سفرپارے: امجد اسلام امجد کے سفری کالم — نعیم الرحمٰن

0

’’سفر پارے‘‘ امجد اسلام امجدکے سفری کالموں کامجموعہ ہے۔ شاعر، ادیب، ڈرامہ وکالم نگاراوراستادامجداسلام امجد ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ شاعری میں وہ غزل، نظم اورگیت سبھی کہتے ہیں۔ غیر ملکی زبانوں سے تراجم بھی کرتے ہیں۔ ان کے کالم خاکوں، ادبی مسائل، کتابوں پرتبصرے اورتنقیدی مضامین پرمشتمل ہوتے ہیں۔ انہوں نے دنیاکے کئی ممالک کا سفر کیاہے۔ ان پرسفرنامے بھی لکھے ہیں۔ جن میں ’’ریشم ریشم‘‘، ’’شہر در شہر‘‘ اور’’چلو جاپان چلتے ہیں‘‘ شامل ہیں۔ امجداسلام امجد مختلف ممالک کے اسفارکو اپنے کالموں کا موضوع بناتے رہے ہیں۔ ان کے ایسے ہی سفری کالموں کو ’’سفرپارے‘‘ میں یکجا کرکے مختلف ممالک کا ایک عمدہ سفر نامہ حال ہی میں شائع ہوا ہے۔

امجد اسلام امجددورِ حاضرکے بڑے شاعر تو ہیں ہی، ملک کے صفِ اول کے ڈرامہ نگاروں میں ان کا شمارکیا جاتا ہے۔ ان کے کریڈٹ پر ’’وارث ‘‘، ’’وقت‘‘، ’’دن‘‘، ’’سمندر‘‘، ’’رات‘‘ اور ’’دہلیز‘‘ جیسے سپرہٹ ڈرامے شامل ہیں۔ انیس سواسی، چوراسی، اٹھانوے، ننانوے اور دو ہزار ایک میں انہیں بہترین ڈرامہ نگارکے پی ٹی وی ایوارڈ دیے گئے۔ حکومتِ پاکستان نے 1984ء میں امجد اسلام امجدکی خدمات کا اعتراف پرائڈآف پرفارمنس سے کیا، اور 1998ء میں انہیں ستارہ امتیازسے نوازا۔ گذشتہ سال ترکی کے صدرطیب اردوان نے اپنے ملک کاثقافتی ایوارڈ بھی دیا۔ امجد اسلام امجد1997ء میں ایم اے اوکالج سے بحیثیت ایسوسی ایٹ پروفیسر ریٹائر ہوئے۔ اس طرح وہ ایک منفردکالم وسفرنامہ نگارکے ساتھ طالب علموں میں مقبول استادبھی رہے ہیں۔ ان کے کالموں کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ جن میں ’’تیسرے پہرکی دھوپ‘‘، ’’چراغ رہگذر‘‘، ’’باتیں کرتے دن‘‘ اور’’ کوئی دن اور‘‘ شامل ہیں۔ تنقیدی مضامین اورخاکوں کا مجموعہ ’’سچ کی تلاش‘‘ شاعری کا انتخاب’’ ذرا سی بات‘‘ کی بھی بھرپور پذیرائی ہوئی۔ شاعری کے بے شمارمجموعوں میں’’آنکھوں میں ترے سپنے‘‘، ’’سپنے بات نہیں کرتے‘‘، ’’سپنے کیسے بات کریں‘‘، ’’بارش کی آواز‘‘، ’’شام سرائے‘‘، ’’اِتنے خواب کہاں رکھوں‘‘، ’’نزدیک‘‘، ’’یہیں کہیں‘‘، ’’ساتواں در‘‘، ’’فشار‘‘، ’’سحرآثار‘‘، ’’ساحلوں کی ہوا‘‘، ’’محبت ایسادریاہے‘‘، ’’برزخ‘‘، ’’اُس پار‘‘، ’’پھریوں ہوا‘‘، ’’ذرا پھرسے کہنا‘‘ کے علاوہ غزلوں کی کلیات’’میرے بھی ہیں کچھ خواب‘‘ نظموں کی’’ہم اس کے ہیں‘‘ اور، گیتوں کی کلیات ’’سپنوں سے بھری آنکھیں‘‘ بھی شائع ہوکر مقبولیت حاصل کرچکی ہیں۔ حمدونعت کا مجموعہ ’’اسباب‘‘ اور غیر ملکی زبانوں کے تراجم پر مشتمل ’’کالے لوگوں کی روشن نظمیں‘‘ بچوں کے گیتوں پرمبنی تین حصوں پرمیں ’’گیت ہمارے‘‘ بھی شائع ہوچکی ہیں۔ امجد اسلام امجد کی شاعری کی تفہیم پر ڈاکٹر سید تقی عابدی نے ایک بہت عمدہ کتاب ’’امجد فہمی‘‘ بھی لکھی ہے۔

’’سفرپارے‘‘ میں امجداسلام امجد کے بانوے سفری کالم شامل ہیں۔ جن میں ہالینڈ، امریکا، انگلینڈ، کینیڈا، ناروے، آسٹریلیا، اسپین، سنگا پور، سعودی عرب، بحرین، بھارت، آئرلینڈ، دبئی، سویڈن کے سفرنامے شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ملک میں کوئٹہ، اسکردو اور ناران کا سفری احوال بھی شامل ہے۔ امجد اسلام امجد کا شگفتہ اندازِ بیان سفرنامے کی دل کشی اور دلچسپی میں اضافہ کر دیتاہے۔

’’سطح سمندرسے نیچے‘‘کتاب کاپہلاکالم ہے۔ امجداسلام امجدنے قارئین کوہالینڈ سے کچھ یوں متعارف کرایاہے۔ ’’ہالینڈ کا نام پہلی بار اسکول کی کسی درسی کتاب میں نظرسے گزرا تھاجس میں یہ بھی بتایاگیاتھاکہ یہ پورے کاپوراملک سطح سمندرسے نیچے واقع ہے، اس لیے اسے نیدر لینڈبھی کہا جاتاہے۔ اس کادوسراتعارف ٹیولپ کے پھول تھے جن کے تاحد نظر پھیلے ہوئے تختے بعض انگریزی اورہندوستانی فلموں کے کچھ مناظر کی معرفت دیکھنے کاموقع ملا، آگے چل کراس تعارف میں اردو اورپنجابی کے نامور لکھاری حسین شاہد، منفردناول نگار فاروق خالد اورپاک ٹی ہاؤس کے دنوں کے دوست اسد مفتی بھی شامل ہوگئے اوران سب پرمستزاد نوآبادیاتی دور کاوہ تاریخی حوالہ تھا جب صنعتی انقلاب کے نتیجے میں یورپ کے کچھ ممالک ایشیااورافریقاکی غریب، کمزور اور پسماندہ آبادیوں پرچڑھ دوڑے، تجارتی منڈیوں کے حصول کی اس دوڑ میں اگرچہ برطانیہ سب سے آگے نکل گیامگرشروع شروع میں اسے فرانس، ہالینڈ اورپرتگال سمیت کئی چھوٹے چھوٹے ملکوں سے بھی مقابلہ کرناپڑا، ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہواکہ ہالینڈ لوگ اوران کی زبان ڈچ کہلاتی ہے۔ ہالینڈکی ایک اورخوبی اس کاشہر’دی ہیگ‘ ہے جہاں دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی عدالت انصاف قائم ہوئی اس عدالت کی کارکردگی سے تیسری دنیاکے پسماندہ ممالک ممکن ہے بوجوہ بہت زیادہ مطمئن نہ ہوںمگریہ اس طرح کی عدالتوں سے بہرحال بہت مختلف اور بہتر ہے۔ ‘‘

اس ایک پیرے میں مصنف نے ہالینڈ اوراس سے متعارف کرانے والے ادبی دوستوں کا ذکر بھی کردیا۔ مشہورہے کہ 1955ء میں بیگم رعنا لیاقت علی کی سفارت کے دورمیں ہالینڈ میں ’پاکستان ہاؤس‘ کی عمارت اس وقت کی ملکہ جولیانانے سفارت خانہ پاکستان کو بطورعطیہ دی تھی۔ لیکن سفیر اعزاز چوہدری نے امجد اسلام امجد کو بتایا کہ ملکہ جولیانا کا تعاون صرف مشورے کی حدتک تھا۔ ان دنوں جنگ اورسیلاب کے اثرات اوراس عمارت سے وابستہ جرمن قبضے کی یادوں کے حوالے سے یہ بے حد سستی مل رہی تھی اس لیے اس کاانتخاب کیا گیا اور اس کی خریداری کامکمل ریکارڈسفارت خانے کے کاغذات میں محفوظ ہے۔ ہالینڈ پھولوں کاملک ہے۔ یہاں ایک ایساعلاقہ بھی ہے جس میں چھتیس ہزاراقسام کے پھول پائے جاتے ہیں۔ سفرکے ساتھ ایسی بہت سی معلومات جگہ جگہ ملتی ہیں۔

