ڈاکٹر برہان احمد فاروقی کے ساتھ ایک مصاحبہ — جلیل عالی

0

1980 کی دہائی میں ممتاز فلسفہ دان اور مفکر استاذی المکرم ڈاکٹر برہان احمد فاروقی صدارتی ایوارڈ وصول کرنے لاہور سے تشریف لائے تو انہوں نے ہمیں شرفِ میزبانی بخشتے ہوئے دو روز ہمارے ہاں کرائے کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں قیام فرمایا۔ میں نے ایک روز سہ پہر کی چائے پر محترم یوسف حسن اور ڈاکٹر نوازش علی کو بھی مدعو کر لیا۔ اس موقع پر ادبی و تہذیبی حوالوں سے ہونے والی تنقیدی و فکری گفتگو کی تفصیل حاضر ہے۔


جلیل عالی؛ ڈاکٹر صاحب ! یوسف حسن اور ڈاکٹر نوازش علی دونوں کا تعلق ادب کے ساتھ ہے۔ تو آپ کی مذہبی تجدید کے افکار اور مذہبی انقلابی افکار کے بارے میں تو باتیں بعد میں ہوں گی۔ پہلے کچھ ادب کے بارے میں۔ میرا خیال ہے کہ تنقید کے بارے میں آپ کے نظریات جان لئے جائیں۔

ڈاکٹر صاحب؛ میرا خیال یہ ہے کہ ہمارے ہاں تنقید کے معیار کی جو نشوو نما ہوئی ہے اس میں جو ہمارے فن پارے ہیںان کے اندر سے معیار اخذ کیا جاتا ہے حالانکہ وہ خود سبجیکٹ ٹو کرٹسزم ہیں۔ اس کا صحیح طریقہ یہ ہو گا کہ تصورِ ادبی یا شعورِ شعری کے اندر جو جمالیاتی آرزو ہے، اس کے حوالے سے معیار متعین کرنا چاہیے۔ تو
ایک تو اس کی شرط یہ ہے کہ بیان یا اظہار کے اندر حسن و جمال ہو
اور دوسری شرط یہ ہے کہ معنی یا خیال کے اندر حسن و جمال ہو۔
لیکن یہ دونوں ملا کر نقص کا معیار بنتی ہیں جمالیاتی کمال کا معیار نہیں بنتیں۔ اس کے لئے ایک تیسری شرط ضروری ہے کہ جو انداز حسن و جمال کا بیان اور خیال کے اندر پیدا کیا گیا ہے وہ کسی عنوان سے کسی دوسری فضیلتِ عالیہ سے متصادم نہ ہو سکے۔ تب جا کے وہ معیار صحیح جو ہے میسر آئے گا۔

جلیل عالی ؛ درست! یعنی انسانیات کے حوالے سے جو معیارِ فضیلت بنتا ہے معیارِ حسن اس سے متصادم نہ ہو۔ یہی آپ کے کہنے کا مقصد ہے۔ تو ایسا معیار جو ہے آپ کے نزدیک ایسا قابلِ اتفاق معیارِ فضیلت جو سارے انسانوں کے لئے ہو۔

ڈاکٹر صاحب ؛ نہیں! ساری دنیا کے لئے۔ وہ جو فضائلِ عالیہ کے اندر جو کمال ہے اسے تسلیم کرنے میں تو کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔ تو اگر شرط یہ قرار دی جائے کہ جو حسن بیان اور خیال میں پیدا ہوا ہے وہ کافی نہیں ہے جب تک اس کے اندر یہ شرط پوری نہ ہو کہ وہ کسی دوسری فضیلتِ عالیہ سے متصادم نہ ہو سکے۔ تب جا کے کمالِ فن کا جو معیار ہے سامنے آئے گا۔ اس کے بغیر نہیں آئے گا۔

جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صاحب یہ تو ایک طرح سے ایک اخلاقی حکم لگایا آپ نے۔

ڈاکٹر صاحب؛ نہیں اخلاقی حکم لگانے کی بات نہیں۔ یہ کوئی اخلاقیات کی کتاب نہیں ہے۔ لیکن یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کمالِ فن کس چیز میں ہے۔ تو بیان اور خیال کے اندر جو حسن پیدا کیا گیا ہے اگر وہ کسی دوسری فضیلتِ عالیہ سے متصادم ہو تب تو وہ نقص متصور ہوگا۔ بجائے اس کے کہ اسے کمال سمجھیں۔ مثال کے طور پر ایک خوبصورت عورت کی تصویر ہے۔ اس میں ایک اپیل ہے جمالیاتی۔ لیکن اگر وہ ننگی ہو تو پھر! تو یہ اخلاق کے خلاف نہیں ہو گا اس جمالیاتی تقاضے کے منافی ہو گی یہ بات۔

جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صاحب در اصل آپ نے یہی کہا نا کہ اگر معیارِ فضیلت کے خلاف کوئی ہیئت یا اسلوب جاتا ہے تو پھر فن پارے کا نقص ہو جائے گا، کمال نہیں رہے گا۔ تو یہ بات تو دراصل یوں سمجھیں کہ تخلیقِ فن میں اخلاقی یا موریلٹی کا جو رول ہے وہ آ گیا۔

ڈاکٹر صاحب ؛ نہیں! موریلٹی کی خاطر یہ بات نہیں کہی جا رہی۔ اس پر آپ غور کریں۔

نوازش علی ؛ یعنی وہ ننگے ہونے سے اس کا بد ہیئت ہونا ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل میں وہ اس طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اخلاقی تو مسئلہ ہی نہیں یہاں پر۔

ڈاکٹر صاحب ؛ یہاں اخلاق مسئلہ نہیں ہے۔

جلیل عالی ؛ لیکن یہ بات پھر تو دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ بعض وہ لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ نہیں بد ہیئتی نہیں ہوتی ننگے ہونے سے۔ بلکہ اس کی پوری ہیئتی جمالیات سامنے آتی ہے۔ تو میں یہی کہہ رہا ہوں کہ تخلیقِ فن میں جو اخلاقی تقاضے ہیں اصل میں اس کو ہم بالکل اس کا لازمی جز بنا کر سمجھنا چاہتے ہیں۔

نوازش علی ؛ ڈاکٹر صاحب یہ نہیں کہہ رہے کہ فن اور اخلاقیات کو آپس میں ملا کر کوئی بات جو ہے پیدا کی جائے بلکہ وہ تو صرف یہ کہہ رہے ہیں جو کچھ سامنے ہے اخلاقی نظر سے اس کو نہیں دیکھیں بلکہ اس کو فنی نقطہِ نظر سے دیکھیں۔

