جنسی بے راہروی کا نیا کردار: کراسی Crossy — شوکت علی مظفر

0

سوشل میڈیا نے جہاں دور پاس کے احباب کو یکجا کردیا وہیں گناہوں کے نئے راستے بھی نکال لیے۔ اس سے پہلے طوائف، سوسائٹی گرل، کال گرل، گرل فرینڈ، ہیجڑا، کُھسرا، شی میل، ہم جنس پرست وغیرہ جیسے مختلف ناموں سے تو واقف تھا کہ شکر خوروں کو اپنی مطلب کی شکر دستیاب ہوجاتی ہے۔ گذشتہ دنوں فیس بُک پر ایک خاتون کے نام سے فرینڈ ریکوئسٹ آئی۔ میری عادت ہے کہ جس کی شناخت مکمل نہ ہو اُسے کچھ دن کیلئے چھوڑ دیا کرتا ہوں اور پھر اس دوران اکثر لڑکیوں کی آئی ڈی مردانہ ناموں میں تبدیل ہوجاتی ہے یا پھر مردانہ آئی ڈی کسی دوشیزہ کا روپ دھار لیتی ہے۔ دھوکے کی اسی دنیا میں وہ آئی ڈی مس جی کے نام سے نمودار ہوئی، کچھ نیم برہنہ تصاویر لیکن شناخت نامکمل اس لیے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا اور دن گزرتے گئے، چند دن بعد دیکھا تو مس جی سے وہ ”مس کراسی Crossy” میں تبدیل ہوگئی۔ تجسس ہوا کہ یہ کراسی کیا بلا ہے؟ گوگل سرچ کیا تو وہاں کچھ دستیاب نہ ہوا، چونکہ فیس بُک کی اصطلاح محسوس ہوئی تو یہیں سرچ کیا تو حیرت اور نئے گناہ کا جہاں نظر آیا۔ یہ ایسے لوگوں کی دنیا تھی جو نہ شی میل تھے، نہ خواتین لیکن مردانہ اوصاف اور بدفعلی کی عاداتِ بد نے انہیں زنانہ انداز اپنانے پر مجبور کردیا تھا۔ یہ فیس بُک پر اسٹیٹس لگاتے ہیں: ”فلاں رات کو، فلاں وقت پر میں ڈریس چینج کرکے لائیو آئوں گی۔” یا پھر ان کے اس طرح کی پوسٹ بھی دکھائی دیں کہ ”میرے پا س جگہ ہے، دو سے تین فرینڈ کو انوائنٹ کرنا چاہوں گی، لیکن وہ ٹاپ ہوں۔” اب یہ ٹاپ سے کیا مُراد تھی یہ بھی تھوڑی سی ریسرچ کے بعد واضح ہوگیا کہ فاعل کو یہاں Top اور مفعول کو Bottom کہا جاتا ہے۔

مزید تحقیق سے اندازہ ہوا کہ کراسی کی کو مزید شارٹ کرکے سی ڈی CD کہا جاتا ہے اور سی ڈی مخفف ہے کراس ڈریس کا۔ اب وہ لڑکے جنہیں زنانہ لباس پہننے کا شوق ہوتا ہے مگر قریبی لوگوں کے خوف سے وہ سرعام اس طرح کرنے سے احتیاط کرتے ہیں اس لیے فیس بُک کا سہارا لے کر اپنے شوق پورے کرلیتے ہیں اس لیے بعض لوگوں کے نیم برہنہ جسم تو زنانہ لباس میں نمایاں دکھائی دیتے ہیں، چہرے اکثر چھپے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح کے لڑکے شی میل میں ڈھل کر پھر اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں اور ٹاپ باٹم کا کھیل چلتا رہتا ہے۔ اب معلوم نہیں یہ وبا پڑوسی مُلک سے پاکستان منتقل ہوئی یا پاکستان سے وہاں کے شوقینوں نے اپنالیا مگر اس حمام میں سب ہی بے لباس ہیں اور ان سب کا نصب العین جسمانی لذت کے سوا کچھ نہیں۔ یقینا ان لوگوں کے آپسی تعلقات بھی خفیہ مگر گہرے ضرور ہوتے ہوں گے اور پھر گاہے بگاہے اسٹیٹس لگا کر نئے ”سی ڈی” کی تلاش جاری رکھی جاتی ہے۔ جنسی انحراف کی یہ شکل جدید ترین ہے۔

مجھے ٹھیک سے یاد نہیں وہ افسانہ تھا یا کوئی فلم تھی جس میں ایک ایسا ہی لڑکا ہوتا ہے جو ہاسٹل میں اپنے روم میٹ کے ساتھ رہائش پذیر ہوتا ہے اور اس کا روم میٹ ایک دن اس لڑکے کی غیر حاضری میں زنانہ زیر جامہ دیکھ کر پریشان ہوجاتا ہے کہ ہاسٹل وارڈن انتہائی سخت ہونے کے باوجود یہاں کسی لڑکی کی آمد کیسے ہوگئی۔ یہ اپنے روم میٹ کی واپسی کا شدت سے انتظار کرتا ہے اور جب وہ آتا ہے اسے زیر جامہ دکھا کر سختی سے پوچھتا ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں لڑکیاں یہاں تک کیسے آگئی مگر وہ بات گول کرجاتا ہے لیکن روم میٹ کے دل میں شک کی جڑیں گہری ہوجاتی ہیں اور وہ بالآخر یہ کھوج لگا لیتا ہے کہ یہاں کوئی لڑکی نہیں آئی بلکہ اس کا روم میٹ ہی زنانہ لباس پہن کر، اپنا جسم دیکھ کر خود لطف اندوز ہوتا ہے۔ سنی سنائی تو یہ بھی تھی کہ ایک سابق وزیر بھی اسی طرح کے شوق کے حامل تھے لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں۔ کراس جینڈر کی طرح کراس ڈریس کیلئے کسی ثبوت کی تلاش اب مشکل نہیں رہی۔

فیس بُک پر یہ کراسی جو سفر مہینوں میں طے کرتے تھے، ٹک ٹاک میں دنوں کا ہوکر رہ گیا ہے۔ یہاں ہزاروں ایسے کراس ڈریسر دیکھنے کو ملیں گے جو بظاہر تو انٹرٹین کررہے ہوتے ہیں مگر درپردہ وہ اپنے اُس شوق کی تسکین کررہے ہوتے ہیں جو اس سے پہلے وہ چھپ کر، مخصوص وقت کا اسٹیٹس لگا کر کیا کرتے تھے۔

دیکھنے والوں کو کافی ایسی ویڈیوز دیکھنے کو مل جاتی ہوں گی جس اکثر لڑکوں نے داڑھی مونچھ کے باوجود لپ اسٹک لگا کر، میک اَپ کرکے، یا پھر زنانہ لباس زیب تن کرکے ویڈیو میں کسی گانے پر پرفارم کیا ہوتا ہے، یا کسی کامیڈی ڈائیلاگ کو ادا کیا ہوتا ہے یا پھر کوئی غمزدہ شاعری میں اپنا دکھڑا بیان کر رہا ہوتا ہے۔ ٹک ٹاک کے بعض کراسی تو ایسا غضب کا میک اَپ کرنے کے ماہر نکلے کہ وہ خود سے اپنی مردانہ فوٹیج ریلیز نہ کرتے تو لاکھوں دلوں سے کھیلتے رہتے۔ زنانہ لباس، ادائیں اور دلفریب مسکراہٹ کے بعد قیامت خیز حسن دیکھنے کے لائق تھا اور حقیقت جان کر بھی کافی فالورز ٹک ٹاک سی ڈی کو مردانہ روپ میں دیکھنا پسند نہیں کرتے کیونکہ انہیں یقین ہے ان لڑکیوں نے جان چھڑانے کیلئے ایسا بھیانک مذاق کیا ہے۔ بہت سے لوگ خاص طور پہ ٹک ٹاکر اس کی مخالفت بھی کرسکتے ہیں اور کرنا بھی چاہئے کہ سب ایسے نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پھر وہ کیا وجہ ہے کہ ہر دوسری ویڈیو میں ایسے لوگ زنانہ انداز ہی اختیار کرکے لوگوں کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ٹک ٹاک کے ٹاپ کلاس ماڈل بہت سوں کے باٹم ہوں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20