’’شگاگو میں یومِ آزادی2014‘‘ کی تقاریب میں شرکت کے لیے امجداسلام امجد اور مزاح گو شاعر انور مسعود امریکی دارالحکومت مدعوکیے گئے۔ توانہیں ایک دلچسپ تجربے سے گزرناپڑا۔ انہیں کے الفاظ میں جانیں۔ ’’لاہورسے بارہ اگست کی صبح چاربجے روانہ ہوکرہم اسی تاریخ میں سہ پہرچار بجے شگاگوکے ہوائی اڈے پراترتوگئے مگراس چکرمیں دس گھنٹے اِدھر سے اُدھر ہوگئے۔ اگرچہ یہ معاملہ ٹائم زونزکے فرق کی وجہ ہوا لیکن یہ احساس بہرحال بے حدحیران کن ہے کہ آپ ایک بارگزراہوا وقت (جس کے بارے میں طے ہے کہ گزرا ہواوقت کبھی واپس نہیں آتا) دوبارہ گزاررہے ہیں۔ اب اگراسی بات کوٹائم زون کے حوالے سے ہٹ کردیکھاجائے توبعض اوقات یہ اوربھی پیچیدہ ہوجاتاہے۔
نجانے کب تھا، کہاں تھا، مگر یہ لگتاہے
یہ وقت پہلے بھی ہم نے کہیں گزارا ہے !‘‘

’’شگاگو سے شیمپئن تک‘‘ میں مصنف لکھتے ہیں۔ ’’ہمارااگلاپڑاؤ مشہوریونیورسٹی ٹاؤن شیمپئن تھا جو بذریعہ کار شگاگو سے دو گھنٹے کے فاصلے پر تھا۔ شہرکے نام سے یادآیاکہ یہ ایک مشہورشراب کانام بھی ہے جس کی بوتلیں عام طور پر عالمی سطح کے کھیل کے مقابلوں کے فاتحین کوبھی پیش کی جاتی ہیں اورپھریہ بھی یادآیاکہ چند برس قبل پیرس سے فرینک فرٹ جاتے ہوئے راستے میں شیمپئن نامی ایک قصبہ آیاتھا جس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اس شراب کی پہلی فیکٹری یہاں قائم ہوئی تھی اوراسی رعایت سے یہ نام بھی رکھاگیاہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ وہ شیمپئن شہر مئے ارغوانی کے لیے مشہور تھا اوریہاں صہبائے علم کا دور دورہ ہے۔ یعنی نشہ مشترک ہے صرف اس کے رنگ بدل گئے ہیں۔‘‘
اس قسم کاموازنہ کوئی شاعر ہی کرسکتاہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ نیویارک میں مین ہٹن، بروکلین، جیکسن ہائٹس، کوئنز اور کونی آئی لینڈ کے بعد اب لانگ آئی لینڈ بھی ایشیائی بالخصوص پاکستانی کھانوں میں خود کفیل ہوتاجارہاہے۔
امریکی معیشت پریہودیوں کے غلبہ کے حوالے سے امجداسلام امجد لکھتے ہیں۔ ’’یہودی قوم نے دنیاکے معاشی نظام اور میڈیا پر کنٹرول کی وجہ سے امریکی حکومت اورعوام کواپنے پنجے میں جکڑرکھاہے مگران کی گرفت ڈھیلی نہ پڑنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اوراسلامی دنیاکے دیگرمما لک ان دونوں میدانوں میں اپنی طاقت اورصلاحیت کاصحیح اورجائز استعمال نہیں کرتے۔ مجھے یقین ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد بدلتی ہوئی دنیامیں ہم نے اپنا کردار صحیح طریقے سے ادا کیا ہوتا تو صورتِ حال پھربھی شائدکسی حدتک توخراب رہتی مگریہ حال نہ ہوتاکہ اٹھاون مسلمان ممالک اپنے تمام تر ظاہر اور پوشیدہ وسائل اوردنیاکی کل آبادی کاتقریباً پانچواں حصہ ہونے کے باوجود ایسے مجبور گمنام اوربے نام ہوتے، بلاشبہ اقبال کے زمانے سے لے کراب تک فرنگ کی جان پنجہء یہود میں چلی آرہی ہے مگریہ کوئی تقدیر کا لکھا ہوا فیصلہ نہیں ہے۔ یہ صورتِ حال بدل بھی سکتی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کوبدلنے اور صحیح رُخ پرڈالنے کا ڈھنگ سیکھ لیں۔ آئیے اس کاآغازاپنی ذات اوراپنے وطن سے کریں۔

میں بے نوا ہوں صاحبِ عزت بنا مجھے اے ارضِ پاک اپنی جبیں پر سجا مجھے
میں حرف حرف لوحِ زمانہ پہ درج ہوں میں کیا ہوں! میرے ہونے کامطلب سکھامجھے‘‘
یہ الفاظ ایک حساس اور دردمند دل سے نکلے ہیں۔ دوستوں اوران کے اہلِ خانہ سے ملاقات، دنیا بھر میں منعقدہ مشاعروں میں شرکت، مختلف ملکوں کے حالات اورافسرشاہی کی کارکردگی پریہ حساس امجداسلام امجد اکثر بے چین ہو اٹھتا ہے، اور صرف مسئلہ ہی نہیں اس کاحل بھی پیش کرنے کی کوشش کرتاہے کہ اگران پرعمل کیا جائے تو بہت بہتری ممکن ہے۔ لوئی ول میں امجداسلام امجدکے میزبان ڈاکٹراسد اسمٰعیل تھے۔ جن کاتعلق مولانا حسین احمد مدنی کے خاندان سے ہے اور انہوں نے گھرمیں ایک بہت خوبصورت اور خاصی بڑی لائبریری بھی بنارکھی ہے۔ جس میں اردو کی دینی، شعری اور نثری کتابوں کے ساتھ ساتھ ابن صفی کی کتابوں کا ایک پوراسیٹ بھی موجود ہے جس نے ان کی بہت سی یادوں کو تازہ کیا، اور انہوں نے اعتراف کیاکہ اسکول اور کالج کے دنوں میں شفیق الرحمٰن اورابن صفی ہی تھے جن کی وجہ سے ان سمیت پوری نسل میں اردوپڑھنے کاشوق پروان چڑھا۔ کاش ہمارے دور کے نوجوانوں کوبھی ایسا کوئی ادیب مل سکے جو انہیں پڑھنے کی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہو۔

امجد اسلام امجدنے سفر کتھاؤں میں قارئین کی دلچسپی کے ساتھ ایسی ای میلز کابھی ذکر کیاہے۔ جن میں کہا جاتا ہے کہ ہمیں اس سے کوئی دل چسپی نہیں کہ آپ کہاں کہاں گئے، کن لوگوں سے ملے اوروہاں کیاکچھ دیکھا اور محسوس کیا۔ آپ سیاسی اورحالات حاضرہ سے متعلق کالم کیوں نہیں لکھتے، جوعام طور پرلکھے جاتے ہیں۔ جس کے جواب میں ان کا کہنا ہے کہ’’میں ان احباب کی تنقید کااحترام کرتاہوں مگرروٹین کا کالم میراکام نہیں ہیں میں اردگرد پھیلی ہوئی زندگی کے تمام رنگوں اورمسائل کواپناموضوع بناتاہوںان میں کبھی کبھاریہ سفرنامچے بھی شامل ہوجاتے ہیں یوں بھی دنیامیں آج تک کوئی ایسی چیز ایجاد نہیں ہوئی جس پرسب متفق اورراضی ہوں۔ کہ بقول ِ تاثیر ’مقامِ جنبشِ ابرونکل ہی آتے ہیں‘۔ ‘‘

مصنف نے میاں عبدالشکورکی ’’الفلاح اسکالرشپ اسکیم‘‘ کابھی بھرپور تعارف کرایا۔ جونہ صرف پاکستان کے ضرورت مند اور اہل طالب علموں کے لیے وظائف، اسپانسرشپ اوران کی کفالت کا انتظام بھی کرتی ہے۔ امجداسلام امجد نے کئی ممالک کے دورے اور مشاعروں میں شرکت اسی اسکیم کے لیے فنڈریزنگ کی خاطرکیے۔ انگلینڈمیں اردو کانفرنس میں بھی شرکت کی۔ فیض احمدفیص کی صاحبزادی منیزہ ہاشمی کی تقریراپنی طوالت، اندازِ بیان اور موضوع کے باعث منصف نے کے لیے خوش گوار حیرت ثابت ہوئی۔ منیزہ ہاشمی نے فیض صاحب کی یادوں کے ساتھ ’’فیض گھر‘‘ کابھی تفصیلی تعارف کرایا۔ جس میں پندرہ منٹ کی ڈاکومنٹری بھی شامل تھی اوربڑے موثر انداز میں اپیل کی کہ اہلِ نظر اورادب دوست حضرات آگے آئیں اوراس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے دامے درمے دل کھول کرحصہ لیں کہ صرف فیض کے خاندان کے لیے اس کامالی بوجھ اٹھانا ممکن نہیں۔

