جنسی ہراسمنٹ : قوانین، پالیسی اور اعداد وشمار کا جائزہ —- وحید مراد

0

1۔ تعارف:

جنسی جرائم Sexual Violence ایک بہت وسیع اور عام اصطلاح ہے جس میں روائیتی اور غیر روائیتی دونوں طرح کے جنسی جرائم شامل ہیں۔ زنا، جبری زنا، اقدام زنا، جنسی زیادتی، عصمت دری، عصمت فروشی، اغوا برائے زنا، اور آبرو ریزی وغیرہ روائیتی جنسی جرائم میں شامل ہیں جو تمام تہذیبوں میں پائے جاتے ہیں اور انکی ہزاروں سال کی تاریخ ہے۔ روائیتی جنسی جرائم ہمارے آج کے موضوع سے خارج ہیں ان پر کسی اور وقت میں گفتگو ہوگی۔ آج کے اس مضمون کا موضوع غیر روائیتی جنسی جرائم ہیں جو جدید تہذیب، ترقی یافتہ تمدن، صنعتی ترقی اور کارپوریٹ کلچر کی پیداوار ہیں۔ ان کا آغاز امریکہ اور ویسٹرن یورپ کی ترقی یافتہ معاشروں میں ہوا، اور پھر دنیا میں ترقی کے اس ماڈل کو جہاں بھی اپنایا گیا وہاں یہ جرائم بھی پہنچ گئے کیونکہ یہ جنسی جرائم اس ترقی یافتہ تمدن کا فطری نتیجہ ہیں۔ ان جرائم کے وقوع پذیر ہونے کیلئے ایک خاص قسم کا ماحول، سوچ اور ذرائع درکار ہوتے ہیں جو صرف جدید تمدن میں ہی پائے جاتے ہیں۔ ان جنسی جرائم میں جسمانی، ذہنی، جذباتی، نفیساتی سب طرح کےجنسی جرائم شامل ہیں۔ یہ جرائم اب دنیا کے تقریباً ہر ملک، ہر قوم، ہر کمیونٹی، ہر عمراور سب اصناف میں پائے جاتے ہیں لیکن عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ خواتین اس کا زیادہ شکار ہوتی ہیں اس لئے عموماً انہیں عورتوں کے خلاف جنسی جرائم کا نام دیا جاتا ہے۔

2۔ تاریخ اور پس منظر:

جدید تمدن کو اپنانے کے نتیجے میں جو جنسی جرائم سامنے آئے ہیں مجموعی طور پر ان کے لئے جنسی ہراسمنٹ Sexual Harassment کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس جرم کے کئی پہلو کھل کر سامنے آئے اور اب ہر پہلو کیلئے الگ اصطلاحات بھی استعمال ہوتی ہیں۔ اس اصطلاح کا آغاز 1970 کی دہائی کے اوائل میں اس وقت ہوا جب امریکہ میں خواتین کے مختلف حلقوں میں اسے بحث مباحثوں کے دوران استعمال کیا گیا۔ خاص طور پر 1975 میں نیویارک میں جب ایک وومن رائٹس ایکٹوسٹ Lin Farley نے ہیومن رائٹس کمیشن کے سامنے کچھ خواتین کےمسائل پیش کئے جنہوں نے اس قسم کے مسائل سے تنگ آکر اپنی جابز چھوڑ دی تھیں تو پہلی بار اس اصطلاح کو ایک آفیشل رپورٹ میں استعمال کیا  اور بعد ازاں  Lin Farley نے ہی اپنی ایک کتاب بعنوان The Sexual harassment of Women on the Job  میں بھی اس اصطلاح کو استعمال کیا۔ اسی دور میں Catharine MacKinnonنے 1979 میں ایک کتاب بعنوان ‘Sexual Harassment of Working Women’  تحریر کی اور اس اصطلاح پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

ستر کی دہائی میں امریکہ میں پہلی بار جنسی ہراسمنٹ پر قانون سازی کا آغاز ہوا اس سے قبل 1964میں سول رائٹس ایکٹ پاس ہو چکا تھا لیکن اس میں جنسی ہراسمنٹ کا جرم اور سزا شامل نہیں تھے اسی طرح 1974 کا قانون بھی جنسی امتیاز کے بارے میں تھا لیکن اس جنسی ہراسمنٹ شامل نہیں تھی۔ 1980 میں جنسی ہراسمنٹ کے بارے میں گائیڈ لائن مرتب کی گئی اور 1986 میں اسے ایک جرم کے طور پر 1964 کے ایکٹ میں شامل کیا گیا لیکن پھر بھی عام لوگ اس اصطلاح سے ناواقف تھے۔ عام لوگ اس اصطلاح سے اس وقت واقف ہوئے جب 1991 میں جارج ڈبلیو بش نےClarence Thomas کو سپریم کورٹ کا جج نامزدد کیا اور Anita Hill (پروفیسر، قانون دان) نے ٹی وی پر آکر یہ الزام لگایا کہ Clarence Thomas نے اسےاس وقت جنسی طور پر ہراساں کیا تھا جب وہ EEOC، ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن میں اسکا سپروائزر تھا۔ جارج ڈبلیو بش کے دور میں ہی 1991 میں ایک ایکٹ پاس ہوا جسکے تحت کام کرنے والی خواتین کو امتیازی سلوک سے پروٹیکشن دی گئی، 1994 میں بل کلنٹن کے دور میں وائلنس اگینسٹ وومن ایکٹ پاس ہوا جس کو خاص طور پر جنسی ہراسمنٹ کا قانون کہا جا سکتا ہے اور اب دنیا بھر میں بنائے جانے والے قوانین اسی کاچربہ ہیں۔

3۔ جنسی جرائم کی نوعیت اور انکی اصطلاحات میں فرق:

جنسی جرائم Sexual Violence کی اصطلاح بظاہر مشرق و مغرب میں ایک ہی طرح سے استعمال ہوتی ہے لیکن مغرب میں اس سے مراد وہ تمام جنسی اعمال ہیں جن میں دوسرے فرد (خواہ وہ جنسی پارٹنر ہو یا کوئی دوسرا فرد ہو) کی مرضی شامل نہ ہو یا اس کی اجازت، پسند، رغبت اور آزادانہ رائے جانے بغیر اسکو ان اعمال میں زبردستی شریک کیا گیا ہو۔ لیکن مشرقی روائیتی تہذیبوں میں چونکہ شوق اور مرضی کا زنا بھی زنا ہی کہلاتا ہے اور وہ ویسا ہی سنگین جرم ہے جیسا زنا بالجبر اس لئے مشرق میں ماڈرن دور کے جنسی جرائم کے حوالے سے جبری حرکات کے جرم ہونے میں تو کوئی الجھائو نہیں ہے لیکن مرضی اور شوق کی چھیڑ چھاڑ کے جرم ہونے کے بارے بہت الجھائو پایا جاتا ہے۔ خواتین کے حقوق کی تنظیمیں اور فیمنسٹ تحریک، مرضی اور شوق سے اپنائے گئے مذکورہ طرز عمل کے حوالے سے الجھائو کو مزید بڑھاتی ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ اس موضوع پر کھل کر بات نہ ہو کیونکہ انہیں معلوم ہے پاکستان جیسے اکثریتی مذہبی ملک میں مرضی اور شوق کے طرز عمل کی اجازت تو کبھی نہیں مل سکتی۔ لہذا وہ اپنا پیغام صرف مبہم نعروں کی شکل میں ہی عوام تک پہنچاتی ہیں کہ ‘حدود آرڈیننس اور شرعی قوانین کے نام پر عورتوں کا استحصال بند کرو’ اور جنسی ہراسمنٹ کے خلاف قوانین کا سختی سے اطلاق کرو۔ باخبر حلقے جانتے ہیں کہ اس سے انکی مراد یہی ہوتی ہے کہ مرضی اور شوق کی چھیڑ چھاڑ سے لیکر، ایک مرد کے ساتھ نکاح ہوتے ہوئے دوسرے آشنا کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے تک اور شوقیہ زنا جیسے جرم کو جرائم کی لسٹ سے خارج کر دیا جائے۔ اور صرف جنسی ہراسمنٹ پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ جنسی ہراسمنٹ کے متنوع پہلو درج ذیل ہیں:

3.1۔ چھڑ چھاڑ Flirting :

جنسی چھیڑ چھاڑ و نخرے بازی اور جنسی ہراسمنٹ میں واضح فرق ہے۔ بعض اوقات کچھ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو جنسی لطیفے سناتے ہیں یا چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں اور جنسی اعمال کی باتیں کرکے مزے لیتے ہیں لیکن ان کے درمیان باہمی رضامندی سے باقاعدہ جنسی تعلقات ہوتے ہیں۔ ان کو بظاہر دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے بھی ان افراد کے ساتھ وہی عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔ اسی طرح دو افراد جن کے درمیان عارضی محبت Crush on someone وغیرہ چل رہی ہوتی ہے وہ بھی ایک دوسرے کی ساتھ ایک حد تک ہی چھیڑ چھاڑ کر سکتے ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک فرق یہ کہہ دے کہ بس اس سے زیادہ نہیں تو پھر دوسرے فریق کو خراب پیغامات یا برہنہ تصاویر بھیجنے یا اسے اس بات پر مجبور کرنا کہ وہ اپنی برہنہ تصاویر وغیرہ بھیجے، یا اسکے جسم کو ہر وقت چھونا، گلے لگانا، یا تھپکی وغیرہ دینا جو اسکی رضامندی کے خلاف ہو تو وہ بھی جنسی ہراسمنٹ کے زمرے میں ہی آتا ہے۔

3.2۔ ناپسندیدہ جنسی توجہ Unwanted Sexual Attention :

ناپسندیدہ جنسی توجہ جنسی پیش رفت کا موجب بنتی ہے لیکن اس میں نہ ہی ملازمت یا تعلیم کے حوالے سے کسی بدلے کی بات ہوتی ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی نقصان وغیرہ کی دھمکی شامل ہوتی ہے۔ اس زمرے میں صرف ایسا رومانوی یا جنسی دلچسپی کا اظہار شامل ہے جس کو دوسرے فریق کی طرف سے ناپسندیدہ، ناگوار اور غیر مجاز خیال کیا جاتا ہو مثلاً کسی کی مرضی کے خلاف اسکے جسم کو چھونا، خواہ مخواہ گلے ملنا، جسمانی دھکا، حوصلہ شکنی کے باوجود ڈیٹنگ کی مستقل درخواستیں، اور رومانوی جملے بازی شامل ہے۔ ناپسندیدہ جنسی توجہ، جنسی پیش رفت اور جنسی جبر کو عام طور پر خواتین کی طرف جنسی رغبت اور جنسی میلان کے معنوں میں لیا جاتا ہے لیکن اصطلاحاً اس سے مراد صرف رغبت اور میلان نہیں بلکہ اس سے مراد ان خواتین کی ناقدری کرکے یا انکے ساتھ ذلت آمیز رویہ اپنا کرانہیں سزا دینا مقصود ہوتا ہے جن خواتین کے بارے میں یہ خیال ہوتا ہے کہ وہ صنفی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔

3.3۔ جنسی پیش رفت Unwelcome Sexual Advances :

غیر پسندیدہ جنسی پیش رفت، جنسی فیور کی درخواستیں اور دیگر زبانی یا جسمانی طر ز عمل، جنسی نوعیت کا طرز عمل اس وقت بنتا ہے جب اسکے ساتھ ملازمت کی ترقی کا وعدہ، نکالنے کی دھمکی، تعلیمی ترقی وغیرہ کی کوئی ایک شرط یا کئی شرائط بیان کی گئی ہوں۔ جنسی پیش رفت کو بعض اوقات جنسی جبر بھی کہا جاتا ہے۔ فریق مخالف جب اپنی مرضی سے جنسی تعاون کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا تو اسے ترقی اورمراعات وغیرہ کا لالچ دیا جاتا ہے یا نکالنے اور فیل کرنے وغیرہ کی دھمکی اورخوف دلایا جاتا ہے اورفریق مخالف نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے اوپر جبر کرکے اس جرم کو سہہ لیتا ہے یا جنسی رعایت دینے پر تیار ہوتا ہے اس لئے اسے جنسی جبر بھی کہا جاتا ہے۔

3.4۔ جنسی بد سلوکی Sexual Abuse :

جنسی بدسلوکی کا جرم عموماً نابالغ بچوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ امریکہ کی تمام ریاستوں میں یہ قانون ہے کہ 16-18 سال سے کم عمر کے بچوں کی جنسی عمل کے بارے میں رائے کو مثبت رائے نہیں سمجھا جائے گا اور یہ سمجھا جائے گا کہ دوسرے فرد نے انکے ساتھ زبردستی یہ جرم کیا۔ اس جرم میں کئی اعمال شامل ہیں جن میں بچے کے جسم کو جنسی غرض سے چھونا، یا بچے کو مجبور کرنا کہ وہ اسکے جسم، جنسی اعضاء کو جنسی غرض سے چھوئے یا دیکھے یا اسے جنسی عمل کی ویڈیو وغیرہ دکھانا شامل ہیں۔ جنسی غرض سے دبائو ڈالنا، کسی کے اوپر جھکنا، اسکے کونے میں لیجانا، چٹکی کاٹنا، ناپسندیدہ اشارہ یا حرکت، پرائیویٹ جنسی زندگی کے بارے میں سوال کرنا، کسی کو hunk، doll، babe، honey وغیرہ کے الفاظ سے پکارنا، کسی کی پرائیویٹ جنسی زندگی کے بارے میں افواہیں پھیلانا، گھورنا، آنکھیں مارنا، زبان اور ہونٹوں سے اشارے کرنا یا آوازیں نکالنا، ہاتھوں یا جسم کے کسی حصے سے جنسی حرکات کرنا، کسی کی اجازت کے بغیر اسکی تصویریں اتارنا یا ویڈیو بنانا سب جنسی بدسلوکی میں شامل ہے۔

3.5۔ جنسی حملہ Sexual assault:

می ٹو تنظیم کی طرف سے زنا اور جنسی حملے کو متبادل اصطلاحات کے طو رپر پیش کیا جاتا ہے اور اس طرح ان دو جرائم کے ایک ہونے کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہوتی ہے لیکن امریکی قانون کے مطابق جنسی حملہ ایک ایسا جرم ہے جس میں مجرمانہ اعمال کی ایک رینج ہے جنکی نوعیت جنسی جرم کی ہے اور اس میں کسی فرد کی رضامندی کے بغیر اسکے جسم کو چھونے، پیار کرنے، رگڑنے، ٹٹولنے یا متاثر ہ فرد کو اس امر پر مجبور کرنا کہ وہ یہ سب اعمال مجرم کے ساتھ کرے۔ اور اسکے ساتھ ساتھ زنا کا عمل بھی اس میں شامل ہے۔ سماجی علوم کے ماہرین جنسی تشدد Sexual Violence کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں جو جنسی حملے سے زیادہ وسیع اور عام اصطلاح ہے۔ اس میں وہ تمام اعمال بھی شامل ہوتے ہیں جو باقاعدہ قانون کی شقوں کے مطابق جرائم نہیں کہلاتے لیکن انکے اثرات جرائم کی طرح کے ہی ہوتے ہیں۔ جنسی تشدد میں جھوٹے جنسی وعدے، اصرار اور دبائو، یا جنسی عمل کی بیجا ترغیب، غیر مناسب تبصرے، سیٹیاں، معنی خیز جملے اور آوازیں، کمنٹس، جنسی اعمال کی تصاویر یا ویڈیو دکھانا یا دوسروں کی برہنہ تصاویر جنسی اعمال کی تصاویر یا ویڈیوز وغیرہ دیکھنا شامل ہیں جو خواتین کیلئے شدید ناگواری کا باعث ہو سکتی ہیں۔

3.6۔ جنسی ہراسمنٹ Sexual Harassment/bullying:

جنسی ہراسمنٹ کی سب سے عام قسم جینڈر ہراسمنٹ ہے۔ اس سے مراد زبانی اور غیر روائیتی طر ز عمل کی ایک وسیع رینج ہے جس کا مقصد محض جنسی تعاون حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ اس سے مراد کسی صنف کے فرد یا افراد کی توہین، مخاصمت یا دیگر فرسودہ رویوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ جینڈر ہراسمنٹ کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ایک جنسی معاندانہ رویہ اور دوسرا بیہودگی اور بدتمیزی ہے۔ جنسی معاندانہ رویے میں ان خواتین کو برہم کرنے والے مذاق، لطیفے، چٹکلے اور تبصرے شامل ہیں جو کسی شعبے میں اہم اور بڑے عہدوں پر تعینات نہیں ہوتیں یا وہ مرد ساتھیوں کا برابری کی بنیاد پر سامنا کر سکنے کی بھرپور صلاحیت نہیں رکھتیں۔ چنانچہ انکے مرد ساتھیوں کی طرف سے اس قسم کے رویے اس خاتون کو مزید پزل اور کنفیوز کرتے ہیں اور ایک ناگوار احساس دلاتے ہیں۔ بیہودگی اور بدتمیزی سے مراد وہ توہین آمیز جنسی الفاظ ہیں جن کے استعمال سے کسی صنف کو اسکی صنف کی بنیاد پر زچ کرنا یا اسکی توہین کرنا مقصود ہوتا ہے مثلاً کسی خاتون ساتھی کو ‘Slut’ کہہ کر پکارنایا کسی مرد ساتھی کو ‘Pussy’ کہہ کر پکارنا وغیرہ۔

خواتین اور مرد دونوں ہی جنسی طور پر ہراساں کرنے کی تمام اقسام کا استعمال بھی کرتے ہیں اورسامنا بھی کرتے ہیں لیکن کچھ اصناف ایسی ہیں جن کو زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے مثال کے طور پر وہ خواتین جو ہم جنس پرست یا لزبئین ہوتی ہیں یا جو ظاہری مردانہ شکل و صورت و کردار کی حامل ہوتی ہیں اسی طرح ٹرانس جینڈر مرد، گے، یا وہ مرد جو ظاہری طور پر نسوانی شکل و صورت و کردار کے حامل ہوتے ہیں۔

جنسی طور پر ہراساں کرنے کا عمل اور سلوک براہ راست بھی ہو سکتا ہے اور یہ ایک ماحول اور فضا پیدا کرنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے جس سے کوئی فرد یا افراد متاثر ہوتے ہوں دونوں صورتوں میں یہ عمل غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔ یعنی کوئی عمل یا رویہ (شدید اور وسیع پیمانے پر) اس وقت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے جب یہ کوئی ایسا معاندانہ ماحول اور فضا قائم کرے جو ملازمت کی شرائط کو تبدیل کرنے، کسی کے پیشہ وارانہ کام کی کارکردگی میں مداخلت کرنے یا کسی کی تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت میں رکاوٹ ڈالنے یا ان میں سے کسی ایک یا سب چیزوں کو جنسی اعمال سے مشروط کرنے کا سبب بنتا ہو۔

3.7۔ متعصبانہ خفیہ شکار Stalking :

اسٹاکنگ بھی کسی کو ہراساں کرنے یا دھکمی دینے کا ایک مجرمانہ ہتھکنڈا ہے جو متاثرہ فریق کیلئے ناپسندیدہ اور اسکے عدم تحفظ اورخوف کا باعث ہوتا ہے۔ اگر کوئی متاثرہ شخص، اس عمل کے کسی مرتکب فرد یا افراد کی طرف سے ایک بار یا متعدد بار، ایک ہتھکنڈے سے یا ایک سے زائد ہتھکندوں سے متاثر ہو اور اسے یہ خوف ہو کہ اسے یا اسکے کسی عزیز کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے تو یہ جرم اسٹاکنگ کے زمرے میں آئے گا۔ اس کے مختلف ہتھکنڈوں میں ناپسندیدہ فون کالز، ٹیکسٹ میسجز، آوازیں، ای میلز، سوشل میڈیا کے ذریعے پیغامات، کارڈز، خطوط، تحائف، پھول، کسی کا پیچھا کرنا، کیمرہ اور دیگر آلات سے جاسوسی کرنا، متاثرہ فرد کے آفس، گھر، اسکول وغیرہ پر باقاعدگی کے ساتھ ایک خاص انداز سے سامنا کرنا، متاثر فرد کی گاڑی، گھر یا دفتر میں کوئی دھمکی آمیز پیغام چھوڑنا وغیرہ شامل ہیں۔

4۔ امریکہ میں جنسی ہراسمنٹ کے اعداد و شمار:

4.1۔ عام شعبہ ہائے زندگی میں جنسی ہراسمنٹ:

امریکہ میں لاکھوں لوگ ہر سال جنسی ہراسمنٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ امریکہ میں جنسی پارٹنر کے ساتھ ہونے والے جنسی جرائم کے قومی سروے کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہر 5 خواتین میں سے 1 کے ساتھ اسکی زندگی میں کم ازکم ایک بار زنا یا اقدام زنا کا واقعہ ضرور پیش آتا ہے عام طور پر ہر 3 متاثرہ خواتین میں سے 1 خاتون کے ساتھ یہ واقعہ اسکی 11 سے 17 سال کی عمر میں پہلی بار پیش آتا ہے۔ ہر 8 متاثرہ خواتین میں سے 1 خاتون کے ساتھ یہ واقعہ 10 سال سے کم عمر میں پیش آتا ہے۔ اسی طرح ہر 38 مردوں میں سے 1 مرد اپنی زندگی میں کم ازکم ایک بار زنا کا عمل ضرور کرتا ہے یا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر 4 متاثرہ مردوں میں سے 1 مردکے ساتھ غیر فطری عمل، اسکی 11 سے 17 سال کی عمر میں ضرور پیش آتا ہے اور ہر 4 متاثرہ مردوں میں سے 1 مرد کی زندگی میں یہ واقعہ اسکی عمر کے ابتدائی 10 سال میں پیش آتا ہے۔ ہر 6 میں سے 1 خاتون اور ہر 17 میں 1 مرد اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار اسٹاکنگ کا شکار ہوتے ہیں جس سے انکو جنسی خوف یا جان کا خوف لاحق ہوتا ہے۔ ہر 3 میں سے 1 خاتون کو اپنی زندگی میں ایک سے زائد مرتبہ اپنے جنسی پارٹنر کی طرف سے جنسی تشدد، اسٹاکنگ اور زبردستی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اور ایک تہائی خواتین اپنی زندگی میں ایک سے زائد مرتبہ اپنے جنسی پارٹنر کی طرف سے نفسیاتی اور جذباتی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ اور جنسی پارٹنر کی طرف سے جسمانی تشدد اور جذباتی و نفسیاتی تشدد کے سلسلے میں متاثر ہونے والے مردوں کی تعداد خواتین کے برابر ہے۔ (NISVS 2015)

امریکہ میں جنسی ہراسمنٹ کے متاثرین میں سے تقریباً 79 فیصد خواتین اور 21 فیصد مرد ہوتے ہیں اور ان میں سے 51 فیصد وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی سپروائزر کے ہاتھوں نشانہ بنتے ہیں۔ یہ جرم ہر شعبہ زندگی میں پایا جاتا ہے لیکن بزنس، ٹریڈ، بینکنگ، فنانس اور بڑی صنعتیں اسکا خاص طور پرمرکز ہیں۔ حکومتی شعبوں میں دیگر شعبوں کے علاوہ پولیس اورآرمی میں بھی یہ جرم بڑی تعداد میں ہوتا ہے۔

4.2۔ امریکن آرمی اور پولیس میں جنسی ہراسمنٹ:

ایک کنیڈین ریسرچ کے مطابق آرمی کے اندر اس جرم کے زیادہ تعداد میں پائے جانے کی وجوہات یہ ہیں کہ وہاں تنگ رہائش گاہوں میں زیادہ تعداد میں لوگ رہ رہے ہوتے ہیں، عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت کم ہے، کلیدی عہدوں پر بھی عورتوں کی تعداد کم ہے، اور خاص طور پر آپریشنز کے دوران سنئیر آفیسرز کے اختیارات بڑھ جاتے ہیں اور انکی حکم عدولی فوجی جرم ہوتا ہے اس لئےاسکی آڑ میں جنسی ہراسمنٹ کےجرائم زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں۔ اور ایک دوسری ریسرچ کے مطابق جو خواتین اوائل جوانی میں فوج کو جوائن کرتی ہیں، انکی ٹریننگ اور نوکری کے ابتدائی ایام کے دوران انکے متاثر ہونے کے خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح کم عمر کیڈٹس (مرد و زن) کی بھی بہت بڑی تعداد اس جرم سے متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح جو لوگ آپریشنز کے دوران یا کسی بھی وجہ سے فوجیوں کے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں انکی بہت بڑی تعداد کے ساتھ بھی سنگین جنسی جرائم ہوتے ہیں جیسے ابو غریب جیل کے قیدیوں کے ساتھ بہت بڑی تعداد میں سنگین جنسی جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔

آسٹریلیا، کنیڈا، فرانس، برطانیہ اور امریکہ میں ہونے والی تحقیقات کے مطابق آرمی فورسز کے اندر بہت بڑے پیمانے پر جنسی ہراسمنٹ کا طر ز عمل پایا جاتا ہے لیکن اہلکار (مرد و خواتین) رپورٹ نہیں کرتے کیونکہ انہیں سنئیرز کی طرف سے بدلہ لینے کی خاطرانتقامی کاروائیوں کا خوف ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ شکایات کرنے والوں کو فوج سے نکالنے، ان کا عہدہ کم کر نے یا پروموشن روکنے کے متعدد واقعات بھی موجود ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی وجہ سے ایسے واقعات کی روک تھام ممکن نہیں ہو رہی اور زیادہ تر لوگ اپنی ملازمت ختم ہو جانے کے خوف سے ان واقعات کو رپورٹ نہیں کرتے۔ ان تحقیقات کے مطابق آرمی فورسز میں جنسی جرائم سے متاثر ہونے والے اہلکاروں میں خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور آپریشنز میں انکی تعیناتی کے بعد Post-Traumatic Stress Disorder فیکٹر اپنی انتہائی سطح تک پہنچ جاتا ہے کیونکہ انکے ذہن اور نفسیات پر سابقہ بھیانک تجربات سوار ہو جاتے ہیں۔

یو ایس آرمی کی طرح انکی پولیس بھی ان جرائم میں بہت بڑی تعداد میں ملوث ہے۔ Bowling Green State Universityکی ایک تحقیق کے مطابق 2005 سے 2013 کے درمیان یو ایس پولیس کے افسران 636 جنسی ہراسمنٹ کی وارداتوں میں، 405 افسران زنا بالجبر کی وارداتوں میں، اور 219 افسران اغلام پرستی کی وارداتوں میں گرفتار ہوئے۔ اور انکے علاوہ دیگر چھوٹے موٹے جنسی جرائم میں ہونے والی انکوائریز کی تعداد بے شمار ہے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف جسٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں گزشتہ سات سال کے دوران 6700 پولیس افسران گرفتار ہوئے جن میں نصف سے زیادہ جنسی جرائم میں ملوث تھے۔ یو ایس پولیس کے افسران زیادہ تر نو عمر لڑکیوں، سیکس انڈسٹری میں کام کرنے والی خواتین، گیز، اور ان خواتین کو جنسی جرائم کا نشانہ بناتے ہیں جو گھریلوں جنسی جرائم کی شکایت درج کراتی ہیں اور تحفظ کی درخواست کر رہی ہوتی ہیں۔ اور بوائے فرینڈ کے جنسی تشدد وغیرہ کے خلاف پولیس سے تحفظ کی درخواست کرنے والی شاید ہی کوئی ایسی خاتون ہوگی جسے پولیس والے کم ازکم ڈیٹس وغیرہ کیلئے رضامند نہ کر لیتے ہوں۔ ایک پولیس افسر کے مطابق ایسی متاثرہ خواتین کی کیفیت ‘Shooting fish in a barrel’ جیسی ہوتی ہے اس لئے وہ فوراً رضامند ہو جاتی ہیں۔

4.3امریکن اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جنسی ہراسمنٹ:

امریکن ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی وومن (AAUW) کے ایک سروے کے مطابق امریکہ کے اسکولوں میں ہر 10 میں سے 8 اسٹوڈنٹس جنسی ہراسمنٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں گرلز اسٹوڈنٹس 83 فیصد اور بوائز اسٹوڈنٹس 78 فیصد ہوتے ہیں۔ کل متاثرین طلباء و طالبات میں سے 38 فیصد اپنے اساتذہ یا اسکول انتظامیہ کا نشانہ بنتے ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ 36 فیصد اساتذہ اور انتظامیہ اسی جرم میں اسٹوڈنٹس کا نشانہ بنتے ہیں اور 42 فیصد اساتذہ اور انتظامیہ کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کا نشانہ بنتے ہیں۔ اسے سروے کی کالجزاور یونیورسٹیز کے بارے میں رپورٹ کے مطابق 62 فیصد گرلزاسٹوڈنٹس اور 61 فیصد بوائز اسٹوڈنٹس کالج اور یونیورسٹی کیمپس کے اندر اس جرم کا نشانہ بنتے ہیں، 66 فیصد اسٹوڈنٹس نشانہ بننے والوں کو ذاتی طور پر جانتے ہیں، 35 فیصد نشانہ بننے والے اس بات کو چھپا لیتے ہیں اور کسی کو نہیں بتاتے، متاثرین میں سے 80 فیصد رپورٹ کرتے ہیں، 51 فیصدطلباء اور 31 فیصد طالبات اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ انہوں نے کیمپس کے اندر کسی نہ کسی کو نشانہ بنایا، اور 2002 سے 2007 تک 2500 اساتذہ پر جنسی ہراسمنٹ کے الزامات پر مقدمات درج ہوئے۔

5۔ پاکستان میں جنسی ہراسمنٹ:

فائزہ علی کی ایک تحقیق کے مطابق جنسی ہراسمنٹ کے حوالے سے مغربی ممالک اور پاکستان میں واضح فرق پایا جاتا ہے اور اسکی بنیادی وجہ انکی تہذیب، تمدن، ثقافت اور خواتین کے شرم و حیا اور عفت و عصمت کے بارے میں تصورات کا فرق ہے اور ان تصورات اور رویوں کے تربیت میں مذہب کا ایک بہت بڑا کردار ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کے اندر ابھی تک خواتین کی زیادہ تعداد گھروں پر اپنا وقت گزارتی ہے اور اگر انہیں کبھی باہر جانا بھی ہوتا ہے تو اپنا ضروری جسم ڈھانپ کر جاتی ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ پاکستان میں خواتین عموماً کہیں بھی اکیلئے نہیں جاتیں۔ بینکوں، سرکاری دفاتر، کورٹ کچہری، حتیٰ کہ ہسپتال اور اسٹیشنری کی شاپس پر بھی اکیلے نہیں جاتیں اس لئے عموماً مردوں کے ساتھ اکیلئے میں ملنے interactionکے مواقع بہت کم ہوتے ہیں۔ اسی طرح جو خواتین کام کرنے کی غرض سے باہر نکلتی ہیں انکی بڑی تعداد وہ ہوتی ہے جو کسی مجبوری کے باعث ایسا کرتی ہے بہت کم خواتین ہیں جو شوق میں کام کرتی ہیں اس لئے دفاتر، سرکاری اداروں اور فیکٹریوں وغیرہ میں عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے بہت کم ہے۔ صرف ایجوکشن اور نرسنگ ایسے شعبے ہیں جہاں بڑے شہروں میں خواتین کی تعداد مردوں کی تعداد کے قریب تر ہے۔ لیکن معاشرے میں شرم و حیاء کی مضبوط اقدار کی وجہ سے ان شعبہ جات میں بھی بہت کم خواتین کا مردوں کے ساتھ آزادانہ میل جول ہوتا ہے اس لئے اس طرح کے واقعات بہت کم پیش آتے ہیں۔ اسکے مقابلے میں روڈ، گلیوں، بازاروں اور ایسے مقامات جہاں کوئی خاتون اکیلئے کہیں آ جا رہی ہوتی ہے وہاں اوباش لوگوں کی طرف سے چھیڑ چھاڑ وغیرہ کے واقعات نسبتاً زیادہ پیش آتے ہیں لیکن ان کی تعداد یورپ اور امریکہ کے مقابلے میں پھر بھی کم ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ مشرقی تہذیبوں میں چونکہ یہ تصور پایا جاتا ہے کہ ان خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ زیادہ ہوتی ہے جو اپنی عصمت، عفت اور شرم و حیاء کے بارے میں زیادہ پرواہ نہیں کرتیں۔ اور چونکہ ایسی باتیں عام ہونے پر ان خواتین کی بدنامی اور سوسائٹی میں ریجیکشن کے خطرے کا موجب بنتی ہیں اس لئے سمجھدار خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد اس حوالے سے بہت محتاط ہوتی ہے اور پوری کوشش کرتی ہیں ایسے واقعات انکے ساتھ پیش ہی نہ آئیں۔ جبکہ یورپ اور امریکہ کی خواتین اس حوالے سے بے باک اور غیر محتاط رویے کی حامل ہیں اس لئے انکے ساتھ ایسے واقعات زیادہ پیش آتے ہیں۔ پاکستان میں اکا دکا ایسے واقعات شو بزنس میں پیش آتے رہتے ہیں کیونکہ وہاں کام کرنے والی خواتین بھی عموماً بے باک اور غیر محتاط رویے کی حامل ہوتی ہیں اور کچھ مغرب نواز صحافی و تجزیہ کار، خواتین و انسانی حقوق کی تنظیمیں، سول سوسائٹی اور چند میڈیا اینکرز انکو اچھال کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ پورے پاکستان کی خواتین جنسی ہراسمنٹ کا شکار ہیں۔

5.1۔ مغرب نواز پاکستانی میڈیا اور پرائیویٹ اداروں کے گمراہ کن اعداد وشمار:

ڈان اخبار، ایکسپریس ٹرائیبون اور کچھ دیگر اخبار و جرائد اپنے انٹر نیٹ سرویز کےذریعے اور مختلف آرٹیکلز اور تجزیوں کے ذریعے پوری کوشش کر رہے ہیں کہ مصنوعی طریقے سےکچھ ایسے اعداد و شمار جاری کرسکیں جو یہ ظاہر کرتے ہوں کہ پاکستان میں خواتین کے خلاف جنسی ہراسمنٹ کے جرم کا گراف اوپر جاتا ہوا دکھائی دے لیکن اب تک انکی کی جانے والی کوشش بارآور ثابت نہیں ہوئیں۔ یہ اخبار و جرائد جب بھی اس قسم کے اعداد و شمار جاری کرتے ہیں تو جان بوجھ کر جنسی ہراسمنٹ کے جرائم کے ساتھ دیگر ہر قسم کے جرائم کے اعداد و شمار کوخلط ملط کرکے دکھاتے ہیں تاکہ قارئین کو گمراہ کیا جا سکے لیکن درحقیقت پاکستان میں جنسی ہراسمنٹ کے جرائم کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ پاکستان صنعتی اور معاشی ترقی میں جس نسبت سے یورپ اور امریکہ سے پیچھے ہے اس سے کہیں بڑی نسبت سے جنسی جرائم میں یورپ اور امریکہ سے پیچھے ہے۔

فزیکل وائلنس اور جنسی وائلنس دو الگ جرائم ہیں لیکن یہ اخبارات اور ادارے، جب عورت کے خلاف وائلنس کی بات کرتے ہیں تو فزیکل وائلنس اور جنسی وائلنس کو ملا کر پیش کرتے ہیں تاکہ کل اعداد شمار بڑے نظر آئیں کیونکہ جنسی وائلنس کا اصل ڈیٹا بہت کم اعداد و شمار دکھاتا ہے۔ مثلاً ایکسپریس ٹرائیبون نے ایک آرٹیکل کو عنوان دیا کہ ” 93 فیصدپاکستانی خواتین زندگی میں ایک بار جنسی وائلنس کا سامنا ضرور کرتی ہیں” لیکن اسکے اندر اگر مضمون کا مطالعہ کریں تو اسکی پہلی سطر میں لکھا ہےکہ 70 فیصد پاکستانی خواتین اور لڑکیاں اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار فزیکل یا جنسی وائلنس کا شکار ضرور ہوتی ہیں اور اس بات کے ثبوت کے طور پر ‘مددگار نیشنل ہیلپ لائن’ کے ضیاء احمد اعوان کی ایک پریس کانفرنس کوپیش کیا گیا جس کے مطابق ہیلپ لائن کے ذریعے 2016 کے سال کے اندر7561 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں 118 بچپن کی شادی، 162 سائبر کرائم، 14 بچوں کے ساتھ زیادتی، 2094 گھریلو تنازعات، 14 جبری شادی، 562 فزیکل ہراسمنٹ، 12 کاروکاری، 2251 بچوں کی گمشدگی، 213 عورتوں کی گمشدگی، 5 زنا، 6 لواطت، 7 جنسی ابیوز، 5 عورتوں کا اغوا، 10 جنسی ہراسمنٹ کے کیسز سامنے آئے۔ یعنی جنسی ہراسمنٹ کے 10 کیسز کو اخبار نے 93 فیصد کی سرخی لگا کر پاکستان کی 22 کروڑ عوام کو گمراہ کیا۔ پاکستانی میڈیا کے مقابلے میں غیر ملکی ادارے اور میڈیا حقائق کو نسبتاً ذرا بہتر طور پر پیش کرتے ہیں لیکن بہت دفعہ وہ بھی گمراہ کن نتائج اخذ کرتے ہیں۔

بی بی سی اردو کے ایک آرٹیکل نے سرکاری محتسب کا حوالہ دیتے ہوئے جو اعداد و شمار پیش کئے وہ قرین قیاس لگتے ہیں۔ اسکے مطابق پاکستان میں 2011 سے 2014 تک جنسی ہراسمنٹ کے سلسلے میں 173 کیسز درج ہوئے جن میں اکثریت کا تعلق سرکاری دفاتر سے تھا۔ 2016 میں 77 کیسز رپورٹ ہوئے، 2017 میں 88 کیس رپورٹ ہوئے۔ خواتین کے حقوق کی تنظیمیں اور فیمنسٹ تحریک مذکورہ اعداد و شمار پر یہ واویلا مچاتے ہیں کہ درحقیقت پاکستان میں ایسےکیسز تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن رپورٹ نہیں ہوتے اس لئے انکے پریشر کی وجہ سے 2018 میں جنسی ہراسمنٹ کے کیسز رپورٹ کرنے کے حوالے سے خصوصی مہم چلائی گئی اور 22 کروڑ کی آبادی میں سال بھر میں 272 کیس رپورٹ ہوئے اور سال 2019 میں 366 کیس رپورٹ ہوئے۔ تمام باخبر لوگ جانتے ہیں کہ اس سے زیادہ کیس تو امریکہ کی ایک اسٹیٹ کی ایک کائونٹی میں مہینے بھر میں رپورٹ ہو جاتے ہیں۔

مذکورہ تنظیموں کو پاکستان میں جب جنسی ہراسمنٹ کے حوالے سے مطلوبہ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہوتے تویہ مزدور، محنت کش، بے گھر اور سڑک پر رہنے والے بچوں کے خلاف ہونے والے ظلم و زیادتی کو جنسی ہراسمنٹ کے زمرے میں ڈالنے کی کوشش کرنے لگ جاتے ہیں۔ مثلاً پاکستان میں ساحل کے نا م سے چلنے والے ایک پرائیویٹ ادارے کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں ہر روز 11 بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں اور انکا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہ تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ اس پاکستانی ادارے نے اقوام متحدہ کی جاری کردہ اعداد و شمار کی ایک رپورٹ سے اپنی کیلکیولیشن کرکے مذکورہ دعویٰ کیا جبکہ اقوام متحدہ کے انہی اعداد و شمار کے تناظر میں بی بی سی اردو کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر روز 9 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے۔ یہ دونوں خبریں بنیادی طور پر اس وقت تک گمراہ کن ہیں جب تک انہیں اقوام متحدہ کے اصل اعداد شمار کی روشنی میں نہ دیکھا جائے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ 2005 اور ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ افراد بے گھر ہیں، 6 کروڑ پچا س لاکھ افراد ایسے گھروں میں رہتے ہیں جہاں بنیادی سہولتیں میسر نہیں۔ پندرہ لاکھ بچے سڑکوں پر رہتے ہیں، اسی طرح پاکستان میں ایک کروڑ دو لاکھ بچے ایسے ہیں جو مزدوری کرکے پیٹ پالتے ہیں دو کروڑ 84 لاکھ بچے ایسے ہیں جن کے والدین، بچوں کی اسکول کی عمر میں انہیں اسکول بھیجنے کی مالی طاقت نہیں رکھتے۔ ان دس بارہ کروڑ پریشان حال افراد میں اگر ہر رو ز 9، 10 یا 11 بچوں کے ساتھ زیادتی ہو جائے تو اس کو دنیا کا کونسا سا عقل مند انسان انہونی بات کہے گا۔ اتنے بچوں کے ساتھ تو امریکہ کے ایک اسکول میں ہر روز زیادتی ہو جاتی ہے۔ ہمارا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ یہ سب خدا نخواستہ خوشی کی بات ہے۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ یہ سب نہیں ہونا چاہیے، دنیا میں کسی ایک بچے، ایک خاتون یا ایک فرد کے ساتھ بھی زیادتی نہیں ہونی چاہیے او ر اعداد و شمار کو  بھی درست طریقے سے پیش کرنا چاہے اور ان کا جوڑ توڑ کرکے عوام کو گمراہ نہیں کرنا چاہیے۔

فزیکل ڈومسٹک وائلنس (گھریلوجھگڑے) ایک بالکل ہی الگ طرح کا ناخوشگوارروائیتی طرز عمل ہے جسکا جنسی ہراسمنٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس طرز عمل کی ہلکی شکل صرف تو تکار یا لفظی جنگ(منہ ماری) تک محدود ہوتی ہے اورپاکستان کی اکثریت جو جدید تمدن کے باسیوں کیلئے دن رات خون پسینہ ایک کرتی ہے اور اسکے بدلے انہیں زندگی کی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہوتیں انکے گھروں میں یہ لفظی جنگ ہر روز کا معمول ہے۔ ہمارے ہاں غریب لوگوں کی بستیوں میں یہ کوئی جرم ہے نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ پولیس اسٹیشن پر اگر کوئی ایسی درخواست آتی بھی ہے تو وہ اسکو لائق توجہ نہیں سمجھتے۔ لیکن مغرب میں چونکہ وربل ابیوز بھی ایک جرم ہے اس لئے غیر ملکی ادارے جب پاکستان میں سروے کراتے ہیں تو وہ توتکار اور منہ ماری کو بھی جرم کے زمرے میں شمار کرتے ہیں حالانکہ یہ ہمارے ہاں کوئی جرم نہیں۔ نیز انکے لئے یہ تو ممکن نہیں کہ بائیس کروڑ آبادی کا مکمل سروے کریں لہذا وہ دو، چار سو افراد کا ایک سمپل لیکر اس سے اندازے اور تخمینے لگا کر اپنے اعداد و شمار جاری کر دیتے ہیں اور ہمارے اخبارات اور میڈیا کے عجلت پسند اور غیر محتاط صحافی و تجزیہ کار ان تخمینوں کی حقیقت سمجھے بغیر اس پر سرخیاں جمادیتے ہیں۔ مثلاً 13-2012 میں پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے ہوا جس میں انہوں نے ایک چھوٹا سا سمپل ڈیٹا لے کر کچھ خواتین کے انٹرویو کئے جس میں خواتین کی اکثریت نے اس بات کا اقرار کیا کہ انکے گھر میں ہر روز میاں کے ساتھ چھوٹی موٹی باتوں پر بحث مباحثہ ہوتا ہے لیکن ان نتائج کو اس سروے نےجرنلائز شکل میں اس طرح پیش کیا کہ پاکستان میں 47 فیصد خواتین کے ساتھ فزیکل ڈومیسٹک وائلنس ہوتا ہے۔ اس سے قبل 2009 میں ہیومن رائٹس واچ نے ایسے ہی ایک سروے میں کہا کہ پاکستان میں 70 سے 90 فیصد خواتین ڈومیسٹک وائلنس کا شکار ہیں۔

اسی طرح مشرقی تہذیبوں میں قانونی شادی اور نکاح کے بغیر ہر طرح کے جنسی تعلق کو جرم اور گناہ سمجھا جاتا ہے لیکن قانونی شادی کے بعد اگر فریقین واضح طور پرایک دوسرے کی مرضی اور خواہش جانے بغیر جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں تو وہ نہ گناہ ہے اور نہ ہی جرم۔ لیکن مغربی تہذیب میں خواہش، شوق اور مرضی کے مطابق کیا گیا ہر جنسی عمل جائز اور بغیر خواہش، رضامندی اور شوق کے کیا گیا ہر جنسی عمل جرم ہے۔ اس لئے انکے ہاں قانونی طور پر جائز میاں بیوی کے درمیان بھی اگر جنسی عمل میں رضامندی شامل نہ ہو تو وہ اسے ریپ کہتے ہیں لیکن ہمارے ہاں اسے ریپ نہیں کہا جاتا۔ اس لئے انکے ادارے جب یہاں سروے کرتے ہیں تو چار پانچ سو خواتین پر مشتمل چھوٹا سا سیمپل عموماً ایسا ہوتا ہے جو سول سوسائٹی کی طرف سے ہی مہیا کیا جاتا ہے اور اس sample سے جب سوال کیا جاتا ہے کہ کیا آپ کا میاں آپ کی رضامندی جانے بغیر آپ کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتا ہے تو اسکا جواب ہر ایک کی طرف سے ہاں میں ہی دیا جاتا ہے۔ ان خواتین کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے اس جواب سے کس قسم کے سنگین نتائج اخذ کئے جائیں گے۔ یونائیٹڈ نیشنز کی ایک ایسی ہی اسٹڈی نے اسی طرح کے سروے سے یہ نتائج اخذ کئے کہ پاکستان میں 50 فیصد شادی شدہ خواتین کے ساتھ ڈومسٹک وائلنس ہوتا ہے اور 90 فیصد خواتین کا نفسیاتی طور پر استحصال ہوتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اور تخمینے اگرچہ گمراہ کن ہیں لیکن پھر بھی انکا جنسی ہراسمنٹ کے جرم سے کوئی تعلق نہیں لیکن پاکستانی میڈیا اور پریس جنسی ہراسمنٹ کی سرخی جما کر اسکے نیچے مذکورہ اعداد و شمار درج کرتے ہیں۔

پاکستان میں سیاسی پارٹیوں کی لیڈر شپ، پارلیمانی اداروں، مقننہ، حکومتوں اور مقتدر حلقوں نے خواتین کے حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی، فیمنسٹ تحریک اور عالمی اداروں کے دبائو میں آکر راتوں رات امریکی قوانین کا چربہ تیار کرکے اسمبلیوں سے منظور کروا لیا اور پھر جیسے جیسے امریکہ اور یورپ میں ان قوانین میں نئی سے نئی ترامیم ہو رہی تھیں انہوں نے بھی انہیں خو ش کرنے کیلئے اپنے ہاں ویسی ہی ترامیم بھی کر ڈالیں۔ یعنی پہلے وومن پروٹیکشن بل پاس ہوا پھرProtection Against Harassment of Women at the Workplace Act اور ایسڈ اینڈ برن کرائم بل، لایا گیا پھر پروٹیکشن آف انٹی وومن پریکٹس ایکٹ، پھر ڈومیسٹک وائلنس ( پریونشن انڈ پروٹیکشن )ایکٹ اور پھرکرائم لاء امینڈ منٹ(عزت اور غیرت کے نام پر ہونےوالے جرائم) ایکٹ 2016 منظور کر لئے۔ لیکن یہ سب قوانین وضع ہوجانے کے بعد عالمی ادارے یہ دریافت کر رہے ہیں کہ ٹھیک ہے آپ کے ہاں یہ قانون سازی تو ہو گئی ہے لیکن وہ مجرم کہاں ہیں جنہیں ان قوانین کے مطابق سزا دی جائے گی اور ان جرائم کے متاثرین کہاں ہیں ؟ ان کے اعداد و شمار مہیا کئے جائیں تاکہ عالمی اداروں کا ریکارڈ درست ہو۔ اب انکے پاس نہ جنسی ہراسمنٹ کے متاثرین ہیں نہ مجرم اس لئے یہ بدعنوان اشرافیہ، حکومتی اہلکار، کچھ میڈیا اہلکار اور سول سوسائٹی کی ملی بھگت سے کبھی ایک جرم کی کٹیگری کو دوسری کیٹیگری میں ڈالتے ہیں اور کبھی دوسر ے جرم کی کٹیگری کو تیسری کیٹیگری میں ڈالتے ہیں اور یوں اپنا کام چلا رہے ہیں انکو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ پاکستان کے سوشل سائنسز کے اسٹوڈنٹس، یونیورسٹیز، محقیقین، تحقیقی ادارے اور عوام انکے اعداد و شمار سے گمراہ ہو رہے ہیں۔

6۔ جنسی ہراسمنٹ کے اثرات:

ویسے تو ہر جرم کے متاثرین کے جسم، ذہن اور نفسیات پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن ماہرین کاکہنا ہے کہ جنسی ہراسمنٹ کے متاثر ہونے والے فرد پر مندرجہ ذیل برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں مثلاً غصہ، خوف، شرم، ذلت، رسوائی، احساس جرم، حق تلفی کے احساس پر متشدد رویہ، عدم تحفظ کا احساس، اضطراب، ڈیپریشن، سردرد، بے آرامی، اعصابی تنائو، بے خوابی، بھوک کی کمی، بد ہضمی، عدم توجہی، عدم برداشت، گھبراہٹ، اور بعض اوقات زیادہ سنگین صورتحال خودکشی تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

7۔ جنسی ہراسمنٹ کا تدارک:

جس ترقی یافتہ تمدن نے جنسی ہراسمنٹ کے جرم کو جنم دیا، اسے پالا پوسا اور پھر دنیا بھر میں پھیلا یا، اسی تمدن کے ماہرین کا خیال ہے کہ جنسی ہراسمنٹ کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار اسکا تدارک ہے، یہ جرم خود بخود ختم نہیں ہو سکتا۔ انکے خیال میں کام کی جگہوں پر جنسی ہراسمنٹ کے تدارک کی ذمہ داری ادارے کے سربراہ یا فیکٹری و آفس کے مالک کے اوپر عائد ہوتی ہے۔ امریکہ، کنیڈا اور کچھ یورپی ممالک میں تمام مالکان کے اوپر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسا ماحول مہیا کریں جو امتیازی سلوک اور جنسی ہراسمنٹ سے پاک ہو۔ امریکہ میں خاص طور پر ایک اینٹی ہراسمنٹ پالیسی بنائی گئی ہے جس کے مطابق اگر کسی کام کی جگہ پر مالکان اور ذمہ داران اس مسئلے کے حل اور تدارک کیلئے ضروری اقدامات نہیں اٹھاتے تو وہاں ہونے والی جنسی ہراسمنٹ کی ذمہ داری، قانونی طورپر ان مالکان اور ذمہ داران پر عائد ہوتی ہے خواہ براہ راست طور پر وہ اسکے بارے میں لاعلم ہی کیوں نہ ہوں۔ اسی طرح اس پالیسی کے مطابق تمام کام کرنے والوں کو تحریری طور پر اس بات کاپابند بنایا جاتا ہے کہ وہ کام کی جگہ پر امتیازی سلوک اور جنسی ہراسمنٹ کے رویہ کو اپنائیں بصورت دیگر انہیں نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے اور انکے خلاف قانونی کاروائی بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح ہر ادارے میں شکایت درج کروانے کا ایک باقاعدہ طریقہ موجود ہے۔ اینٹی ہراسمنٹ پالیسی کو زیادہ موثر بنانے کیلئے اسٹاف، سپروائزرز اور منیجر ز اور رپورٹنگ اسٹاف کی ٹریننگ ہوتی ہے جس میں یہ باتیں سکھائی جاتیں ہیں کہ متاثر فرد کی کس طرح جسمانی، نفسیاتی اور قانونی مدد کی جا سکتی ہے۔ سپروائزرز اور منیجرز کو اس بات کی کڑی نگرانی کرنا پڑتی ہے کہ ان کے شعبہ جات میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔ لیکن ان تمام پالیسیز کا یہ مطلب نہیں کہ اب امریکہ یا یورپی ممالک میں یہ جرم ہونا ختم ہو گیا ہے۔ جرم اپنی جگہ پر اسی طرح ہو رہا ہے بلکہ شاید اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور وہ سپروائزرز، منیجرز اور عملہ اس میں زیادہ ملوث پایا جاتا ہے جسے نگرانی، ٹریننگ اور شکایات درج کرنے کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی فرد واحد اس مسئلے پر قابو نہیں پا سکتا۔ اس مسئلے پر قابو پانےکیلئے ضروری ہے کہ ہرسطح پر اسکا احساس اجاگر ہو اور تمام لوگ آفسز، فیکٹریز، اسکولز، کالج یونیورسٹیز کی انتظامیہ، ورکرز، اساتذہ، طلباو طالبات، والدین، عام لوگ سب اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور متاثرین سے تعاون کریں اور اس جرم کے مرتکب افراد سے عدم تعاون کریں تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ تعلیمی اداروں (اسکول، کالج، یونیورسٹیز) کو چاہیے کہ طلباء و طالبات و اساتذہ کو ایسا محفوظ ماحول مہیا کریں جہاں عدم برداشت، عدم تحفظ اور جنسی جرائم نہ ہو سکیں۔ جنسی جرائم کی روک تھا م کی پالیسی کو اپنائیں اور انتظامیہ کے اوپر کے لیول سے لیکر نچلے لیول تک سب لوگ اس حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں، باقاعدگی کی بنیاد پر پالیسی، ٹریننگ اور اسیسمنٹ ہونی چاہیے تاکہ اس طرح کے واقعات نہ ہونے پائیں۔

عام افراد کو چاہیے کہ وہ ان سماجی اقدار کے تحفظ کیلئے کام کریں جو جنسی جرائم کے خلاف ہیں مثلاً انتہاپسندانہ جنسی رویوں، زبان، کردار وغیرہ کے خلاف آواز اٹھائیں، ان جرائم سے متاثر ہونے والا کوئی فرد بھی مدد کیلئے پکارے تو اسکی مدد کرکے مجرموں کوسبق سکھائیں۔ اس بات کی معلومات حاصل کریں کہ یہ مدد کن طریقوں سے پہنچائی جا سکتی ہے مثلاً ریپ کرائیسز سینٹر، قانونی تحفظ کی خدمات کے ادارے، Trauma focused Cognitive Behavioral Therapy، ایمرجنسی سروس، ریپ، ابیوز نیشنل نیٹورک، نیشنل سیکچوئیل وائلنس ریسورس سینٹر وغیرہ کے بارے میں معلومات ہونی چاہیں۔ اگر ہراس کرنے والا شخص ایک حد سے آگے بڑھتا ہے اور کوئی جسمانی یا جنسی تشدد کرتا ہے یا دھمکی دیتا ہے اور خوف دلاتا ہے تو پولیس کو اطلاع کی جا سکتی ہے اور پھر اسکے خلاف باقاعدہ طور پر کورٹ میں قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے (NSVRC)

جنسی ہراسمنٹ کی ہر صورتحال مختلف ہوتی ہے اس لئے اس سے بچنے کا کوئی ایک لگا بندھا طریقہ نہیں ہے۔ لیکن بنیادی طریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کو مورد الزام ٹھہرائیے ورنہ وہ آئندہ بھی اس سلسلے کو جاری رکھے گا اور یہ خیال کرے گا کہ اس حرکت کے نتیجے میں کوئی سخت رد عمل نہیں آتا۔ اس بری حرکت کے رد عمل کا آغاز اس بات سے کرنا چاہیے کہ جس شخص سے مسئلہ پیدا ہو رہا ہو اس سے براہ راست بات کی جائے اور اسے باور کرایا جائے کہ یہ درست طرز عمل نہیں ہے اور اسے تحریری طور پر بھی واضح انداز سے بتایا جا سکتا ہے کہ جس انداز آپ مجھ سے گفتگو کرتے ہیں، مجھے چھوتے ہیں یا مجھے گھورتے ہیں یا دیگر حرکتیں کرتے ہیں وہ مجھے بالکل پسند نہیں ہیں، میں آپ کی نیت کو مورد الزام نہیں ٹھہرارہی لیکن ظاہری طور پر یہ حرکتیں میرے لئے بہت ناگواری کا باعث ہیں میرا خیال ہے پروفیشنل ماحول کو بہتر بنانے کیلئے آپ اس سلسلے میں ضرور تعاون کریں گے۔ یہ تحریر اور دیگر ثبوت اپنے ریکارڈ میں بھی رکھ لیں اور بعد میں اگر باقاعدہ شکایت کی ضرورت محسوس ہو تو ان کا حوالہ دے کر بات کریں وہ اس طرح کے طرز عمل کو دوبارہ نہ دہرائے اور زیادہ تر اتنا ہی کافی ہوتا ہے لیکن اگر وہ شخص اپنے طرز عمل سے باز آنے کی بجائے اور زیادہ تنگ کرتا ہے تو پھر اسکے بارے میں کسی ایسے بزرگ آدمی کو بتانا ضروری ہے جو آپ کیلئے قابل اعتماد ہو مثلاً والدین، اساتذہ، کوچ، یا کوئی دوسرا قریبی دوست، رشتہ دار وغیرہ۔ زیادہ تراسکول، کالج، یونیورسٹی وغیرہ میں ایک ایسا ذمہ دار شخص ہوتا ہے جو بچوں کی چھیڑ چھاڑ کے حوالے سے معاملات کو دیکھتا ہے تو اگر اس طرح کا معاملہ تعلیمی ادارے میں پیش آئے تو متعلقہ عہدیدار کو بتانا چاہیے۔ اس معاملے میں شرمانے کی بجائے صاف طور پر صورت حال سے آگاہ کرنا چاہیے اور متعلقہ ثبوت بھی فراہم کرنے چاہیں۔ اور اگر آپ کی موجودگی میں کسی اور کے ساتھ اس طرح کی صورتحال پیش آ رہی ہو تو اسکی مدد کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو آگاہ کرنا چاہیے۔ آپ جنسی طور پر ہراساں کرنے والے شخص یا اشخاص کو distract کریں لیکن اس سلسلے میں اپنے آپ کو خطرے میں نہ ڈالیں۔ (Michelle J. New)

8۔ جنسی ہراسمنٹ کے قانون اور پالیسی کا تنقیدی جائزہ:

جنسی ہراسمنٹ کے قوانین اور اینٹی ہراسمنٹ پالیسیز کو ظاہری نظر سے دیکھا جائے تو ان میں کوئی بھی ایسی چیز نظرنہیں آتی ہے جس سے اختلاف کیا جا سکے۔ بظاہرایسا لگتا ہے کہ خواتین کو جسمانی، جذباتی اور نفسیاتی تحفظ فراہم کرنے اور ایک پاکیز ہ ماحول فراہم کرنے کا یہ ایک نہایت شاندار میکنزم ہے جو مذاہب اور روائیتی تہذیبوں کی اخلاقی اقدار اور خواتین کی عفت و عصمت کو محفوظ بنانےکے عزم کے عین مطابق ہے۔ لیکن عملی طور پر یہ میکنزم جن لوگوں کے ہاتھوں سے چلتا ہے انہیں نہ پاکیزہ اخلاق کی تربیت دی جاتی اور نہ ہی وہ ان اقدار اور اصولوں کے قائل ہیں جو پاکیزہ اخلاق اپنانے کیلئے ضروری ہوتے ہیں۔ محض تکنیکی ٹریننگ سےوہ خواتین کو پاکیزہ ماحول فراہم کرنے پر دل سے کیسے آمادہ ہو سکتے ہیں یہی وجہ ہے کام کی جگہوں پر خواتین کے ساتھ جنسی ہراسمنٹ کے واقعات ٹرینڈ سپروائزرز اور دیگر عملے کی طرف سے زیادہ پیش آتے ہیں۔

ایک جنسی ایکسپرٹ مارٹی کلین Marty Klein لکھتے ہیں کہ جنسی ہراسمنٹ کا قانون کبھی بھی خواتین کو آرام مہیا کرنے یا محض تکالیف اور بے چینی (discomfort) کے خلاف جذباتی تحفظ فراہم کرنے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا۔ کیونکہ کام کی جگہوں پر مرد اور عورت دونوں ہی ایک جیسی تکالیف کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ قانون صرف یکساں مواقع فراہم کرنے کیلئے بنایا گیا تھا۔ یہ قانون نہ آپ کے بارے میں گندی سوچ رکھنے والے کا دل اور دماغ پڑھ سکتا ہے اور نہ ہی اسے گندی سوچ رکھنے سے باز رکھ سکتا ہے اور نہ ہی یہ کسی سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اتنا متقی اور پرہیز گار بن جائے کہ معاشرتی معاملات کو ریشم کی طرح نرم مزاجی سے چلائے۔ جنسی حراسمنٹ سے قبل ایک چیز ہوتی ہے جسے ‘ناپسندیدہ جنسی توجہ unwanted sexual attention’ کہتے ہیں اور اسکے لئے کسی قانون کی ضرورت نہیں ہوتی جب کوئی خاتون واضح کر دیتی ہے کہ مخالف صنف کی طرف سے یہ توجہ اسکے لئے ناپسندیدہ ہے تو توجہ خود ہی ہٹ جاتی ہے اور کہانی کا اختتام ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر کسی خاتون کی طرف سے ناپسندیدہ توجہ کو رعایت دی جاتی ہےتو پھر یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اس لئے ہر معاملے میں قانون کا سہارا لینے کی بجائے اپنے اندر معاملات کو ہینڈل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔

مثلاً جہاز میں اگر آپ کسی اجنبی کے ساتھ برابر کی سیٹ پر بیٹھے ہوں تو اسکی طرف سے عجیب و غریب کہانیاں، آفس کے ساتھیوں کی طرف سےعجیب و غریب تعریفی کمنٹس، گروسری اسٹور کےکلرک کی طرف سے غیر ضروری ہمدردانہ کلمات وغیرہ سننے کو ملتے ہیں۔ اس قسم کی ناپسندیدہ توجہ کے پیچھے کوئی جنسی محرک ہو یا نہ ہو لیکن یہ آپ کے دروازے کی طرف بڑھنے والا پہلا قدم ہوتا ہے اور آپ اس قدم کی چاپ سننے کیلئے خواہ دروازے کے باہر نہ جائیں لیکن جب آپ دروازہ کھول کر یہ توجہ حاصل کرتے ہیں تو پھر آپ کو اسکی قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ قانون اس وقت تک حرکت میں نہیں آ سکتا جب تک یہ آپ کی طرف بڑھنے والا قدم آپ کے دروازے کے اندر نہ آئے اور اسکے پیچھے واضح جنسی محرک نہ ہو۔ موجودہ ترقی یافتہ تمدن میں یہ خیال کہ قانون کے ذریعے خواتین کو مردوں کے ذریعے پہنچنے والی تکلیف، پریشانی (discomfort) یا جنسی تعلقات سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے ایک ایسا قدم ہے جو سوسائٹی کو پیچھے کی طرف لیجانے کی ناکام کوشش ہے۔ اگر اس حوالے سے قانون سازی اور قواعد و ضوابط کا سلسلہ اسی طرح آگے چل نکلا تو پھر یہ جدید طرز زندگی زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے۔ اور اس ساری صورتحال میں یہ خواتین ہی ہونگیں جو اسطرح کے تحفظ کے سبب سب سے زیادہ نقصان اٹھائیں گی۔

اس بات پر خاص طور پر فیمنسٹ تحریک سے تعلق رکھنے والے ترقی پسند اور روشن خیال سیاسی کارکنوں کو غور کرنا چاہیے کہ جب آپ مخالفین کے اندر اپنے نظریات کا پرچار کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کو اپنے اندر برداشت اور تحمل کی ایک خاص صفت پیدا کرنا پڑتی ہے اور اسکے بغیر آپ مخالفین میں اپنے نظریات کا پرچار نہیں کر سکتے۔ لیکن اگر آپ ایک دوستانہ ماحول میں، اپنا استحکام کھوئے بغیر، ایک جنسی دعوت کو نہیں سنبھال سکتے تو پھر آپ ایک غیر مہذب، غیر شائستہ اور معاندانہ ماحول میں اپنے نظریات کا پرچار کیسے کریں گے۔ ایک بالغ فرد میں اتنا شعور ہونا چاہے کہ وہ چھوٹے موٹے معاملات کو خوش اسلوبی سے سنبھال سکے۔ اسکے اندر یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ ناپسندیدہ ماحول میں اس طرح کے جملوں کا استعمال کر سکے مثلاً ‘یہ بات مجھے بہت بری لگی ہے’، ‘برائے کرم آئندہ ایسی حرکت مت کیجئے گا’، ‘ آپ نے جو کچھ کہا ہے یہ مجھے بالکل پسند نہیں’، ‘آپ کا میرے بارے میں اندازہ بالکل غلط ہے’، ‘مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی آپ کی اس طرح کی حرکت کو پسند کر سکتا ہے ‘ وغیرہ وغیرہ۔ ان معاملات کا ان خواتین سے کوئی تعلق نہیں جن کے ساتھ جنسی طور پر زبردستی ہوتی ہے، یا انکی عصمت دری یا اسمگلنگ وغیرہ ہوتی ہے یا زبردستی پورن فلموں میں کام کروانا، جسم فروشی پر مجبور کرنا، یا کسی اور طرح کی بدسلوکی ہوتی ہے وہ یقیناً بڑے جرائم ہیں اور انکے لئے پہلے سے قوانین اور سزا کا عمل موجود ہے۔ یہ گفتگو تو صرف جنسی ذہانت اور اسکے اظہار کے بارے میں ہیں۔

جنسی ہراسمنٹ کے قانون اوراسکے تحت بننے والی اینٹی ہراسمنٹ پالیسی کے اطلاق کیلئے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے اندر ایک الگ شعبہ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے جو شکایات درج کرنے سےلیکر اسٹاف کی ٹریننگ، متاثرین کی قانوی و نفسیاتی مدد اورمستقل طور پر سپرویژن کا کام کرتا ہے۔ اس سے بیورو کریسی کے پہلے سے موجودد بے شمار شعبہ جات میں ایک اور کا اضافہ ہو جاتا ہے اور جیسے پہلے والے شعبے کام کر رہے ہوتے ہیں یہ بھی ویسا ہی کام کرتا ہے۔ کام کی جگہوں پر جب خواتین ایک بار اس قسم کی شکایت درج کرا دیتی ہیں تو اس بات کی تو کوئی ضمانت نہیں ہوتی کہ انکی شکایت کا ضرور ازالہ کیا جائے گا لیکن ہاں اتنا ضرور ہوتا ہے کہ اب اس خاتون کو اپنے شعبے کے تمام افراد کی جلی کٹی باتیں ہر روز سننا پڑتی ہیں اور بالآخر وہ تنگ آکر اپنی نوکری کو خودہی خیر باد کہہ دیتی ہے اور اسے ہر سال ملنے والے انکریمنٹ اور دیگر مراعات سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے اگر وہ مجبوری سے نوکری کرنے والی خاتون ہوتی ہے تو اسکے لئے معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

امریکہ کے مشہور قانون دان Alan Dershowitz اور قانونی اسکالر Eugene Volokh کا کہنا ہے کہ یہ قانون اظہار آزادی رائے پر قدغنیں لگاتا ہے اس لئے یہ اس قانون کا منفی پہلو ہے۔ کوئین اسکول آف بزنس کے پروفیسر Jana Rave کہتے ہیں کہ یہ جنسی ہراسمنٹ کی پالیسی تو خواتین کو اسی دقیانوسی دور میں دھکیل دے گی جس سے بڑی مشکل سے ہم نے جان چھڑائی ہے۔ ان دقیانوسی تصورات کے تحت عورت ‘ نازک اندام جنسی گڑیا’ ہوتی تھی جسے ہر قدم پر تحفظ درکار ہوتا تھا اب تو عورت کو مرد کے شانہ بشانہ کام کرنا ہے اور جنسی ہراسمنٹ کا قانون اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ Camille Puglia نے پلے بوائے میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان لڑکیاں اپنی اداکاری سے جنسی ہراسمنٹ کو اور زیادہ آسان بنا رہی ہیں مثلاً جب وہ مردوں کو لبھانے والی حرکتیں کرتی ہیں تو لازمی طور پر وہ جنسی ہراسمنٹ کا نشانہ بنتی ہیں کیونکہ جب ایک خوبصورت اور نوجوان لڑکی ایک حد سے زیادہ فحاشی پر اتر آئے گی تو وہ نوجوان مردوں کو امتحان میں ڈال دے گی اور بہت کم ہونگے جو ضبط کے اس امتحان میں پاس ہونگے۔

کچھ دیگر نقادوں کا کہنا ہے کہ جنسی ہراسمنٹ کے قوانین اور پالیسیز سے جنسی معاملات پر بہت زیادہ توجہ مرکوز ہو رہی ہے اور یہ بات مردوں اور عورتوں کے باہم مل کر کام کرنے کی صلاحیت کو مجروح کر رہی ہے۔ آجکل امریکہ میں اس بات پر بھی سوچا جا رہا ہے کہ وہاں لباس کے جو نئے رجحانات اپنائے جا رہے ہیں اس سے ہر طرف کا ماحول جنس زدہ ہوچکا ہے اورایسے ماحول میں جنسی ہراسمنٹ لازمی امر بن جاتا ہے۔ اور اس بات پر بھی غور ہو رہا ہے کہ جنسی ہراسمنٹ کے قانون کو اس وقت غیر موزوں طور پر استعمال کیا جاتا ہے جب مخالف صنف کے جاذب نظر فرد کی بجائے غیر جاذب نظر فرد کی طرف سے اس قسم کے طرز عمل کا سامنا ہو۔ جورڈن پیٹرسن اور شاونسٹک کرین کا کہنا ہے کہ کام کی جگہ اور دفاتر میں جب خواتین غیر مناسب لباس پہن کر، ضرورت سے زیادہ بن سنور کر، اورمیک اپ وغیرہ کرکے آتی ہیں تو وہ خود مردوں کے جنسی جذبات کو ہوا دیتی ہیں اور انہیں اس بات پر اکساتی ہیں کہ وہ انہیں جنسی طور پر ہراساں کریں۔

10 جنوری 2018 کو جب ایک امریکی فلم ساز و ہدایت کار ہاروی وینسٹین نے ایک خاتوں سے کہا کہ ” میں تم پر جنسی طور پر فدا ہوں” تو اسکے خلاف جنسی حملے کے الزامات لگا دئے گئے اور پھر ان الزامات کے خلاف مذمتوں کی ایک لہر کا آغاز ہوگیا۔ اسی لہر کے دوران فرانسیسی اداکارہ کیتھرین ڈینیو، کرسٹین بوئیسن، اور پورن سٹار بریگیٹ لاہائی سمیت ایک سو خواتین نے ایک کھلا خط لکھا جس میں انہوں نے جنسی ہراسمنٹ کے قوانین پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مردوں کو خواہ مخواہ سخت سزائیں دی جا رہی ہیں حالانکہ انہوں نے تو صرف خواتین کے گھٹنوں کو چھوا یا ہوتا ہے یاصرف بوسہ لینے کی کوشش کی ہوتی ہے اور یہ سب کچھ اناڑی پن میں کیا ہوتا ہے اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے جنسی حملہ کیا۔ اناڑی پن میں کسی کو مائل کرنے کی کوشش کو جنسی حملہ قرار دینا سراسر ظلم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم بطور خواتین اس قسم کے قوانین اورفیمن ازم کو تسلیم نہیں کرتے جس میں اختیارات کا غلط استعمال کرکے مردوں کو نشانہ بنایا جائے یا انکے خلاف نفرت کا اظہار کیا جائے کیونکہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو مرد حضرات ڈر کے مارے ہماری طرف نظر اٹھا کر دیکھیں گے بھی نہیں اور پھر ہم یہ سب بنائو سنگھار اور لبھانے والی حرکتیں کس کے لئے کریں گے اس طرح تو پورا شو بزنس تباہ ہو جائے گا۔

References:

  1. National Intimate partner and Sexual Violence Survey: 2015 Date Brief – Updated Releases https://www.cdc.gov/violenceprevention/pdf/2015data-brief508.pdf

2.Police Secual Misconduct: A national Scale Study of arrested Officers (2014-15) https://www.bwjp.org/assets/documents/pdfs/webinars/dhhs-police-sexual-misconduct-a-national-scale-study.pdf

3.Ritchie, Andrea J. “How some cops use the badge to commit sex crimes” https://www.washingtonpost.com/outlook/how-some-cops-use-the-badge-to-commit-sex-crimes/2018/01/11/5606fb26-eff3-11e7-b390-a36dc3fa2842_story.html

  1. Rashid, Tahmina Crime against Women in Pakistan, Asia & the Pacific Policy Society, https://www.policyforum.net/crimes-against-women-in-pakistan/#:~:text=The%20Punjab%20Commission%20on%20the,305%20cases%20of%20physical%20harassment.
  2. Martha Irvine and Robert Tanner (2007), Sexual Misconduct Plagues US Schools https://www.washingtonpost.com/wp-dyn/content/article/2007/10/21/AR2007102100144_pf.html
  3. Ali, Faiza (2015), An exploratory study of sexual harassment in Pakistani organizations file:///C:/Users/Waaheed-Murad/Downloads/SHinPakistaniorganisations-APJM2015-Draft.pdf
  4. Matthew K, Fenton (2018) A history of sexual harassment law in the United States. https://www.wenzelfenton.com/blog/2018/01/01/history-sexual-harassment-laws-united-states/

8. Kazi, Mudaser (2017) ‘93% of Pakistani women experience sexual violence’ The Express Tribune, 08, 2017 https://tribune.com.pk/story/1348833/93-pakistani-women-experience-sexual-violence

  1. Sexual Assault in the Canadian Armed Forces https://cimvhr.ca/conference/mh-symposium/documents/presentations/5-Watkins.pdf
  2. Department of Defense Annual Report on Sexual Assaults in the Military, 2016, Washington, D.C.https://web.archive.org/web/20190508115225/https://sapr.mil/public/docs/reports/FY16_Annual/FY16_SAPRO_Annual_Report.pdf
  3. Michael Scherer and Mark Benjamin, 2003 “Other Government Agencies” Chapter 5, https://web.archive.org/web/20080212035108/http://www.salon.com/news/abu_ghraib/2006/03/14/chapter_5/index.html
  4. Components of the Dating Matters Model (CDC) https://www.cdc.gov/violenceprevention/intimatepartnerviolence/datingmatters/about.html
  5. Ketchell, Misha (2018) What’s the difference between sexual abuse, sexual assault, sexual harassment and rape? https://theconversation.com/whats-the-difference-between-sexual-abuse-sexual-assault-sexual-harassment-and-rape-88218
  6. Marty, Klein (2012) Sexual Harassment or unwanted sexual attention? https://www.psychologytoday.com/us/blog/sexual-intelligence/201206/sexual-harassment-or-unwanted-sexual-attention
  7. What is Sexual Harassment https://www.un.org/womenwatch/osagi/pdf/whatissh.pdf

16. Rafat Hussain & Adeel Khan (2008) Women’s Perceptions and Experiences of Sexual Violence in Marital Relationships and Its Effect on Reproductive Health

17. Muazzam nasrullah, Sobia Haqqi, Kristin J. Cummings (2009) The epidemiological patterns of honor killing of women in Pakistan https://academic.oup.com/eurpub/article/19/2/193/429925

18. Joh D. Elhai, (2012-13) Is Spousal Violence Being “Vertically Transmitted” through Victims? Findings from the Pakistan Demographic and Health Survey https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC4470804/

  1. Sexual Violence is Preventablehttps://www.cdc.gov/injury/features/sexual-violence/index.html
  2. Preventing Sexual Harassment in the Workplacehttps://www.nolo.com/legal-encyclopedia/preventing-sexual-harassment-workplace-29851.html

21. Guide on Prevention of Sexual Harassment in the Workplace https://www.ilo.org/wcmsp5/groups/public/—asia/—ro-bangkok/—ilo-beijing/documents/publication/wcms_157626.pdf

22.۔دفتروں میں جنسی ہراس کیا ہے؟بی بی سی اردو،  16 جنوری  2019، https://www.bbc.com/urdu/world-46878259

اسی موضوع پر مزید مضامین کا مطالعہ کریں:

کیا فیمنسٹ تحریک صنفی مسائل حل کر سکتی ہے؟ —- وحید مراد

پاکستان میں فیمنزم کے کردار کا جائزہ —- وحید مراد

فیمنزم : نظریہ، تحریک، اہداف اور کردار —- وحید مراد

فیمنزم کے غیر سائنسی مفروضے اور اعتقاد —- وحید مراد

فیمنزم اور مردانگی کا بحران —- وحید مراد

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20