ڈاکٹر صاحب ؛ جمالیاتی نقطہِ نگاہ سے دیکھیں۔

نوازش علی ؛ گویا ڈاکٹر صاحب کا یہاں پر فرق ہو جاتا ہے ان لوگوں سے جو اشیا کو اور نظریات کو اخلاقی نقطہِ نظر سے دیکھتے ہیں اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو چیزوں کو صرف فنی حوالے سے دیکھنے کی کو شش کرتے ہیں۔

جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صاحب! تو پھر اظہارِ فضیلت کا مسئلہ تو سامنے نہ رہا۔ کیونکہ جب آپ فضیلت کہیں گے، تو فضیلت کی کیا کانوٹیشن بنتی ہے ؟ اخلاقی نہیں بنتی؟

ڈاکٹر صاحب ؛ صرف اخلاقی نہیں بنتی نا! وہ یہ ہے کہ فضیلت دو قسم کی ہے۔ ایک وہ جو مقصود بالذات ہو اور ایک وہ جو مقصود بالغیر ہو، ذریعے کی حیثیت سے ہو۔ تو جمالیاتی فضیلت ہو وہ یا عقلی ہو یا وہ اخلاقی ہو اس میں بالذات ایک قابلِ قدر خوبصورتی اور حسن ہے۔ لیکن اگر وہ کسی قدرِ عالیہ سے متصادم ہو جائے تو اس میں نقص پیدا ہو گا۔ وہ نقص جمالیاتی ہو گا اخلاقی نہیں ہو گا وہ۔

Ehsan Danish (احسان دانش) with Dr Burhan Ahmad Farooqi (He… | Flickr

احسان دانش کے ساتھ

جلیل عالی ؛ پیدا وہ قدرِ عالیہ کی وجہ سے ہو رہا ہے ڈاکٹر صاحب!

ڈاکٹر صاحب ؛ ہاں تو قدرِ عالیہ کا تقاضا یہ ہے کہ اس میں پر فیکشن ہو۔ پرفیکشن کی شرط یہ ہے۔

جلیل عالی ؛ اب آئی نا بات کہ پرفیکشن کا مطلب یہ ہے کہ اس میں اخلاقی فضیلت بھی موجود ہو نی چاہیے، جمالیاتی فضیلت بھی موجود ہونی چاہیے۔

ڈاکٹر صاحب ؛ عقلی بھی ہو گی۔ تو اس سے تعداد گھٹ جائے گی فن پاروں کی مگر معیار اس کا بلند ہو جائے گا۔

نوازش علی ؛ لیکن ڈاکٹر صاحب آپ نے شروع میں شبلی اور حالی اور مسعود حسین رضوی ادیب کے حوالے سے بات کی ہے کہ اردو ادب میں یعنی یہ تین بڑے نقاد آپ ان کو مان رہے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب ؛ وہ جو اخذ کرتے ہیں معیار وہ اِنٹیلیکچوئلائزڈ پیسز آف آرٹ سے اخذ کرتے ہیں جمالیاتی تقاضے سے نہیں اخذ کرتے۔ یہ میں کہہ رہا تھا۔

یوسف صاحب ؛ ڈاکٹر صاحب ! بہر حال اس میں ادب دوسری قدروں خاص طور پر سماجی قدروں سے بھی منسلک ہونے کے باوجود اس کا اپنا ایک دائرہ ہے تو کچھ معیار یا قدریں تو ایک جیسی ہوں گی جنہیں ادب کی غیر سماجی قدریں بھی کہہ سکتے ہیں، لیکن معیار تو ہمیں ادب کے مخصوص دائرے کے لیے بنانا ہے نا! تو۔ ۔
ڈاکٹر صاحب ؛ بنانا تو ہے۔ اس کا اثر یہ ہو گا کہ ادب کا والیم تو گھٹ جائے گا لیکن اس کی جو کوالٹی ہے وہ بلند ہو جائے گی۔

یوسف حسن ؛ یہ تو آپ نے بجا فرمایا۔ ظاہر ہے کہ ہم جتنا کامل سے کامل تر معیار چنیں گے یا بنائیں گے اس پر کم ہی لوگ پہنچیں گے۔ یہ ایک الگ بات ہے۔ میں صرف یہ عرض کر رہا ہوں، چونکہ ادب کا ایک مخصوص شعبہ ہے اس کی کچھ عمومی خصوصیات ہیں جو دوسرے شعبوں سے بھی متعلق ہیں کچھ اس کی اپنی ہیں۔ دونوں کو ملا کر ہمیں ادب کا معیار ڈھونڈنا ہے۔
(ڈاکٹر صاحب کچھ کہنے لگے تو یوسف صاٖ حب نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا)
میں ذرا بات کر لوں۔ وہ جو نقادوں نے کہا بلکہ عالی صاحب نے جیساپہلے کی ایک گفتگو میں بھی کہا ہمیں تو شکایت ہی یہ ہے کہ تجریدی معیار بناتے رہنے ہیں اور خود جو ہمارا ادب، اس ملک کا ادب ہے اس کو سامنے رکھ کر اس میں سے معیار اخذ نہیں کرتے۔ آپ کو گلہ یہ ہے کہ وہ اس عملی تخلیقات کو سامنے رکھ کر معیار بناتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب ؛ اب میں ایک مثال دے کے اپنے نقطہِ نظر کو واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ شعر و ادب کا سب سے زیادہ دلکش موضوع جو ہے وہ عشق ہے۔ ٹھیک ہے؟اب آپ اس بات پر غور کریں کہ عشق میں پانچ تقاضے ایسے ہیں جو ہوس کے ساتھ مشترک ہیں۔ اور وہ یہ ہیں کہ
۱۔ اسی شدت سے جواب درکار ہے دونوں میں۔ عشق میں بھی اور ہوس میں بھی۔ کیا خیال ہے؟
۲۔ اور محبوب کے اوپر خالص قبضہ عشق اور ہوس دونوں میں درکار ہے۔
۳۔ اور زیادہ سے زیادہ قربت عشق اور ہوس دونوں میں درکار ہے۔
۴۔ اور محبوب کو خوش کرنے کی کوشش تحفے تحائف کے ذریعے عشق اور ہوس دونوں میں درکار ہے۔
۵۔ اور زیادہ سے زیادہ اِنٹی میسی وہ عشق اور ہوس دونوں میں درکار ہے۔

یہ پانچ تقاضے ایک دوسرے میں مشترک ہیں۔ اور جو مابہ الامتیاز ہے وہ محبوب کا احترام ہے جو ہوس میں حرام ہے۔ تو اگر یہ کنفیوژن آرٹ کے اندر عشق اور ہوس کا برقرار رہے تو وہ پرفیکٹ آرٹ کبھی نہیں ہو گا۔ کیا خیال ہے؟

نوازش علی ؛ اس کے بارے میں فراق کا ایک شعر!
جان دے بیٹھے تھے اک بار ہوس والے بھی
پھر وہی مرحلہِ سود و زیاں ہے کہ جو تھا
اور اس حوالے سے آپ نے جو کچھ فرمایا اس شعر میں کسی حد تک وہ بات آجاتی ہے۔ ہوس والے بھی کہ ایک بار تو ممکن ہے کہ وہ کسی جوش میں یا اپنے آپ کو منوانے کے لیے یا کوئی اپنی طرف اس کا لگائو پیدا کرنے کے لیے ایک بار تو ممکن ہے جان دے بیٹھیں مگر عشق والے بار بار جان دیتے ہیں۔ ہوس والے یہ نہیں کر پاتے۔ ان کے سامنے پھر وہی مرحلے جو ہیں سود و زیاں کے آجاتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب ؛ تو فرق ہوا نا!

