علّامہ اقبال اور مولانا ابوالکلام آزاد: فتح محمد ملک

0

علامہ محمد اقبال اور مولانا ابوالکلام آزاد عہدِ حاضر کے دوعظیم اسلام شناس ہیں۔ دین کی تفہیم و تعبیر میں ہر دو شخصیات کے ہاں گہری مماثلت بھی پائی جاتی ہے اور شدید اختلاف بھی۔ اقبال نے جہاں اپنے سیاسی فکر و عمل میں ہندوستانیت سے اسلامیت کی جانب پیش قدمی کی وہاں مولانا آزاد نے اسلامیت سے ہندوستانیت کی جانب مراجعت کا راستہ اختیار کیا۔ اسلامیانِ ہند کی بھاری اکثریت نے مولانا آزاد کے دکھائے ہوئے راستے پر چلنے سے انکارکر دیا اور اقبال کی جدید دینی تعبیر کو اپنا کر قائداعظم کی قیادت میں پاکستان قائم کر لیا۔ اجماع کے اس سیاسی ردّوقبول سے قطع نظر اقبال اور ابوالکلام آزاد ہر دو برصغیر کے مسلمانوں کی آنکھ کا تارا ہیں۔ دونوں کو عقیدت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ محترمہ سیدین حمید نے اپنی حالیہ کتاب “Islamic Seal on India’s Independence, Oxford, 1998” میں مولانا آزاد کی حیات و خدمات پر ایک تازہ نظر ڈالتے وقت اُن کی شخصیت کو اقبال کے درج ذیل شعر سے اُجاگر کیا ہے:
نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پُرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرکارواں کے لیے!
لطف کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں اقبال کا یہی شعر قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت و کردار کا جلی عنوان ٹھہرا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہر دو شخصیات کے پاس ’نگہ بُلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز‘ کا رختِ سفر موجود تھا مگر یہ بھی سچ ہے کہ اسلامیانِ ہند نے اپنی قومی زندگی کے ایک انتہائی نازک مرحلے پر مولانا آزاد کی سیاسی قیادت پر عدمِ اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر جناح کی سیاسی قیادت پر بھرپور اعتماد کا ثبوت دیا تھا اور یوں مولانا آزاد اپنی تمام تر عظمت کے باوجود یوسفِ بے کارواں ہو کر رہ گئے تھے۔مولانا، خود اپنے کارواں سے بے نیاز ہو کر ایک مختصر مدت کے لیے متحدہ ہندوستانی قومیت کے کارواں کا ہراول دستہ تو ضرور بن گئے تھے مگر بالآخر یہ حقیقت اُن پر روشن ہو گئی تھی کہ ہندوستانی قومیت کا کارواں بھی انھیں پیچھے چھوڑ کر کہیں دور، بہت دور، چلا گیا ہے اور وہ فقط ایک درماندہ راہ رو کی صدائے دردناک بن کر رہ گئے ہیں۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی فکری اور سیاسی جدوجہد بڑے واضح، متعین اور قطعی انداز میں تین الگ الگ ادوار پر مشتمل ہے۔ پہلا دور آغازِ کار سے لے کر ۱۹۲۰ء تک پھیلا ہوا ہے۔ دوسرا دور ۱۹۲۰ء سے لے کر قیامِ پاکستان تک اور تیسرا دور قیامِ پاکستان سے لے کر دمِ واپسیں تک۔ مولانا کی زندگی کے پہلے دور میں اقبال کا شمار اُن کے مداحوں میں ہوتا تھا۔جبکہ دوسرے دور میں دونوں کے سیاسی فکر و عمل کے راستے الگ الگ ہو گئے تھے۔ شدید فکری اور سیاسی اختلاف کے اِس دور میں بھی ہر دو شخصیات میں سے کسی ایک نے بھی دوسرے کے خلاف کبھی لب کشائی نہیں کی۔ دونوں کے مابین عزت و احترام کی خاموش فضا ہمیشہ قائم رہی۔
مولانا آزاد نے جب ۱۹۱۲ء میں کلکتہ سے اپنے اخبار ’’الہلال‘‘ کی ابتداء کی تو اقبال اِس قدر خوش ہوئے کہ انھوں نے ’’الہلال‘‘ کے دس خریدار بنائے۔ پھر جب ’’الہلال‘‘ برطانوی حکومت کے احتساب کی زد میں آ کر ۱۹۱۴ء میں بند ہو گیا اور مولانا نے اُس کی جگہ ’’البلاغ‘‘ جاری کیا تو اس کے پہلے شمارے کے ٹائٹل پر اقبال کی نظم شائع کی۔ مولانا غلام رسول مہر کے بقول ’’اِس نظم کے اعتراف عظمت کے لیے یہی شہادت کافی ہے کہ ’الہلال‘ کے اڑھائی برس یا ’البلاغ‘ کے چند مہینوں اور ’الہلال‘ دورِ دوم کے چھ ماہ میں علامہ کی اس نظم کے سوا نہ تو کبھی کوئی نظم پہلے صفحے پر شائع ہوئی اور نہ ہی کبھی کسی نظم کے لیے پورا صفحہ وقف کیا گیا۔‘‘اقبال کی یہ نظم عرفی کے اِس شعر پر تمام ہوتی ہے:
نوا را تلخ تر می زن، چو ذوقِ نغمہ کمیابی
حدی را تیز تر می خواں، چو مہمل را گراں بینی