اردو کانفرنس کے آخر میں مشاعرہ تھا۔ جس کے بارے میں بتایاگیاتھاکہ کل اٹھارہ شاعر اپنا کلام سنائیں گے اور طے شدہ فہرست سے باہر کسی کو نہیں پڑھوایا جائے گا مگر ہوا وہی جو اکثر ایسے موقعوں پرہوا کرتا ہے یعنی فرمائشی شاعر کسی نہ کسی کی سفارش سے شامل ہوتے چلے گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہال انتظامیہ سے ایک گھنٹہ اضافی وقت لینے کے باوجود مشاعرہ جم نہیں پایا۔ گویا مشاعروں کی بدانتظامی بیرون ملک بھی پہنچ گئی ہے، جس پر قابو پانا ہوگا۔

ہیوسٹن کے قیام میں امجداسلام امجد نوجوت عرف زویابرنگ کے مہمان تھے۔ جن کاتعلق سکھ مذہب سے ہے۔ وہ لدھیانہ سے بیاہ کر پچیس سال پہلے اپنے شوہرانمول کے ساتھ یہاں آئیں۔ شادی سے پہلے انہیں اردو اسکرپٹ پڑھنا نہیں آتا تھا مگر شاعری سے طبعی مناسبت کی وجہ سے انہوں نے نہ صرف اردوپڑھنے میں مہارت حاصل کرلی بلکہ اچھے بڑے شعر کی پہچان کے علاوہ ہزاروں اشعاربھی ازبر کرلیے اور انٹرنیٹ پراپنی طرح نوواردانِ بساطِ اردو کا ایک ایساحلقہ بھی قائم کرلیا جس کانقطہء اشتراک صرف اورصرف زبان اور شعروادب کی محبت ہے۔ ان سے امجد صاحب کی ملاقات آٹھ سال قبل ہوئی تھی۔ پھران سے ایسارشتہ استوارہواکہ اب دونوں ایک دوسرے کے گھرکے افراد کے طور پرجانے جاتے ہیں۔ نوجوت، امجد کی بیگم کی بھی دوست ہیں اوران کے شوہر بھی اس دوستی کو خوش دلی سے دیکھتے ہیں۔ نوجوت ریاضی کی استاد ہیں۔ ان کے والدامرجیت سنگھ انگریزی کے پروفیسر اورلدھیانہ کی ایک اہم علم دوست شخصیت ہیں، چند برس پہلے وہ بھی امجدکے گھر آچکے ہیں۔

نوجوت عرف زویاکے تفصیلی تعارف کے بارے میں امجداسلام امجد نے ایک دلچسپ واقعہ لکھاہے۔ ’’ہمارے دوست روحی کنجاہی کانام اس اعتبارسے خاصاگمراہ کن ہے کہ اکثرلوگ انہیں خاتون سمجھ بیٹھتے ہیں جبکہ ان کااصل نام امرالہٰی ہے۔ روحی نے بتایاکہ ایک زمانے میں وہ زرعی ترقیاتی کارپوریشن میں ملازم تھے اوران کی میز پر ’فنون‘ کا تازہ شمارہ رکھا تھا۔ جس میں ان کی اور ناصرکاظمی کی غزلیں آمنے سامنے شائع ہوئی تھیں، اتفاق سے ان کے ایک افسرنے قریب سے گزرتے ہوئے رسالہ اٹھایا تو وہی صفحہ سامنے آگیا، وہ صاحب کچھ دیرغزلیں پڑھتے رہے اور پھر رسالہ واپس میز پر رکھتے ہوئے بولے۔ ’امرالہٰی تمہیں پتہ ہے یہ روحی کنجاہی، ناصرکاظمی سے پھنسی ہوئی ہے‘۔‘‘

امجداسلام امجدکی نظموں، غزلوں، گیتوں، کالمز اور دیگرسفرناموں کی طرح ’’سفرپارے‘‘ میں بھی ایسے بے شمار دلچسپ واقعات موجود ہیں۔ اس کے ساتھ مختلف ممالک میں اردوشعرا اورادبااوران کی اردو ادب کے لیے مصروفیات، ان ممالک کا اپنے ملک سے موازنہ اوربہت سی اور دلچسپیاں موجود ہیں۔ یہ سفرنامچے امجد اسلام امجد کی کتابوں میں ایک اچھا اضافہ ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20