نوازش علی ؛ فرق ہے۔

جلیل عالی ؛ اچھا ڈاکٹر صاحب یہ جو آپ نے بات کی ادبِ عالیہ جو ہے اس میں تو میرا خیال ہے یہ جو محبوب ہے یہ تو عشقِ مجازی کی صورت سے بہت اوپر اٹھ کر عشقِ حقیقی تک جاتا ہے۔ اور عشقِ حقیقی کی بہت سی پرتیں ہیں۔ مثلاً یہ پوری کائنات جو ہے اس کے اسرار و رموز آپ کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔ اور تجسس ہے، حیرت ہے اور یہاں تک کہ روحِ کائنات کی دریافت اور اس کے ساتھ ایک وابستگی کا احساس ہے۔ پھر اس کی اور شکلیں ہیں کہ وہ حقوق العباد کی صورت میں کنورٹ ہو جاتا ہے۔ یا اپنی سبلیمیشن کرتا یاجب جنرلائز ہو جاتا ہے تو پھر یہ مشن یا کسی نصب العین کے حوالے سے اپنا اظہار کرتا ہے۔ تو اس میں تو پھر وہ مشترک تقاضوں والی جو بات ہے وہ اتنی زیادہ سمجھ میں نہیں آتی۔ مثلا! کوئی مشن ہے جس کی کوئی جہت ہے انسانی فلاح کی اور ان کے لئے کسی بہتری کی تو اس میں تو ظاہر ہے کہ وہ ہدف جو ہے وہ پیشِ نظر ہے۔ ۔ انسانوں کے ساتھ محبت ہے، درد مندی ہے، اخوت ہے۔ ساری چیزیں اس میں ہیں۔

ڈاکٹر صاحب ؛ تو پھر ہر ویلیو سے سازگاری ضروری ہو جائے گی اور وہ شرط لازم آئے گی۔

جلیل عالی ؛ اچھا ڈاکٹر صاحب وہ سوال جو ان کا تھا کہ جہاں سے بات شرو ع ہوئی تھی۔ کسی بھی ادب کی جو بہترین ایچیومنٹس ہوتی ہیں وہاں سے ہی دیکھا جاتا ہے کہ بھئی ادب اس کا گراف کیا ہر لحاظ سے جیسا کہ آپ نے بتایا تینوں قدروں کے حوالے سے جمالیاتی بھی اسلوبی بھی اور فضیلت کے حوالے سے۔ تو ہمارے جو بہترین فن پارے ہیں جن میں آپ میر، غالب اور اقبال کے حوالے سے کرتے ہیں بات۔ خصوصی طور پر اگر اقبال کے حوالے سے بات کریں۔ اگر اس کے اندر سے معیار ہم اخذ کریں، اس کے تخلیقی فن پاروں سے۔ تو میرا خیال ہے کہ بہت ساری وہ جو آپ نے ایک پر فیکٹ ادب کی جو باتیں کی ہیں اس میں موجود ہیں۔ اچھا ! اور بعض اوقات ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جب آدمی تخلیقی سطح پر اپنی جمالیاتی حس کی بیداری میں کوئی تخلیقی عمل کرتا ہے تو شاید وہ ہارمنی وہ ریشنلی اپنی گفتگو میں نہیں لا سکتا کہ جس طریقے سے سارے عناصر تخلیقی فن پارے میں اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ گویا وہ صرف ذہنی ایفرٹ ہو گی کوئی تخلیقی معیار متعین کرنے کی اس سے کہیں زیادہ اِنٹیگریٹڈ انداز میں تخلیقی عمل میں وہ معیار بروئے کار آچکا ہو گا۔
ڈاکٹر صاحب ؛ تو میں اس کی اک مثال آپ کو، میرا خیال ہے کہ اردو ادب کی جو شاعری ہے وہ ہمارے دورِ زوال کی پیدا وار ہے۔ اور زوال کی اذیت کو بھلانے کے لیے لذت اندوزی، نشاط کاری اور ہوس انگیزی اور معصیت کوشی میں پناہ لی ہے۔ تو غالب کے اس شعر کے اوپر آپ غور کریں۔ کہ
نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں
جس کے شانوں پر تری زلفیں پریشاں ہو گئیں
یہ ایک ایسے محبوب کا تصور ہے جس کی زلفیں ہر ایک کے شانے پر پریشان ہو سکیں۔ تو اب اس کے اندر ہائر ویلیو سے متصادم ہونے کا نقص پیدا ہو گیا۔ لیکن اندازہ اس کا ہوا کہ اگر اس مضمون کو اس خرابی سے نکال کے بیان کرنے میں کوئی شخص کامیاب ہو گیا ہو تو پھر وہ بہتر نمونہ آرٹ کا نظر آئے گا۔
ہائے وہ سبزہِ چمن کہ جسے
سایہِ گل میں نیند آئی ہے
مضمون ایک ہے بالکل اور اس میں وہ خرابی نہیں ہے جو غالب کے شعر میں ہے۔ کیا خیال ہے؟

جلیل عالی ؛ ہاں! یہ ہے کہ غالب کے شعر میں ایک یعنی واضح جیتا جاگتا محبوب آ گیا ہے۔ شخص آ گیا ہے۔ اور وہاں شخص سے زیادہ علامتی انداز ہے۔ تو ڈاکٹر صاحب بات پھر یہ ہوئی کہ کسی بھی ادب کو کسی بڑے نظریہِ حیات کی طرف اشارے کرنے چاہئیں۔ تو اس حوالے سے ہماری جو ترقی پسند تحریک ہے اس نے ادب کو ایک آبجیکٹو دیا۔ ایک نصب العین دیا۔ اس کا رخ صرف لذت کوشی اور وہ جیسا آپ نے کہا فراریت وغیرہ سے ہٹا کر انسانی مسائل جو ہیں اور ایک بہتر معاشرے کی جو تمنا ہے اس طرف کیا۔ اور اس کے لئے انہوں نے بہت ساری کوششیں کیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ ہمارا مذہبی ذہن جو ہے وہ اس تحریک کے ابطال میں زیادہ فعال رہا ہے اور اس کی جو مثبت قدریں ہیں تو ان کے فروغ میں اس نے کم دلچسپی لی ہے۔

