلے ہر شے کو بدعت قرار دیتے رہے، لیکن یہ حملہ تصوف کو خاص زک نہ دے سکا۔ انجام کار یہ تحریک غلام احمد پرویز، فکر فراہی کے علم برداروں، دیگر متجدّدین، اور منکرین حدیث کے ہاتھوں ضلالت کی انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ اسی سلسلے کی ایک معاصر کڑی، ٹی وی پرچارک (ٹیلے وینجلسٹ) جاوید غامدی ہیں۔ غلام احمد پرویز کو گمان ہوا کہ تصوف ایک “عجمی سازش” ہے، جاوید غامدی صاحب نے لقمہ دیا کہ “تصوف اسلام کے مقابل و مخالف، ایک متوازی دین ہے”۔ یہی طرزِ افتاء خوارج، قادیانیوں، اور داعش جیسے تکفیری گروہوں کے ہاں پائی جاتی تھی جو اپنے گروہ کے سوا سب کے ایمان کو مخدوش قرار دیتے ہیں۔

ہمارے اہل علم تمام امت کے گمراہ ہو جانے کے تصور کو دینی و عقلی اعتبار سے خارج از امکان سمجھتے ہیں۔ تمام امت یا اکثر امت کی تکفیر کے امکان کو حضرت امام فخرالدین رازیؒ اپنی کتاب “المحصول” میں زیر بحث لائے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ امت کفر پر مجتمع نہیں ہو سکتی، کیونکہ اگر تمام امت مرتد ہو جائے، تو اللہ تعالیٰ نے جو سبیل المؤمنین کا اتباع واجب کیا ہے وہ لغو ٹھہرتا ہے،کیونکہ سبیل المؤمنین کے اتباع کا وجوب اس کے وجود کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر مسلمان ہی نہ رہے تو سبیل المؤمنین بھی نہ رہی۔ جس شے کے بغیر، واجبِ مطلق کی تمثیل نہ ہو سکے، وہ خود بھی واجب ہوتا ہے۔ لہذا امت کا کفرپر اجماع غیر ممکن ہے (امام فخرالدین رازیؒ، المحصول، الکلام فی الاجماع، القسم السادس، المسٔلۃ الرابعۃ: لا یجوز اتفاق الامۃ علی الکفر)۔ اگر متجددین دعویٰ کریں کہ پوری اُمت گمراہ نہیں ہوئی، لیکن اکثر امت دین کے دائرے سے نکل گئی ہے، کیونکہ ہم، یعنی استعماری متجددین، اور منکرینِ تصوف بہرحال اس گمراہی سے بچے ہوئے ہیں، تو گویا انہوں نے دعویٰ کیا کہ امت میں فرقۂ ناجیہ بس وہی ہیں، اور یہی ان کا مقصودِ اصلی ہےکہ خود کو دین کے واحد نمائندوں کے طور پر پیش کریں۔ امام سعد الدین تفتازانیؒ نے اپنے استاذ امام اسفرائینیؒ کا قول نقل کیا ہے کہ جو شخص تمام اُمت کی تکفیر کرے ہم اس کی تکفیر کرتے ہیں (شرح المقاصد، جلد:۳، صفحہ:۴۶۱)، اس کی وجہ یہی ہے کہ جو تمام امت کے دین کو غلط قرار دے، وہ دینِ اسلام ہی کو مسترد کر کے اس کی جگہ ایک “متوازی دین” رائج کرنا چاہتا ہے۔ اور امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ ایس شخص کا کفر قطعی ہے جس کے موقف کے نتیجے میں ساری امت گمراہ قرار پاتی ہو (روضۃ الطالبین، جلد:۱۰، صفحہ:۷۰)۔ تمام مسلمانوں کو گمراہ سمجھنا ایک طرح سے کفار کی ہم زبانی بھی ہے۔ امام محمد بن حسن شیبانیؒ فرماتے تھے کہ کفار بھی اُمتِ مسلمہ کے مقابل ایک ہی ملت ہیں۔ اور معلوم ہے کہ کفار کے نزدیک تمام مسلمان گم کردہ راہ ہیں۔ یہ امر دستاویزی شہادتوں سے ثابت ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی تاریخی کارروائی کے دوران، جب گواہوں کے بیانات اور قادیانیوں کے اعتراف کے نتیجے میں ثابت ہو گیا کہ وہ اپنے علاوہ سب کو کافر سمجھتے ہیں، تو پھرانہیں غیر مسلم قرار دینے میں توقف نہیں کیا گیا۔ افسوس کہ جاوید غامدی صاحب کے مقلدین اُن کے تکفیری فتوے کو الہامِ ایزدی جان کر اس کا دفاع کر رہے ہیں۔ خیال ہوا کہ تفہیمِ تجدّد کے سلسلے میں اس تکفیری مہم کا ایک خاص پہلو بھی زیر بحث لایا جائے، اور وہ یہ کہ خود غامدی صاحب کا دبستان اس مسئلے میں کس موقف پر کھڑا ہے۔

