کراچی: فنا ہوتا شہر؟ —– احمد اقبال

0

وہ جو ہم رکھتے تھے اک حسرت تعمیر:
میں نے شادی کے بعد اپنی زندگی کے چالیس بہترین سال اس روشنیوں کے شہر میں گزارے تھے۔ اس شہر نے میرے ہر خواب کو تعبیر دی اور میں نے وہ سب کر لیا جو میں کرنا چاہتا تھا۔ پھر ایک سیاسی سازش نے اس عروس البلاد سے سب کچھ چھین لیا اور بارہ سال ہوئے ایک وقت آیا جب میں نے محسوس کیا کہ اب ہجرت میں ہی عافیت ہے۔ یہ ایک غیر جذباتی فیصلہ تھا۔ جلا وطنی کا عذاب میں نے قبول نہیں کیا تھا چنانچہ سال کے سال جذبات کے رشتے استوار کرنے کیلئے اسلام آباد کا سخت سرد اور سفاک موسم بہانہ بن جاتا تھا۔

Pakistan Sending Military To Karachi To Aid Rescue Efforts Amid ...ہر بار میں جب کراچی گیا تو یہ احساس شدید سےشدید تر ہوا کہ دنیا کا پانچواں اور پاکستان کا سب سے بڑا شہر تیزی سے اس زوال کی جانب بڑھ رہا ہے جس کی منزل آخر فنا ہے۔ یہ بڑی سفاک اور نامکن نظر آنے والی سچائی ہے جیسے موت۔ شہر کہاں مرتے ہیں۔ سوچنا پڑتا تھا۔ اور اسوقت میرے سامنے موہنجو دڑو آتا تھا جو میں نے دیکھا تھا۔ بائیس سو سال پہلے یہاں جو انسان آباد تھے بہت مہزب اور ترقی یافتہ شمار ہوتے تھے۔ جیسےکراچی والے ہیں۔ پھر کچھ ایسا ہوا کہ ہر کمال کو زوال ہے والا نظریہ اس شہر کو کھانے لگا۔ معلوم نہیں یہ کس کے غرور کا شاخسانہ تھا۔ کس کے اعمال کی سزا تھی کہ اس شہر میں مجھے موہنجو دڑو نظر آنے لگا۔ بستیاں کسی کی بددعا سے تو ویران نہیں ہوتیں، شاید بستی والوں کے اعمال اس کا مقدر تباہی لکھ دیتے ہیں۔ مگر یہاں تو ہر قومیت نسل اور ہر صوبے کے لوگ معاش کیلئے آباد ہوئے تو انہوں نے شہر کو اور شہر نے انہیں خوشحالی دی۔ مگر اب یہ ہورہا تھا کہ شہر ٹوٹ پھوٹ اور فرسودگی کا شکار تھا۔ زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی تھی۔ ہہاں پینے کا پانی خریدنا پڑتا تھا، بجلی، ٹرانسپورٹ، صفائی سب عنقا ہو رہی تھی اور لوگ صرف روتے تھے، فریاد کرتے تھے، قسمت سے حکومت تک سب کو الزام دیتے تھے خود کچھ نہیں کرتے تھے۔ نہ کوشش نہ کام، نہ اپنی مدد آپ، نہ احتجاج۔ نہ ہڑتال اور ایسا جلسہ جلوس کہ اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ آجائے۔ در اصل وہ منقسم تھے۔ ان کے درمیان تعصبات کی بہت سی دیواریں آگئ تھیں، حاکم اس نفاق کو ہوا دیتے تھے۔ شہر نفاق سے تباہی کی جانب جارہا تھا مگر اجتماعی سوچ سے محروم تھا۔

اس وقت میرے لکھنے سے کیا ہوتا کہ یہ مستقبل کا موہنجو دڑو ہے۔ بارش کو کیا کہیں؟ قدرت کی شہر کو منزل فنا کی جانب دھکیلنے کی سازش؟ قدرت تو بقا کے قوانین بناتی ہے۔ اس پر عمل نہ کرنے والوں کیلئے یقینا فنا ہے
دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہوگئیں۔

اب تک کی تباہی کے بعد یہ بالکل بعید از امکان لگتا ہے کہ ہم اس پورے شہر کی تعمیر نو کر سکیں۔ ہم اپنی حسرت تعمیر کو کیا کریں۔ دنیا بھر کے وسائل بھی مہیا ہوں تو کہاں سے آغازکریں اور کیسے۔ آیندہ سال کا پتا نہیں اس سے زیادہ بارش ہوجائے تو اتنے کم وقت میں کونسا الہ دین کا چراغ کام مکمل کر سکتا ہے؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ جو پہلے کے وسائل کھاگئے کیا اب وہ پرہیز گار ہو گئے ہیں؟

دیوار چین بنانے والی قوم اب یہاں سی پیک کا جادو جگانے آئی ہے تو اس سے کہیں کہ کراچی بنادو، تو وہ بھی سوچ میں پڑ جائیں گے اور شاید کہیں گے کہ “اس کا تو کچھ ہو نہیں سکتا۔ ہم ایک اور کراچی بنا دیتے ہیں آس پاس کہیں اگلے سال تک، بس یہ سامان اٹھائیں اور ہجرت کرجائیں”۔ ایک اور ہجرت۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20