پی ٹی وی کے زبیرالدین ۔۔۔۔ کچھ یادیں کچھ باتیں (انٹرویو: شکور پٹھان)

0

سدا بہار صدا کار

 رب کا بڑا کرم ہے کہ آج میں اور آپ گذرے دنوں سے کہیں بہتر زندگی گذار رہے ہیں۔ میں اور میرے اکثر دوست وہی ہیں جو کبھی کراچی کی بسوں میں لٹک کر کالج جایا کرتے تھے۔ ایک چائے یا کوکا کولا پینے کےلئے ایک دوسرے کی جیبوں کی طرف دیکھتے تھے۔ جب ٹیلیفون گھر تو کیا، محلے میں بھی بمشکل ہوتا تھا۔

 آج الحمدللّٰہ ہم میں سے تقریباً ہر ایک کے پاس اپنی کار ہے، اچھے ریسٹورانٹ اور ہوٹلوں میں کھانے بھی کھا لیتے ہیں، ہر کہ پاس کم از کم ایک موبائل فون تو ضرور ہے، کئی دوست تو دو دو، تین تین فون لئے پھرتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر دنیا یوں گھومتے ہیں جیسے شہر کے ایک محلے سے دوسرے محلے میں آجا رہے ہوں۔

 تو کیا ہات ہے کہ جب بھی آپس میں ملتے ہیں تو یاد انہی دنوں کو کرتے ہیں جب بندہ مزدور کے اوقات اتنے آسان بھی نہ تھے۔ اور ہر کوئی اس بات پر متفق نظر آتا ہے کہ گذرا وقت ہی بہتر تھا۔

 گئے دنوں کی سہانی یادوں میں اس وقت کے ریڈیو اور ٹیلیویژن کا بہت بڑا حصہ ہے۔

 اور یہ کراچی ریڈیو اور ٹیلیویژن کی خوش بختی تھی کہ اسے ابتدا ہی سے ذوالفقار علی بخاری جیسا ماہر براڈکاسٹر اور منتظم میسر آیا۔ ابخاری صاحب اور ان کے رفقاء نے نشریات، ابلاغ اور صدا کاری کے ایسے اعلی معیار قائم کئے کہ کسی معمولی صلاحیت والے کا ان اداروں میں گذر ناممکن تھا۔ یہی معیار خبروں کے شعبے کا تھا جہاں اردو خبریں پڑھنے والوں میں اساطیری حیثیت رکھنے والے ‘ شکیل احمد، انور بہزاد، شمیم اعجاز اور وراثت مرزا جیسے بھاری بھر کم نام موجود تھے۔ اور یہ ہی حال ٹی وی کا تھا جہاں طارق عزیز، قربان جیلانی اور وراثت مرزا جیسے خبریں پڑھنے والے موجود تھے۔

 ایسے قد آور اور جفا دری ناموں کے ہوتے ہوئے ایک دبلے پتلے، سیدھے ساڑھے نوجوان نے پہلے ریڈیو پھر ٹیلیویژن پر اپنا جلوہ ایسے دکھایا کہ اگلے بتیس سال تک وہ ہر گھر کے ڈرائنگ رومز بلکہ بیڈ رومز کا حصہ بنا رہا۔

 یہ نوجوان تھے، زبیرالدین، جو آج نشریات کے شعبے اڑتالیس سال مکمل کرنے کے باوجود بھی اٹھارہ بیس سالہ نوجوان ہی نظر آتے ہیں اور ان کی آواز کا سونا آج بھی اتنا ہی کھرا ہے جیسا ستر اور اسی کے عشروں میں ٹیلیویژن پر دکھائی اور سنائی دیتا تھا۔

 وہ نوجوان جسے فلموں میں کام کرنے کا شوق خبروں کے شعبے تک لے آیا، یہ سب کیسے ہوا، آج ان ہی کی زبانی سنتے ہیں۔ یہ انٹرویو یا بات چیت آج سے ایک سال قبل ہوئی تھی اور زبیرالدین صاحب چاہتے تھے کہ میں اسے اپنے انداز میں لکھوں لیکن سال بھر تک میں زبیرالدین صاحب کے الفاظ سے زیادہ بہتر الفاظ یا جملے نہیں سوچ سکا چنانچہ یہ بات چیت حرف بہ حرف وہی ہے جیسی ہمارے درمیان ہوئی اور اس میں میری جانب سے کلی پھندنے ٹانکنے کی کوئی گنجائش نہیں نکل سکی۔

