امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار — زاہد مغل

0

1۔ تعارف

جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی کتاب “برھان” میں تصوف کے موضوع کو تختہ مشق بناتے ہوئے اکابر صوفیاء کرام بشمول امام غزالی پر ضلالت اور کفریہ و شرکیہ نظریات فروغ دینے کے فتوے جاری فرمائے ہیں نیز ان کے مطابق حضرات صوفیاء کرام نے خدا کے دین کے مقابلے میں ایک متوازی دین قائم کیا۔ اپنے مضمون کا آغاز وہ یہاں سے کرتے ہیں:

“ہمارے خانقاہی نظام کی بنیاد جس دین پر رکھی گئی ہے، اُس کے لیے ہمارے ہاں ’تصوف‘ کی اصطلاح رائج ہے۔ یہ اُس دین کے اصول و مبادی سے بالکل مختلف ایک متوازی دین ہے جس کی دعوت قرآن مجید نے بنی آدم کو دی ہے” (برھان: ص 181)

غامدی صاحب کے مطابق اکابر صوفیاء کرام نے توحید و نبوت جیسی بنیادی تعلیمات میں قرآن و سنت سے انحرافات کئے ہیں اور یہ انحرافات اس کائنات کی بدترین ضلالت ہیں جس کا شکار اکابر علماء اور صوفیاء ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوفیاء نے توحید کے جن درجات کا ذکر کیا ہے وہ قرآن و سنت میں کہیں مذکور نہیں اور یہ سب کچھ صوفیاء کی اپنے طرف سے بنائی ہوئی باتیں ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ انبیاء اور قرآن کی توحید بس اتنی اور وہی ہے جو انہوں نے اپنے اس مضمون کے چند صفحات میں بیان کی ہے ، اس کے سواء سب کچھ ضلالت ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے امام غزالی کی بعض عبارات کا حوالہ دے کر انہیں بھی اس گمراہ گروہ میں شمار کیا ہے جنہوں نے خدا کے دین کے مقابلے میں متوازی دین قائم کیا، العیاذ باللہ۔

اس تحریر کا مقصد غامدی صاحب کے مضمون کے اس حصے کا جائزہ لینا ہے جس میں وہ توحید کے مباحث میں امام غزالی اور دیگر صوفیاء کی تضلیل کرتے ہیں۔ غامدی صاحب کی تحریر و تقریر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ نہایت وثوق اور قطعیت کے ساتھ ایک دعوی کردیتے ہیں (کہ “شریعت بس یہی ہے”، “اس بارے میں دوسری رائے ہے ہی نہیں”) تاکہ قاری اور سامع ان کے دعوے کی قطعیت سے مرعوب ہوکر ان کے دعوے کو “معیار حق” فرض کرلے اور یہ پوچھنا بھول کر کہ آخر اس دعوے کی دلیل کیا ہے، مدمقابل سے سوال کرنے لگے کہ تم دلیل لاؤ اور جواب دو۔ اپنے اسی مضمون میں نبوت کی بحث کے اندر وہ اپنی طرف سے ختم نبوت کا ایک مفہوم مقرر کرکے پھر دوسروں کی تضلیل و تکفیر شروع کردیتے ہیں لیکن اگر ان کے اس مفروضہ دعوے کی دلیل کا جائزہ لیا جائے کہ ختم نبوت کا معنی یہ ہے کہ اب ہر قسم کے کشف و الہام کا امکان ختم ہوچکا، تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے استدلال کی پوری عمارت ریت کی بنیاد پر استوار کی تھی۔ یہی حال مسئلہ توحید کے باب میں بھی ہے کہ انہوں نے نہایت قطعیت کے ساتھ اپنی طرف سے توحید کا ایک مفہوم متعین کرکے کہنا شروع کردیا کہ “قرآن کی توحید بس یہی ہے” اور صوفیاء نے جو کچھ کہا ہے وہ ان کی اپنی طرف سے بنائی ہوئی باتیں ہیں۔ بہت سے لوگ ان کے اس قطعی دعوے کا شکار ہوکر صوفیاء اور ان کے مداحین سے پوچھنے لگتے ہیں کہ ” بتائیے آپ نے قرآن کے خلاف یہ باتیں کہاں سے اور کیوں بنائی ہیں؟” ایک عام مسلمان جس نے نہ کبھی امام غزالی کو پڑھا ہو اور نہ ہی دیگر علماء و صوفیاء کو اور نہ ہی وہ اس کی صلاحت رکھتا ہے ، اس شور شرابے سے وہ یہ تاثر لیتا ہے کہ ممکن ہے ان صوفیاء نے واقعی کچھ کفریہ باتیں کی ہوں گی، جبکہ یہ الزام لگانے والے صاحب ایک “معروف دینی سکالر” بھی ہوں اور مختلف ٹی وی چینلز پر خوشنما گفتگو بھی فرماتے ہوں! اس تحریر میں ہم دکھائیں گے کہ ان کا وہ تصور توحید ہی ناقص و باطل ہے جسے قرآن کی مکمل توحید قرار دے کر انہوں نے اکابر صوفیاء کرام پر آخری درجے کی فتوی بازی کی ہے اور جسے بنیاد بنا کر غامدی صاحب کے مقلدین و متاثرین کا ایک طبقہ امت مسلمہ کی توحید کو کفر و شرک سمجھتا ہے۔

2۔ غامدی صاحب کی توحید اور ان کے اعتراضات

“غامدی صاحب کی توحید” کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا کو الہ مانا جائے جو ایسی صفات سے متصف اور عیوب سے پاک ہے جسے عقل و شرع مانتی ہے (ان کی تفصیلات کیا ہیں، غامدی صاحب اسے ذکر نہیں کرتے اور اسی میں ساری کہانی مضمر ہے جیسا کہ آگے بیان ہوگا)۔ “الٰہ” کا مطلب ان کے نزدیک عربی زبان کی رو سے ایک ھستی ہے جسے اسباب و علل سے ماورائے امور و تصرف مانا جائے (برھان: 181)۔ ان کے خیال میں قرآن کی توحید بس یہی ہے اور انبیاء صرف یہی توحید لے کر آئے ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ صوفیاء کرام انبیاء کی (یعنی غامدی صاحب کی بیان کردہ) توحید کو عام لوگوں کی توحید اور اس کا ابتدائیہ کہتے ہیں اور اس کے علاوہ پھر انہوں نے اپنی طرف سے توحید کے کچھ درجات بنا لئے ہیں۔ یہاں ان کی تحریر سے کچھ حوالے پیش کردینا فائدے سے خالی نہیں ہوگا۔ چنانچہ سب سے پہلے وہ یہ عبارت لاتے ہیں:

“التوحید علی ثلاثۃ أوجہ: الوجہ الأوّل: توحید العامۃ وھو الذي یصح بالشواھد، والوجہ الثاني: توحید الخاصۃ وھو الذي یثبت بالحقائق، والوجہ الثالث: توحید قائم بالقدم وھو توحید خاصۃ الخاصۃ. فأما التوحید الأول فھو شھادۃ أن لا إلہ إلا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ، الأحد الصمد الذي لم یلد ولم یولد، ولم یکن لہ کفوًا أحد.

توحید کے تین درجے ہیں: پہلا درجہ عوام کی توحید کا ہے، یہ وہ توحید ہے جس کی صحت دلائل پر مبنی ہے۔ دوسرا درجہ خواص کی توحید کا ہے، یہ حقائق سے ثابت ہوتی ہے۔ توحید کا تیسرا درجہ وہ ہے جس میں وہ ذات قدیم ہی کے ساتھ قائم ہے، یہ اخص الخواص کی توحید ہے۔ اب جہاں تک عوام کی توحید کا تعلق ہے تو وہ بس یہ ہے کہ اِس بات کی گواہی دی جائے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، صرف وہی الٰہ ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں، وہ یکتا ہے، سب کا سہارا ہے، وہ نہ باپ ہے، نہ بیٹا اور نہ اُس کا کوئی ہم سر ہے۔[1]

اپنی اِس توحید کی وضاحت میں، جسے اُنھوں نے ’قائم بالقدم‘ کے الفاظ میں بیان کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:

إنہ إسقاط الحدث وإثبات القدم.
یہ حادث کی نفی اور قدیم کا اثبات ہے۔“ (برھان: ص 184)

اس کے بعد غامدی صاحب کہتے ہیں کہ “یہی بات غزالی نے لکھی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

والرابعۃ: أن لا یری في الوجود إلا واحدًا وھي مشاھدۃ الصدیقین و تسمیہ الصوفیۃ الفناء في التوحید، لأنہ من حیث لا یری إلا واحدًا فلا یری نفسہ أیضًا وإذا لم یر نفسہ لکونہ مستغرقًا بالتوحید، کان فانیًا عن نفسہ في توحیدہ بمعنی أنہ فنی عن رؤیۃ نفسہ والخلق.

”توحید کا آخری مرتبہ یہ ہے کہ بندہ صرف ذات باری ہی کو موجود دیکھے۔ یہی صد یقین کا مشاہدہ ہے اور صوفیہ اِسے ہی فنا فی التوحید کہتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس مرتبہ میں بندہ چونکہ وجود واحد کے سوا کچھ نہیں دیکھتا، چنانچہ وہ اپنے آپ کو بھی نہیں دیکھتا۔ اور جب وہ توحید میں اس استغراق کے باعث اپنے آپ کو بھی نہیں دیکھتا تو اُس کی ذات اِس توحید میں فنا ہو جاتی ہے، یعنی اِس مرتبہ میں اُس کا نفس اور مخلوق، دونوں اُس کی نگاہوں کے لیے معدوم ہو جاتے ہیں۔“ (برھان: 185)

اس کے بعد وہ شیخ ابن عربی سمیت چند مزید صوفیاء کی اسی قسم کے عبارات پیش کرتے ہیں جن سب کی طرف ملتفت ہونا یہاں مقصود نہیں، آخر میں پھر امام غزالی کی عبارت پیش کرکے کہتے ہیں: “غزالی نے لکھا ہے:

فاعلم أن ھذہ غایۃ علوم المکاشفات وأسرار ھذا العلم لا یجوز أن تسطر في کتاب، فقد قالالعارفون: إفشاء سر الربوبیۃ کفر.

