سلمان پارس، ستمگر، مادھوری اور سیاحت —- شمائلہ صلاح الدین

0

سیاحت، ثقافت، تہذیب اور روشن خیالی ناگزیر ہیں یعنی یہ ممکن نہیں کہ آپ کسی مختلف ثقافت، زبان اور تہذیب کا مشاہدہ کریں اور اسے قبول کئے بغیر رہ جائیں بشرطیکہ وہ تہذیب اور ثقافت آپ کے نظریاتی یا مسلکی معاملات سے براہ راست ٹکرا نہ رہی ہو۔ ویسے تو اگر آپ ایک لمبے عرصے تک کس مختلف ثقافت کا محض مشاہدہ بھی کریں اور چاہے وہ آپ کے مذہبی یا قومی نظریات سے متصادم بھی ہو آپ اسے غیر ارادی طور پر بھی قبول کر لیتے ہیں۔

پاکستان بھی بہت سی ثقافتوں کا ایک مجموعہ ہے جہاں زبان، پہناوا، روایات تاریخ، موسیقی، آرٹ اور ادب کا تنوع ہے۔ موجودہ حکومت نے سیاحت کے فروغ کا بیڑہ اٹھا کر کئی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی اور کس حد تک یہ کوشش کامیاب بھی رہے گی کیونکہ پاکستان فرقہ واریت اور شدت پسندی سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے اور ایسے میں سیاحت کا فروغ دوسری ثقافتوں کو جذب کرنے میں مدد کرے گا۔

خیبر پختونخوا حکومت اس لحاظ سے بہت فعال ہے کہ اس نے سیاحت کو پرکشش بنانے کے لئے بہت سے سرگرمیاں متعارف کروائی ہیں جن میں چترال میں پولو اور بزکشی سے لے کر بھاپ والے انجن کی ٹرین سے بدھا کی خانقاہوں کی سیر تک بہت سی سرگرمیاں شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور وزیر کھیل و ثقافت وقار خان اس بارے بہت فعال کردار ادا کر رہے ہیں تو غلط نہ ہو گا۔

ایسا ہی قدم گلگت بلتستان اور خاص طور پر استور کی حکومت کو بھی اٹھانا چاہیے جس کے پاس دنیا کی بہترین لوکیشنز موجود ہیں لیکن استوری ان لوکیشنز کو پروموٹ کرنے میں فعال نہیں ہیں۔ پولو جیسا شاندار کھیل وہاں کھیلا جاتا ہے۔ لوگ تن من دھن لگاتے ہیں لیکن کون جانتا ہے کہ فری اسٹائل پولو استور کا خاصہ ہے۔ استور کے مناظر کو دوسرے علاقے والے اپنے نام سے مشہور کر دیتے ہیں۔ استور کے ہیروز کو کتنے لوگ جانتے ہیں۔ عثمان وزیر نے انٹرنیشنل باکسنگ ٹائٹل جیتے ہیں۔ ڈاکٹر سمیع اللّٰہ نے پلاسٹک سرجری کے کامیاب ترین آپریشنز کئے ہیں۔ بشیر صاحب نے تاریخ پر کتب لکھی ہیں، رفیع اللہ آفریدی نے ٹی وی پر سب سے زیادہ رپورٹس پیش کی ہیں، سلمان پارس نے اپنے گیتوں سے پورے گلگت بلتستان کو گرویدہ بنایا ہوا ہے۔

سلمان پارس کی آواز کا لوچ، لحن اور حلاوت بہت کم لوگوں کے حصے آتی ہے۔ وہ کلاسیکل یا نیم کلاسیکل موسیقی میں درک نہیں رکھتا لیکن اس کا نعمہ پتھریلی زمین سے چشموں کی مانند پھوٹتا ہے اور ہر گلگتی و بلتی کے دل میں بستا ہے۔ اس کے کچھ گیت تو ترانے کی شکل اختیار کرچکے ہیں مثلاً، “ہم گلگت بلتستان کے ہیں”۔ کیا رچاو ہے، کیا موسیقیت ہے، کیا فخر ہے اور کیا شاعری ہے۔ بالکل سادہ سے ارینجمنٹ کے ساتھ پہاڑی علاقوں کے روایتی ردھم پیٹرن کو استعمال کیا ہے لیکن زبان میں ایسی تازگی ہے، خیال میں ایسی فراوانی ہے، جذبات میں ایسی چاشنی ہے کہ آپ گلگت بلتستان کے نہ بھی ہوں تو اس گیت کے سحر میں ڈوب جاتے ہیں۔

ایسے ہی سلمان کا ایک گیت ہے، “ستم گر او ستم گر او ستم گار ستم گار” ۔ ہر اہل دل کی زبان پر یہ گیت مچلتا ہے۔ گیت ہولے ہولے چھوٹی بحر میں بہتا بہتا پہاڑ اہسی بلندی پر پہنچ جاتا ہے اور مجال ہے سلمان کے سر میں کہیں لرزش آئی ہو۔ جوں جوں تان بلند ہوتی ہے حسرت، امید، بیم و رجا کی کیفیت شدت اختیار کرتی جاتی ہے۔ آپ زبان نہ بھی سمجھتے ہوں پھر بھی گیت کی موسیقیت میں گم ہو جائیں گے۔

صرف شنعاء ہی نہیں بلکہ سلمان تو گلگت بلتستان نہیں ہر زبان میں گانا چاہتے ہیں۔ بروشسکی میں تو خیر وہ طاق ہیں ہی۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کی پانچ بڑی زبانیں یعنی شنعاء، بلتی، بروشسکی، وخی اور کھوار ہیں لیکن بلتی بولنے والا بروشسکی اور بروشسکی بولنے والا وخی نہیں بول سکتا۔ ان زبانوں کی ایک تاریخ ہے، ابجد ہے، ادب ہے اور ہر زبان ایک مکمل زبان ہے۔ ایسے میں سلمان کا دوسری زبانوں میں گانا تنوع اور دوسری ثقافتوں کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کی عمدہ کوشش ہے۔ اسی لئے ہماری فرمائش پر سلمان نے محمد رفیع کا گایا گیت اردو زبان میں سنا کر ہمارا دل جیت لیا۔ سلمان کا تعلق استور کے ایک دور افتادہ دیہات کلے شئی سے ہے، کو منی مرگ کا ایک دیہات ہے اور وہاں پاک فوج کی اجازت کے بغیر نہیں جایا جا سکتا۔ یہ بھارت میں وادی گریز کے بارڈر پر واقع ایک دیہات ہے جہاں صرف گھوڑوں پر جایا جاتا ہے۔ قریب ہی بھارتی سائیڈ پر مادھوری پوسٹ ہے جہاں کبھی شاہ رخ خان اور مادھوری نے ایک ڈانس پکچرائز کروایا تھا اور اسی مناسبت سے چیک پوسٹ کا نام مادھوری پوسٹ رکھا گیا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20