 زبیر صاحب کے پاس کراچی ریڈیو اور ٹیلیویژن سے متعلق یادوں کا انمول خزینہ ہے جو اس مختصر سے کالم سمیٹنا ممکن نہیں۔ آئیے ان سے ریڈیو سے ٹی وی تک کے سفر کی داستان سنتے ہیں۔ اس کہانی کے راوی خود زبیرالدین ہیں، درمیان میں کہیں کہیں راقم الحروف کے متجسسانہ سوالات ہیں۔

 زبیرالدین کی کہانی خود ان کی زبانی

 مجھے اشعار یاد نہیں رہتے، لیکن ایک شعر سنانا چاہوں گا۔۔

 

سکون دل کی خاطر اتنا تو اہتمام کروں

 ذرا نظر ملے تو انہیں سلام کروں

 مجھے تو ہوش نہیں آپ ہی مشورہ دیجئے

 کہاں سے شروع کروں اور کہاں پہ تمام کروں

 

یہ پل دوپل کی بات نہیں سینتالیس سال کا قصہ ہے۔ یوں سمجھئے کہ اتنی میری عمر نہیں جتنی خبریں میں نے پڑھیں ہیں۔ ایک یا دو سال بعد پچاس برس مکمل ہوجائیں گے خبریں پڑھتے ہوئے۔

 یہ اٹھارہ سال کی بالی عمر یا تھی، 68 میں ریڈیو اور 69 میں ٹی وی سے خبریں پڑھنا شروع کیں اور بتیس سال لگاتار خبریں پڑھیں۔

 سن دو ہزار میں ٹی وی چھوڑ دیا تھا اور امریکہ اور کینیڈا آتا جاتا رہا، وہاں کے مقامی ٹی وی پر خبریں پڑھتا رہا۔ شروع کے پانچ چھ سال جب بھی جاتا تھا تو کراچی ٹی وی والے آصرار کرتے کہ ایک بلیٹن تو پڑھ دو۔

 سوال۔۔نیوز ریڈنگ تک کیسے آئے۔

زبیرالدین۔۔یہ کوئی آسان راستہ نہ تھا۔ شکیل احمد، انور بہزاد، شمیم اعجاز، وراثت مرزا اور انگریزی میں رضوان اوسطی’ انور حسین جو ڈاکٹر محمود حسین کے صاحبزادے تھے. انیتا غلام.علی جو انگریزی کی استاد بھی تھیں اور خدیجہ نقوی اور ایڈ ورڈ کیرپئیڈ جیسوں کی موجودگی، پھر ایک ہی ریڈیو اور ایک ہی ٹی وی اسٹیشن تھے۔

 ہوا کچھ یوں کہ سترہ اٹھارہ سال کی عمر تو ایسی ہی ہوتی ہے، لا ابالی سی۔ پڑھنے وڑ ھنے کا شوق تو مجھے تھا نہیں۔ میٹرک کرلیا تھا اور کالج میں پڑھ رہا تھا۔ ان دنوں فلموں کا بڑا شوق تھا۔ بلکہ ہمارے ایک دوست تو پہلے دن کے پہلے شو کی بکنگ کرالیا کرتے تھے۔ ہم بھی وحید مراد وغیرہ کو دیکھتے اور ان جیسا بننا چاہتے تھے۔ ہمیں بھی ہیرو بننے کا شوق ہوا تو کسی نے کہا کہ یار یہ کوئی ایسے ڈائریکٹ تھوڑی ہیرو بن جاتا ہے۔ پہلے کچھ تجربہ ہو کہیں نام بناؤ۔ ڈرامے وغیرہ میں کام کرو۔ ہم نے کہا ریڈیو سے شروع کرتے ہیں کیونکہ ٹی وی اس وقت نیا نیا آیا تھا۔

سوال۔۔ کیا کالج اور اسکول و غیرہ میں ڈرامے کئے؟

 زبیرالدین۔۔۔ بالکل نہیں، کبھی بھی نہیں۔خبروں وغیرہ کا تو ذہن میں بھی نہیں تھا۔ ڈرامے کا شوق البتہ تھا۔ ریڈیو میں آڈیشن دیا اور الحمدللّٰہ پہلے ہی آڈیشن میں کا،یاب ہوگیا کیونکہ بنیادی طور پہ وہاں آواز کی ضرورت ہوتی ہے اور اللہ کا کرم ہے کہ آواز اس نے بہت اچھی دی ہوئی تھی۔ لوگ بھی یہی کہتے تھے۔

 اس کے بعد کوئی چھ مہینے ریڈیو اسٹیشن کے چکر لگاتا رہا کہ کہیں کوئ کسی ڈرامے میں آواز لگانے ہی کا موقعہ مل جائے جہاں وہ میری شکل دیکھیں تو کہیں، میاں اسکول براڈکاسٹ یا بزم طلبہ میں چلے جاؤ۔ اب ہم اسکول براڈکاسٹ میں جارہے ہیں، وہاں ہمیں کوئی لفٹ ہی نہیں کرارہا۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا۔ ہم تو سمجھے تھے کہ آڈیشن میں کامیاب ہوگئے تو اب ڈرامے کے ہیرو بھی بن جائیں گے۔

سوال۔۔آڈیشن کس چیز کے لئے دیا تھا

 زبیرالدین۔۔ڈرامے کے لئے۔ مجھے تو ڈراموں کا شوق تھا لیکن یہاں تو کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا۔ اب یہاں وہاں کے جان پہچان کے لوگوں سے ملتا رہا۔ ایک صاحب تھے ہمارے جاننے والے وہ نیوز سیکشن میں کنٹرولر کے پی اے وغیرہ تھے، انہوں نے کچھ لوگوں سے ملوایا۔ ہر کوئی کہتا ہاں میاں، کچھ کرین گے تمہارے واسطے۔

 دراصل اٹھارہ سال کی عمر کچھ ایسی تھی کہ لوگ بچہ ہی سمجھتے تھے۔ جو حلیہ تھا وہ بھی بچوں ہی جیسا تھا۔ اب وہ کہتے تھے کہ بچہ ہے، اگلے ھفتے آنا، اگلے مہینے آنا۔ یہ سارا سلسلہ یونہی چلاتا رہا۔ میں ایک مہینے بعد ان کے پاس گیا کہ یہاں تو کوئی گھاس ہی نہیں ڈالتا۔ انہوں نے کہا ہاں میاں، بس یہاں ایسا ہی کچھ سلسلہ ہے۔ تم ایسا کیوں نہیں کتے کہ خبروں میں آڈیشن درپے دو۔ میں نے کہا آپ مذاق تو نہیں کررہے، کہنے لگے نہیں، آواز تمہاری اچھی ہے۔ یہاں آڈیشن ہونے والے ہیں اور انہیں ضرورت بھی ہے، تم آڈیشن دے دو۔ میں نے دل میں سوچا کہ خبریں پڑھنا تو دور کی بات ہے، میں تو خبریں سنتا تک نہیں ہوں۔ وہ کہتے تھے کہ تم یوں کرو کہ ریڈیو سنا کرو۔ بی بی سی سنو اور دوسرے اسٹیشن سنا کرو۔ ناموں کو ذہن میں رکھو اور مجھ سے روزانہ بلیٹن لے جایا کرو۔ خبریں سنو اور اس کی پریکٹس کیا کرو۔

 مجھے خبروں کی الف ب کا بھی نہیں پتا، پھر میں نے سوچا کہ سال بھر ہوگیا، ڈراموں میں تو کوئی چانس نہیں دے رہے، چلو یہاں قسمت آزمائی کرتے ہیں۔ اب میں نے مشق شروع کردی۔ بی بی سی اور دنیا جہان کے اسٹیشن سنتا۔ اب ایک جستجو سی ہوگئی تھی۔

 بہرحال خبریں پڑھنے کا آڈیشن ہوا اور اتفاق کی بات کہ میں یہاں بھی کامیاب ہوگیا۔ کچھ لوگ کامیاب ہوئے تھے، جن میں، میں تھا، افتخار عارف تھے، ایک تھے فضیل الدین۔ ایک بنگالی کے نیوز کاسٹر تھے امین الحق۔ یہ نام مجھے اس وقت یاد آرہے ہیں۔ ہاں عابدہ جاوید بھی تھیں۔

 اب میں نے ان سے کہا کہ بھئی اب میں خبریں کب پڑھوں گا، کہنے لگے ٹھہرو، وہ مجھے ایک صاحب کے پاس لے گئے جو شاید نیوز ایڈیٹر تھے۔ نام ان کا ” آرزو’ تھا۔ مجھے پورا نام یاد نہیں آرہا۔ ان سے پوچھا کہ وہ جو آڈیشن ہوئے تھے ان کا کیا بنا۔ کہنے لگے کہ ہاں ایک دو لڑکے سلیکٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے پوچھا زبیرالدین کا کیا ہوا۔ کہنی لگے ہاں آواز اچھی ہے لے آؤ۔ کہنے لگے یہ کھڑی ہیں آپ کے پیچھے۔ انہوں نے اوپر سے نیچے تک مجھے دیکھا اور بولے، یار یہ تو بچہ ہے، یہ کیا پڑھے گا خبریں۔

 کہنے لگے آپ نے آڈیشن سن لیا، آواز دیکھ لی، بچے میں جستجو ہے، شوق ہے، یہ کرلے گا۔ وہ کچھ متذبذب نظر آئے۔ کہنے لگے ہم نے دس بارہ لڑکوں کو سنا ہے۔ اس سے کہو کہ کہ دو تین ہفتے پریکٹس وغیرہ کرے۔

 ان دنوں غالبا” ریڈیو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک ٹریننگ سیشن شروع کیا گیا، خبروں کے اسرار ورموز سے آگاہ کرنے کے لئے۔ روزانہ دو تین گھنٹے کا سیشن ہوتا۔ لیکچر وغیرہ ہوتے۔ اسلم اظہر ایم ڈی تھے، وہ آتے، دادا، شکیل احمد ہوتے، ریجنل ڈائریکٹر شمس الدین بٹ تھے، برہان الدین حسن صاحب ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھے برہان الدین حسن صاحب ہی نے گروم کیا۔

 ان سب نے آٹھ دس دن لیکچر دئے۔ بس اللہ نے خبریں پڑھوانی تھیں۔ اس میں کامیاب ہونا تھا۔ اللہ کا نام لےکے آڈیشن دیا۔

سوال۔۔دادا کیسے آدمی تھے۔

 زبیرالدین۔۔دادا بہت شاندار آدمی تھے۔

 سب سے پہلے پانچ منٹ کی خبریں پڑھیں فوجی بھائیوں کے پروگرام میں، اور پون گھنٹے بعد کراچی کی خبریں پڑھیں۔ ایک وقت میں دو بلیٹن پڑھنے ہوتے تھے اور دس روپے ملتے تھے۔ خبریں پڑھیں اور ستیا ناس کیا۔ آپ یقین کیجئے کہ اس سے پہلے میں کبھی آن ائیر گیا ہی نہیں تھا۔ میرا تو گلا خشک ہوگیا، دل حلق میں آگیا، جیسے تیسے خبریں پڑھیں۔ برہان صاحب نیوز ایڈیٹر تھے، انہوں نے مجھے بلوایا اور کہا کہ یہ کیا تم نے بلیٹن کا ستیاناس مارا ہے، کس نے تمہیں اپائنٹ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ سر اتنی مشکلوں سے تو آڈیشن پاس کیا اور ٹریننگ بھی کی۔ کہنے لگے، ہاں میاں، تمہارے اندر ٹیلنٹ تو ہے۔ تمہاری آواز بھی اچھی ہے، بس اپنا انداز بناؤ۔ ان دنوں شکیل احمد، انور بہزاد وغیرہ کا بڑا نام اور خاص انداز تھا۔ برہان صاحب کہنے لگے کہ یاد رکھو تمہارا اپنا انداز ہونا چاہئیے لوگ سنیں تو یہ نہ کہیں کہ یہ شکیل احمد یا انور بہزاد کی طرح خبریں پڑھنے والا زبیرالدین ہے بلکہ یہ کہیں کہ یہ خبریں زبیرالدین پڑھ رہا ہے۔ یہ بات میرے ذہن میں بیٹھ گئی۔ کہنے لگے بلیٹن مجھے سناؤ، اب تلفظ غلط، نام غلط،، انہوں نے باقاعدہ میری تربیت کی، گرومنگ کی۔ چھ ماہ بعد وہ ٹی وی کے نیوز ایڈیٹر ہوگئے۔

