معیشت کی تیسری بیماری   معیشت اور عوام کا نصیب: (6)  لالہ صحرائی

0

۔ان۔رجسٹرڈ اور نان۔ٹیکس۔پیئر اکانومی کے بعد تیسری بڑی بیماری انفلیشن ہے، انفلیشن کی تین قسمیں ہوتی ہیں، دو عوام سے متعلق نہیں اس لئے ہم صرف تیسری صنف یعنی کنزیومر۔پروڈکٹ۔انفلیشن پر ہی اکتفا کریں گے، اسے سی۔پی۔آئی بھی کہتے ہیں۔

[انفلیشن کیا چیز ہے]

کتابی تعریف کو ایک طرف رکھ کر یوں سمجھ لیجئے کہ کرنسی کی قوت خرید میں کمی کا پیدا ہونا انفلیشن کہلاتا ہے، مثال کے طور پر پچھلے سال آپ سو روپے میں دس کلو آٹا خرید سکتے تھے لیکن اس سال ریٹ بڑھنے کی وجہ سے آپ سو روپے میں فقط آٹھ کلو آٹا خرید سکتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کسی وجہ سے روپے نے بیس فیصد اپنی قدر کھو دی ہے۔

انفلیشن کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن چند بہت اہم اور ناگزیر فیکٹرز ہیں جو اس پر اثرانداز ہوتے ہیں، پہلا فیکٹر جینوئین ہے وہ رسد اور طلب میں عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، یعنی اس سال گندم کم پیدا ہوئی یا پیٹرول کی قیمت بڑھ گئی یا بجلی کی قلت سے آٹے کی پروڈکشن کم ہوئی تو ڈیمانڈ کے مقابلے میں سپلائیز کم رہیں جس کی وجہ سے ریٹ بڑھ گیا اور روپیہ کی قوت خرید میں کمی واقع ہو گئی۔

ہم نے شروع میں کہا تھا کہ پیداواری سیکٹر کو زیادہ ہونا چاہئے تاکہ افرادی قوت سرپلس اور بیروزگاری نہ ہو، جب بیشتر طبقہ تجارت میں اور باقی سب ملازمت میں کھپ جائیں گے تو انفرادی سطح پر بھی بہتری آئے گی اور معاشرے کی مجموعی قوت خرید بھی بڑھے گی، افرادی قوت کمیاب ہونے کی وجہ سے انفرادی اجرتیں بھی بڑھیں گی جو گھوم پھر کر خود تجارتی حلقے کو بھی نفع دیں گی اور جب آبادی کی نسبت پیداوار پوری ہوگی تو قیمتوں میں خودبخود استحکام رہے گا لیکن جس معاشرے کے ان شعبوں میں عدم توان ہو تو وہاں دوسرا فیکٹر سامنے آتا ہے۔

دوسرا فیکٹر کارپوریٹ کلچر یا سرمایہ داری نظام کا اپنا پیدا کردہ ہوتا ہے، اس میں کنزیومر پروڈکٹس بنانے والے زیادہ متاثر کرتے ہیں، مثال کے طور پر آٹا اور گھی ہر کسی نے استعمال کرنا ہے، اگر آٹا مہنگا ملا ہے تو ہم اپنے بجٹ کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے گھی اور صابن سستی کوالٹی کا خریدنا چاہیں گے، اس سے اعلٰی کوالٹی کا گھی اور صابن بنانے والوں کی سیلز میں کمی ہو گی لہذا وہ اپنے منافعے کا حجم برقرار رکھنے کیلئے قیمت بڑھائیں گے تاکہ جو منافع انہیں سو ڈبہ بکنے پر ملتا تھا وہی نفع اب انہیں نوے پیکٹس پر مل جائے تاکہ وہ اپنا وجود برقرار رکھ سکیں لیکن ان کی دیکھا دیکھا ان سے سستا برانڈ بھی ایک روپیہ بڑھا دیتا ہے یوں یہ دوڑ ہمیشہ لگی رہتی ہے۔

تیسرا فیکٹر ان۔رجسٹرڈ اکانومی یا نان۔ٹیکس۔پیئر بزنس مین پیدا کرتا ہے، مثال کے طور پر ایک اچھی کوالٹی کا صابن جہاں بشمول ٹیکسز آپ کو چھیالیس روپے میں ملتا ہے وہاں نان ٹیکس پیئر مینوفیکچرر اسی کوالٹی کا صابن آپ کو چالیس روپے میں دے دیتا ہے کیونکہ وہ ٹیکس چارج نہیں کرتا، اس فیکٹر سے جینوئین بزنس مین کو مارکیٹنگ میں اپنا پورا سودا بیچنے میں جب دشواری ہوتی ہے تو وہ قیمت بڑھا بڑھا کے اپنی کمی کو پورا کرتا ہے۔

چوتھا فیکٹر قیمتوں پر کنٹرول رکھنے والے اداروں کی کمزوری اور بعض راءمیٹیریل فراہم کرنیوالوں کا آئے دن ریٹ بڑھانا بھی پروڈکٹس کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

پہلے چیپٹر میں ہم نے یہ بھی ڈسکس کیا تھا کہ جب پیداواری سیکٹر کو منہ مانگے دام دینے والا طبقہ موجود ہوگا تو وہ پھر عوام کیساتھ ہمدردی کی بجائے خود غرضی ہی کرے گا لہذا منہ مانگے دام دینے والا رشوت خور اور آسودہ حال تجارتی طبقہ جب اپنی اشیائے ضرورت مہنگے داموں خریدتا ہے تو اپنی کمی کو پورا کرنے کیلئے اپنی پروڈکٹ اور اپنی کرپشن کا بھی ریٹ بڑھا لیتا ہے، ہمارے ہاں انفلیشن کے جینوئین مسائل کم اور ناجائز منافع خوری کی دوڑ زیادہ ہے۔

اس انفلیشن کی وجہ سے عام آدمی کا بجٹ دن بدن متاثر ہوتا ہے، اگر پچھلے سال آپ نے اپنا راشن کا بجٹ دس ہزار میں پورا کرلیا تھا تو اس سال انفلیشن کی وجہ سے راشن کا وہی معیار برقرار رکھنے کیلئے آپ کو بارہ ہزار روپے درکار ہوں گے، یہی وہ وجہ ہے جس سے امیر طبقہ دن بدن امیر اور غریب طبقہ دن بدن غریب ہوتا چلا جا رہا ہے، اسی بات سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ بذات خود اپنی قوم کیساتھ کتنے مخلص ہیں۔

اس امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر کرنیوالے نظام پر صرف چار چیزیں ہی قابو پا سکتی ہیں، پہلا قیمتوں پر، دوسرا کرپشن پر اور تیسرا نان۔ٹیکس۔پیئر بزنس سیکٹر پر کنٹرول جو صرف حکومت ہی کر سکتی ہے، چوتھا رستہ خود عوام کے اپنے پاس ہے کہ نوکریوں کے خواب چھوڑ کر رب تعالٰی نے جو تجارت میں برکت کی گارینٹی دی ہے اس کا فائدہ اٹھائیں اور غیرپیداواری سیکٹر کی بجائے پیداواری سیکٹر کا حصہ بنیں خواہ برگر کی ریڑھی جیسا چھوٹا موٹا کام ہی کیوں نہ کریں یا چھوٹے پیمانے پر اشیائے صرف بنا کر بیچیں، یہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ لوگ محض انفرادی رعب کی خاطر دس سے پندرہ لاکھ روپے تعلیم پر خرچ کرکے پچاس ہزار کی نوکری کے پیچھے خوار ہوتے ہیں جبکہ اتنی رقم میں ایک چھوٹا بزنس بھی اتنے پیسے دے جاتا ہے۔

[انفلیشن اور جی۔ڈی۔پی کا باہمی گورکھ دھندہ]

عموماً سرکاری شماریات جی۔ڈی۔پی کو ہائی لائیٹ اور انفلیشن کو چھپایا کرتی ہیں تاکہ معیشت کی ترقی ظاہر ہو جبکہ یہ حقیقی ترقی نہیں ہوتی، مثال کے طور پہ پچھلے سال کل معیشت کا حجم اگر سو روپے تھا تو اس سال بھی سب بزنس سیکٹرز نے پچھلے سال جتنا ہی کام کیا لیکن ٹیکسٹائل، بینکنگ اور ایکسپورٹ سرکل نے کچھ کام زیادہ کر دکھایا جس کی بدولت کل آمدنی میں تین روپے کا اضافہ ہوگیا اور ساتھ ہی ٹیکس چور طبقے میں سے کچھ لوگ ٹیکس نیٹ کی پکڑ میں آگئے جس سے دو روپے کا مزید اضافہ ہو گیا، یوں کل جی۔ڈی۔پی میں تو بیشک پانچ فیصد گروتھ مانی جائے گی، حکومت اس کامیابی کا کریڈٹ بھی لے سکتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس گروتھ کا عام کو کیا فائدہ ہوا؟

پہلے ہم نے ڈسکس کیا تھا کہ جب سو فیصد اکانومی رجسٹرڈ ہو پھر آبادی کے مقابلے میں اسی تناسب سے پیداوار بھی بڑھے اور اس کی قیمت بھی مستحکم رہے تو ہی جی۔ڈی۔پی حقیقتاً ترقی کرتی ہے البتہ بعض شعبوں میں سیکٹر وائز گروتھ جینوئین ہوتی ہے، جیسے کہ ٹیکسٹائل اور ایکسپورٹ سیکٹر ہر سال کچھ فیصد زیادہ کام کر جاتا ہے بعض اور شعبے بھی ایسے ہیں لیکن اوورآل صورتحال جس سے عوام کو ڈائریکٹ فائدہ پہنچے وہ ترقی اسی صورت میں ممکن ہے جب اشیائے صرف کی پیداوار میں اضافہ، قیمتوں میں ٹھہراؤ اور اجرتوں کے لیول میں بھی بہتری آتی رہے تاکہ ان کے پاس قوت خرید بھی موجود رہے، ان چیزوں میں سے جو بھی اپنا توازن کھوئے گی وہ معیشت اور فرد کیلئے بدحالی پیدا کرے گی۔

۔۔۔۔۔

اگلی قسط میں ہم معیشت کے اسٹیک ہولڈرز پر گفتگو کریں گے۔

 

مضمون کا پانچواں حصہ یہاں ملاحظہ کریں

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: