یہودیوں کی ترقی سے متاثرہ اقلیتوں کیلئے مفت مشورہ — فرحان کامرانی

0

یہودی آپس کے سماجی تعلق اور ہر مشکل میں اپنے یہودی بھائیوں کا ساتھ دینے کیلئے معروف ہیں۔ پھر پچھلی صدی میں جس طرح اِس قوم نے امریکا پر قابو پایا اور دوسری جانب اپنا وطن بھی اہل فلسطین کی زمین پر دھونس سے بنا لیا اور بڑے دھڑلے سے ا س ”چائنہ کٹنگ“ میں رہ رہے ہیں، یہ سب عالم میں بہت سی اقلیتوں کیلئے بڑا مثالی ہے اور وہ بھی ایک قسم کا یہود یوں کا چربہ بننے کی فکر میں دیوانے ہوئے جاتے ہیں۔ ان تمام ہی اقلیتی گروہوں کی خدمت میں راقم الحروف چند تاریخی معروضات پیش کرنا چاہتا ہے کہ جن سے اِن گروہوں کو ایک اور تناظر کا اندازہ ہو سکے گا۔

۱۔ یہود میں ایسا کوئی جادوئی تعلق موجود نہیں۔ ہٹلر کے جرمنی اور پولینڈ میں خود یہودی پولیس اور والنٹیئر ہی دیگر یہودیوں کو پکڑ پکڑ کر گیس چیمبر بھیجا کرتے تھے۔

۲۔ رومی سلطنت کی تاریخ میں بھی ایسے یہود یوں کا ذکر ملتا ہے کہ جنہوں نے رومی سلطانوں کے ساتھ مل کر اپنے ہی یہودی بھائیوں پر بدترین مظالم ڈھائے۔

۳۔ یہودیوں نے اسرائیل اپنے زور بازو سے حاصل نہیں کیا نہ ہی ایسا انکی کسی علمی قابلیت کی وجہ سے ممکن ہوسکا۔ یہ خطہ برطانیہ عظمیٰ نے سلطنت عثمانیہ کو کاٹ کر یہودیوں کو دیا ہے۔ برطانیہ عرب دنیا میں اپنی ایک مستقل چوکی بنانا چاہتا تھا اور یقینی طور پر صہیون کی سرزمین سے مذہبی عقیدت اور سارے یورپ میں اپنے قتل عام کی صورتحال میں یہودیوں نے اس جگہ پر ہی قابضانہ ڈیرے ڈالنے میں عافیت جانی۔ اس میں بڑی حد تک نہ کوئی عظیم محرکات تھے نہ ہی کوئی بڑا عالی درجے کا قومی شعور۔ یہ تو بس ایک بس ایک عالمی کھیل تھا جس میں بڑی حد تک یہودی ہی مہرہ تھے۔

۴۔ یہود کے علمی کارناموں کا تعلق اس بات سے نہیں کہ وہ تاجر کمیونٹی تھے (تاجر کا علمی کاموں سے کیا تعلق؟)۔ یہودی تجارت سے زیادہ علمی سرگرمیوں کی طرف مائل تھے اور اسی لئے انہوں نے فرائیڈ، مارکس، آئن اسٹائن جیسے افراد اُس عہد میں پیدا کئے کہ جب وہ یورپ میں بری طرح پسے ہوئے تھے۔ اُن کیلئے اُن کی ’کمیونٹی‘ نے نہ کوئی جامعہ قائم کی تھی، نہ کوئی اسپتال، نہ کوئی اسکالرشپ کا ادارہ۔ بعض چیزیں ’ڈی این اے‘ میں ہوتی ہیں۔ وہ آپ کسی جادو سے کند ذہن اقوام میں نہیں ’انجیکٹ‘ کر سکتے۔

۵۔ یہود میں جو اپنے بھائی بندوں کی مدد و نصرت کا جذبہ پروان چڑھا ہے تو اس میں اُن مظالم کا کردار ہے جو جنگ عظیم دوئم کے درمیان اپنے بام عروج پر پہنچے اور جو اِس سے قبل صدیوں سے اُن پر روا تھے۔ یعنی اگر یہودی کسی اور اقلیت کیلئے ماڈل کا درجہ رکھتے ہیں اور وہ بھی ویسا ہی بن جانا چاہتے ہیں تو اس کا راستہ مظالم سہنے میں ہیں (جو صدیوں میں اپنا اثر فطرت پر مرتب کریں گے) نہ کہ کمیونٹی سینٹر بنانے، اسپتال کھولنے یا اسکول، کالج اور جامعات بنانے میں۔

۶۔ یہود کی تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ کبھی بھی کسی اقلیت کو یہ تاثر نہیں دینا چاہئے کہ وہ بہت قوی ہو گئے ہیں یا ہر شے پر ان کا قابو ہو گیا ہے۔ قیصر ولیم شاہ جرمنی کے عہد میں یہود کے بابت یہ ہی تاثر قائم ہو گیا تھا۔ حالانکہ ایسا بالکل بھی نہ تھا۔ بس اتنا تھا کہ یہود تجارت سے امیر تھے مگر وہ اپنے خلاف پھیلنے والے تاثر کا تدارک نہ کر سکے اور اس کا خمیازہ انہیں جنگ عظیم دوئم میں بھگتنا پڑا۔

۷۔ اقلیتوں کو کبھی بھی یہ ظاہر نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اکثریت سے بالکل مختلف سیاسی عزائم رکھتے ہیں۔ جرمنی میں یہود سوشلزم کی طرف بہت مائل تھے۔ اشتراکی یہودیوں کی مذہب کو بکی گالی، اشتراکی کی نہیں بلکہ یہودی کی عیسائیت کو بکی گالی کے طور پر لی گئی اور بڑی حد تک یہی جذبہ اس تحریک میں ڈھلا کہ جسے نازی ازم کہا جاتا ہے۔

۸۔ اقلیتوں کو علیحدہ محلے بناکر نہیں رہنا چاہئے۔ اس سے معاشرے میں موجود اکثریت میں تاثر تقویت پاتا ہے کہ یہ ہم سے بالکل علیحدہ کوئی شے ہیں۔ جرمنی اور پولینڈ میں یہود کی علیحدہ بستیاں بعد میں ان کے قید خانے اور مقتلوں میں تبدیل ہوئے۔

۹۔ اکثریت کے مذہب اور جذباتی معاملات پر کسی بھی نوع کا حملہ کرنا اقلیت کے لئے شدید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسلئے ان نازک اور جذباتی معاملات سے ہمیشہ ہر صورت میں دور رہنا ہی اقلیت کیلئے بہتر رہتا ہے۔ یہود کے اذہان میں حضرت عیسیٰؑ کیلئے منفی سوچ ہمیشہ ان کیلئے منفی رویوں کی صورت میں اکثریت کی طرف سے ظاہر ہوئیں۔

۰۱۔ اپنا علیحدہ وطن حاصل کرنے کے لئے محض کسی نوع کا اتحاد ہی کافی نہیں بلکہ اس کیلئے عالمی حالات کی لاٹری آپ کے حق میں کھلنا اور برطانیہ عظمیٰ جیسے کسی قوی ملک کا آپ پر مہربان ہونا بھی ضروری ہے۔ صرف کمیونٹی سینٹر بنا دینے اور اپنے لوگوں میں اسکولوں کی فیس بانٹ دینے سے یہ نہیں ہو جاتا۔ یہ موسیقی سیکھنے سے اور ٹیوی چینل کھولنے سے بھی نہیں ہوسکتا۔ یہودیوں نے اپنے بقول ساٹھ لاکھ انسانی جانوں کی قربانی بھی دی ہے۔ کیا کوئی اور اقلیت اسکے لئے تیار ہے؟

قصہ مختصر یہ کہ یہود کو ماڈل بنا کر اپنے اپنے اسرائیل کے خواب دیکھنے والے ذرا غور سے یہود کی حضرت یعقوبؑ کے دور سے تاریخ پڑھ لیں۔ بڑی حد تک اُن یہود کی نقل کرنے والی اقلیتوں کا معاملہ کسی بھانڈ سے مشابہ ہے جو کسی حقیقی کردار کی نقل تو اتار لیتا ہے مگر اس کی نقل بھی ایک ہنسنے کی ہی چیز ہوتی ہے اور کچھ نہیں۔ کوئی سنجیدہ شے تو ہر گز نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20