کرونا ویکسین، آکسفورڈ اور سعودی عرب تعاون — منصور ندیم

0

پچھلے ماہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی طرف سے بنائی گئی کورونا وائرس کی ویکسین کے ابتدائی نتائج بہت حوصلہ افزاء آئے تھے۔ یہ بظاہر محفوظ اور انسانی جسم کی مدافعت کے نظام کو بیماری کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہی ہے۔ یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی کرونا وائرس کی کاوش میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی اور ملک عبدالعزیز یونیورسٹی نے باہمی تعاون کے ذریعے نئے کورونا وائرس کے اس نئے اور موثرعلاج پر کام کیا ہے، دونوں جامعات نے کووڈ 19 کی کئی موثر دوائیں تیار کرنے کے لیے مشترکہ کلینکل ٹرائلز سٹڈیز بھی کی ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کووڈ 19 ویکسین کی تیاری اور اس پر میڈیکل ریسرچ کے سلسلے میں دنیا بھر میں معروف ہے۔ ملک عبدالعزیز یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرحمن الیوبی کی ہدایت پر دونوں یونیورسٹیوں نے نئے کورونا وائرس تحقیق پر تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔ ملک عبدالعزیز یونیورسٹی آکسفورڈ یونیورسٹی کے ساتھ ریسرچ میں شرکت کرنے والی پہلی سعودی اور عرب یونیورسٹی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ’ملک عبدالعزیز یونیورسٹی عرب دنیا میں سائنسی اور میڈیکل ریسرچ کرنے والی نمایاں ترین جامعات میں سے ایک ہے۔ یہ کووڈ 19 کےعلاج پر ریسرچ میں آکسفورڈ کے بڑے سائنسدانوں کے ساتھ تعاون کرے گی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے مطابق دونوں یونیورسٹیوں کے درمیان سائنسی تعاون کی قیادت آکسفورڈ یونیورسٹی میں کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر کرسٹوفر ایسکوفیلڈ اور ملک عبدالعزیز یونیورسٹی میں جینیات کے معاون پروفیسر ڈاکٹر ھانی چوہدری کریں گے۔ اس کے علاوہ ادویہ، بائیولوجی، میڈیسن اور وائرس کے امور کے ماہر آکسفورڈ اور کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کے پروفیسر بھی اس میں حصہ لیں گے۔

اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت دسمبر 2019 کے بعد سے کورونا وائرس کی وبا پر مسلسل ریسرچ کررہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جو کورونا وائرس سے متعلق عارضی ہیلتھ گائیڈ بک جاری کی ہے جو دنیا بھر کے سکالرز کی ریسرچ کا مجموعہ ہے۔ اس میں برطانوی جامعات میں پی ایچ ڈی کے سعودی سکالرز کی ریسرچ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے گائیڈ بک میں دنیا کے مختلف ممالک سے 211 تحقیقی مقالے جمع کیے ہیں۔ ان میں سعودی سکالرز کی ریسرچ کا نمبر سولہواں ہے۔ لندن کالج میں میڈیسن کے سعودی سکالر جابر القحطانی کا مقالہ 211 تحقیقی مقالوں میں سے منتخب کیا گیا ہے۔ کورونا سے متعلق 20 ہزار سے زیادہ تحقیقی مضامین پیش کیے گئے تھے۔ عالمی ادارہ صحت نے 3 سائنسی رپورٹوں میں سے جابر القحطانی کے تحقیقی مقالے کے نتائج کو بنیاد بنایا ہے۔

مسلم دنیا میں سعودی اسکالر جابر القحطانی کے لیے یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے ان کی ریسرچ کو آگے بڑھایا ہے۔ اعزاز کی بات یہ بھی ہے کہ کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے مقرر قواعد و ضوابط کے عالمی ماہرین نے اس مقالے کو سراہا ہے۔ سعودی عرب سمیت کئی ملکوں کے سکالرز نے جابر القحطانی کی قیادت میں جو تحقیقی مقالہ تیار کیا اس کا کلیدی نکتہ یہ ہے کہ کووڈ 19 کے مریضوں میں سے سگریٹ نوشوں اور پھیپھڑے کے لاعلاج امراض میں مبتلا افراد میں مرنے والوں کا تناسب کتنا ہے؟

جابر القحطانی کے ساتھ مزید سعودی اسکالرز عبداللہ الشہرانی، ماطر محمد المحمادی، سعید الغامدی، عبداللہ القحطانی کے علاوہ مختلف شعبوں کے ماہر برطانوی سکالرز بھی شریک رہے تھے۔

’اس ریسرچ کا بنیادی مقصد یہ جاننا اور سمجھانا تھا کہ سگریٹ نوشی کی لمبی تاریخ رکھنے والوں اور پھیپھڑے کے مریضوں پر کووڈ 19 کا کتنا اثر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں جدید ترین طور طریقے آزمائے گئے۔‘ جابر القحطانی کی ٹیم نے 130 تحقیقی مقالوں کے مطالعہ کی مدد سے یہ مقالہ تیار کیا، 15 تحقیقی مقالوں کے نتائج سکالرز کے نتائج کے مطابق پائے گئے۔ جبکہ 2473 مریضوں پر آزمائشی ضوابط استعمال کیے گئے۔

بلاشبہ سعودی عرب نے اس عالمی وباء کرونا کے مقابلے میں نہ صرف صرف پوری دنیا میں امدادی کارروائیاں بلکہ طبی ریسرچ پر بھی عملی طور پر کام کیا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20