اقبال کی یہ نظم اِس بات کی شاہد ہے کہ دورِ اوّل کے ابوالکلام آزاد کے فکر و عمل کو اقبال تحسین کی نظر سے دیکھتے تھے۔ دین کی تفہیم و تعبیر میں ہر دو شخصیات کی فکری مماثلت کا اندازہ ’’الہلال‘‘ اور ’’البلاغ‘‘ میں شائع ہونے والے مولانا کے مضامین اور اقبال کی شاعری سے کیا جا سکتا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے مضمون ’’حقیقت ِاسلام‘‘ میں بڑے دو ٹوک انداز میں اسلام کی حقیقت کو اِن الفاظ میں منکشف فرمایا ہے:
’’یہی وہ اسلام ہے جس کو قرآن جہاد فی سبیل اللہ سے تعبیر کرتا ہے اور کبھی اسلام کی جگہ جہاد اور کبھی جہاد کی جگہ اسلام، کبھی مسلم کی جگہ مجاہد اور کبھی مجاہد کی جگہ مسلم بولتا ہے۔ اس لیے کہ حقیقت ِ جہاد، اپنا سب کچھ اس کے لیے قربان کر دینا ہے۔ ہر وہ کوشش و سعی جو اس کی خاطر ہو وہ جہاد ہے۔ خواہ ایثار ہو، جاں کی سعی ہو یا قربانی مال و اولاد کی جدوجہد اور یہی حقیقت ِ اسلام ہے کہ اپنا سب کچھ اس کے سپرد کر دیا جائے۔ پس جہاد اور اسلام ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں اور ایک ہی معنی کے لیے دو مترادف الفاظ ہیں۔ یعنی اسلام کے معنی جہاد ہیں اور جہاد کے معنی اسلام ہیں۔ پس کوئی ہستی مسلم ہو نہیں سکتی جب تک مجاہد نہ ہو اور کوئی مجاہد ہو نہیں سکتا جب تک مسلم نہ ہو۔ اسلام کی لذت اس بدبخت کے لیے حرام ہے جس کا ذوق ایمانی لذت جہاد سے محروم ہو اور زمین پر گو اس نے اپنا نام مسلم رکھا ہو لیکن اس کو کہہ دو کہ آسمانوں میں اس کا شمار کفر کے زمرے میں ہے۔ آج جب ایک دنیا لفظ جہاد کی دہشت سے کانپ رہی ہے جبکہ عالم مسیحی کی نظروں میں یہ لفظ عفریت، مہیب یا ایک حربہ بے امان ہے، جبکہ اسلام کے مدعیان نبوت نصف صدی سے کوشش کر رہے ہیں کہ کفر کی رضا کے لیے اہلِ اسلام کو مجبور کریں کہ وہ اس لفظ کو لغت سے نکال دیں جبکہ بظاہر انہوں نے کفر و اسلام کے درمیان ایک راضی نامہ لکھ دیا کہ اسلام لفظ جہاد کو بھلا چکا ہے۔لہٰذا کفر اپنے توحش کو بھول جائے تاہم آج کل کے ملحد مسلمین اور مفسدین کا ایک حزب الشیطان بے چین ہے کہ بس چلے تو یورپ سے درجہ تقرب و عبودیت حاصل کرنے کے لیے تحریف الکلم عن مواضعہ کے بعد سرے سے اس لفظ کو قرآن سے نکال دے تو پھر یہ کہا ہے کہ میں جہاد کو صرف ایک رکن اسلامی، ایک فرض دینی، ایک حکم شریعت بتلاتا ہوں حالانکہ میں تو صاف صاف کہتا ہوں کہ اسلام کی حقیقت ہی جہاد ہے، دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اسلام سے اگر جہاد کو الگ کر لیا جائے تو وہ ایک ایسا لفظ ہوگا جس میں معنی نہ ہوں۔ ایک اسم ہوگا جس کا مسمی نہ ہو۔‘‘
گویا ترکِ جہاد کی تلقین ترکِ اسلام کی تعلیم کے مترادف ہے۔ اس مضمون کو پڑھتے وقت مجھے اقبال کی آخری طویل نظم ’’ابلیس کی مجلسِ شوریٰ‘‘ بے ساختہ یاد آئی۔ اس ڈرامائی نظم کے ایک منظر میں شیطان دنیائے اسلام کے خلاف اپنی سازشوں کی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کرتا ہے:
اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام
پختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوام
یہ ہماری سعی پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و مُلّا ملوکیت کے بندے ہیں تمام
کس کی نومید پہ حجت ہے یہ فرمان جدید
’’ہے جہاد اس دور میں مرد مسلماں پر حرام‘‘
جب برطانوی استعمار نے جہاد کے خلاف یہ فتویٰ خوب خوب مشتہر کیا تو اس کی تردید میں اقبال نے اپنی نظم ’’جہاد‘‘ لکھی:
فتویٰ ہے شیخ کا کہ زمانہ قلم کا ہے
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر
لیکن جناب شیخ کو معلوم کیا نہیں؟
مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سود و بے اثر
تیغ و تفنگ دست مسلماں میں ہے کہاں
ہو بھی، تو دل ہیں موت کی لذت سے بے خبر
کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اسے کہ مسلماں کی موت پر
تعلیم اس کو چاہیے ترکِ جہاد کی
دنیا کو جس کے پنجہ خونیں سے ہو خطر
باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر!
