منصور اختر صدیقی : جدوجہد کا استعارہ —– سلمان عابد

2

برادرم بلال اظہر نے منصور اختر صدیقی کی موت کی اطلاع دی تو یقین ہی نہ آیا کہ وہ واقعی چلا گیا ہے۔ کیا کمال کا فرد تھا۔ ایک ایسا فرد جس کی ساری زندگی جدوجہد کا استعارہ رہی۔ اپنی ذات سے زیادہ ملک میں تبدیلی کی جنگ لڑنے والا منصور اختر صدیقی کچھ برس سے واقعی سیاسی طور پر تنہا ہوگیا تھا۔ محمد علی درانی، قاضی حسین احمد، عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ ایک ایسے نڈر، بہادر، محنتی، جفاکش اور وفادار ساتھی کے طور پر ان کی سیاسی و سماجی جدوجہد کا حصہ رہا۔ لیکن منصور اختر صدیقی جیسے مخلص لوگوں کا المیہ ہمیشہ سے رہا ہے کہ ان میں موجود تبدیلی کا کیڑہ خود ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ منصور اختر صدیقی جیسے لوگ آگے بڑھنے میں کسی کو بہت بڑی معاونت تو دے سکتے ہیں، لیکن مستقل مزاجی کے ساتھ کسی کہ ساتھ کھڑے رہنا کا سلیقہ بھی ان لوگوں میں نہیں ہوتا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ بڑی شخصیات کے بہت قریب ہونے کے باوجود بہت جلد سیاسی تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

منصور اختر صدیقی کو بہت کم لوگ جانتے ہونگے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اہل سیاست میں اس کی موت کی خبر کوئی بڑی خبر نہیں بن سکی۔ وہ جو خود بڑی خبر بنانے کا ماہر تھا اپنی موت کی بڑی خبر نہ بن سکا۔ لیکن اہل سیاست اور صحافت میں موجود لوگ بالخصوص سیاسی جماعتوں کی سطح پر موجود جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور عوامی تحریک سمیت پاسبان کے لوگوں میں وہ اجنبی نہیں تھا۔ ہمیشہ بڑے نام اور ان لوگوں کے ساتھ کام کرنے کی حامی بھرتا جو فیصلہ ساز ہوتے تھے۔ کیونکہ اس کا موقف تھا کہ جہاں بہت سے فیصلہ ساز ہونگے وہاں کوئی بڑا کام نہیں ہوسکے گا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ قیادت کے ساتھ براہ راست کام کرنے تجربہ رکھنے والے منصور اختر صدیقی ان ہی جماعتوں میں بہت سے لوگوں کے لیے جلد بڑا خطرہ بن جاتے تھے۔ جماعتوں میں موجود لوگ ان کی قیادت سے براہ راست رابطہ کاری اور باہمی تعلق کو نہ صرف پسند نہیں کرتے تھے، بلکہ کوشش کرتے کہ یہ تعلق کمزور ہوسکے۔

یہ نہیں کہ منصور اختر صدیقی کو سٹیج پسند تھا یا وہ قیادت کرنا چاہتے تھے بلکہ ان کی کوشش ہوتی کہ وہ قیادت کی مدد سے ایک ایسے ایجنڈے کو حتمی شکل دے سکیں جو بڑی تبدیلی کا سبب بن سکے۔ محمد علی درانی، قاضی حسین احمد، عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ ان کا تعلق بھی تبدیلی کے ایجنڈے سے جڑا ہوا تھا۔ اگر وہ روائتی سیاست کے قائل ہوتے تو یقینی طو رپر ان کے لیے نواز شریف اور بے نظیر یا زردای کی سیاست میں بہت جگہ تھی، لیکن عملی طور پر ان کی منزل طاقت نہیں بلکہ واقعی تبدیلی کا ایجنڈا تھا۔ یہ منصور اختر صدیقی ہی تھے جنہوں نے اس سیاسی نظام میں انتخابی مہم کے تناظر میں نئی نئی جہتیں او رنت نئے انداز متعارف کروائے۔ پاسبان، قاضی حسین احمد کی اسلامک فرنٹ کی مہم، شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر میں پہلی چندہ مہم، تحریک انصاف کی سیاسی مہم، ڈاکٹر طاہر القادری کی دھرنا سیاست میں ان کی سوچ، فکر اور مہم میں جان ڈالنے کے حوالے سے اہم کام تھا۔ سیاسی جلسوں اور جلوس میں ترانے اور میوزک کی جہت بھی انہوں نے ہی متعارف کروائی تھی اور آج یہ ہماری سیاست کا اہم حصہ بن گیا ہے۔

روالپنڈی میں قاضی حسین احمد کے لیاقت باغ میں ہونے والے انتخابی جلسہ میں ایک ایسا جادو کردیا کہ وہ جلسہ لوگوں نے گھروں میں بیٹھ کر براہ راست ٹی وی پر دیکھا جو حکومت کے لیے حیرا ن کن امر تھا۔ ایک ایسا شخص جو پیدا ہی ایک جدوجہد کے لیے تھا اور عمرکے آخری سانس تک وہ جدوجہد ہی کرتا رہا۔ اس کی جدوجہد کو دیکھا جائے تو اس میں اپنی ذات کی نفی اور ملک و پیار سے محبت اور کچھ بڑا کرنے کی لگن، شوق اور جستجو نمایاں تھی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم کہہ سکتے ہیں منصور اختر صدیقی کے سامنے پاکستان تھا، ترقی تھی، خوشحالی تھی اور بہت کچھ بدلنے کی خواہش۔ وہ ایک ایسی تبدیلی کا خواہش مند تھا جس میں اس کے بقول ہم ایسا ملک دیکھ سکیں، جو سب کی خواہش ہے۔ منصور صدیقی کو اپنے مفاد سے زیادہ ملک کا مفاد ہوتا تھا۔ جب بھی میں نے اس سے بات کی تو اس کے پاس بات کا ایجنڈا ہی پاکستان ہوتا تھا اور وہ پکا سچا اور کھرا نیشنلسٹ تھا۔

بڑے بڑے سیاست دان اور میڈیا کے محاذ کے پنڈت منصور اخترصدیقی کے اندر موجود صلاحیتوں کے مداح تھے۔ خاص طور پر انتخابی مہم کو سجانے کا آرٹ یا فن کا کمال منصور صدیقی کے پاس ہی تھا۔ وہ پہلا فرد تھا جسے ڈیجیٹل مہم کا وسیع تجربہ تھا اور اس کا خیا ل تھا کہ نئی نسل کو اپنے قریب لانے کے لیے روائتی اور فرسودہ طریقوں کے مقابلے میں ایک نئی جدت اور نیا رنگ درکار ہے۔ منصور اختر صدیقی جدوجہد کا نام تھا اور وہ عمر کے آخری سانس تک جدوجہد کرتا رہا۔ اس کی جدوجہد کو دیکھا جائے تو اس میں اپنی ذات کی نفی اور ملک و پیار سے محبت اور کچھ بڑا کرنے کی لگن، شوق اور جستجو نمایاں تھی۔ پیشے کے اعتبار سے انجینر لیکن عملی طو رپر میں اسے ایک سماجی اور سیاسی انجینر سمجھتا تھا۔ ہر وقت کسی نئے خیال اور سوچ کے ساتھ بڑے مدلل اور جامع انداز میں اپنا نکتہ نظر پیش کرکے سب پر حاوی ہوجاتا تھا۔ جذباتی بھی تھی مگر عقل و دلیل کے ساتھ بات کرتا اور دوسروں کی بھی خوب سنتا تھا۔ جب بھی بات کرتا تو معمولی بات نہ کرتا بلکہ اس کی فکر میں غیر معمولی پن اور روائتی انداز کے مقابلے میں ایک ایسی سوچ ہوتی تھی جو بہت سے لوگوں کو چونکا دیتی اور متوجہ بھی کرتی تھی۔