ڈاکٹر صاحب ؛ نہیں۔ تو اس لحاظ سے بھی اس کے اندر ایک منفی پہلو ہے کہ وہ جو فن ہے وہ مقصود بالذات نہیں رہا ذریعہ بن گیا۔ تو اس میں نقص پیدا ہو گیا۔ تو ٹھیک ہوا ہے اعتراض اس کے خلاف۔

نوازش علی ؛ نہیں۔ یہ اعتراض توبالکل ٹھیک ہو گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ زندگی کے لئے فن کو کچھ کرنا ہے یا نہیں کرنا ؟

یوسف حسن ؛ یا کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا ؟

ڈاکٹر صاحب ؛ نہیں! نہ صرف یہ کہ کر سکتا ہے بلکہ کرنا چاہیے۔ یہ ضروری ہے۔ لیکن اس کے سلسلے میں پھر اس کے طریقہِ کار کے اندر بھی وہ تمام شرائط مہیا کرنی پڑیں گی جیسے ہم شعر کے کمال کے سلسلے میں اسے ہوس سے ممیز کرنے کے لیے کرتے ہیں۔

جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صاحب آپ کی بات سے ایک تو اس کا مثبت پہلو بڑا سمجھ میں آتا ہے کہ اگر کسی ذہنی مقصد کے حوالے سے ادب تخلیق کیا جائے تو اس میں شاید پوری تخلیقی شرکت نہیں ہوتی۔ اس لحاظ سے تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن میں نے جن معترضین کی بات کی تھی وہ تو ان لوگوں سے زیادہ قابلِ مواخذہ ٹھہرتے ہیں۔ مثلاً ان کا اعتراض یہ نہیں ہے کہ تخلیقی عمل میں کوئی کمی پیدا ہوئی ہے۔ ان کا اعتراض دراصل یہ ہے اس سے ادب کے اندر مقصد داخل کر دیا گیا ہے۔ اچھا یہ کہنے کی بجائے کہ مقصد تخلیقی عمل کا حصہ بن کر آئے۔ یہ سوال تو درست ہے کہ بھئی جو بھی مقصد آپ کی تحریر میں آئے یا اعلیٰ قدریں آئیں یا اعلیٰ فضیلتیں آئیں یا نظریہِ حیات آئے وہ آپ کے تخلیقی عمل کا حصہ بن کر آئے۔ یہ نہ ہو کہ محسوس ہو کہ آپ اسے ذریعہ بنا کر استعمال کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب ؛ جی! تو یہ الجھائو جو ہے، یہ اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم آرٹ فار آرٹ سیک اور آرٹ فار پرپز سیک کے نقطہِ نگاہ کو سمجھنے کی کوشش کریں تو دونوں میں ایک فرق ہو گا۔ تو اگر وہ۔ یہ تو ٹھیک ہے بات کہ ایستھیٹک تقاضا جو ہے اس کا پوراہونا مقصود بالذات بن گیا ہے۔ آرٹ فار آرٹ سیک نہیں۔ لیکن اب ویلیوز آف لائف میں آرٹ کی حیثیت ہائیسٹ ویلیو کی نہیں رہی۔ اسے نہ بھولیے۔ اگر ہائیسٹ ویلیو کی ہو جائے تو پھر ایک فساد پیدا ہو گیا اس میں۔ اس لیے کہ اس میں دوسری ویلیوز کے ساتھ ہم آہنگی جو ہے اس سے صرفِ نظر ہو گیا۔

جلیل عالی ؛ تو ہم آہنگی والی بات ہی ہوئی نا! اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ آرٹ فار آرٹ سیک کو تو پسند نہیں کرتے۔

ڈاکٹر صاحب؛ نہیں! ناپسند نہیں کرتے۔ لیکن آرٹ فار آرٹ سیک کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آرٹ از دا ہائیسٹ ویلیو۔ یہ نہیں! یہ نہیں حق پہنچتا۔

یوسف حسن ؛ یہ جنہوں نے یہ نظریہ پیش کیا تھا ان کا خیال تو یہی تھا۔

ڈاکٹر صاحب ؛ تو وہ غلط ہے۔ اس لیے کہ پھر وہ ہائر ویلیوز سے متصادم ہوتا ہے۔

یوسف حسن ؛ آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ترقی پسند ادب میں ایک خامی تھی کہ۔ ۔

ڈاکٹر صاحب ؛ کہ وہ ذریعہ بن گیا۔

یوسف حسن ؛ وہ ذریعہ بن گیا، مقصود بالذات نہیں رہا۔ ان دونوں باتوں کو کیسے جوڑا جائے؟

ڈاکٹر صاحب ؛ جی نہیں! ایک تو ہے مقصود بالذات ہونا ایز دا ہائیسٹ ویلیو اور ایک مقصود بالذات ہونا ایز اے ویلیو ہے۔ تو ان میں فرق ہے۔ وہ پیشِ نظر رکھنا پڑے گا۔

یوسف حسن ؛ کیونکہ جب کوئی موضوع پیش کیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ ادب کسی موضوع کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ تو اس موضوع پر لکھنے والے کی پسند نا پسند بھی ہو گی۔ اور اس کے تاثرات اوراحساسات اس میں شامل ہوں گے۔ وہ جب شامل ہوں گے تو اخلاقی پہلو بھی سامنے آئے گا دوسری قدروں کا بھی۔ تو اس لحاظ سے وہ چاہے یا نہ چاہے فن پارہ کوئی مقصد ضرور سجھائے گا۔ کسی نہ کسی سمت کا حامل ضرور ہو گا۔ تو اس لحاظ سے مقصود بالذات چاہے صرف ویلیو کے طور پر بھی کوئی فن پارہ محض مقصود بالذات نہیں ہو سکتا۔

جلیل عالی ؛ آئیڈلی سپیکنگ کوئی فن پار ہ محض مقصود بالذات نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یا تو وہ لذت دے گا تب بھی وہ لذت بھی مقصد ہو جائے گا۔ یا کوئی اور، بہر حال کچھ نہ کچھ تو اس سے لیتا ہے نا آدمی۔

ڈاکٹر صاحب ؛ دیکھیے نا وہ جو استھیٹک انجوائے منٹ ہے اسے آپ لذت نہ کہیے۔ لذت کے اندر ایک( ؟ ) موٹِو داخل ہے۔ تو یوں تو وہ انڈر ریٹ ہو جائے گا اگر یہ کہیں گے۔ تو اب یہ دیکھنا درکار ہے کہ پرفیکشن آف آرٹ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مقصود بالذات ہو اور کسی اور ویلیو سے متصادم نہ ہو۔ ایٹ لِیسٹ نیگیٹِو ہارمنی جو ہے وہ درکار ہے کہ ہو، تب جا کر پرفیکشن آف آرٹ میسر آئے گا ورنہ نہیں آنے کا۔

نوازش علی ؛ اس کے لیے ڈاکٹر صاحب کچھ مثالیں ہمارے سامنے ہوتیں نا تو زیادہ بہتر بات ہوتی۔

ڈاکٹر صاحب ؛ ہاں ٹھیک ہے۔ مثالیں۔ مثالیں جو ہیں وہ اگر عشق کو آرٹ کا، شعر کا موضوع سمجھ کر بات کریں تو پھر کمپیریزن ہو سکتا ہے۔ مثلاً غالب کہتا ہے
آ ہی جاتا وہ راہ پر غالب
کوئی دن اور بھی جیے ہوتے
اور میر کہتے ہیں
اُس کے ایفائے عہد تک نہ جیے
عمر نے ہم سے بے وفائی کی
تو اب ان دونوں کو کمپیئر کریں۔ ان میں کون سا زیادہ اپیلنگ معلوم ہوتا ہے؟

یوسف حسن ؛ میر کا شعر زیادہ بہتر ہے۔ اس میں راہ پر آنے کا جو محاورہ ہی ہے۔ ۔
جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صاحب نے بہت اچھی بات کی۔ اب اس سے کچھ یعنی اچھے ادب اور کم معیاری ادب کا فرق واضح ہوتا ہے۔ اچھا۔ لیکن جب ہم کسی فن کارکو، شاعر کو بحیثیت مجموعی دیکھیں کہ وہ ادب کی اعلیٰ تعریف کے مطابق ہے یا نہیں ہے تو ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ اس کی جو زیادہ بہترین فنی کاوشیں ہیں وہ کیا کہہ رہی ہیں۔ یا زیادہ تر اس کا رجحان کس طرف ہے۔ اچھا۔ تو اس میں تو یعنی دونوں طرح کی باتیں ہیں جیسے آپ نے تو غالب کا موازنہ میر کے ساتھ کیا ہے۔ غالب کا موازنہ غالب کے ہی اچھے شعروں کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ وہ اس کے شعر بھی ہیں جہاں وہ اتنی پست سطح پر نہیں آئے گا۔ صرف جسمانی سطح تک نہیں رہے گا۔ تو گویا ایک ہی فنکار جو ہے وہ بعض اوقات ارتفاعی درجے کی بات بھی کرتا ہے۔

یوسف حسن ؛ میر کے ہاں بھی اس طرح۔ ۔

جلیل عالی ؛ میر کے اپنے ہاں چوما چاٹی کے بہت سے اشعار موجود ہیں۔ وہ تو اس ٹوٹیلٹی میں، کلیت میں دیکھا جائے گا کوئی بھی فنکار۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم اس نقطہ، نظر سے اردو ادب کو دیکھیں کہ وہاں یہ جو بہترین معیار ہیں کہاں کہاں اچیو ہوئے ہیں۔ اس کی مثالیں بھی بہت ملتی ہیں۔ اچھا۔ ان کو پیشِ نظر رکھ کر نظریہ سازی کرنی چاہیے ادب کے بارے میں۔ یہی نتیجہ نکلتا ہے نا! اسی لیے میں نے شروع میں کہا تھا کہ برتر نظریہِ حیات کے حوالے سے شاعری کرنے والے لوگوں میں اقبال ایک بہت نمایاں نام ہمارے ہاں آتا ہے تو اس کی تخلیقات سے جو معیار اخذ کیے جا سکتے ہیں ہم نے ابھی تک وہ بھی نہیں کیے۔

ڈاکٹر صاحب ؛ تو اس کے ہاں یہ شرط پوری نہیں ہوتی کہ وہ کسی ہائر ویلیو سے متصادم نہ ہو۔ مثال کے طور پرجب خودی کے لیے اقبال کہتے ہیں۔
فرشتہ صید و پیمبر شکار، یزداں گیر
تو کیا پوزیشن ہو گئی؟

جلیل عالی ؛ نہیں۔ ڈاکٹر صاحب وہ ہمیں سورٹنگ تو کرنی پڑے گی نا ہر جگہ۔ میرا کہنے کا مطلب یہ تھا کہ پہلے ہم نے کہا کہ جب ہم معیار اخذ کرتے ہیں تو ہمیں اپنے تخلیقی عمل کی وہ سطحیں لینی ہیں جہاں کم از کم نیگیٹِو بات ہوئی ہوئی ہو۔ تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ان تخلیقی فنکاروں کے ہاں ایسے نمونے کوئی معتدبہ تعداد تک نہیں ملتے۔

ڈاکٹر صاحب؛ نہیں۔ وہ ہم نے اس پر غور ہی نہیں کیا۔ ملیں گے کہاں سے۔ کوشش کریں تو بر آمد ہوں۔

نوازش علی ؛ ڈاکٹر صاحب اس سلسلے میں میں ایک مثال سے گزارش کروں گا کہ ہمارے ذہن کو آپ واضح کریں۔ مثال کے طور ہر میں نے بعض صوفیا کو فیض کی شاعری، غزل پرخصوصی طور پر بہت زیادہ سر دھنتے دیکھا ہے اور اُدھر ترقی پسندوں کو بھی ایسے ہی جہاں کہ مقصد ہی مقصد زیادہ سامنے رکھا گیا ہے۔ جب کہ صوفیا کے ہاں خالص جمال ہی کو زیادہ سامنے رکھا گیا ہے۔ تو اس مسئلے میں آپ کیا کہنا پسند کریں گے کہ کیا فیض کی شاعری میں آرٹ فار آرٹ سیک کا پرتَو زیادہ تھا، جس کی وجہ سے صوفیا بھی اسی طریقے سے سر دھنتے ہیں؟

ڈاکٹر صاحب ؛ نہیں، بلکہ صوفیا کے ذوق کی کمی ہے۔ کیونکہ اب یہ کلام اس کا فیض کا جو ہے کہ
چلے بھی آئو کہ گلشن کا کار و بار چلے
تو وہ کارو بار ہو گیا۔ یہ بات کیا ہوئی۔ یہ تو بہت ناقص ہے بیان اور خیال بھی۔

نوازش علی ؛ حالانکہ وہ لوگ جو صوفیا ہیں وہ زور ہی جمالیات پر دیتے ہیں۔ وہاں پر مقصد یا نظریہ، ایسی چیزیں تو قابلِ اعتنا ہی نہیں سمجھی جاتیں۔

جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صا حب یہ کچھ نقاد مسعود حسین رضوی کے بعد بھی خاصے نقاد ہیں جنہوں نے اس مسئلے کو چھیڑنے کی بھی کوشش کی بلکہ نہ حالی نے اس مسئلے کو چھیڑنے کی کوشش کی نہ مسعود حسین رضوی نے اور تیسرا نام۔

ڈاکٹر صاحب؛ شبلی نے بھی نہیں کی۔

جلیل عالی ؛ اور شبلی نے بھی نہیں کی۔ اور محمد حسن عسکری وغیرہ، انہوں نے اس مسئلے کو چھیڑنے کی کوشش کی کہ ادب نظریہِ صداقت جو ہے اس کے حوالے سے تخلیق پاتا ہے۔

یوسف حسن ؛ تصورِ حقیقت۔

جلیل عالی ؛ تصورِ حقیقت جتنا زیادہ جامع ہو گا اتنا ہی ادب جو ہے وہ اپنے۔ ۔

ڈاکٹر صاحب ؛ ہمہ گیر ہو گا۔

جلیل عالی ؛ ہمہ گیر ہو گا۔

ڈاکٹر صاحب ؛ اور اتنا ہی پرفیکشن کے قریب ہو گا۔

جلیل عالی ؛ اب ایسا کرتے وقت انہوں نے جس ادب کو پروموٹ کیا وہ ادب ایبسٹریکشن میں زیادہ چلا جاتا ہے۔ اور زندگی کی جو کنکریٹ سِچویشنز ہیں اور اس میں خیر و شر کا جو کنکریٹ حوالہ ہے اس سے وہ صرفِ نظر کر جاتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب ؛ تو اس سے یوں کریں کہ مسلم رومینٹک کونشیس نیس جو ہے اس کی طرف ریفرینس مختلف قسم کی تہذیبوں اورادبوں کے اندر موجود ہے۔ تو ہمارے یہاں کے اپنے حوالے سے لیلیٰ مجنوں کا جو تعلق ہے اس پر غور کریں۔ تو اس میں ہرگز ہوس نہیں آنے کی درمیان میں۔ اس میں احترام محبوب کا ڈومینیٹ کرے گا۔ تو پھر جا کر اسی اعتبار سے اسے دیکھنا لازم آئے گا۔

جلیل عالی ؛ اچھا۔ ڈاکٹر صاحب اصل میں بات یہ ہے کہ ادب کے اب جو تصورات ہیں جیسے ہم نظریہ حقیقت اور نظریہِ صداقت کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔ اس میں در اصل انسانی جو معاملات ہیں اس میں انسانی رشتوں میں جو رویہ انسان کا بنتا ہے اس کو ڈِٹرمن کرنے کی بات ہے کہ انسان کا رشتہ دوسرے انسانوں کے بارے میں احترام کا اور ہمدردی کا اور ایثار کا بنتا ہے اور احترام کا جو آپ نے کہا اس کی پہلی شرط ہے کہ بنتا ہے احترامِ انسانیت کا یا نہیں۔ اب اصل میں اگر تو کوئی شخص یہ کرتا ہے کہ نظریہِ صداقت کی ہمہ گیریت سے قطع نظر کر کے محض کسی تنگ دائرے میں کسی تضاد کو ابھار رہا ہے، وہ تو قابلِ اعتراض ہو سکتی ہے بات لیکن اگر انسان کے بارے ایک ہمہ گیر نقطہِ نظر بھی موجود ہو کسی شاعر کی تخلیقی واردات کے ہاں اور اس کے بعد اس کے جو تقاضے سماجی حوالوں سے بنتے ہیں، سیاسی حوالوں سے بنتے ہیں، تہذیبی حوالوں سے بنتے ہیں، وہ بھی آرہے ہوں۔

ڈاکٹر صاحب ؛ تو ہمہ گیر اور جزوی تضاد۔ ٹیکنیک آف ریوولوشن کے اعتبار سے اس پر غور کریں تو اشتراکی تحریک نے جو طبقاتی کشمکش ہے اس کے انٹینسیفائی کرنے سے وہ انقلاب لانا چاہتے ہیں۔ وہ پوری زندگی نہیں ہے طبقاتی کشمکش۔

یوسف حسن ؛ جی

ڈاکٹر صاحب ؛ اور قرآن کا جو نقطہِ نگاہ ہے وہ ہے آں صل اللہ و سلم کی تصدیق اور تکذیب کا جو تضاد ہے وہ ٹیکنیک کا ایک سٹیپ ہے۔ تواس طرح اگر کمپیئر کر کے دیکھیں تو تو پھر وہ پوانئنٹ آف ویلیو نمایاں ہو گا جو میں کہنا چاہتا ہوں۔

نوازش علی ؛ ڈاکٹر صاحب آپ کی بات سے مجھے ایک اندازہ یہ ہوا کہ احترام کے حوالے سے، تو پھر غالب کے مقابلے میں میر بڑا بلکہ کہیں بڑا شاعر ہے۔ جیسا کہ
دور بیٹھا غبارِ میر اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا

یوسف حسن ؛ نہیں۔ دوسرے شعر بھی تو موجود ہیں۔ یہ تو نہیں نا میر کے اس حوالے سے احترام کے چن لیں اور غالب کے اس حوالے سے ہوس کے چن لیں۔

جلیل عالی ؛ جب ہم نے صداقت کی بات کی نا۔ نظریہِ صداقت کی بات۔ تو کیا حقیقت کی تلاش بھی اس کے اندر موجود ہوتی ہے تخلیقی واردات کے اندر کلیت کے طور پر ؟

