اب تیرے ذکر پر ہم بات بدل دیتے ہیں — شازیہ ظفر

0

سوال: مندرجہ ذیل شعر کی تشریح بیان کجیئے۔

اب تیرے ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں
کتنی رغبت تھی تیرے نام سے پہلے پہلے

حوالہ:
اس شعر کے خالق برصغیر پاک و ہند کے مشہور شاعر احمد فراز صاحب ہیں۔ احمد فراز سوشل میڈیا کے مقبول ترین شاعر ہیں یوں تو یہاں پایا جانے والا ہر دوسرا شعر بلا کھٹکے ان ہی سے منسوب کر دیا جاتا ہے لیکن یہ شعر باقاعدہ، باضابطہ اور خالصتاً ان ہی کا ہے۔ اور ان کی ایک مشہور غزل “ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے” سے لیا گیا ہے۔

تشریح:
اس شعر میں شاعر کراچی والوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک وہ بھی وقت تھا جب کراچی کے شہری ملک کے کسی بھی حصے میں برسنے والی برسات پر وفورِ اشتیاق سے تڑپ اٹھتے تھے۔۔ اور وہاں کے لوگوں سے فرمائش کیا کرتے تھے کہ اے بھیا۔ اے بہن اپنی یہ تھوڑی سی برسات ہمیں بھی بھیج دینا۔

مصرعہ ثانی میں شاعر شہریوں کی پرانی یادیں دہراتے کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا زمانہ تھا وہ بھی کہ برسات کراچی کے باسیوں کو بہت مرغوب ھوا کرتی تھی۔ ادھر آسمان پہ کالی کالی بدلیاں منڈلائی نہیں اور کراچی والوں نے سیلفیاں بنائی نہیں۔۔۔۔ خدا گواہ ہے کہ شہر کے کسی بھی کونے میں اگر دو بوند بھی برسیں تو شوقین مزاجوں نے اسٹیٹس لگا لگا کر پورے سوشل میڈیا میں دھوم مچا دی کہ دیکھو دنیا والو! آج ہمارے ہاں بارش ہوئی ہے۔۔ شہر کی سگھڑ بیبیاں اپنے سرتاجوں کو فون کرکر کے پوچھا کرتیں۔۔ کہاں ہیں آپ؟ کب تک پہنچ رہے ہیں؟ میں نے کڑاھی چڑھا دی ہے پکوڑے تلنے کو بیسن بھگو دیا ہے۔۔ ادھر سرتاج فرمایا کرتے۔۔ ارے بس پہنچ رہا ہوں ٹریفک جام میں پھنس گیا تھا۔۔ چلو اچھا ہوا تم نے کال کرلی میں رستے سے سموسے خریدنے ہی لگا تھا۔۔۔۔ لیکن یہ سب تو ماضی کے قصے تھے۔

مصرعہ اولیٰ میں شاعر شہریوں کی تازہ ترین قلبی کیفیات کی ترجمانی کرتے ھوئے فرماتے ھیں کہ بارش کی محبوبیت کا معاملہ اب قصۂ پارینہ بن چکا ھے۔۔ پہلے شہری اس ساون کی خاطر دو ٹکیا کی نوکری داؤ پہ لگانے پہ تلے رہتے تھے لیکن جب سے اس دو ٹکیا کی برسات نے شہر کی معصوم عوام کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگایا ھے۔۔ اب کراچی والے برسات کے نام پر کانوں کو ہاتھ لگا رہے ہیں۔۔ وہ اپنی پوری حیاتی کی برسات ایک ہی دن میں دیکھ چکے ہیں لہذا جہاں کہیں weather forecast میں برسات کا تذکرہ آئے کراچی کے شہری گھبرا کے موضوع ہی بدل لیتے ہیں۔۔ اگر کسی چینل پہ بارش کی پیشنگوئی آنے لگے تو ہاتھوں سے چھوٹتے ریموٹ کو سنبھالتے ہوئے ترنت وہ چینل ہٹا دیتے ہیں۔۔ بلکہ ملک کے کسی دوسرے حصے سے بھی برسات کی اطلاعات موصول ہوں تو کراچی واسیوں کی گھبراہٹ کا وہ عالم ہوتا ہے کہ جیسے کہنا چاہتے ہوں

ٹھیک ہے جراتِ انکار نہیں ہے لیکن
ہم تری “برسات” پہ پہلو تو بدل سکتے ہیں

اب برسات سے نہ وہ پہلے جیسی رغبت رہی نہ پہلی سی انسیت۔ پلوں کے نیچے سے —مطلب کراچی کے انڈر پاسز کے نیچے سے بہت سارا پانی گذر چکا— یوں لگتا ہے کہ بارش کا دھارا اس شہر کے باسیوں کے سارے لطیف جذبات، احساسات اور امنگوں کو اپنے ساتھ ہی بہا کر لے گیا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20