پس جاننا چاہیے کہ علوم مکاشفات کی اصل غایت یہی توحید ہے اور اِس علم کے اسرار کسی کتاب میں لکھے نہیں جا سکتے، اِس لیے کہ حدیث عارفاں ہے کہ سرربوبیت کو فاش کرنا کفر ہے۔“ (برھان: ص 192)

غامدی صاحب ان حوالہ جات سے یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ صوفیاء نے توحید کے جو درجات بیان کئے ہیں انبیاء کی توحید میں ان کا کہیں ذکر نہیں، یہ گویا انہوں نے اپنی طرف سے بنا لئے ہیں۔ نیز صوفیاء کا یہ کہنا کہ ایک توحید عام لوگو ں کی توحید ہے اور ایک خاص کی، یہ انبیاء کی توحید کی (یعنی جو غامدی صاحب نے بیان کی) کے ماسواء ہے۔ چنانچہ غامدی صاحب کہتے ہیں:

“قرآن کی رو سے توحید بس یہ ہے کہ الٰہ صرف اللہ کو مانا جائے جو اُن تمام صفات کمال سے متصف اور عیوب و نقائص سے منزہ ہے جنہیں عقل مانتی اور جن کی وضاحت خود اللہ پروردگار عالم نے اپنے نبیوں کے ذریعے سے کی ہے۔ ’الٰہ‘ کا لفظ عربی زبان میں اُس ہستی کے لیے بولا جاتا ہے جس کے لیے کسی نہ کسی درجے میں اسباب و علل سے ماورا امر و تصرف ثابت کیا جائے۔ قرآن مجید کے نزدیک کوئی ایسی صفت یا حق بھی اگر کسی کے لیے تسلیم کیا جائے جو اِس امرو تصرف ہی کی بنا پر حاصل ہو سکتا ہو تو یہ درحقیقت اُسے ’الٰہ‘ بنانا ہے۔۔۔۔ یہی توحید ہے جس پر اللہ کا دین قائم ہوا۔ یہی اُس دین کی ابتدا، یہی انتہا اور یہی باطن و ظاہر ہے۔ اِسی کی دعوت اللہ کے نبیوں نے دی۔ ابراہیم و موسیٰ، یوحنا و مسیح اور نبی عربی اِن پر اللہ کی رحمتیں ہوں سب اِسی کی منادی کرتے ہیں۔ تمام الہامی کتابیں اِسے ہی لے کر نازل ہوئیں۔ اِس سے اوپر توحید کا کوئی درجہ نہیں ہے جسے انسان اِس دنیا میں حاصل کرنے کی سعی کرے۔ قرآن مجید نے شروع سے آخر تک اِسے ہی بیان کیا ہے۔۔۔۔۔ اہل تصوف کے دین میں یہ توحید کا پہلا درجہ ہے۔ وہ اِسے عامۃ الناس کی توحید قرار دیتے ہیں۔ توحید کے مضمون میں اِس کی اہمیت، اُن کے نزدیک، تمہید سے زیادہ نہیں ہے۔(برھان: ص 181)”

ان کے مطابق صوفیاء اور امام غزالی کا یہ کہنا کہ توحید کا آخری درجہ یہ ہے کہ وجود دراصل ایک ہے (جسے اصطلاحاََ “توحید وجودی” کہتے ہیں) یہ کفر و شرک اور گمراہی ہے نیز یہ وہی نظریہ ہے جو شرکیہ مذاہب کے لوگوں کا نظریہ ہے:

“توحید کے باب میں یہی نقطہ نظر اپنشدوں کے شارح شری شنکر اچاریہ، شری رام نوج اچاریہ، حکیم فلوطین اور اسپنوزا کا ہے۔ مغرب کے حکما میں سے لائبنز، فحتے، ہیگل، شوپن ہاور اور بریڈلے بھی اِسی سے متاثر ہیں۔ اِن میں سے شری شنکر، فلوطین اور اسپنوزا وجودی اور رام نوج اچاریہ شہودی ہیں۔ گیتا میں شری کرشن نے بھی یہی تعلیم دی ہے۔ اپنشد، برہم سوتر، گیتا اور فصوص الحکم کو اِس دین میں وہی حیثیت حاصل ہے جو نبیوں کے دین میں تورات، زبو ر، انجیل اور قرآن کو حاصل ہے۔ اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو اللہ کی ہدایت، یعنی اسلام کے مقابلے میں تصوف وہ عالم گیر ضلالت ہے جس نے دنیا کے ذہین ترین لوگوں کو متاثر کیا ہے”۔(برھان: ص 192)

اس عالمگیر ضلالت کا شکار ہونے والے اور مسلمانوں کو اس کی طرف دعوت دینے والے لوگوں میں سے چند اہم لوگوں کے نام یہ ہیں:

امام ابو حامد الغزالی (م 505 /1111)، شیخ عبد القادر جیلانی (م 1166)، شیخ ابن عربی (م1240)، مجدد الف ثانی شیخ احمد سرھندی (م 1624) اور شاہ ولی اللہ محدث دھلوی (م 1762)

اس فہرست پر نظر دوڑانے سے اندازہ ہوتا ہے گویا اسلامی تاریخ میں جن حضرات کو مشائخ اور آئمہ کی حیثیت حاصل رہی ہے انہیں یہ تک معلو م نہیں تھا کہ توحید کیا ہوتی ہے نیز یہ لوگ مسلمانوں کو کفار و مشرکین کے عقائد کی تعلیمات دیتے رہے یہاں تک کہ اللہ کے دین کے مقابلے میں ایک متوازی دین کھڑا کرکے دنیا سے رخصت ہوئے، العیاذ باللہ۔

2.1۔ مضمون کے لئے امام غزالی کے تعین کی وجوہات

اس مضمون میں امام غزالی کے درجات توحید کی روشنی میں غامدی صاحب کے ان اعترضات کا جواب دیا جائے گا نیز دکھایا جائے گا کہ امام غزالی جب توحید کے درجوں کی بات کرتے ہیں تو اس میں ایسی کوئی بات نہیں جو قرآن و سنت کے خلاف تو کجا اس سے زائد بھی ہو۔ تحریر میں معین طور پر امام غزالی کے خیالات پر اس لئے گفتگو کی جائے گی کہ یہ طریقہ تحقیق ہی غلط ہے کہ متنوع الخیال اور نظریات رکھنے والے لوگوں کی باتوں کو جمع کرکے ایک کہانی بنائی جائے جیساکہ غامدی صاحب نے اپنے مضمون میں کیا ہے۔ انہوں نے توحید وجودی کے مختلف تصورات کے حامل صوفیاء کو بری طرح سے خلط ملط کیا ہے اور پھر آخر میں انہیں غیر مسلم و مشرک لوگوں کے نظریات کے ساتھ بھی ملا دیا ہے۔ چنانچہ امام غزالی ہوں یا ابن عربی، دونوں کے اپنے الگ نظام فکر ہیں اور دونوں پر گفتگو کے لئے الگ پیرائے کی ضرورت ہے۔ اس لئے ہم ایک متعین شخصیت پر گفتگو کریں گے، اگرچہ اس گفتگو سے صوفیاء پر ان کے اکثر و بیشتر اعتراضات رفع ہوجائیں گے۔ اس مقصد کے لئے امام غزالی کے انتخاب کی وجوہات درج ذیل ہیں:

  • ان تمام اہل علم و مشائخ صوفیاء میں امام غزالی کا علمی مرتبہ و مقام سب سے بلند ہے۔ مضمون سے واضح ہوگا کہ جو شخص اس طبقہ صوفیاء کے سب سے بڑے عالم کی گفتگو سمجھنے میں ایسی فاش غلطی کرتا ہو ، دیگر لوگوں کے بارے میں اس کی تحقیق اور فہم کا عالم کیا ہوگا۔ جو شخص امام صاحب کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا وہ ان سے بعد آنے والے صوفیاء کی گفتگو سمجھنے سے عاجز رہتا ہے
  • امام صاحب کے تعین کی دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ بلند مرتبہ فقیہہ و متکلم بھی تھے نیز ان کے یہاں چاروں درجات توحید کی نکھری ہوئی، مربوط اور صریح گفتگو ملتی ہے
  • کسی بھی فن کے مباحث کو سمجھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس فن کے ماہرین و علماء او رچوٹی کے نمائندگان کے کلام کی رعایت کی جائے تاکہ اس فن کے دیگر علماء و عاملین کی بات کا درست تناظر واضح رہے۔ امام غزالی اس معاملے میں دوہری حیثیت رکھتے ہیں، ایک طرف وہ اپنے سے ماقبل تصوف کی علمی روایت سمجھنے کے لئے ایک معیاری فریم ورک فراہم کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کے بعد آنے والے حضرات صوفیاء کرام ان کے نظریات سے متاثر تھے۔ شیخ شہاب الدین سہروردی ہوں یا شیخ ابن عربی ہوں ، سب کسی نہ کسی طور پر امام غزالی کے نظریات سے متاثر ہیں۔ چنانچہ مباحث تصوف میں امام صاحب کا مقام اس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہیں کہ انہوں نے تصوف کی عملی روایت کو علمی روایت میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور ان کے بعد آنے والے کسی بھی صوفی کی گفتگو سمجھنے کے لئے امام صاحب کی گفتگو ابتدائیے کی حیثیت رکھتا ہے
  • چوتھی بات یہ کہ مجھے ذاتی طور پر امام غزالی کے ساتھ ایک قلبی لگاؤ ہے اور غامدی صاحب نے اپنے سوء فہم کی بنا پر ان کے بارے میں جس طرز کی فتوی بازی کررکھی ہے اس کا جواب دینا ضروری محسوس ہوتا ہے تاکہ عام لوگوں کو معلوم ہوسکے کہ پوری اسلامی تاریخ کو حرف غلط قرار دے کر اس پر خط تنسیخ پھیرنے والے میڈیا سکالرز کی علمی بساط کیا ہے۔

پیش نظر موضوع کی پیچیدگیوں کو آسان رکھنے کے لئے ہر درجہ توحید کی وضاحت کے لئے کلیدی سوال قائم کرکے گفتگو کی جائے گی اور آپ دیکھیں گے کہ خود غامدی صاحب بھی ان سوالات کا وہ جواب دئیے بغیر نہ رہ سکیں گے جو دراصل امام غزالی اور صوفیاء کے درجات توحید ہیں۔

2.2۔غامدی صاحب کی توحید پر چند اصولی ملاحظات

امام غزالی کے کلام کی طرف بڑھنے سے قبل ضروری ہے کہ غامدی صاحب کے تصور توحید کی چند بنیادی غلطیوں کی نشاندہی کردی جائے۔ غامدی صاحب کے نزدیک الہ کی تعریف یہ ہے:

“’الٰہ‘ کا لفظ عربی زبان میں اُس ہستی کے لیے بولا جاتا ہے جس کے لیے کسی نہ کسی درجے میں اسباب و علل سے ماورا امر و تصرف ثابت کیا جائے” (برھان: ص 181)

الہ کی اس تعریف میں بنیادی قسم کی غلطیاں ہیں:

  • پہلی یہ کہ “الہ” ایک شرعی اصطلاح ہے جس کے معنی عربی لغت نہیں بلکہ قرآن و سنت سے مقرر کئے جاتے ہیں۔ غامدی صاحب نے الہ کی اپنی اس تعریف کے لئے قرآن و سنت سے کوئی دلیل پیش کرنے کے بجائے عربی لغت کا حوالہ دے کر بات آگے بڑھا دی جبکہ اہل علم جانتے ہیں کہ لفظ الہ عربی زبان میں متعدد معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ کیسے طے ہوگا کہ الہ کے کونسے معنی شرعا درست ہیں؟ چنانچہ الہ کی تعریف و معیار عربی لغت نہیں بلکہ قرآن و سنت سے طے ہوتے ہیں
  • دوسری بات یہ ہے کہ الہ کی یہ تعریف قرآن کی کسی بھی آیت میں صراحتا مذکور نہیں جو غامدی صاحب نے مقرر کی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ الہ کی تعریف کے لئے انہوں نے قرآن و سنت کے بجائے عربی لغت کی طرف رجوع کرنا مناسب سمجھا
  • نہ صرف یہ کہ الہ کی یہ تعریف کسی آیت میں مذکور نہیں بلکہ الہ کا یہ تصور کہ یہ ایک ہستی کا نام ہے جو اسباب سے ماوراء متصرف ہوتی ہے، یہ بھی قرآن کی کسی آیت میں صراحتا مذکور نہیں۔ الہ کو اسباب کے تحت اور ماوراء کی تقسیمات میں بیان کرنا ہی ناقص معیار توحید ہے

اس سے واضح ہوتاہے کہ غامدی صاحب جس چیز کا الزام صوفیاء کو دیتے ہیں کہ وہ قرآن و سنت سے ماوراء توحید کے قائل ہیں، ان کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل وہ خود اس الزام کی ذد میں ہیں ۔

3۔ درجات توحید کی تفصیلات

اب درجات توحید کی گفتگو کی طرف متوجہ ہوکر غامدی صاحب کے اعتراضات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

3.1۔ توحید کا پہلا درجہ: اقرار

غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ الہ کا مطلب ایک ہستی کو اسباب سے ماوراء ماننا ہے۔ یہ نہایت ادھوری بات ہے، اس پر پہلا سوال درج ذیل ہے:

پہلا سوال) کسی کو اس معنی میں الہ “ماننے” سے کیا مراد ہے؟ صرف زبان سے اقرار کرلینا یا دل سے تصدیق بھی کرنا؟ اور کیا زبان سے اقرار کرتے رھنا انسان کو دنیاوی معاملات کے اعتبار سے کوئی فائدہ دے سکتا ہے؟ یعنی کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص زبان سے تو اس توحید کا اقرار کرتا ہو لیکن دل سے اسے نہ مانتا ہو تو بھی اسلامی قانون کی رو سے اسے مسلمان مانا جائے گا؟ کیا اسے وہ حقوق حاصل ہونگے جو اللہ کے رسول کی شریعت ایک مسلمان کے لئے مقرر کرتی ہے؟

اہل سنت والجماعت کے نزدیک اس سوال کا جواب یہ ہے کہ قانون کی نظر میں مسلمان کہلانے کے لئے اتنا کافی ہے کہ ایک شخص زبان سے توحید کا اقرار کرلے، اگرچہ ممکنہ طور پر اس کا دل اس کی تصدیق سے خالی ہو کیونکہ دل کے مخفی حالات کی بنا پر شریعت کے فیصلے جاری نہیں ہوتے۔ تو مطلب یہ ہوا کہ زبان سے توحید کا ایسا اقرار بھی کسی نہ کسی درجے میں از روئے شرع فائدہ مند ہے، اگرچہ آخرت میں وہ کام نہ آئے گا۔ یعنی ایسی توحید کا اقرار ایک شخص کو دنیاوی قانون کے لحاظ سے مسلمان ہی بنائے گا، اگرچہ وہ منافق ہی ہو۔

پہلا درجہ: منافق کی توحید: امام غزالی کی کتاب احیاء العلوم جلد چہارم کتاب توکل میں توحید کے چار درجات کی تفصیلات کے مطابق توحید کا پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان صرف زبان سے اس کا اقرار کرنے والا ہو۔ چنانچہ امام صاحب کہتے ہیں:

فالرتبة الأولى من التوحيد هي أن يقول الإنسان بلسانه لا إله إلا الله وقلبه غافل عنه أو منكر لہ كتوحيد المنافقين (احیاء العلوم: 1604)
“توحید کا پہلا مرتبہ یہ ہے کہ انسان زبان سے یہ اقرار کرلے کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں اگرچہ اس کا قلب اس سے غافل یا منکر ہی ہو، جیسا کہ منافقین کی توحید کا حال ہوتا ہے”

توحید کا یہ اقرار انسان کو عیسائیوں کی تثلیث والی توحید سے ممیز بنا دیتا ہے:

لا الہ الا اللہ وھذا یسمی توحیدا مناقضا للتثلیث الذی صرح بہ النصاری (احیاء العلوم ص 43)
“لا الہ الا اللہ کا اقرار، یہ وہ توحید ہے جو نصاری کے عقیدہ تثلیث کو رد کرنے والی ہے”

امام غزالی کہتے ہیں کہ ایسی توحید اخروٹ کے بیرونی چھلکے جیسی ہے جو صرف دیکھنے میں خوشنما ہوتی ہے لیکن کھانے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ کڑوا ہے اور اسے پھینک دیا جاتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے دنیاوی قانون کے اعتبار سے یہ شخص ہی مسلمان ہی کہلاتا ہے اگرچہ آخرت میں اسے یہ توحید کام نہیں آئے گی۔ اسے “منافق کی توحید” کا درجہ کہتے ہیں اور ظاہر ہے اس درجے کی تفصیل سے کسی مسلمان کو انکار نہیں ہوسکتا۔ کیا توحید کا یہ درجہ قرآن و سنت کے مطابق مراد لیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ ہر مسلمان جانتا ہے کہ توحید کا یہ درجہ بھی اللہ کے رسولﷺ کی شریعت کا حصہ ہے لیکن توحید پر ایمان اس سے کچھ زیادہ کا بھی تقاضا کرتا ہے، جو دراصل اس کے اگلے درجات ہیں۔

تو واضح ہوا کہ امام غزالی جسے توحید کا پہلا درجہ کہتے ہیں یہ دراصل ایک فقیہہ یا قانون دان کی دلچسپی کا سامان ہے جسے یہ طے کرنا ہے کہ کون مسلمان ہے اور کون کافر، کون اسلامی حقوق و فرائض کا اہل ہے اور کون نہیں۔ اس کے لئے معیار “زبان سے اقرار کرلینا” ہے، اگرچہ دل ممکنہ طور پر اس سے خالی ہی ہو کیونکہ کسی کے دل میں جھانک کر یہ فیصلے کرنے کا شرع نے حکم نہیں دیا کہ ‘کون مومن ہے اور کون کافر’۔

غامدی صاحب چونکہ قانون و فقہ کی باریکی میں نہیں اتر سکے اس لئے انہوں نے توحید کے درجات کی گفتگو سمجھنے میں ابتداء ہی سے ٹھوکر کھائی لیکن امام غزالی صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ فقیہہ بھی ہیں اور وہ اپنی گفتگو میں اس کا پورا لحاظ رکھتے ہیں۔ اگر غامدی صاحب کی یہ بات درست ہے کہ توحید کا بس ایک ہی درجہ و پہلو ہے تو کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اللہ کے نبیوں نے جس توحید کی دعوت دی وہ بس اسی قدر مان لینا تھا جو منافق کی توحید کا درجہ ہے؟

3.2۔ توحید کا دوسرا درجہ: تصدیق

اب کچھ آگے بڑھتے ہیں، غامدی صاحب کی توحید یہ ہے کہ خدا کو اسباب سے ماوراء مانا جائے۔ اس پر دوسرا سوال ذھن میں آتا ہے:

دوسرا سوال) کیا خدا کی توحید کے اس کے علاوہ بھی کچھ تقاضے ہیں یا صرف اسےاسباب سے ماوراء مان لینا ہی کافی ہے؟ کیا خدا کے بارے میں درج ذیل تصورات رکھے جاسکتے ہیں؟

  • خدا کا ایک مادی جسم ہے یا وہ نور بمعنی بجلی (لائیٹ) ہے
  • خدا کے ہمارے جیسے ھاتھ، آنکھ و پیر ہیں
  • خدا جہات میں (یعنی اوپر نیچے، آگے پیچھے، دائیں بائیں) سفر کرتا ہے
  • خدا ایک بڑے سے تخت پر بیٹھا ہوا ہے
  • خدا انسانوں کی زبان کے الفاظ میں کلام کرتا ہے
  • خدا کی ذات اور اسکی صفات دو الگ مستقل وجود ہیں
  • خدا کی بندوں کے ساتھ معیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے اتنا بڑا جسم ہے جو ہر شخص و شے کے ساتھ متصل ہے
  • خدا اس معنی کائنات میں حلول کیا ہوا ہے

یہ فہرست خاصی طویل ہے، ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا انبیاء کی توحید کا موضوع ان سب امور کی تفصیلات ہیں یا نہیں، یعنی کیا توحید کے اقرار میں یہ بات شامل ہے یا نہیں کہ آیا خدا ان امور سے ماوراء ہے یا ان سے متصف؟ ظاہر ہے جواب اثبات میں ہے کہ جی ہاں انبیاء جو توحید لے کر آئے اور قرآن و سنت جس توحید کی بات کرتے ہیں یہ سب امور اس توحید کا موضوع ہیں۔

دوسرا درجہ: متکلمین کی توحید: امام غزالی نے توحید کے جن چار درجات کا ذکر کیا ہے اس کا دوسرا درجہ ان تفصیلات سے متعلق ہے جسے امام غزالی متکلمین کی دلچسپی کا موضوع کہتے ہیں، یعنی وہ امور جن پر متکلمین عقلی دلائل قائم کرتے ہیں نیز جن پر وارد ہونے والے شبہات سے وہ بحث کرتے ہیں۔ یہ دراصل وہ شخص ہوتا ہے جو زبان کے ساتھ ساتھ دل سے بھی توحید کی تصدیق کرتا ہے، عقیدہ اسلام کو برحق سمجھتا ہے، اس کی عقل عقیدہ توحید کے باب میں اس کی ذات و صفات کی تنزیہہ کی درست تفصیلات سے سرشار ہوتی ہے اور وہ مدافعین اسلام کے ساتھ مقابلہ بھی کرتا ہے۔ ایسا شخص اگر اپنے اس ایمان پر دنیا سے رخصت ہوگا تو اس کا یہ ایمان اسے دائمی عذاب سے بچانے والا ہوگا۔ چونکہ اس شخص کا توحیدی عرفان صرف دماغی عقلیت کی سطح پر موجود ایک منطقی عقیدے کی سطح کی چیز ہوتی ہے، احساس کی سطح منتقل ہوئے بغیر یہ توحید ایک قلبی گراوٹ کی حیثیت رکھتی ہے اور اس شخص کو ایمان کی وہ اصل حلاوت میسر نہیں ہوتی جو خدا کو بندے کے ہر عمل کا اصل مقصود بنا دے ۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

والثانية أن يصدق بمعنى اللفظ قلبه كما صدق به عموم المسلمين وهو اعتقاد العوام (احیاء العلوم: 1643)
“اور دوسرا درجہ یہ ہے کہ قلب زبان پر جاری الفاظ کے معنی کی تصدیق تصدیق کرے ، یہ عوام الناس کا عام اعتقاد ہے”۔

اسی بات کو وہ یوں کہتے ہیں:

وأما الثاني وهو الاعتقاد فهو موجود في عموم المسلمين وطريق تأكيده بالكلام ودفع حيل المبتدعة فيه مذكور في علم الكلام وقد ذكرنا في كتاب الاقتصاد في الاعتقاد القدر المهم منه (احیاء العلوم: 43)
” توحید کا دوسرا درجہ وہ اعتقاد ہے جو عامۃ المسلین کے یہاں موجود ہے اور اس درجہ توحید کو موکد کرنے نیز بدعتی گروہوں سے اسے محفوظ کرنے کے طریقے علم کلام میں مذکور ہیں، اور اس کی اہم تفصیلات میں نے اپنی کتاب الاقتصاد فی الااعتقاد میں بیان کردی ہیں”

توحید کے اس دوسرے درجے کا حامل کس کیفیت سے دوچار ہوتا نیز اس کا حکم کیا ہوتا ہے، اس کا نقشہ وہ کچھ یوں کھینچتے ہیں:

والثاني موحد بمعنى أنه معتقد بقلبه مفهوم لفظه وقلبه خال عن التكذيب بما انعقد عليه قلبه وهو عقدة على القلب ليس فيه انشراح وانفساح ولكنه يحفظ صاحبه من العذاب في الآخرة إن توفى عليه ولم تضعف بالمعاصي عقدته (احیاء العلوم: 1643)
” دوسرے درجے کے موحد کا قلب اس کی زبان پر جاری الفاظ کو جھٹلاتا تو نہیں ہے لیکن اس کے قلب کو اس پر انشراح نہیں ہوتا (یعنی وہ اس کے حقیقی معنی کی حلاوت سے واقف نہیں ہوتا)، البتہ توحید کا یہ اقرار اس شخص کو اخروی عذاب سے بچانے والا ہے اگر اس ایمان پر اس کا خاتمہ ہوجائے نیز وہ گناہوں سے بھی بچتا رہے”

امام صاحب اسے “عام لوگوں کی توحید” بھی کہتے ہیں کیونکہ عام آدمی سے جب توحید کا اقرار کروایا جاتا ہے تو انہی امور کو عقیدے کے طور پر اس کے سامنے رکھا جاتا ہے تاکہ وہ عقیدے کی گمراہی سے بچ رہے (اگرچہ عملا وہ گنہگار و فاسق ہی ہو)۔ وہ کہتے ہیں کہ توحید کی یہ تفصیلات میں نے اپنی کتاب “الاقتصاد فی الاعتقاد” میں بیان کی ہیں (بلکہ احیاء العلوم کی جلد اول میں بھی یہ بحثیں موجود ہیں)۔ الاقتصاد میں امام غزالی نے تفصیل کے ساتھ جس توحید کا ذکر کیا ہے اس کا موضوع اللہ کی ذات اور صفات کے بارے میں درست عقلی تصورات قائم کرلینا ہےجن کی مثالیں اوپر پیان کی گئیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ الاقتصاد میں امام صاحب توحید کے جن مباحث کو زیر بحث لائے ہیں ان کی فہرست پر نظر دوڑا لی جائے تاکہ اندازہ ہے کہ اس کا موضوع کیا ہے۔ چنانچہ اس کتاب میں توحید سے متعلق درج ذیل امور کو ثابت کرنے کے عقلی دلائل دئیے گئے ہیں:

  • وجود باری تعالی
  • وجود باری تعالی ازل سے ابد تک ہے
  • ذات باری تعالی نہ جسم ہے اور نہ ہی عرض
  • ذات باری تعالی کسی جہت میں نہیں
  • ذات باری تعالی کسی مقام میں قرار پانے سے پاک ہے
  • ذات باری تعالی واحد ہے
  • ذات باری تعالی سات صفات سے متصف ہے: قدرت، علم، حیات، ارادہ، سمعم بصر اور کلام
  • صفات باری تعالی اس کی ذات سے زائد ہیں
  • صفات باری تعالی قدیم ہیں

اس فہرست سے واضح ہوتا ہے کہ جسے امام غزالی متکلمین کی توحید کہتے ہیں اس سے ان کی مراد ذات اور صفات باری تعالی سے متعلق درست عقیدے کی وضاحت کرنا ہے۔ سوال یہ ہےکہ انبیاء نے جو توحید بیان کی اور قرآن و سنت جس توحید سے بحث کرتے ہیں کیا اس میں یہ سب تفصیلات شامل ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو گویا مطلب یہ ہوا کہ معاذ اللہ انبیاء صرف منافقین کی توحید بیان کرنے آئے تھے اور یا پھر یہ کہ اللہ کے بارے میں درج بالا امور میں جو بھی تصور قائم کرلیا جائے، انبیاء اور قرآن و سنت کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ظاہر یہ جواب خود غامدی صاحب کو بھی قبول نہیں ہوسکتا۔ معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ بھی انبیاء اور قرآن ہی کی توحید ہے وہ اور بات ہے کہ صوفیاء پر تنقید کرنے کے لئے غامدی صاحب نے اس کا ذکر نہیں کیا اور توحید کے ایک نہایت محدود تصور کو مکمل قرآنی معیار قرار دے کر صوفیاء پر فتووں کی پوچھاڑ کر ڈالی۔ غامدی صاحب کا دعوی ہے کہ ان کی توحید کے علاوہ توحید کا کوئی درجہ قرآن میں مذکور نہیں جبکہ اب تک کی گفتگو سے واضح ہوگیا کہ ان کا تصور توحید ناقص ہے اور ناقص کو بنیاد بنا کر کامل کو نہیں تولا جاسکتا۔

توحید کے جو دو پہلو یا درجات اب تک بیان ہوئے ان کے مابین باہمی تعلق یہ ہے کہ پہلا درجہ اس سوال کا جواب ہے کہ “کس درجے کے دعوی ایمانی کا ظہور ایمان کے لئے کفایت کرسکتا ہے”، اس کا جواب ہے زبان سے اقرار کرلینا۔ دوسرا درجہ اس سوال سے متعلق ہے کہ “زبان سے جس چیز کا اقرار کرنا ہے اس کی تفصیلات کیا ہیں”، تو متکلمین وہ توحید بیان کرتے ہیں جس کا اجراء خاص و عام کی زبانوں پر ہوتا ہے، یہ توحید ذات و صفات باری تعالی کی تنزیہہ و تقدیس سے متعلق ہے جس کا بلند ترین اظہار سورہ اخلاص میں ہوا (امام رازی نے اپنی کتاب “تاسیس التقدیس” میں تفصیلا ثابت کیا ہے کہ خدا کی ذات و صفات کی تنزیہہ کے تقاضے سورہ اخلاص میں بیان ہوئے ہیں)۔ چونکہ توحید کے اس درجے کا تقاضا قانون شریعت کی رو سے ہر کسی سے ہے، یعنی ہر مسلمان پر زبان سے ان کا اقرار لازم ہے، لہذا صوفیاء اور امام غزالی اسے عام لوگوں (masses) کی توحید کہہ دیتے ہیں، یعنی وہ توحید جو ہر کسی سے متعلق ہے اور جو سورہ اخلاص کا موضوع ہے۔ لہذا توحید کی ان تفصیلات کو “عام لوگوں کی توحید” کہنا، یہ ایک درست اور عین احکامات شریعت کی ترتیب کے مطابق بات ہے۔

3.3۔توحید کا تیسرا درجہ: حال

درج بالا تفصیلات کے بعد ایک تیسرا سوال پیدا ہوتا ہے:

تیسرا سوال) کیا توحید کے تقاضے خدا کی ذات و صفات کی تنزیہہ زبان پر جاری ہونے پر ختم ہوجاتے ہیں؟ پوری قلبی یکسوئی کے ساتھ خدا کے احکامات پر عمل پیرا رہنا، اس میں کمی نہ آنے دینا، اس عمل کے دوران ہر قسم کی آزمائش پر صبر کرنا، ہر عمل و تعلق، محبت اور نفرت یہاں تک کے جینے مرنے کا مطمع نظر بھی خدا کی ذات بن جانا، کیا یہ سب بھی توحی د کے تقاضوں میں شامل ہے یا نہیں؟ کچھ سوالات پر غور کیجئے:

  • کیا یہ حقیقتا ممکن ہے کہ ایک شخص زبان سے تو کہتا ہو کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے لیکن اپنی تنہائیوں میں ایسے گناہوں میں ملوث ہو جو دیگر انسانوں کے سامنے نہیں کرتا؟
  • کیا یہ حقیقتا ممکن ہے کہ اس کے قلب میں یہ بات واقعی جاگزیں ہو کہ میں مر کر خدا کے حضور پیش ہونے والا ہوں لیکن خدا کے احکامات پر عمل پیرا ہونے سے غافل اور ان کی دھجیاں اڑانے والا ہو؟
  • کیا یہ ممکن ہے کہ حقیقتا یہ سمجھتا ہو کہ خدا ہی رزاق ہے نیز میرا رزق مقدر ہوچکا مگر حرام مال کی جستجو کرتا ہو؟
  • کیا یہ ممکن ہے کہ خدا کو دل سے سب سے بڑا مانتا ہو لیکن اس کے حکم کو پیٹھ پیچھے ڈال کر چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے مصلحت کوشیوں کا شکار ہو؟

اس قبیل کے سب سوالوں کا جواب نفی میں ہے، یعنی یہ سب “حقیقتا” ممکن نہیں ہے اور فسق و فجور کی حالت یہ ظاہر کرتی ہے کہ توحید کا اقرار صرف زبان پر جاری ہے اور جس خدا کو مان لیا گیا ہے وہ ایک “منطقی خدا” ہے لیکن دل نے ابھی ان سب امور کی گواہی نہیں دی۔ علامہ اقبال کہتے ہیں :

خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں

لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ شخص جو زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کررہا ہے مگر بے عمل ہے، کیا یہ بھی مسلمان ہے؟ خوارج اس معاملے میں اس قدر آگے چلے گئے کہ انہوں نے گناہ کبیرہ کے مرتکب کو کافر کہنا شروع کردیا۔ انہوں نے کہا بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص خدا کو حاضر ناظر اور سزا دینے پر قادر بھی مانے اور پھر اس کی نافرمانی بھی کرے! یہ نافرمانی درحقیقت اپنے حال سے اپنی زبان پر جاری کلمے کی نفی کردینا ہے، ایسا شخص حقیقتا خدا کو مانتا ہی نہیں ہے لہذا یہ کافر ہے۔ اسی لئے ان کے نزدیک احکامات شریعہ پر عمل پیرا ہونا، یہ بھی توحید کا لازمی “قانونی” تقاضا تھا۔ معتزلہ نے کہا کہ ایسا شخص بہرحال مسلمان نہیں ہے اگرچہ ہم اسے کافر نہیں کہیں گے۔ البتہ نصوص میں غور و فکر کے بعد اہل سنت والجماعت کا اس بات پر اجماع ہوا کہ خدا پر ایمان ہوتے ہوئے بھی صاحب ایمان سے فسق و فجور ممکن الوقوع ہے اور یہ اقرار توحید کے “قانونی تقاضوں” (یعنی توحید کے درجہ متکلمین) کے منافی نہیں، یعنی ایک فاسق و فاجر بھی مسلمان ہی ہوتا ہے۔

اہل سنت والجماعت کے صوفیاء اسی پوزیشن کے قائل ہیں، مگر صوفیاء کا مطمع نظر اس قانونی توحید کے درجے کا حصول نہیں ہے، یہ تو ہر مسلمان کو حاصل ہوتا ہے چاہے بدعمل ہی کیوں نہ ہو۔ ان کا مطمع نظر یہ ہے کہ خدا بندے کی حقیقی (نہ کہ صرف قانونی) طلب بن جائے، وہ اس سے حقیقی محبت کرنے والا ہوجائے، اس کے احکامات کو ذوق و شوق سے اپنا مفاد سمجھنے لگے۔ گویا اس کی زبان پر جاری توحید اس کا حال بن جائے اور دونوں ایک ہی گواہی دیں۔ توحید کے اس درجے کو حاصل کرنے والے شخص کی مراد اللہ کی ذات کے سواء کچھ نہیں رہ جاتی، قرآن مجید میں توحید کی اس حلاوت کا ذکر کچھ یوں ہوتا ہے:

قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (انعام: 162)
“کہہ دو کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العلمین ہی کے لئے ہے”

چنانچہ توحید کا تقاضا یہ بھی ہے کہ میری محبت اور نفرت نیز ہر تعلق کی بنیاد صرف اللہ کی ذات بن جائے، یہ مضمون متعدد احادیث میں بیان ہوا ہے [2] ۔ انسان اس مقام کو کیسے حاصل کرتا ہے؟ توحید کا تیسرا درجہ اسی کا جواب ہے۔

تیسرا درجہ: توحید فی التوکل: امام غزالی کے نزدیک توحید کا تیسرا درجہ خدا پر ” توکل” اختیار کرنا ہے۔ یعنی انسان کی نظر اس بات پر رہے کہ ہر شے کا فاعل حقیقی صرف اور صرف خدا کی ذات ہے۔ یہ جو ظاہری اسباب ہیں یہ اس کے حکم کے ماسواء حرکت نہیں کرسکتے۔ اس کی وضاحت امام غزالی یوں کرتے ہیں:

الثالث: وھو اللباب، ان یری الامور کلہا من اللہ تعالی رؤیۃ تقطع التفاتہ عن الوسائط وان یعبدہ عبادۃ یفردہ بھا فلا یعبد غیرہ ویخرج عن ھذہ التوحید اتباع الھواء، فکل متبع الھواء فقد اتخذ ھواہ معبودہ (احیاء العلوم (احیاء العلوم: 43)
“توحید کا جوہر یا مغز یہ ہے کہ تو ہر شے اور معاملے کا منبع و ماخذ اللہ کو دیکھنے لگے اور درمیان کے جتنے واسطے اور ذرائع ہیں یہ (تیری نظر سے) منقطع ہوجائیں اور تو صرف اس ذات کو اپنی عبادت کا مرکز بنا لے۔ اس توحید سے وہ لوگ خارج ہیں جو اپنی خواہشات کی اتباع کرتے ہیں اور خواہشات کی اتباع کرنے والا دراصل اپنے نفس کو اپنا معبود بنا لیتا ہے”

اسی کی وضاحت وہ یوں کرتے ہیں:

والثالثۃ: ان یشاھد بطریق الکشف بواسطۃ نور الحق وھو مقام المقربین، وذالک بان یری اشیاء کثیرۃ ولکن یراھا علی کثرتھا صادرۃ عن الواحد القھار (احیاء العلوم: ص 1604)
“اور تیسرا درجہ نور حق کے ذریعے (اس توحید) کا کشف کی سطح پر مشاہدے میں آجانا ہے اور یہ مقربین کا مقام (توحید) ہے ، اس مقام کی حقیقت یہ ہے کہ تو بہت سی چیزیں ملاحظہ کرے لیکن اس کثرت کا منبع ایک ہی ذات قہار کو دیکھے”

اس درجے پر فائز شخص کی وضاحت یوں کرتے ہیں:

والثالث موحد بمعنی انہ لم یشاھد الا فاعلا واحد (احیاء العلوم: ص 1604)
“اور تیسرے درجے پر فائز موحد کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کائنات میں ایک ذات کے علاوہ کوئی فاعل نہیں دیکھتا”

مزید تشریح فرماتے ہوئے کہتے ہیں:

وحاصلہ ان یکشف لک ان لا فاعل الا اللہ تعالی وان کل موجود من خلق ورزق وعطاء منع و حیاۃ و موت وغنی وفقر الہ غیر ذالک مما ینطلق علیہ اسم فالمنفرد بابداعہ و اختراعہ ھو اللہ عز و جل۔اذا انکشف لک ھذا لم تنظر الی غیرہ (احیاء العلوم: ص 1606)
“اور اس درجہ توحید کا حاصل تجھ پر یہ منکشف ہوجانا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی فاعل نہیں ہے، نیز موجودات میں سے ہر چیز جیسے خلق اور رزق، عطا ہونا اور روک لیا جانا، زندگی اور موت، غنی و فقر، الغرض ہر چیز جسے کوئی نام دیا جاسکے ان سب کو ایجاد کرنے والی اللہ کی ذات ہے۔ جب تجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوگی تو پھر تو اللہ کے علاوہ کسی کی طرف متوجہ نہیں ہوگا”

امام غزالی کہتے ہیں کہ توحید کا یہ تیسرا درجہ توکل کی اصل ہے:

واما الثالث: فھو الذی یبنی علیہ التوکل (احیاء العلوم: ص 1606)
“یہ جو تیسرا درجہ ہے، یہ توکل کی بنیاد اور اصل ہے”

اس کے بعد وہ تفصیلا توکل کی ماہیت، اس کے اسرار اور اس پر شیطان کے حملوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ بتاتے ہیں کہ شیطان جس راستے سے انسان کی عملی توحید کو برباد کرتا ہے وہ اس کے توکل ہی کو برباد کرنا ہے جس کے دو اسباب ہوتے ہیں: (1) ایک یہ کہ اس کی نظر جمادات (یعنی مادی اسباب جیسے اس کی زمین، کھیتی، مال و دولت، بارش، ہوا وغیرہ) پر اٹکا دیتا ہے اور وہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ وسائل ہی میری کامیابیوں کی ضمانت ہیں (2) اور یا پھر اس کے قلب میں یہ خیال پیدا کردیتا ہے کہ یہ جاندار تجھے فائدہ نقصان دینے والے ہیں اور اگر تو نے ان کے تقاضے اور احکامات پورے نہ کئے تو نقصان اٹھانے والا ہوگا۔ تو توحید کا تیسرا درجہ یہ ہے کہ انسان کو اس کائنات میں “فاعل حقیقی” صرف اور صرف ایک ہی نظر آئے اور اس کا دل اس پر جم جائے۔ جب اسے توحید کی یہ کیفیت حاصل ہوتی ہے تو اب وہ مادی اور انسانی مفادات کے لئے خدا کی توحید کے تقاضوں کو قربان نہیں کرتا، وہ صرف اللہ ہی کے لئے ہو کے رہتا ہے۔ صوفیاء فرد کو اس درجہ توحید کا سالک بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس توحید سے غافل ہر شخص اگرچہ متکلم و فقیہہ کی نظر میں مسلمان ہے لیکن وہ اخروی ناکامی کے خطرات سے دوچار ہے کیونکہ قیامت والے روز ان لوگوں کا دعوی توحید ان کے منہ پر مار دئیے جانے کا خطرہ ہے جو توحید کا دم بھرنے کے باوجود عمر بھر فسق و فجور میں مبتلا رہے۔ آج کے جدید لکھاری اس درجہ توحید کو “عملی توحید” کہتے ہیں اور لوگوں کو یہ بڑی بھلی معلوم ہوتی ہے۔ امام غزالی کہتے ہیں کہ اس توحید کا راز توکل میں پنہاں ہے۔

یہاں ٹھر کر غور کیجئے کہ کیا خدا کی کتاب بندہ مومن سے اس توحید کا تقاضا نہیں کرتی کہ وہ خدا کو کائنات کا واحد حقیقی فاعل سمجھے اور ہر معاملے میں اسی پر توکل کرے اور ایمان کی اس حلاوت کو محسوس کرے جو مذکور آیت اور متعدد احادیث میں بیان ہوئی؟ کیا توحید کا یہ درجہ انبیاء کی دعوت کا مرکز نہ تھا؟ کیا انبیاء صرف اللہ کی ذات و صفات کے بارے میں چند درست منطقی و عقلی تصورات کی دعوت دینے کے لئے تھے جن سے متکلمین بحث کرتے ہیں؟ ان سب کا جواب ظاہر ہے نفی میں ہے۔ چونکہ ہر شخص توحید کی اس منزل کو حاصل نہیں کرپاتا لہذا بعض صوفیاء اسے “خواص کی توحید” سے عبارت کرتے ہیں، یعنی اس منزل کے حصول کے لئے جدوجہد کرنا پڑتی ہے اور ہر شخص کو اس کی محنت اور صلاحیت کی مقدار کے مطابق یہ پھل میسر آتا ہے۔

لیکن کیا عوام (masses) کے دعوی ایمانی کو بھی اسی درجہ توحید سے ناپا جائے گا؟ اہل سنت کا جواب نفی میں ہے کیونکہ یہ قلبی احوال کا معاملہ ہے نہ کہ زبان پر چند کلمات جاری ہوجانے کا۔ اس کے برعکس غامدی صاحب کی توحید میں چونکہ ایک ہی درجہ ہے لہذا عین ممکن ہے ان کی توحید یا تو منافقین کی توحید کے درجے پر ختم ہوجاتی ہو اور یا پھر خوارج کی طرح توحیدکے عملی تقاضے پورا نہ کرنے والوں کی تکفیر لازم ٹھراتی ہو۔ صوفیاء کی توحید نہ تو منافق کی توحید کے درجے پر ختم ہوتی ہے اور نہ ہی خوارج کی توحید کو درست کہتی ہے اور نہ ہی متکلمین کی توحید کو منزل مراد سمجھتی ہے۔ توحید کے باب میں اس سے زیادہ خوبصورت توازن بھلا کسی فکر میں میسر ہے؟

تو اب تک کی گفتگو میں توحید کے تین درجات کی تفصیل بیان ہوچکی۔ ہم کہتے ہیں کہ کسی درخت کا ایک چھوٹا سا پتہ توڑئیے بلکہ زمین سے ایک ذرہ اٹھائیے اور ہمیں بتائیے کہ اس تفصیل میں اس کے مساوی بھی ایسا کچھ ہے جو خلاف قرآن و سنت تو کجا زائد از قرآن و سنت بھی ہو؟ مسئلہ تو ایک ناقص تصور توحید کا تھا جس کو بنیاد بنا کر صوفیاء کی توحید کو تولنا شروع کردیا گیا اور تولنے کے اس کھوٹے معیار پر جو کچھ خالص تھا اسے ہی ناقص قرار دیا جانے لگا۔

3.4۔ توحید کا چوتھا درجہ: توحید وجودی

اب توحید کے چوتھے درجے کی بات کرتے ہیں جس پر سب سے زیادہ بے چینی پائی جاتی ہے اور جسے غامدی صاحب نے کفار و مشرکین جیسا عقیدہ قرار دے کر عظیم ضلالت قرار دیا ہے۔ علم کلام کے مباحث میں اس درجہ توحید کی گفتگو کو “توحید وجودی” (Existential Unity) کا عنوان بھی دیا جاتا ہے جس کی متعدد تشریحات پائی جاتی ہیں جن میں دو اہم تر ہیں:

  • ایک کو “مشاھداتی وحدت” کہتے ہیں، یہ ناظر و مشاھد کے اعتبارات سے قائم ہونے والی وحدت ہے
  • دوسری کو “وجودی وحدت” کہتے ہیں، یہ ناظر و مشاھد کے تناظرات سے ماوراء برقرار رہنے والی وحدت کا دعوی ہے

یہ تمام تفصیلات ہمارے موضوع سے متعلق نہیں، نفس تحریر کا محور امام غزالی کا چوتھا درجہ توحید ہے اور امام صاحب اس معاملے میں جس توحید کی بات کرتے ہیں وہ ان دونوں میں سے اول الذکر ہے نہ کہ موخر الذکر۔ توحید کے اس چوتھے درجے، جسے “مشاھداتی وحدت” کہا جاتا ہے، اسے سمجھنے کے لئے مشاھدے کی علمیات سے متعلق چند باتیں سمجھنا ضروری ہیں:

  • ایک یہ کہ ہر مشاھدہ کسی تناظر یا اعتبار سے عبارت یا متشکل ہوتا ہے
  • دوسری یہ کہ تناظر یا اعتبار بدل جانے سے مشاہدے کی نوعیت بدل جایا کرتی ہے، اور
  • تیسری یہ کہ کثرت و وحدت کے مشاھداتی تصورات دراصل اعتبارات کے مرہون منت ہوتے ہیں اور اعتبار بدلنے سے ایک ہی شے کبھی کثیر تو کبھی واحد ہوجاتی ہے

یہ سب امور امام غزالی نے واضح کئے ہیں، البتہ ان کی گفتگو کی طرف متوجہ ہونے سے قبل بات سمجھانے کے لئے ایک مثال لیتے ہیں۔ فرض کریں کسی بس سٹینڈ پر بہت سارے رنگوں اور حجم کے بیگ بکھرے پڑے ہوئے ہیں۔ ایک شخص ان میں سے آدھوں پر “لاھور کا سامان” اور آدھوں پر “اسلام آباد کا سامان” کی چٹ لگا دیتا ہے۔ چٹ لگانے کا یہ عمل آدھوں کو “اسلام آباد کی وحدت” عطا کرتا ہے اور آدھوں کو “لاھور کی وحدت”، اگرچہ وہ بیگ کسی دوسرے اعتبار میں الگ الگ بھی موجود ہیں لیکن لاھور اور اسلام آباد کے اعتبارات سے واحد ہیں۔ یا فرض کریں وہ ان میں سے کچھ پر “20 کلو” اور کچھ پر “10 کلو” کی چٹ لگا کر انہیں تقسیم کرتا ہے، اب وہی بیگ “20 کلو” اور “10 کلو” کی دو وحدتوں میں تقسیم ہوگئے۔ تو ان بیگز کے ساتھ اس قسم کی کئی وحدتیں قائم کی جاسکتی ہیں، “کلو” اور “جائے مقام” (لاھور یا اسلام آباد وغیرہ)، یہ تناظرات یا اعتبارات ہیں جو ایک ہی شے کو مختلف اعتبارات سے کثیر یا واحد بنا رہے ہیں۔ پھر فرض کریں کہ اس بس سٹینڈ پر کئی بسیں موجود ہیں جنہوں نے مختلف اوقات میں سفر کا آغاز کرنا ہے۔ “لاھور کا سامان” اور “اسلام آباد کا سامان” والی انہی چٹوں والے دو قسم کے بیگوں میں سے کچھ کو اٹھا کر ایک بس میں اور کچھ کو دوسری میں رکھ دیا جاتا ہے، ابھی تھوڑی دیر قبل “لاھور کا سامان” اور “اسلام آباد کا سامان” کے جو بیگز الگ الگ تھے “ایک بس کا سامان” کے تناظر میں وہ ایک ہوگئے۔ تو انہیں مشاھداتی تناظرات کہا جاتا ہے جو مشاھد یا ناظر کے لئے اشیاء میں کثرت و وحدت کی بنیاد بنتے ہیں۔

دوسری بات یہ سمجھئے کہ کسی کثرت کو کسی وحدت میں بدل دینے کا راز اس بات میں پنہاں ہوتا ہے کہ وہ کونسا تناظر ہے جہاں ایک شے ہوتے ہوئے بھی لاموجود یا غیر متعلق ہوجائے۔ جب سامان پر “لاھور” اور “اسلام آباد” کی چٹ لگا دی گئی تو ان کا حجم موجود ہوتے ہوئے بھی غیر متعلق ہوجاتا ہے اور اس وحدت کی نفی نہیں کرتا جو چٹ لگنے سے قائم ہوگئی۔

امام غزالی ان امور کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

ان الشیء قد یکون کثیرا بنوع مشاھدۃ واعتبار، ویکون واحدا بنوع آخر من المشاھدۃ والاعتبار (احیاء العلوم: ص 1605)
“ایک شے مشاہدے کے کسی ایک اعتبار سے کثیر ہوتی ہے اور مشاہدے کے کسی دوسرے اعتبار سے واحد”

اس مشاھداتی وحدت کو سمجھانے کے لئے امام غزالی بس اڈے پر موجود سامان کے طرز ہی کی مثال لائے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک انسان گوشت، خون، کھال، ھڈی جیسی کثیر چیزوں سے عبارت ہے لیکن جب تم اسے “انسان” دیکھتے ہو تو اب یہی کثرت “وحدت انسانی” کے مشاھدے میں بدل جاتی ہے۔ اس گفتگو کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

کل ما فی الوجود من الخالق و المخلوقات لہ اعتبارات و مشاھدات کثیرۃ مختلفۃ، فہو باعتبار واحد من الاعتبارات واحد، وباعتبارات اخر سواء کثیر، وبعضھا اشد کثرۃ من بعض (احیاء العلوم: ص 1605)
“جتنی بھی موجودات ہیں، چاہے خالق ہوں یا مخلوق، سب کے لئے متعدد اعتبارات و مشاھدات ہیں، کسی ایک اعتبار سے وہ واحد ہوتی ہیں تو کسی دوسرے اعتبار سے وہ کثیر، اور بعض (اعتبارات سے پیدا ہونے والی مشاھداتی) کثرت بعض (دیگر اعتبارات سے پیدا ہونے والی مشاھداتی) کثرت سے زیادہ ہوتی ہے”

اس وضاحت کے بعد اس سوال پر غور کیجئے:

چوتھا سوال) کیا کوئی ایسا تناظر بھی ہے جہاں “میں” (یا مخلوقات) موجود ہوتے ہوئے بھی غیرموجود، لایعنی اور غیر متعلق ہوجاؤں اور صرف خدا باقی بچ رہے؟

یہ جسے مشاھداتی توحید یا وحدت کہتے ہیں یہ اسی سوال کے جواب سے عبارت ہے۔ اس کا جواب امام غزالی اور صوفیاء اثبات میں دیتے ہیں۔ وہ تناظر کیا ہے؟ وہ تناظر توحید کے اس تیسرے درجے کہ “کائنات میں فاعل حقیقی ایک ہی ہے” کا منطقی نتیجہ ہے کہ “کائنات میں وجود حقیقی بھی صرف ایک ہی ہے”۔ حقیقی وجود کیا ہے؟ وہ وجود جو قائم بالذات ہو۔ امام غزالی کہتے ہیں:

القائم بنفسہ ھو الذی لو قدر عدم غیرہ بقی موجودا (احیاء العلوم: ص 1427)
” قائم بالذات ہستی وہ ہے کہ اگر اس کا غیر (other) معدوم ہوجائے تو بھی اس کا وجود باقی رہے”

یعنی خود اپنی ذات سے قائم وجود وہ ہوتا ہے کہ اگر اس کے سواء باقی سب وجود ختم ہوجائیں تب بھی اس کا وجود برقرار رہے۔ ایسا وجود صرف اور صرف خدا ہی کی ذات کو حاصل ہے۔ یعنی سب مخلوقات ھلاک ہوجائیں وہ تب بھی موجود ہوگا، ایسا وجود کسی کو حاصل نہیں۔ مشاھداتی وجود کے اس تناظر میں تمام مخلوقات ہوتے ہوئے بھی غیرموجود ہوجاتی ہیں۔ تو اگر میں خود سے یہ سوال کروں کہ “کیا کوئی ایسا تناظر ممکن ہے جہاں میں موجود ہوتے ہوئے بھی لاموجود اور لایعنی ہوجاؤں اور صرف خدا بچ رہے؟”۔ جواب ہے “جی ہاں”۔

چوتھا درجہ: مشاھداتی وحدت: امام غزالی کا بیان کردہ توحید کا چوتھا درجہ یہی مشاھداتی توحید ہے جسے وہ یوں بیان کرتے ہیں:

والرابعۃ: ان لا یری فی الوجود الا واحدا، وھی مشاھدۃ الصدیقین وتسمیۃ الصوفیۃ الفناء فی التوحید لانہ من حیث لایری الا واحد فلا یری نفسہ ایضا، واذا لم یر نفسہ لکونہ مستغرقا بالتوحید کان فانیا عن نفسہ فی توحیدہ، بمعنی انہ فنی عن رؤیۃ نفسہ والخلق (احیاء العلوم: ص 1404)
“اور چوتھا درجہ یہ ہے کہ انسان صرف ذات واحد کا مشاہدہ کرے اور یہ صدیقین کا مشاہدہ ہے اور صوفیاء اسے توحید میں فنا ہوجانا کہتے ہیں کیونکہ اس مقام پر وہ اس ذات کے سواء کچھ نظر نہیں آتا یہاں تک کہ وہ اپنے نفس کو بھی نہیں دیکھ پاتے ، اور جب انسان توحید میں استغراق کے سبب خود اپنے آپ کو بھی نہیں دیکھ پاتا تو دراصل وہ توحید میں اپنے نفس سے بھی فنا ہوجاتا (یعنی اس کی نفی کرتا) ہے، ان معنی میں کہ وہ اپنے آپ اور دیگر مخلوقات کو دیکھنے سے قاصر ہوجاتا ہے”

گویا توحید کا آخری درجہ یہ ہے کہ انسان کے مشاہدے میں صرف ایک ہی ذات رہ جائے، باقی سب فنا ہوجائے، وہ جب کسی شے کو دیکھے تو صرف وجود واحد اور حقیقی کے تناظر میں دیکھے۔ جب بندہ اس تناظر میں مشاھدہ کرتا ہے تو ہر موجود کے مشاھدے میں صرف خدا ہی باقی بچ رہتا ہے، جو نظر کے سامنے ہوتا ہے اس کے وجود نہیں بلکہ “ھلاک و فنا” ہونے کا مشاھدہ ہوتا ہے۔ چنانچہ اس تناظر سے قائم ہونے والے مشاھداتی تناظر میں سب وجود فنا و لایعنی ٹھرتے ہیں، اس مشاہداتی تناظر میں خدا کے سواء ہر شے دیکھ کر انسان یہی پکارتا ہے: “یہ تو فنا ہوجانے والی ہے”، [3] یعنی اس کی کوئی وقعت نہیں، وقعت تو بس اس کی ہے جو وجود حقیقی ہے، جو از خود قائم ہے، امام غزالی لکھتے ہیں:

وانما الوجود ھو القائم بنفسہ، والقائم بنفسہ ھو الذی لو قدر عدم غیرہ بقی موجودا (احیاء العلوم: ص 1427)
“بیشک وجود وہ ہے جو قائم بالذات ہو، اورقائم بالذات ہستی وہ ہے کہ اگر اس کا غیر (other) معدوم ہوجائے تو بھی اس کا وجود باقی رہے”

اس وجود حقیقی اور عام انسانوں کے وجود میں جو فرق ہے نیز اس سے شرک کا خطرہ کس طرح ختم ہوجاتا ہے، اسے وہ یوں بیان کرتے ہیں:

والخاصیۃ الالھیۃ انہ الموجود الواجب الوجود بذاتہ، الذی عنہ یوجد کل ما فی الامکان وجودہ علی احسن وجود النظام و الکمال۔ وھذۃ الخاصیۃ لایتصور فیھا مشارکۃ البتتہ، ولمماثلۃ بہا لاتحصل۔ فکون العبد رحیما، صبورا، شکورا لایوجب الممثلۃ ککونہ سمیعا، بصیرا، عالما، قادرا، حیا، فاعلا (المقصد الاسنی فی معانی اسماء الحسنی: ص 49)
“خاصیت الہی یہ ہے کہ وہ اپنی ذات سے قائم واجب الوجود ہستی ہے، جس کی ذات سے عالم امکان میں تمام موجودات نہایت عمدہ و کامل نظم کے ساتھ وجود میں آتے ہیں، اور یہ وہ خاصیت ہے جس میں (کسی کی) شرکت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پس ایک بندہ رحیم، صبور و شکور ہوسکتا ہے لیکن اس سے (خدا کی صفات کے ساتھ) مماثلت لازم نہیں آتی جیسے بندہ سمیع، بصیر، عالم، قادر، حی اور فاعل ہوتا ہے”

تو جب کسی بندے پر یہ تناظر غلبہ پالیتا ہے تو وہ اپنے وجود کو کبھی ظلی کہتا ہے تو کبھی مجازی، کبھی اس کی نفی کرتا ہے تو کبھی ایک لمحاتی تجربہ۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں ورنہ ہم سمجھاتے کہ کائنات کا ہر ذرہ لمحاتی وجود سے زیادہ وقت کے لئے منصف وجود پر آتا ہی نہیں اور اگر لایا بھی جائے تو خود برقرار نہیں رہ سکتا اگر وجود حقیقی اس پر اپنے عمل تخلیق کے فضل کی بارش مسلسل جاری نہ رکھے[4]۔ تو جو وجود ایسا ہیچ ہو کہ ایک لمحے کے لئے بھی موجود نہ رہ سکتا ہو، اس کی بھلا اس وجود سے کیا نسبت جو حقیقی اور قائم بالذات ہو؟ مخلوقات کا وجود بھی متحقق ہوگا لیکن کسی نچلے اعتبار میں اور وہ نچلا درجہ اس حقیقی اعتبار کے مقابلے میں ایسا کمتر ہے کہ بندہ اس کی طرف ملتفت ہی نہیں ہوتا۔ اگر کسی نے یہ سمجھا کہ “وجود حقیقی کے اعتبار” میں بھی وہ اور دیگر مخلوقات موجود ہیں، تو وہ جان لے کہ یہ  شرک ہے۔ جیسے “فاعل حقیقی” کے اعتبار میں کسی کو موثر سمجھنا شرک ہے اسی طرح “وجود حقیقی” کے اعتبار میں کسی کو موجود ماننا بھی شرک ہے۔ امام صاحب کہتے ہیں کہ “موجود ہونے” اور “وجود میں لائے جانے” میں بڑا فرق ہے اور یہ راز ہر کسی پر نہیں کھلا کرتا۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ جب تم یہ تصور قائم کرو گے کہ وجود حقیقی تو صرف خدا کو حاصل ہے تو پھر تمہارے لئے سوائے خدا کے کچھ موجود نہ رہے گا، باقی سب فنا دکھائی دے گا۔

تو یہ ہے وہ تصور جسے وجودی توحید کے مباحث میں “مشاھداتی وحدت” کہتے ہیں۔ چونکہ یہ بحث سمجھنا ہر کسی کے بس میں نہیں، کچھ ہی لوگ اس کا ذوق رکھتے ہیں نیز اس کے ساتھ ملحق خیالات گہرائی اور اس کے مضمرات باریک بینی کا تقاضا کرتے ہیں لہذا صوفیاء کہتے ہیں کہ یہ “خاص الخاص” کی توحید ہے، یعنی توحید کا وہ ادراک جو بہت کم لوگ سمجھ پاتے ہیں۔ ہر علم کی ایک گہرائی ہوتی ہے، جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ ہر علم کی ہر بات ہر شخص سمجھ سکتا ہے، وہ بیوقوف ہے، اسے کبھی علم سے شناسائی ہی نہیں ہوئی۔

اس مقام پر دلوں میں کچھ سوالات مچلتے ہیں، مثلا یہ کہ مشاھداتی وحدت کا مطلب کیا یہ ہے کہ وجودی (ontological) سطح پر مخلوقات لاموجود و معدوم ہوجاتی ہیں؟ کیا اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ خالق و مخلوق کے ایک ہونے کا مشاھدہ کیا جائے؟

امام غزالی ان دونوں سوالات کا جواب کھلے الفاظ میں نفی میں دیتے ہیں اور اس کے لئے احیاء العلوم کے بجائے امام غزالی کی دیگر تصنیفات کی طرف رجوع کرنا لازم ہے جس میں “المقصد الاسنی فی شرح معانی اسماء الحسنی[5]” سرفہرست ہے جہاں وہ صاف انداز میں “اتحاد” اور “حلول” دونوں کو نہ صرف رد کرتے ہیں بلکہ منطقی طور پر ان کے ناممکن ہونے کے دلائل لاتے ہیں۔ اس مضمون میں یہ تفصیلات بیان کرنا ممکن نہیں، اہل ذوق اور علم کی پیاس بجانے کا شوق رکھنے والے حضرات امام غزالی کی اس کتاب کی طرف رجوع کرسکتے ہیں جس میں تصوف میں عرفان الہی کی پیچیدہ بحثوں پر نفیس گفتگو کی گئی ہے اور امام غزالی نے بہت سی گھتیوں کو عمدہ انداز میں سلجھایا ہے۔ البتہ اس ضمن میں امام صاحب کے موقف کی اصولی بات بیان کردی جانا ضروری ہے۔

امام صاحب اس سوال سے بحث کرتے ہوئے کہ بندے اور خدا کی صفات میں مماثلت کی کونسی صورتیں درست اور کونسی غلط ہیں، پانچ امکانات ذکر کرتے ہیں:

  • ایک یہ کہ بندے کی صفات کا خد اکی صفات کا بحیثیت اسم مترادف ہونا
  • دوسرا یہ کہ بندے کی صفات کا مطلقا خدا کی صفات جیسا ہونا
  • تیسرا یہ کہ خدا کی صفات کا بندے میں منتقل ہوجانا
  • چوتھا یہ کہ خدا کی ذات اور بندے کی ذات کا متحد ہوجانا
  • پانچواں یہ کہ خدا بندے میں حلول کر جائے

امام صاحب کہتے ہیں:

فھذہ خمسۃ اقسام، الصحیح منھا قسم واحد، وھو یثبت للعبد من ھذہ الصفات امور تناسبھا علی الجملۃ وتشارکھا فی الاسم، ولکن لا تماثلھا مماثلۃ تامۃ (المقصد الاسنی: ص 49)
“تو یہ پانچ اقسام ہوئیں، ان میں سے درست قسم صرف پہلی ہے (یعنی بندے کی صفات خدا کی صفات میں صرف نام کے اعتبار سے مماثل ہیں)، یعنی ان صفات میں بندے کے لئے صرف وہ امور ثابت ہوتے ہیں جو (بندے کے لئے) ان صفات کے مناسب ہوتے ہیں، اور (خدا کی صفات کے ساتھ) شرکت صرف نام کی سطح پر ہوتی ہے، ہر اعتبار میں اس کے ساتھ مماثلت نہیں ہوتی”

امام غزالی کہتے ہیں کہ دیگر چاروں محال ہیں اور وہ ہر ایک کا تفصیلی رد کرتے ہیں۔ تو یہ ہے توحید وجودی پر امام غزالی کا کلام جو بالکل صاف اور نکھرا ہوا ہے اور جس میں کوئی الجھاؤ نہیں، صرف اسے پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم غامدی صاحب سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ توحید کے درج بالا چوتھے درجے پر انہیں کیا اعتراض ہے؟ بلکہ یہ سوال ناقص ہے، درست سوال یہ ہے کہ آخر اسے نہ مان کر بھی آپ موحد کیسے ہوسکتے ہیں؟ اول الذکر سوال یہ فرض کرتا ہے گویا معیار غامدی صاحب کا تصور توحید ہے، جبکہ معاملہ یہ ہے کہ انبیاء کی تعلیمات میں بیان شدہ توحید کا درست و کامل معیار تو وہی ہے جسے امام غزالی اور ان کے ہمنوا صوفیاء بیان کرگئے ہیں۔ وہ جو “عین انبیاء کی توحید” تھی آپ نے اسے “متوازی دین” قرار دے کر دراصل اپنی ناقص توحید کو دین اور انبیاء کی توحید کو متوازی دین بنا دیا۔

ھو الحی” اور “لاموجود الا اللہ

مناسب محسوس ہوتا ہے کہ صوفیاء کے قول “لاموجود الا اللہ” کی جو تشریح امام غزالی کے درجات توحید والی تحریر میں سمجھائی گئی اس کی منصوص بنیاد بھی ذکر ہوجائے تو اچھا رہے گا، ورنہ لوگوں کو خیال گزر سکتا ہے کہ شاید منطقی باتیں بنا کر صوفیاء کی باتوں کی تاویل کی جارہی ہے یا صوفیاء نے منطقی موشگافیوں سے کام لیا ہے۔ یہ بات سمجھانے کے لئے سب سے مناسب مقام آیت الکرسی ہے جو اللہ کی صفات کا ایک عظیم مجموعہ ہے۔ چنانچہ اس میں ارشاد ہوتا ہے:

لہ مافی السموات وما فی الارض (البقرۃ: 255)
زمین و آسمان میں جو کچھ ہے، سب اس کا ہے

آیت کو پڑھ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان اس زمین میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوسکتا کیونکہ زمین و آسمان میں سب کچھ تو اللہ ہی کا ہے نیز اگر انسان کو کسی چیز کا مالک مان لیا گیا تو یہ شرک ہوجائے گا؟ اس کا جواب سوائے اس کے کیا ہے کہ “مالک حقیقی” صرف خدا کی ذات ہے، اس کے سواء کسی کو “مستقل و حقیقی مالک” سمجھنا شرک ہے۔ تو اس جواب کا مطلب یہ ہوا کہ کسی تناظر میں “لا الہ الا اللہ” کا مطلب “لا مالک الا اللہ” ماننا بھی ہے، یعنی ایک ایسا تناظر و اعتبار بھی ہے جہاں سب انسانوں کی ملکیت کی نفی کرنا لازم ہے، نہ کی گئی تو یہ شرک ہوگا۔ تو اس اعتبار سے آیت کا مطلب ہوا کہ “زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب اس ‘ہی’ کا ہے”، اور کسی کا نہیں۔ جب تک ترجمے میں یہ “ہی” نہیں لگے گا، ملکیت حقیقی کا یہ مفہوم ادا نہیں ہوگا۔ ملکیت کے اس معنی میں ہر کسی کی ملکیت کی نفی کرنا یہ توحید کا لازمی تقاضا ہے، یعنی ملکیت کا کوئی ایسا تصور بھی ہے جہاں خدا کے ساتھ کوئی شریک نہیں، وہاں وہ ذات اکیلی مالک ہے۔

یہ بات سمجھنا نسبتا آسان ہے کیونکہ ملکیت کی یہ نفی ہمارے وجود کو چیلنج نہیں کررہی، صرف اس چیز کی ملکیت کے اعتبار کو چیلنج کررہی ہے جسے ہم اٹھتے بیٹھتے اپنا کہتے ہیں۔ اب آیت الکرسی کی ابتداء پر آتے ہیں جہاں “ھو الحی” کے الفاظ آئے ہیں اور جس کا ترجمہ عام طور پر “وہ زندہ ہے” کیا جاتا ہے ۔ یہاں بھی وہی سوال پیدا ہوتا ہے جو ملکیت کے مسئلے میں پیدا ہوا تھا کہ آیا اللہ اور بندنے کے زندہ ہونے میں جو ظاہری مماثلت ہے اس کا کیا کیا جائے؟ کیا بندے کو زندہ ماننے سے شرک لازم آتا ہے؟ اس کا جواب بھی یہی ہے کہ خدا کی حیات کو ہماری حیات سے کوئی نسبت ہی نہیں، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک موجود رہے گا نیز وہ از خود زندہ ہے، ہم اس زندگی اور وجود کے لئے اس کے محتاج ہیں۔ دوسرے لفظوں میں حقیقی معنی میں خدا ہی کی ذات زندہ ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ کوئی ایسا تناظر بھی ہے جہاں میں، اور آپ نہ زندہ ہیں اور نہ ہی موجود، اس دائرہ میں صرف خدا ہی کی ذات زندہ اور موجود ہے۔ گویا کوئی ایسا تناظر بھی ہے جہاں “لاالہ الا اللہ” کا ترجمہ “لاموجود الا اللہ” سمجھنا ضروری ہے، اس دائرے میں اپنے وجود حادث کی نفی نہیں کی تو شرک ہوگا۔ تو اب آیت “ھوالحی” کا ترجمہ “وہ زندہ ہے” سے پورا نہیں ہوتا بلکہ “وہی زندہ ہے” ٹھرتا ہے۔

“وجودی توحید” کا دوسرا پہلو درج بالا سوال کی دوسری جہت (flip side) ہے جہاں میں اپنی ذات کو اس سوال کے روبرو پیش کرتا ہوں: “کیا کوئی ایسا تناظر بھی ممکن ہے جہاں رب اور بندہ ایک ہوجائے؟” یہ ایک گہرا سمندر ہے جہاں الفاظ مفہوم کا ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں، یہ اثباتی توحید کا وہ مقام ہے کہ جو اس میں جس قدر آگے بڑھتا گیا وہ اتنا ہی بے بس ہوتا اور حیران و پریشان ہوتا چلا گیا۔ اس حیرت کدے میں سرکرداں ہونا اس مقالے کا موضوع نہیں لہذا ہم اس جانب گفتگو بڑھانا نہیں چاہتے اور اسے کسی دوسرے مقالے کے لئے اٹھا رکھتےہیں۔

کیا توحید وجودی مدار نجات ہے؟

توحید وجودی کے ضمن میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس کا ادراک حاصل کرنا لوازامات دین میں سے ہے؟ یعنی کیا اس درجے کی توحید کا اقرار کرنا مدار نجات ہے؟ امام غزالی کہتے ہیں کہ یہ جسے توکل کہتے ہیں، اس کا تعلق توحید کے اس چوتھے درجے کے ادراک کے ساتھ نہیں ہے بلکہ وہ تیسرے درجے سے متعلق ہے اور وہ اسی کی تفصیل بیان کرتے ہیں (احیاء العلوم ص: 1605)۔ گویا بندہ مؤمن بن کر رھنے کے لئے توحید کے جس تصور کو ھمہ وقت باندھ رکھنا کافی ہے وہ یہ ہے کہ کائنات میں فاعل حقیقی صرف خدا کی ذات ہے، اس کے اذن کے بغیر یہاں کچھ نہیں ہوسکتا لہذا مجھے اسی کے کہے پر عمل کرکے اس پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ چونکہ توحید کا یہ فہم حاصل کرسکنا بہت گہرے غور و خوض کا متقاضی ہے لہذا صوفیاء اسے “خواص الخواص” کی توحید کہتے ہیں اور اسے خواص الخواص کی توحید کہنے کا مطلب ہی یہ ہےکہ یہ مدار نجات نہیں، کیونکہ مدار نجات عام لوگوں (masses) کے درجے کی چیز ہوا کرتا ہے۔ علمائے تصوف کی روایت میں توحید وجودی کا اقرار مدار نجات نہیں سمجھا جاتا، اس کی ایک دلچسپ مثال یہ اختلاف ہے کہ جب سید عبد الرحمان لکھنوی نے اپنی کتاب تحقیق الحق میں یہ دعوی کیا کہ لاالہ الا اللہ سے لاموجود الا اللہ کا وہ گہرا ادراک حاصل کرنا از روئے شرع لازم ہے جو صوفیاء نے سمجھا، تو ان کا رد کسی اور نے نہیں بلکہ برصغیر میں خود اسی روایت کےایک امین پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے لکھا (ان کی کتاب کا نام تحقیق الحق فی کلمت الحق ہے)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صوفی روایت کے علماء اس درجہ توحید کو مدار نجات شمار نہیں کرتے جیسا کہ امام غزالی نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا۔ تو جس چیز کو وہ خود مدار نجات نہیں کہتے اس پر ان کی نقیض کرنا کیسے درست ہے؟ جسے یہ گہرے رموز سمجھ نہیں آتے، وہ اللہ کے احکامات کے مطابق اپنی زندگی گزارے اور خالق حقیقی سے جاملے، صوفیاء نے کب ندا لگا رکھی ہے کہ سب کے لئے اسے سمجھنا و ماننا لازم ہے! لیکن ہر علم میں فہم و ادراک کا ایک درجہ بہرحال ایسا ہوتا ہے جس کا ذوق کچھ خاص لوگوں کو ہوا کرتا ہے، کیا شرع نے اس ادراک کے حصول کی جستجو سے منع کردیا ہے؟ جس کا یہ دعوی ہے وہ دلیل پیش کرے۔

4۔ خلاصہ

اس تحریر کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ امام غزالی بالخصوص اور صوفیاء بالعموم کفر و شرک کی ان تہمتوں سے پاک ہیں جو غامدی صاحب نے اپنے سوئے فہم اور ناقص تصور توحید کی بنیاد پر ان کی طرف منسوب کیں۔ جو شخص ٹھیک طرح سے توحید کے پہلے درجے کی تعریف متعین نہ کرسکا ہو وہ اٹھے اور امت مسلمہ کے ان لوگوں کی توحید کو کفر وشرک قرار دے جو توحید کا مغز بیان کرنے والے تھے، ایسے حالات میں سوائے افسوس کے اور کیا ہو! امام غزالی کے یہاں جو مباحث بالکل صراحت کے ساتھ چند مقامات پر مذکور ہیں دیگر صوفیاء کے یہاں وہ خاصی پیچیدگی و الجھاؤ کے ساتھ ملتے ہیں جیسا کہ امام غزالی خود کہتے ہیں کہ ان مباحث کو سمجھنے میں غلط فہمیوں کی ایک وجہ اس کلام کا سیاق و سباق ہوتا ہے اور جس سے لوگوں کو حلو ل و اتحاد کا گمان ہونے لگتا ہے( المقصد الاسنی: ص150)۔ تو جو شخص ان مباحث میں امام غزالی کے واضح اور مربوط کلام کو سمجھنے سے قاصر رہا ہو نیز اسے ویدا، اپنشد اور نجانے کس کس فلسفی کے کفریہ و شرکیہ نظریات کی طرح قرار دیتا ہو اس سے یہ توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے کہ اس نے شیخ ابن عربی جیسے پیچیدہ و دقیق صوفی کی الجھا دینے والی تحاریر کو سمجھ لیا ہوگا؟ شیخ ابن عربی کی تحریروں کا حال یہ ہے کہ ان کا اپنا الگ نظام فکر ہے جس کی اپنی اصطلاحات اور معانی ہیں، وہ ابتدائے کلام میں جس اصطلاح کا ذکر کرتے ہیں اس کی تشریح کئی سو صفحات بعد کہیں مذکور ہوتی ہے۔ تو اب یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں رہ جاتا ہے کہ غامدی صاحب نے کتنے غور سے شیخ ابن عربی کا مطالعہ کیا ہوگا۔ اس بارے میں ہمارا گمان یہ ہے کہ انہوں نے ثانوی ماخذات سے چیزیں اخذ کرکے تصوف پر مضمون لکھا ہے۔

حاصل کلام یہ کہ امام غزالی و صوفیاء کرام کا تصور توحید نہ صرف یہ کہ درست ہے بلکہ معاملہ یہ ہے کہ یہی تصور توحید اہل سنت والجماعت کا نمائندہ تصور توحید ہے جو ہر قسم کے افراط و تفریط سے پاک ہے۔ اس تصور پر خط تنسیخ پھیرنا دراصل اہل سنت والجماعت کے عقیدے کی پوری علمی روایت کو باطل ٹھرانا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اگر اس تحریر سے کسی کو نفع ہو تو اس کے صدقے میں روز قیامت امام غزالی سے محبت کرنے والوں میں شامل کردے۔

 

مراجعات

1۔ ابو حامد الغزالی (2005)۔ احیاء العلوم الدین۔ دار ابن حزم (اس مکتب نے کتاب کی چار جلدوں کو ایک جلد کی صورت میں چھاپا ہے)

2۔ ابو حامد الغزالی (2003)۔ المقصد الاسنی فی شرح معانی اسماء الحسنی ۔ دار ابن حزم

3۔ جاوید احمد غامدی (2018)۔ برھان۔ المورد، ادارہ علم و تحقیق

[1] نوٹ کیجئے کہ عربی زبان کے جس لفظ “اوجہ” کا ترجمہ غامدی صاحب نے “درجہ “کیا ہے اس کی تعبیر کے لئے اردو زبان میں زیادہ بہتر لفظ “پہلو” ہے، جسے انگریزی میں aspects کہتے ہیں۔ گویا صاحب عبارت یہ نہیں کہنا چاہتے کہ توحید کے تین درجات ہیں بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ بیان توحید کے تین پہلو ہیں۔ لیکن چونکہ وہ اس بات پر زور دینا چاہتے تھے کہ صوفیاء نے توحید کی درجہ بندی کی ہے لہذا انہوں نے یہ ترجمہ کرنا مناسب سمجھا۔ تاہم یہ ایک ضمنی بات ہے، ان پہلووں کو اگر “توحید کی درجہ بندی” بھی کہا جائے تو بھی اس میں کوئی غلط بات نہیں جیسا کہ مضمون کی تفصیلات سے واضح ہوگا۔

[2] اسے الحب فی اللہ ولبغض فی اللہ کہتے ہیں

[3] یعنی بندے کی پکار اس آیت کی بات رہ جاتی ہے: کل شیء ھالک الا وجہ ، یعنی اللہ کے سواء ہر شے فانی یا ھلاک ہونے والی ہے (القصص: 88)۔

[4] خالق و کائنات کے مسلسل تعلق کو بیان کرنے کی یہ تعبیر اشعری نظام فکر پر مبنی ہے جو اہل سنت والجماعت کا ایک گروہ ہے

[5] یہ کتاب المقصد الاقصی فی شرح اسماء الحسنی کے نام سے بھی موسوم ہے۔ متعلقہ بحث کے لئے کتاب کے ان ابواب کا مطالعہ سود مند رہے گا: الفن الاول باب الرابع اور اگر صرف اتحاد و حلول کی بحث ملاحظہ کرنا ہو تو الفن الثانی کا “خاتمۃ لھذا الفصل” ملاحظہ فرمائیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20