مشق سخن سے شاعری تک: میرے خیالات و تجربات — ادریس آزاد

0

کافی پرانی بات ہے جب میں صوبہ سرحد (موجودہ پختونخوا) کے سرحدی شہر ٹانک میں نانا کے گھر مقیم تھا۔  میرے ماموں محمد منیر صاحب شاعری کا زبردست ذوق رکھتے تھے، ’’عاجز‘‘ تخلص کرتے تھے۔ نانا کے گھر میں بڑی رونق رہتی۔ خاص طور پر رات کو محفل جمتی اور ہم سب کبھی قصے کہانیاں تو کبھی بیت بازی، کبھی انتاکشری تو کبھی مصرعوں پر گِرہیں لگانے یا پہیلیاں بُوجھنے کا کھیل کھیلتے تھے۔ سردیاں ہوتیں تو اکثر نانی اماں کے کمرے میں محفل جمتی۔ نانی اماں کے کمرے میں عین فرش کے درمیان ایک خاص قسم کا دیہاتی طرز کا سٹوو نصب ہوتاجس کے، لوہے کی بہت ہلکی چادر سے بنے، بڑے قطر کے پائپ جنہیں ہم اُس وقت بمبُو کہہ کر پکارتے تھے، چھت سے ہوتے ہوئےباہر دُودکَش میں جا دُھواں پھینکتے۔ سٹوو بھی لوہے کی ہلکی چادر کا ہوتا تھا جو اُوپر سے ایک ڈھکن کے ذریعے بند کردیا جاتا جبکہ نچلی کھڑکی سے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جنہیں ہم گُٹکے کہتے تھے، بطور اِیندھن ڈالے جاتےتو آن کی آن میں کمرہ نِگھاس سے مہکنے لگتا۔ چولہے کے چاروں طرف کھجور کی چٹائیاں بچھی ہوتیں۔ جب سب گھر والے عشأ کی نماز پڑھ لیتے تو اُس چولہے کے گرد بیٹھ جاتے اور چلغوزوں یا مونگ پھلی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ، دنیا جہان کی گپ شپ چھڑ جاتی۔

کبھی کبھار منیر ماموں کوئی مصرع دے کر سب سے کہتے، اِس پر گِرہ لگاؤ! ہم سب انواع اقسام کی گانٹھیں باندھتے اور خوب ہنستے۔ کبھی کبھار کوئی سنجیدہ مصرع، اچھا ہاتھ لگ جاتا تو سب خوب دِل کھول کر داد دیتے ورنہ اکثر تو مزاحیہ گِرہیں ہی لگائی جاتیں۔ اُس وقت مجھے کچھ پتہ نہیں تھا کہ غزل کیا ہوتی ہے یا قافیہ ردیف کسے کہتے ہیں، لیکن میری گرہ پھر بھی سب سے اچھی ہوتی۔ ماموں اکثر مجھے کہتے کہ تم شاعر بن سکتے ہو کیونکہ تم وزن میں گِرہ لگاتے ہو۔جب گھر والے ماموں سے پوچھتے کہ وزن کا کیسے پتہ چلے گا تو ماموں جواباً سرائیکی کی ایک بے معنی نظم سنا کر بتانے لگتے کہ یہ دیکھو نا! اِس میں کیسا وزن ہے،

ہرنی پِترنی پِتردا پانی چرنی ِ
پِتر کوں لگی بھاہ
کیندا شیشہ کیندا شاہ
شاہ ماری خربازی
کیندا نکتہ کیندا تازی
تازی مارا ٹپ
کیندا مِٹھوواں کیندا سپ
سپ گِیا پردیس
کیندا لُنگی، کیندا کھیس

سب الفاظ اِس طرح آپس میں جڑے ہوئے ہوتے تھے کہ وزن اور بحر کے باوجود کوئی معنی برآمد نہ ہورہا ہوتا تھا لیکن پوری نظم بہت مزہ دیتی تھی۔

پھر یوں ہوا کہ ننھیال میں نویں جماعت مکمل کرکے دسویں جماعت کے لیے میں واپس اپنے شہر خوشاب آگیا۔ خوشاب میں کافی اچھا شعر کہنے والے شعرأ موجود تھے۔ 1985 میں جب میں جوہرآباد کالج، ایف ایس سی کے فرسٹ ائر میں ڈاکٹر بننے کے لیے داخل ہوگیا تو معلوم ہوا کہ کالج میں تو آغا شاہ صاحب نے باقاعدہ اُردو مجلس بنا رکھی تھی اور مشاعرے کروایا کرتے تھے۔ مجھے جلد ہی اس مجلس کا سیکرٹری بنادیا گیا۔ انہی مشاعروں میں اظہر زیدی مرحوم سے ملاقات ہوئی۔

پتھروں نے گِر کے پانی کی روانی روک دی
اور پانی اُن پہ بیٹھی گرد کو دھوتا رہا
اظہر زیدیؔ

اظہر زیدی عجب زود گو شاعر تھے۔ پہلی چند ملاقاتوں میں ہی انہوں نے وہی ماموں والا کھیل قدرے مختلف طریقے سے کھلوانا شروع کر دیا۔ ہم کسی چھپر ہوٹل پر کرسیاں کھینچ کر بیٹھ جاتے۔ اظہر زیدی کوئی مصرع تاش کے پتوں کی طرح پھینٹ پھانٹ کر میز پر رکھتے۔ ایک بال پوائنٹ اور دونوں کے لیے ایک مشترکہ کاغذ میز پر رکھ دیا جاتا اور ہم فی البدیہہ غزل کہنے لگ جاتے۔ اظہر زیدی اتنے زود گو تھے کہ میں ایک شعر کہتا اور وہ پوری غزل ختم بھی کرچکے ہوتے۔ کئی سال ہم جب بھی ملتے شطرنج کے شوقینوں کی طرح، فقط حال چال کا تبادلہ کرنے کے بعد چند ہی لمحوں میں اِسی کھیل پر آجاتے۔

کالج چھُوٹا تو منیر ایاز مرحوم کے ساتھ یہی کھیل شروع ہوگیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ ’’آبروئے محمدﷺ‘‘ والی منیر ایاز کی مشہور نعت ہم نے ایسے ہی کھیل کے دوران لکھی تھی۔ اس زمانہ میں بزم ِ فکر و فن خوشاب کےمنتظم ِ اعلیٰ عتیق اختر افغانی تھے۔ عتیق، خالد اختر افغانی مرحوم کے فرزند ہیں۔ خالد اختر افغانی وہ شخص ہے جنہوں نے قائدِ اعظم پر سب سے پہلی کتاب، ’’حالاتِ قائد‘‘ کے نام سے لکھی جو آج بھی مقالہ جات میں حوالوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ عتیق بھی اظہر زیدی کی طرح زود گو تھے۔ ہم نے کتنے ہی کڑاہی گوشت مصرعوں کے تاشوں پر کھائے۔ ہم عموماً اپنا وقت مصرع رکھ کر غزلیں کہتے ہوئے گزارتے۔ ایسے ہی ایک موقع پر میں نے یہ شعر کہاتھا،

یک بیک جلتے گئے اُس دم چراغوں سے چراغ
آئنوں کےسامنے جب آئنے رکھے گئے

دور جو بھی رہا، مصرعوں کے تاش پھینٹتے ہوئے منیر ماموں کا ’’ہرنی پِترنی پِتر دا پانی چرنی‘‘ مجھے کبھی نہ بھول سکا۔مصرعوں کا یہ کھیل میرے لیے ہمیشہ کھیل ہی رہا اور میں’’ہرنی پِترنی‘‘ سے کبھی باہر نکل ہی نہ سکا۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں آج تک ایک بھی اچھا شعر نہیں کہہ سکا۔ اس کی وجہ یہی رہی کہ میں نے شاعری کو کھیل سمجھا اور کبھی بھی اس کام کو سنجیدگی سے انجام نہ دے پایا۔

پھر فیس بک کے طرحی مشاعروں میں ایک بار پھر زور و شور کے ساتھ یہ کھیل شروع ہوگیا۔ یہ ایک کھیل تھا بہت لوگوں نے کان سے پکڑ کر احساس دلانے کی کوشش کی کہ شاعری کو کھیل نہ سمجھو! یہ بہت مشکل کام ہے۔ شاعری کو خون دینا پڑتاہے۔ شاعری کے ساتھ عشق کرنا پڑتاہے لیکن سچ یہ ہے کہ میں کبھی ایسا نہ کرسکا۔ جب بھی کوئی دوست نہایت ہمدردی سے ایسی کوئی نصیحت کرتا مجھے ماموں کی ’’ہرنی پِترنی‘‘ یاد آجاتی جو معنی سے بالکل خالی ایک نظم تھی اور جسے سرائیکی بچوں کی مائیں اپنے نونہالوں کو ہنسانے اور خوش کرنے کے لیے سنایا کرتی تھیں۔

یوں کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ میں شاعری کے پہلے مرحلہ یعنی مشقِ سخن سے ہی کبھی باہر نہ آسکا۔ مشقِ سخن مکمل ہوتی تو اصل شاعری کی طرف شاید کچھ توجہ کر پاتا۔ لیکن اس سے پہلے کہ مشقِ سخن ختم ہوتی، اور بہت سی مشقیں شروع ہوگئیں اور مجھے بھول ہی گیا کہ میرا ہرنی پترنی کا سفر ادھورا رہ گیا ہے۔

البتہ وقت کے ساتھ ساتھ اچھے شعرأکے اچھے اشعار سننے کا اتفاق ہوتارہا اور ساتھ ہی یہ احساس بھی کہ میں ایسا شعر کبھی نہیں کہہ پایا۔ چنانچہ میں نے آج سے چند برس قبل ایک بار ٹیلفون کال کے دوران اختر عثمان سے سوال کیا،

’’سرجی! اچھا شعر کیسے کہا جاسکتاہے؟‘‘
اختر عثمان نے جواب دیا،
’’ایک شعر کو پانچ سو مرتبہ کہو اور ہربار کہہ کر پھینک دو!‘‘

میں نے دل میں سوچا، یہ کام تو میں اُس وقت سے کررہا ہوں جب ابھی مجھے قافیے ردیف کا بھی پتہ نہیں تھا۔ میں نے سوچا کہ اس کا مطلب ہے کہ اچھا شعر میرے نصیب میں نہیں ہے ورنہ اتنی مشق تو میں کرہی چکا۔ ایک بار اختر رضا سلیمی سے یہی سوال کیا کہ اچھا شعر کیسے کہا جائے؟ کہنے لگے، سراج اورنگ آبادی سے لے کر وصی شاہ تک سب کو پڑھ ڈالو! میں نے وصی شاہ کا نام سنا تو میرے ہاتھ خودبخود میرے کانوں سے جالگے۔ اور پھر یوں ہوا کہ یہی سوال میری ایم اے کی کلاس کی ایک طالبہ نے مجھ سے ہی کردیا، ’’سر! اچھا شعر کیسے کہا جاسکتا ہے؟‘‘ یہ سن کر میں ایک بار تو خاموش کھڑ ے کا کھڑا رہ گیا۔ پھر میں نے قدرے ہمّت کرتے ہوئے فقط اتنا کہا،

’’کہتے ہیں اچھا شعر خدا کی دین ہوتا ہے‘‘

میں چونکہ شاعری کو ہرنی پترنی سے آگے بڑھا ہی نہ پایا اس لیے میں نے جب بھی شاعری کی، اُسی ہرنی پترنی کے اندر رہتے ہوئے ہی کی۔ یعنی جب جب سکول کے مقابلوں کے لیے تقریر لکھنا ہوتی میں خود سے مصرعے گھڑ کر اس تقریر میں نصب کردیتا۔ اور تو اور میں نے ،’’نیوکلیئر انرجی ہماری ترقی کی ضامن ہے‘‘ جیسے موضوعات پر بھی نظموں کی نظمیں تقریروں میں جڑدیں۔ میری لکھی ہوئی تقریر ہمیشہ کوئی نہ کوئی انعام ضرور لیتی لیکن مجھے ایک ندامت ہمیشہ لگی رہتی کہ میں نے لکھ کر دی اس لیے بچہ پوزیشن لے گیا اور دوسرا بچہ جو اِس سے زیادہ قابل ہوسکتا تھا اچھی تقریر نہ ہونے کی وجہ سے ہارگیا۔ انہی تقریروں کی کتاب آج کل خزینہ ٔ علم و ادب والے ’’اُٹھو کہ وقتِ قیام آیا‘‘کے نام سے شائع بھی کررہے ہیں۔ تقریروں کے علاوہ دوستوں کے دوستوں کے لیے مجھے زندگی میں کتنی رخصتیاں اور سہرے لکھنے پڑے، میرے پاس حساب تو نہیں لیکن میرا اندازہ سینکڑوں میں ہے۔ یہ سب کیا تھا؟

یہ سب دولفظوں میں میں فقط ’’تُک بندی‘‘ تھی۔ حمید نیازی کی بات میرے دِل کو لگی کہ اگر آپ کے اندر سے اچھا شعر برآمد نہیں ہورہا تو ہزار فاعلات پڑھ لینے کے بعد بھی نہیں ہوسکتا۔ وزن میں شعر کہنا ایک ہنر ہےجو مجھے آتاہے لیکن شعر حقیقت میں بھی شعر ہو یہ ہنر کسی کسی کو آتاہے۔ ابھی عمران عامی کو ہی لے لیں۔ میرے مقابلے میں اِس نوجوان کی مشقِ سخن نہ ہونے کے برابر ہوگی لیکن اس کا ایک ایک شعر مشاعرہ گاہ کے ہر سامع کو کھا جاتاہے۔خوشاب میں بھی ایک لڑکا ایساتھا۔ اس کا نام آصف آس تھا۔ وہ مشقِ سخن میں صفر تھا لیکن شعر کہتا تھا تو سامعین کی داد سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ یوں مجھے آہستہ آہستہ معلوم ہوا کہ شاعری تو ہرنی پترنی سے آگے کی کوئی چیز ہے۔ کوئی ایسی چیز جس کا تعلق عقل، تجربہ اور مشقِ سخن کے ساتھ کم لیکن وجدان وعرفان کےساتھ زیادہ ہے۔ زیادہ تر قارئین جانتےہیں کہ شاعری میں دو نوں مکاتبِ فکر پائے جاتے ہیں۔ایک وہ جو شاعری کو الہام سمجھتےہیں اور دوسرے وہ جو شاعری کو فقط کرافٹ سمجھتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے اخترعثمان سے سوال کیاکہ، ’’آپ شاعری کو الہام سمجھتے ہیں یا کرافٹ؟‘‘ تو وہ بہت جذباتی انداز میں بولے، ’’شاعری قطعی طور پر کرافٹ ہے۔ جو کوئی یہ کہتاہے کہ اُسے الہام ہوتاہے وہ بکواس کرتاہے۔ الہام نام کی کوئی شئے شاعری میں وجود نہیں رکھتی۔ میں ایک اچھا شعر کہنے کے لیے پانچ سو اچھے اشعار لکھ کر یونہی پھینک دیتاہوں۔ تب جاکر کوئی ایک اچھا شعر برآمد ہوتاہے‘‘۔ لیکن میں بصد معذرت اخترعثمان سے اتفاق نہ کرسکا۔ کیونکہ میرا تجربہ یہ بتاتا تھا کہ شاعری ضرور ہرنی پترنی سے آگے کی چیزہے۔

یہ ابھی فیس بک کی ہی بات ہے کہ شمامہ افق نامی ایک کم عمر لڑکی کی کچھ غزلیں پڑھ کر میں چونک گیا۔ پھر کسی مشاعرے میں جب اس بچی نے غزل سنائی تومیں اور بھی زیادہ اس مؤقف کا قائل ہوگیا کہ شاعری میں کرافٹ سے کہیں زیادہ شاعر کی داخلی واردات کو دخل ہے۔ شاعری قافیے ردیف کی محتاج نہیں۔ شاعری بحروں کی بھی محتاج نہیں۔ شاعری بغیر کچھ کہے اور لکھے بھی کی جاسکتی ہے۔ بحر بازی کچھ اور فن ہے اور شاعری کوئی اور شئے ہے۔

اس دوران میری ایک کتاب ’’موسیقی ، تصویر اور شراب‘‘ آئی تو مجھے موسیقی اور تصویر کے فن پر بہت کچھ پڑھنا اور پھر لکھنا پڑا۔ تب میں نے کچھ مصورحضرات کو انٹرویو کیااور چند نئی باتیں میرے سامنے آئیں۔ ہمارے ہی شہر خوشاب کے ایک مصور جواپنی تجریدی پینٹگز کی وجہ سے امریکی ایمبیسی تک رسائی رکھتے ہیں میرے انٹرویوز کی سیریز کاحصہ تھے۔ان سے جب میں نے یہ سوال کیا کہ، ’’یہ آپ نے کیا بنایا؟‘‘ تو انہوں ہنستے ہوئے جواب دیا، ’’مجھے خود پتہ نہیں‘‘۔میں نے حیران ہوکر دوبارہ سوال کیا، ’’کیا مطلب؟ آپ کی پینٹگز ہیں۔ ان میں کوئی پیغام تو ہوگا؟‘‘ کہنے لگے، ’’بھئی! میں نے تو یونہی آڑی ترچھی لکیریں لگادی ہیں، آپ چاہیں توان میں سے کوئی پیغام نکال لیں‘‘۔ میں چپ ہوگیا۔ اب سوچتاہوں وہ سچ کہہ رہے تھے۔ تجریدی مصوری کی بھی بھلا کسی کو کبھی سمجھ آسکی ہے؟ پھر بھی کتنا چرچا ہے اس کا؟ ہمارے دور کے بہت سے دوستوں کو یادہوگا جب ٹی وی پر الف نُون ڈرامہ آیا کرتا تھا تو ایک قسط میں الن اور ننھے نے تجریدی مصوری کی دکان بھی کھولی تھی۔ الن کسی کام سے باہر گیا۔ پیچھے ننھا موجود تھا جو الن کا تجریدی مصور بھی تھا۔ اسی اثنأ میں کوئی بڑی پارٹی اندر آگئی۔خریدار نے ننھے کی پینٹگنز کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے کے بعد ننھے سے سوال کیا، ’’آپ ایسی شاندار پینٹگز بنا کیسے لیتے ہیں؟‘‘ ننھے نے جواب دیا، ’’ارے یہ کون سی مشکل ہیں۔ ابھی لیجیے!‘‘ اور پھر کیا تھا۔ ننھے نے کینوس پر وہ تماشا برپا کیا کہ ناظرین ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے۔ کبھی تو وہ برش سے کینوس پر یوں زور سے رنگ مارتا جیسے مستری دیوار پر پلستر پھینکتا ہے اور کبھی وہ اپنے ہاتھوں اور پیروں سے پینٹنگ پر طبلہ بجانے لگ جاتا۔ یہاں تک کہ آخر ننھے نے ایک پینٹگ کو لِٹا کر اس پر سائیکل چلانا شروع کردی۔ اور پھر پینٹگ کو اُٹھا کر خریدار کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا، ’’یہ لیں جی! پینٹنگ تیار ہوگئی ہے‘‘۔

اب احساس ہوتاہے اچھی شاعری میرے ماموں کا ہرنی پترنی نہیں ہے بلکہ ننھے کی پینٹنگ ہوتی ہے۔ اچھی تو چلو! ایک الگ بات ہے، میں نے انحراف کےایڈمن جناب رحمان حفیظ سے ایک بار سوال کیا، ’’رحمان بھائی! جدید شعر کیسے کہا جاتاہے؟‘‘ فرمانے لگے، ’’بس چیزوں کو الٹادو! اگر ٹرین چلانی ہے تواسے ٹرین کی پٹڑی پر چلانے کی بجائے اُڑادو! یا پانی پر چلا دو یا ریت پر چلادو! شاعری خود بخود جدید ہوجائےگی‘‘۔ اور یہ بات سچ بھی ہے۔ ابھی کل ہی میں نے جدید نظموں پر طنز کرتے ہوئے جب اوٹ پٹانگ سطریں لکھ کر فیس بک پر پوسٹ کیں تو وہ بعض احباب کو اچھی نہ سہی لیکن بامعنی شاعری محسوس ہو رہی تھیں۔

تو کیاشاعری بھی ویسی ہی آرٹ ہے کہ جیسے بچے مٹی سے کھیلتے ہوئے مختلف چیزیں بناتے ہیں تو ہوتی ہے؟یا گاؤں میں مائیاں جب دیواروں پر گوبرسے تھاپیاں تھوپتی ہیں، اُپلے بنانے کےلیے اور جب اُتارلیتی ہیں تو پیچھے دیوار جیسی نظر آتی ہے، وہ شاعری ہوتی ہے؟ کیا شاعری بھی ایسی ہی وجدانی ہے؟ یعنی ایسی وجدانی کہ آپ بغیر کسی تھاٹ پراسیس کے مسلسل بک بک کرو تو جب کچھ ننھے والی پینٹنگ وجود میں آجائے تو سمجھو ہوگئی؟ مثلاً ایسا کرنے سے کیا شاعری ہورہی ہے؟

وہ سُوکھے پیڑوں کے رت جگوں کا حساب
گیہوں میں تیرتے تیتروں کےبچوں کا خواب
کشکولِ ناب، رشکِ گلاب بن کر
خیالِ غم آفریں میں اُترا
تو ذہنِ دل سے نکلتے کیڑوں کی پارسائی کا راز کھل کر
حسینۂ زر رسیدہ و خط کشیدہ کی مسکراہٹوں کا نقیب ہوتے ہوئے اُٹھاتھا

یہ کیا بکواس ہے؟ اگر واقعی یہ شاعری ہے اور عہدِ حاضر کی جدید نظمیں دیکھ کر تو لگتاہے کہ یہی شاعری ہے ، تو اگر واقعی یہی شاعری ہے، پھر کیا مسئلہ ہے کہ اِسے مائیوں کی تھاپیاں نہ سمجھا جائے؟

یہ تھاپیاں بڑے بڑوں نے نہ تھاپی ہوتیں تو آج ان کے بچوں کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ فیض کی ایک نظم اس طرح شروع ہوتی ہے،

یہ رات اس درد کا شجرہے
جو تجھ سے مجھ سے عظیم تر ہے
عظیم تر ہے کہ اس کی شاخوں میں لاکھ مشعل بکف ستاروں کے قافلے گر کے کھوگئے ہیں
ہزار مہتاب اِس کے سائے میں اپنا سب نُور رو گئے ہیں
مگر اسی رات کے شجر سے
یہ چند لمحوں کے زرد پتے
گرے ہیں اور تیرے گیسوؤں میں الجھ کے گلنار ہوگئے ہیں

خیر! آگے چل کر یہ نظم پھر بھی معنی کا ایک سلسلہ مرتب کرنے لگ جاتی ہے لیکن یہ جو کچھ شروع میں فیض نے کیا، کیا یہ فقط نشے کی بدولت نہیں؟ کیا یہ فقط لفظوں کو لفظوں کے ساتھ ایک خاص حسین وجمیل ترتیب میں جوڑ نہیں دیا گیا؟ کیا کوئی ان سطروں سے کسی بھی قسم کا معنی اخذ کرسکتاہے؟ اور پھر اگر کوئی معنی نکالے بغیر بھی یہ خوبصورت ہے اور سننے میں اور گانے میں اور پڑھنے میں مزہ دیتاہے تو پھر اِس نظم کے ابتدایے میں اور ’’ہرنی پترنی پتر داپانی چرنی پتر کوں لگی بھا‘‘ کی بے معنویت میں کتنا کچھ فرق ہوگا؟ کوئی فرق نہیں نا؟ دونوں بے معنی ہیں لیکن دونوں لایعنی نہیں ہیں۔ دونوں خوبصورت تو ہیں لیکن دونوں ہیں کیا؟ کیا یہ موسیقی کی کوئی بے سُر قِسم کی قسم ہے؟ کیا یہ ریاضی کا کوئی کھیل ہے؟ کیا یہ گیٹار کی تاروں سے کی گئی چھیڑ چھاڑ ہے؟اور پھر حمید نیازی جیسے دانا لوگ بھی یہی اصرار کررہے ہیں کہ یہ واقعی شاعری ہے۔ سچ پوچھیں تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں کہ یہ شاعری ہے لیکن پھر کیا میری ہرنی پترنی ہردوصورتوں میں ٹھیک تھی؟ کیا مامُوں سچ کہہ رہے تھے کہ ہرنی پترنی ہی شاعری ہے؟ کیا واقعی فقط کیفیات کا اظہار مقصود ہے چاہےجیسے بھی ہو۔ اگر یہ بات ہے تو میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ بچے سب سے بڑے شاعر ہوتے ہیں اور جوں جوں وہ بڑے ہوتے جاتے ہیں اُن کے اندر کا شاعر مرتاجاتاہے اور اگر کسی کے اندر کا بچہ زندہ رہے تو وہ ضرور بڑا اور مشہور شاعر بن جاتاہے۔

لیکن سچ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ میر ایسا کرتا ہے نہ غالب۔ اقبال ایسا کرتاہے نہ جون۔ یہ بے مقصدیت صرف اور صرف پوسٹ ماڈرنزم کا تحفہ ہے۔ دنیا آرٹ کے حوالے سے بتدریج ڈفر ہوئی ہے۔ موسیقی ہی بے ہنگم چیخ و پکار بن کر جدید نہیں ہوئی، اس سے پہلے شاعری بے ہنگم شوربن کر جدید ہوئی ہے۔ بقول نعمان علی خان یہ سب ’’کے اوس Chaos‘‘ کے تحفے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20