ڈاکٹر صاحب ؛ ہوتی ہے۔

جلیل عالی ؛ اور بلکہ آج کا جو ادب ہے وہ زیادہ کلیم ہی یہ کرتا ہے کہ میں دراصل اپنی شخصیت کی کلیت کے حوالے سے صداقت کو سمجھنا چاہتا ہوں اپنے تخلیقی فن پارے میں۔ وہ یہ کہتا ہے۔ اور اس کے بعد جس جس درجے پر اس کی اپنی شخصیت آتی ہے۔ دوسروں کی شخصیات آتی ہیں اور جس درجے پر سیاست آتی ہے اور جس درجے پر اور چیزیں آتی ہیں، تاریخ آتی ہے، تہذیب آتی ہے اس کے ساتھ اتنا اعتنا اس کے تخلیقی تجربے میں نہیں پایا جاتا ہے۔ تو بنیادی کلیم وہ یہ کرتے ہیں کہ دراصل اپنے وجدان کے حوالے سے ہم کائنات کو ایک ٹوٹیلیٹی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اچھا۔ اب اس ہارمنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے آپ کا ایک سماجی رویہ بھی بنے گا اور ایک تہذیبی رویہ بھی بنے گا۔ اب میں نے یہ عرض کیا تھا ابھی کہ اگر وہ ہمہ گیریت اس کی مجروح نہ ہو لیکن اس کی سیاسی اور اس کی سماجی سطح پر جو رویہ ضروری سمجھا جاتا ہے اس کی ہمہ گیریت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے والا رویہ۔ تو اس کا جہاں جہاں پرچار ملتا ہے، میں پھر محمد حسن عسکری کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اس کو نگیٹ کرتے ہیں۔ مثلاً اگر ہمیں ترقی پسند تحریک یہ کہتی ہے کہ ایک تخلیق کار جو ہے وہ ایک سماجی فرد بھی ہے اور اس پر سماج کی ذمہ داری ہے دوسرے انسانوں کی ذمہ داری اس کے اوپر ہے۔ تو یہ جو برتر نظریہِ حیات ہے جسے ہم اسلام کے حوالے سے دیکھتے ہیں اس کی بھی یہ بنیادی شرط ہے کہ دوسرے انسانوں کی آپ پر ذمہ داری ہے، اب اس کو سمجھنے اور پرکھنے اور اس میں اپنی سمجھ بوجھ کی حد تک شرکت کرنے یا شرکت کرنے والے رویوں کا اظہار کرنے کا فرض عاید ہوتا ہے اور میں یہ نہیں کہہ رہا کہ کسی مصنوعی انداز میں۔

ڈاکٹر صاحب ؛ نہیں نہیں۔

جلیل عالی؛ یہ پورے تخلیقی پراسس میں آئے گا۔ تو جب اظہار اس کا ملتا ہے اور جو در اصل دوسرے ادب پڑھنے والے انسانوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ تو وہ اس کو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو تنگ دائرے کی بات ہے۔ اور یہ تو مقصد کے تابع ہو گیا ہے۔ یہ تو ہم طے کر چکے ہیں کہ بڑے مقاصد جو ہیں وہ تو ادب میں آئیں۔ انہیں اس طرح نہیں آنا چاہیے کہ جیسے ذریعے بنایا گیا ہے، بلکہ آپ کی تخلیقی۔ ۔

یوسف حسن ؛ مکینیکل نہیں ہونا چاہیے۔

جلیل عالی ؛ مکینیکل نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ تخلیقی واردات کا نیچرل حصہ اس میں ہونا چاہیے۔ اچھا۔ تو اگر ہم صرف ایبسٹریکٹ بات کرتے رہیں اور ایک ایٹیچیوڈ خارج میں معروض اور ٹھوس سطح میں جو بد ہیئتیاں موجود ہیں ان کے بارے میں ایک ردِ عمل پیدا نہ کریں تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ تر جو فضیلت ہے اس سے ہم آہنگ ادب ہو سکتا ہے؟

ڈاکٹر صاحب ؛ ہاں ! بمیں اس کو کرتے ہوئے پھرغالب اور میر کے شعر کا کمپیریزن ایک تھا میرے سامنے وہ میرے ذہن سے غالب کا شعر اتر گیا میر کا رہ گیا۔ میر کہتے ہیں
خاک سے آدم کر دکھلایا یہ منت کیا تھوڑی ہے
اب سر خاک بھی ہو جاوے تو کیا سر سے احسان گیا
اور اس مضمون کا غالب کا ایک شعر ہے وہ یاد نہیں آ رہا۔ تو کمپیریزن اس وقت ہوتا جب وہ یاد ہوتا۔ اس وقت نکل گیا ذہن سے وہ۔ تو اسے اینڈ ان اِٹ سیلف سمجھ کے اس ایٹیچیوڈ کو جو گفتگو ہو گی اس سے زیادہ صحیح جمالیاتی ذوق متعین ہو گا، بجائے اس کے کہ اسے ذریعہ بنا لیا جائے۔

جلیل عالی ؛ اچھا۔ ڈاکٹر صاحب ایک جو تاریخی عمل ہے اس کے حوالے سے بھی ادب میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ تو اگر یہ کہا جائے کہ ایک دور تھا میٹافیزیکل ایٹیچیوڈ کا زیادہ۔ اس کے بعد تہذیبی اور تاریخی شعور کا دور آتا ہے۔ ٹھیک ہے نا! اگر یہ کہا جائے کہ میر کے یہاں تو مابعد الطبیعیاتی شعور کا اظہار زیادہ ہوا ہے اور غالب کے یہاں اس بات کی کوشش ملتی ہے کہ تاریخی شعور اور تہذیبی شعور کے حوالے سے بات زیادہ آئے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر کہیں وہ اتنا کمپری ہینسِو نہیں ہے، جامع نہیں ہے۔ لیکن اگر اس کو تاریخی ارتقا کا اگلا مرحلہ سمجھا جائے تو پھر اس پہلے کی بندھی ٹِکی میٹافزکس کا جو نظام تھا اس سے نکالنے والا ایک ادب ہوا غالب کا۔

ڈاکٹر صاحب ؛ تو یہ جو ارتقا ہو رہا ہے واقع تاریخ میں، یہ تو ٹرائل اینڈ ایرر سے ہو رہا ہے۔ اور وہ معیار نہیں بن سکتا، ٹرائل اور ایرر کا جو میتھڈ ہے۔ یہ دشواری اس میں پیدا ہو گی۔

جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صاحب یہ بات تو میں مانتا ہوں کہ اگر تو میٹافیزیکل سطح کی نفی کے ساتھ تہذیبی شعور کی بات کی جائے تو وہ غالباً یہ ہو گا کہ بات کو مزید ادھورا کر دیا گیا ہے۔ لیکن اگر میٹافزکس کی سلامتی کے ساتھ جو تہذیبی اور تاریخی شعور درکار ہے کنکریٹ سِچوایشن میں وہ سامنے آئے تو وہ تو ایک اور لیئر کا اضافہ ہو گا۔