یہ تو تھا اسلام کی حقیقت کا بیاں، اب آئیے اسلام میں قومیت کے تصور کی جانب۔ مولانا اپنے مضمون بعنوان ’’اُمتِ مسلمہ: تاسیس اور نشاۃ ثانیہ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ:
’’حضرت ابراہیم ؑ جس عظیم الشان قوم کا خاکہ تیار کر رہے تھے اس کا مایۂ خمیر صرف مذہب تھا اور اس کی روحانی ترکیب عنصر آب و ہوا کی آمیزش سے بالکل بے نیاز تھی۰۰۰۰انھوں نے جو قوم پیدا کر دی تھی اُسی کے اندر سے ایک پیغمبر اُٹھا اُس نے اس گھر میں سب سے پہلے خدا کو ڈھونڈھنا شروع کیا لیکن وہ اینٹ پتھر کے ڈھیر میں بالکل چھپ گیا تھا۔ فتح مکہ نے اس انبار کو ہٹا دیا تو خدا کے نور سے قندیل حرم پھر روشن ہو گئی۔ وہ قوم جس کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دُعا فرمائی اس پیغمبر کے فیضِ صحبت سے بالکل مزکی و تربیت یافتہ ہو گئی تھی ۰۰۰۰جب اسلام نے اس جدید النشاۃ قوم کے وجود کی تکمیل کر دی اور خانہ کعبہ کی ان مقدس یادگاروں کی روحانیت نے اس کی قومیت کے شیرازہ کو مستحکم کر دیا تو پھر ملت ابراہیم کو فراموش کردہ روشنی دکھا دی گئی۔‘‘
اپنے ایک اور مضمون ’’وحدتِ اجتماعیہ‘‘میں ’’مسلمانوں کی قومیت‘‘ کو ایک جسم سے تعبیر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ایک عضو میں درد ہو تو سارا جسم درد محسوس کرتا ہے اور اس کی بے چینی اور تکلیف میں اس طرح حصہ لیتا ہے جیسے خود اس کے اندر درد اُٹھ رہا ہے۔ ‘‘ اسی زمانے کے ایک اور مضمون بعنوان ’’ملتِ ابراہیمی: تجدید و تاسیس‘‘ میں مولانا نے یورپی تصورِ قومیت کی تردید کی، جغرافیائی اور وطنی قومیت کے علمبرداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسلامیانِ ہند کو وطنیت کے خطرات سے آگاہ کیا:
’’حضرات! غور سے سنو کہ قوم افراد سے مرکب ہے کہ ایک جماعتی مسلک میں تمام افراد منسلک ہو جائیں اور وحدت و اتحاد پر افراد کی شیرازہ بندی کی جائے۔ ہم یورپ کے اجتماعی طریقوں کی نقالی کرنا چاہتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام نے بھی آخر حیات اجتماعی کے لیے کوئی نظم ہمیں دیا تھا یا نہیں۔ اگر دیا تھا اور ہم نے اسے ضائع کر دیا ہے تو یورپ کی دریوزہ گری سے پہلے خود اپنی کھوئی چیز کیوں نہ واپس لے لیں اور سب سے پہلے اسلام کا قرار دادہ نظام جماعتی کیوں نہ قائم کریں۰۰۰۰ہمارا طریقِ عمل تو یہ ہونا چاہیے کہ ہم تمام طرف سے آنکھیں بند کر کے حکمتِ اجتماعیہ نبویہ کو اپنا دستورالعمل بنا لیں، شریعت کے کھوئے ہوئے نظام کو از سرِنو قائم و استوار کریں تاکہ اس طرح سے اسلام کی مٹی ہوئی سنتیں زندہ ہو جائیں۰۰۰۰ہمارے سامنے صرف ایک ہی راہ ہے اور وہ ہے قرآن کی راہ ہم تو صرف ملتِ ابراہیمی کی اطاعت کریں گے اور دوسری کوئی راہ نہیں جس کی ہم اطاعت کر سکیں۔‘‘
اپنے اسی مضمون کے آخر میں مولانا کہتے ہیں کہ ’’ہمارے عقیدے میں ہر وہ خیال جو قرآن کے سوا کسی تعلیم گاہ سے حاصل کیا گیا ہو کفر صریح ہے۔ افسوس کہ لوگوں نے اسلام کو کبھی بھی اُس کی اصلی عظمت میں نہیں دیکھا ورنہ پولیٹیکل پالیسی کے لیے نہ تو گورنمنٹ کے دروازے پر جھکنا پڑتا اور نہ ہندوئوں کی اقتداء کرنے کی ضرورت پیش آتی، بلکہ اُسی سے سب کچھ سیکھتے جس کی بدولت تمام دُنیا کو آپ ؐ نے سب کچھ سکھلایا تھا۔‘‘ مضمون کی ان آخری سطروں تک پہنچا تو مجھے اس ستم ظریفی کا شدّت سے احساس ہوا کہ ۱۹۲۰ء کے بعد رفتہ رفتہ خود مولانا نے قرآنِ حکیم سے اخذ کردہ اپنی ان تعلیمات سے روگردانی کرتے ہوئے اپنی’’پولیٹیکل پالیسی‘‘میں ہندوئوں کی پیروی کا راستہ اپنا لیا تھا مگر اقبال اپنے دمِ واپسیں تک اس حکمتِ قرآنی کی روشنی ہی میں سرگرمِ عمل رہے۔ اس کی ایک مثال اقبال کا وہ آخری سیاسی بیان ہے جو انھوں نے وطنی قومیت کے حق میں مولانا حسین احمد مدنی کے فتویٰ کی تردید میں دیا تھا اور جس کا بنیادی استدلال مولانا ابوالکلام آزاد کے متذکرہ بالا مضمون میں پیش کیے گئے استدلال سے گہری مماثلت ہی نہیں رکھتا بلکہ ایک گونا یکسانیت کا حامل ہے۔