دبستانِ شبلی

 جاوید غامدی صاحب لکھتے ہیں کہ شبلی کے دور میں مغربی تہذیب سے ہمارا پہلا تعارف ہوا، جس میں امت دو گروہوں میں بٹ گئی، ایک جانب علمائے دیوبند اور دوسری جانب وہ “جن کے نزدیک حق و باطل کا معیار یہی [مغربی] تہذیب اور اس کے علوم” تھے، موخر الذکر کے سرخیل سر سید تھے (مقامات، صفحات:۵۵ تا ۵۶)۔ شبلی ان دونوں کے مقابلے ایک تیسری جماعت کے بانی ہوئے جو قدیم و جدید علوم میں مہارت کے داعی تھے (صفحہ: ۵۶)۔ فرماتے ہیں: یہ دبستانِ شبلی ہے۔ برصغیر میں مسلمانوں کی علمی تاریخ کا یہ کس قدر صائب بیان ہے، اس پر تبصرہ پھر کسی وقت، کیونکہ ہمارے خیال میں تاریخ کی یہ تعبیر متجددانہ ہے، فکری اعتبار سے سطحی اور علمی اعتبار سے سوئے فہم پر مبنی ہے۔ بہرحال، جاوید غامدی صاحب آئندہ صفحات میں بتاتے ہیں کہ دبستانِ شبلی کے سب بڑے لوگ ایک ایک کر کے اس دبستان سے منحرف ہو گئے۔ تفصیل سے لکھتے ہیں کہ علامہ اقبالؒ، سید سلیمان ندوی، عبدالماجد دریابادیؒ، ابو الکلام، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ، اور سید ابو الحن علی ندویؒ –ابتداً یہ سب لوگ دبستانِ شبلی میں تھے، وقت گزرنے کے ساتھ سب نے اپنی اپنی راہ لی، بس ایک ہی صاحب باقی بچے – “اس دبستان میں جس شخص کو امام العصر کہنا چاہیے، وہ تنہا حمید الدین فراہی ہیں” (مقامات، صفحہ:۵۸)۔ گویا جب دبستانِ شبلی کا لُٹا پٹا قافلہ امین احسن اصلاحی اور جاوید غامدی کے در پہ اُترا، تو اِس “صراطِ مستقیم” کا ایک ہی راہی بچ رہا تھا جو حق کا واحد مظہر تھا، جس کا دامن امین اصلاحی اور جاوید غامدی نے تھام لیا! یہاں جاوید غامدی صاحب یہ نہیں بتاتے کہ یہی دو نہیں، کچھ اور لوگ بھی حمید الدین فراہی کے دامن سے لپٹ گئے: اسلم جیراجپوری، غلام احمد پرویز اور رحمت اللہ طارق! ان حضرات کی فیض یابی پر اس لیے سکوت اختیار کیا جاتا ہے کہ منکرینِ حدیث کے اس طائفے کو حمید الدین فراہی کا فیض یافتہ ماننے سے دبستانِ شبلی کا جو قصر تعمیر کرنا مقصود ہے وہ بننے سے پہلے ہی زمیں بوس ہو جاتا ہے۔ نیز، اِن حضرات کی گمراہیوں کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ اس کا دفاع کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ ورنہ منکرینِ حدیث اور حمید الدین فراہی کے مابین تبادلۂ فیض کا انکار ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر، رحمت اللہ طارق نے “امام فراہی” کو مکتبِ منکرینِ حدیث کے اکابرین میں شمار کیا ہے، بلکہ اپنے علمی کام کو بھی حمید الدین فراہی کی “فیض رسانی” کا نتیجہ بتایا ہے (رحمت اللہ طارق، دانشورانِ قرآن، ۲۴۳ تا ۲۴۴)۔

دبستانِ شبلی کی تاریخ رقم کرتے ہوئے، غامدی صاحب خاتمہ ٔ بحث میں لکھتے ہیں: “دبستانِ شبلی کی آخری نشانی اب امین احسن اصلاحی ہیں” (مقامات، صفحہ:۱۰۱)۔ جب وہ نشانی بھی زمین پر باقی نہ رہی، تو یہ سمجھنا چنداں مشکل نہیں رہتا کہ اب آخری نشانی کسے تصور کیا جائے! آخر میں پیش گوئی فرماتے ہیں: “آنے والے دور کی امامت دبستانِ شبلی کے لیے مُقدّر ہے” (مقامات، صفحہ:۶۱)۔ غامدی صاحب دبستانِ شبلی کو حق کا نمائندہ، اور فراہی کو اللہ کی آیات میں سے ایک آیت (مقامات، صفحہ:۵۸) سمجھتے ہیں، گویا اب اُمت کو ہدایت انہی کے در سے ملے گی۔ بانیٔ دبستان سمیت بس تین عدد اکابرین تھے، اُن کے اُٹھ جانے کے بعد ایک ہی بچا ہے۔ برصغیر کا مسلم دنیا اب غامدی صاحب کے ٹی وی پروگراموں کے ذریعے دبستانِ شبلی کے انوار سے منوّر ہو رہی ہے، اور من جملۂ انوار یہ فتویٰ ہے کہ تقریباً تمام امت دین کے دائرے سے باہر ہے!

اہل تصوف کی تکفیر کی اصل دلیل

اہل تصوف کی تکفیر کے لیے جاوید غامدی صاحب نے ایک مضمون “اسلام اور تصوف” کے عنوان سے لکھا تھا (برہان، سنہ ۲۰۰ء، صفحات:۱۸۱ تا ۲۱۰)۔ فی الحال ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک نظر اس سوال پر ڈالی جائے کہ جاوید غامدی صاحب کے نزدیک اہل تصوف کی تکفیر کا اصل سبب کیا ہے؟

جاوید غامدی صاحب کے اس مضمون سے واضح ہے کہ اُن کے نزدیک اصل بنائے تکفیر وحدتِ وجود کا مسئلہ ہے۔ غامدی صاحب اہلِ تصوف کے ائمہ کی کتابوں سے چُن چُن کر اقوال نقل کرتے ہیں، اور اپنے تئیں دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وحدت وجود تمام اسلامی عقائد – توحید، رسالت، معاد – اور شریعت کو زائل کر دیتا ہے۔ یعنی وحدت وجود کو ماننے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ دین کا انکار ہو جائے، اور ایک نیا دین وجود میں آئے۔ پھر نتیجہ نکالتے ہیں کہ تصوف اسلام کے مقابل اور اس کے مخالف، ایک متوازی دین ہے۔ ان کے نزدیک وحدت شہود اور وحدت وجود چونکہ اصلاً ایک ہی شے کے دو نام ہیں، لہذا تمام وجودی و شہودی ائمۂ تصوف اس فتوے کی زد میں ہیں۔ چونکہ اکثر امت اسی کی قائل ہے اور انہی ائمہ سے وابستگی رکھتی ہے، لہذا،کفر کے فتوے سے بھی سخت تر، غامدی صاحب کا یہ فتویٰ تمام امت یا اکثر امت کی تکفیر پر منتج ہوتا ہے۔ ان کی تحریروں سے واضح ہے کہ خواہ حُسنِ فہم سے یا سُوئے فہم سے، غامدی صاحب بہرحال اُمت کے اس کفر و ضلالت کی وجہ “وحدتِ وجود” میں دیکھتے ہیں۔

دبستانِ شبلی اور وحدتِ وجود

مسئلہ یہ ہے کہ دبستانِ شبلی کے اولیں امام اور ترجمان خود شبلی نعمانی ہیں۔ وہ کوئی مجہول شخص نہیں، نہ ان کی تصانیف ناپید ہیں۔ وہ اپنے موقف کو اپنے قلم سے بیان کرنے کی استعداد بھی رکھتے تھے۔ ان کی ایک کتاب “سوانح مولانا روم” ہے، جس میں مولاناجلال الدین رومیؒ کی حیات اور شاعری پر مفصل کلام ہے۔ بقول سید سلیمان ندوی یہ کتاب پہلی مرتبہ شبلی کی وفات سے آٹھ برس قبل، سنہ ۱۹۰۶ء میں شائع ہوئی (سید سلیمان ندوی، حیاتِ شبلی، صفحہ:۳۰۴)۔ شبلی نعمانی سنہ ۱۸۹۸ء میں علی گڑھ کالج چھوڑ چکے تھے۔ یعنی یہ کتاب علی گڑھ کے “ملحدانہ” اثرات کا شاخسانہ نہیں ہے، بلکہ شبلی کی فکری بلوغت کے دور کی تصنیف ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کے سلسلۂ تصانیف کی آخری کڑیوں میں سے ہے۔ شبلی کی تمام اہم تصانیف اس سے قبل شائع ہو چکی تھیں، الغزالی، النعمان، الفاروق، شعر العجم، علم الکلام، المامون وغیرہ۔ ۱۹۰۶ء کے بعد انہوں نے چند مضامین و نظموں کو چھوڑ کر، فقط سیرت النبی ہی لکھی ہے۔ (موازنۂ انیس و دبیر کی طباعت سوانح مولانا رومؒ کے بعد ہوئی، لیکن بقول سید سلیمان ندوی، ضبط تحریر میں پہلے آچکی تھی)۔ سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں کہ اسی زمانے میں شبلی کی “توجہ تصوف کی طرف مائل ہوئی” (حیات شبلی، صفحہ: ۳۰۴)۔ ندوی صاحب کے خیال میں شبلی اس سے پہلےظاہریت میں مگن تھے، تصوف کی طرف راغب ہونے کے دو اسباب قیاس کیے ہیں: ایک، امام غزالیؒ کی حیات پر کتاب لکھتے ہوئی تصوف سے مواجہہ ہوا، اور دوسرے حیدرآباد میں قیام کی برکت تھی، کیونکہ “حیدرآباد کے رگ و پے میں تصوف اور وحدۃ الوجود کے مسائل سرایت کیے ہوئے ہیں” (حیات شبلی، صفحہ:۳۰۴)۔

شبلی نے “سوانح مولانا رومؒ” کے آخری حصے میں، ایک فصل” توحید” اور “وحدتِ وجود” پر لکھی ہے، جس میں وحدتِ وجود کے حامیوں اور ناقدوں کے مواقف اور دلائل نقل کر کے محاکمہ کیا ہے اور نتیجۂ تحقیق ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

“وحدت وجود کا مسئلہ بظاہر غلط معلوم ہوتا ہے، اور اہل ظاہر کے نزدیک تو اس کے قائل کا وہی صلہ ہے جو منصور کو دار پر ملا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وحدت وجود کے بغیر چارہ نہیں” (شبلی نعمانی، سوانح مولانا روم، صفحہ:۱۸۰)۔

اس کی شرح و وضاحت کے بعد مزید لکھتے ہیں:

“غرض فلسفے کی رُو سے تو صوفیا کے مذہب کے بغیر چارہ نہیں، البتہ یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ شریعت اور نصوصِ قرآنی اس کے خلاف ہیں۔ لیکن یہ شبہ بھی صحیح نہیں” (شبلی نعمانی، سوانح مولانا روم، صفحہ:۱۸۲)۔

گویا شبلی کے نزدیک، اولاً، فلسفیانہ نظام میں کائنات کے ظہور کی توجیہ اور مراتب وجود کی معرفت، اور خود وجود کی کنہ پانے کی سعی میں وحدت وجود کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ مزید فرماتے ہیں، “آج یوروپ کے بڑے بڑے حکما کا بھی یہی مذ ہب ہے” (سوانح مولانا روم، صفحہ:۱۸۴)۔ اور دوم، خالص دینی اعتبار سے، یعنی شریعت اور قرآن مجید کی نصوص کی روشنی میں بھی معلوم ہوتا ہے کہ صوفیاء کا موقف نہ شریعت کے خلاف ہے نہ نصوصِ قرآنی کے۔

نتائج

اگر وحدت الوجود کو ماننے کے نتیجے میں حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ اور دیگر صوفیائے کرام اسلام کے دائرے سے نکل کر، اسلام کے مقابل اور مخالف ایک اور “متوازی دین” میں داخل ہو جاتے ہیں، تو یہ بات اُن تمام حضرات پر صادق آئے گی جو وحدت الوجود کو حق سمجھتے ہیں۔ چونکہ دبستانِ شبلی کے بانی شبلی نعمانی بھی وحدت الوجود کو عقلی و دینی اعتبار سے درست سمجھتے ہیں، لہذا غامدی صاحب کا چلایا ہوا تیر خود ان کے دبستان کے بھی پار ہو جائے گا۔ کیا غامدی صاحب اپنے فتوے کے اس منطقی نتیجے کو تسلیم کرتے ہیں؟ تیغ ِ تکفیر کو اندھا دُھندچلانے کے مفاسد واضح ہیں۔ ہندوستان کے استعماری مذہبی مناظروں کے تاریخ سے باخبر حضرات جانتے ہیں کہ بعض اوقات مفتیوں نے ایسی عبارتوں پر کفر کے فتوے جاری کیے جو سائل نے خود انہی کے اکابرین کی کتابوں سے اقتباس کیے تھے۔ کم پڑھا لکھا غیر ذمہ دار اور تنگ نظر مفتی بعض اوقات اپنے ہی تیر کا نشانہ بن جاتا ہے۔

الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

حاشا و کلا! اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم شبلی نعمانی کے خلاف غامدی صاحب کے فتوے کے منطقی نیتجے کی تائید کر رہے ہیں۔ ہمارے نزدیک ائمہ تصوف رحمہم اللہ کے خلاف غامدی صاحب کا یہ فتویٰ علمی و دینی اعتبار سے اصلاً غلط ہے۔ یہ فتویٰ نہ صوفیائے کرامؒ کے خلاف درست ہے نہ شبلی کے خلاف درست ہو سکتا ہے۔ شبلی نعمانی کی آراء سے اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن وحدت الوجود کو ماننے کی وجہ سے انہیں اس قسم کی فتویٰ بازی کا نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں، ایسا کرنا تنگ نظری و انتہا پسندی کی بدنما مثال ہو گی۔

غامدی صاحب جواباً کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اس معاملے میں شبلی سے اختلاف ہے، شبلی کی ہر بات لازماً درست نہیں ہوا کرتی۔ تو عرض ہے کہ ہم نے بھی یہ نہیں کہا۔ شبلی نے قدیم و جدید کی “تطبیق و تلفیق” سے جو ملغوبہ تیار کیا ہے، اس کے بارے میں ہماری رائے بھی مثبت نہیں ہے۔ لیکن یہاں یہ مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وحدت الوجود اور اس کے نتائج کے بارے میں خود جاوید غامدی صاحب کو تسلیم ہے کہ یہ اس قدر بنیادی مسئلہ ہے کہ اس میں غلط رائے اختیار کرنے سے ہما شما نہیں بلکہ امت کے بڑے بڑے اکابرین بھی دین کے دائرے سے نکل جاتے ہیں۔ یہ رفع یدین اور آمین بالجہر جیسا فرعی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر ایسا تھا تو شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ اور دیگر ائمۂ صوفیہ کے بارے میں بھی یہی ارشاد فرما دیتے، کہ اُنہیں فلاں فلاں مسئلے میں ائمہ تصوف سے کچھ اختلاف ہو گیا ہے۔ لیکن وہ یہاں نہیں رُکے، بلکہ انتہا پسندی میں اسے اسلام اور کفر کا مسئلہ بنایا، اور اکابرینِ اُمت کواسلام کے مقابل و مخالف ایک متوازی دین کے پیروکار قرار دے دیا۔

اگر معروضی اصولوں پر علمی و دینی تحقیق ہی غامدی صاحب کا مقصد ہوتا، تو غامدی صاحب شیخِ اکبر محی الدین ابن عربیؒ اور امام مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ تک پہنچنے سے پہلے اپنے گھر کی خبر لیتے، اور سب سے پہلے اپنے دبستان کے بانی، شبلی نعمانی کا مطالعہ کرتے اور اُن کے خیالات پر غور کرتے۔ یہ بات خود نہایت عجیب ہے کہ وہ اپنے دبستان کے بانی کی کتابوں ہی کو توجہ سے نہیں پڑھتے! اگر لکھنے اور بولنے سے زیادہ توجہ مطالعے اور تحقیق پر ہوتی، اور کچھ مدت اپنے دبستان کے بانی کے نظریات پر معتکف رہتے، تو شاید اس قبیح فتوے کی نوبت ہی نہ آتی۔ “مقامات” میں جاوید غامدی صاحب نے لکھا تھا کہ شبلی ہندوستان میں ایک “آفتاب” کی طرح طلوع ہوئے۔ افسوس کہ جس ہستی کو “آفتاب” قرار دیا تھا، اسی کو اپنی انتہا پسندی وتنگ نظری سے گہنا دیا۔

علمی بد دیانتی اور علمی تساہل دونوں قابلِ مذمت ہیں۔ غامدی صاحب کے فرقے میں اکثر معمولی پڑھے لکھے لوگ ہیں، علم و تحقیق میں دلچسپی نہیں ہے۔ وہ بے چارے غامدی صاحب کے نتائجِ فکر کو اپنی جدیدیت کے سبب لپک کر قبول کرتے ہیں، اس لیے نہیں کہ اس فرقے کے استدلال کو نصوص کی بنا پر درست سمجھتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ جس مغربی جدیدیت کو آئینِ زندگی بنا چکے ہیں، غامدی صاحب اس کا جیسا کیسا، ایک دینی جواز فراہم کر دیتے ہیں۔

یہ عُذر تسلیم ہے کہ ادق باتیں غامدی صاحب اور ان کے اکثر منتسبین کو سمجھ میں نہیں آتیں، پر اُن کے گنتی کے پڑھے لکھے پیروکار بھی ہیں، اُن کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ اُن سے توقع کی جا سکتی ہے کہ اس امر پر توجہ دیں کہ ان کے “اکابرین” کی علمی و اخلاقی سطح کیا ہے؟ غامدی صاحب شبلی کی رائے کو جانتے بوجھتے چُھپا رہے ہیں، یا ان کی رائے سے واقف ہی نہیں ہیں؟ پہلی صورت میں علمی بددیانتی کے مرتکب ہوئے ہیں، اور دوسری صورت میں قلتِ مطالعہ، ضعفِ تحقیق، اور نقصِ تدبرکا شکار ہیں۔ پہلی صورت میں یہ حضرات اپنے متجددانہ مقاصد کے حصول میں دیانت و صداقت کے تارک ہیں، اور دوسری صورت میں علم و تحقیق میں خام اور متساہل ہیں۔ کم از کم اپنے دبستان کے اکابرین کی تصانیف تو اَزبر ہونی چاہییں تھیں! غامدی صاحب کے متعلقین کو چنداں ضرورت نہ تھی کہ شیخ ِاکبر محی الدین ابن عربیؒ اور دیگر ائمۂ تصوف کے ایمان کے درپے ہوتے۔ اِن کے لیے زیادہ ضروری تھا کہ غامدی صاحب کی علمی حدود اور علمی اخلاقیات پرغور کرتے، جو اپنے دبستان کے بانی کی فکر ہی سے واقف نہیں، یا جانتے بوجھتے اس پر پردہ ڈالتے ہیں؛ علمی بد دیانتی اور علمی تساہل کو گوارا کرتے ہیں۔ اور اگر یہ رویہ گروہی و فرقہ وارانہ تنگ نظری، مکتبی عصبیت، تقلیدِ جامد، اور اندھا کر دینی والی حد سے بڑھی ہوئی عقیدت کے سبب ہے، تو یہی تو وہ الزام ہے جو یہ متجددین ہر وقت اُمت مسلمہ پر عائد کرتے رہتے ہیں۔

 یاد رہے، کہ یہ تمام بحث اُس بڑے تناظر میں ہو رہی ہے کہ استعماری تجدّد کوئی علمی و دینی موقف نہیں ہے، طے شدہ مقاصدِ ادنیٰ کی بازیابی کی کوشش ہے، جو مقاصد تمام تر استعماری ہیں۔ یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ متجددین کا مایۂ تحقیق کیا ہے؟ ان کی فتویٰ بازی کی عِلْمیات کیا ہیں؟ تجدد کے علمی سوتے اور مناہج کیا ہیں؟ ان کے بے محابہ دعاوی میں علمی اخلاقیات سے غفلت، اور مطالعہ و فہم کے نقص کا کیا کردار ہے؟ اسلام کو جدید مغربی فکر و تہذیب سے تطبیق دینے کے کام میں تلبیس یا تساہل کس حد تک کارفرما ہے؟ تعصب وخیانت کی فتنہ سامانیاں کیا رنگ دکھا رہی ہیں؟ ان امور پر غور کرنے سے اس بڑی کشمکش کا اندازہ ہو گا جو دینِ حق اور مغرب زدگی، اسلام اور کفر، مستعمَر اور مستعمِر کے مابین بپا ہے، اور جس تنازعے میں غیرجانبداری اور تذبذب محض عذر لنگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور جس تنازعے میں ہر مسلمان پر لازم ہے کہ فیصلہ کرے، کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔

یا ربِّ بالمصطفیٰؐ بلّغْ مقاصدنا۔ واغْفر لنا ما مضی یا واسعَ الکرمِ۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20