ہم سفر، ایک نام دو آپ بیتیاں —– نعیم الرحمٰن

0

’’ہمسفر‘‘ کے نام سے دو خواتین لکھاریوں نے آپ بیتیاں تحریر کی ہیں۔ حمیدہ اخترحسین رائے پوری نے اسی کی دہائی میں ’’ہمسفر‘‘ کے نام سے آپ بیتی لکھی۔ حمیدہ اختر نے ستر سال کی عمرکے بعد پہلی مرتبہ قلم اٹھایا اور ایک بے مثال کتاب تحریر کی جس نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ بیگم حمیدہ اختر حسین متحدہ ہندوستان کے نامور پولیس آفیسر اور اُردو کے پہلے جاسوسی ناول نگار ظفر عمر زبیری کی صاحبزادی تھیں۔ ان کی شادی معروف افسانہ نگار، لغت نویس اور ماہر لسانیات اخترحسین رائے پوری سے ہوئی۔ اخترحسین نے آپ بیتی ’’گردِ راہ‘‘ کے نام سے تحریر کی۔ شوہرکی وفات پر حمیدہ اختر بہت تنہا اور مایوس تھیں۔ تب مرحوم جمیل جالبی نے انہیں اپنی یادیں لکھنے کا مشورہ دیا اور اس کے لیے ایک رجسٹر بھی فراہم کردیا۔ حمیدہ اختر حسین نے ’’ہمسفر‘‘ کے نام سے آپ بیتی لکھی، جسے گردِ راہ کی توسیع بھی کہا جاسکتا ہے۔ آپ بیتی لکھنے کی داستان بھی دلچسپ ہے۔ اس بارے میں حمیدہ اختر حسین بتاتی ہیں۔

’’نصف صدی سے کچھ زیادہ وقت، میں ڈاکٹر اخترحسین رائے پوری کی ’ہم سفر‘ رہی۔ 2 جون 1992ء کو ایک ہفتے کی علالت کے بعداپنی اس تاریک دنیاسے رشتہ توڑ کر، بلند و بالا روشن مقام پر پہنچ گئے اور میں سکتے کے عالم میں اپنے تخت پربیٹھی دنیا و مافیہا سے بے خبر، سامنے اخترکی کرسی کی طرف پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی رہی۔ اختر کے دوست جمیل جالبی اسلام آباد سے پرسے کے لیے آئے۔ ان سے بے ساختہ کہا۔ ’بھائی میرے! مجھے بتائیں کہ ماضی کی جو فلمیں میرے دماغ میں کھل رہی ہیں جن کو میں سوتے جاگتے دیکھ رہی ہوں ان کا کیا کروں؟‘ انہوں نے کہا۔ ’ایسا کریں کہ جو بھی آپ سامنے چلتی ہوئی فلم پر دیکھ رہی ہیں، بس قلم پکڑ کر کاغذ پر لکھتی جائیں۔‘ میں آپ کو قلم اور کچھ رجسٹر بھیج دوں گا۔ ایک رجسٹرختم ہوتے ہی آپ وہ مجھے بھیج دیجئے گا۔ صہبا لکھنوی اسے افکار میں قسط وارشائع کردیں گے۔ انہیں نے درجن بھر قلم اور چند رجسٹر بھیج دیے۔ کچھ دن گذرے، تو فہمیدہ ریاض آئیں۔ میں نے ان سے کہاکہ جمیل جالبی نے مجھے چکر میں ڈال دیا، میرے دماغ میں ہردم بیتے دنوں کی فلمیں جو کھلتی رہتی ہیں ان کو وہ مجھ سے قلم بند کرانا چاہتے ہیں۔ میں ان سے وعدہ کر بیٹھی ہوں۔ پراب یہ کیسے کروں؟ فہمیدہ نے کہاکہ لیجئے آپ کو بتائے دیتی ہوں۔ ایک رجسٹر اور قلم لا میرے پلنگ کے پاس قالین پربیٹھ گئیں۔ ہاں تو آپ جو بھی فلم دیکھ رہی ہیں۔ باآواز بلند دیکھیں، میں شروع کرتی ہوں، آپ ختم کرلیجئے گا۔ میں بولنے لگی اور وہ لکھنے لگیں۔ ایک پیراگراف لکھا اور چلی گئیں۔ میں نے پڑھا تو حیران رہ گئی کہ یہ کیا ہوا؟ مجھے فہمیدہ کا جملہ یاد آیا میں شروع کرتی ہوں آپ ختم کرلیجئے گا۔ تخت پر بیٹھ کرمیں نے لکھنا شروع کردیا۔ چنددن میں رجسٹر بھر گیا۔ ڈر کے مارے ورق پلٹ کرب ھی نہ دیکھا کہ پڑھا تو خود پھاڑ دوں گی۔ بھلا کبھی باہتر سالہ بڑھیانے بھی کچھ لکھا ہوگا۔‘‘

نامور محقق اور نقاد مشفق خواجہ نے ’’ہم سفر‘‘ کے بارے میں لکھاہے۔

’’ایک ایسی خاتون خانہ کا تصور کیجئے جن کی عمر ستر برس سے زائد ہے اور جنہوں نے ساری زندگی امورِخانہ داری کی نذر کر دی۔ ان کی زندگی کے دوہی مقصد تھے۔ بچوں کی بہترین تربیت اور مصافِ زندگی میں شوہر کی پروانہ وار رفاقت۔ ان دونوں مقاصد میں انہیں بے مثال کامیابی حاصل ہوئی۔ بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنی اپنی دنیاؤں میں کھو گئے اور شوہر ادب اور زندگی کے میدانوں میں کامیابیوں کی داستانیں چھوڑ کر اس منزل کی طرف روانہ ہوئے جو ہر انسان کا مقدر ہے۔ یہ خاتون جب بھرپور زندگی گزار کر تنہا روی کے سفرکے دوران اپنے آپ سے ہم کلام ہوئیں تو انہوں نے محسوس کیا کہ وہ تنہا نہیں۔ یادوں کا ایک ہجوم ہے جو چراغوں کی صورت ان کے راستے کوروشن کررہاہے۔ ڈاکٹرجمیل جالبی زندگی بھرکرم خوردہ مخطوطات سے ادیبوں کو برآمد کر تے رہے ہیں، مگریہاں معاملہ ایک جیتی جاگتی خاتون کا تھا جن میں جالبی صاحب کی چشمِ جوہر شناس کو ایک طرح دار ادیبہ نظر آرہی تھی۔ بیگم حمید ہنے اپنے نامور شوہر کے ساتھ گزرے ہوئے لمحوں کی روداد کچھ اس طرح بیان کی ہے کہ یہ کتاب بیک وقت ’گردِ راہ‘‘ کا تکمہ بھی بن گئی ہے اور مصنفہ کی آپ بیتی بھی۔ ڈاکٹر اخترحسین رائے پوری نے گردِ راہ اس زمانے میں لکھی جب ان کی بینائی جواب دے چکی تھی۔ ان کی پوری کتاب ان کے زبانی بیان کی تحریری شکل ہے۔ خود لکھنے کے بجائے بول کرلکھوانے سے بہت فرق پڑ جاتا ہے۔ لکھوانے والا لکھنے والے کی زحمت کا خیال کرکے تفصیل کے بجائے اجمال سے کام لیتاہے اور بعض حالات و واقعات کو چھوڑ دیتاہے۔ ہم سفر میں مصنفہ نے ڈاکٹر اختر کے ساتھ گزرے لمحوں کے ساتھ کئی اور دنیاؤں کی سیربھی کرائی ہے۔ ان کے والدمحترم ظفر عمر جو اپنے زمانے کے مقبول ترین ادیبوں میں سے ایک تھے۔ انہیں پہلی مرتبہ اس کتاب میں پہلی دفعہ قریب سے دیکھا اور دکھایا گیا ہے۔ اس کتاب کو اگر اہم شخصیات کانگار خانہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا۔ قائد اعظم، مہاتما گاندھی، پنڈت جواہرلال نہرو، سروجنی نائیڈو، خالدہ ادیب خانم، قاضی عبدالغفار، ڈاکٹر محمد اشرف، ن م راشد اور دوسرے بہت سے مشاہیر سے ہم نہ صر ف ملتے ہیں بلکہ ان میں سے بعض کو بہت قریب سے دیکھتے بھی ہیں اور ان کے بارے میں ہمیں بہت سی نئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ حیرت بابائے اردو مولوی عبدالحق سے مل کرہوتی ہے۔ مولوی صاحب کی شخصیت پرعلم اور سنجیدگی کے جو دبیز پردے پڑے ہوئے ہیں، انہیں ہٹا کر مصنفہ نے ہمیں ایسے شخص سے ملوایا ہے جس کی خوش مزاجی اور زندہ دلی لڑکپن کی شوخیوں کو بھی مات کر دیتی ہے۔ یہ شخص اپنے سے چھوٹوں میں، انہیں کی سطح پر آکر وارسِن و سال کے فرق کو مٹا کر، اس طرح گھُل مِل جاتاہے کہ علمی و تحقیقی کاموں میں مصروف مولوی عبدالحق سے بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے۔ یہ کتاب مروجہ کتابی زبان میں نہیں لکھی گئی۔ مصنفہ نے اپنی روزمرہ کی زبان میں گفتگو کی ہے۔ اسلوبِ بیان ایسادل کش کہ پڑھنے والا۔ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔ کے طلسم کا اسیر ہوجاتا ہے اسے محسوس ہوتاہے کہ وہ کوئی کتاب نہیں پڑھ رہا، مصنفہ کی زبان سے ان کی باتیں سن رہا ہے اور بیان کردہ واقعات کواپنی آنکھوں سے دیکھ بھی رہا ہے۔‘‘

’’ہم سفر‘‘ کی مقبولیت سے حمیدہ اخترکے اعتماد میں اضافہ ہوا، اور انہوں نے کئی مزیدکتابیں لکھیں۔ جن میں شخصی خاکوں کے دو مجموعے ’’نایاب ہیں ہم‘‘ اور ’’چہرے مہرے‘‘ شامل ہیں۔ ’’نایاب ہیں ہم ‘‘ میں طویل ترین خاکہ مولوی عبدالحق کاہی ہے۔ ’’چہرے مہرے‘‘ میں کل چارخاکے ہیں۔ جن میں ایک پراسرار کردار صائمہ، ڈاکٹر جمیل جالبی، انور مقصود اور فاطمہ ثریا بجیاکی والدہ پاشی اورمس نیوس کے خاکے شامل ہیں۔ حمیدہ اخترنے ایک ناول ’’وہ کون تھی‘‘ بھی لکھا۔ جس کے بارے میں ان کاکہناہے کہ ناول کے تمام کردار حقیقی ہیں۔ نانیوں دادیوں کی سنائی کہانیاں ماضی میں اے آر خاتون نے لکھی تھیں، جو آج بھی شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ حمیدہ اخترنے بھی ’’سدابہار‘‘ کے نام سے ایسی کہانیاں تحریر کیں۔ اس باکمال مصنفہ کاانتقال 20اپریل 2009ء کو ہوگیا۔ ان کی تمام کتب اب نایاب ہیں اوربازار میں دستیاب نہیں۔ اگر ان کی اشاعت نو کا اہتمام کیاجائے توقارئین ان کا بھرپور خیرمقدم کریں گے۔

زہرا منظورالہٰی کی کہانی بھی حمیدہ اخترسے بہت ملتی جلتی ہے۔ وہ لاہورکے ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کی شادی مشہور مصنف اورپنجاب کے سابق کیرٹیکروزیراعلیٰ شیخ منظور الہٰی سے ہوئی۔ شیخ منظور الہٰی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ انہوں نے ایک عمدہ سفر نامہ ’’درِدلکشا‘‘ خودنوشت مضامین کامجموعہ’’سلسلہ روزوشب‘‘ لکھا۔ دونوں کتابیں شیخ صاحب کی خوبصورت نثراور دل پذیر اسلوب کی وجہ سے اردو کلاسیک میں شمارکی جاتی ہیں۔ شیخ منظور الہٰی نے اسپین میں مسلمانوں کی دورِ حکمرانی پر ایک عمدہ کتاب ’’نیرنگ اندلس‘‘ بھی لکھی۔ ان کی آخری کتاب ’’ہم کہاں کے داناتھے‘‘ خودنوشت تھی۔

زہرا منظورالہٰی ملک کی معروف سماجی کارکن ہے۔ خواتین اوربصارت سے محروم لوگوں کے لیے انہوں نے بہت فلاحی کام کیے اور ’’عاطفت‘‘ نامی ادارہ چلارہی ہیں۔ ان کی کتاب’’ڈھونڈوگے ہمیں ملکوں ملکوں‘‘ افسانوی انداز میں خاکے ہیں۔ ’’سلگتی زندگی بے نور آنکھیں‘‘ بصارت سے محروم افراد کی کہانیاں ہیں۔ زہرا منظورالہٰی نے اپنی خودنوشت سوانح حیات کا نام’’ہمسفر‘‘ ہی رکھاہے۔ اس خود نوشت میں ماضی کالاہوراورپرانی تہذیب جیتی جاگتی نظرآتی ہے۔ ان کی نثرشوہرکی طرح بہت سادہ اوردلنشین ہے۔ ’’ہمسفر‘‘ کاآغازایک دلچسپ واقعے سے ہوتاہے۔ ’’گذشتہ صدی کی پہلی دہائی میں اندرونِ شہرکنوئیں کی منڈیرکے ساتھ کھڑی ایک جواں سال لڑکی ایک دو ڈھائی سالہ لڑکے کو نہلارہی تھی۔ وہ اپنا حسین چہرہ چادر میں چھپائے تھی۔ پاس آکرایک شخص نے بچے کاپاؤں پکڑلیا۔ تلوے کے تِل کو غور سے دیکھا۔ ’واہ واہ‘ وہ للکارا’’بڑا چانن کرے گا۔ بڑا بھاگوان ہے۔ اس کی ماں کوجاکرکہہ دینا۔ یہ بڑا چانن کرے گا۔‘‘ لڑکی بچے پرجھکی تھی۔ مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ کچھ حیران، کچھ خوفز دہ، وہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔ وہ کون تھا اور اسے کیسے معلوم تھاکہ میں اس کی ماں نہیں ہوں؟ گھرآکریہ قصہ دہرایا۔ ماں، دادی نہال ہوہوگئیں۔ عزیزوں، رشتہ داروں میں یہ بات مشہور ہوئی۔ اس نامعلوم شخص کی کھوج لگائی گئی مگر کچھ بھی پتہ نہ چلا۔ یہ ستی ساوتری بائیس سالہ بیوہ میری نانی تھی اور وہ گورا چٹا، روشن جبین، چمکتی آنکھوں والا بچہ ان بھتیجا اور میرا باپ تھا۔‘‘

زہرا منظورالہٰی لکھتی ہیں۔

’’حالاتِ حاضرہ سے مایوس ہوکرمجھے ماضی پرستی کاعارضہ لاحق ہوگیا ہے، میں نے سوچا، اس موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے ان گلی کوچوں کی یاتراکرآؤں جومیرے بزرگوں کی گزرگاہیں تھیں۔ وہ مکان ایک نظر دیکھ لوں جن کے مکین میرے ذہن پر عظمت و بزرگی کے ان مٹ نقوش چھوڑ گئے ہیں۔ داداجان کی انگلی پکڑے حویلی کی طرف جاتے ہوئے کیسی کیسی بارعب، پرکشش شفیق صورتیں دکھائی دیتیں۔ کالے پھندنے والی سرخ ترکی ٹوپیاں، کہیں نئی نکور، کہیں پچکی ہوئی بے رنگ، مگر بیشتر صحت مندمطمئن چہرے، نیچی نگاہیں، نستعلیق گفتار، ماتھوں پرسجدوں کے نشان، قریب سے گزرتے ہوئے سلام، دعا، دعائیہ کلمے اوربس۔ یہ توداداجان کے ہم عصر تھے۔ چھوٹی پود کی جانب سے عزت و تکریم دیدنی تھی۔ یہ تونہ تھاکہ سبھی اللہ والے تھے، نیک بھی تھے، بدنام بھی، چورتھے تو چوروں کی طرح چھپتے تھے، بد نام تھے، وہ معاشرے میں اپنامقام پہچانتے تھے۔‘‘

’’ہمسفر‘‘ میں مختلف افراد کے چھوٹے چھوٹے خاکے کتاب کی دلچسپی میں اضافہ کرتے اورمتعلقہ شخصیات سے قاری کا تعارف کراتے ہیں ۔ نانی اماں کا پیار بھرا ذکر دیکھیں۔

’’نانی جان کی شادی ہوئی۔ پندرہ سالہ معصوم، دھان پان دلہن کو سرسے پاؤں تک زیورمیں لاد دیا گیا۔ سونے کے تاروں والا پراندہ، سونے کی ایڑیوں والی جوتی، سچے کندن کے بھاری زیورات، کہنے والوں نے کہا دلہن سے زیادہ وزنی زیورات تھے جواسے پہنائے گئے تھے۔ اس پرناناجی جیساخوبرووجیہہ جوان، اپنے اپنے تعلق کے مطابق دیکھنے والے کہیں خوش ہوئے، کہیں حسداُبھراتوکہیں اس کی خوش نصیبی پر رشک۔ نصیب میں کیا لکھا تھا، یہ کون جانتاتھا۔ ناناجان کے لیے پچیس برس کی عمرمیں ایک دانت نکلوانا جان لیواثابت ہوا۔ نامی اماں اس وقت اکیسویں سال میں تھیں۔ امی تین برس کی تھیں۔ اس اندوہناک حادثے کے بعد کی دعاؤں کا مرکز وہ بن باپ کا بیٹا تھا جو دو ماہ بعد پیداہوا۔ نانی اماں کی بے صدا دعا اللہ کے ہاں باریاب ہوئی۔ برادری والوں کا ایکا کارگر ثابت ہوا۔ یتیم بچی کواس کاحق دلوایا گیا۔ جائیداد، مال و دولت اکیس سالہ بیوہ کے قدموں میں ڈال دی گئی۔ مگراس کے دردکادرماں کون کرتا۔ دکھیارن نے بیوگی کاجوگ لیا، اپنے غموں کا بھاری بوجھ سینے سے لگائے میکے لوٹ آئیں۔ خوشیاں، خواہشیں، امنگیں سب وہیں دفن کر آئیں۔ اپنی طویل زندگی کی بقایا چھ دہائیاں اپنے بھائی کے ہاں ایک پاکباز راہبہ کی طرح گزاردیں۔ نانی اماں کی شخصیت مسحورکن طور پر شفیق تھی۔ زندگی کی تلخیوں اور محرومیوں نے ان کی طبیعت پرکوئی ناگوار نقوش نہیں چھوڑے تھے۔ وہاں کوئی امید، کوئی توقع کسی سے وابستہ نہیں تھی۔ خدمت و ایثار کا پیکر! ان کی زبان سے شکوہ کا ایک حرف بھی کبھی کسی نے نہ سنا ہوگا۔ لاکھوں کی مالک نے تمام آسائشوں سے یوں منہ موڑ لیا جیسے دنیاکی رنگینیوں کو دیکھا ہی نہیں۔ ایک بیٹی ان کی متاعِ حیات تھی۔ بس چلتا تو آسمان کے تارے اس کے قدموں پر نچھاور کر دیتیں مگر بچپن سے شیرکی نظررکھی۔ جائیداد پراس کی جوتیاں رکھ کردیکھ بھال کی۔ ہوش سنبھالا تو سب کچھ اس کے ہاتھ میں سونپ کر دستبردار ہو گئیں۔ وہ بھی ایسے کہ پھرکسی نے ان کے پاس پانچ روپیہ بھی نہ دیکھے ہوں گے۔ امی کی اُترن ان کالباس تھا۔ خاوند کے مرنے کے بعد نیا کپڑا ان کے تن کو نہیں چھوا تھا۔ نجانے امی کے بچپن میں کس کی اُترن اس مقدس شریر کو ڈھانپتی تھی۔ اوپر والے کے سامنے ہاتھ پھیلائے رہتیں، دعائیں دینا ان کا شیوہ تھا۔ دعائیں مانگتی تھیں تو اپنے علاوہ ہرایک کے لیے۔ اس دنیا  \سے اگر لگاؤ تھا تو دوسروں کے حوالے سے، اپنی طرف تو انہوں نے کبھی دیکھا ہی نہ تھا۔‘‘

ایساہی ایک دلچسپ کردار بابا فجو کاہے۔ جس سے اس دورکی تہذیب اور ملازموں سے سلوک کابھی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

’’بابا فجو ملازم نہیں، اس خاندان کاقابلِ احترام بزرگ تھا۔ اس کی طبیعت میں غصہ، محبت، خدمت اور رعب کا حسین امتزاج تھا۔ داداجان کو گھر میں چھوٹے بڑے، بچے، رشتہ دار، محلے والے سب میاں جی کہتے تھے۔ بابافجو میاں کہہ کربات کرتا۔ وہ داداجان، اباجان کو ڈانٹ بھی دیتاتھا۔ آپ تو باد شاہ ہیں، کچھ نہیں جانتے۔ وہ غصے سے کہتااوراپنی بات منوا لیتا۔ ہمت اور توانائی کایہ عالم تھاکہ ان دنوں ڈھائی من اناج کی بوری کند ھے پر اٹھا کرحویلی کی تین منزل کی سیڑھیاں بلادقت چڑھ جاتے تھے۔ حویلی کے معاملات پراسے مکمل اختیارتھا۔ محلہ میں اس کا اپنا منفرد مقام تھا۔ بابافجو کی بہن ماسی بختاور کا درجہ کسی خونی رشتے سے کم نہ تھا۔ ہم امرتسرمیں تھے تواُس کے بچے اپنے اپنے گھروں والے تھے۔ وہ سوسی کی سرخ اورکالے رنگ کی دھاری دارتہہ بند، ڈھیلا کُرتا پہنے رہتی۔ پاؤں میں سرخ چمڑے کی ٹھپی جوتی، گلے میں کالے سوترمیں پروئے چاندی کے ہار، کان اوپر سے نیچے تک چھدے تھے۔ پاؤں میں چاندی کے موٹے کنگن۔ وہ اپنے سانولے جھریوں بھرے چہرے پر بے رنگ زیورات سجائے عہدِ پارینہ کاکوئی مجسمہ دکھائی دیتی۔ جھنک منک کرتی جب جی چاہتا آتی، ہفتوں رہتی۔ دادی اماں کے ساتھ ان کے پلنگ پربیٹھ کے بیٹے بہوؤں کے قصے کرتی۔ نانی اماں کے تخت پران کے ساتھ نمازیں پڑھتی۔ اباجان اورامی کو ڈھیروں دعائیں دیتی واپس چلی جاتی۔ اباجی سے ماسی کی ایک ہی فرمائش ہوتی۔ ’میرے جنازے پرسوٹ پہن کر آنا۔ صدقے جاواں برادری میں میری عجت ہوجائے گی۔‘ اباجی ہنس دیتے۔ پھرکئی برس بعد جب وہ وقت آیا تو میں نے دیکھا اباجان نے سخت گرمی کے باوجود خاموشی سے اپنا سفید شارک اسکن کاسوٹ نکالا اور ماسی کی وصیت پوری کرنے چلے گئے۔‘‘

ملازموں کایہ احترام اور وضعداری کاآج کے دور میں تصوربھی نہیں کیاجاسکتا۔ جولائی کے شروع میں ڈلہوزی کی تیاری شروع ہوجاتی۔ ڈھا ئی ماہ کے قیام کے دوران گھروالے ہی نہیں کئی رشتہ داربھی ساتھ ہوتے۔ شاید ہی کوئی سال ہو جب خاندان کی بڑی بوڑھیوں میں سے دو تین ساتھ نہ گئی ہوں۔ ان میں سے چنداس عمرکوپہنچ چکی تھیں۔ جب بزرگ گھر کی دہلیز سے باہرقدم رکھتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔ ایسی کنبہ پروری کی مثال اب ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گی۔

ورما امرتسر کے بہت امیرلوگوں میں سے تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا سخت بیمار ہوگیا, بچنے کی امیدکم تھی۔ زہرا منظورالہٰی کے والد ڈاکٹر امیرالدین نے آپریشن کیا۔ وہ صحت یاب ہوگیا۔ پھرورما اوران کی بیوی اباجان کے پرستاربن گئے۔ چندسال بعد ورما کی بیوی آئی اوراس نے بتایاکہ ورما نے اسی بیٹے کو معمولی رقم دیکر گھرسے نکال دیاکہ جاؤثابت کروکہ تم میری جائیداد کے وارث بننے کے قابل ہو۔ ماں کابراحال تھاپرپتی دیو کا فرمان حرفِ آخرتھا۔ بیٹااس امتحان میں کامیاب ہوا۔ کسی ورکشاپ میں ملازمت کی۔ دوگنی رقم لاکرباپ کے سامنے رکھ دی۔ بیٹے کواس کا جائز مقام واپس مل گیا۔ اس قسم کی تربیت اور محنت کشی کی ترغیب مسلمان گھرانوں میں دیکھنے میں نہیں آتی۔

کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے انگریز افسرواپس جاچکے تھے۔ غیرمسلم پاکستان چھوڑ کرجارہے تھے۔ ڈاکٹرامیرالدین پہلے مسلمان سرجن تھے جنہوں نے پروفیسرآف سرجری کا عہدہ سنبھالا۔ اس دور میں ہزاروں زخمی مشرقی پنجاب سے آرہے تھے۔ انہوں نے کئی کئی گھنٹے آپریشن کیے۔ مسلسل کھڑے رہنے سے ٹانگوںکی نسیں اذیت ناک تکلیف دیتیں۔ اسی دوران چودہ اگست کاوہ دن بھی آیاکہ پاکستان آزاد ہو گیا۔ رات بارہ بجے ریڈیوسے اس کااعلان سناگیا۔ گھرمیں بنا جھنڈا لہرایا۔

حمیدہ اخترحسین کی طرح زہرا منظورالہٰی بھی شادی کے بعدریل گاڑی پررخصت ہوئیں۔

’’نصیحتوں پر مبنی تقریرکرنے کا ہمارے ہاں دستور نہ تھا۔ صرف ایک سبق اباجی نے مجھے اس وقت پڑھایا تھا جب میں شادی کے بعدکیمبل پورجارہی تھی۔ منظور وہاں ڈپٹی کمشنر تھے۔ امی اور ابا جی مجھے اسٹیشن پررخصت کرنے آئے تھے۔ جب اباجان نے کہاتھا۔ ’بیٹا!یاد رکھنا ہمیشہ اپنے سے نیچے کی طرف دیکھاکرتے ہیں اوراللہ کا شکر اداکرتے ہیں۔ دوسری بات اگربیوی نہ چاہے تو گھر حرام مال نہیں آتا۔ منظور نیک نام ہے اورمجھے تم پر بھروسہ ہے۔ بہت محتاط رہنا اور منظور کی غیر موجودگی میں اس کے کسی دوست سے نہیں ملنا۔‘‘

ڈاکٹرامیرالدین کے ساتھی ڈاکٹروں کے بارے میں مصنفہ کہتی ہیں۔ ان میں سے کسی ڈاکٹرنے اپنی لیے کوٹھیاں نہیں بنائیں۔ پیسے کے لالچ میں پرائیویٹ ہسپتال تعمیرنہیں کیے۔ اپنے گھرکا ایک کمرہ ان کا کلینک ہوتا تھا۔ زندگی کاکوئی مشن ہو تو پھران باتوں کو سوچنے کانہ وقت ہوتاہے نہ خیال آتاہے۔ ڈاکٹر محمد جمال بھٹہ نشتر میڈیکل کالج کے بانی کی صورت اُبھرے۔ کالج کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنی زندگی وقف کردی۔ انتھک محنت اور لگن سے کامیاب ہوئے ہزاروں طالب علم اس کالج سے ڈاکٹربن کر نکلے ہوں گے۔

جنرل ظفرمحی الدین بھی پاکستان کے صفِ اول کے ڈاکٹرتھے۔ انہوں نے زہرا کو بہن بنایا۔ ڈاکٹر ظفر بہت عرصہ پریذیڈنٹ ہاؤس کے فزیشن رہے۔ وہ اس سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے رہے لیکن ہرآنے والا صدر انہیں اپنے ساتھ نتھی کرلیتا۔ جنرل ایوب کو ہرنیا کا آپریشن کراناتھا۔ حواریوں نے ملک سے باہرجانے کا مشورہ دیا۔ ڈاکٹر ظفر نے زہراکے والد امیرالدین کانام پیش کیا۔ صدرایوب رضا مند ہوگئے۔ پریذیڈنٹ ہاؤس میں چھوٹا ساتھیٹر تیار کیاگیا۔ ڈاکٹر امیرالدین نے کامیاب آپریشن کیا۔ صدر ایوب نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب بتائیے میں آپ کے لیے کیاکرسکتاہوں۔ انہوں نے جواب دیا۔ جناب میری تین بیٹیاں ہیں۔ تینوں اپنے گھروں میں خوش ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بہت کچھ دیاہے۔ مزیدکسی چیز کی حاجت نہیں۔

یہ تھے ماضی کے حکمران جنہیں بیماری کے لیے بیرون ملک جانے کی ضرورت نہ تھی۔ اورڈاکٹرجنہیں صرف مریض کی صحت سے غرض ہوتی تھی۔ ڈاکٹرخواجہ صادق حسن جس ہمدردی اورتشویش سے مرض کے ہرپہلوپرنگاہ رکھتے آدھا مرض تویوں ہی جاتارہتا۔ ڈاکٹر بلقیس فاطمہ کنگ ایڈورڈ کالج سے اعزاز کے ساتھ فارغ التحصیل ہوئیںباہرسے ڈگریاں لے کر واپس آئیں۔ گنگارام ہسپتال سے منسلک ہوگئیں۔ صبح سے شام تک کام کرتیں۔ گائناکالوجسٹ تھیں تاخیرنہ ہونے کے خیال سے ہسپتال کے پچھواڑے گھربنالیا۔ لاہورکی زینت لیب کے بارے میں بہت لوگوں نے سناہوگا۔ مگریہ زینت کون تھیں؟ بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ ڈاکٹرزینت کنگ ایڈورڈمیڈیکل کالج کی طالبہ تھیں۔ انہوں نے ساری زندگی پس پردہ رہ کرلیبارٹری چلائی۔ ہررپورٹ پران کے دستخط ہوتے۔ ان کے شوہرڈاکٹرمبشرحسن کسی زمانے میں وزیر بھی رہے۔ شایدیہ واحدوزیرہوں گے جن کی بیوی کی جھلک بھی کسی نے نہیں دیکھی۔ زینت لیبارٹری لاہورکی بہترین اور جدیدآلات اورمشینری سے مزین لیب ہے۔ لاکھوں کی آمدنی کے باوجود دونوں میاں بیوی نے دوکمروں کے گھر میں زندگی گزاردی۔ اللہ کے ایسے پراسرار بندے نایاب نہیں توکمیاب ضرور ہیں۔

اس کے برعکس دورِحاضر کے ایک ڈاکٹرکا واقعہ زہرامنظورالہٰی نے بیان کیاہے۔

’’آپا اپنے میاں کے ساتھ ایک پرائیویٹ ہسپتال گئیں۔ وہاں الٹراساؤنڈ کروایا گیا۔ رپورٹ آئی تو لکھا تھا، پتہ پتھروں سے بھرا ہے۔ فوری آپریشن کی ضرورت ہے۔ آپارپورٹ لیکر ہسپتال کی مالکن کے دفترمیں گئیں، کہا۔ یہ آپ کے ریڈیولوجسٹ کی رپورٹ ہے۔ تو پھر؟ انہوں نے حاکمانہ انداز میں کہا۔ پھر یہ کہ ان کاپتہ پانچ سال پہلے نکال دیاگیاہے۔ ’اوہ‘ انہوں نے کسی معذرت کے بغیر کہا۔ میں ڈاکٹرسے فون پربات کرتی ہوں۔ ڈاکٹر سے بات کی گئی۔ اوجی معاف کردیں۔ دراصل ڈاکٹرصاحب روزے سے تھے۔‘‘

ان بزرگوں کی باتیں، ان کاخلوص اورانکساری آج کے دور میں الف لیلوی قصے معلوم ہوتے ہیں۔ دولت اور مرتبے ان کی شخصیت پراثر اندازنہیں ہوتے۔ ملک فیروزخان نون کو اللہ نے ایک سے بڑھ کا ایک اعزاز عطا فرمایا۔ وائسرائے کی ایگزیکٹیو کونسل کے رکن بنے، پنجا ب کے وزیراعلیٰ اور پھر وزیراعظم بنے۔ رواداری، انکسار، ایمانداری جیسے اوصاف کوٹ کوٹ کر بھرے تھے۔ زہرامنظورالہٰی لکھتے ہیں۔ ’’میں اباجان کے ساتھ کالج سے واپس آرہی تھی۔ گاڑی کوٹھی میں داخل ہوئی تو دیکھا سامنے ایک بڑی کالی لیموزین کھڑی ہے۔ دوگارڈ بہت بارعب انداز میں برآمد ہوئے۔ سیلوٹ مارکر اباجان سے کہا کہ چیف منسٹرصاحب نے آپ کو بلایاہے۔ اباجان نے دوٹوک جواب دیا۔ آپ ا ن سے کہہ دیں کہ میں کسی منسٹر یا چیف منسٹر کے گھرپرنہیں جایاکرتا۔ اباجان نے یوں کورا جواب دیا۔ شام کو ملک صاحب اپنی انگریز بیوی کے ساتھ گھر آگئے۔ اس دن کے بعد دوستی ہوگئی اور انہوں نے اباجی کو ہمیشہ بہت عزت اور احترام دیا۔‘‘

کیا سادہ مزاج لوگ تھے۔ وزارت اور کسی عہدے کانشہ ان پرنہیں چڑھتاتھا۔ ایسے بے شمار واقعات زہرا منظور الہٰی کی آپ بیتی ’’ہمسفر‘‘ میں موجود ہیں۔ قاری ایک بارکتاب شروع کرکے اسے ختم کیے بغیر نہیں چھوڑ سکتا۔ دراصل اُردو میں ان دونوں خواتین کی آپ بیتیاں انتہائی دلچسپ اور قابلِ مطالعہ ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Comments are closed.


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20