وہ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک ایسا کردار تھا جس کے سینے میں جہاں بہت سے راز تھے وہیں ایک ایسی کہانی بھی تھی جو بہت سے کرداروں کے داخلی معاملات کو اچھے یا برے انداز میں نمایاں کرسکتی تھی۔ وہ ایک متحر ک اور فعال فرد تھا اور کبھی بھی پیچھے بیٹھ کر کھیلنے ے عادی نہ تھے۔ فرنٹ فٹ پر کھیلنا اور براہ راست قیادت کے ساتھ رابطہ اس کے کام کا کمال ہوتا تھا۔ اسے عمران خان سے بہت زیادہ امید تھی، لیکن عمران خان تو اقتدار تک پہنچ گئے، لیکن وہ اپنے ساتھی منصور صدیقی کو بہت پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ آج عمران خان کی حکومت کو اپنی کامیابیوں کو عملا پیش کرنے میں میڈیا کے محاذ پر جس بڑی ناکامی کا سامنا ہے تو مجھے منصور صدیقی بہت یاد آتا ہے۔ اگر وہ آج عمران خان کے ساتھ ہوتا تو اسے سیاسی محاذ پر بہت کچھ مثبت طور پر دکھانے کا سامان موجود ہوتا۔

وہ واقعی عمران خان کو ایک بڑی سیاسی امید سمجھتا تھا اور اس کے بقول پاکستان کی موجودہ روائتی سیاست کو عمران خان ہی تبدیل کرسکتا ہے۔ انتخاب لڑنا چاہتا تھا، لیکن تحریک انصاف اور عمران خان کی سیاسی ترجیحات میں وہ بہت پیچھے چلا گیا تھا۔ تحریک انصاف کا بانی رکن عملی طور پر اپنی ہی جماعت میں ایک گم نام سپاہی بن کر رہ گیا۔ وقتی طور پر خاموشی اختیار کرلی۔ کئی کاروبار کئے لیکن سب ناکام کیونکہ وہ کاروبار کا آدمی ہی نہیں تھا۔ کئی لوگوں نے اس کے ساتھ اچھا سلوک بھی نہ کیا اور اسے زندگی میں سخت ازمائش سے گزرنا پڑا۔ عمران خان اقتدار میں تو پہنچ گئے لیکن ان کا وفادار بانی ساتھی منصور اختر صدیقی ماضی کا قصہ بن گیا۔ یہ المیہ منصور صدیقی کا ہی نہیں بلکہ ہر جماعت میں ایسے کئی سو منصور صدیقی ہونگے جو سیاسی جماعتوں اور قیادت کے ہاتھوں سیاسی استحصال کا شکار ہوئے۔

جب سے بڑھ کر دکھ یہ ہوا کہ منصور صدیقی کے انتقال پر میں نے وزیر اعظم عمران خان کا کوئی سیاسی ٹویٹ بھی تعزیت کے طور پر نہیں دیکھا تو دل اور زیادہ اداس ہوگیا۔ عمران خان بطور وزیر اعظم نہیں بلکہ بطور عمران خان ان کو کیسے بھول گئے جو کسی زمانے میں ان کی آنکھ کا تارہ تھا۔ کیا بدقسمتی ہے اس ملک کے حقیقی سیاسی کارکنوں کی جو اہل سیاست کے اقتدار اور طاقت کے کھیل میں ایک اجنبی کی حیثیت اختیار کرجاتے ہیں، منصور صدیقی بھی ایک ایسا ہی کردار تھا اور جو اپنے اندر منوں دکھ، بے چینی اور آسودگی کے ساتھ اپنے رب کے حضور پیش ہوگیا، اللہ اس کے درجات بلند کرے، وہ ہمیشہ یاد رہے گا ایک اچھے دوست کے طور پر۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. نیر مسعود رضوی اردو کے محقق ،نقاد اور ادیب تھے۔ ان کا وجہ شہرت افسانہ نگاری تھی۔ ان کے افسانوں کے پانچ مجموعے ہیں نہیں بلکہ اردو میں نئی تحریک ہے نیر مسعود کے کردار زندگی سے فرار ہیں ۔

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20