‘مردوں کے حقوق کی تحریک’ کا جائزہ —- وحید مراد

0

1۔ پس منظر:

حقوق اور رد عمل کی سیاست نے دنیا بھر میں انسانوں کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے انسانیت کیلئے مزید مسائل پیدا کئے ہیں۔ یہ سیاست خواہ رنگ، نسل، زبان یا قومیت کے حقوق کے نام پر ہو یا فرقہ پرستی، طبقاتی تقسیم اور صنفی امتیاز کے رد عمل کے نام پر، اس نے انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے ہمیشہ ان پر نمک ہی چھڑکا ہے۔ مذکورہ بنیادوں پر اٹھنے والی تحریکوں اور تنظیموں کا آغاز تو خوشنما نظریات، تھیوریز اور اہداف سے ہوتا ہے لیکن عملی سیاست کے دوران بہت جلد، ذاتی مفادات، تعصبات اور دلوں کے اندر پائی جانے والی کدورتیں اور نفرتیں نعروں کی شکل میں زبان پر نظر آنے لگتی ہیں۔ دوسروں کے لئے کی گئی بدزبانی ایک ایسی چیز ہے جو ہمدردی کی بجائے نفرت کو ایندھن مہیا کرتی ہے اور یہ نفرت دوسروں کے مسائل کو سمجھ کر تعاون کرنے کی بجائے دوسروں کے ساتھ ظلم اورزیادتی کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

غریبوں کے حقوق کے وکیل ہوں یا سرمایہ داروں کے حقوق کے ترجمان، عورتوں کے حقوق کے علمبردار ہوں یا مردوں کے حقوق کے نقیب سب اپنی ذاتی خواہشات اور شکایات کو انتہا تک لے جا کر انہیں سیاسی رنگ دے دیتے ہیں اور یہ بات سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں کہ دنیا میں ہر ایک شخص کے بارے میں متعصبانہ رویہ اپنانے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ ان میں مزیداضافہ ہوتا ہے۔ اور اس طرح ان تحریکوں اور تنظیموں کے لیڈروں اور کارکنان کا شمار مسائل حل کرنے والوں میں نہیں بلکہ دنیا کیلئے مسائل پیدا کرنے والوں میں ہو تا ہے۔

بیسویں صدی کے آغاز میں جب خواتین کی فلاح و بہبود اور حقوق کی تحریک اٹھی تو دنیا بھر میں اسکو خوب پذیرائی ملی اوردنیا کے ہر ملک میں اسکی ذیلی تنظیمیں اور تحریکیں وجود میں آئیں لیکن ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جب اس تحریک کے بنیادی اہداف حاصل کر لئے گئے تو اصولی طور پر اس تحریک کو ختم ہوجانا چاہیے تھا لیکن اس تحریک کے لیڈران اور کارکنان نے اپنی تنخواہیں، مراعات، اور فیسیں بچانےکیلئے اسکو فیمنزم کے نام پر ایک عالمگیر قبیلے کی شکل دے دی۔ اب یہ قبیلہ اپنے ممبران اور لیڈران کے مفادات کے تحفظ کیلئے سطحی اور متعصبانہ عقائد کا ایک ایسا نظام پیش کرتا ہے جسکے تحت خواتین کے ہر مسئلے کے ذمہ دار مرد ہیں اور دنیا کے تمام مرد انکی نظر میں قابل نفرت ہیں۔ جب یہ تحریک گراوٹ اور سطحیت کی انتہا پر پہنچی تو اسکے بطن سے ہی اسکی مخالفت اور ضد نمودار ہوئی جسے ‘مردوں کے حقوق کی تحریک Men’s Rights Movement کہا جاتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ مردوں کے حقوق کی تحریک کیا چیز ہے، اسکا نظریہ، اہداف، مقاصد، لائحہ عمل اور جدوجہد کی کیا سمت ہے؟

2۔ مردوں کے حقوق کی تحریک کا تعارف:

اگر اکیڈیمکس کی بات کریں تو کئی دہائیوں سے جنیڈر اسٹڈیز کے اسکالرز ‘مردوں کے حقوق کی تحریک’ پر ریسرچ پیپرز لکھ رہے ہیں لیکن جب فیمنسٹ اسکالرز، مردوں کی اس تحریک (جو فیمنزم کے رد عمل کے طور پر وجود میں آئی ہے) پر بات کرتے ہیں تو وہ صرف ان کارکنوں اور بلاگرز کے اس ڈھیلے ڈھالے نیٹ ورک کا حوالہ دیتے ہیں جو سوشل میڈیا اور مختلف فورمزپر فیمنزم کے خلاف پوسٹیں کرتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات ان فیمنسٹ اسکالرز کا اشارہ ان کارکنوں اور تنظیموں کی طرف بھی ہوتا ہے جو ‘والد کے حقوق Father’s rights’، مردوں کے خلاف گھریلو تشدد، طلاق اور بچوں کی نگرانی کے تنازعات، دوہرے جنسی معیار اور فیمنزم کے سبب ہونے والی معاشرتی تباہی پر بات کرتی ہیں لیکن فیمنسٹ اسکالرز نے آج تک کبھی یہ بات تسلیم نہیں کیا کہ انکے رد عمل میں بھی کوئی تحریک چل رہی ہے۔ تاہم ‘مردوں کے حقوق کی تحریک’ کے ایک محقق نے اپنے ممبران کی تعداد معلوم کرنے کیلئے 2014 میں ایک سروے کیا اور اسکے نتائج گوگل ڈاکومنٹ پر اپ لوڈ بھی کئے لیکن گوگل نے یہ ڈیٹا ریموو کر دیا۔ اس سروے کے مندرجات کا تجزیہ Zavan نامی ایک بلاگر نےکیا تھا اوراسکے مطابق اس تحریک کے ممبران کی اکثریت کا تعلق سفید فام لوگوں سے ہے جن میں سے زیادہ تر کی عمریں 17 سے 20 سال کے درمیان ہیں تاہم دوسری کمیونٹیز اور زیادہ عمر کے افراد بھی اس میں شامل ہیں اور انکا ماننا ہے کہ فیمنزم، نازی ازم کی طرح ایک نفرت کی آئیڈیالوجی ہے یا اس سے بھی کچھ زیادہ نفرت انگیز ہے۔ اسی طرح انکا ماننا ہے کہ مردوں پر عصمت دری کے الزامات اور پدر سری نظام کا افسانہ، فیمنزم کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں اور انکا مقصد صرف مردوں کو مورد الزام ٹھہرا کر تکلیف پہنچانا ہے۔ لہذا وہ فیمنزم کے رد عمل کے طور پر اپنے آپ کو ایک تحریک کی شکل میں منظم کر رہے ہیں تاکہ مردوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔

3۔ تاریخ، نظریہ اور کردار:

1970 میں Jack Sawyer نے ‘مردوں کی آزادی’ کے نام سے ایک مضمون شائع کیا جس میں اس نے مردانہ جنسی کردار کے دقیانوسی تصورات کے منفی اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ پھر 1971 میں امریکہ میں مردوں کے مباحثہ گروپ سامنے آئے۔ 5-1974 میں Robert Lewis اور Joseph Pleck نے اس موضوع پر کتابیں لکھیں اور ان خیالات کی روشنی میں ‘مردوں کی آزادی کی تحریک’ وجود میں آئی۔ بعد ازاں برطانیہ، مغربی یورپ اور شمالی امریکہ میں فیمنسٹ تحریک اور اسکی وجہ سے ہونے والی ثقافتی تبدیلیوں کے رد عمل کے طور پر مردوں کی آزادی کی تحریک نے اپنے آپ کو ‘مردوں کے حقوق کی تحریک’ کی شکل دے دی۔

1970 کی دہائی کے اختتام پر ‘مردوں کی آزادی کی تحریک’ دو گروپوں میں تقسیم ہو گئی تھی جن میں سے ایک گروپ فیمنزم کا حمایتی اور دوسرا فیمنزم کا مخالف گروپ کہلایا۔ پہلے گروپ نے فیمنزم کے اصولوں کو مسترد کر دیا اور ان شعبوں پر توجہ مرکوز کی جہاں انکے خیال میں مردوں کو پسماندہ اور مظلوم رکھا گیا یا تعصب کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ یہ گروپ فیمنزم کے زیر اثر کی جانے والی معاشرتی تبدیلیوں کی مخالفت کرتا تھا اورانکے خیال میں معاشرے اور ریاست کو فیمنزم کے ذریعہ ‘نسائی کردار’ کا حامل بنا دیا گیا اور اسی وجہ سے عوامی ادارے بھی مردوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے لگے۔ 1977 میں کولمبیا، میری لینڈ میں ‘فری مین انکارپوریٹڈ’ کی بنیاد پڑی جو بعد ازاں ‘مردوں کا اتحاد’ بن گئی۔ ‘فادرز اور فیملیز’ کی تشکیل 1994 میں ہوئی۔ اسی طرح 1990 میں برطانیہ میں بھی مردوں کے ایک گروپ نے اپنے آپ کو ایک تنظیم کی شکل میں منظم کیا اور پھر ‘جسٹس فار بوائیز اینڈ مینز’ پویٹیکل پارٹی وجود میں آئی۔

جولائی 2018 کو لندن میں مردوں کے مسائل پر چوتھی عالمی کانفرنس ہوئی جس میں نارتھ امریکہ، یورپ، آسٹریلیا اور ایشیاء کے “مردوں کے حقوق کی تحریک” کے رہنمائوں نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس Mike Buchanan نے بلائی تھی جو برٹش انٹی فیمنسٹ پولیٹیکل پارٹی ‘جسٹس فا ر مینز اینڈ بوائز” کے بانی رہنما ہیں۔ اس کانفرنس میں 24 ممالک سے آئے ہوئے 200 وفود نے شرکت کی اور یہ تین دن تک جاری رہی۔ اب تک دنیا بھر میں مردوں کے حقوق سے متعلق ہونے والے اجتماعات میں سے یہ سب سے بڑا اجتماع تھا اور اسکا مقصد دنیا بھر کے مردوں کو ایک پلیٹ پر جمع کرکے انکے حقوق کیلئے جدوجہد کرنا ہے۔

مردوں کے حقوق کا ایک گروپ mythopoetic men’s movement کہلاتا ہے جنہیں سیاست میں عام طور پر صنفی علیحدگی پسند قرار دیا جاتا ہے اور یہ 1990 کی دہائی میں سامنے آئے۔ اس گروپ نےصدر ریگن اور مسز تھیچر کے دور میں فیمنزم کے خلاف بڑے پیمانے پر جوابی کاروائیاں کیں۔ اسقاط حمل کرنے والوں، فراہم کنندگان اور کروانے والوں پر حملے، ہم جنس پرستوں پر حملے وغیرہ اسی سلسلے کی کڑیا ں ہیں۔ ایک biological traditionalists گروپ بھی ہے جس نے فیمنزم کے خلاف باقاعدہ آواز اٹھائی اور انکے “پدرسری نظام معاشرت” کے مفروضے کو مسترد کیا اور یہ استدلال کیا کہ مرد اور عورت میں حیاتیاتی اور فطری طور پر ایک صنفی اختلاف پایا جاتا ہے اس لئے انکے صنفی کردار کے درمیان مساوات کا حصول ممکن نہیں اور مردوں کے فعال معاشرتی کردار کو مردوں کا جبریا راج قرار دینا درست عمل نہیں۔ صنفی مساوات نہ صرف ایک ناقص تصور ہے بلکہ حیاتیاتی اعتبار سے اسکا حصول ناممکن ہے۔ 2005 میں ہندوستان میں ‘Save Indian Family Foundation’ کی بنیاد پڑی اور 2010 میں انکا دعویٰ تھا کہ انکے 3000 کارکنان ہیں اور انہوں نے مردوں کے حقوق کیلئے نیو دہلی میں احتجاج بھی کیا۔

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی نشونما کے بعد ‘مردوں کے حقوق کی تحریک’ زیادہ منظم طور پر سامنے آئی ہے اور اب انٹر نیٹ پر انکی کئی ویب سائٹس اور فورم پھیل چکے ہیں۔ انکی سب سے مقبول ویب سائٹ ‘A Voice for Men’ ہے۔ اس تحریک کے حامی جب آن لائن رابطہ کرتے ہیں تو ‘لال گولی Red Pill ‘ اور ‘نیلی گولی Blue Pill’ کے استعارے استعال کرکے ایک دوسرے کو اپنی پہچان کراتے ہیں۔ یہ دونوں استعارے فیمنزم کے جبر، ظلم اور جھوٹے پروپیگنڈے کے استعارے ہیں۔ یہ استعارے ‘The Matrix’ مووی کے ایک سین سے لئے گئے ہیں۔ اس مووی کے مرکزی کردار (باغی رہنما) کو سرخ گولی اور نیلی گولی میں انتخاب کی پیشکش کی جاتی ہے جس میں سرخ گولی ایک شعوری حالت مگر ناگوار حقیقت اور مستقبل کے بارے میں ایک غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتی ہے یعنی یہ گولی اسے قید سے تو رہائی دلاتی ہے اور حقیقی دنیا کی طرف بھاگنے کی اجازت دیتی ہے لیکن تلخ حقیقت کے ساتھ اسکا زندہ رہنا محال ہوتا ہے۔ دوسری طرف نیلی گولی ایک خوبصورت جیل کی نمائندگی کرتی ہے اور یہ گولی لینے کے بعد وہ لاعلمی کی طرف واپس چلا جاتا ہے جہاں اسے مصنوعی سکون حاصل ہوجاتا ہے مگر اسکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

4۔ فادر آف موومنٹ اور دیگرترجمان:

مردوں کے حقوق کی وکالت اور ترجمانی کرنے والے ممتاز دانشوروں میں, Herb Goldber, Richard Doyle Warren Farrel اور Asa Baber ہیں۔ بہت سی خواتین اسکالرز بھی مردوں کے حقوق کی وکالت کرتی ہیں ان میں Helen Smith, Christina Hoff Sommers اور Erin Pizzey قابل ذکر ہیں۔

Warren Farrell جو ایک پولیٹیکل سائنسٹسٹ اور مردوں کے حقوق کی تحریک کے پرانے ایکٹوسٹ ہیں، ‘فادر آف دی مینز موومنٹ ‘ کہلاتے ہیں۔ انہوں نے اس تحریک کی نظریہ سازی کے ضمن میں کئی کتابیں لکھیں ہیں۔ انکی ایک کتاب کا عنوان ہے Why men are the way they are۔ اس کاکتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ ‘عورت جس مرد سے متاثر ہو کر اسے پیار کرتی ہے وہ عموماً ایک کامیاب مرد ہوتا ہے اور مرد جس عورت سے متاثر ہو کر اسے پیار کرتا ہے وہ عموماً ایک جوان اورخوبصورت عورت ہوتی ہے۔ عورت کو مرد سے مایوسی اس لئے ہوتی ہے کہ کام میں کامیابی حاصل کرنے والی خصوصیات، محبت میں کامیابی والی خصوصیات سے مختلف ہوتی ہیں اور مرد کو عورت سے مایوسی اس لئے ہوتی ہے کہ جوان اورخوبصورت عورت دینے والی نہیں بلکہ لینے والی ہوتی ہے۔ دینے کی خصوصیت تو اس میں اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اسکی جوانی کی عمر ڈھل چکی ہوتی ہے اور وہ بچوں کی بوڑھی ماں بن جاتی ہے۔

انکی دوسری اور تیسری کتاب کے عنوانات ہیں The Myth of Male Power اور Why Men Earn More۔ ان میں وہ لکھتے ہیں کہ ‘مرد کے بارے میں یہ تاثر غلط ہے کہ اس کے پاس بےحد اور بیجا معاشرتی اور معاشی طاقت ہوتی ہے اور یہ طاقت اچھے مقصد کیلئے استعمال نہیں ہوتی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بات یہاں تک تو درست ہے کہ مرد زیادہ پیسہ بناتے ہیں اور پیسہ تو ایک طاقت ہوتی ہے۔ لیکن مکمل بات یہ ہے کہ مرد جو کچھ کماتے ہیں اسے خرچ عورت کرتی ہے اورمرد کفالت کی اپنی اس ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہوتے اور ذمہ داری کا احساس بیجا طاقت نہیں کہلاتا بلکہ ذمہ دار شخص تو زیادہ محنت کرتا ہے اور جلدی فوت ہو جاتا ہے۔ زیادہ کمانے والے مرد وہ ہوتے ہیں جنکی بیوی اور بچے ہوتے ہیں اور وہ اپنی زیادہ ذمہ داریوں کو نبھانے کیلئے زیادہ کماتے ہیں۔ زیادہ تنخواہ تک جانے والا راستہ زیادہ محنت اور زیادہ ٹیکس کے روڈ سے گزرتا ہے اور زیادہ کمانے والے کی نسبت خرچ کرنے والی کی زندگی زیادہ آرام اور سکون سے گزرتی ہے’۔

انکی تیسری کتاب کا عنوان ہے Women Can’t hear what men don’t say۔ اس کتاب میں وہ بتاتے ہیں طلاق ہوجانے کے بعد دونوں فریقین کو بچوں کی نگہداشت اورتحویل سے متعلق کس طرح گفت و شنید کرنی چاہیے اور بچوں کے مستقبل کی خاطر ایک دوسرے پر الزام تراشی اور انتقام سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اس کتاب میں انہوں نے 26 طریقے بتائے ہیں جن کو اپنا کر بچوں کی مشترکہ نگہداشت اور تحویل حاصل کی جا سکتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ لاکھوں مرد وں اور لڑکوں کو اس لئے مشکلات درپیش ہیں کہ ہم ان پر توجہ نہیں دیتے، فیملی کورٹس کے ذریعے باپ کو بچوں سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ یونیورسٹیز میں وومن اسٹڈیز کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں لیکن مین اسٹڈیز کا مضمون نہیں پڑھایا جاتا، لڑکے، لڑکیوں کی نسبت زیادہ تعداد میں کالجوں سے ڈراپ آئوٹ ہوتے ہیں اور زیادہ خود کشیاں کرتے ہیں۔ ہمیں نہ صرف یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہمارے بیٹے خود کشیاں کیوں کر رہے ہیں بلکہ یہ جاننے کی بھی ضرورت ہے کہ وہ کالجوں سے کیوں ڈراپ آئوٹ ہو رہے ہیں؟ اگر ہم اپنے بیٹوں کے درد، تنہائی اور بیگانگی کی فریاد پر توجہ نہیں دیں گے تو ہم سب خطرے میں پڑ جائیں گے۔

5۔ تحریک کے بنیادی ایشوز

5.1۔ بچوں کی نگہداشت اور فیملی لاز:
مردوں کے حقوق کی تحریک، جن مسائل کی بنیادپر تشکیل پائی ان میں فیملی لاز سب سے اہم ایشو ہے اور مردوں کے تمام گروپوں کے درمیان یہ گہری تشویش کا باعث ہے۔ انکا موقف ہے کہ قانونی نظام اور فیملی کورٹس، طلاق کے بعد بچوں کی تحویل کے معاملات کے دوران مردوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہیں۔ انکا خیال ہے کہ مرد اپنی سابقہ شریک حیات کی طرح بچوں سے رابطے کے حقوق یا والدین کے مساوی حقوق سے محروم کر دئے گئے ہیں۔ مردوں کی حقوق کی وکالت کرنے والے اسکالرز کہتے ہیں کہ فیملی لاز میں ایسی تبدیلی کی جانی چاہیے کہ جس سے والدین کو مشترکہ اور مساوی طور پر تحویل کے حقوق دئے جائیں خواہ ان میں سے ایک فریق ذمہ داری قبول کرنے کیلئے تیار نہ بھی ہو۔ کیونکہ یہ حقوق جب کسی ایک فریق کو ملتے ہیں تو وہ دوسرے فریق سے انتقام لینے کیلئے اس کو بچوں کے سامنے بدنام کرتا ہے اور بچوں کی نظر میں اسے بیگانہ کر دیتا ہے اور بیگانگی کی اس کیفیت میں مردوں کو اپنےبچوں کی مالی معاونت وغیرہ کے سلسلے میں ایک جبر محسوس ہوتا ہے۔ اسی طرح Warren Farrell کا موقف ہے کہ یورپ، امریکہ میں عام طور پر خواتین اپنے حمل کے بارے میں بروقت مرد کو آگاہ ہی نہیں کرتی اور یوں ہونے والے بچے کو شروع دن سے ہی اپنے حیاتیاتی باپ سے ایک فطری تعلق قائم کرنے سے محروم کر دیتی ہیں۔ قانونی طور پر خواتین کو اس بات کا پابند بنانا چاہیے کہ وہ حمل کےظاہر ہونے کے تین، چار دن کے اندر مرد کو مطلع کرنے کی معقول کوشش کریں۔ اسی طرح Warren Farrel یہ بھی کہنا ہےکہ ‘مجھے ان لوگوں پر یقین نہیں آتا جو صنفی مساوات کے چیمپئن بنتے ہیں اورپھر یہ کہتے ہیں کہ عورت کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ فیصلہ کرے کہ اسکے ہاں بچے ہوں یا نہ ہوں یعنی وہ صنفی مساوات کی تعلیم میں یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ بچوں کے ہونے یا نہ ہونے میں باپ کو بھی برابر کا اختیار ہونا چاہیے۔

5.2۔ طلاق کے معاملات:
1960 میں جب مردوں کی تحریک کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے طلاق کے مسئلے پر ہی مردوں میں یکجہتی دیکھنے میں آئی۔ اس سے قبل طلاق اورتحویل کے معاملات میں مردوں کو کنڑول حاصل تھا لیکن طلاق میں اصلاحات کے قانون نے عورتوں کو اس معاملے میں زیادہ سہولتیں فراہم کر دیں نتیجتاً مردوں کو یہ احساس ہوا کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا اور اسی حوالے سے مردوں کے حقوق کے ایک رہنما Rich Doyle نے عدالتوں کے غیر معقول فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے عدالتوں کو سلاٹر ہائوس سے تشبیہ دی۔

امریکہ میں مردوں کے حقوق سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ شادی اور نکاح کے معاملات میں مشکلات، خواتین کی طرف سے جبری طلاق کے حصول، بچوں کی حوالگی کے جذباتی معاملات میں ناکامی اور سنگین مالی نتائج کی وجہ سے مرد حضرات شادی کو ٹریپ سمجھنے لگے ہیں اور لاشعوری طور پر اس معاملے سے اس طرح دستبردار ہوتے جا رہے ہیں جیسے انہوں نے ‘شادی ہڑتال’ کی ہوئی ہو۔ لیکن اس صورتحال کے باوجود امریکہ اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک میں اب بھی مردوں کی طرف سے ایک تہائی سے بھی کم طلاق کے حصول کے مقدمات دائر کئے جاتے ہیں جبکہ خواتین کی طرف سے دو تہائی سے بھی زیادہ مقدمات دائر کئے جاتے ہیں۔

5.3۔ کریمنل جسٹس:
Warren Farrell کا دعویٰ ہے کہ عدالتوں میں خواتین کیلئے تو criminal defensesموجود ہوتے ہیں لیکن مردوں کیلئے نہیں ہوتے۔ پروفیسر Sonja B. Starr کی تحقیق کے مطابق جرم کی تاریخ اور ریکارڈکے مطالعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ خواتین کی نسبت مردوں کو 63 فیصد زیادہ لمبی لمبی سزائیں ملتی ہیں اور عورتوں کی رہائی کے مردوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ Quintin Woolf کے مطابق دونوں قاتل اور مقتول میں مردوں کی زیادہ نمائندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر مہذب ثقافتی رویوں سے ےمردوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ مردوں کے حقوق کے کارکنان اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکہ میں عورتوں کی نسبت مردوں میں خودکشی کے رجحانات زیادہ پائے جاتے ہیں اور مردوں اور عورتوں میں یہ نسبت تین اور ایک کی ہے اور کچھ تحقیقات میں یہ نسبت اس سے بھی زیادہ نظر آتی ہے۔

Murray Straus اور Richard Gelles کی تحقیقات کے مطابق عورتیں تعلقات کے معاملے میں مردوں کے برابر یا ان سے کہیں زیادہ جارحانہ رویے رکھتی ہیں اور معمولی باتوں پر گھریلو جھگڑوں کا آغاز کر دیتی ہیں لیکن عدالتیں عام طور پر مردوں کے خلاف عورتوں کے جھوٹے الزامات کو قبول کر لیتی ہیں۔

5.4۔ تعلیمی امتیازات:
مردوں کے حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تعلیم کے میدان میں لڑکیوں کی لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ حوصلہ افزائی کی جارہی ہے اور اب لڑکوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہونے لگا ہے کیونکہ تعلیم کے شعبوں میں فیمنزم کا اثر رسوخ زیادہ ہے اور تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی زیادہ تعداد خواتین پر مشتمل ہے جو صرف لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں نیز نصاب اور دیگر سہولیات کے حوالے سے بھی لڑکیوں کی ضروریات کو زیادہ فوقیت دی جاتی ہے۔ آسٹریلیا کے ایک ادارے ACARA کے مطابق NAPLAN ٹیسٹوں میں کارکردگی کے حوالے سے صنفی اختلافات کا ایک مستقل نمونہ سامنے آیا ہے اور لڑکیاں باقاعدگی سے لڑکوں کو تحریر، ہجے، گرائمر اور دیگر شعبوں میں عددی طور پر پیچھے چھوڑتی جا رہی ہیں اور یونیورسٹی ایجوکیشن میں خواتین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور مردوں کی تعداد تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے مثلاً آسٹریلیا میں 1974 سے لیکر اب تک یونیورسٹی ایجوکیشن میں مردوں کی تعداد 61 فیصد سے کم ہو کر 46 فیصد پر آگئی ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں بھی اسی طرح کے رجحانات دیکھنے کو مل رہے ہیں اور یہ سب مردوں کے خلاف فیمنسٹ اساتذہ کے رویوں کا نتیجہ ہے۔ برٹش یونیورسٹیوں اور کالجوں کی داخلہ خدمات کی چیف ایگزیکٹو Mary Curnock Cook کا کہنا ہے کہ ‘برطانیہ میں واضح شواہد اور پریس رپورٹنگ کے باوجوداس مسئلے پر سب مقتدر حلقے ایسے خاموش ہیں جیسے بہرے اور گونگے ہوں۔ کیا اب وومن موومنٹ اتنی طاقتور ہو چکی ہے کہ اسکے ڈر کی وجہ سے ہم لڑکوں کیلئے مساویانہ نتائج کے حصول کیلئے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھا سکتے؟’۔

5.5۔ صحت کے مسائل:
مردوں کے حقوق کی تحریک عالمی سطح پر خواتین کے مقابلے میں مردوں کو درپیش صحت کے مسائل اور خواتین کے مقابلے میں مردوں کی زندگی کا مختصر عرصہ کے وجہ امتیازی سلوک میں تلاش کرتی ہے۔ انکے خیال میں فیمنزم کے زور کی وجہ سے خواتین کو صحت کے حوالے سے جو مراعات دی گئی ہیں وہ مردوں کی زندگی کی قیمت پر دی گئی ہیں مثلاً مردوں کے پروسٹیٹ کینسر کی ریسرچ کے مقابلے میں عورتوں کے برسٹ کینسر کی ریسرچ پر زیادہ رقم خرچ ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں Farrellکا استدلال ہےکہ صنعت کاری نےمردوں کے ذہنی تنائو میں اضافہ کیا ہے کیونکہ انہیں گھراور خاندان سے دور دھکیلا جاتا ہے جبکہ خواتین کے تنائو میں کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ انہیں گھر اور خاندان کے قریب کھینچا جا رہا ہے۔ Warren Farrell کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ میں مرد سوشل سیکورٹی کیلئے ادائیگیاں زیادہ کرتے ہیں لیکن مجموعی طور پر خواتین کو زیادہ فوائد ملتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے وہ پندرہ وجوہات بیان کی ہیں جن کی وجہ سے عورتوں کے مقابلے میں مردوں کی جلدی اموات واقع ہو رہی ہیں۔ اسکا مزید استدلال ہے کہ امریکی حکومت نے خواتین کے صحت سے متعلق تو تحقیقاتی دفاتر کا انتظام کر دیا ہے لیکن مردوں کی صحت کے حوالے سے ایسے ہی تحقیقاتی دفاتر کا انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ نیز امریکی وفاقی حکومت مردوں کے مقابلے میں عورتوں پر دگنا پیسہ خرچ کر رہی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ مردوں کو ‘ڈسپوزایبل’ سمجھا جا رہا ہے۔

5.6۔ غیر حقیقی پدری رشتے کے مسائل Paternity Fraud:
مردوں کے حقوق کی تحریک کا کہنا ہے کہ امریکہ میں بہت بڑے پیمانے پر پدری رشتے کے حوالے سے غلطیاں اور فراڈ ہو رہے ہیں۔ بہت بڑی تعداد میں مرد ایسے بچوں کی پرورش کے اخراجات اٹھا رہے ہیں جو انکے حقیقی بچے ہیں ہی نہیں لیکن بس ایسے ہی زبردستی انکے گلے ڈال دئے گئے ہیں۔ اس تحریک کا کہنا ہے کہ اصل باپ تو وہ ہوتا ہے جس کے نطفے سے بچہ پیدا ہو یعنی حیاتیاتی و جینیاتی طور پر اور فطری طور پر جو باپ اور اولاد کا تعلق اور رشتہ بنتا ہے وہی اصل تعلق ہے۔ ‘سماجی باپ’ تو فیمنزم کی خود ساختہ اصطلاح ہے اور اس فراڈ کے تحت بے شمار مردوں کو محض خواتین کے کہنے پر جبراً ان بچوں کا والد قرار دیا جارہا ہے جنکے اصل باپ کا کوئی اتا پتا ہی نہیں۔ اور اس طرح کی خواتین کے سینکڑوں لوگوں کے ساتھ تعلقات ہوتے ہیں اور کیا معلوم اسکے بچے کا حقیقی باپ کون ہے اور کہاں رہائش پذیر ہے؟ چنانچہ محض اس عورت کے کہنے پر جب کسی کو بھی اسکے بچے کا باپ نامزد کر دیا جاتا ہے تو اس طرح اسے ناجائز طور پر مالی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ اس تحریک نے ان مردوں کے حق میں بھرپور مہم چلائی ہے اور انکا مطالبہ ہے کہ بچوں کے اصل حیاتیاتی باپ کی تلاش کے حوالے سے سخت جانچ پڑتا ل اور ٹسٹنگ کے بعدفیصلے کئے جائیں تاکہ کسی کو ناحق مالی نقصان نہ پہنچے۔ بعض قانون ساز حلقوں نے اس مطالبے کی صرف اس حد تک حمایت کی ہے کہ جب تک اصل باپ کی تلاش کا کام مکمل نہ ہوجائے اس وقت تک غلط طور پر نامزد باپ کو بچوں کی کفالت کے سلسلے میں کی جانے والی ادائیگیوں میں ریلیف دیا جانا چاہیے۔

5.7۔ مردوں پر ریپ اور جنسی وائلنس کے الزامات:
مردوں کے حقوق کی تحریک کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ امریکہ میں عصمت دری کے جھوٹے الزامات کو ایک فریب اور دھوکے بازی کے طور پر بھی مردوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ Eugene Kanin اور US Air Force کی تحقیقات کے مطابق عصمت دری کے 40 سے 50 فیصد یا اس سے بھی زائدالزامات غلط ثابت ہوجاتے ہیں۔ ایک کالم نویس Barbra Kay لکھتی ہیں کہ ‘کیپمس میں زیادتی کا الزام لگانے والی طالبات کی اکثریت دراصل ا ن لڑکیوں پر مشتمل ہوتی ہے جنکی کیفیت اس نشوئی کی طرح ہوتی ہے جو ہمیشہ شراب کی بوتل استعمال کر لینے کے بعد شراب بیچنے والے کو گالیاں دیتا ہے کہ اسکی بے ذائقہ شراب مکمل سرور اور لطف مہیا کرنے سے قاصر رہی۔ اگر ان لڑکیوں کی طرف سے لڑکوں کو دی جانے والی دعوتوں کے تمام پیغامات اور رضامندی کے مضحکہ خیز خطوط دیکھ لئے جائیں تو انکے تمام الزامات بے معنی نظر آئیں گے’۔

 اسی طرح مردوں کے حقوق کی تحریک ان قوانین کی بھی مخالف ہے جن کے تحت حقیقی میاں کو اپنی قانونی بیوی کے ریپ کے الزام میں سزائیں دی جاتی ہیں حالانکہ صدیوں سے انسانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ شادی کے اندر جنسی تعلقات، شادی کے اس ادارے کا اٹل حصہ ہیں۔

ہندوستان میں بھی شادی کے مستقبل کے بارے میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ وہاں پر قوانین نے اس حوالے سے عورت کو غیر مناسب حقوق دے دئے ہیں۔ ہندوستان میں مردوں کے حقوق کی ایک تنظیم ‘سیف انڈین فیملی فائونڈیشن’ کے وراج ڈھولیا نے ازدواجی زیادتی کے قوانین کی حالیہ کوششوں کے خلاف کہا ہے کہ اگر ان قوانین کو نافذ کر دیا گیا تو پھر ہندوستان میں کوئی شادی بھی انجام کو نہیں پہنچے گی۔ ہندوستان میں مردوں کے حقوق کے گروپوں نے مردوں کی فلاح و بہبود کی وزارت اور مردوں کیلئے ایک قومی کمیشن بنانے یا خواتین کے قومی کمیشن کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

برطانیہ میں بھی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ ایمس اور لارڈ نارتھ بورن نے ایسی ہی تجویز پیش کی تھی کہ خواتین کی فلاح و بہبودکے لئے جس طرح کی وزارت ہے اسی کی طرح مردوں کیلئے بھی ایک الگ وزارت قائم کی جائے لیکن وزیر اعظم ٹونی بلئیر کی حکومت نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ امریکہ میں 2009 میں ایک کمیشن بنایا گیا جس کے سربراہ Warren Farrell ہیں اور جنکی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ جس طرح عورتوں اور لڑکیوں کیلئے وائیٹ ہائوس کونسل ہے اسی طرح کی ایک کونسل مردوں اور لڑکوں کیلئے بھی بنائی جائے۔

6۔ نتیجہ Conclusion :

Warren Farrell کا کہنا ہے کہ ” میں یقینی طور اس بات سے متفق ہوں کہ خواتین کو اپنی مرضی سے انتخاب کا حق حاصل ہونا چاہیے لیکن جب اس سے مردوں کے انتخاب کے حق کا خاتمہ ہوتا ہو تو پھر میں خواتین کے انتخاب کے حق سے متفق نہیں ہوں۔ میرے خیال میں دونوں اصناف کو ایسے انتخاب کی ضرورت ہے جو دونوں کیلئے زیادہ سے زیادہ جیت کا باعث ہوں”وہ مزید کہتے ہیں کہ ‘ نہ خواتین کے حقوق کی تحریک کو مردوں کو بدنام کرنا چاہیے اور نہ مردوں کے حقوق کی تحریک کو خواتین کو بدنام کرنا چاہیے بلکہ ان دونوں کو اپنے آپ کو اصناف کی آزادی کی تحریک سمجھنا چاہیےجسکا مقصد دونوں کےماضی کے سخت کرداروں سے آزادی حاصل کرتے ہوئے مستقبل کے زیادہ لچکدار کرداروں کی طرف سفر ہے۔

کیتھی ینگ لکھتی ہیں کہ اکیسویں صدی کی ضرورت نہ خواتین کے حقوق کی تحریک ہے اور نہ مردوں کے حقوق کی تحریک بلکہ آج کی ضرورت ایک صنفی مساوات کی تحریک ہے۔ آج کسی مسئلے کا حل جنگ میں تلاش نہیں کیا جا سکتا بلکہ تعصب اور نفرت تو دونوں اصناف کیلئے نقصان دہ ہے۔ نئے اصولوں اور نئے کرداروں کو اپنانے کے چیلنجز مردو خواتین دونوں کیلئے ایک جیسے ہیں اس لئے ہر دو اصناف کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی ہر کوشش کی پذیرائی ہونی چاہیے خواہ یہ کوشش کسی مرد، عورت، سیاہ، سفید، امیر، غریب، بچے، بوڑھے یا جوان کی طرف سے ہو۔ ذرا تصور کریں کہ اگر دائیں پائوں کا جوتا بائیں پائوں میں پہن لیا جائے یا معاملہ اسکے الٹ ہو تو زندگی کیسے گزرے گی؟ ہمددی ہمیشہ افہام و تفہیم کے راستے کھولتی ہے اورافہام و تفہیم انسانوں کے احترام کے مواقع نکالتی ہے۔