اسلامی قومیت کے موضوع پر مولانا کے متذکرہ بالا خیالات کی اشاعت سے برسوں پہلے اقبال نے اپنی شاعری اور اپنی نثر میں برصغیر میں جغرافیائی اور وطنی قومیت کی بڑی مؤثر تردید کر رکھی تھی۔’’ملتِ بیضا پر ایک عمرانی نظر‘‘ کے سے اجتہادی مضامین کے ساتھ ساتھ اگر ’’وطنیت‘‘ کی سی نظموں کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اقبال اور ابوالکلام کی گہری فکری مماثلت سامنے کی بات معلوم ہوگی۔ اقبال کا امتیاز یہ ہے کہ وہ قرآنِ حکیم میں پیش کردہ لافانی حکمتوں اور ابدی صداقتوں کی عصری معنویت منکشف کرنے کے ساتھ ساتھ عہدِ حاضر کے سیاسی اور عمرانی نظریات کی سامراجی اساس کو بھی منہدم کرتے چلے جاتے ہیں جبکہ مولانا کا استدلال سراسر دینیاتی ہے۔
آزادؔ عہدِ ملوکیت کے مجتہدین کی من مانی مذہبی تاویلات کی روایت میں اسیر ہیں، جبکہ اقبالؔ ایک جدید تنقیدی اندازِ نظر کے ساتھ اس فقہی روایت کو پرکھنے کے خوگر ہیں۔ آزادؔ کی فکر پر ملوکیت کی گہری چھاپ ہے۔ اپنے مضمون ’’وحدت اجتماعیہ‘‘ میں وہ ’’جماعت‘‘ کو ’’اسلام کا دوسرا نام‘‘ قرار دیتے ہیں اور ’’جماعت سے علیحدگی کو جاہلیت اور حیاتِ جاہلی سے تعبیر‘‘ کرتے ہیں۔ وہ جماعت کو ایک امیر کے تابع رکھنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں احادیث سے سند لاتے ہیں:
’’بکثرت وہ احادیث و آثار موجود ہیں جن میں نہایت شدت کے ساتھ ہر مسلمان کو ہر حال میں التزامِ جماعت اور اطاعتِ امیر کا حکم دیا گیا ہے۔ اگرچہ امیر غیر مستحق ہو، نااہل ہو، فاسق ہو، ظالم ہو، کوئی ہو۔ بشرطیکہ مسلمان ہو اور نماز قائم رکھے۔‘‘
اسی بات کو وہ اپنے مضمون ’’مرکزیت قومیہ‘‘ میں مزید وضاحت کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ حکمران اور امام کی آمریت کو برحق ثابت کرنے کی خاطر مولانا قرونِ وسطیٰ کی مذہبی تاویلات کو عہدِ جدید پر منطبق کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’’نہایت قوّی اور روشن دلائل موجود ہیں کہ اولو الامرسے مقصود مسلمانوں کا خلیفہ و امام ہے جو کتاب و سنت کے احکام نافذ کرنے والا، نظامِ امت قائم رکھنے والا اور تمام اجتہادی امور میں صاحب حکم و سلطان ہے۔‘‘ اس فکرِ ملوکانہ کے برعکس اقبال سلطانیٔ جمہور کے قائل ہیں۔ وہ اسلام کو ملوکیت کی چھاپ سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں اور اپنے عہد کے مسلمانوں کو سلاطین و ملوک کی چاکری میں مصروف امامانِ وقت سے خبردار رہنے کا درس دیتے ہیں:
فتنۂ ملتِ بیضا ہے امامت اُس کی
جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے
مولانا ابوالکلام آزادؔ ’’الہلال‘‘ اور ’’البلاغ‘‘ کے دور میں جس سیاسی نظریہ سازی میں مصروف تھے اُس کی رُو سے ہندی مسلمانوں کا یہ سب سے بڑا دینی فریضہ تھا کہ وہ مذہب کی بنیاد پر ایک قوم بن جائیں اور فقط ایک امیر کی اطاعت میں سرگرمِ عمل رہیں۔ اس نظریہ کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر انھوں نے اپنے ایک ہم قفس اور ہم نفس مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کو سرگرمِ عمل بھی کر دیا تھا۔ مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی نے اپنی دو کتابوں ……’’آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی‘‘ اور ’’ذکرِ آزاد‘‘ میں بتایا ہے کہ اُس زمانے میں مولانا آزادؔ خود امام الہند بننے میں کوشاں تھے۔ آزاد کی شدید تمنّا اور ملیح آبادی کی انتھک دوڑ دھوپ کے باوجود یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی تھی۔
جب ترکی میں خلافت کو بچانے کے لیے ہندی مسلمانوں نے برطانوی حکومت کے خلاف ایک زبردست عوامی تحریک کا آغاز کیا تو مولانا آزادنے اِس تحریک میں بڑا مؤثر قائدانہ کردار ادا کیا۔ بنگال خلافت کانفرنس کے اجلاس (منعقدہ ۲۸،۲۹فروری ۱۹۲۰ء) کے صدارتی خطبہ میں مولانا آزادؔ نے ترکی خلیفہ کو مسلمانوں کا روحانی پیشوا قرار دیا، اُس کی نافرمانی کو شریعت کے منافی ثابت کیا اور اُس کی حمایت کو مسلمانوں کا دینی فرض ٹھہرایا۔ اِس خطبہ میں انھوں نے ایک مرتبہ پھر مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد از جلد اپنا ایک امام مقرر کریں اور اُس کی قیادت میں نظامِ خلافت کو بچانے کا اسلامی فرض سرانجام دیں۔
اقبالؔ اس نقطۂ نظر کو دینِ اسلام کی حقیقی روح سے متصادم قرار دیتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک مروّجہ نظامِ خلافت ملوکیت کا ایک پردہ ہے اور بس۔ چنانچہ انھوں نے اپنی نظم ’’طلوعِ اسلام‘‘ میں ترکی خلافت کی تنسیخ کا خیرمقدم کیا اور اس خلافت کے اختتام میں حقیقی اسلام کے طلوع کے آثار دیکھے۔ اقبال مسلمان ممالک کو ملوکیت کے جبرواستبداد سے آزاد اور روحانی جمہوریت کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ نہ تو کسی ایک امام کو سند مانتے ہیں اور نہ ہی کسی خلیفہ کی آمریت کے سامنے سرِتسلیم خم کرنے کو دینی فرض شمار کرتے ہیں۔
خلافت اور کانگرس کے اشتراکِ عمل کے زمانے میں مولانا آزادؔ کے جن نظریات میں کایا کلپ ہوئی، اُن میں سرِفہرست اسلام کا سیاسی مقدّر ہے۔ اُن کے ایک سوانح نگار وی۔ این۔ دتہ کے لفظوں میں:
“Before 1920 Azad and defined the collective identity of the Muslim community in terms of Islam. But so far his had been an individual stand. Now with the emergence of Khilafat Movement he received institutional support for his own thinking. The die was cast and there was no turning bloack! It was during the Non-Cooperation Movement that he began to think of Hindus and Muslims froming ‘Ummat-I-Wahida’ (one nation). Thereafter he became a grand agitator and an ardent spokesman of the nationalist cause.” (۱)
کہاں تو ’’الہلال‘‘ میں پوری دُنیائے اسلام کو ایک اُمت اور ترکی کی ’’خلافتِ عظمیٰ‘‘کو اس کا مرکز قرار دیا جا رہا تھا اور ثابت کیا جا رہا تھا کہ قومیت کا ’’خمیرصرف مذہب‘‘ ہے اور کہاں اب مسلمانوں اور ہندوئوں کو ’’اُمتِ واحدہ‘‘ ثابت کرنے کے لیے اسلامی دلائل مہیا کیے جا رہے ہیں۔ مولانا آزاد نے ہندوئوں اور مسلمانوں کی متحدہ قومیت کے حق میں میثاقِ مدینہ کی ایک نئی تعبیر پیش کی ہے۔ اپنے اس نئے استدلال میں وہ موحدین اور مشرکین کی حدِفاصل کو بھی پھلانگ گئے ہیں۔ میثاقِ مدینہ میں سب اہلِ کتاب شامل تھے۔ توحید کا بنیادی تصور میثاقِ مدینہ کی مشترکہ اساس تھا مگر برطانوی ہند کو میں تو ایک خُدا کے ماننے والوں کا بہت سے خدائوں کے پرستاروں سے واسطہ تھا۔ ذات پات اور چھوت چھات کی خدائی تقسیم اس پر مستزاد۔ عقل حیران ہے کہ مولانا آزاد نے متحدہ ہندوستانی قومیت کے سیکولر تصور کو منوانے کے لیے اسلام کو درمیان میں لانا کیوں ضروری سمجھا؟
تحریکِ خلافت سے قیامِ پاکستان تک مولانا آزاد ہندو مسلم اتحاد ہی نہیں بلکہ ہندوئوں اور مسلمانوں کی ’’اُمتِ واحدہ‘‘ یعنی متحدہ ہندوستانی قومیت کے تصور کا پرچار کرتے رہے۔ وہ مسلمانوں کے الگ قومی وجود کو ہندوئوں کے قومی وجود میں جذب کر دینے کے لیے مذہبی دلائل اور شرعی حیلے تراشتے رہے۔ اگر آپ سیدہ سیدین حمید کی کتاب “Islamic Seal on India’s Independence” (آکسفورڈ ۱۹۹۸ء)کی ورق گردانی کریں تو ان تمام دلائل اور حیل کی تفصیلات آپ کے سامنے آ جائیں گی۔ ایسے میں اگر آپ کو اقبال کا درج ذیل شعر یاد آ جائے تو کچھ تعجب نہیں:
قلندر جز دو حرفِ لا الہ، کچھ بھی نہیں رکھتا
فقیہہِ شہر قاروں ہے لغت ہائے حجازی کا
اقبالؔ مرتے دم تک ’اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے‘ اور ’اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبیست‘کا وِرد کرتے رہے۔ اُن کے خیال میں اسلامیانِ ہند کی بقا اور ارتقاء کا راز متحدہ ہندوستانی قومیت کی نفی اور جداگانہ مسلمان قومیت کے اثبات میں پوشیدہ ہے۔ اس کے برعکس مولانا آزادؔ، مہاتماگاندھی، پنڈت نہرو اور سردار پٹیل سے بھی زیادہ راسخ العقیدہ ہندوستانی قوم پرست ثابت ہوئے۔ اپنی کتاب “India Wins Freedom” (پہلی اشاعت ۱۹۵۸ء)میں انکشاف کرتے ہیں کہ جب انھوں نے پہلی مرتبہ پٹیل،نہرو اور گاندھی کی زبانی دو قومی نظریہ کی صداقت کی وکالت سُنی تو اُن کے پائوں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ لکھتے ہیں:
“I was surprised and pained when Patel in reply said that whether we like it or not, there were two nations in India. He was now convinced that Muslims and Hindus could not be united into one nation. There was no alternative except to recognised this fact….After a few days Jawaharlal came to see me again. He began with a long preamble in which he emphaised that we should not indulge in wishful thinking but fact reality. Ultimately he came to the point and asked me to give up my opposition to partition…..But when I met Gandhiji again, I received the greatest shock of my life to find that he had changed. What surprised and shocked me even more was that he began to repeat the arguments which Sardar Patel had already used.”(۲)
گویا جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے اور یوں مولانا آزادؔکی سیاسی تصوریت حقیقی زندگی کے تلخ حقائق کی چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گئی۔ اب انھیں رہ رہ کر وہ زمانے یاد آنے لگے جب اُن کے نزدیک’اُمتِ واحدہ‘ کا مطلب تھا: ملّتِ اسلامیہ اور قوم کا مطلب تھا ’اسلامیانِ ہند‘۔ یہ وہ زمانے تھے جب اقبال اور آزاد میں فکری ہم آہنگی تھی۔ ہر دو اپنی قوم یعنی اسلامیانِ ہند کے مقدر کو سنوارنے کی دُھن میں سرگرمِ عمل تھے۔ اگر آزاد میرِ کارواں یا امام الہند بن کر مسلمان قوم کو صراطِ مستقیم پر لا ڈالنے میں کوشاں تھے تو اقبال ’حدی را تیز تر می زن چوذوق نغمہ کمیابی‘ کے ساز پر نغمہ زن تھے:
میں ظلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہوگی آہ میری، نفس مرا شعلہ بار ہوگا
سفینۂ برگِ گل بنا لے گا قافلہ مورِ ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا کے پار ہوگا
یہ تاریخ کی بہت بڑی ستم ظریفی ہے کہ مولانا آزادؔ جس وفاداری بشرطِ استواری کے ساتھ ہندو مسلم اتحاد کے نصب العین پر قائم رہے وہ مہاتما گاندھی کے سے انسان دوست اور جواہر لال نہرو کے سے روشن خیال ہندوئوں میں بھی مفقود تھی۔ خود مہاتماگاندھی نے بارہا مولانا کی نیّت پر شبہ کیا۔ کیبنٹ مشن کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہندو لیڈروں کا مولانا آزاد پر عدم اعتماد کھل کر سامنے آ گیا تھا۔ وی ۔ این۔ دتہ اپنی کتاب ’’مولانا آزاد‘‘ (ص۱۷۶ اور ۱۷۷) میں لکھتے ہیں:
“Gandhi mistrusted Azad because he had been carrying on negotiations with the Cabinet Mission without the knowledge of his colleagues. Azad was replaced by Nehru as President of the Congress…..A man of moderate disposition, Azad was not influential enough to change the attitude of his colleagues towards the Cabinet Mission Plan…..Azad’s advice to Congress leadership was disregarded and his hopes for the preservation of the unity of India were shattered. The Mountbatten Plan of Partition was accepted by the Congress Working Committee on 2 June, 1947. The atmosphere in the Committee was tense. Abdul Ghaffar Khan voted against the Partition Plan. Azad whispered to him with bitter irony, ‘You should now join the League’. For the rest, sitting in a corner be uttered not a word and was puffing away at his endless cigarettes.” (۳)
سیدہ سیدین نے مولانا آزاد کے ایک دیرینہ رفیق، انصر ہروانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ تقسیمِ ہند کے بعد آزاد ایک ایسے دل شکستہ شخص کی سی زندگی بسر کرنے لگے تھے جسے کسی چیز میں بھی کوئی خاص دلچسپی باقی نہیں رہی تھی(صفحہ ۲۸۲) ۔یہ بات صرف اس حد تک ٹھیک ہے کہ اب انھیں کانگرسی سیاست سے کوئی گہرا لگائو نہ رہا تھا۔ اب اُن کی ساری توجہ بھارتی مسلمانوں پر مرکوز ہو کر رہ گئی تھی۔ یہاں سے اُن کی فکری اور سیاسی زندگی کا تیسرا دور شروع ہوتا ہے۔ ۲۴۔اکتوبر۱۹۲۷ء کا خطبہ گویا اُن کی سیاسی زندگی کے تیسرے اور آخری دور کا منشور ہے۔ نمازِ جمعہ کا یہ خطبہ مسجد دہلی میں دیا گیا تھا۔ یہاں انھوں نے جس ’’قوم‘‘ سے خطاب کیا وہ صرف بھارتی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ سیدین حمید نے عبارت، اشارت اور ادا میں اس خطبہ کو ’’الہلال‘‘ کے زمانے کے خطبات سے مماثل قرار دیا ہے(صفحہ ۲۸۳)۔ میرے خیال میں یہ مماثلت فقط زبان و بیان اور خطابت تک محدود نہیں ہے۔ ’’الہلال‘‘ کے دور میں مولانا کے ہاں ’’قوم‘‘ سے مراد تھی اسلامیانِ ہند۔ تقسیمِ ہند کے بعد مولانا کا یہ پہلا خطاب اپنی قوم یعنی بھارتی مسلمانوں کی اجتماعی ہستی کی بقا اور ارتقاء کے موضوع پر مولانا کے اندیشہ ہائے دور دراز پر مشتمل ہے۔
یہ عہد آفریں خطبہ ’’واسوخت‘‘ سے شروع ہو کر تجدیدِ عہد پر تمام ہوتا ہے۔ اپنے آتش زدہ گھروں کی راکھ سے اٹے ہوئے چہروں پر فسادات کی دہشت کی تحریریں سجائے دِلّی کے مسلمان جوق در جوق مرکزی جامع مسجد میں آ بیٹھے تھے۔تحفظ اور امن کی تلاش میں سرگرداں مسلمانوں کے اس ہجوم سے مولانا نے اپنا خطاب اس ہجوم کی غفلت اور انکار سے شروع کیا۔ مولانا کو سب سے بڑا گلہ اس بات کا تھاکہ اسلامیانِ ہند نے اُن کی سیاسی پیروی سے انکار کر دیا تھا۔ یہ اسی انکار کا نتیجہ ہے کہ:
’’سچ پوچھو تو میں ایک جمود ہوں، یا ایک دور افتادہ صدا جس نے وطن میں رہ کر بھی غریب الوطنی کی زندگی گزاری ہے۔‘‘
مولانا وطن میں رہتے ہوئے اس لیے غریب الوطن ہو کر نہیں رہ گئے کہ خود اُن سے اپنی سیاسی راہِ عمل کے انتخاب میں کوئی غلطی سرزد ہو گئی تھی۔ اُن کے ایک ’’دور افتادہ صدا‘‘ بن کر رہ جانے کا سبب یہ ہے کہ اسلامیانِ ہند نے اُن کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ اسی انکار کا نتیجہ ہے کہ آج اُن کی زندگی ہندو اور سکھ غارت گروں کے رحم و کرم پر موقوف ہو کر رہ گئی ہے۔ اسی طرح کے گِلوں شکووں کو مختصر کرتے کرتے مولانا اس سوال پر آ کر رُک گئے: پس چہ باید کرد… اب کیا کیا جائے ؟
اس سوال کا جواب ’’الہلال‘‘ کے پیغام کی بازگشت ہے۔ اپنے دلوں سے خوف کو نکال دو، اپنے چہروں کو دہشت کی راکھ سے صاف کر دو، سچے مسلمان بن جائو، تاکہ دوبارہ سربلند ہو سکو۔ تم اُن مسلمانوں کی اولاد ہو جو فاتحین بن کر برصغیر میں داخل ہوئے تھے اور جنھوں نے یہاں جمنا کے پانیوں میں آ کر وضو کیا تھا…چالیس برس پہلے ’’الہلال‘‘ اسی پیغام کے ساتھ طلوع ہوا تھا۔
اس تیسرے دورِ عمل میں مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاست ایک زخمی شیر کی زندگی سے عبارت ہے۔ جب بھی کبھی کسی نے بھارتی مسلمانوں کی تہذیبی ہستی کو مجروح کرنے کی کوشش کی تو مولانا آزاد ایک بپھرے ہوئے شیر کی مانند اُس پر جھپٹ پڑے۔ اس کی ایک مثال پارلیمنٹ میں پرشوتم ڈَاس ٹُنڈن کی تقریر میں مولانا کا جدباتی ردِعمل ہے۔ ٹُنڈن صاحب نے وزارتِ تعلیم کی جانب سے شبلی اکیڈمی کی گرانٹ پر اعتراض کیا تھا۔ مولانا آزاد نے اپنی جوابی تقریر میں تنگ نظر اور متعصب ہندوئوں کی ذہنیت کی شدید مذمت کی اور ایوان کو یاد دلایا کہ ہندوئوں کی اس ذہنیت نے قیامِ پاکستان کی راہ ہموار کر دی تھی۔ اپنی آخری تقریر میں مولانا نے جواہر لال نہرو سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اردو کو ایک قومی زبان کا مقام دینے کا آئینی تقاضا پورا کرنے میں مزید تاخیر سے کام نہ لیں۔
مولانا کے تعلیمی اور تہذیبی فکر و عمل سے فرقہ پرست ٹنڈن ہی نہیں قوم پرست گاندھی بھی اختلاف رکھتے تھے۔ مہاتما گاندھی نہیں چاہتے تھے کہ وزارتِ تعلیم کا قلمدان مولانا کے سپرد کیا جائے(دتہ:صفحہ۲۲۴)۔یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی مولانا آزاد نے بھارتی سیاست میں مسلمانوں کی نمائندگی بے مثال جرأت کے ساتھ کی اور اس سلسلے میں بڑی سے بڑی کانگرسی شخصیت کو بھی کبھی خاطر میں نہ لائے۔ لاتے بھی کیوں؟ انھوں نے سامراج دشمن سیاسی کارواں کی قیادت کا بارِ امانت اُس وقت سنبھالا تھا جب مہاتماگاندھی کی سی شخصیات بھی انگریزوں کے لیے فوجی بھرتی کے پروپیگنڈہ میں مصروف تھیں۔ جو شخص ہمیشہ برطانوی سامراج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کلمۂ حق ادا کرتا رہا وہ بھارتی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر چھوٹے بڑے نظریاتی حریفوں کو اگر گھاس کے ایک تنکے سے بھی کم اہمیت دے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟
اپنے اپنے جداگانہ سیاسی فکر و عمل کے باوجود، علامہ اقبال اور مولانا ابوالکلام آزاد، ہر دو عہد آفریں شخصیات ہماری اپنی ہیں۔ دونوں کی جہدِ حیات برصغیر کے مسلمانوں کا سرمایۂ افتخار ہے۔ اگر اقبال نے پورے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک جداگانہ قوم قرار دیا تو آزاد نے ہندوئوں اور مسلمانوں کو ایک متحدہ قوم کی صورت دینے میں ناکام ہو کر بالآخر بھارتی مسلمانوں ہی کو اپنی قوم سمجھا۔ یہاں پہنچ کر دونوں کی سیاسی فکر میں پھر سے وہی گہری مماثلت پیدا ہو گئی تھی جو ’’الہلال‘‘ کے اجراء کے وقت موجود تھی۔
٭٭٭
حواشی
(۱) مولانا آزاد( انگریزی) از وی۔ این۔ دتہ، وین گارڈ بُکس ۱۹۹۰ء، صفحہ ۱۰۷
( ۲) ایضاً ، صفحات ۲۰۲، ۲۰۳، ۲۰۵
(۳) ایضاً ، صفحات ۱۷۶ اور ۱۷۷

About Author

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: