فقہ حنفی کا معروف متن ’مختصر القدوری‘ اور’ صاحبِ قدوری‘ — ایک مطالعہ

0

تحریر: حافظ محمد زوہیب 

عہدِ صحابہ کے بعد تابعین اور تبع تابعین کا دور آیا تو دنیا کے تقریباً بیشتر ممالک میں اسلامی حکومتیں قائم ہوگئیں۔ جب اسلام عرب سے نکل کر عجم میں پہنچا تو نت نئے مسائل آنا شروع ہو گئے۔ اُس وقت کی ضرورت کے پیش ِ نظر فقہاء اور اُن کے شاگردوں نے مسائل کے حل کے لیے کتابیں لکھنا شروع کردیں۔ مختلف ممالک میں اہلِ علم نے قرآن و حدیث کو سامنے رکھ کر اجتہاد ات کیے۔ جیسے امام ابو حنیفہ کوفے میں بیٹھ کر مسائل کا استنباط کر رہے تھے تو امام مالک مدینہ میں بیٹھ کر لوگوں کے مسائل پر کام کر رہے تھے۔ جن لوگوں نے امام مالک کی رائے کو ترجیح دی انھیں مالکی اور جن لوگوں نے امام ابو حنیفہ کی رائے کو ترجیح دی اُن کو حنفی کہا گیا۔ یہی معاملہ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا بھی رہا۔ اُن کے علاوہ اُس دور میں اور بھی مشہور و معروف فقہائے کرام تھے،جیسے امام اوزاعی،امام عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ، امام داؤ د بن سلیمان الظاہری، وغیرہ۔ لیکن جس فقہ کو کرہ ٔعرض پر سب سے زیادہ شہرت ملی اورجن کے ماننے والے اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ہیں وہ ’’فقہ حنفی‘ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کا ہر مدرسہ، چاہے وہ کسی بھی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتا ہو وہاں حنفی مسلک کی کتب لازمی پڑھائی جاتی ہیں جن میں خاص طور پر متون اربعہ: القدوری (مختصرالقدوری) علامہ ابوالحسین احمد بن محمدبن احمدالقدوری، المختار (الاختيار لتعليل المختار) مجد الدین عبد اللہ بن محمود بن مودود الموصلی، الكنز(كنز الدقائق)، ابو البركات حافظ الدين عبد الله بن حمد بن محمود النسفی اور الوقایہ ازتاج الشریعہ محمود بن صدر الشریعہ احمد بن عبید اللہ المحبوبی البخاری شامل ہیں۔ یہاں مشہور متن ’مختصر القدوری‘ کا تعارف اور صاحب ِ قدوری کے حالات ِز ندگی کا مختصراً جائزہ لیا جائے گا۔

امام احمد قدوری

نام : احمد بن محمداحمد المعروف بہ قدوری ۳۶۲ ھ میں پیدا ہوئے، ابو الحسن کنیت تھی (حدائق الحنفیہ،مولوی فقیر محمد جہلمی ص ۲۱۶،مکتبہ ربیعہ،سلام مارکیٹ بنوری ٹاؤن، کراچی، س ن)۔۔۔ عراق میں ریاست مذہب حنفیہ کی آپ کی طرف منتہی ہوئی۔

قدوری کہنے کی وجہ: قدوری آپ کو اس لیے کہا کرتے تھے کہ آپ قصبہ قدور کے رہنے والے تھے۔ (حدائق الحنفیہ،مولوی فقیر محمد جہلمی ص ۲۱۶) مورخ ابن خلکان نے اپنی تاریخ “وفیات الاعیان” میں ذکر کیا ہے کہ قدوری قدور کی طرف نسبت ہے جو قدر بمعنی ہانڈی کی جمع ہے۔ صاحب ِ مدینۃ العلوم فرماتے ہیں: ’قدوری صنعتِ قدور (دیگ سازی) کی طرف نسبت ہے یا اس کی خریدو فروخت کی طرف،یا قدور اُس گاؤں کا نام ہے جس کے امام موصوف باشندے تھے۔‘‘ (الصبح النوری ص،۱۸)

فقہ و حدیث کی تعلیم : قدوری نے ’محمد ابن یحیٰ الجرجانی سے فقہ پڑھی اور محمد بن علی سوئید المودب اور عبید اللہ بن محمد الجو شائی سے حدیث کا درس لیا۔ (دائرہ معارف جلد ۱۶/۱ ص ۳۱۷،زیر اہتما م، دانش گاہ پنجاب، لاہور،طبع اول، ۱۹۷۸ء)

تلامذہ : آپ کے شاگردوں میں مشہور محدث و مؤرخ الخطیب بغدادی کا نام قابلِ ذکر ہے۔ (دائرہ معارف جلد ۱۶/۱ ص ۳۱۷) اس کے علاوہ امام ابو نصر احمد بن محمد فقیہ نے آپ سے فقہ پڑھی اور نیز آپ کی اس کتاب کی مختصر شرح لکھی۔(حدائق الحنفیہ ص ۲۱۶)

علمی مقام : علامہ سمعانی ؒ آپ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’آپ فقیہ صدوق تھے اور عمدہ عبارات لکھتے اور ہمیشہ قرآن مجید پڑھا کرتے تھے۔‘‘ (حدائق الحنفیہ، ص ۲۱۶،) خطیب بغدادیؒ فرماتے ہیں: ’میں نے آپ سے حدیث لکھی ہے، آپ صدوق تھےا ور حدیث کی روایت کم کرتے تھے۔ (الصبح النوری شرح اردو مختصر القدوری، مترجم مولانا محمد حنیف گنگوہی،ص ۱۸، دارالاشاعت کراچی، ستمبر ۲۰۰۲ء)

تصانیف: آپ کی مشہور تصانیف میں ’مختصر القدوری‘ کتاب التقریب (اس میں مسائل کو دلائل کے سمیت رد کیا ہے)‘ ’کتاب التجریر (جس میں حنفیوں اور شافعیوں کے باہمی اختلاف کا بیان ہے)‘ ’مسائل الخلاف (اس میں دلائل سے تعرض کیے بنا امام صاحب اور آپ کے اصحاب کے مابین فروعی اختلا ف کا ذکر ہے )‘ اور شرح ادب القاضی شامل ہیں۔

مناظرے : آپ چوں کہ حنفی مذھب سے تعلق رکھتے تھے اس لیے آپ نے جہاں بھی مناظرے کیے وہ حنفی مذھب کے دفاع ہی میں کیے،خاص کر آپ نے’اپنے شافعی معاصر فقیہ ابو حامد السفرائینی سے کئی مناظر ے کیے (دائرہ معارف جلد ۱۶/۱ ص ۳۱۷)

وفات: امام قدوری نے شہر بغداد میں بعمر ۶۶ سال اتوار کے روز ۵ رجب ۴۲۸ھ کو داعی اجل لبیک کہا اور اسی روز ’درب ابی خلف میں مدفون ہوئے‘ اس کے بعد آپ کی نعش کو ’شارع منصور‘ کی طرف منتقل کر لیا گیا۔ اب آپ ابو بکر خوارزمی حنفی کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔ (الصبح النوری، ص ۱۹)

’مختصر القدوری ‘ ایک جائزہ

’یہ تقریباً ایک ہزار سالہ قدیم ترین متن ہے جس میں ۶۱ کتب اور ۶۲ باب ہیں اور بیسیوں کتابوں سے تقریباً بارہ ہزارضروری مسائل کا انتخاب کیا گیا ہےاور عہدِتصنیف سے آج تک پڑھایا جارہا ہے۔‘(الصبح النوری ص ۱۸) اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ کہ ’جس اختصار اور جامعیت کے ساتھ امام قدوری نے فقہ حنفی کے مسائل اور جزئیات کو اس میں سمویا ہے اس کی اور کوئی مثال نہیں ملتی۔ (ماہنامہ الشریعہ، مارچ ۲۰۰۶،اشرح الثمیری علی مختصر القدوری، ص ۴۷، گجرانوالہ)

اس کی قبولیت کی شان یہ ہے کہ صدیوں سے یہ کتاب مدارس اور مکاتب ِ دینیہ میں داخل درس ہے۔ اگر اس کتاب کو صحیح ذوق کے ساتھ پڑھا اور سمجھا جائے تو حنفی فقہ کی منتہی درسی کتاب ہدایہ کا سمجھنا آسان اور سہل ہوجاتا ہے۔

کتاب کا اسلوب:

 اس کتاب میں امام قدوری نے ’ اُس وقت تک فقہ حنفی میں جتنے اجتہادات ہوئے تھے اور جتنے مسائل کا جواب دیا گیا تھا اُن میں بنیادی اور اہم مسائل کا انتخاب کر کے جمع کردیا‘ (محاضراتِ فقہ، ڈاکٹر محمود احمد غازی، ص ۴۸۷،الفیصل ناشران و تاجران کتب، اردو بازار لاہور، جون ۲۰۰۵ء)

امام قدوری رحمہ اللہ نے یہ کتاب لکھتے وقت جو اسلوب اپنایا ہے وہ بہت عام فہم اور سادہ ہے۔ عبارت کے اندر پیچیدگی اور غیر مانوسیت نہیں ہے۔ اس کتاب کے۶۱عنوانات کو”کتاب”اور۶۲ عنوانات کو “باب” کےنام سے شروع کیا ہے۔ فاضل مصنف کا عمومی طرز یہ ہے کہ پہلے “کتاب” یا “باب” کے نام سے مرکزی عنوان قائم کرتے ہیں، پھر تفصیل کرتے وقت عبارت کے آغاز میں ہی (مرکزی عنوان کی مناسبت سے) اس کا شرعی حکم بتاتے ہیں یا پھر اُس کی تعریف بیان کرتے ہیں۔ ’مثلا: “باب الاذان” کے نام سے مرکزی عنوان قائم کیا ہے، پھر اس کی تفصیل کرتے ہوئے آغاز میں ہی اذان کی شرعی حیثیت کو واضح کر دیا ہے۔ چنانچہ لکھا ہے:الاذان سنۃ للصلوات الخمس والجمعۃ دون ما سواھا۔صفحہ۲۹پر مرکزی عنوان “باب الجماعۃ” ہے۔ اب طالب علم کو معلوم نہ تھا کہ جماعت کا شرعی حکم کیا ہے؟یہ فرض ہے، واجب ہے، یا سنت ہے؟ چنانچہ عبارت کی ابتداء میں ہی مصنف نے جماعت کا شرعی حکم بتا دیا۔ فاضل مصنف رحمہ اللہ لکھتے ہیں: والجماعۃ سنۃ مؤکدۃ۔‘ (ماہنامہ فقیہ،مفتی محمد یوسف اکتوبر ۲۰۱۴،ص۳۴،مرکزِ اہلست والجماعۃ)۔ ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ ’اس کے اکثر مسئلے آیت، حدیث، قولِ صحابی یا فتوی تابعی سے مستنبط ہیں۔ بہت کم مسئلے ہیں جو قیاس کر کے لکھے گئے ہیں۔ (الشرح الثمیری علی المختصر للقدوری، شارح حضرت مولانا ثمیرالدین قاسمی، الجزء الاول، ص ۲۰، ناشر، ختم ِنبوت اکیڈمی، لندن۔ س ن)

تراجم و شروحات :

 اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ ’تقریباً تیس شرحیں اردو اور عربی میں لکھی گئیں۔ خاص بات یہ ہے کہ صاحبِ ہدایہ نے شرح کے لیے اسی کتاب کے متن کو منتخب کیا۔ (الشرح الثمیری علی المختصر للقدوری، ص ۲۰)۔ اس کتاب کی چند معروف شروحات اور تراجم یہ ہیں :

·        الجوھرۃ النیرۃ۔یہ شرح امام ابوبکر بن علی الحدادی کی تصنیف ہے۔
·        زاد الفقہاء۔ اس کے مصنف محمد بن احمد ابو المعالی رحمہ اللہ ہیں۔
·        اللباب فی شرح الکتاب۔شیخ عبد الغنی الغنیمی المیدانی نے اسے تصنیف کیا ہے۔
·        المجتبیٰ۔یہ شرح احمد بن مظفر شمس الائمہ کردری رحمہ اللہ نے لکھی ہے۔
·        البیان فی شرح المختصر۔ اس کے مصنف کا نام محمد بن رسول ہے۔
·        الشرح الثمیری علی المختصر للقدوری۔ یہ شرح چار جلدوں پر مشتمل ہے۔یہ شرح مولانا ثمیر الدین قاسمی کی ہے
·        التسہیل الضروری لمسائل القدوری۔یہ مختصر قدوری کا فارسی ترجمہ ہے۔ مترجم کا نام استاد غلام الدین ہے۔

چند مزید شروحات یہ ہیں :

·        شرح قدوری۔ از محمد شاہ بن الحاج حسن رومی۔
·        تصحیح القدوری۔ از علامہ زین الدین بن قاسم بن قطلوبغا۔
·        شرح قدوری۔ از امام احمد بن محمد معروف بابن نصر الاقطع (دو جلدوں میں)۔
·        النوری شرح القدوری۔ از محمد بن ابراہیم رازی۔
·        شرح القدوری۔ از شہاب الدین احمد سمرقندی۔
·        تنقیح الضروری حاشیۃ قدوری۔ از مولانا نظام الدین کیرانوی۔
·        حاشیہ قدوری۔ از شیخ الادب مولانا اعزاز علی۔

حرفِ آخر:

یقیناً اسلاف نے ہمارے لیے جو سرمایہ چھوڑا ہے اُس کی قدرو منزلت اُس وقت ہی ہوگی جب ہم اُس سرمایہ سے استفادہ کر یں۔ ان اسلاف کی چھوڑی ہوئی کتب وہ خزانہ ہیں کہ جن میں سے لوء لوء و والمرجان اُس وقت تک نکلتے رہیں گے جب تک ہم استفادہ کرتے رہیں گے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20