پروفیسر عنایت علی خان: چند یادیں —- عبد اللطیف انصاری

0

26جولائی کو پروفیسر عنایت علی خان اس عالم فانی سے عالم جاودانی کو سدھار گئے۔ ویسے تو جانا تو سب کو ہی ہے۔ کوئی بھی جاندار، کوئی بھی ذی نفس، ہمیشہ یہاں رہنے کےلئے نہیں آیا ہے مگر جوکچھ کرکے جاتا ہے، کوئی کارِ نمایاں جس کے حصے میں آتا ہے۔ بہ قول میر بارےدنیا میں رہو، غم زدہ یاشاد رہو، ایسا کچھ کر کے چلو یاں کے بہت یاد رہو، تو اس کا جانا ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ عنایت علی خاں گئے تو یادوں، اپنی باتوں اور اپنے شعروں کا بانکپن جلتے چراغوں کی طرح چھوڑ گئے۔

عنایت علی خان کا خمیر راجستھان کی ریاست ٹونک سے اٹھا تھا۔ ریاست ٹونک جو علم پروری میں عالم مثال تھا، اس کا حکمراں شعرو ادب کا دلدادہ تھا۔ ایسے مردم خیز خطے سے اٹھ کر عنایت علی خاں حیدر آباد سندھ میں وارد ہوئے۔ والد، والدہ، ماموں اور خاندان کے دوسرے افراد میں شعری ذوق کے زمزمے بہہ رہے تھے۔ عنایت علی خاں نے اپنے خاندانی شعری ماحول، سے خوب فائدہ اٹھایا۔ طبیعت کی موزونی نے ان میں چار چاند لگادیئے۔ والد صاحب ہدایت حکیم علی خان ناظر بھی مزاح گو تھے۔ عنایت صاحب نے اپنے والد کے ذوق سخن آرائی کو اس انداز و ادا سے سنبھالا کہ چہار دانگ عالم میں شہرت کی گونج ہو گئی۔ حیدر آباد سندھ سے اٹھ کر پورے ملک میں پہچانے جانے لگے۔ یہیں نہیں دوبئی، ابو ظہبی، جدہ، بھارت، امریکہ، سوئیڈن اور ڈنمارک میں بھی مشاعروں کی جان بن گئے۔

عنایت علی خاں کی شخصیت جہاں تدین و تقویٰ سے عبارت تھی، وہیں ان میں مزاح کی چاشنی کے ساتھ بے باکی اور آزاد گفتاری کی جلوہ طرازیاں بھی پورے جوبن پر تھیں، طرزِ زندگی میں وہ سادگی کا نمونہ تھی تو طنزو مزاح میں وہ رنگین بیان سے مملو تھی۔ عنایت علی خاں نے سنجیدہ اور مزاحیہ دونوں پیرائیہ اظہار کو سلیقے سے استعمال کیا ہے۔ طنز و مزاح تو ان کی وجہ شہرت ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی سنجیدہ گوئی بھی خاصے کی چیز ہے۔ حمد و نعت کے زیر عنوان وہ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر تے ہوئے کہتے ہیں۔

مجھے تو نے جو بھی ہنر دیا بہ کمال ِ حسن عطا دیا
مرے دل کو حب رسول دی، مرے لب کو ذوق نوا دیا

میں مدارِ جاں سے گزر سکا تو تری کشش کے طفیل سے
یہ ترے کرم کا کمال تھا کہ حصار ذات کو ڈھا دیا

ان شعروں میں لفظیات، مضمون اور جذبات خوب صورت پیرائیہ اختیار کئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اور اسی نظم میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ

مرے رہنما، ترا شکریہ، کروں کس زباں سے بھلا ادا
مری زندگی کی اندھیری شب میں چراغ فکر جلا دیا

عنایت علی خاں نے شعر کی اہمیت، کیفیت اور اس کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

شعر رنگینی افکار کا آئینہ ہے
محفل شوق سے اٹھتا ہواسازینہ ہے

شعر ایک شہر نگاراں بہ گزر گاہ ِ خیال
روح احساس پہ رقصاں کوئی تصویر جمال

شعر کلیوں کا تبسم ہے تو پھولوں کا نکھار
وادی دل کے شگوفوں کے لیے ابرِ بہار

ان اشعار میں شعر کی وسعت اور اس کی پہنائیوں کو انھوں نے اختصار کے ساتھ کوزے میں بند کرنے کی بہت اچھی کوشش کی ہے۔

سقوطِ مشرقی پاکستان کے روح فرسا اور غم انگیز سانحے کے بعد وہ کہتے ہیں۔

فریب حسن سے، حسن نظر کے عرفاں تک
کسی کی زلفِ شکن در شکن کی بات کرو

گر اپنے دوش پہ اپنی صلیب اٹھا نہ سکو
تو پھر نہ عظمتِ دار و رسن کی بات کرو

زمانے کی ترش روئی اور بے گانگی کا شکوہ کرتے ہوئے اپنا حال بیان کرتے ہیں،

میں ایک تنہا پیڑ کی صورت ہانپ رہا ہوں صحرا میں
وقت کی آندھی پوچھ رہی ہے اب بھی ہمت باقی ہے

لوگوں کی بے اعتنائی، سرد مہری اور زودِ رنجی کا گلہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

“نہایت” میں شایع ہونے والا عنایت صاحب کے ہاتھ سے لکھا ہوا قطعہ

حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھرے نہیں حادثہ دیکھ کر

یا

تمہیں خبر ہے تمہاری کم التفاتی پر
گزر گئیں مرے دل پر قیامتیں کیا کیا

یہ تو ان کی سنجیدہ شاعری کے کچھ زاویے تھے دوسری جانب طنزو مزاح کے ذیل میں ان کی مؤثر اور خوب صورت نظمیں : ذرا یہ ورلڈ کپ ہولے، میں ٹیوٹر تھا، مکھن لگاؤ بھیا، بول مری مچھلی اور چنک نامہ اہمیت کی حامل ہیں۔

“فریاد” کے زیر عنوان ان کا ایک قطعہ دیکھئے۔

میں تم سے کیا کہوں انکل وہ کیسی چیز ہے ظالم
مجھے مفلس، مرے جذبات کو پامال کرتی ہے
میں دن میں سو دفعہ رو رو کر حال دل سناتا ہوں
وہ مس گر کال بھی کرتی ہے تو مس کال کرتی ہے

عید قرباں کے مشاعرے کے موقع پر انھوں نے کہا

اسٹیج پہ بیٹھے تو ہیں ہر رنگ کے شاعر
کثرت مگر ان کی ہے جو بیمار ہی ہوں گے
دو چار جو سالم ہیں تن و توش کے اچھے
قربانی کے قابل تو یہ دو چار ہی ہوں گے

عنایت علی خاں نے اپنے آپ کو اکبر الہ آبادی کی طرز کا پیرو قرار دیا تھا۔ اس “طرزِ اکبر” کو انھوں نے خوب خوب اپنی شاعری میں برتا۔ شعری دنیا میں وہ ابھرتے ہوئے قہقہوں کا استعارہ بن گئے۔ اُن کے اسلوب میں ایک طرف تہذیب کی پاسداری ہے تو دوسری جانب زمانے کی نا ہمواریوں پر طنز کی کاٹ ہے۔ انھوں نے اپنے شعری طرزِ اظہار سے زمانے کے ناسوروں پر نشتر چلا کر علاج کی کوشش کی ہے اور اپنے پسند کئے جانے کے تناسب سے وہ بڑی حد تک کامیاب رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20