Robertson کا کہنا ہےکہ نسائی حقوق کے ماہرین و کارکنان اور مردوں کے حقوق کے ماہرین اور کارکنان یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اصناف کا امتیاز محض ایک نسبت ہے۔ ان میں سے ایک صنف کے حقوق کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کے دوسری صنف پر مرتب ہونے والے اثرات کو جانے اور سمجھے بغیر آپ جو کام بھی کریں گے، کبھی بھی انسانیت پر اسکے مثبت اور دیرپا اثرات مرتب نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ایک صنف کو نظر انداز کرکے جب دوسری صنف کے حقوق کے لئےکوئ منظم کام کیا جائے گا تو پہلی صنف بھی منظم ہو کر اسکے اثرات کو زائل کر دے گی۔ ہمیں بہرحال زندہ رہنے کیلئے ایک دوسرے کی ضرورت ہے اس لئے سب کی بہتری اسی میں ہے کہ افہام و تفہیم سے کام لیا جائے۔ قطع نظر اسکے کہ آپ مرد ہیں یا عورت ہیں اگر آپ کو کوئی تکلیف پہنچی ہے، آپ دکھی ہیں یا غمزدہ ہیں یا اپنے آپ کو دوسروں کی نسبت پسماندہ سمجھتے ہیں تو اسکے لئے دوسرے لوگوں سے بات کریں، ان سے مدد طلب کریں، اپنے قریب تر لوگوں میں سہارا تلاش کریں، کسی سے مشورہ کریں کوئی ذہنی، نفسیاتی اور روحانی معالج تلاش کریں لیکن کبھی بھی ‘عورتوں کے حقوق کی جدوجہد’ یا ‘مردوں کے حقوق کی جدوجہد’ جیسے خوشنما نعروں سے متاثر ہو کر اور ان میں شامل ہو کر اپنے لئے مزید پریشانیاں پیدا نہ کریں۔

References:

  1. The week (Feb 19, 2015), Men’s rights movement: why it is so controversial? https://www.theweek.co.uk/people/62607/mens-rights-movement-why-it-is-so-controversial
  2. Lefkovitz, Alison (July 24, 2018) : Jordan Peterson and the return of the men’s rights movement, https://www.washingtonpost.com/news/made-by-history/wp/2018/07/24/before-jordan-peterson-there-were-mens-rights-activists/
  3. Young men should be furious: inside the world’s largest gathering of men’s rights activists : https://www.opendemocracy.net/en/5050/young-men-should-be-furious-inside-worlds-largest-mens-rights-activism/
  4. Shire, Emily (October 25, 2015) A short guide to the Men’s Rights Movement, The Week: https://theweek.com/articles/457925/short-guide-mens-rights-movement
  5. Cillian, O., Connor (November 23, 2018) Do Men’s Rights Groups Have A Point? : https://www.fashionbeans.com/article/mens-rights-groups/
  6. Rose, Joel (September 2, 2014) For Men’s Rights Groups, Feminism Has Come At The Expense of Men. https://www.npr.org/2014/09/02/343970601/men-s-rights-movement
  7. Kraft, Stephanie, Russell (2019) “The Danger of the Trumped –Up Men’s Rights Movement” https://msmagazine.com/2019/08/05/the-danger-of-the-trumped-up-mens-rights-movement/
  8. S, Yogesh (September 27, 2019) “Feminist Pishachini :How Men’s Rights Movement in India is Attacking Feminism” https://www.newsclick.in/Mens-Rights-Movement-India-Anti-Feminism-Pishachini-Puja-Karnataka
  9. Coston, Bethany, M., & Michael Kimmel (2013) “ White Men as the new victims : Reverse Discrimination case and the Men’s Rights Movement” https://scholars.law.unlv.edu/cgi/viewcontent.cgi?article=1465&context=nlj
  10. Allain, Jacqueline (2015) “Finding Common Ground: A Feminist Response to Men’s Rights Activism” https://onourterms.barnard.edu/article/finding-common-ground/
  11. Staff, Vice (2014) “The Women of the Men’s Rights Movement” https://www.vice.com/en_us/article/znwwva/the-women-of-the-mens-rights-movement-751
  12. Mackinnon, Maeve (2018) “ Men’s rights movement : A cover for violent misogyny https://peoplesworld.org/article/mens-rights-movement-a-cover-for-violent-misogyny/
  13. Men’s rights movement: https://en.wikipedia.org/wiki/Men%27s_rights_movement

مزید مضامین کا مطالعہ کیجئے:

فیمنزم اور مردانگی کا بحران —- وحید مراد

2۔ جورڈن پیٹرسن : فیمنزم کے ستائے ہوئے مردوں کا مسیحا —- وحید مراد

3۔ کیا فیمنسٹ تحریک صنفی مسائل حل کر سکتی ہے؟ —- وحید مراد

4۔ فیمنزم کے غیر سائنسی مفروضے اور اعتقاد —- وحید مراد

پاکستان میں فیمنزم کے کردار کا جائزہ —- وحید مراد

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20