ڈاکٹر صاحب ؛ تو اس سلسلے میں یہ بات قابلِ غور ہے کے تاریخ کا جو پروپر تصور ہے وہ وہ تو ہمارے ہاں بھی نہیں رہا، دوسروں کے ہاں کہاں سے آئے گا!مثال کے طور پر
ایک تو تصور تاریخ کا یہ ہے کہ وہ واقعاتِ ماسبق کا بیان ہے۔
اور ایک نظریہ تاریخ کا یہ ہے کہ تاریخ قوموں اور تہذیبوں کے عروج و زوال کی توجیہ کا علم ہے۔
اور ایک نظریہ یہ ہے کہ تاریخی حرکت جو ہے وہ انسانیت کو اس کے زوال کی طرف لے جا رہی ہے۔ یہ مسیحی علم الکلام کے اوریجنل سِن کے تصور سے پیدا ہوتا ہے۔
اور ایک نظریہ مکینیکل ویلیو آف یونیورس سے ہے کہ جب کائنات کے اندر کوئی پرپز ہی نہیں ہے تو تاریخی حرکت کے اندر بھی کوئی پرپز نہیں ہے۔ نہ عروج ہے نہ زوال ہے۔
اور ایک نظریہ یہ ہے کہ تاریخی حرکت جو ہے وہ عروج کی طرف لے جارہی ہے انسان کو۔
اور اس کے اندر پھر دو نظریے ہیں۔
ایک یہ کہ وہ جو موومنٹ ہے وہ لینیئر ہے، سٹریٹ لائن میں۔
اور ایک یہ کہ وہ نان لِینیئر ہے۔
اور اس کے علاوہ دو نظریے اور ہیں تاریخ کے۔
ایک یہ کہ تصورات کے تصادم سے، ان کے کونفلکٹ اور تضاد سے موومنٹ آف ہسٹری جو ہے آگے چلتی ہے۔
ایک یہ کہ طبقاتی کشمکش کے تضاد سے تبدیلی آتی ہے اور ارتقا واقع ہوتا ہے۔
لیکن ان کے علاوہ ایک اور تصور بھی ہے جسے ہم نے بالکل نظر انداز کر دیا۔
اور وہ ہے سورہ ہُود کے آخری رکوع کے حوالے سے ایک آیت ہے کہ اللہ پاک فرماتا ہے آں صل اللہ وسلم کو مخاطب کر کے کہ
’’ہم آپ کو انبیائے سابقین کی خبریں اور قصے اس لئے بیان کرتے ہیں کہ آپؐ کا قلبِ مبارک اس سے تسکین پذیر ہو۔‘‘
توکسی پیغمبر کے قصے سے دل کو تسکین نہیں ہو سکتی جب تک یہ نتیجہ برآمد نہ ہو کہ غلبہ اصحابِ حق ہی کو حاصل ہو گا۔ اور یہ نتیجہ اس وقت تک نہیں نکالا جا سکتا جب تک کسی اِنفیئر ایبل، ان چینج ایبل، اِمّیوٹ ایبل َقانون سے تاریخی نتائج گورن نہ ہو رہے ہوں۔ اسے ہم نے بالکل نظرانداز کیا ہوا ہے، اس لئے اس پہلو کو ہم نے نہیں آنے دیا اپنے ہاں۔

جلیل عالی ؛ وہ کون سا ڈاکٹر صاحب۔ اس میں ایک تو خیر ضمنی سا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بہت سے پیغمبر تو ایسے تھے جو اپنے دور میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اور اس کے بعد مزید پیغمبر آئے اور ساری عمر انہوں نے گزار دی لیکن کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئے۔ اب اگر آپ اس کا جواب یہ دیں کہ۔ میں آپ سے پہلے بھی باتیں کرتا رہتا ہوں اس لئے آپ کہیں گے کہ وہ ایک نیکی کا جذبہ پلانٹ کر جاتے ہیں اور ر یزسٹینس جو ہے اس کا ایک سَٹف بنا جاتے ہیں ہسٹری میں۔ اور وہ موجود رہتا ہے۔ اگر ریزسٹینس ختم ہو جائے تو سمجھیں کہ ناکام ہیں، اگر ریزسٹینس ختم نہیں ہوتی تووہ کامیاب ہیں۔ اچھا۔ تواب کامیابی کا معیار آپ نے ڈاکٹر صاحب بدل دیا۔ کامیابی جس طریقے سے رسولِ اکرمؐ کی زندگی کے حوالے سے سامنے آتی ہے، دکھائی دیتی ہے نتیجہ خیزی، ہم تو اس کو کامیابی سمجھتے ہیں۔ کہ سماج میں۔ ۔

ڈاکٹر صاحب ؛ نہیں۔ تو جس قانون سے وہ کامیابی گورن ہو رہی ہے اگر وہ ہمارے ہیشِ نظر رہے تو پھر یہ الجھائو ختم ہو جائے فکر کا۔ اور وہ یہ ہے کہ ایک تو ہے کائناتی قانونِ نشو و نما جسے قرآن فارمولیٹ کر کے بیان کرتا ہے ایک آیت کے اندر
جَعَلنا لِکُلِ نبیِِ عَدُوًًمِنَ المُجرِمِین ط  (ہم نے ہر پیغمبرکے لئے مجرموں میں سے ایک دشمن پیدا کر دیا)
جو پیغمبرانہ دعوت کی مزاحمت کرے گا اور مزاحمت کی مزاحمت سے دعوت کامیاب ہو گی۔ اور اسی سے ایک تاریخی قانون مدون ہو گا، متعین ہو گاکہ دو گروپ پیدا ہوں گے۔ حذب اللہ اور حذب الشیطان۔ اور ان کی کشمکش جو ہے وہ جاری رہے گی۔ اور پھر ایک تیسرا قانون ہے جس میں اس کی گارنٹی ہو گی کہ اصحابِ حق ہی کامیاب ہوں اور اصحابِ باطل کامیاب نہ ہو سکیں۔ قرآن اس کو بھی فارمولیٹ کرتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ
’’جس کا نفس حرص و لالچ سے پاک ہو گیا وہ فلاح پا گیا‘‘
تو وہ فلاح اس لیے پا جائے گا کہ وہ دوسروں کو نشو و نما دینے میں بُخل نہیں کرے گا۔ اور جس کا دل حرص و لالچ میں مبتلا رہا جس کا نفس، وہ تباہ ہو گیا۔ کیونکہ وہ ویسٹڈ مفاد کی وجہ سے نفع بخشی، فیض رسانی اور نشو و نما دینے کو روکے گا۔ تو بات پھر اُدھر آگئی۔

جلیل عالی ؛ ڈاکٹر صاحب اس طرح تو یہ (؟) ہوگی کہ ایک ہے تاریخ جو چل رہی ہے۔ ایک ہے وہ تاریخ جو بنائی جاسکتی ہے آپ نے جو بات کی وہ دراصل انقلابی نظریات کی بات کی کہ اس طرح تاریخ کو موڑ دیا جاسکتا ہے۔ اچھا۔ جنہیں ہم تاریخ کے سائنسی قوانین کہتے ہیں وہ تو وہ ہیں جو ڈومینیٹ کر رہے ہیں، تاریخ کو چلا رہے ہیں۔ اب جب کچھ نظریاتی لوگ تاریخ کا رخ موڑنا چاہتے ہیں تو وہ یہ کریں گے کہ تاریخ کے ان قوانین سے جو آل ریڈی کارفرما ہیں، ان کی کوئی وہ جہت تلاش کریں گے جہاں سے اسے کوئی نیا رخ دیا جا سکتا ہے۔ اور وہ آپ نے پیغمبرانہ بصیرت کی بات کی کہ وہ اس کو نیا رخ دے سکتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20