 دادا، شکیل احمد، بڑے مزے کے آدمی تھی۔ کینیا مشرقی افریقہ وغیرہ کے لئے رات کو گجراتی خبریں ہوتیں، میں ایک بلیٹن اردو کا رات کو پڑھتا، ایک صبح کے وقت۔ صبح کے بلیٹن میں دادا کی بھی ڈیوٹی ہوتی تھی۔ دادا کو گپ شپ کا بڑا شوق تھا۔ وہ روز کینٹین میں بیٹھ جاتے دو چائے منگواتے اور گرم پانی منگواتے، وہی پانی دو چائے میں ملا کر سب میں تقسیم کرتے اور گپ شپ کرتے رہتے۔

 شکیل صاحب کو میں نے دیکھا کہ خبریں پڑھتے تو مائیک ان کی داہنی جانب ہوتا۔ ہم سے تو کہا جاتا کہ منہ مائیک کے سامنے ہو اور مائیک ہی میں بولو۔ لیکن دادا کی آواز بڑی زوردار تھی چنانچہ مائیک کو ایک جانب کیا جاتا۔

 شکیل احمد ڈراموں میں بھی کام کر چکے تھے۔ انہوں نے آغا حشر وغیرہ کے ڈرامے کئے تھے۔ وہ خبریں ہل ہل کر پڑھتے تھے جیسے تلاوت کرتے ہیں۔ اللہ مغفرت کرے، بہت شاندار آدمی تھے۔

 اور دوسرے تھے وراثت مرزا۔ بڑے ہی نفیس آدمی تھے۔ سردی ہو یا گرمی، ہمیشہ شیروانی میں نظر آتے۔ حیدرآبادی تھے۔

 شکور پٹھان۔۔۔جی میں نے بھی انہیں ہمیشہ شیروانی ہی میں دیکھا۔ اور شاید پان کھاتے تھے۔

 زبیرالدین۔۔نہیں، پان تو نہیں کھاتے تھے، نہ سگریٹ پیتے تھے۔ ایک تجارتی خبریں ہوا کرتی تھی۔ وراثت مرزا صاحب مین بلیٹن پڑھتے اور میں تجارتی خبریں پڑھتا۔میں اس زمانے میں سگریٹ پیا کرتا تھا۔ مرزا صاحب کہتے یار سگریٹ پلاؤ۔ میں کہتا آپ تو سگریٹ نہیں پیتے، کہتے بس یار، تمہارے ساتھ پینے کو جی چاہتا ہے۔ وہ حیدرآباد کالونی میں رہتے تھے۔ میرے پاس موٹر سائیکل ہوتی تھی، میں جہانگیر روڈ پر رہتا تھا، انہیں جیل روڈ پر، حیدرآباد کالونی چھوڑتا ہوا جاتا۔

سوال۔۔والدین کا تعلق کہاں سے تھا۔۔زبان کے لئے علاقائی پس منظراہم ہوتا ہے۔

 زبیرالدین۔۔ہم دہلی کے تھے۔میری پیدائش البتہ کراچی کی ہے. لیکن میں نے ایسے بھی دیکھے ہیں کہ اردو ان کی زبان نہیں لیکن بہت صاف تلفظ اور لہجہ ہوتا تھا۔ایک صاحبہ تھیں، سلمی جبین۔ پنجابی تھیں، لیکن بڑی شستہ اردو بولتی تھیں۔ اصل میں کراچی کا ماحول ایسا تھا کہ پنجاب اور سرحد کے لوگ اس میں ڈھل جاتے تھے۔

سوال۔۔۔ان دنوں بڑے سخت معیار تھے۔ آپ کس طرح وہاں تک پہنچے۔

 زبیرالدین۔۔اوہ یس، بڑے سخت معیار تھے، ایسا ویسا آدمی تو وہاں گھس بھی نہیں سکتا تھا۔

سوال۔۔ٹی وی پر کیسے آنا ہوا

 زبیرالدین۔۔سال بھر ہوگیا تو میں نے برہان صاحب کو فون کیا کہ اب تو میں نیوز کاسٹر ہوگیا ہوں، اب ٹی وی پر بھی موقع دیں۔ ہنسنے لگے، ان دنوں ٹی وی پر طارق عزیز، وراثت مرزا اور قربان جیلانی خبریں پڑھتے تھے۔ دو، دو دن پڑھا کرتے، پیر کو ٹی وی نہیں ہوتا تھا۔ برہان صاحب کہنے لگے ابھی تو بالکل گنجائش نہیں ہے۔ کسی دن آو، آڈیشن لوں گا۔

 خیر، ان کے پیچھے لگا رہا۔ میری قسمت اچھی تھی۔ ہوا یہ کہ طارق عزیز لاہور شفٹ ہوگئے، میرے لئے جگہ بن گئی۔ برہان صاحب نے کہا میرے پاس آؤ۔ یہ ٹی وی ہے۔ریڈیو پر تو آپ مائیک کے سامنے منہ جھکا کر بیٹھ گئے، یہاں کیمرے کو بھی فیس کرنا ہوتا ہے۔ میں نے کہا وہ بھی کر لیں گے۔ انہوں نے سمجھایا کہ کیمرے پر کیسے نظر رکھنی ہے، خبروں میں کہاں،پاز، دینا ہے۔۔

 پھر آڈیشن ہوا، برہان صاحب تھے، اسلم اظہر صاحب تھے۔۔انہوں نے سمجھایا کہ ٹی وی پر خبریں کیسے پڑھنی ہیں۔

 اسلم اظہر صاحب براڈ کاسٹنگ کی دنیا کا بہت بڑا نام تھے. بہترین منتظم. آپ کو شاید علم ہو کہ وہ خبریں بھی پڑھا کرتے تھے. مجھے انہوں نے بھی بہت گروم.کیا. اللہ غریق رحمت کرے. بلکہ مجھے یاد ہے اسلم اظہر صاحب کہنے لگے، جیسے موسیقی میں سر ہوتے ہیں، سارے، گا، ما، پا، اسے پی طرح خبروں میں الفاظ کی اور آواز کی ٹائمنگ ہوتی ہے۔ خیر اسلم اظہر صاحب نے بھی پاس کردیا۔ یہ 69 کی بات ہے۔ وہاں سے یہ سلسلہ شروع ہوا۔

سوال۔ ٹی وی پر خبریں پڑھنے کے لئے کیا اہم ہے۔ آواز، تلفظ، شکل وصورت، لباس اور پرسنالٹی، یا کچھ اور۔

 زبیرالدین۔۔ دیکھیں، ریڈیو پر تو آواز اور تلفظ کی ضرورت ہے، ٹی وی پر شکل وصورت، لباس اور پرسنالٹی بھی ضروری ہوتے ہیں۔

 میرا یہ تھا کہ سارا دن اخبار پڑھتا، ساری خبریں سنتا، تو جب میں خبریں پڑھنے جاتا تو مجھے علم ہوتا کہ کیا پڑھنا ہے۔ اس طرح آسانی ہوتی تھی۔

 اب آپ کو کیا بتاؤں؟. ایک خاتون ہوتی تھیں، نام نہیں بتاؤں گا۔ ایک دن کہنے لگیں، میرے گھر تو اخبار بھی نہیں آتا۔

 بعض نام مشکل ہوتے ہیں۔ خبریں سننے سے وہ نام لینا آسان ہوتا تھا۔ نہیں تو برہان صاحب سے پوچھ لیتےتھے۔ وہ خود کہتے تھے کہ پوچھ لیا کرو بجائے اس کے کہ غلط نام پڑھ دو،

سوال۔۔۔کوئی مشق، ریاض وغیرہ بھی کرتے تھے؟

 زبیرالدین۔۔۔نہیں، میں ریاض وغیرہ تو نہیں کرتا تھا لیکن کوشش کرتا تھا کہ ٹھنڈی بوتل، کھٹاس اور اچار وغیرہ سے بچا رہوں۔ ہر دوسرے دن خبریں پڑھنے سے ریاض تو یوں ہی ہوجاتا۔ اور یقین کیجئیے، نیوز کاسٹر کوئی سال دو سال میں نہیں بنتا۔ اس کے لئے دوچار سال لگتے ہیں کہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہاں، خبریں پڑھ رہا ہے۔

سوال۔۔اس زمانے میں اتنے سخت معیار تھے تو اپنی پوزیشن کیسے برقراررکھتے تھے؟

 زبیرالدین۔ دراصل آج کل تو پچاسویں چینل ہیں۔ اس زمانے میں ایک ہی ٹی وی تھا۔ ایک زمانہ تھا کہ میں نو بجے ہر گھر کے ڈرائنگ روم یا بیڈ روم میں موجود ہوتا تھا۔ تیس سال خبریں پڑھیں۔ لوگ ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ابا کی گود میں ہوتے تھے اور آپ کو دیکھا کرتے تھے۔ایک منسٹر صاحب ملے تو کہنے لگے کہ بچوں سے کہتا ہو ں زبیر خبریں پڑھے تو غور سے سنا کرو، تمہاری اردو اچھی ہوجائے گی۔ یہ میں غرور سے نہیں کہہ رہا، لیکن فخر کی بات تھی۔ یہ دوسری بات ہے کہ شروع میں ہم بھی بہت غلطیاں کرتے تھے۔

سوال۔۔۔اس زمانے کا ماحول کیسا تھا؟ دوستانہ یا پیشہ ورانہ مسابقت ہوتی تھی۔

 زبیرالدین۔۔۔اب جیسے وراثت مرزا تھے۔ ہمیشہ شفقت سے پیش پیش آتے۔ بچوں کے ہی طرح رکھتے تھے۔ دادا کا بھی یہی حال تھا۔

 انور بہزاد صاحب سے ویسا تعلق نہیں تھا جیسا وراثت مرزا صاحب کے ساتھ تھا. لیکن بہر حال انسان اپنے سینئیرز سے بہت کچھ سیکھتا ہے. ان کا اپنا ایک انداز تھا جو شکیل دادا کی طرح منفرد تھا. اسی طرح شمیم اعجاز بہت اچھی اور نفیس خاتون تھیں۔ ان سب کے نقوش ریڈیو پر بڑے گہرے تھے.

ٹی وی پر کچھ حاسد بھی تھے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا کہ کسی کا خبریں پڑھنے کا دن ہوتا اور اس سے کہا جاتا کہ آج آپ کی بجائے زبیرالدین پڑھیں گے تو ظاہر ہے انہیں پسند نہ آتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ انہیں مجھ پر اعتماد تھا۔ ہم محنت بھی کرتے تھے۔ وہ بھٹو صاحب اور ضیاءالحق کا زمانہ تھا۔ بعض اوقات ان کے باہر کے دورے کی نیوز فیڈ آتی۔ اتنا وقت نہیں ہوتا کہ خبر میں کہاں بولنا ہے، کہاں رکنا ہے۔ ریہرسل تو کوئی ہوتی ہی نہیں تھی۔ بہرحال انہیں مجھ پر کانفیڈنس تھا۔ کہتے تھے اسے زبیر سے پڑھوالو، وہ سنبھال لے گا۔ ایک وقت تو اللہ کا شکر ہےکہ ایسا آگیا تھا کہ ان کی غلطیاں میں نکالا کرتا تھا۔

۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: